کبھی نہ ختم ہونے والا کام ..



ایک شخص کو بھوت قابو کرنے کا جنون ہوگیا.. بہت چلے کاٹے ، جنتر منتر سیکھے، بستی بستی گھوما کہ کوئی پیر مل جائے جو جن بھوت بس میں کرنے کا طریقہ بتا دے .. کئی سالوں کی ریاضت کے بعد اسے پتا چلا کہ فلاں پہاڑ کے دامن میں ایک سادھو رہتا ہے جو بھوتوں کو بس میں کرنے کا علم رکھتا ہے .. اس نے ایک طویل تلاش کے بعد سادھو تک رسائی حاصل کر لی اور خاموشی سے اس کی خدمت میں لگ گیا.. سالوں بعد ایک دن سادھو نے اس سے کہا کہ ، میں جانتا ہوں کس شے کا جنون تجھے میرے پاس لایا ہے ، لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تیری یہ خواہش بہت خطرناک ہے کیونکہ تم نے اگر اسے قابومیں کر لیا تو اسے ہمیشہ مصروف نہ رکھ سکو گے اور آخر میں وہ تمہیں ہی کھا جائے گا .. وہ بولا آپ منتر بتائیں میں ہینڈل کر لوں گا.. سادھو نے اسے منتر بتا دیا .. مقررہ میعاد تک منتر پڑھنے سے بھوت حاضر ہوگیا.. بولا ! بتاؤ کیا کروں ؟ اس نے کہا ایک عالیشان محل تعمیر کرو.. محل تعمیر ہو گیا .. پھر کہا اسے قیمتی خزانوں، نوکروں اور کنیزوں سے بھر دو… یہ بھی ہوگیا .. پھر کہا ! بہترین کھانوں کا بندوبست کرو .. وہ بھی ہو گیا.. غرض بھوت نے اس کے ہر حکم کی تعمیل کر دی .. اب بھوت بولا کوئی اور کام بتاؤ ..ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا .. وہ آدمی پریشان ہو کر سادھو کے پاس گیا کہ آپ نے صحیح کہا تھا میرے پاس تو کوئی کام نہیں بچا کروانے کو .. آپ مجھے بچائیے اس بھوت سے ..
سادھو نے ایک کتا اسے دیا ..اور کہا بھوت سے کہو کہ اس کی دم سیدھی کر دے … بھوت نے کتے کی دم ہاتھ میں لی اور سیدھی کر دی .. لیکن جیسے ہی چھوڑی وہ پھر ٹیڑھی ہوگئی.. مطلب بھوت کو کبھی نہ ختم ہونے والا کام مل گیا ..
ہم پاکستانی بھی کئی عشروں سے دمیں سیدھی کرنے کے جتن کر رہے ہیں .. بھوت سے تو ایک دم سیدھی نہ ہو سکی .. اور ہم اتنے ڈھیر سارے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی دمیں سیدھی کرنے کے جتن کر رہے ہیں .. جو کہ کبھی ہونا ممکن نہیں.. رہنما ہی تبدیل کرنے پڑیں گے ورنہ یہاں کچھ نہیں تبدیل ہوگا ..

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

7 Responses to کبھی نہ ختم ہونے والا کام ..

  1. DuFFeR - ڈفر نے کہا:

    زبردست تشبیہہ دی ہے
    ونڈرفل

  2. عثمان نے کہا:

    مزا آگیا!

    لیکن میرا خیال ہے کہ اس جیسے ایک نہیں بلکہ کئی بھوت موجود ہیں اور برس ہا برس سے پاکستان اور پاکستانیوں کو رگید رہے ہیں۔

  3. fikrepakistan نے کہا:

    شکریہ ۔۔!
    بھوت نہیں جانور موجود ہیں ۔۔ بھوت تو بے بس عوام ہے جو ان کی دمین سیدھی کرنے کی کوشش میں ہے ۔۔ 😛

  4. بہت خوب! لیکن ایک بات کی گستاخی کروں گا۔ہم پاکستانیوں کی ایک مثال ھی بتا دیں۔کہ ہم پاکستانیوں نے کتوں کی دم سیدھی کی ھو؟جب تک کتے دم ہلاتے ہیں ہم عظیم پاکستانی آوے ھی آوے کا نعرہ لگا رھے ھوتے ہیں۔جیسے ھی کتے کو دم ہلانےکی ضرورت نہیں رہتی۔ہم عظیم پاکستانی اپنی دم پر بیٹھی مکھی کو اڑانے کیلئے گول گول گھومنا شروع ھو جاتے ہیں۔بس جی دنیا گول گول ھے۔گھوم کے اسٹارٹینگ پوائینٹ پر آجاتے ہیں عظیم پاکستانی۔

  5. fikrepakistan نے کہا:

    یہی تو بات ہے یاسر صاحب کہ ہم بار بار ووٹ دے کر ہی تو ٹیڑھی دمیں سیدھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں .. ایک ہی کام بار بار ایک ہی طریقے سے کر کے مختلف نتیجے کی توقع رکھنا بیوقوفی ہوتی ہے ..

  6. Saad نے کہا:

    گستاخی معاف شاید میری بات اخلاق سے گری ہوئی لگے مگر حقیقت یہ ہے کہ کتے وہ نہیں بلکہ عوام ہیں جو ان کے پچکارنے پر دم ہلاتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s