اعضائے حیوانات کا ٹافیوں اور کاسمیٹکس میں استعمال


چند روز قبل "وقت” چینل جو کہ نوائے وقت اخبار والوں کا چینل ہے ..اس پر ایک ڈاکومینٹری دکھائی جا رہی تھی .. جس میں پہلے کچرہ چننے والے بچوں کو دکھایا گیا جو جمع شدہ کچرے سے ان کتے بلیوں اور دوسرے جانوروں کی ہڈیاں اور باقی اعضاء جمع کر رہے تھے جو راستوں میں مر جاتے ہیں … پھر ایک کارخانہ دکھایا گیا جہاں پر وہ لے جا کر بیچتے .. اس کارخانے میں ایک مخصوص ٹیمریچر پر ان ہڈیوں کو جلا کر محلول ( لیکوئیڈ کی اردو یہی ہوتی ہے نہ ؟) تیار کیا جا رہا تھا .. اور گوشت اور کھال سے بھی کچھ بنایا جا رہا تھا .. ایک طرف مختلف جانوروں کی انتڑیاں غباروں کی شکل میں پھولی ہوئی رکھی تھیں .. پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ سکھا کر کراچی بھیجی جاتی ہیں جہاں سے یہ ایکسپورٹ ہو جاتی ہیں دوسرے ممالک میں ..

وہ ہڈیوں سے بنا ہوا لیکوئیڈ بچوں کی ٹافیوں ، جیلی ، چھالیہ ، اور لوکل کاسمیٹکس لپ اسٹکس ، نیل پالش . لپ گلوز وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے ..( جانوروں کے گوشت اور خون کے بارے میں میں نے پہلے سنا تھا کہ گٹکا بنانے میں ستعمال کیا جاتا ہے) ..
اس کارخانے کے آس پاس والے علاقے میں بہت تعفن اور سمیل پھیلی ہوئی تھی .. لوگوں سے اس بارے میں پوچھا گیا تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ .. یہ سمیل برداشت سے باہر ہے .. اور اس کارخانے کو بند کروانے کے لئے انہوں نے انتظامیہ کو درخواستیں بھی دی ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوتا ..

یہ شہر لاہور کی ڈاکومینٹری تھی .. یقیناً پاکستان کے دوسرے شہروں اور کراچی میں بھی ایسے سینکڑوں کارخانے ہونگے جہاں یہ گھناؤنا کاروبار ہمارے اندھے گونگے بہرے لولے لنگڑے قانون کی سرپرستی میں ہو رہا ہوگا ..

ہم میں سے کتنے ہونگے جو یہ سب جاننے کے بعد بھی بچوں کو ٹافیاں اور جیلی نہیں کھانے دیں گے ؟ لوکل کاسمیٹکس جو زیادہ تر پسماندہ طبقے میں استعمال کی جاتی ہیں انہیں کون بتانے والا ہے کہ یہ استعمال کرنا ٹھیک نہیں ..

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

12 Responses to اعضائے حیوانات کا ٹافیوں اور کاسمیٹکس میں استعمال

  1. جیسے جیسے تعلیم عام ھو گی لوگوں علم ھوتا جائے گا۔میڈیا کی ذمہ داری اہم کہ وہ ایسے معاملات کو اجاگر کرے۔

  2. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    دراصل ان کےخلاف ایکشن لینےکی ضرورت ہوتی ہےصرف درخواست دےکرکوئی کام نہیں ہوتابلکہ گاہےبگاہے اسکویادبھی کروایاجاتاہے۔

    والسلام
    جاویداقبال

  3. fikrepakistan نے کہا:

    یاسر خوامخواہ جاپانی : اور تعلیم کب عام ہوگی ۔۔ آہ کو چاہیئے یک عمر اثر ہونے تک 😕

    جاوید اقبال : وعلیکم السلام ورحمۃ وبرکاتہ،
    ایکشن لینے والے اداروں کی سرپرستی کے بنا یہ کام ہونا ممکن نہیں ۔۔ ہمارے ہاں ایکش نہین کمیشن لیا جاتا ہے ۔۔ ایکشن تب لیا جاتا ہے جب کمیشن نہ ملے ۔۔ 🙂

  4. ڈفر - DuFFeR نے کہا:

    سرکار کے دروازے کھٹکھٹانے پہ ہی زور رکھا تو کچھ نہیں ہونے والا
    معاملات و حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ انقلاب تو نہیں
    لیکن حالات کو درست سمت لانے کیلیے
    عوام کو کسی حد تک معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے ہی پڑیں گے

  5. Usman نے کہا:

    ٹافیوں کے بغیر تو ہم یقیناً رہ سکتے ہیں لیکن اس پانی کا کیا جائے جس میں ہر قسم کے زہریلے مادے کی ملاوٹ ہے؟ کئی علاقوں بشمول پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں تو یہ حال ہے کہ پچاس فیصد سے زائد بیماریاں گندا پانی پینے سے ہو رہی ہیں- جہاں پانی جیسی بنیادی ضرورت زندگی کی صفائی کے بارے میں یہ لاپروائی برتی جائے وہاں ٹافیوں کے کیا کہنے-

  6. بی بی اللہ آپ کو سدا خوش اور خوشحال رکھے ۔ اللہ آپ کو بہتری پر قائم رکھے ۔ معاملہ پڑھائی نہيں بلکہ تعليم و تربيت کا ہے ۔ پڑھائی آجکل بہت ہے مگر تعليم و تربيت کا فُقدان ہے ۔ تعليم و تربيت کيلئے پڑھا لکھا ہونا ضروری نہيں
    ايک مشورہ ہے کہ آپ اپنے بلاگ کو اُردو سيّارہ پر رجسٹر کروا ليں تو آپ کی اچھی باتوں سے بہتوں کا بھلا ہو گا

  7. fikrepakistan نے کہا:

    ڈفر : عوام اگر اجتماعی طور پر کوشش کرے تو بہت کچھ ہو سکتا ہے پر یہاں ہر کوئی ڈر و خوف کا شکار ہے ۔۔ سب اپنی عزت اور جان بچا کر چلنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔۔

    عثمان :۔۔ ہزاروں خرابیاں ایسی کہ ہر خرابی پر دن نکلے ۔۔ جتنی بھی خرابیاں نکلیں اب کم نکلیں ۔۔۔ ( غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ

    اجمل صاحب ۔۔ اتنی دعاؤں کا شکریہ اور آمین ۔۔ اللہ پاک آپ کو بھی خوش رکھیں 🙂
    آپ نے صحیح کہا
    تعلیم وہ ہی ہوتی ہے جو شخصیت کی تعمیر کر سکے ۔۔ بنا تر بیت کے تعلیم اس ہتھیار کی طرح ہے جو بہت قیمتی اور فائدے مند ہو پر اس کو چلانا نہ آتا ہو ۔۔
    آپ کے مشروے کا بہت شکریہ ۔۔ پر مجھے نہیں پتا کیسے رجسٹر کرواتے ہیں وہاں 😕

  8. mohibalvi نے کہا:

    بہت اچھی پوسٹ ہے اور بہت اہم مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔

  9. کافی عجیب و غریب سے بات ہے۔ بازار سے ملنے والی بیشتر اشیا پتہ نہیں کن اجزا سے مل کر بنی ہوتی ہیں مگر ہم بے خبر خرید کر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک ای میل موصول ہوئی کہ چین میں کیمیائی اجزا سے انڈا تیار کیا جاتا ہے جو بوائل کرنے اور فرائی کرنے میں بالکل عام انڈے جیسا ہوتا ہے اور اسکی قیمت عام انڈے سے کئی گنا کم ہوتی ہے۔ تو چینی لوگ اسی طرح کے نقلی انڈے بنا کر ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں۔

  10. fikrepakistan نے کہا:

    محب علوی : شکریہ جناب ۔۔

    یاسر عمران مرزا : ایسی بہت سی عجیب و غریب باتون سے ہم لا علم ہیں ۔۔ لیکن ابھی میڈیا کی ترقی سے بہرحال کافی کچھ سامنے آ رہا ہے ۔۔ کھانے کے مصالحوں کے بارے میں بھی ایک جگہ پڑھا تھا کہ بہت سی ناجائز اور گندی اشیاء شامل کی جاتی ہیں ۔۔ کیچپ کے بارے میں بھی سنا ہوا ہے ایسا ہی کچھ ۔۔

  11. جوانی پِٹّا نے کہا:

    اگر مجھے ٹھیک سے یاد ھے تو ہڈیوں سے جیلاٹن بنتا ھے، جس سے وائٹ گلو اور کھانے والی جیلی وغیرہ بنائی جاسکتی ھے۔ انتڑیاں میں قیمہ بھر کر ساوسیج یعنی ہاٹ ڈاگ بنائے جاتے ھیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s