عبادت و عمل


اللہ پاک کے پاس عبادت کے لئے فرشتے موجود ہیں ۔۔ ہم انسانوں کو اللہ نے صرف عبادت کے لئے تو پیدا نہیں کیا ہوگا ۔۔ اللہ کو ہمارا عمل چاہیئے ۔۔ اور عمل کی ہدایت کے لئے قران پاک ہے ۔۔ قران پاک کی صرف تلاوت کرنا ہی بہت افضل ہے ۔تو اس کو سمجھ کر اس کی روشنی میں زندگی گزارنا کتنا افضل ہوگا ؟ ۔۔۔ قرآن پاک کا ایک حرف پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں تو اس کا ترجمہ پڑھنے مفہوم سمجھنے اور اس پر عمل کرنے پر کتنی نیکیاں ملتی ہوں گی ۔۔

ہم لوگ نیٹ پر آ کر بہت کچھ مختلف چیزیں پڑھتے ہیں ۔۔ اگر ہم قرآن پاک کا ترجمہ بھی پڑھ لیا کریں تھوڑا تھوڑا ہی ۔۔ اس کو سمجھنا اور اس کی روشنی میں اپنے اعمال درست کرنے کی کوشش کیا کریں ۔۔ ہمارے ہاں کے اسکولوں میں تو قرآن کے ترجمے کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔ مدرسوں میں بچوں کو بھیجنا اب ڈر ہی لگتا ہے ۔۔ بچے کو حافظ قران بنانے پر تو ہم بہت فخر محسوس کرتے ہیں لیکن اس بات کی کوشش نہیں کرتے کہ وہ قرآن میں کیا کہا گیا پے اس کو بھی پڑھے اور سمجھے ۔۔۔
کیا ہم اسکولوں اور مدرسوں پر ڈپینڈ کرنے کے بجائے بچوں کو خود اس طرف نہیں لگا سکتے ۔۔ ان کی رہنمائی نہیں کر سکتے ۔۔؟

۔
ترجمہ قرآن کریم
سورہ بقرہ کی چند آیات
یہ خاص کتاب ہے ‘اس میں بدگمانی کی کوئی گنجائش نہیں‘ہدایت ہے فکر نجات رکھنے والوں کے لیے

۳۔ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ‘نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خیرات کرتے ہیں ۔

۴۔ اور جو ایمان رکھتے ہیں اس پر جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا تھا ‘اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں۔

۵۔ یہ ہوتے ہیں وہ جو اپنے پروردگار کی ہدایت پر قائم ہوں اور یہ ہیں وہ جو ہر حیثیت سے بہتری پانے والے ہیں ۔

۶۔ بلا شبہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے حق میں یکساں ہے‘خواہ آپ انہیں ڈرائیے یا انہیں نہ ڈرائیے۔بہر حال وہ ایمان لائیں گے نہیں ۔

۷۔ مہر کر دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے سننے کی طاقت پر ‘اور ان کی نگاہوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے ۔

۸۔ اور لوگوں میں بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ مومن ہیں نہیں۔

۹۔ وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں‘حالانکہ حقیقتاًوہ خود اپنے سوا کسی کو دھوکہ نہیں دیتے اور انہیں اس کا احساس نہیں ہے۔

۱۰۔ ان لوگوں کے دلوں میں ایک خاص طرح کی بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی اور انہیں ایک درد ناک عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

13 Responses to عبادت و عمل

  1. واقعی یہ بات بہت ضروری ہے کہ ہم سکولوں اور مدرسوں پر انحصار کرنے کی بجائے خود گھر میں بچوں کو قرآن سے صحیح معنوں میں روشناس کروائیں۔

  2. بچے پیدا کر کے انہیں کھلانے سے پاکستانی آدھے سے زیادہ ادموئے ھو جاتے ہیں۔اوپر خود ہی تعلیم تربیت کریں۔یہ کچھ زیادہ ہی ذمہ داری کا بوجھ ھو جائے گا۔ہم پاکستانی ویسے ہی کچھ ذمہ داریوں سے بھاگنے والے ہیں۔

  3. حکیم خالد نے کہا:

    جس طرح کان گلے یاناک کے مرض میں ای این ٹی اسپیشلسٹ کی رائے زیادہ معتبر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور اس شعبے کی معلومات سے نابلد کسی دوسرے فرد کی رائے عطائیت کہلاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعینہ دین کے معاملے میں بھی قرآن و حدیث و فقہ کے علمائے دین کی رائے اور تعلیم ہی معتبر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود تعلیمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود علاجی کی طرح خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. fikrepakistan نے کہا:

    احمد ۔۔ بچوں کو روشناس کروانے سے پہلے ہمیں خود روشناس ہونا پڑے گا ۔۔

    یاسر : آپ نے بالکل صحیح کہا ۔۔ ہم دنیاوی تعلیم اور زندگی کی آسائشیں مہیا کرنے کے چکر میں خود بھی دینی تعلیم کی طرف راغب نہیں ہو پاتے نہ ہی بچوں میں اس چیز کا رحجان پیدا کرتے ہیں ۔۔

    حکیم خالد صاحب : یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ خود تعلیمی نہیں ہو سکتی کسی رہنما کے بنا ۔۔ لیکن ہمارے معاشرے میں دینی تعلیم کا دستور کچھ اس طرح پرورش پا چکا ہے کہ لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے اس پر سے ۔۔

    مدرسوں میں حافظ قرآن بنانے پر زیادہ زور ۔۔ اس کے بعد عالم بنانے پر اور نہ جانے کیسے عالم بن کر نکلتے ہیں کہ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں دین کے خلاف نظر آتی ہیں ۔۔

    تبلیغی جماعت والے فضائل اعمال کی کتابیں پڑھنے پر زیادہ زور دیتے ہیں جن میں بہت ساری روایات و واقعات ہیں صحابہ کرام کی زندگیوں کے ۔۔۔ لیکن قرآن فہمی پر اتنا زور نہیں دیتے ۔۔
    علمائے دین کے تو آپس میں اتنے اختلافات نظر آتے ہیں جو مختلف فقوں اور مسلکوں میں بٹ گئے ہیں ۔۔
    حضور پاک صلیاللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا کہ میں درمیان ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں جسے اگر تھامے رکھوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔۔۔اور وہ ہے اللہ کی کتاب ۔۔
    جب ہمارا رحجان اس طرف ہوگا تو ہم اسے سمجھنے کے لئے صحیح لوگ تلاش کر کے ان سے رہنمائی لینے کی کوشش بھی کریں گے ۔۔ سب سے پہلی بات یہ کہ ہم اپنے اندر ارادہ تو پیدا کریں ۔۔

  5. Saad نے کہا:

    جزاک اللہ۔

  6. حکیم خالد نے کہا:

    شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فکر پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام اعظم ابو حنیفہ،امام مالک، امام شافعی،امام احمد بن حنبل اور دیگر جلیل القدر آئمہ دین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جمع کردہ دینی معلومات اور حدیث پر مکمل عبور حاصل کیے بنا اپنے طور پر قرآن کی خود فہمی ممکن نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس سلسلے میں دین کے ماہرین سے ہی رائے اور تعلیم کا اہتمام و حصول ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری ناقص رائے میں اگر کوئی دین اسلام کا ماہر عالم اس سلسلے میں فروعی معاملات کے حوالے سے اصل دین اسلام کا علم بہم پہنچانے میں بد دیانتی کرتا ہے تو یہ اس "عالم” اور اللہ کا معاملہ بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حصول دین کی نیت نیک ہو تو دیگر افراد کو غلط معلومات پر عمل کے باوجود اللہ تعالی اس کے مضرات سے ضرور بچائے گا۔۔۔۔۔دنیا میں اگر نہ سہی تو آخرت میں ضرور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    صرف قرآن کی خود فہمی پر زور اور مجسم قرآن خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہِ سلم کی سیرت و تعلیمات اور دین فہمی سے انکار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کئی فتنوں کو جنم لے چکا ہے۔۔۔۔۔۔۔فتنہ انکار حدیث۔۔۔۔۔۔۔۔۔لاہوری و پرویزی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور غامدی ازم اس کی واضح مثالیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  7. fikrepakistan نے کہا:

    حکیم صاحب میری پوسٹ کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں قرآن کی تلاوت پر جتنا زور دیا جاتا ہے قرآن کے سمجھنے پر نہیں ۔۔ ہر انسان استاد کے انتظار میں نہ خود پڑھتا ہے نہ استاد سے پڑھتا ہے۔۔ اللہ نے قرآن کو بہت آسان کیا ہے اور اللہ قرآن میں ہی فرماتے ہیں کہ تدبر کرو ، تفکر کرو ، تم غور کیوں نہیں کرتے ۔۔ کہیں کسی مقام پر کوئی مشکل درپیش آئے تو استاد سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے ۔۔۔ لیکن قرآن کا زیادہ تر حصہ نہایت ہی آسان اور سہل ہے سمجھنے والوں کے لئے ۔۔ جو کہ ترجمہ اور تفسیر پڑھ کر سمجھ آ جاتا ہے ۔

    میں سنت و حدیث کی قطعاً انکاری نہیں ہوں ۔۔ قرآن میں حکم ہے تو سنت میں طریقہ ۔۔ لیکن جب حکم کا اچھی طرح معلوم ہوگا تو اس کو ادا کرنے کے طریقے کی جستجو بھی پیدا ہوگی ۔۔

  8. حکیم خالد نے کہا:

    الحمد اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وضاحت سے پوسٹ کی اصل روح سامنے آئی۔۔۔۔۔۔ جو قابل تحسین ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ درست ہے کہ اللہ کے کلام کو رٹنے اور ثواب کی نیت سے سرسری پڑھنا اپنی جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاہم زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس کا ترجمہ اور معانی بھی اپنے علم میں لائے جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی اپنی مخلوق سے کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی تو معلوم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن اس سلسلے میں ایسے معروف تراجم کا مطالعہ کیا جائے جس پر تمام مسالک متفق ہوں۔۔۔۔۔یہی بات تفاسیر کےلیے بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض متنازعہ تفاسیر اور تراجم ۔۔۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم کی بجائے گمراہی کی طرف بھی لے جانے کا باعث بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لہذا اس سلسلے میں اپنے مسلک کے مطابق علمائے کرام سے راہنمائی لازم ہے۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s