ہے کوئی سیانا کبوتر پوری امت مسلمہ میں ..


ہم لوگ بہت خوش ہیں کہ فیس بک پر پابندی لگ گئی .. لیکن کتنے دن تک .. پھر وہ ہی فیس بک ہوگا وہ ہی ہم ہونگے جو کہیں گے چلو یار بور ہوگئے تھے اب اچھا ٹائیم پاس ہوگا.. جب پوری دنیا کے مسلمان چپ ہیں تو ایک اکیلے ہم کیا کریں .. اتنے دن فیس بک سے دور رہے وہ ہی کافی ہے ..اس سے زیادہ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں ..

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی .. کہ کبوتروں کا ایک ٹولہ دانے پانی کی تلاش میں اڑتا ہوا جا رہا تھا .. راستے میں انہیں ایک جگہ بہت سارا اناج بکھرا ہوا نظر آیا .. کبوتر ایک ایک کر کے نیچے اترے لگے ان میں ایک سیانا کبوتر بھی تھا جس نے انہیں نیچے اترنے سے منع کیا کہ پہلے تو کبھی اس جگہ اتنا اناج نظر نہیں آیا اس میں یقیناً کوئی فریب ہے .. کبوتروں نے نہیں سنی اور نیچے اتر کر دانہ کھانے لگے .. اور شکاری کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئے .. اور بہت پچھتائے کہ کاش سیانے کبوتر کی بات مان لیتے .. سیانے کبوتر نے ان سے کہا ک اب پچھتانے سے کیا حاصل .. شکاری چھپا ہوا ہوگا آتا ہی ہوگا .. ہمارے پیر پھنسے ہوئے ہیں لیکن پر آزاد ہیں .. کبوتروں نے اس کے مشورے پر مل کر زور لگایا .. جال کی کیلیں نکل گئیں اور وہ جال سمیت اوپر اڑنے لگے ..اور پھر ایک چوہیا نے ان کا جال کتر کر انہیں آزاد کیا ..
اس وقت مغربی اقوام کا امت مسلمہ کی غیرت کو للکارنا بھی ایسا ہی ہے جیسے کسی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر پھر کہا جائے کہ آؤ ہمیں مار کے دکھاؤ.. لیکن کیا یہ بندھے ہوئے پاؤں کھل نہیں سکتے ..؟ اگر پوری امت مسلمہ متحد ہو کر کوشش کرے تو کیا ہم ان کے تسلط سے آزاد نہیں ہو سکتے .. لیکن شاید ہم میں کوئی اتنا سیانا کبوتر نہیں جو یہ مشورہ دے اور نہ ہی ہم اتنے فرماں بردار ہیں کہ ایسی باتوں پر کان دھریں ..
اتنا بڑا مارکیٹ شیئر جو مسلمان ملکوں سے مغرب کو ملتا ہے اگر رک جائے تو …. لیکن ایسے خواب دیکھنا دیوانے کے خواب جیسا ہی ہے .. شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالے کون .. کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے میں ہی عافیت ہے …

Advertisements
This entry was posted in امت مسلمہ. Bookmark the permalink.

8 Responses to ہے کوئی سیانا کبوتر پوری امت مسلمہ میں ..

  1. کیونجی نے کہا:

    کبوتر اگر سچ مچ کے مرجانے کا ایکٹ کر لیتے تو چوہیا کو مدد کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔

  2. کاش کہ ہم ريوڑ ہونے کی بجائے ايک قوم ہوتے

  3. fikrepakistan نے کہا:

    کیونجی : اتنا بے کار تبصرہ کرنے کا شکریہ

    اجمل انکل اپ کی آمد اور تبصرے کا بہت شکریہ ۔۔ یہ کاش ہمیشہ کاش ہی رہے گا ایک قوم ہونے کی حسرت پوری ہوتے نظر نہیں آتی..

  4. کیونجی نے کہا:

    ریوڑ ہونے پر مجھے بھی افسردگی ہے ۔

  5. کیونجی نے کہا:

    اچھا میں آئندہ بے کار تبصرہ نہیں کروں گا..

  6. Yasir Imran نے کہا:

    عالم اسلام کے متحد ہونے کی بات تو سبھی مسلمان عرصے سے کرتے ہیں لیکن کیا کیا جائے ہر اک کو اپنے مفاد کی پڑی ہے۔ اللہ کرے اس عالم اسلام پر اچھا وقت آئے اور مسلمان اپنی نیند سے جاگ جائیں۔
    آپ کی توجہ اردو بلاگز ایگریگیٹرکی طرف دلانا چاہوں گا، جس کا ربط یہ ہے۔
    http://urdublogs.co.cc/

  7. fikrepakistan نے کہا:

    یاسر عمران تبصرے کا شکریہ ۔۔

    عالم اسلام کہ نیند سے جگانے کے لیے یہ واقعہ بہت کافی تھا اب بھی نہ جاگے تو کبھی نہیں جاگیں گے ۔۔

    آپ کی توجہ دلانے کا شکریہ ۔۔ مجھے یہاں بلاگز نیٹ ورک کا نہیں پتہ زیادہ ۔۔ جیسے تیسے بس بلاگ بنا لیا ہے ۔۔

  8. karachi ka bahi نے کہا:

    السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

    ان شاء اللہ ایک دن متحد ہونگے ہم لوگوں کے اعمال صحیح ہوجاینگے مسلمان صرف مسلمان ہوگا نہ کہ سنی، شیعہ، قبر پجاری، پیر مریدی ، صوفینیزیم اندھی تقلید۔ صرف اور صرف اللہ کی رسی قرآن و سنۃ ہو۔
    مجھے امید ہے کہ آپ کو میری باتیں اچھی محسوس ہونگی میں کبھی اپنی طرف سے باتیں نہیں بناتا صرف اور صرف حقیقت کی طرف آگاہ کرتا ہوں۔
    معزرت اگر میرا تبصرہ برا لگے تو میں اور اپ کے بلاگ میں نہیں آونگا۔ اطلاع کردیجیے۔
    شيخ الاسلام ابن تمیمہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    ” يہ جاننا ضرورى ہے كہ لوگوں كا ولى الامر بننا عظيم دينى واجبات ميں شامل ہوتا ہے، بلكہ اس كے بغير نہ تو دين اور نہ دنيا قائم ہو سكتى ہے كيونكہ بنى آدم كى مصلحتيں اور ضروريات لوگوں كے اجتماع كے بغير پورى نہيں ہو سكتيں، كيونكہ وہ ايك دوسرے كے محتاج ہيں، اور اجتماع كے ليے كسى بڑے كى ضرورت ہوتى ہے.

    حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    ” جب تين اشخاص سفر پر نكليں تو اپنے ميں سے كسى ايك كو اپنا امير بنا ليں ”

    اسے ابوداود رحمہ اللہ نے ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے.

    اور امام احمد رحمہ اللہ مسند احمد ميں عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    ” كوئى تين اشخاص زمين كے كسى بھى حصہ ميں ہوں تو ان كے ليے حلال نہيں مگر وہ اپنے اوپر كسى ايك كو امير مقرر كر ليں ”

    تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سفر جيسى ضرورت ميں بھى جو كہ ايك قليل سا اجتماع ہے ميں امير بنانا واجب كيا ہے جو كہ باقى سب اجتماعات پر تنبيہ ہے؛ اور اس ليے كہ اللہ سبحانہ وتعالى نے امر بالمعروف اور نہى عن المنكر كا كام واجب كيا ہے، اور يہ كام قوت و طاقت اور امارت كے بغير پورا نہيں ہو سكتا.

    تو اسى طرح جہاد، عدل و انصاف، حج كرنا، جمعہ اور عيدوں كى ادائيگى، اور مظلوم كى نصرت و مدد، حدود كا نفاذ جيسے وہ سب امور جو اللہ تعالى نے فرض اور واجب كيے ہيں، يہ سب قوت و طاقت اور امارت كے بغير پورے نہيں ہوتے.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s