انگریز راج vs ہمارا راج ..


ہمارے سیاستدان اور علماء حضرات آج جس انگریز کو برا بھلا کہتے ہیں کبھی کسی نے سوچا ہے کہ وہ انگریز کافر ہمارے لئے کتنا بہتر تھا ؟ انگریز نے بر صغیر کو جی بھر کے لوٹنے کے باوجود اس خطے کو کھربوں ڈالرز کے بے شمار عظیم پروجیکٹس دیئے.. انگریز نے ریلوے کا اتنا بڑا نیٹ ورک بنا دیا اور ہم بنانا تو دور اسے اپگریڈ نہیں کر سکے .. مینٹین نہیں کر پا رہے .. آب پاشی اور دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام پاکستان کے پاس ہے یہ سب انگریز نے ہی بنایا ..جبکہ آج ہم اس کی ٹھیک سے صفائی تک نہیں کر سکتے .. انگریز نے جیکب آباد سے ایبٹ آباد تک .. لائل پور سے مری تک کتنے نئے شہر آباد کئے جب کہ ہہ 63 سالوں میں صرف ایک شہر اسلام آباد بنا سکے ہیں ..انجنیئرنگ یونیورسٹیز سے لے کر زرعی یونیورسٹی تک پنجاب یونیورسٹی سے لے کر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج تک سب انگریزوں نے بنایا ..
ہمارے نام نہاد رہنماؤں اور ملاؤں نے کیا دیا قوم کو ؟  جعلی ڈگریاں .. امتحانی مراکز کا نیلام ، ملاوٹ ، جھوٹ ، دھوکا، خود کش حملے ،فرقہ بندی ، مذہب کے بجائے اپنے اپنے مسلک کی خدمت ، 5 روپے کی روٹی اور دال 175 روپے کلو یہ سب کیا مذاق ہو رہا ہے ہمارے ملک میں ؟ اور سڑکوں پر لوگوں کو فری کھانا کھلا کر بھکاری بنایا جا رہا ہے .. جن کی دال کھانے کی حیثیت نہیں ان کو بکرے کا گوشت فری میں کھلا کر اپاہج بنایا جا رہا ہے .. یہ سب انقلابوں کو دبانے کے حربے ہیں ..جو ہماری بے شعور قوم نہیں سمجھ پا رہی .. یہ سب ہمارے نام نہاد لیڈران صرف کرپٹ ہوتے تو خیر تھی مگر یہ نا اہل نالائق ہیں جنہوں نے اس  ملک کو بھکاری بنا دیا.. جس کے پاس اتنے قیمتی وسائل ہیں کہ انہیں صحیح استعمال کیا جاتا تو آج کہاں پر ہوتا پاکستان .. 😦 😦 😦 😦 😦

Advertisements
This entry was posted in افسوس. Bookmark the permalink.

19 Responses to انگریز راج vs ہمارا راج ..

  1. ڈفر - DuFFeR نے کہا:

    بھائی اتنا سچ لکھے گا تو سیدھا اندر جائے گا
    ضمانت شمانت کروائی وی ہے نا؟

  2. fikrepakistan نے کہا:

    ویلکم ڈفر جی ۔۔

    بھائی نہیں بہن ۔۔

    واقعی ڈر تو لگ رہا تھا لکھتے ہوئے مجھے بھی ۔۔ 😛

    لیکن کیا کروں کنٹرول نہیں ہوتا ۔۔ آخر کب تک چپ چاپ دیکھتے رہیں سب کچھ ۔۔ 😕

  3. خاور نے کہا:

    آپ جی انگریز کے ایجنٹ لگتے هیں

  4. شازل نے کہا:

    بھائی تم بھی دل جلے لگتے ہو
    اب دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لیے بلاگ ہی رہ گئے ہیں
    ہم بھی کچھ ایسا ہی کرتے رہتے ہیں
    آپ نے خوب لکھا ہے میرے بھی کچھ اسی قسم کی خیالات ہیں

  5. fikrepakistan نے کہا:

    خاور : ہاہاہا نہیں جی میں تو مسلمانوں کی ہمدرد ہوں سچ میں ۔۔۔

    شازل : اوپر ڈفر کو لکھا تو ہے میں نے کہ بھائی نہیں بہن ہوں ۔۔
    دل تو جلتا ہے جب تلخ حقائق کا ادراک ہوتا ہے ۔۔ اور بلاگ واقعی اچھا ذریعہ ہے اظہار خیال کے لئے ۔۔

  6. محب علوی نے کہا:

    سلام،
    شناخت کے لیے کوئی نام تو رکھ لیں ورنہ بھائی بہن کا جھگڑا خاصہ طویل چلے گا۔

    ویسے انگریزوں کی اتنی خوبیاں بیان کرتے ہوئے ذرا ان کی عمدہ تاریخ کا بھی مطالعہ کر لیجیے گا شاید کچھ گلے اور شکوے کم ہو جائیں۔ دنیا کو منشیات کا گراں قدر تحفہ اور نو آبادیات کا طرز حکومت انہی کا بخشا ہوا ہے جس کے اثرات سے آج تک دنیا مستفید ہو رہی ہے۔ انگریزوں کا برصغیر سے جانے کے بعد اپنے ملک میں ہی جو حال ہوا وہ اب ساری دنیا کے سامنے ہے اور جتنی دیر برصغیر ان کے قبضے میں رہا اتنی دیر ہی وہ خوشحال رہے اس کے بعد جس سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا اس پر اب سورج طلوع بھی نہیں ہوتا۔
    غلامی کو آزادی پر ترجحیح دینے سے پہلے ان ملکوں پر نظر دوڑا لیں جو اب بھی آزاد نہیں یا جہاں سامراجی قبضہ ہے البتہ آزادی کی نعمت کا کس نے کیسا استعمال کیا وہ ضرور زیر بحث لائیں مگر انگریزوں کی حمد و ثنا کے بغیر ہو تو بہت بہتر ہوگا۔
    ویسے آپ نے مسلمان ملکوں کی یونیورسٹیوں کی تعداد جانے کہاں سے نکالی ہے , سو کے لگ بھگ یونیورسٹیاں تو پاکستان میں ہی ہیں اور بھارت میں بھی دو سو کے قریب یونیورسٹیان ہیں اور آٹھ ہزار سے زائد کالجز ہیں

  7. fikrepakistan نے کہا:

    وعلیکم السلام ۔۔۔ حق بات کوئی بھی بھائی لکھے یا بہن کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ 🙂 میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے یہ سب لکھ رہی ہوں ۔۔ اپنی باتیں لکھنی ہونگی تو اپنی شناخت سے ایک بلاگ بنا لوں گی ۔۔ 🙂

    مجھے انگریز کی تاریخ کا علم ہے ۔۔ 16 صدی تک مسلمان ہی دنیا کی سب قوموں سے آگے تھے ۔۔ ابتدائی ایجادات بھی ان کی ہیں ۔۔ انگریز تو آپس میں ہی لڑتے رہتے تھے ۔۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کی پالیسیز کا analysis کیا اور ان اصولوں کو سمجھا جن کی وجہ سے مسلمان کامیاب تھے ۔۔ انہوں نے وہ اصول اپنا لئے لیکن مسلمانوں نے چھوڑ دیئے ۔۔۔
    آپ تاریخ کو چھوڑیں یہ دیکھیں کہ آج مسلمان کہاں کھڑا ہے ۔۔ ؟

    میں نے غلامی کو ازادی پر ترجیح نہیں دی ۔۔ میرا کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جس غلامی سے آزادی کے لئے ہم نے اتنی قربانیاں دیں صرف اس لئے کہ ہم آزاد اور خود مختیار زندگی گذاریں ۔۔ تو کیا اس ازادی کی ہم نے قدر بھی کی ؟ آپ کے خیال میں ہم آزاد ہیں ؟

    میں تو اس معاملے میں بھی انگریز کا احسان مانتی ہوں کہ ۔۔ اس نے ہمیں نام نہاد بادشاہوں کی غلامی سے نجات دلائی ۔۔ لیکن آزاد ہونے کے باوجود کس طرح دوسروں کے اشاروں پر ناچتے رہے یہ بھی آپ کے سامنے ہی ہے ۔۔

    مسلمان یونیورسٹیز کی تعداد میں نے کافی ٹائیم پہلے نیٹ پر ہی کہیں پڑھی تھی ۔۔ اس وقت بلاگنگ کا ارادہ نہیں تھا وہ لنکس محفوظ کر لیتی ۔۔
    پاکستان میں جتنی بھی یونیورسٹیز ہیں ان میں سے گورنمینٹ نے کتنی بنائی ہیں ؟ پرائیویٹ یونیورسٹیز کی بات نہ کریں ان کی تعلیم کا وہ معیار نہیں جو ہونا چاہیئے وہ بس اپنا بزنس چمکاتے ہیں ۔۔

    یہ جو تھوڑا بہت ہماری قوم میں شعور آیا ہے یہ بھی انگریز کی مہربانی سے ہی جس نے اتنے کمیونیکیشنز سورسز ایجاد کئے۔۔ ورنہ ہمارے کرتا دھرتاؤں اتنے حقائق چھپا کر جن اندھیروں میں رکھا ہوا تھا ۔۔ آج بھی ان ہی اندھیروں میں رہتے ۔۔۔

  8. fikrepakistan نے کہا:

    ًمحب علوی صاحب یہان بلاگز پڑھتے ہوئے ہی یہ پوسٹ بھی ملی ہے جو مسلمانوں کی آج کی پوزیشن کا آئینہ ہے ۔۔ اپ بھی ملاحظہ فرمائیے ۔۔

    http://sarab.urdutech.com/?paged=2

    یونیورسٹیز کی یہ تعداد بھی اس ہی لنک سے کاپی کر رہی ہوں ۔۔

    In the entire Muslim world (57 Muslim countries) there are only 500 universities
    o In USA alone, 5,758 universities
    o In India alone, 8,407 universities

    Not one university in the entire Islamic World features in the Top 500 Ranking Universities of the World

    o Literacy in the Christian world – 90%
    o Literacy in the Muslim world – 40%

  9. محب علوی نے کہا:

    سب سے پہلے تو میں آپ کو مبارکباد دوں گا کہ آپ نے جواب خندہ پیشانی سے دیا اور تنقید کو مثبت انداز میں لیا جو کہ بذات خود قابل ستائش ہے۔

    دوسرا انگریزوں اور دوسری مغربی اقوام میں ہمیں فرق کرنا چاہے اور ان کے کارناموں کو بھی عموما ہم انگریزوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں جو کہ بیشتر یورپی اور امریکی عوام سے زیادتی ہے۔ یوریی اور امریکی عوام کی بیداری اور ترقی انسانی تاریخ کا ایک روشن باب ہے مگر اسے صرف انگریزوں سے نہیں ملانا چاہیے۔
    آپ کی بنیادی بات سے متفق ہوں کہ پچھلی کم از کم دو صدیاں مسلمانوں کے تیز تر زوال کی عکاس ہیں اور اس میں زیر نگوں زیادہ رہے اور علمی ترقی میں حصہ نہایت کم رہا ہے اور اگر کہیں رہا بھی تو ہم اتنے مایوس اور بد دل ہو چکے ہیں کہ اسے ڈھونڈنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔
    عطاء الرحمان کی کوششوں سے دو یونیورسٹیاں پہلی پانچ سو میں آ گئی تھی ، جن میں ایک تو NUST ہے اور دوسری بقول ڈاکٹر صاحب کے KU ہے۔

    http://www.topuniversities.com/university/1088/national-university-of-sciences-and-technology-nust-islamabad

    اصل افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ چند سال ملک کسی ڈگر پر چلتا ہے ، ترقی ہوتی ہے ، روزگار بڑھتا ہے تعلیمی شعور پیدا ہوتا ہے کہ پھر بد امنی ، بے روزگاری ، وحشت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ آسیبی چکر ختم کرنا بہت ضروری ہے ورنہ اسی شیطانی چکر میں گھومتے رہیں گے

  10. fikrepakist نے کہا:

    مبارک کی کوئی بات نہیں ۔ مجھے تو اور بھی تنقید کی امید تھی ۔۔

    انگریز اور دوسری اقوام کا موازنہ پوری امت مسلمہ سے میں نے دوسری پوسٹ میں کیا ہے ۔۔ آپ نے اس پر بھی تبصرہ یہیں کر دیا تو مجھے جواب یہیں دینا پڑا ۔۔ میں نے دوسری مغربی اقوام اور امریکی کو انگریز سے نہیں ملایا آپ شاید جلدی میں ہوتے ہیں تبصرہ کرتے وقت 😛

    یہاں میں نے انگریز حکومت کی کارکردگی اور اپنی حکومتوں کا موازنہ کیا ہے کیونکہ ہم نے آزادی ان سے ہی لی تھی ۔۔
    ہمیں ضرورت ہے اس وقت مایوسی اور بددلی سے نکل کر ان وجوہات کو سمجھنے کی جس کی وجہ سے ہم اس حال میں ہیں ۔۔ جب تک مرض نہیں پتا چلے گا علاج نا ممکن ہے ۔۔ میرا بلاگ لکھنے کا مقصد اس ہی مرض کی تشخیص ہے ۔۔

    مجھے تو نہیں لگتا کہ ملک میں کبھی ترقی ہوئی ہے ۔۔ ہاں تھوڑا بہت ترقیاتی منصوبے بنا کر عوام کو لالی پاپ دے دیا جاتا ہے کہ چپ رہیں ۔۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنی کشتیاں اپنے ہاتھوں سے جلا چکے ہیں ۔۔ اور دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں ۔۔ اور اب اس بھنور سے نکلنے کے لئے ہمیں بھت ہمت اور کوشش کرنی ہوگی ۔۔

  11. mohibalvi نے کہا:

    انگریزوں کا اتنا ذکر ہے متعدد پوسٹس میں کہ میں نے ایک ہی جگہ اطمینان سے تذکرہ کر دیا ہے۔ ملک میں ترقی تو ہوئی ہے مگر اتنی نہیں جتنی ضرورت تھی مثلا موٹر وے ( اس میں کم از کم انگریزوں کا شائبہ تک نہیں ہے ) 🙂 ، اسٹیل مل ، اٹامک انرجی ، ٹیکسٹائل انڈسٹری ، کمپیوٹر اور ٹیلی کمیونیکشن انفراسٹرکچر اور بھی کئی چیزیں ہوئی مگر بات وہی کہ رفتار سست ہے اور مسلسل ترقی ہی کامیابی کی ضامن بنتی ہے۔
    سب سے بڑا مسئلہ ہمارا حکمران اور ان کا طرز حکمرانی ہے ، اسے جب تک ٹھیک نہ کریں گے ہر چیز ٹیڑھی ہی رہے گی۔

  12. fikrepakistan نے کہا:

    انگریزوں کا ذکر متعدد نہیں صرف دو پوسٹس میں ہے .. اور یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہمارے اندر جو دوسری قوموں کے لئے نفرت پیدا کی جاتی ہے وہ ہمارے دشمن ہیں .. سازشیں کرتے ہیں ..ہمیں اپنی کمزوریاں کیوں بتائی جاتیں ؟ وہ تو ہیں .. ہمارے ازل سے دشمن پر ہم اپنے کتنے دشمن ہیں یہ کیوں نہیں بتایا جاتا .. خیر یہ الگ بحث ہے ..

    کتنی ترقی ہوئی ہے ہمارے ملک میں اس کے لئے ابھی اپ کے تبصرے کے جواب میں ایک پوسٹ ” کیوں ” لکھی ہے دیکھ لیجیئے گا ..
    موٹر وے اور اس طرح کے دوسرے پروجیکٹس میں انگریوں کا نہ صحیح .. جاپانیوں اور دوسرے انٹرنیشنل ماہرین کا ضرور ہاتھ ہے :.. کہ ان کے بنائے ہوئے اسٹرکچر اور ڈیزائن کے بنا اس کا بننا نا ممکن تھا ..:P
    اسٹیل مل کتنے عرصے سے زبردست خسارے میں جا رہی ہے ..
    ٹیکسٹائل اور دوسری انڈسٹریز میں کام کرتے مزدوروں کا حال ذرا اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئیے ایک بار آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ آئیں تو بتائیے گا .. کتنی بدحالی .. گندے اور رسکی ماحول میں اپنی جانوں کا رسک لے کر معمولی تنخواہوں پر کام کر رہے ہوتے ہیں وہ ..
    ان انڈسٹریز کے مالکوں میں سے کتنے ہیں جو بجلی کا پورا بل دیتے ہین جو لیبر قوانین کا خیال کرتے ہیں ؟ میں ملک میں ہونے والی کچھ ترقی سے انکاری نہیں ہوں … لیکن میری نظرمیں ترقی یہ نہیں ہوتی کہ ہم نے اتنی انڈسٹریز قائم کر لیں یا اتنی فیلڈز میں کچھ اگے بڑھے ہیں .. ترقی وہ ہوتی ہے جس میں عام آدمی کا استحصال نہ ہو ..

  13. mohibalvi نے کہا:

    عام آدمی کا جس میں استحصال نہ ہو وہ ترقی تو پوری دنیا میں شاید ہی کہیں ہو مگر یہ بات ٹھیک ہے کہ ہماری کوشش تو یہ ہونی چاہیے تھی اور ہے کہ عام آدمی کی زندگی آسان ہو اور اس کے لیے زندگی وبال نہ ہو۔

    سیاسی شعور سب سے زیادہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سب کو کوشش کرنے کی ضرورت ہے

  14. fikrepakistan نے کہا:

    سیاسی شعور تب آئے گا جب تعلیم عام ہوگی ۔۔ اور تعلیم عام نہ کرنے کے معاملے پر شاید سب کا ایکہ ہے ۔۔ آمریت ہو یا جمہوریت ٹاٹ کے اسکولز بھی ویسے ہی قائم رہتے ہیں اور گھوسٹ اسکولز بھی ۔۔ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ عوام کی آنکھیں کھلیں اس ہی طرح اندھا رکھنا چاہتے ہیں قوم کو تا کہ اندھوں میں کانے راجا بن کر حکومت کرتے رہیں ۔۔

  15. Usama Bin Ladin نے کہا:

    ye sab to sach sach ha lekin sach ye b hai k hum log jo pakistan ko represent karte hai kya hum logo ne kabhi socha hai k hum kisi ek insaan ko nhi khush rakh sakte to pir 16 crore logo ko kese khush rakhenge 🙂 … humara hukmiraan ghalt ha lkn hum log kon se theek ha?? ofcourse jis ne likha ha usko meri tarah se salute hai 🙂 lekin hum logo ki buniyaad hi ghalt ha apni khushi apni ana aur apni jeet k lye har ghalt or theek kam karte hai/… ye batayen k aap log aap log aab b geo dekhen do log apis men lar rahe hai kya ye pkistan ko represent karne wale log hai kya??

  16. fikrepakistan نے کہا:

    usama bin laden :o……. kion nhi 1 insaan ko khush rakh sakte ? .. ham log apne gher apni family k liye kitne fikermand rehte hain un ko khush rakhne ki koshish krte hain to hamara mulk b to hamare gher ghr ki tarah hai na us k liye b aise hee ehsasat hone chahyen …. bilkul ye log pak ko represent kr rahe hain .. poory dunia dekh rahi hai k pakistani aise lerrte hain aapas men .. lekin phir b ham log nhi sudharte ..

  17. Usama Bin Ladin نے کہا:

    ghar aur siyasat men buht zyada fark ha.. pakistan ek ghar nhi ha ye ek platform ha .. jahan pe hazaro nih crore’s log ha jis men muslim non muslim sab aata ha.. aur ghar men to blood reletion hota hai .. aur blood reletionships men b problems mai details men nhi ja raha hun lkn sirf hints diye hai 🙂 .. aab ek banda ya to apni ana k liye lare ga ya pir dooosre ka khayal rakhe ga??
    ghar ek alag jhaga ha aur platform ek alag hai.. pehle hum logo ko doosri party k sath taluq theek karna chahye aur ussi ki jeet ko apni h jeet samjhni chahye lkn aisa kon kare ga yahan to seats k lye apni wife ko urhaya ja raha hai?? I appeals k pakistan ko b theek hona chahye ..@fikre pakistan

  18. fikrepakistan نے کہا:

    pakistan ko theek hona chaye ya us k logon ko ? qom arasti ky elawo bhi lakhwN kharabiyan hain yahan agli aik do sadi tk to kuch b theek hota nhi lagta….

  19. Usama Bin Ladin نے کہا:

    aur do sadi k baad net b nhi hoga aur na hi aapka blog koi parhe ga =P bus itna mai bata raha hun but i lyk the spirit of urx and keep this all 🙂

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s