Just think about it


A Deobandi dosn’t send his son to Bralvi school.

A Brailvi dosn’t send his son to Deobandi madarsah

Sunni dosn’t allow his son 2 play with a shiya child.

Shia keeps his son away from Sunni school of thought

But

All of them send thier children to a christian school proudly.

Just think about it ..

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

7 Responses to Just think about it

  1. Lafunga نے کہا:

    Kiyun keh Shia Kaafir
    Brelvi Mushrak
    Debaundi munkir
    laikin
    Muslim Esaayi Bhai Bhai 😀

  2. عثمان نے کہا:

    شاید اس لئے کہ لوگ سمجھتے ہیں بچہ عیسائی سکول میں جانے سے عیسائی نہیں بنے گا لکین دوسرے مسلک کے مدرسے میں جانے سے مسلک تبدیل کر سکتا ہے

    آپ نے یہ انگریزی میں کیوں لکھا؟

  3. انگریجی لکھنا بالکل منع ھے۔یہ آپ کا اردو بلاگ ھے۔انگریجی کیوں لکھی۔
    یہ سب میری طرح غیر مقلد کیوں نہیں ھو جاتے؟نہ رھے بانس نہ بجے بانسری

  4. اورکیا یہ واردات آپ کر رہی ہیں؟نہیں تو احتجاج کریں۔آپ کا قلمی نام قلموئی ھونے کا خطرہ ہے۔
    http://urdunetjpn.com/ur/2010/06/15/fikar-e-pakistan-21/

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر : بلاگ اردو ہوتا تو اردو کہیں اور لکھ لکھ کے پیسٹ نہیں کرنی پڑتی یہاں ۔۔ 😛

      نہین نہیں یہ تو سائٹ ہی پہلی دفعہ دیکھی ہے ۔۔ 😯 عرفیت میچ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ سب فکر پاکستان ایک ہی ہوں ۔۔ 😕 🙄

  5. tania rehman نے کہا:

    ہم کو اردو لکھنے کی عادت سی پڑہ گئی ہے ویسے مجھے تو انگریزی نہیں آتی ۔ اردو بڑی مشکل سے سیکھی ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s