خوش قسمتی اور بدقسمتی


خوش قسمتی اور بد قسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا فرق ہوتا ہے .. لکڑی پانی میں تیرتی ہے جبکہ لوہا فوراً ڈوب جاتا ہے…خوش قسمت انسان لکڑی کی طرح مصائب میں تیرتا ہے .. مسائل اور پرشانیاں اس کے ارد گرد دائیں بائیں اوپر نیچے بہتی رہتی ہیں ..لیکن یہ ان کی سطح پر تیرتا رہتا ہے .. یہ ان کی گہرائیوں میں نہیں ڈوبتا .. جبکہ بد قسمت شخص لوہے کی کیل کی طرح چند مسئلوں میں پانی میں ڈوب جاتا ہے ..
سوال یہ ہے کہ بدقسمتی کہ اس لمحے انسان کیا کرے ؟ جواب سے پہلے ہمیں قدرت کے نظام کو سمجھنا ہوگا.. قدرت کے نظام میں ہر چیز دوسری چیز سے توانائی حاصل کرتی ہے ..جانداروں کے زندہ رہنے کے لئے آکسیجن اور پانی ضروری .. آکسیجن اور پانی کے لئے سورج کی روشنی ضروری ہے .. سورج کی روشنی پیدا کرنے کے لئے گئسز چاہییں ..اور گئسز کی پیدائش کے لئے کسی ان دیکھی کہکشاں کے کیمیائی ری ایکشن ضروری ہوتے ہیں ..
اس ہی طرح پودوں کو جانور کھاتے ہیں .. جانوروں کو انسان کھاتا ہے .. انسان کے جسم کو کیڑے کھا جاتے ہیں ..اور کیڑوں کی باقیات کو پودے چٹ کر جاتے ہیں .. غرض کائنات کی تمام اکائیاں ایک دوسرے کی محتاج ہیں ..ہمارا مقدر بھی کسی نہ کسی دوسرے شخص سے جڑا ہوتا ہے ..ہماری خوش قسمتی اور بد قسمتی دونوں دوسرے لوگوں سے وابستہ ہوتی ہیں .. انسان جب بھی بدقسمتی کے گرداب میں پھنسے تو اسے چاہیئے کسی دوسرے خوش قسمت شخص کا سہارا لے لے …بالکل لوہے کی اس کیل کی طرح جو ڈوبنے سے بچنے کے لئے لکڑی کے تختے میں پیوست ہو جاتی ہے .. بدقسمت انسان کیل کی طرح لکڑی کے تختے کا حصہ بن کر مسائل کے سمندر میں تیر سکتا ہے ..

ہم سب کو بدقسمتی کے دور میں تین حقیقتیں ذہن میں رکھنی چاہییں ..

1 : دنیا میں کوئی صورتحال مستقل نہیں ہوتی .. دنیا کی ہر چیز میں تبدیلی آتی ہے .. رات صبح میں اور دن رات میں بدل جاتے ہیں ..سوال یہ ہے کہ اس کا دورانیہ کتنا لمبا ہو سکتا ہے .. ہندی نجومیوں کےمطابق بدقسمتی کا دورانیہ عموماً ڈھائی سال سے لے کر ساڑھے سات سال تک ہوتا ہے .. اور بدقسمتی کے %90 کیسیز میں 7 سال بعد صورتحال بدل جاتی ہے .. جبکہ یورپین ماہرین انسان کی زندگی کو 28 .. 28 برسوں کے تین ادوار میں تقسیم کرتے ہیں ..ان کے مطابق دنیا کے ہر انسان کی زندگی میں 28 سال بعد بڑی تبدیلی آ جاتی ہے .. یہ تبدیلی بعض اوقات اگلی نسل میں منتقل ہوجاتی ہے .. اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نسل غربت میں زندگی گذارتی ہے اور اگلی نسل کی شروعات ہی خوشحالی اور کامیابی سے ہوتی ہے .. اگلی نسل اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ پچھلی نسل کی بدقسمتی کا Reward ہوتا ہے ..

2 : انسان کو چاہیئے کہ یہ لوہے کی کیل کی طرح کسی لکڑی کا سہارا لے لے . یہ خوش قسمت لوگ تلاش کر کے اپنا زیادہ تر وقت ان کی صحبت میں گذارے .. ان کے ساتھ پارٹنرشپ کر لے ..یا پھر ان کی ملازمت اختیار کر لے ..

3: خوش قسمتی اور بد قسمتی اللہ کی پیدا کردہ ہوتی ہیں .. انسان کو چاہیئے کثرت سے اللہ سے رجوع کرے ..اپنے گناہوں کی معافی مانگے .. رحم کی بھیک مانگے … اور اللہ کے ساتھ پارٹنرشپ کر لے .. کاروبار میں نقصان ہو رہا ہو تو اللہ کو کاروبار میں شریک کر لے .. اپنی آمدنی سے مستحقین کے لئے رقم نکالنا شروع کر دے تو اللہ کرم کرتا ہے ..

مقدر گیند کی طرح ہوتا ہے .. جس طرح گیند ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی ہے اس ہی طرح مقدر بھی ہاتھ اور جھولیاں بدلتا رہتا ہے .. صبر کریں اور اپنی باری کا انتظار کریں ..

( نوٹ : یہ مضمون میرے پاس ایس ایم ایس میں آیا .. اچھا اور معلوماتی لگا تو بلاگ پر شیئر کر دیا .. 🙂 )

Advertisements
This entry was posted in کچھ اچھا سا. Bookmark the permalink.

12 Responses to خوش قسمتی اور بدقسمتی

  1. بہت بہت شکریہ ۔واقعی خوبصورت مضمون ھے۔

  2. Saad نے کہا:

    اتنا لمبا ایس ایم ایس؟
    بہرحال اچھی شیئرنگ ہے۔ شکریہ

  3. fikrepakistan نے کہا:

    شکریہ یاسر ۔۔

    سعد : یہ مضمون تین ایس ایم ایس میں مکمل آیا تھا ۔۔ پسند کرنے کا شکریہ ۔۔

  4. خاور نے کہا:

    مجھے تو یه مضموں پاک ایلیٹ کا لکھوایا هوا لگتا ہے که لوگ اپنی بدقسمتی سے کسی دن پھٹ هی ناں پڑیں
    بلکه دو نمبر مشورے پر عمل کرتے هوئے کچھ لوگ دوست بن جائیں کچھ چمچے اور باقی کے ملازمت کی خواہش کریں
    میں مقدر اور قناعت کا سبق پڑھانے والوں کے خلاف هوں اور اس کے اپوزیٹ چیز هوتی هے مسلسل جدوجہد اور محنت
    اس کے حق میں هوں
    اور اکر مصائب بن هی جائیں تو ان کا علاج صرف ایک اللّه سے التجائیں کرکر کے مانگنا هوتا هے لیکن اس دوران بھی محنت سے جی نهیں چرانا ہے
    میں اٹھانوے سے مسلسل جبر کی زندگی گزار رها هوں پچھلے سال سے کچھ اسانیاں هوئی هیں بس اتنی که چند ماھ ما خرچ ریزرومیں اکٹھا هوا هے
    اگر میں مقدر کو مان لیتا تو کسی کی ملازمت کرلیتا یا کسی کا چمچه بن جاتا لیکن میں نے ایسا نہیںکیا اس لیے انے والے دنوں ميں حالات میں بہتری کی توقع ہے

  5. جعفر نے کہا:

    جاوید چوہدری کا کالم ہے جی یہ
    پھر لوگ کہتے ہیں کہ میں بڑا بے ادب ہوں
    کہ بڑے کالمکاروں کی پیروڈیاں لکھتا ہوں

  6. fikrepakistan نے کہا:

    خاور : مقدر بھی کہیں نہ کہیں کائونٹ ہوتا ہے مسلسل محنت اور جدوجہد کا پھل بھی اپنے وقت پر سامنے آتا ہے ۔۔ 🙂

    جعفر : میں نے ایس ایم ایس بھیجنے والے سے ریفرینس پوچھا تھا لیکن اس کو بھی نہیں پتا تھا۔۔ مجھے نہیں پتا تھا کس کا کالم ہے ۔۔ اور میں نے پیروڈی نہیں لکھی آپ کی طرح 😛 ویسے ہی چھاپا ہے ۔۔ 🙂

  7. جعفر آپ پیروڈیاں لکھتےہیں۔فکر پاکستان سے چھاپا پڑوایا گیا ھے۔سب انجوائے کرلیتےہیں۔کسی کا کیا جاتا ھے بھائی۔سب چلتا ھے۔
    خاور چند ماہ کا خرچ جمع کر کے آپ نے دنیا جمع کر لی ھے۔اب مولوی صاحب کا فتوی آجائے گا۔:razz:

  8. عثمان نے کہا:

    دلچسپ مضمون ہے۔

    ویسے میں نے ابھی ایک پوسٹ لکھی ہے۔ اس میں، میں نے بعض حضرات کے "چھاپنے کا ذکر” کیا ہے۔ یقیں جانئے وہ آپ کے متعلق نہیں ہے۔ وہ اتفاق کی بات ہے کہ یہاں بھی وہ بحث چل پڑی ہے۔ کچھ اچھا پڑھا ہوا شیئر کرنا اچھی بات ہے۔

    ایک اور بات۔ آپ کون سا فونٹ استعمال کررہی ہیں؟ مجھے پڑھتے ہوئے کافی دقت ہو رہی ہے۔

  9. fikrepakistan نے کہا:

    عثمان مجھے خود بھی نہیں پتا کونسا فونٹ ہے ۔۔ میں کوئی ایک بلاگ اوپن کرتی ہوں جہاں اردو سپورٹ ہوتی ہے اس پر لکھ کر یہاں پیسٹ کرتی ہوں ۔۔ مجھے یہ ٹیکنیکل باتیں زیادہ نہیں پتا ۔ 😕

    • عثمان نے کہا:

      اوہ اس کا مطلب ہے کہ آپ اردو ٹھیک طرح سے لکھ نہیں پا رہیں۔ کیونکہ آپ نے شائد اپنے کمپیوٹر پر اردو ابھی تک ایکٹیویٹ ہی نہیں کی۔
      یہ بلال صاحب کا بلاگ ہے:- http://mbilal.paksign.com/
      اس پر بائیں طرف ایک لنک ہے "کپموٹر اور اردو” یہ کتابچہ ڈاؤن لوڈ کریں۔ اس میں وہ تمام معلومات ہیں جو آپ کو کپموٹر پر لکھنے کے لیے چاہیئں۔ فکر نہ کریں۔ میں بھی کوئی ٹیکنیکل آدمی نہیں۔ لکین یہ سب کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ ہر کوئی سیکھ سکتا ہے۔

  10. ڈفر - DuFFeR نے کہا:

    اگر اتنا طویل ایس ایم ایس ہو سکتا ہے تو کوئی مجھے این آر او کے خلاف سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ہی ایس ایم ایس کر دے

    مذاق تھا جی 😀

  11. fikrepakistan نے کہا:

    ڈفر اتنا لمبا ایک نہیں تین ایس ایم ایس تھے اور ہر ایک 6 ایس ایم ایس کے برابر ۔۔ 🙂
    اور ایسے فیصلے بھی ایس ایم ایس میں آنے لگیں تو ٹی وی والے تو بے روزگار ہو جائیں گے ۔ آپ کے پاس ٹی وی نہیں ہے کیا ۔۔ 😛

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s