جب ایک اسکول کا دروازہ کھلتا ہے تو ایک جیل کا دروازا بند ہوتا ہے .. اگر کوئی قوم جاہل رہ کر ترقی کے دور میں آزاد رہنا چاہتی ہے تو وہ یہ کبھی بھی حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا ہے .. اگر آپ ایک سال کی پلاننگ کرنا چاہتے ہیں تو ایک بیج بودیں .. اگر دس سال کی پلاننگ کرنا چاہتے ہیں تو ایک درخت لگا دیں.. مگر جب 100 سال کی پلاننگ کر رہے ہوں تو قوم تعلیم دیں کیونکہ اس طرح آپ ہزار فصلیں کاٹ سکیں گے .. اگر ایک مرد تعلیم حاصل کرتا ہے تو ایک فرد تعلیم حاصل کرتا ہے اور اگر ایک عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو پورا ایک خاندان تعلیم حاصل کرتا ہے .. اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ تعلیم بہت مہنگی ہے تو ذرا اس بات کا اندازہ کر کے دیکھیں کہ جہالت اپنا کر ہم کتنے نقصان میں ہیں … اس وقت ہماری قوم کو جس تباہی کا سامنا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ جہالت ہے..
” اے میرے پرودگار مجھے علم و دانست عطا فرما.. نیکو کاروں میں شامل کر اور پچھلے لوگوں کے ذکر میں مجھے نیک شمار کر اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں شامل کر..( Surah Al-Shuara آیات 83 .. 84 .. 85)
رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
My Lord: Grant me wisdom, and join me with the good
Ayah: 84
Arabic: وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ
“Grant me honourable mention on the tongue of truth among the latest generations
Ayah: 85
Arabic: وَاجْعَلْنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ
And place me among the inheritors of the Garden of Delight,
جس طرح علماء کرام مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات کے لئے آیت کریمہ کا ورد بتاتے ہیں ہیں .. اس ہی طرح ہماری قوم جن مصیبتوں میں ہے ان سے نجات کے لئے اوپر بیان کی ہوئی قرآنی دعا کا ورد کرنا چاہیئے ..

درست کہا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں
لیکن جاہلوں کے ریوڑ کو اس اہمیت کی اہمیت سے روشناس کروانے کا بیڑہ اٹھائے کون؟
کوئی سر سید کوئی قائد اعظم کاش آج کے دور میں بھی پیدا ہو جائے ۔۔
لیکن جو لوگ اس کی اہمیت سمجھ سکتے ہیں وہ تو تھوڑی بہت کوشش کر سکتے ہیں انفرادی طور پر ہی سہی ۔۔ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے ۔۔
اندازہ کیجئے اس موضوع پر رائے دینے والوں کی بھی کمی ہے ۔۔۔۔ صد افسوس کہ ہم تعلیم کی شرعا کاغذوں میں دیکھا کر خود کو مطمئن رکھتے ہیں