سوچ کا فرق


ہمارا زندگی گذارنا تو مہذب دنیا سے مختلف ہے ہی پر ہمارا مرنا بھی مہزب دنیا سے مختلف ہے …امریکا ، یورپ .. یہاں تک کے عرب ممالک میں اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کے اصلوب وہ نہیں ہوتے جو ہمارے ہاں ..وہاں جنازے کوہاسپٹل سے ہی غسل وغیرہ کے لئے لے جا کر جنازہ تیار کر کے قبرستان لے جاتے ہیں ..وہاں 200 لوگ کاندھے پر میت اٹھائے راستے بند کرتے لوگوں کو پریشان کرتے ہوئے نہیں جاتے ..سب عزیز و اقارب قبرستان ہی آتے ہیں اور تدفین کی رسومات ادا کرنے کے بعد اپنے گھر چلے جاتے ہین ..وہاں کسی کی موت کی وجہ سے کسی کیٹرنگ والے کسی دیکوریشن والے کی چاندی نہیں ہوتی .. وہاں ایصال ثواب کے لئے .. صاحب حیثیت لوگوں کو ہی چکن بریانی نہین کھلائی جاتی ..وہ پیسہ کسی فلاحی ادارے میں دے دیا جاتا ہے تا کہ کسی مستحق کا بھلا ہو ..اپنے پیارے سے بچھڑنے کا دکھ انہیں بھی ہوتا ہے ..پر وہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد ہی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جاتے ہیں .. .. ہمارے مذہب میں 3 دن کا سوگ ہے .. اس کے بعد تعزیت کرنا بھی منع ہے .. مگر ہم جمعراتیں .. چالیسواں .. برسیاں مناتے ہیں ..حیثیت ہو نہ ہو ادھار لے کر بھی ساری رسومات ادا کرتے ہیں ..ہمارے دیہاتوں میں کئی دنوں تک 3 ٹائیم لنگر چلتا ہے جس میں لاکھوں روپے جھونک دیئے جاتے ہیں ..یہی سوچ اور رویوں کا فرق ہے جس کی وجہ سے وہ آج کہاں ہیں اور ہم ؟ ہم کہیں بھی نہیں .. وہ آگے ہیں تو کسی وجہ سے ہیں اور ہم پیچھے ہیں تو اس کی بھی وجوہات ہیں …

تعزیت 3 دن شرعی حوالہ : حضرت امام ابو حنیفہ رح کا قول ہے کہ 3 دن بعد تعزیت کرنا خلاف سنت ہے ۔ کیونکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تعزیت کے معاملے میں 3 دن سے اوپر نہیں ہونے دیئے ہمیشہ 3 دن کے اندر تعزیت فرمائی ۔۔
بخاری شریف کے باب جنازہ میں 1 واقعہ درج ہے کہ اس ہی حوالے سے کہ کسی عورت کا بیٹا مر گیا تو 3 دن گذر جانے کے بعد کچھ لوگ تعزیت کرنے آئے تو اس عورت نے ان کی تعزیت قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ خلاف سنت عمل ہے اس لیے ۔۔
پوسٹ میں لکھنے کا مقصد کسی شرعی معاملے میں بحث کرنا ہرگز نہیں ہے ۔۔یہاں اس معاملے کا حوالہ دینے کا مقصد معاشرتی مسائل کی سنگینی کو اجاگر کرنا ہے ۔۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

22 Responses to سوچ کا فرق

  1. Fahim نے کہا:

    اقتباس: ہمارے مذہب میں 3 دن کا سوگ ہے .. اس کے بعد تعزیت کرنا بھی منع ہے۔

    محترمہ ذرا اس بات کی وضاحت چاہوں گا۔
    دوسرا یہ کہ مجھے آپ پاکستان کی فکر نہیں بلکہ انگریزوں سے متاتر دکھائی دیتی ہیں۔
    ذرا ان کے اپنے ممالک کے احوال کے بارے میں بھی چھان بین فرمالیجئے گا۔

    وہاں جب کوئی مرتا ہے تو کسی کے پاس ٹائم نہیں ہوتا کہ اس کے گھر جاکر گھر والوں کو تسلی دیں۔ مطلب محلے دار اور رشتے دار۔
    یہ بھی صرف آپ کو اپنے ملک میں ملے گا کہ کوئی دنیا سے گیا تو فوراً اس گھر میں محلے دار اور رشتے دار وغیرہ جمع ہوتے ہیں۔
    اور گھر والوں کو گلے لگا کر تسلی دیتے ہیں۔
    اور ہمارا مذہب اسلام تو یہی سیکھاتا ہے کہ کوئی غمگین ہو تو اس کو تسلی دینا اچھی بات ہے۔
    اور جتنی اپنائیت سے دی جائے اتنی اچھی بات۔

    اب آپ خود ہی سوچ کر بتادیں کہ یہ زیادہ بہتر ہے یا وہ کہ بس قبرستان جاکر وہاں سے واپس اپنے گھر کی راہ لی جائے؟

    رہی جمعرات، چالیسواں وغیرہ تو میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔
    لیکن یہ ضرور ہے کہ ایثال ثواب آپ جب چاہیں کر سکتے ہیں۔

  2. خاور نے کہا:

    یہاں جاپان مين جاپانی میت کے میک اپ اور ڈیکوریشن پر بہت خرچ اتا ہے ، کفن تیار کرنے والی کمپیوں کے ڈس کاؤنٹ وغیرھ کے اشتهار بھی چھبتے هیں اور جاپانی عمر رسیدھ ابر کی بہلے هی بکنگ کروا لیتے هیں اور اخری رسومات کچھ دن تو چلتی هیں
    اور کبھی کبھی اپنی قبر دیبکھنے کے لیے بھی جاتے هیں

  3. اسلام میں سوگ تین دن ہے یہ تو معلوم تھا لیکن اس کے بعد تعزیت بھی نہیں کر سکتے یہ نہیں معلوم تھا۔

  4. کچھ باتیں تو ٹھِیک ہیں جیسے غیر ضروری خرچ وغیرہ۔ لیکن اس بات پر اعتراض ہے کہ جنازہ گزرنے سے لوگ ڈسٹرب ہوتے ہیں۔ میت کو لے کر جانے کا یہ طریقہ اسلامی نظام میں وضع کیا گیا ہے جو بے مقصد نہیں ہو سکتا۔ شاید اس کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں کہ جنازہ دیکھنے سے باقی افراد کو یہ احساس ہو کہ دنیا عارضی جگہ ہے اس لیے یہاں دل لگانے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کا بھی کچھ خیال کرنا ہے۔

  5. محمودالحق نے کہا:

    مہزب دنیا میں جنازہ اٹھانے کے لئے اتوار کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور بیچارہ مردہ اگر اتوار سے چند دن قبل مر جائے تو ٹھنڈا رکھا جاتا ہے ۔ تاکہ تمام رشتہ دار اور احباب قبرستان تک اسے چھوڑ آئیں ورنہ اولادیں تو سال ہا سال سے انہیں چھوڑ چکی ہوتی ہیں ۔ زندگی میں تو شائد پوچھیں بھی نہ (جوانی میں سب ہی ایک دوسرے کو پوچھتے ہیں ) مگر قبروں پر خاص دن کی نسبت سے پلاسٹک کے پھول رکھنے کا خوب رواج ہے ۔ جو ہمارے ہاں نہیں۔ نہایت خوبصورت قبرستان ہیں چرسی بھنگی وہاں نہیں پائے جاتے ۔ لیکن ہمارے ہاں دفنانے کے بعد کم ہی لوگ قبرستانوں کا رخ کرتے ہیں ۔ لاہور کا بہت بڑا قبرستان ہے میانی صاحب عید پہ چند لوگ ہی وہاں پھول ڈالنے جاتے ہیں ۔ پھر بھی اعتراض انہی پر ہے کہ یہ ختم بہت دلاتے ہیں ۔ حالانکہ وہ تو قبرستان ہی کم جاتے ہیں ۔ زندگی میں ہی حق ادا کر دیتے ہیں ۔ پھر سپرد خدا

  6. fikrepakistan نے کہا:

    فہیم : پہلی بات .. میں نے صرف مغربی اقوام سے نہیں عرب ممالک سے بھی کمپیئر کیا ہے .. سعودی عرب جہاں سے اسلام آیا ہے وہاں بھی یہ سب نہیں ہوتا ..

    آپ نے پوسٹ کا ٹائیٹل غور سے نہیں "سوچ کا فرق ” آپ تو پوسٹ کے ٹائیٹل کی زندہ مثال بن گئے .. میں ان کی مذہبی زندگی سے متاثر نہیں ہوں .. میں ان کی معاشرتی زندگی کے ان پہلوؤں کی ستائش ضرور کرتی ہوں جو بنیادی طور پر اسلام کی تعلیمات ہیں ..اور ہمارے بجائے انہوں نے اپنائی ہوئی ہیں .. تو آج کامیابی ان کے قدم چوم رہی ہے تو تعجب کیسا ؟ وہ خلاؤن پر حکمرانی کر رہے ہیں ، سمندروں پر حکمرانی کر رہے ہیں ، ہواؤں پر حکمرانی کر رہے ہیں .. اپنے ملک سے بیٹھ کر ہم پر حکومت کر رہے ہیں .. اور ہم ؟ ہم اپنے بنیادی مسائل پر قابو پانے میں بھی ناکام ہیں …

    آنے کہا ہے کہ ان اپنے ممالک کے بارے میں چھان بین کروں تو .. ان کے ہاں جو چند معاشرتی برائیاں ہیں کیا وہ مسلمان ملکوں میں نہیں ہیں ؟ کہیں ڈھکے چھپے کہیں سر عام سب ہو رہا ہے ہمارے ہاں بھی ..
    ہم جزباتی لوگ ہیں .. جذباتیت پرہی یقین رکھتے ہیں .. وہ پریکٹیکل لوگ ہیں حقیقت پسند ہیں .. یہی سوچ کا وہ بنیادی فرق ہے جو انہیں ہم سے آگے رکھے ہوئے ہے …

    تعزیت کے حوالے سے حدیث نظر سے گذری تھی ایک حدیث کی کتاب میں .. میں سرچ کر کے آپ کو حوالہ بتادوں گی ..

  7. fikrepakistan نے کہا:

    باقی سب حضرات کے تبصروں کا بھی بہت شکریہ . وقت کی کمی کے باعث باقی تبصروں کے جوابات بعد میں آ کر دیتی ہوں ..

  8. DuFFeR - ڈفر نے کہا:

    واپس آئیں تو میرے اس والے تبصرے کا جواب دینا نہیں بھولنا

  9. Fahim نے کہا:

    محترمہ ایک بات بتاتا چلوں کہ اسلام "سعودی عرب” سے نہیں بلکہ "عرب” سے آیا ہے۔
    یہ تو جب سے عرب سے سعودی یعنی آل سعود کے نام پر سعودی عرب ہوا ہے تب سے وہاں کافی تبدیلی آگئی ہے۔

    باقی آپ نے یہاں سوچ کے فرق میں صرف مرنے کی ہی بات کی تو میں نے بھی اسی پر کمنٹ کیا ہے۔
    الگ سے کوئی بات شامل نہیں کی۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جی مجھے پتا ہے کہ آل سعودی سے سعودی عرب ہوا ہے ۔۔ لیکن جس نام سے اب جانا جاتا ہے اب وہ ہی لکھوں گی نہ ۔۔ 🙄 اور بہت کچھ بے شک بدلا ہو لیکن پھر بھی کچھ باتیں ان کی بہت اچھی ہیں ۔۔جیسے کہ مختلف مسلکوں میں نہ پڑنا اور پیروں فقیروں کہ نہ ماننا ۔۔
      ہاں میں نے پچھلی پوسٹس میں زندگی کے کچھ معاملوں پر بھی لکھا ہے لیکن یہاں صرف مرنے کے معاملے پر فرق لکھا ہے ایسی اور سینکڑوں باتیں ہم میں ہیں جو ہماری پسماندگی کا سبب ہیں ۔۔

  10. میں نے ابھی تک پاکستان میں جمعرات کا کھانہ چالیسویں کا کھانا برسی ترسی کے کھانے کا ترسا ھوا ھوں۔کہ کھایا ھی نہیں کبھی۔تین دن کا سوگ ہمیں تو شریف شریف کتابوں میں ملتا ھے۔زیادہ وضاحت مولوی صاحب یا ذاکر صاحب ہی کر سکتے ہیں۔
    اسلام آیا تو عرب سے ہی ھے جا بھی عرب ھی سے رھا ھے۔ہمارے پاس تو رنگ برنگی اسلام آ ھی رھا ھے۔دیکھیں اور کتنا رنگیں کرتے ہیں ہم اس اسلام کو اسلام آباد کی طرح
    میرے خیال میں فکر پاکستان کچھ اسی طرح کہنا چاہتی تھیں۔۔

  11. محمداسد نے کہا:

    ایک بڑی معاشرتی برائی کی طرف اشارہ کیا آپ نے۔ وہ مذہب کو لوگوں کو فضول خرچی سے سختی سے منع کرتا ہے ، اسی کے نام پر لوگ غیر ضروری اہتمام و انتظام کر کے خود اپنا نقصان کرتے ہیں۔ اور ہاں! وقت کا ضیاع تو کسی کھاتے میں ویسے بھی نہیں آتا ہمارے یہاں۔

  12. fikrepakistan نے کہا:

    خاور : جاپانیوں کے مذہب میں یہ سب ہوگا نہ ۔۔ہمارے ہاں تو مذہب میں بھی نہیں پھر بھی ۔۔
    اور میں نے پوسٹ میں جاپان کا حوالہ نہیں دیا تھا ۔۔ جاپانی قوم کا شمار کوئی بہت مہذب قوم میں نہیں ہوتا ۔۔ رینکنگ کے لحاظ سے دنیا کی سب سی مہذب قوم برطانوی قوم مانی جاتی ہے ۔۔

  13. fikrepakistan نے کہا:

    یاسر عمران مرزا : پیدل جنازہ لے جانا اسلام کا وضع کردہ اصول نہیں ۔۔اس وقت کیونکہ گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں ۔اس لئے پیدل ہی لے جاتے تھے ۔۔سنت سواری تو کھچڑ اور اونٹ وغیرہ ہیں تو پھر آج سنت پر عمل کرنے کا درس دینے والے بھی سنت پر عمل کرتے ہوئے کھچڑ پر سفر کیوں نہیں کرتے ؟ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں ۔۔
    ہمیں بچپن میں بتایا جاتا تھا کہ تصویر مت بنواؤ ورنہ اس میں جان ڈالنی پڑے گی قیامت کے دن ۔۔مگر آج تمام علماء حضرات تصویر بھی کھنچواتے ہیں مووی بھی ۔۔ خانی کعبہ تک میں تصویریں اور مووی بنتی ہے ۔۔
    راستے سے پتھر یا کوئی بھی رکاوٹ ہٹانا صدقہ ہے لیکن ہمارا عمل اس کے برعکس ہے ۔۔ہم الٹا راستے کی رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔۔ ایمبولینسز تک کو راستہ نہین ملتا۔۔ ایک مرنے والے کے لئے اتنے سارے زندہ لوگوں کو پریشانی میں ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟

  14. fikrepakistan نے کہا:

    محمودالحق صاحب : یہ آپ کونسے ملک کی بات کررہے ہیں جہاں ایسا ہوتا ہے ؟
    میری معلومات کے مطابق کسی مہذب ملک میں ایسا نہیں ہوتا کہ اتوار تک انتظار کرنا پڑے ۔۔ اور ایسا بھی ہرگز نہیں ہے کہ وہ لوگ قبرستان نہیں جاتے ۔۔یہاں کراچی میں گورا قبرستان ہے عیسائیوں ۔۔ پارسیوں وغیرہ کا وہاں ہر ویک اینڈ پر وہ لوگ جاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔

  15. fikrepakistan نے کہا:

    یاسر خوامخواہ جاپانی : مزے کی بات یہ ہے کہ اس رنگ برنگی اسلام میں ہم خوش ہیں اور اصل رنگ دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرنا چاہتے ۔۔

  16. geeli dhoop نے کہا:

    in fact ham post men diye gaye msg k maghaz ki tarf dehaan he nahi day rahay warna jo kuch post mne likha gaya hai wo bilkul theek hai,ye hamari soch or rawaiyon ka he farq hai jo aaj hamara ye haal hai.

  17. fikrepakistan نے کہا:

    فہیم اور احمد عرفان آپ نے تعزیت کے بابت پوچھا ہے مین‌نے پوسٹ کے اندر ہی حوالہ لکھ دیا ہے ۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s