مذہب کی غلط تشریحات


علم صرف دین کا ہوتا ہے دنیا کا تو ہنر ہوتا ہے. یہ وہ جملہ ہے جو میں اپنے بچپن سے مولوی حضرات سے سنتا آیا ہوں اور آج تک سنتا ہوں میں بھی اس پر ہی یقین رکھتا تھا کیوں کے میں تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے جو کچھ ہمیں مولوی حضرات بتاتے ہیں وہ من و عن ٹھیک نہیں ہوتا مجھے پتا ہی نہیں تھا کےبیچارے خود مولوی صاحب کو نہیں پتا کے دین کا مغز کسے کہتے ہیں، یہ المیہ صرف میرا ہے نہیں میرے جسے ہر پاکستانی کا یھ المیہ ہے ک ہم مولوی حضرات کی کہی ہوئی ہر بات کو دین کا حکم ماں لیتے ہیں اور خود سے لکھنے پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے ک پتا چلے کے دین کا مغز ہے کیا اور کیا کہ رہا ہے اور ہمیں اسکی کیا تشریح کر کے بتائی جا رہی ہے، یہ تو بھلا ہو کچھ سہی معنوں میں پڑھے لکھے لوگوں کا جنہوں نے مجھے تلقین کی کے ان روایتی ذہنیت ک مللاؤں کی بات پر ایمان لانے کے بجائے خود سے لکھنے پڑھنے اور ریسرچ کرنے کی کوشش کرو معملات سمجھ میں آنے شروع ہو جائیں گے کے دین کا اصل پیغام کیا ہے اور ہمیں ایک سازش ک تہت اسے مور تروڑ کر غلط تشریح کر کے بتایا گیا ہے تا کے قوم جاہل ہی رہے اور اپنے ہر مسلے ک لئے ان ہے روایتی مولوی حضرات ک موحتاج رہے اور بھی کئی مقاصد ہیں اس سازش کے پیچھے وہ مقاصد کسی ور پوسٹ میں تحریر کروں گا فلحال روایتی ذہنیت کے لوگوں کو اتنا ہی ہضم ہوجاے تو غنیمت جانوں گا، اب آتا ہوں میں دلیل کی طرف. جنگ بدر میں جب مسلمانوں کو فتح نصیب ہی اور جب کفّار کے کچھ لوگوں کو جنگی قیدی بنا کر ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں ڈال کر انھیں رسسیوں سے باندھ کر حضور پاک صلی اللہ علیھ وسلم کی خدمات میں پیش کیا گیا تو آپ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور ان ک ہاتھ پاؤں کھولنے کا حکم دیا ور کہا انہیں کھانا کھلاو پانی پلاؤ ور کھانا بھی وہ کھلاو جو خود کھاتے ہو، اور پھر قیدیوں سے فرمایا، جو پڑھا سے دس مسلمانوں کو وہ آزاد ہوگا، تو کوئی بتانے کی زحمت کرے گا کے حضور پاک صلی اللہ علیھ وسلم نے کافروں سے کونسا علم پڑھانے کے لئے کہا تھا ؟ ظاہر ہے حضور پاک کسی کافر سے تو مسلمانوں کو دینی علم سیکھانے کے لئے نہیں کہیں گے تو ثابت ہوا ک علم صرف دین کا نہیں ہوتا علم دین کا بھی ہوتا ہے ور دنیا کا بھی علم تو علم ہے اسے ایک سازش کے تحت ہنر کا نام دیا گیا جن لوگوں نے یہ تشریح کی وہ وہ لوگ ہیں جو خود مدرسوں سے ٨٠٠ سال پرانا درس نظامی پڑھ کر آئے ہیں غلطی انکی بھی نہیں ہے شاید کیوں ک انھیں بھی مدرسوں میں یھ سب بتایا گیا بلکے رٹایا گیا تو ظاہر ہے انہوں نے معاشرے میں آکر یھ ہی سب ڈلیور کرنا تھا.جس دین کی ابتدا ہی لفظ اقرا سے ہوئی ہو اس دین ک ماننے والوں کو ہی علم اور پڑھائی سے دور کر دیا گیا حدیث ہے ک علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے جہاں سے ملے لے لو، ایک اور حدیث ہے کے ، عالم کا قلم کی روشنائی شہید ک خون سے زیادہ مقدّس ہے الله کو وہ ایک خاندہ شخص بہت پسند ہے جو خود علم حاصل کرتا ہے اور پھر وہ علم دوسروں کو سکھاتا ہے . دین کی غلط تشریح کا یہ بہت ہی معمولی سا نمونہ یہاں پیش کیا گیا ہے ایسے بیشمار رویے ہیں ہمارے جنہیں ہمیں دین کا حصّہ بتایا گیا ھے جب کے در حقیقت وہ دین کی تشریح کے بلکل الٹ ہیں انکا ذکر اگلی کسی پوسٹ میں رہے گا انشاللہ.

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

8 Responses to مذہب کی غلط تشریحات

  1. محمداسد نے کہا:

    چلیے آپ نے کم از کم ‘دین’ کا علم مان لیا۔ ورنہ یہاں مذکورہ صاحب کی طرح ان احباب کی بھی کمی نہیں جو دنیا کو تمام علوم پر قربان کیے دیتے ہیں لیکن مذہبی تعلیم سے حتی الامکان دامن بچاتے ہیں۔

    • گیلی دھوپ نے کہا:

      محمد اسد صاحب علم صرف علم ھوتا ھے علم تو خدا کی عطا کردا نعمت ھے وہ ہر اس انسان پر اپنا یھ فضل کرتا ھے جو اسکی جستجو کرتا ھے، اللہ فرماتے ہیں کے میں کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا، جو طلب رکھے گا اسے سلا ملے گا، پھر چھاہے وہ مسلمان ھو یا کافر۔

  2. Saad نے کہا:

    آپ سے بحث پھر کسی دن کریں گے پہلے آپ اپنا تعارف تو کرائیں

    • گیلی دھوپ نے کہا:

      آپ کے قیمتی جواب کا شکریھ مجھے انتظار رہے گا آپ کی قیمتی آراء کا۔ نام محمد کاشف ھے پیشھ شپنگ کمپنی سے منسلک ھوں، مسلمان ھوں، پاکستانی ھوں، تعلق کراچی سے ھے، اس کے علاوہ میرے بارے میں مزید کچھ جاننا چھاہیں تو پوچھ سکتے ہیں آپ۔

      • Saad نے کہا:

        شکریہ جناب کاشف صاحب تعارف کیلیے۔ امید ہے آپ مستقل مزاجی سے لکھتے رہیں گے۔

  3. عثمان نے کہا:

    کاشف۔۔
    آپ کے بلاگ رول میں ایک صاحب ہیں ایم بلال۔ ان کے بلاگ پر جائیں اور ” اردو اور کمپیوٹر ” نامی کتابچہ ڈاؤن لوڈ کریں۔ اس میں دی گئی تفصیلاگ پر عمل کریں۔ جب اس سے فارغ ہو لیں تو میں آپ کو ایچ ٹی ایم ایل کا کوڈ بتا دوں گا فونٹ کے لئے۔

    اس کے علاوہ الگ سے اپنا ایک تعارفی صفحہ بنائیے۔ جس میں آپ کی شخصیت کا چھوٹا سا تعارف ہو۔

    • گیلی دھوپ نے کہا:

      عثمان رہھنمائی کے لیے بہت بہت شکریھ، آپکی دی ھوئی ھدایت پھ میں عمل کر رہا ھوں، تعارفی صفحھ کیسے بناتے ہیں؟ مجھے پوسٹ کرنے کا طریقھ معلوم ھے اگر یہی طریقھ ھے تو میں پوسٹ کے ذریعھ اپنا تعارف کروا دیتا ھوں۔ یا اگر کوئی اور طریقھ ھوتا ھے تعارفی صفحھ بنانے کا تو اس طریقے کے لیئے ریہنمائی فرمائیں۔

  4. Muhammad Qader Ali نے کہا:

    السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

    ملا یا مولانا جو بھی نام نہاد ہیں لیکن کام کے اعتبار سے پیچھے ہیں وہ تو مذمت کے لائق ہیں۔لیکن ہر ملا یا مولانا کو ایک ہی کٹھرے میں کھڑے نہیں رکھ سکتے تھے۔ ملا یا مولانوں کی ایک بڑی جماعت کو اللہ پاک ضرور سزا دینگے جنہوں نے ہمارے پیارے دین کو تفرقہ بازی، تعصب میں بدل دیا۔
    علم کی بات کرتے ہیں تو ہر مسلمان کو دین کا اتنا علم لازم و ملزوم ہے جس سے وہ پاکیزہ ذندگی بسر کرسکے۔ اگر کسی پی ایچ ڈی کو پوچھیں جس نے علم دین زرہ برابر بھی حاصل نہیں کیا وہ غسل کے بارے میں کیا جانتا ہے تو کیا کہے گا۔
    پانی ڈالو اور صابن لگاو ، غسل ہوگیا۔ نہیں بھائی۔ دین کا علم ہی بتاتا ہے کہ جنابت یااسی طرح کی ناپاکی سے کس طرح پاک ہوا جاتا ہے۔ ہمیں کسی سائنٹس نے نہیں بتایا کہ زنا کے قریب بھی مت بھٹکو۔ یہ علم قرآن اور سنت سے ملاہے۔
    اگر زنا کو لے کر چلیں تو یہ اتنی بڑی برائی ہے کہ اس سے معاشرہ تباہ ہوتا۔
    کتاب و سنۃ سے ہی معلوم ہوا ہے کہ کھانے کے کتنے آداب و طریقے ہیں۔ سائنس نے تو بعد میں چند ایک دلائل پیش کیے کہ مثال کے طور پر کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے سے ہاتھ میں لگی ہوئی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ اور دیگر۔
    آپ نے لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے قیدیوں سے فرمایا کہ جو پڑھا لکھا ہو وہ ہمارے لوگوں کو پڑھائے۔ بھائی اس بات میں دنیا داری کی بات کہا آگئی وہ تو ابتدائی علم کی بات کی کہ صحابہ کرام جو ان پڑھ ہیں وہ پڑھ لکھ لے۔
    کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب قوم علم ادب اور دیگر علوم میں بہت آگے تھی۔ جیسے موسی علیہ السلام کے دور میں جادو اور عیسی علیہ السلام کے دور میں طب کا علم۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ نے تعلیم کسی اکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل نہیں کی ان کا مدرسہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو امی تھے ان کی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تھی۔ لیکن عمر رضی اللہ تعالی عنہہ کی حکومت دیکھیں گے تو معلوم ہوگا کہ سکندراعظم سے تین گناہ زیادہ زمیں پر حکومت کی ۔
    خیر بحث لمبی ہوجائیگی۔ اگر کرنے بیٹھوں۔ میں تعلیم کے خلاف بالکل نہیں ہمیں ڈاکٹر بھی بنانے ہیں حکیم بھی، انجینئر بھی بنانے ہیں مکینک بھی۔ کسان بھی بنانے ہیں ایکریکلچرل انجینیرز بھی۔ غرض کے سب اچھے فیلڈ کو اپنانے ہیں۔
    میرے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ بیٹا پڑھنا اس لیے کہ تم جہالت ختم ہو۔ کسی کام کو اپنانے کے لیے نہیں۔ایک ان پڑھ مکینک کبھی بھی بہتر نہیں ہوسکتا پڑھے لکھے مکینک سے۔ اس طرح درزی اور دوسرے شعبہ جات میں پڑھا لکھا ہی بہتر انداز میں اپنے کام کو انجام دے سکتا ہے۔
    علم سب سے زیادہ ہمیں اس دور میں سب سے پہلے کتاب و سنۃ کی ضروری ہے تاکہ جس بات کے لیے اللہ پاک نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر رسول بھیجے اور خاص طور پر ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء، امام الانبیاء،رحمت العالمین۔ تاکہ جانے ہر اس بات کو جس اللہ کو پسند اور جانے اس بات کو جس کو اللہ ناپسند اور منع فرماتا ہے۔
    ہم چند نصیحتیں قرآن سے لے لیتے ہیں جو سائنس اوردنیاوالے نہیں دے سکتے۔

    سورۃ الانعام میں اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

    { آپ کہۓ کہ آؤ‎ میں تم کو وہ چیزیں پڑھ کرسناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے ، وہ یہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی چیز کوشریک مت ٹھرا‎ؤ اورماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل نہ کرو ، ہم تمہیں اور ان کوبھی رزق دیتے ہیں ، اور بے حیائ کے جتنے طریقے ہیں ان کے قریب بھی مت جا‎ؤ خواہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اورجس کا خون کرنا اللہ تعالی نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو ، ہاں امگر حق کے ساتھ ان کا تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو ۔

    اور یتیم کے مال کے پاس نہ جا‎ؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہو یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جاۓ ، اور انصاف کے ساتھ ناپ تول پوری پوری کرو ، ہم کسی شخص کواس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ، اور جب تم بات کروتوانصاف کر ، گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالی سے جو عہد کیا تھا اس کو پورا کرو ، اللہ تعالی نے تمہیں ان کا تاکید حکم دیا ہے ، تا کہ تم یاد رکھو ۔

    اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جم مستقیم ہے ، سو اس راہ چلو ، اور دوسری راہوں پر مت چلو کہا وہ راہیں تم کو اللہ تعالی کی راہ سے جدا کردیں اللہ تعالی نے اس کا تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو } الانعام ( 151 – 153 ) ۔

    دوم :

    سورۃ الاسراء میں اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد جو کہ سورۃ الانعام والی آیات کی شرح لگتی ہے میں کچھ اس طرح ذکر کیا گيا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے :

    { اور آپ کا رب صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ ساتھ احسان کرنا ، اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا وہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائيں تو ان کے آگے اف تک کہنا ، اور نہ ہی انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا ۔

    اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضحع کا بازو پست کیے رکھنا او دعاکرتے رہنا کہ اے میرے رب ان پرویسا ہی رحم کرجیسا کہ انہوں نے میرے بچپن میں پرورش کی ہے ۔

    جوکچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک بن جاؤ‎ تو بیشک اللہ تعالی رجوع کرنےوالوں کو بخشنے والا ہے ۔

    اور رشتے داروں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بیجا خرچ سے بچو ۔

    بیجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائ ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے ۔

    اور اگر تجھے اپنے رب کی رحمت کی جستجومیں ان سے منہ پھیر لینا پڑے جس رحمت کی تو امید رکھتا ہے تو بھی تجھے چاہیے کہ عمدگی اور نرمی سے انہیں سجھا دے ۔

    اور اپنا ھاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے کہ پھر ملامت کیا ہوا درماندہ بیٹھ جاۓ ۔

    یقینا آپ کا رب جس کے لیے چاہے روزي کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردیتا ہے ، یقینا وہ اپنے بندوں سے باخبر اور خوب دیکھنے والا ہے ۔

    اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کردو انہیں اور تمہیں بھی ہم ہی روزی دیتے ہیں ، یقینا ان کا قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے ۔

    خبردار ! زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑي بے حیائ اور بہت ہی بری راہ ہے ۔

    اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ تعالی نے حرام کردیا ہے اسے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا ، اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈالا جاۓ ہم نے اس کے وارث کے کوطاقت دے رکھی ہے پس اسے چاہیے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بیشک وہ مدد کیا گیا ہے ۔

    اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ سواۓ اس طریقے کہ جو بہتر ہو ، یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کو پہنچ جاۓ اوو وعدے پورے کرو کیونکہ قول قرار کی باز پرس ہونے والی ہے ۔

    اور جب ناپنے لگو تو بھر پور پیمانے سے ناپو اور سیدھی ترازو سے تولا کرو یہی بہتر ہے ، اور انجام کے لحاظ سے بھی اچھا ہے ۔

    جس بات کی آپ کو خـبر ہی نہیں اس کے پیچھے مت پڑو کیونکہ کان اور آنکھ اوردل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانےوالی ہے ۔

    اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ ہی لمبائ میں پہاڑوں تک ہی پہنچ سکتا ہے ۔

    ان سب کاموں کی برائ آپ کے رب کے نزدیک ( سخت ) ناپسند ہیں ۔

    یہ بھی منجملہ اس وحی میں سے ہے جو تیری طرف آپ کے رب نے حکمت سے اتاری ہے تو اللہ کے ساتھ کسی اور کومعبود نہ بنانا کہ ملامت خوردہ اور راندہ درگاہ ہو کر دوزخ میں ڈال دیے جاؤ } الاسراء ( 23 – 39 ) ۔

    علم دین سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ کس طرح کا ہونا ہے جبکہ ڈارون دنیا کے علم سے خبردیتے ہیں کہ انسان انسان نہیں ہے بن مانس ہے۔
    ایک مسلمان پھلوں کا رس نکال کر اسکو اچھے کاموں میں اپنے لیے بھی فائدہ دے سکتا ہے اور دوسروں کو بھی جبکہ دوسری جانب اسی پھلوں سے شراب بنایا جاسکتا ہے جو معاشرے کو بگاڑنے کے لیے کافی ہے اور کتاب سنۃ سے ہی ہمیں پتا چلتا ہے کہ شراب کتنی بری چیز ہے۔

    والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s