اعتماد سے خالی شخصیت کے نقصانات

خوفزدہ اور اعتماد سے خالی انسان کے لئیے عزت اور زلت کے پیمانے پر اعتماد انسان کے پیمانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ خوفزدہ اور اعتماد سے خالی انسان کو جھنجھوڑ کر بتانا پڑتا ہے جاگو کہ یہ زلت کا مقام ہے تمہارے لئیے۔ جبکہ پر اعتماد انسان اپنی عزت کی طرف آنے والی آنچ کی مہک سے ہی پہچان جاتا ہے کہ احتیاط لازم ہوچکی ہے۔
والدین سے ہاتھہ جوڑ کر التماس ہے اپنے بچوں کو ان دیکھے خوف سے نکالیں انہیں فیصلہ سازی میں انکا جائز مقام دیں، اپنے بچوں کا ریموٹ کنٹرول واپس بچوں کے ہاتھہ میں دیں، دینی شعور کے ساتھہ ساتھہ دنیاوی شعور سے بھی آراستہ کریں، دینی تعلیم اور نصابی تعلیم کے علاوہ معاشرتی علوم کے حوالے سے پڑھنے کے لئیے مواد مہیہ کریں، تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ ان میں دیگر مشاغل کی طرف رغبت پیدا کریں، ادب اور فنونِ لطیفہ سے آشنا کروائیں، شاعری، میوزک، رقص، انٹرنیشنل افئیرز، سیاسی حالات، اور اسطرح کے دیگر معاملوں میں بھی انکی نالج بڑھائیں، تاکے ان میں زمانے کا شعور بیدار ہوسکے انکی شخصیت میں اعتماد پیدا ہوسکے، وہ جب کسی سے بات کریں تو سامنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مکمل اعتماد کے ساتھہ بات کریں، وہ ہر موضوع پر بات کر سکیں، معاملات کو سمجھہ سکیں، آنے والے حالات کے لئیے خود کو ہر طرح سے تیار رکھہ سکیں اور زمانے کی درندگی کے لئیے آسان حدف ثابت نہ ہوں۔ خوفزدہ اور اعتماد سے خالی انسان کا وجود نہ صرف اپنی زات پر بوجھہ ہوتا ہے بلکہ زمانے کے لئیے بھی صرف ایک بوجھہ ہی ہوتا ہے وہ کتنی ہی تعلیم حاصل کر لے لیکن دوسروں کے لئیے تو کجا اپنے لئیے بھی کوئی تعمیری کام کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ بچوں میں اتنا اعتماد پیدا کریں کہ آنے والی کسی بھی مشکل کا سامنا وہ خود اپنی زات میں موجود ہنر اور صلاحیتوں سے کر سکیں، بچوں کو خود ترس بنانے والے والدین خود تو دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ایسی اولادوں کو ساری زندگی کے لئیے معاشرے کی حیوانیت کا سامان بنا کر چلے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے بیٹے کو اعتماد سے خالی شخصیت دی ہے اور ساتھہ اسے کروڑوں روپے کا ورثہ دیا ہے تو یقین جانئیے محض چند سالوں میں آپکی زندگی بھر کا یہ اثاثہ یہ معاشرہ آپکے بیٹے سے ہتھیا لے گا، ٹھیک اس ہی طرح اگر آپ نے بیٹی کو اعتماد سے خالی شخصیت دی ہے اور ساتھہ اسے حضرت رابعہ بصری جیسی عزت اور شرم و حیاء دی ہو تب بھی وہ بیچاری اپنی عزت اپنی شرم و حیاء کی حفاظت نہیں کر پائے گی، اور اگر کسی طرح اس معاشرے کی درندگی سے بچ بھی گئی تو عملی زندگی میں تعلیم، اچھی شکل و صورت اچھی سیرت ہونے کے باواجود بھی ناکام ترین انسان کہلائے گی، شخصیت میں اعتماد کا فقدان اسکی تمام خوبیوں کو مگرمچھہ بن کر نگل جائے گا اور وہ دنیا کے لئیے محض ایک کھلونا بن کر رہ جائے گی۔ وہ زندگی جئیے گی نہیں صرف گزارے گی اور وہ بھی اپنی نہیں دوسروں کی شرطوں پر، کیونکہ آپ نے اسے خود پر اعتماد کرنے کی تربیت ہی نہیں دی اسلئیے اب وہ ساری زندگی کاندھے بدلتے بدلتے ہی گزار دے گی، ایسی بیٹی جب ماں باپ کے گھر ہوتی ہے تو ماں باپ اور بھائیوں کے کاندھے پر بھروسہ کئے رہتی ہے اور جب شادی ہو کر اپنے گھر چلی جاتی ہے تب ساری زندگی شوہر کے کاندھے کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے، اسکی ساری زندگی کاندھے بدلنے میں ہی گزر جاتی ہے، اعلیٰ تعلیم، اعلیٰ کردار، اعلیٰ مذہبی شعور کے باواجود بھی اسکے اندر اپنے انسان ہونے کا احساس جاگتا ہی نہیں، وہ دوسروں پر اکتفاء کرنے کو ہی زندگی سمجھہ بیٹھتی ہے، پھر یہ دوسروں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں، ایسی لڑکی ایک انسان سے زیادہ ایک پروڈکٹ میں تبدیل ہو جاتی ہے ہر انسان اسے اپنی ضرورت کے تحت ہی استعمال کرتا ہے بس۔ اگر آپکے نزدیک اسے ہی اولاد سے محبت کہتے ہیں ایسی زندگی کو ہی زندگی کہتے ہیں تو پھر یقیناؐ آپ جو کر رہے ہیں درست کر رہے ہیں، لیکن اگر آپکو لگتا ہے کہ نہیں ہم اپنی اولاد کے لئیے ایسی زندگی کا سوچ بھی نہیں سکتے تو پھر خدارا اپنی سوچ اپنے عمل اپنے رویوں میں تبدیلی لائیے، اپنی اولاد کے انسان ہونے کا حق قبول کیجئیے، اسے معاملاتِ زندگی اپنے انداز سے کرنے کی اجازت دیجئیے، اس پر اعتماد کیجئیے، اسکا حوصلہ بنئیے اسکی کمزوری نہیں، اسے اپنے کیرئیر سے لے کر شریکِ حیات چننے کا حق دیجئیے، اچھے برے کی تمیز سکھائیے، کیونکہ اعتماد سے خالی انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے ذہن سے سوچتا ہے، کیونکہ اسے اپنے ذہن سے سوچنے کی تربیت دی ہی نہیں گئی ہوتی تو دوسروں کے ذہن سے سوچنے والا ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے، اسکے اندر اچھے برے کو پرکھنے کا شعور ہی نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھتا ہے، جھوٹی ہمدردی اسکی سب سے بڑی اور زود ہضم غذاء ہوتی ہے جو بھی اس سے جھوٹی ہمدردی دکھاتا ہے وہ اسے ہی اپنا مسیحا سمجھہ بیٹھتا ہے۔ کہتے ہیں نہ غلام ہمیشہ اپنے آقا کے دماغ سے سوچتا ہے، تو اعتماد سے خالی انسان کے لئیے پورا معاشرہ ہی اسکا آقا ہوتا ہے اور وہ ساری زندگی دوسروں پر انحصار کرتے ہی اپنی یہ قیمتی زندگی ضائع کر دیتا ہے۔ جو انسان زرا سی مشکل میں بھی دوسروں کی طرف ہمدردی طلب نگاہوں سے دیکھتا ہو ایسا انسان معاشرے کے درندوں کے لئیے تر نوالہ ہوتا ہے۔ کمزور افراد کا اعتماد حاصل کرنے کا سب سے بہترین ہربہ ہمدردی ہوتی ہے۔ ایسے کمزور افراد سے جو بھی زرا سی ہمدردی دکھاتا ہے یہ کمزور افراد اپنا پورا اعتماد اسکی گود میں ڈال دیتے ہیں، اور پھر انجام وہ ہی ہوتا ہے کہ ایسے کمزور افراد جس پر اندھا اعتماد کرتے ہیں وہ اپنے عمل سے ثابت کر دیتا ہے کہ آپ واقعی اندھے ہیں۔

| تبصرہ کیجیے

کامیابی کا راز

اہم یہ بات نہیں ہے کہ ہمارا دل کیا چاہتا ہے اہم یہ بات ہے کہ ہماری ضرورت کیا ہے؟ دنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں انکے دو نظریئے انتہائی شفاف ہیں ایک، زندگی سے کیا پانا ہے؟ دو۔ جو پانا ہے اسے کیسے پانا ہے؟
ہر انسان کے زہن سے پورے دن میں کم از کم پچپن سے ساٹھہ ہزار خیالات روز گزرتے ہیں جن میں سے پینتالیس ہزار خیالات منفی اور محض دس ہزار خیالات مثبت ہوتے ہیں، پینتالیس ہزار منفی خیالات دماغ سے نہ گزریں یہ انسان کے ہاتھہ میں نہیں ہے ہاں لیکن مثبت دس ہزار خیالات میں سے جتنے خیالات انسان چاہے اپنے ذہن میں روک سکتا ہے اپنے خیالات کو مثبت خیالات کا مسکن بنا سکتا ہے۔ کامیابی کے لئیے ضروری ہے کہ انکے بارے میں سوچیں انکے بارے میں بات کریں جو آپکے بارے میں سوچتے ہیں جو آپکے بارے میں بات کرتے ہیں، ہم سارا دن ایسے لوگوں کے بارے میں سوچنے اور بات کرنے میں گزار دیتے ہیں جو ہمارے بارے میں بات کرنا تو دور ہمیں جانتے تک نہیں، ہم بات کرتے ہیں عمران خان کی، ہم بات کرتے ہیں نواز شریف کی، ہم بات کرتے ہیں آصف علی زرداری کی ہم بات کرتے ہیں راحیل شریف کی۔ ان میں سے کسی ایک نے بھی آج تک ہماری بات کی ہے؟ ان میں سے کوئی ایک بھی جانتا ہے ہمیں؟ تو پھر ہم کیوں اپنا قیمتی وقت اور توانائی انکے بارے میں سوچ کر اور بات کر کے ضائع کر دیتے ہیں؟۔
جتنے بھی کامیاب لوگ نظر آئیں گے وہ ان سب خرافات سے خود کو پاک رکھتے ہیں وہ کسی سیاسی و مذہبی بحث و مباحثے میں نہیں پڑتے انکی ساری توانائی صرف اور صرف اپنے مقصد اپنے گول کے لئیے ہوتی ہے انکا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا ہر ہر کام اپنے مقصد کی تکمیل کے لئیے ہوتا ہے۔
ہم دوسروں کی پرسنیلٹی دیکھہ کر اپنی پرسنیلٹی بنانے پر توجہ رکھتے ہیں ہمارا اپنا نہ کوئی ذوق ہوتا ہے نہ ذہنیت ہوتی ہے کسی بھی کامیاب مشہور انسان کو بت بنا لیتے ہیں اور اسکی پوجا شروع کر دیتے ہیں، یاد رکھیں جو لوگ دوسروں کو دیکھہ کر اپنی پرسنیلٹی بناتے ہیں وہ کبھی بھی خود سے پیار نہیں کر سکتے اور جو خود سے پیار نہیں کرسکتا وہ کسی سے بھی پیار نہیں کرسکتا۔
اکثر لوگوں کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ بر وقت فیصلہ لینے کی صلاحیت کا نہ ہونا ہوتا ہے، وہ ساری زندگی اس ہی شش و پنج میں گزار دیتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہوجائے، ہم آج جو بھی کچھہ ہیں وہ اپنے ہی ماضی میں لئیے ہوئے فیصلوں کی وجہ سے ہیں، اور آج ہم جو کچھہ نہیں ہیں وہ بھی درست وقت پر درست فیصلے نہ لینے کی وجہ سے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں جب صحیح وقت آئیگا تب فیصلہ لے لیں گے، یہ سوچ نہیں سراب ہے کیونکہ نہ صحیح وقت آئیگا اور نہ ہی وہ فیصلہ لیں گے، جس وقت ہم نے فیصلہ لے لیا بس وہ ہی وقت صحیح وقت ہوتا ہے باقی سب طفل تسلیاں ہیں خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے، کم ہمتی ہے بزدلی ہے۔
انسان جہاں سے جاگے وہیں سے سویرا سمجھے، لسٹ بنائیں ان تمام فیصلوں کی جو آپ لینا چاہتے تھے مگر کسی بھی ان دیکھے خوف و خدشے کی وجہ سے نہیں لے سکے، خود کو ایک مہینے کا وقت دیجئیے اور فیصلوں پہ عمل درآمد کر گزرئیے، ایک مہینے سے تین مہینے بعد نتائچ آنا شروع ہو جائیں گے۔ آج ہم جو کچھہ بھی ہیں جہاں بھی ہیں وہ ماضی کے غلط یا صحیح لئیے ہوئے فیصلوں کی وجہ سے ہیں اور اگلے پانچ دس سالوں بعد جو ہم نے ہونا ہے انکا دارومدار ہمارے آج کے لئیے ہوئے فیصلوں پر ہونا ہے۔ اگر کسی کو لگنا ہے کہ اسکا کوئی گول نہیں ہے اسکی تو زندگی ہی گول ہے تو پھر اسے مان لینا چاہئیے کہ وہ زندہ انسان تو نہیں ہے وہ مر چکا ہے بس اپنے دفنائے جانے کا انتظار کر رہا ہے۔
دو چیزوں سے اپنے وجود کو آزادی دلوائیں، خوف اور تناو، خوف کا تعلق ہمارے ماضی کے تلخ تجربات سے ہوتا ہے، خود کو یقین دلائیں کے ہر دن اتوار نہیں ہوتا ماضی کے تجربات سے سیکھیں ضرور مگر تجربہ کرنا نہ چھوڑیں رسک لینا سیکھیں جس کام سے خوف آتا ہے سب سے پہلے وہ ہی کام کریں اگر حوصلہ بلند ہے تو خوف کو آپکے دل سے جانا ہی ہوگا وہ زیادہ دیر مزید آپکے دل میں گھر نہیں رکھہ پائے گا۔ تناو وہ ہے جو ابھی ہوا نہیں ہے مگر ہمیں اسکے ہونے کا خوف ہے۔ ان دو کیفیات سے خود کو نجات دلائیں یہ دو دیواریں گرا کر دیکھیں آپکی حقیقی خوشیاں ان دو دیواروں کے بلکل پیچھے کھڑی آپکی منتظر ہیں۔

| تبصرہ کیجیے

ہماری غلطی اور ہمارے سماجی روئیے

بوکسنگ میں کھلاڑی اس وقت نہیں ہارتا جب وہ اپنے مخالف کے زوردار پنچ کی تاب نہ لاتے ہوئے گر پڑتا ہے ہارتا کھلاڑی اس وقت ہے جب وہ گر کر دوبارہ اٹھہ نہیں پاتا۔ ٹھیک اس ہی طرح غلطی کرنا یا غلطی ہو جانا کوئی بری بات نہیں ہے غلطی کرنا انسان کے خمیر میں ہے اس ہی لئیے اسکے لئیے ڈکشنری میں ایک اصطلاح بھی رکھی گئی ہے ہیومن ایرر، ہیومن ایرر کے نام پر بسا اوقات بہت بڑے بڑے نقصانات ہونے کے باواجود بھی لوگ اکثر در گزر کر دیتے ہیں، مسلہ غلطی ہوجانے میں نہیں ہے مسلہ غلطی کرنے کے بعد غلطی پر قائم رہنے میں ہے طفل تسلیاں دینے میں ہے الٹے سیدھے جواز گڑھنے میں ہے۔

انسان سے غلطی ہونا عین فطری عمل ہے اس سے لیکن غلطی کا اعتراف نہ کرنا سراسر غیر فطری عمل ہے، غلطی حضرت آدم علیہ سلام سے بھی ہوئی جسکے نتیجے میں انہیں اور اماں حوا کو دنیا میں بھیج دیا گیا لیکن آدم نے فطرت کے عین مطابق فوراً اللہ سے معافی مانگ لی جسے اللہ پاک نے قبول بھی کر لیا۔ غلطی کرنا دراصل سیکھنے کی ابتداء ہوتی ہے کل میری بھانجی شانزے جسکی عمر اس وقت بہ مشکل تین سال ہوگی میں نے اس سے پوچھا “ج“ میں کتنے نقطے ہوتے ہیں؟ اس نے جواب دیا ج میں ایک کتا ہوتا ہے پھر میں نے اس سے پوچھا “ت“ میں کتنے نقطے ہوتے ہیں؟ اس نے جواب دیا ت میں دو کتے ہوتے ہیں، اب اگر میں اسکا دیا ہوا یہ جواب ریکارڈ کر کے اپنے پاس رکھہ لوں اور آج سے بارہ پندرہ سال بعد اسے سناوں تو خود حیران رہ جائے گی، اسے ہی ارتقاء کا عمل کہتے ہیں انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے بار بار غلطی کرتا ہے مگر سیکھتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کے مشق اسے کامل کر دیتی ہے۔

انسان واحد مخلوق ہے جو غلطیوں سے سیکھتی ہے اللہ کی کسی مخلوق نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں غلطیوں سے سیکھوں گا، یہ شرف صرف اور صرف انسان کو حاصل ہے، شیر بکری کو کھانے کے بعد کبھی نہیں پچھتایا بکری خوبصورت کیاری چر جاتی ہے مگر کبھی نہیں پچھتائی کبھی اس نے کیاری کے مالک سے معافی نہیں مانگی، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مچھر آپکو کاٹنے کے بعد اپنی حرکت پر نادم ہوا ہو اور اگلے چکر میں آپ سے معافی مانگی ہو اگلے چکر میں وہ پھر کسی جگہ کاٹ کے چلا جاتا ہے، چوہیاں قیمتی کپڑے کتر دیتی ہے لیکن کبھی اپنی اس حرکت پر شرمندہ نہیں ہوئی نہ ہی مالک سے معافی مانگی جب کہ سارا دن اس ہی گھر میں دندناتی پھرتی ہے لیکن مجال ہے جو کبھی شرمندگی کا پسینہ اسکے ماتھے پر آیا ہو، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ شہد کی مکھی نے آپکو ڈنک مارا ہو اور بعد میں آکر کہا ہو مجھے ایک موقع اور دیجئیے آئندہ ایسی حرکت مجھہ سے سرزد نہیں ہوتی۔

انسان واحد مخلوق ہے جو معافی مانگتی ہے سوری کرتی ہے جسکے ماتھے پر شرمندگی کا پسینہ نمودار ہوتا ہے جسکی آنکھوں سے ندامت کے آنسو بہتے ہیں۔ دنیا میں جتنے بھی قابلِ ذکر لوگ گزرے ہیں جنہوں نے دنیا کو کچھہ ڈلیور کیا ہے ان سب کے اندر معافی مانگنے کی صفت مشترک ہے وہ جب بھی غلطی کرتے ہیں نادم ہو جاتے ہیں فوراً سامنے والے سے معافی مانگ لیتے ہیں انکے بڑا ہونے میں اس عاجزی کا بہت بڑا حصہ ہوتا ہے، اسکے برعکس جتنے ضدی لوگ ہوتے ہیں وہ سرکش ہوتے ہیں وہ اپنی فطرت کو مسخ کر لیتے ہیں اللہ نے انہیں انسان ہی بنایا ہوتا ہے مگر وہ اپنے روئیے کی بنیاد پر اس درجے سے نیچے آنا شروع ہوجاتے ہیں یہ بڑی سے بڑی غلطی کرنے کے بعد بھی معافی کے طلبگار ہونے کے بجائے اپنی غلطی کو جسٹیفائی کرنا شروع کر دیتے ہیں جواز تراشنا شروع کر دیتے ہیں۔ یاد رکھئیے گا جب کوئی انسان اپنی غلطی پہ اڑنا شروع ہو جاتا ہے تو آگے چل کر وہ کرمینل بن جاتا ہے آپ جیل جائیں ایک ایک قیدی سے انٹرویو کر لیں کہیں نہ کہیں وہ آپکو اپنی غلطی پہ اڑا ہوا نظر آئے گا عمومی طور پر مجرم وہ ہی لوگ بنتے ہیں جنہیں اپنی پہلی غلطی پہ پچھتاوا نہیں ہوا ہوتا۔

اسکے برعکس جو بڑا انسان ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ غلطی پر معافی مانگنا ہی انسانیت کا تقاضہ ہے اسکے بغیر میں انسان کو تو کیا اللہ کو بھی راضی نہیں کر پاوں گا علامہ اقبال کا بہت ہی خوبصورت شعر ہے۔ موتی سمجھہ کے شانِ کریمی نے چن لئیے۔ قطرے جو تھے میرے عرقِ انفعال کے۔ جسے بڑا انسان بننا ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ جھکے بغیر سراحی پانی نہیں دے سکتی جھکے بغیر پیڑ پھل نہیں دے سکتا اسلئیے وہ عاجزی کو اپناتا ہے معافی مانگنے میں بھی جلدی کرتا ہے اور معافی دینے میں بھی جلدی کرتا ہے۔ لیکن جو سرکش ہوجاتا اسکے مقدر میں پھر ابو جہل بننا ہی رہ جاتا ہے جو تلوار کے نیچے بھی کہتا ہے کہ میں سردار ہوں میری گردن زرا نیچے سے کاٹنا تاکے جب لوگوں کے درمیان میرا کٹا ہوا سر رکھا جائے تو وہ سب سے اونچا دکھائی دے الگ سے نظر آئے کہ یہ سردار کا سر ہے۔

تاریخ ایسے منفی سوچ کے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو اپنی سرکشی کی وجہ سے درندگی کی علامت کے طور پر آج جانے جاتے ہیں عموماً لوگ جب کسی کو اسکی جہالت کی طرف متوجہ کروانا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں ابو جہل نہ بنو، غزوہِ احد میں ہندہ کے جس حبشی غلام نے حضرت حمزہ کو شہید کیا اور سینہ چاک کر کے انکا کلیجہ نکال کر ہندہ کو چبانے کے لئیے دیا اس حبشی غلام کا نام وحیشی تھا، سب جانتے ہیں کہ لفظ وحیشی آج ہم درندگی کی علامت کے طور پر بولتے ہیں۔

انسان کی سب سے بڑی غلطی ہی یہ ہے کہ وہ غلطی کو غلطی نہ مانے بلکے اسے غلطی بھی نہیں کہنا چاہئیے اسے بد قسمتی سے تعبیر کیا جانا چاہئیے، یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے کہ اللہ کسی کو یہ توفیق دے دیں کہ اسے ادراک ہوجائے میں نے جو غلطی کی ہے اسے معافی سے سدھارا جا سکتا ہے، اگر کسی کو غلطی کرتے ہوئے شرمندگی نہیں ہوتی تو پھر مطلقہ شخص سے معافی مانگتے ہوئے بھی شرمندگی محسوس نہیں ہونی چاہئیے عم عجیب لوگ ہیں غلطی کرتے ہوئے شرم نہیں آتی لیکن معافی مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔

غلطیاں دو طرح کی ہوتی ہیں ایک دانستہ اور ایک غیر دانستہ، میں اپنے آپ سے کمٹڈ ہوں کہ روڈ پر گاڑی چلاتے ہوئے اگر کسی نے غلطی سے میری گاڑی کو نقصان پہنچا دیا تو میں نے اسے معاف کر دینا ہے اور ایسا کئی بار ہوا بھی ہے جبکہ اسکے برعکس میں اپنی غیر دانستہ غلطی پر دو بار مخالف فریق کو ہرجانہ بھر چکا ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم زندگی کے چھوٹے چھوٹے اصولوں سے بھی نا واقف ہیں، ہمیں افسوس کرنا نہیں آتا کسی کا نقصان ہوجاتا ہے آگے سے ہم ہنستے ہوئے اس سے تعزیت کرتے ہیں میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جنہیں میت کے سامنے بھی ہنسی آجاتی ہے ایسے لوگوں کو چاہئیے اگر انہیں افسوس نہ کرنا آئے تو ایسے وقت میں وہ اپنے کسی پیارے کو یاد کر کے رو لیا کریں تاکہ سامنے والے کو احساس ہو یہ دل سے میرے دکھہ میں شریک ہے۔ہمیں خوشی منانا نہیں آتی شادی ہو یا کوئی اور خوشی کی تقریب ہو خوشی کے اظہار کے لئیے ہم فائرنگ کرتے ہیں لوگوں کو نقصان پہنچا دیتے ہیں ہماری خوشیاں دوسروں کے لئیے ازیت کا باعث بن جاتی ہیں، اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمیں نہ خوشی منانے کا طریقہ سکھایا گیا ہے نہ ہی غم منانے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے، کتنے ہی لوگ کوئی بڑا فائدہ ملنے کی صورت میں خوشی سے ہی مر جاتے ہیں ایسے ہی کوئی بڑا دکھہ ملنے کی صورت میں ہارٹ اٹیک آجاتا ہے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ابتداء ہی سے توازن برقرار رکھنا سکھایا ہی نہیں گیا، ایک لفظ ہوتا ہے “سمائی“ اول تو ہمارے معاشرے میں اس لفظ کا استعمال ہی نہیں ہوتا جس لفظ کا استعمال ہی نہ ہوتا ہو اسکی تعریف سے کوئی کیسے واقف ہوسکتا ہے، ہمارے اندر نہ غم کی حالت میں سمائی ہے نہ خوشی کی حالت میں سمائی ہے، غم آجائے تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں سر دیواروں سے مارنے لگتے ہیں بال نوچنے لگتے ہیں کپڑے پھاڑنے لگتے ہیں، حالت خوشی کی ہو تب ہی رویہ مختلف نہیں ہوتا۔

سب سے پہلے تو ہمیں ان چھوٹے چھوٹے معملات میں کیسے پرفارم کرنا ہے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے، کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے بس صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہے مثال کے طور پر اگر کسی کو بیٹے کی چاہ تھی اور اسکے گھر بیٹی پیدا ہوگئ ہے تو اسلوب یہ ہونا چاہئیے کہ ایسے بندے سے ملتے ہی اسے مسکراتے ہوئے گلے سے لگا لیں اور اسے مبارک باد دیتے ہوئے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائیں، اللہ نے جسکو بیٹی دی ہے وہ بہت خوش نصیب انسان ہے اللہ نے بیٹی کو نعمت قرار دیا ہے۔ اس سے سامنے والے کو حوصلہ ملے گا اور اسے احساس ہوگا کہ بیٹی بھی اتنی ہی قیمتی ہوتی ہے جتنا بیٹا ہوتا ہے۔ ہمیں تنقید کرنا نہیں آتی ہم اس سلیقے سے نا آشنا ہیں کہ کیسے سامنے والے تک اپنی بات پہنچانی ہے کہ ہماری بات بھی اس تک پہنچ جائے اسے اپنی ہتک بھی محسوس نہ ہو۔ اس ہی طرح ہمیں تعریف کرنا بھی نہیں آتی، ہمیں ہاتھہ ملانے کا سلیقہ نہیں آتا کچھہ لوگ ہاتھہ ایسے ملاتے ہیں جیسے ادھار مانگ رہے ہوں، ہمیں گلے ملنا نہیں آتا، ہمیں لوگوں کو انکے اچھے کاموں پر نہیں سراہنا نہیں آتا ہمیں لوگوں کو تحفہ دینا نہیں آتا تحفہ دیتے ہیں تو باتوں باتوں میں کسی نہ کسی بہانے سے اسکی قیمت بھی بتا دیتے ہیں۔ ہمیں کسی کی اصلاح کرنی نہیں آتی نہ ہی اپنے لئیے اصلاح لینا آتا ہے، اس بات سے ایک لطیفہ یاد آگیا، ایک پروفیسر کلاس میں لیکچر دے رہے تھے کہ ایک اسٹوڈنٹ نے ہاتھہ اٹھا دیا پروفیسر نے کہا لیکچر کے بعد سوال جواب کا مرحلہ شروع ہوگا آپ تب سوال کیجئیے گا اسٹوڈنٹ نے کہا سر میری بات تو سن لیں۔۔۔۔۔ پروفیسر صاحب نے پھر ڈانٹ دیا سمجھہ میں نہیں آیا تمہاری صبر کرو لیکچر کے بعد سوال کرنا خاموشی سے بیٹھے رہو یہ کہہ انہوں نے اپنا لیکچر پورا کیا پھر سوال جواب کا مرحلہ شروع ہوا تو پروفیسر نے اس اسٹوڈنٹ سے کہا ہاں اب کہو کیا سوال ہے تمہاراِ؟ وہ اسٹوڈنٹ کھڑا ہوا اور بولا سر میرا کوئی سوال نہیں تھا میں تو آپ کو یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ آپکی پینٹ کی زپ کھلی ہوئی ہے۔

ہمیں کسی کو ریسیو کرنے کا سلیقہ نہیں آتا نہ ہی کسی کو رخصت کرنے کا سلیقہ آتا ہے مہذب دنیا میں جب تک بندہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوجاتا لوگ اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں ویو کرتے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کا خیال رکھہ کہ ہم نہ صرف کسی کے دل میں گھر کر سکتے ہیں بلکے انسان ہونے کا حق بھی ادا کر سکتے ہیں، صرف ایک کام ایسا ہے جسے کرنے سے باقی کے تمام سلیقے آپکے اندر خود بہ خود پیدا ہو جائیں گے اپنے اندر عاجزی پیدا کریں اپنی غلطی ماننے کی جرت پیدا کریں جب طبعیت میں عاجزی کا عنصر حاوی ہوجائے گا تب باقی تمام باطل جذبے خود بہ خود شکست سے دو چار ہوجائیں گے، اس زندگی کی اہمیت کو سمجھیں اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے ہمیں شعور کی دولت سے مالا مال کیا ہے شعور وہ چیز ہے جو اللہ نے کسی اور مخلوق کو عطاء نہیں کی انسانی جسم کا وزن کریں تو چند کلو ہوتا ہے لیکن اسکے شعور کا وزن کرنے بیٹھہ جائیں تو دنیا کا ہر میزان چھوٹا پڑ جائے گا، ہمیں اللہ کی اس نعمت کو پہچاننے کی ضرورت ہے جس دن ہم اپنے آپ کو پہچان گئے اس دن اللہ کو پہچان جائیں گے۔

| 1 تبصرہ

اپنے ٹیلنٹ کو پہچانئیے

انڈین فلم “وجود“ میں نانا پاٹیکر کا ایک ڈائیلاگ ہے، زندگی نے کسی کے کام میں کہا تو کرکٹ کھیلے گا تو وہ ٹنڈولکر بن گیا، زندگی نے کسی کے کام میں کہا تو طبلا بجائے گا ذاکر حسین بن گیا، ایسے ہی زندگی نے میرے کام میں کہا ہے کہ تو اسٹیج آرٹسٹ بنے گا۔
یہ بات طے ہے کہ اللہ نے بغیر مقصد کے کوئی چیز بھی تخلیق نہیں کی، حضرت موسیٰ علیہ سلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا تھا یا اللہ تو نے یہ چھپکلی کیوں بنائی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ ہی سوال مجھہ سے یہ چھپکلی بھی کرتی ہے یا اللہ تو نے یہ انسان کیوں بنایا ہے۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں زیادہ تر لوگوں کو زندگی اس سوال پر غور و فکر کرنے کا موقع ہی نہیں دیتی ہم وقت کے دھارے کے ساتھہ بہتے ہوئے چلے جاتے ہیں پھر جہاں یہ وقت کا دھارا چاہتا ہے ہمیں لے جاتا ہے لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جہاں یہ دھارا آپکو روکتا ہے ایک جگہ لا کر ٹھہرا دیتا ہے وہاں قدرت آپکو اشارے دینا شروع کرتی ہے جو لوگ قدرت کے ان اشاروں کو سمجھہ لیتے ہیں وہ خود کو وقت کے اس دھارے سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور جو لوگ قدرت کے وہ اشارے نہیں سمجھہ پاتے وہ تذبذب کا شکار رہتے ہیں موقع آکر نکل بھی جاتا ہے اور انہیں خبر بھی نہیں ہوتی، یہ ہی وجہ ہے کہ خوش قسمتی انسان کے دروازے پر صرف ایک بار دستک دیتی ہے اور بد قسمتی اس وقت تک دستک دیتی رہتی ہے جب تک دروازہ کھل نہیں جاتا۔
سوال یہ ہے کہ وہ کونسے اشارے ہوتے ہیں انسان انہیں کیسے پہچانے یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ نے کس کام کے لئیے بنایا ہے؟ اسکے کچھہ اشارے ہوتے ہیں کچھہ نشانیاں ہوتی ہیں جائزہ لیتے ہیں کہ وہ کیا نشانیاں ہیں جنہیں رونماں ہونے پر ہمیں جان لینا چاہئیے کہ ہم جو کام کر رہے ہیں اسکے لئیے ہی اللہ نے ہمیں بنایا ہے یا ابھی تک ہم جھک ہی مارتے رہے ہیں۔
جس کام کے لئیے اللہ نے آپکو بنایا ہوتا ہے اس کام کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ کام آپکو زمان و مکاں سے بالا تر کر دیتا ہے یعنی آپ اس کام کو کرنے میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ ٹائم اینڈ اسپیس سے خود کو باہر محسوس کرنے لگتے ہیں، گھڑی کی طرف دیکھے بغیر ہی آپ کام میں لگے رہتے ہیں گھڑی کی طرف دھیان تک نہیں جاتا جب کام سے فارغ ہو کر گھڑی دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ چھہ گھنٹے گزر گئے اتنی جلدی، مثال کے طور پر آپ اپنی پسند کی کوئی مووی دیکھتے ہیں یا نیٹ سرفنگ کرتے ہیں کیونکہ اس میں آپکا شوق ہوتا ہے توجہ ہوتی ہے آپکا انٹرسٹ ہوتا ہے اسلئیے ایسے کاموں میں پوری پوری رات بھی نکل جاتی ہے اور ٹائم گزرنے کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔
دوسری نشانی ایسا کام آپکو تھکاتا نہیں ہے جو کام آپکو تھکا دیتا ہے سمجھہ لیں آپ اس کام کے لئیے نہیں بنے کیوں کے جنون، عشق، لگن، خواب کی تکمیل یہ تمام جذبے کبھی آپکو تھکنے نہیں دیتے، محبوبہ کی گلی کے سینکڑوں چکر لگاتا ہے بندہ مگر تھکتا نہیں ہے، ہر چکر میں پہلے چکر والی ہی تازگی اپنے اندر محسوس کرتا ہے،کیونکہ وہاں جذبہ ہوتا ہے جنون ہوتا ہے وہاں تھکن کا کیا کام، کمرے میں بلب لگا ہوتا ہے سالوں چلتا رہتا ہے مگر تھکتا نہیں ہے کیوں نہیں تھکتا کیوں کے وہ بنا ہی روشنی دینے کے لئیے ہے، پنکھا دن رات چلتا رہتا ہے مگر تھکتا نہیں ہے کیوں کے وہ بنا ہی اس ہی کام کے لئیے ہے، آپ پنکھے سے کوئی اور کام لے کر دیکھیں پنکھا خراب ہو جائے گا، آپ بلب سے ہتھوڑی کا کام لے کر دیکھیں وہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ وہ اس کام کے لئیے بنا ہی نہیں ہوتا۔ ایسے ہی انسان بھی جس کام کے لئیے بنا ہوتا ہے اسے اس کام کو کرنے سے کبھی بھی اکتاہٹ نہیں ہوتی تھکن نہیں ہوتی وہ کام اسے کبھی بوجھہ نہیں لگتا۔
تیسری نشانی یہ ہے کہ جس کام کے لئیے قدرت نے آپکو پیدا کیا ہوتا ہے اس کام کے کرنے سے آپکی عزت جڑ جاتی ہے، وہ کام آپکو عزت دینے لگتا ہے وہ کام آپکی وجہِ شہرت بن جاتا ہے وہ کام آپکی پہچان بن جاتا ہے۔
چوتھی نشانی یہ ہے کہ جس کام کے لئیے آپ کو قدرت نے پیدا کیا ہوتا ہے اس کام کو کرنے کے لئیے آپ معاوضے کی شرط سے بھی بالا تر ہوجاتے ہیں آپکو اس بات کی فکر ہی نہیں رہتی کے مجھے اس کام کے عوض پیسہ کتنا ملے گا آپکو معلوم ہوتا ہے کہ پیسہ کہیں نہیں جانا وہ تو ہر حال میں مجھے ملنا ہی ہے آپکو معاوضہ حقیر چیز لگنے لگتا ہے، آپکے لئیے بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ آپکو وہ کام کرنے کو مل رہا ہوتا ہے جو آپکا پیشن ہے جو آپکا جنون ہے جو آپکا شوق ہے، اٹلی کا ایک عظیم مصور عظیم مجسمہ ساز گزرا ہے مائیکل اینجیلو، یہ اپنے فن میں یکتا تھا اسکا کام اسکا جنون تھا یہ پندرہ پندرہ دن تک جوتے اتارے بغیر ہی کام کیا کرتا تھا جب جوتے اتارتا تو جوتوں کے ساتھہ پاوں کی کھال بھی اتر آتی، اسکا کام ہی اسکا جنون تھا جس نے اسے عزت دی شہرت دی پیسہ دیا نام دیا، مائیکل اینجلو نے ایک مجسمہ بنایا اور اتنا شاندار مجسمہ بنایا کہ دنیا کو اس مجسمے پر زندہ انسان کا گماں ہونے گا خود مائیکل اینجلو اس مجسمے کو بنانے کے بعد حیران تھا کہ یہ کیسا شاہکار بنا دیا ہے میں نے، خود مائیکل اینجلو کو اس مجسمے پر زندہ انسان کا گماں ہونے لگا تھا وہ مجسمے سے کہتا تھا کہ تو بولتا کیوں نہیں ہے میں نے تجھے اتنا خوبصورت بنایا ہے، اس ہی کیفیت میں ایک روز اس نے مجسمے کو بلوانے کے لئیے اسکی ٹانگ پر ہتھوڑی مار دی کہ شاید چوٹ لگنے سے بولے گا یوں وہ مجسمہ ٹوٹ گیا۔
پانچواں اشارہ یہ ہوتا ہے کہ جس کام کے لئیے آپکو قدرت نے بنایا ہوتا ہے وہ کام آپکی شناخت بن جاتا ہے، مثال کے طور پر میں آپ سے کہوں خدمتِ خلق، آپکے دماغ میں فوراؐ عبدالستار ایدھی کا نام آجائے گا، میں آپ سے کہوں بہترین بیٹسمین، آپکے دماغ میں فوراؐ ٹنڈولکر کا نام آجائے گا، میں آپ سے کہوں بہترین باولر، آپکے دماغ میں فوراؐ وسیم اکرم کا نام آجائے گا، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ٹیلنٹ نہ ہو اور بندہ اس کام میں ماہر ہو جائے اور اتنا مشہور ہو جائے گا کہ وہ کام اسکی شناخت بن جائے۔
چھٹا اشارہ یہ ہوتا ہے کہ جس کام کے لئیے آپ بنے ہوتے ہیں اس کام کی مشکلات کو بھی آپ چوم کر گلے لگاتے ہیں وہ کام آپکو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا آپکو متحرک رکھتا ہے وہ ہر منزل پر پہنچنے کے بعد کہتا ہے نہیں میری منزل اس سے بھی آگے ہے یوں وہ منازل پر منازل طے کئیے جاتا ہے جسکا پیشن ہوتا ہے وہ ہی اپنی منزل آگے سے آگے رکھتا ہے رکاوٹ تو آتی ہی روکنے کے لئیے ہے مگر جسکا جنون ہوتا ہے رکاوٹ اسکی منزل مزید آگے بڑھانے کے لئیے آتی ہے،
ساتواں اور آخری اشارہ یہ ہوتا ہے کہ جس کام کے لئیے آپ بنے ہیں وہ کام آپکو سکون سے بیٹھنے نہیں دیتا وہ آپکو ہر ہر لمحہ متحرک رکھتا ہے مثال کے طور پر آپ ایک شراتی بچے کو کسی کمرے میں بند کر کے باہر سے کنڈی لگا دیں وہ بچہ بار بار دروازہ بجائے گا شیشہ توڑے گا اپنی موجودگی کا احساس دلائے گا، آپکا ٹیلنٹ بھی شرارتی بچے کی طرح ہی ہوتا ہے وہ آپکو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا وہ بار بار آپکو آکر احساس دلاتا ہے کہ یہ کس اندھیرے میں پڑے ہو تم اس کام کے لئیے نہیں بنے ہو تم اس کام کے لئیے بنے ہو جس کام کے لئیے قدرت تمہیں بار بار اشارے دے رہی ہے ان اشاروں کو سمجھو ان اشاروں کو محسوس کرو فتح وہیں ہے کامیابی وہیں ہے تمہارے وجود کی تکمیل وہیں ہے۔

| تبصرہ کیجیے

طالبان نامی جن

سالوں دن رات خدمت اور تپسیا کے بعد بلآخر استاد نے شاگرد سے ایک دن کہہ ہی دیا، میں جانتا ہوں تم برسوں سے میری خدمت کیوں کر رہے ہو، تمہیں وہ منتر چاہئیے جسکا ورد کرنے سے جن قابو میں آجاتا ہے پھر اس جن سے تم جو بھی خواہش ظاہر کرو گے وہ پوری کر دے گا، شاگرد نے نظریں جھکا کر کہا جی بلکل ایسا ہی ہے، استاد نے کہا میں تمہیں وہ منتر دے تو دونگا لیکن یہ سوچ لو کہ جس دن تم اس جن کو کوئی کام دینے میں ناکام رہے اس دن وہ جن تمہیں ہی کھا جائے گا، شاگرد نے نتیجے کی پروہ کئے بغیر کہا آپ فکر نہ کریں میں ایسی نوبت آنے ہی نہیں دونگا۔ مجبور ہو کر استاد نے منتر دے دیا، مسلسل ورد کے بعد جن حاضر ہوگیا شاگرد کی جانب سے ہر روز جن کو کوئی نہ کوئی کام دے دیا جاتا، دنیا بھر کے قیمتی نوادرات سے مزین محل تعمیر کروا لیا گیا، باغات، کھیت کھلیان سب آباد کروا لئیے گئے، جدید سے جدید سہولیات حاصل کر لی گئیں بلآخر وہ دن آن پہنچا جب شاگرد کے پاس جن سے کروانے کے لئیے کوئی کام نہ بچا، جن بضد تھا کہ کوئی کام دو ورنہ میں تمہیں کھا جاوں گا، اب شاگرد کی سٹی گم ہوئی دوڑا ہوا استاد کے پاس پہنچا اور مدعا بیان کیا، استاد نے کہا پہلے ہی بتا دیا تھا کہ یہ وقت لازمی آئے گا خیر استاد نے شاگرد کو ایک کتا دیا اور کہا جن سے کہو اسکی دم سیدھی کر دے، شاگرد کتا لے کر جن کے پاس پہنچا اور اسے دم سیدھی کرنے کا کام سونپ دیا، جن نے تمام حربے استعمال کر لئیے مگر کتے کی دم نہ سیدھی ہونی تھی نہ ہوئی، یوں استاد کی مدد سے شاگرد جن کو مصروف رکھنے میں کامیاب ہوگیا اور جن کو کبھی نہ ختم ہونے والا کام مل گیا۔
میں ایک ایسے شخص سے مل چکا ہوں جسے قتل کئے بغیر نیند نہیں آتی تھی، وہ لوگوں سے پوچھتا پھرتا تھا کہ کسی سے دشمنی ہے تو بتاو، برائی کوئی سی بھی ہو صرف پہلی بار کرنے پر بھاری پڑتی ہے اسکے بعد دھیرے دھیرے احساسِ زیاں بھی جاتا رہتا ہے اور پھر وہ برائی اسکے لئیے سگریٹ کا ایک کش لگانے سے بھی زیادہ سہل ہو جاتی ہے، افواجِ پاکستان نے معصوم لوگوں کو جہاد کے نام پر جانور بنانے سے پہلے یہ سوچنا تک گوارہ نہیں کیا ہوگا کہ ہم ان معصوموں کو جس راہ پر ڈال رہے ہیں ہمارا کام نکل جانے کے بعد انکا انجام کیا ہوگا؟؟؟ یقیناؐ انہوں نے سوچا ہوگا کہ کام نکل جانے کے بعد انہیں اتنا پیسہ دے دیا جاے گا کہ یہ با آسانی باقی کی زندگی سکون سے گزار لیں گے، لیکن یہ بارہ جماعت پاس انسانی فطرت کے اصولوں سے واقف ہی نہیں تھے، انسان جب اپنی فطرت مسخ کرنے پر آجائے تو گراوٹ کی اتہا گہرائیاں بھی اسے معمولی سا گڈھا دکھائی دیتی ہیں، آپ نے انکے منہ کو خون لگا دیا اور اب توقع یہ کرتے ہو کہ یہ لوگ ہتھیار پھینک کر چائے کا ہوٹل کھول لیں، لعنت ہی ہے بھئی آپکے ویژن پر۔ آپ نے ڈالر کے منتر سے معصوم لوگوں کو جن میں تبدیل تو کر دیا مگر اب یہ ہی جن آپکے اور آپکی نسلوں کے لئیے ناسور بن چکے ہیں، اب یا تو انہیں کوئی کام دو ورنہ یہ آپکو اور آپکے بچوں کو کھانا شروع کردیں گے، بلآخر نوبت یہ آ ہی گئی کے کام نہ ملنے کی صورت میں ان طالبان نامی جنوں نے آپکو اور آپکے بچوں کو کھانا شروع کر دیا ہے، اس شاگرد کو تو گرو نے گرو دکشنا بخش دی تھی مگر اب تیرا کیا ہوگا کالئیے؟؟؟
آپکے گرو امریکہ نے تو ہری پیلی نیلی ساری جھنڈیاں دکھا دی ہیں آپکو، کچھہ عرصے کے لئیے شام میں دہشتگرد ایکسپورٹ کرنے کا کام ملا تھا مگر اب وہ بھی مندی کا شکار ہوگیا ہے، اب جائیں تو جائیں کہاں؟؟؟
اب گانے بناو، ترانے بناو، غزلیں سناو یا پھیرو راگ، ان جانوروں کو آپ نے کیا لتا بائی کا فین سمجھا ہوا ہے جو عشرے گزرنے کے بعد بھی لتا بائی کا گانا سنتے ہی سب کچھہ بھول کر کوما میں چلے جاتے ہیں؟؟؟ بندیا چمکے گی، چوڑی کھنکے گی، تیری نیند اڑے تے اڑ جائے۔
اب انتظار کیجئیے اپنے آقا کا کہ وہ کسی سے کوئی نیا پنگا لے اور کرائے کے قاتل حاصل کرنے کے لئیے ایک بار پھر ڈآلر کے عوض آپ کی خدمات حاصل کرے اور آپ ان طالبان نامی جانوروں کو پھر سے کوئی کام دینے کے قابل ہو سکیں، انتظار کیجئیے، تب تک یہ طالبان نامی جن آپکو اور آپکے بچوں کو کھاتے رہیں گے، اب یہ کتوں سے بھی بہلنے والے نہیں کیونکہ اب یہ طالبان نامی جن خود کتے کی دم میں تبدیل ہوچکے ہیں، باپ لگا جو انہیں سیدھا کر کے دکھائے۔

| 4 تبصرے

بیپر

ٹرن ٹرن ٹرن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابے شرم نہیں آئی تمہیں بے غیرت
ہیلو کون بول رہا ہے؟؟؟؟؟؟ یہ کیا بد تمیزی ہے؟؟؟
ابے بے شرم انسان تم نے اپنے بچے کو چھہ سو روپے کا کرتہ پہنا کر
عید کی نماز پڑھنے کے لئیے بھیج دیا، کوئی غیرت شرم ہے تمہیں کہ نہیں؟؟؟
ابے تو ہے کون؟ اور تمہیں اس سے کیا میں اپنے بچے کو چھہ سو کا کرتہ پہناوں یا چھہ ہزار کا تم کون ہوتے ہو یہ پوچھنے والے؟

ابے شرم کر کم از کم پچس ہزار کا کرتہ تو ہونا ہی چاہئیے تھا یہ کیا چھہ سو روپے کا کرتہ پہنا کر بھیج دیا اسے عید کی نماز پڑھنے تجھے کچھہ لحاظ شرم ہے کہ نہیں کنجوس انسان

ابے تو ہے کون آخر اپنا نام تو بتا، اور تو ہوتا کون ہے مجھہ سے یہ سوال کرنے والا، اور کیا چھہ سو روپے کا کرتہ پہن کر عید کی نماز نہیں ہوتی کیا؟؟؟

سوری سوری سوری بھائی جان، بس یہیں تک لانا چاہ رہا تھا میں آپکو، انتہائی معزت کے ساتھہ عرض ہے کہ میری بات کا برا مت منائیے گا، آپ نے ایک لاکھہ کا بکرا خریدا ہے قربانی کے لئیے، کیا پندرہ ہزار کے بکرے
سے قربانی نہیں ہوتی؟؟؟
زرا غور کرو باقی کے پچیاسی ہزار سے تم کتنے لوگوں کے کام آسکتے تھے، جن لوگوں کو تم ایک لاکھہ کے بکرے کا گوشت دوگے وہ محض دو تین دن ہی کھا پائیں گے، اس ہی ایک لاکھہ روپے سے تم سارا سال کتنے ہی لوگوں کو گوشت خرید کر دے سکتے تھے، میری بات کا برا مت منائیے گا، آپ نے درست فرمایا کہ چھہ سو روپے کا کرتہ پہن کر بھی عید کی نماز ہوجاتی ہے، ٹھیک اس ہی طرح پندرہ ہزار کے بکرے سے بھی قربانی ہوجاتی ہے تو پھر یہ نمود و نمائش یہ دکھاوا کیوں؟؟؟
زرا گورنمنٹ کے کسی بھی ہسپتال کا ایک چکر لگائیے آپکو زندگی موت سے موت کی بھیک مانگتی ہوئی نظر آئے گی، کبھی المطفیٰ ویلفئیر ٹرسٹ کا چکر لگائیے اور انکا رجسٹر چیک کیجئیے ہزاروں لوگ اپنی باری کے انتظار میں ہیں کہ کب انکا نمبر آئے گا تو فری میں انکے گردوں کا ڈائلاسسز ہوگا، فری میں ڈائلاسسز کے انتظار میں کتنے ہی مریض اپنی جان ہار جاتے ہیں لیکن انکا نمبر نہیں آ پاتا، ٹرسٹ والے بھی مجبور ہیں فری میں علاج کروانے والوں کی ایک طویل فہرست ہے اور وسائل محدود، آٹھہ سے دس ہزار روپے لگتے ہیں فی مریض اس پروسسز میں، زرا ٹھنڈے دل سے سوچئیے اگر آپ پندرہ ہزار کا بکرا لیتے تو باقی کے پچیاسی ہزار سے آپ نو دس افراد کے گردوں کا ڈائلاسسز کروا سکتے تھے یوں آپ قربانی کے فرض سے بھی سبکدوش ہوجاتے اور انسانیت کے فرض سے بھی۔

میں ایسے کتنے ہی اسٹوڈنٹس کو جانتا ہوں جو پڑھنا چاہتے ہیں لیکن تعلیمی اخراجات انکی درسترس میں نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے آئن اسٹائن سڑکوں پر وائپر سے لوگوں کی گاڑیوں کی ونڈ اسکرینیں صاف کرتے ہوئے اپنا مستقبل گرد آلود کر رہے ہیں۔

سردیاں آنے والی ہیں، کبھی سردی کی ٹھٹرتی ہوئی سرد رات میں گرم کمبل سے نکل کر دیکھنا اس سخت ترین سردی میں رات بارہ بچے بارہ سال کا بچہ ابلے ہوئے انڈے بیچ رہا ہوتا ہے یہ منظر دیکھہ کر کیا تمہاری آنکھیں نہیں ابلتیں؟؟؟ اگر نہیں ابلتیں تو پھر جان لو کہ تم انسان ہی نہین ہو محض انسان کی فوٹو کاپی ہو۔

میں یہ نہیں کہتا کہ تم اپنی ساری خوشیاں تیاگ دو، اور اپنا سب کچھہ ایسے مستحقین میں بانٹ دو، تمہارے ایسا کرنے سے بھی پورے ملک کی غربت ختم نہیں ہوجائے گی، سارے مریضوں کو علاج اور سارے بچوں کو تعلیم نہیں مل جائے گی لیکن لیکن لیکن زندگی کے ہنگام کو کچھہ دیر روک کر تنہائی میں بیٹھہ کر کچھہ دیر کے لئیے سوچنا ضرور کہ تم بھی انسان ہو اور وہ مستحقین بھی انسان ہیں دونوں کا خالق ایک ہے، یہ منظر بدل بھی تو سکتا تھا!

ستمگر وقت کا تیور بدل جائے تو کیا ہوگا
میراسر اور تیراپتھر بدل جاے تو کیا ہوگا
امیروں کچھہ نہ دو تعنے تو نہ دو ان فقیروں کو
زرا سوچو اگر منظر بدل جاے تو کیا ہوگا؟؟؟

تمہاری دولت ہی تمہارا امتحان ہے یہ در حقیقت تمہارے پاس اللہ کی طرف سے دی گئی امانت ہے، اس امانت کو لوگوں تک پہنچا کر تم کوئی احسان نہیں کرو گے، انکی مدد کر کے در حقیقت تم اپنی مدد کرو گے، انکی مدد کرو اور ان سے شکریہ لینے کے بجائے انکا شکریہ ادا کرو کے وہ تمہاری بخشش کا سامان بنے انہوں نے تمہیں موقع دیا کہ تم انکی دنیا بدل کر اپنی آخرت سنوار سکو، یہ ممکن ہی نہیں کہ تخلیق کو تکلیف دے کر خالق کو خوش کیا جاسکے۔

تم نے درست کہا تھا کہ کیا چھہ سو روپے کے کرتے میں عید کی نماز نہیں ہوتی؟ بلکل ہوجاتی ہے، ٹھیک اس یہ طرح پندرہ ہزار کے بکرے سے بھی قربانی ہوجاتی ہے، یہ ایک لاکھہ کا بکرا قربانی سے زیادہ نفسِ عمارہ کی تسکین کا باعث بنتا ہے، علامہ اقبال نے کہا تھا

شیر و اژدھا و نینہنگ کو مارا تو کیا مارا
بڑے موزی کو مارا نفس عمارہ کو اگر مارا

ہمارے نبی پاک ﷺ نے تو ہمیں یہ ہی بتایا ہے کہ ایک وقت کو اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف کر دے گا لیکن بندوں کے حقوق وہ کسی صورت بھی معاف نہیں کرے گا۔ اسلئیے میرے بھائی میری بات کا برا مت ماننا، ہو سکے تو حقوق اللہ کے ساتھہ حقوق العباد کو بھی جوڑ کر چلو انشاءاللہ مرا ایمان ہے کہ منزل خود تمہیں ڈھونڈتی ہوئی تمہارے قدموں میں آگرے گی۔

| تبصرہ کیجیے

تم ہمارا صبر آزماو ہم تمہارا جبر آزماتے ہیں۔

تم وقتی طور پر میرے عمل پہ پابندی لگا سکتے ہو میری سوچ میرے نظرئیے پر نہیں، نظریہ زندہ رہے سوچ زندہ رہے تو وہ دوبارہ تازہ دم ہوکر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھہ خود کو منوا لیتا ہے، ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی دشمنی میں سندھہ میں بمباری تک کی گئی، لیکن کیا پیپلز پارٹی ختم ہوگئی؟ دس سال ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کیا ہزاروں مہاجروں کو شہید کیا نتیجہ کیا نکلہ؟ اب پھر وہ ہی عمل دوہرایا جا رہا ہے تو کیا نتیجہ مختلف نکلے گا؟ آئن اسٹائن نے کہا تھا ایک کام کو ایک ہی طریقے سے بار بار کرنے کے بعد مختلف نتیجے کی توقع رکھنا بے وقوفی ہوتی ہے، جو لوگ ایم کیو ایم کو محض ایک جماعت سمجھتے ہیں وہ عمران خان کی جنت میں رہتے ہیں، ایم کیو ایم ایک نظریئے کا نام ہے چالیس سال شناخت کے لئیے بھٹکتی قوم کو بے انتہا قربانیاں دینے کے بعد ایک شناخت ملی ہے اب تمہارا باپ بھی اسے نہیں چھین سکتا، الطاف حسین اب ایک نہیں رہا، کروڑوں مہاجروں کے دل و دماغ میں نظریہ الطاف گھر کر چکا ہے، اب الطاف حسین رہے یا مائنس کر دیا جائے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس شخص نے اپنے حصے کا کام کر دیا، جو کام الطاف حسین نے کیا ہے وہ رہتی دنیا تک اب تمہارے سینے میں پھانس بن کر چھبتا رہے گا۔ تم میڈیا کو ساتھہ ملا کر بے ضمیر صحافیوں کو ساتھہ ملا کر ایم کیو ایم کے خلاف جانبدارانہ پروپگنڈا کر کے سمجھتے ہو مہاجروں کے دلوں کو پھیر دو گے، یہ نا ممکن ہے، جب تک اس ملک میں ایک بھی پنجابی، پٹھان، بلوچ، سندھی، سرائیکی، موجود ہے اس وقت تک مہاجر بھی زندہ رہے گا، تم مجھے مار دو مگر میں اپنی نسلوں کو یہ نظریہ دے کر جاوں گا، مجھے مارنا مسلے کا حل نہیں ہے، مارنا ہے تو میرا نظریہ مارو، وہ عوامل ختم کرو جسکی وجہ سے میری یہ سوچ بنی ہے میرا یہ نظریہ پیدا ہوا ہے۔

روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچی مٹی تو مہکے گی، ہے مٹی کی مجبوری

یہ بارہویں پاس فوجئیے پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی با شعور ایک تہذیب کی امین قوم کو بے وقوف سمجھتے ہیں کہ یہ میڈیا کو ساتھہ ملا کر منفی پروپگنڈا کریں گے اور ہم انکی بات مان لیں گے، ہم اہلِ کراچی ہیں چھانگا مانگا سے آئے ہوئے یا شکار پوری نہیں ہیں، آسمان پہ لکھا نظر آرہا ہے کہ تعصب کیا جارہا ہے یکطرفہ آپریشن کیا جارہا ہے، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے مساجد کے باہر جہادی تنظیموں کو با قائدہ بینر لگا کر فطرہ لیتے ہوئے، اور یہ وہ جہادی تنظیمیں میں جنہوں نے تمہارے گھروں میں گھس کر تمہاری بہادری کی شلوار ساری دنیا کے سامنے اتاری ہے، جی ایچ کیو پہ حملہ کر کے، مہران بیس پر حملہ کر کے، پشاور میں معصوم بچوں کو شہید کر کے، مگر وہ آج بھی تمہارے اتحادی ہیں، ایم کیو ایم پر پابندی ہے کہ وہ خدمتِ خلق فائنڈیشن کے لئیے نہ چندہ لے سکتے ہیں نہ فطرہ نا کھالیں، جہادیوں کے نام سے ہی انکی شلواریں گیلی ہوجاتی ہیں، بہادری دکھائی جا رہی ہے نہتے مہاجروں پر، ابھی کل کی بات ہے انڈیا نے پسرور پر حملہ کر کے پچاس سے زائد لوگوں کو شہید کر دیا، اور آج ہی کی بات ہے کہ پنجاب کے ڈی جی رینجرز انڈیا مٹھائی لے کر گیا ہے اپنے ہم منصب سے ملنے، یہاں لوگوں کو بے وقوف بناتے ہو کہ دشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے، گھر میں گھس کر ماریں گے، ہے ہمت تو پچاس نہیں تو پچیس ہی مار کر دکھا دیتے تو ہم مانتے کہ تم غیرت مند ہو، مگر تم تو الٹا ہمارے زخموں پہ نمک چھڑک رہے ہو مٹھائیاں لے کر جا رہے ہو انکی منتیں کر رہے ہو، ابھی سپریم کورٹ کے جج نے کہا ہے کہ ڈی ایچ اے سوسائٹیز واہگہ بارڈر تک پہنچ گئی ہیں، تو جواب یہ کیسے دیں گے، بارڈر پر جنگ کی صورت میں ڈی ایچ اے سوسائٹیز کی قیمتیں جو گر جائیں گی، سومو نے بلکل ٹھیک کہا کہ چائنہ کٹنگ اور ڈی ایچ اے سوسائٹیز میں فرق صرف وردی کا ہے، بھارت ہمارے لوگ مارے جائے گا اور یہ انہیں مٹھائیاں بھیجے جائیں گے، وردی کو پیسے کی ہلدی لگ گئی ہے، قبضہ جذبہ کھا گیا۔

صحابہ پھٹے کپڑوں میں مفلوک حال بھوکے پیاسے غیر مسلم ریاست کے بادشاہ کے پاس گئے اور کہا کے مسلمان ہوجاو، جزیا دو یا پھر جنگ کے لئیے تیار ہوجاو، بادشاہ نے وزیر سے کہا انہیں پیسہ دے دو، کچھہ سالوں بعد پھر مسلمان اس ہی بادشاہ کے پاس پہنچے مگر اس بار کلف لگے سوٹ بوٹ میں ہشاش بشاش حالت میں تھے، وہ ہی سوال دہرایا، تو بادشاہ نے کہا آجاو اب میدان جنگ میں، اب تم ہمارا کچھہ نہیں بگاڑ سکتے، پہلے تم بھوکے تھے مفلوک حال تھے تب ہمارے لئیے خطرناک تھے، اب تو تم ہمارے جیسے ہی خوشحال ہو اب تم ہمارا کچھہ نہیں بگاڑ سکتے، اب فقظ عادتوں کی ورزش ہے۔ روح شامل نہیں شکایت میں۔
اب تم فوجی نہیں رہے، اب تم بزنس مین بن چکے ہو، ہاوسنگ سوسائٹیز چلانے والے، دلیہ فیکٹریز، سمنٹ فیکٹریز، کھاد فیکٹریز چلانے والے بن چکے ہو، اب تم فوجی نہیں پیسے کے کھوجی بن چکے ہو، ایٹم بم بنالینے سے اگر ملکی جغرافیہ بچ سکتا تو روس کے اتنے ٹکڑے کبھی نہ ہوئے ہوتے، جب روس جیسی سپر پاور نہیں بچی تو باقی کسی ملک کی تو بات ہی کیا کرنی، ملک کو قائم رکھنا اور اسے ترقی و خوشحالی کی راہ پر دیکھنا چاہتے ہو تو جبر سے نہیں انصاف سے کام لینا ہوگا، ہر پاکستانی کو اسکا جائز حق دینا ہوگا، جبر سے نہ تم پہلے کسی کا کچھہ اکھاڑ سکے ہو نہ اب اکھاڑ سکتے ہو، جغرافیہ سے زیادہ بے وفا شہ کوئی نہیں ہوتی، جب ریاستِ مدینہ نہیں رہی تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

| تبصرہ کیجیے