شکار اور شکاری


تریسٹھ سال بیت گئے اس قوم کو ان سیاستدانوں مللاؤں آرمی اور اسٹیبلشمینٹ کے ہاتھوں بیوقوف بنتے ہوئے لیکن سلام ہے اس قوم کی جہالت کو کے آج تک بھی ان ہی درندوں کو اپنا نجات دہندہ مانتے ہوئے ان کے ہی پیچھے چل رہے ہیں، ایک ہے کام کو بار بار ایک ہی طریقے سے کرنے کے بعد مختلف نتیجے کی توقع رکھنے والے بیوقوفوں کی سمجھ میں اتنی معمولی سی بات نہیں آتی کے مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا .. بہت پرانی بات نہیں ہے کے یادیں معدوم پر گئی ہوں کل کی ہی بات ہے کے عدلیہ کی آزادی کے لئیے پوری قوم سراپا احتجاج تھی قوم کو بتایا جاتا تھا قوم کے ہر مسلے کا حل عدلیھ کی آزادی میں پوشیدہ ہے عدلیہ آزاد ہوتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہنی شروع ہو جائیں گی مہنگائی ختم ہو جائے گی انصاف دہلیز پر ملے گا غرض اس بیوقوف قوم کو مزید جتنا بیوقوف بنایا جاسکتا تھا بنایا گیا ، آج کہاں ہیں وہ قاضی صاحب عمران خان وہ مداری علی احمد کرد وہ نواز شریف وہ سارے نوٹنکی باز اب کیوں خاموش ہیں قوم نے اپنے حصّے کا کام کردیا مگر قوم کو کیا ملا ؟ ٢٠١٣ میں افتخار چوہدری صاحب ریٹائیرڈ ہوجائیں گے یوں ان کے وعدے بھی ان کے ساتھ ہی چلے جائیں گے، پورے ملک کا نظام تو کیا درست کریں گے یھ لوگ یھ صرف عدالتی نظام ہی درست کردیتے تو بھی کسی حد تک سکوں آجاتا کے کہیں کچھ تو بہتری آئی ، مشرف دور میں جب ڈاکٹر قدیر صاحب پر پابندی تھی تب میں نے ٹیلیوژن پر دیکھا قاضی صاحب ڈاکٹر قدیر صاحب کے گھر کا جنگلا پکڑ کر منھ سے جھاگ نکال رہے تھے کے ڈاکٹر قدیر ہمارے صدارتی امیدوار ہونگے مشرف حکومت ختم ہوئی ڈاکٹر صاحب پر سے پابندیاں بھی کافی حد تک ختم کر دی گئیں مگر کیا ڈاکٹر صاحب صدر بن گیے ؟ صدر بننا تو دور ان لٹیروں نے انھیں صدارتی امیدوار تک نامزد نہیں کیا صدارتی امیدوار تو کیا کونسلر بھی نامزد نہیں کیا کسی نے انھیں ، غور کریں سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ھے سب اپنی اپنی جگھ پر ہیں اگر کچھ تبدیلی آئی ھے تو بس اتنی ک مشرف صاحب کو مائینس کیا گیا ھے، نہ نظام بدلہ نہ کوئی تبدیلی آئی بلکے مزید بدتر ہوگئے حالات مشرف دور میں کم از کم روٹی تو مییسّر تھی عام آدمی کو قوم کے ان موحسنوں نے تو وہ روٹی تک چھین لی قوم سے، سلام ھے اس قوم کو کے آج بھ ی ان ہی درندوں کو اپنا ناخدا سمجھتی ھے یہ قوم جہالت میں کسی طور بھی ابو جہل سے پیچھے نہیں رہنا چاہتی . موجودہ دور کے تمام سیاستدان اور تمام نام نہاد سیاسی/مذہبی رہنما جن کا کام ہی صرف مذہب فروشی ھے یہ سب اس کتے کی مانند ہیں جسے کنویں سے نکالے بغیر پانی پاک نہیں ہوسکتا تو ڈھول بھر بھر کے پانی نکالے جاو اور یہ امید رکھو کے ایک نہ ایک دن کنویں کا پانی پاک ہو جائے گا تو پھر ہم سے برا جاہل اس کررہ عرض پر اور کوئی ہو ہی نہیں ھوسکتا . حضرت علی کرم الله وجھ کا قول ھے کے کوئی اگر بضد ہے کے اسکی بےعزتی کی جائے تو پھر حق بنتا ھے کے اسکی بےعزتی کی جائے. جو قوم جمشید دستی جیسی ہستی کو ووٹ دے کر جتوا دے اسکے لئے اس سے بیہتر حکمراں ھو ہی نہیں سکتے۔ اس قوم کے ساتھ جو ہو رہا ھے بلکل سہی ہورہا ہے عجیب درندے لوگ ہیں ہم اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کے شخصیت پرستی بت پرستی سے زیادہ خطرناک چیز ہوتی ہے کے بت نقصان نہیں پہنچاتے مگر شخصیتیں نقصان پہنچاتی ہیں . جب تک شخصیتوں کے بجائے نظام کے لیئے جدوجہد نہیں کرینگے اس وقت تک یہ درندے ایسے ہی ہمارا شکار کرتے رہہیں گے اور ہم شکار ہوتے رہیں گے .

Advertisements
This entry was posted in سیاست. Bookmark the permalink.

15 Responses to شکار اور شکاری

  1. عثمان نے کہا:

    میرے بھائی۔۔۔
    آپ کا ای میل ایڈریس معلوم ہو تو تفصیلی بات ہو سکتی ہے۔
    میرا ای میل ایڈریس آپ کے پاس ہے۔ اس پر مجھے ای میل کریں۔

  2. عثمان نے کہا:

    آپ کا فونٹ ابھی بھی صیح نہں ہے۔ اس کے لئے ایچ ٹی ایم ایل کا کوڈ لگانا پڑھتا ہے۔ جس کا عکس میں آپ کو ای میل میں بھیج دوں گا۔
    تعارفی صفحہ بنانے کے لئے اپنے ڈیش بورڈ پر جاکر quick press پر لکھیے۔

    آپ بلال کے کتابچے میں موجود ہدایات پر تو عمل کر لیا ہے نا؟

  3. Yasir Imran نے کہا:

    آپکی تمام باتیں صحیح، سوائے اسکے، کہ مشرف کے ابتدائی دور میں تو روٹی ملتی تھی لیکن مشرف کے آخری دنوں میں روٹی اور آٹے کے لالے پڑ گئے تھے، ایسا چاہے جان بوجھ کر کیا گیا کہ مشرف کو ہٹایا جا سکے یا پھر مشرف کی پالیسی کا نتیجہ تھا۔ لیکن حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ عوام کو مشرف کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا پڑا۔ چیف جسٹس سے متعلقہ جو امیدیں دلائی گئی تھیں ان پر عمل درامد تو نہیں ہو سکا لیکن انصاف کے معاملے میں ہلکی سی بہتری آئی ہے۔ زیادہ بہتری نہ ہونے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایک اکیلا بندہ اتنے بڑے نظام کو کیسے ٹھیک کرے، جب دوسرا کوئی اس کی مدد کو تیار ہی نہیں۔ الٹا رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر عمران صاحب آپکی یھ بات درست ھے کے مشرف دور کے آخری دنوں میں آٹے کا بحران عروج پر تھا مگر یھ بات بھی قابل غور ھے کے اس وقت بھی آٹے کی زیادہ سے زیادہ قیمت سولھ سے بیس روپے تھی جبکھ آج بتس سے پینتیس روپے ھے، اور یہاں ایک غلط فہمی اور دور کرنا چاہوں گا کے مشرف کی رخصتی عوامی احتجاج کی وجھ سے ہرگز نہیں ھوئی ھے، مشرف صاحب امریکھ کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رھے تھے پاکستانی ایجنسیز کے ساتھ ملکر ایک طرف سے طالبان کو سپورٹ کررہے تھے اور دوسری طرف امریکھ کو دکھانے کیلیئے آپریشن بھی کررہے تھے امریکھ کی سمجھ میں یھ ڈبل گیم آچکا تھا اسلیے امریکھ کو ا انکی ضرورت نہیں رہی تھی تو انکی رخصتی ممکن ہوئی۔ قوم کو اس خوش فہمی سے نکل آنا جاھیے کے انکے احتجاج سے کوئی تبدیلی آتی ھے، جب تک امریکھ یا پاکستان آرمی نھ جاھیں پاکستان میں کہیں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اور رہی بات چیف جسٹس صاحب کی تو بھائی اگر انہیں لگتا ھے کے وہ قوم سے کییے وعدے پورے نہیں کر پا رھے ھیں تو انہیں اس گھٹیا سیٹ اپ سے باہر آکر قوم کے ساتھ کھڑا ھوجانا چاھیئے مگر پھر وہی بات کے یھ ساری آسائشیں کون چھوڑ سکتا ھے ؟

  4. جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ھوا ھو وہاں عوام بھوکی اور حکمران ننگے ہی ھوتے ہیں۔اورجس حمام کو پاکستان کہتے ہیں وہاں سب ننگے بستے ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر بلکل درست فرمایا آپ نے مگر یھ بھی ایک حقیقت ھے کے تبدیلی چاھے وہ اچھی ھو یا بری مگر تبدیلی ھمیشھ اوپر سے ھی آتی ھے ، مچھلی ھمیشھ سر سے سڑنا شروع ھوتی ھے۔

  5. Md نے کہا:

    میرے خیال میں جمشید دستی کو عوام نے منتخب نہیں کیا اس سسٹم نے منتخب کیا جوکہ ان سیاست نے اپنے مفاد کیلئے بنایا ہُوا ھے-الیکشن کمیشن کہہ رھا آئندہ الیکشن میں کمپیوٹر مشین استعمال ہوگی -پڑھ کر مُجھے ھنسی آگئی کہ اس سے کیا فائدہ ھوگا -اس مشین سے بھی جمشد دستی ھی برآمد ھوگا -اب جمشید دستی کسی شخص کا نام نہیں ھے یہ تو پاکستان کے سیاسی نظام کا اصطلاحی نام ھے-شُکریہ

  6. محمداسد نے کہا:

    عدلیہ کے متعلق جس طرح کی منفی خیالات کا اظہار آپ نے کیا، کچھ اسی طرح کی جذباتی تقاریر عدلیہ کی جدوجہد میں حصہ لینے والے بھی کرتے تھے۔ میں اس بات سے کلی اخلاف کروں گا کہ عدلیہ نے اپنے کام سرے سے کیا نہیں یا وہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔

    معاملہ دراصل عدلیہ کے فیصلوں اور راستہ میں روڑے اٹکانے والوں کی اکثریت کا ہے۔ آپ چینی کی قیمتوں کی مثال لے لیں یا پھر اسٹیل مل کی فروخت ختم کروانے کی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے آئینی اختیار کے آخری حد تک جا کر فیصلہ دیا۔ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ ججز ڈنڈے اور لاٹھیاں لے کر نکلیں اور بالکل اسی طرح ان لوگوں کو پیٹیں جس طرح انہوں نے ججز کو پیٹا تھا۔

    رہی یہ بات کہ عدلیہ بحالی کی تحریک میں نواز شریف، عمران خان اور قاضی حسین نے کیا کیا بڑھکیں ماری تھیں، تو ان کا حساب انہی سے مانگنا چاہیے۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت کے معزول چیف جسٹس نے نہ تو کسی سیاسی جماعت سے مدد مانگی اور نہ ہی ان جماعتوں کی طرح بلند و بانگ دعویٰ کیے۔ رہی بات انصاف کا بول بالا کرنے کی تو اس کا درس آپ کے ہمارے نبی (ص) اور قائداعظم نے بھی دیا تھا۔ اب اگر ان کی قوم اس پر عمل پیرا نہیں تو ان ہستیوں کا قصور نہیں۔ خلاصہ یہ کہ موجودہ عدلیہ پچھلے ساٹھ سال کی سب سے بہتر عدلیہ ہے، لہٰذا اس پر بھروسہ کریں نا کہ اسے کورٹ سے باہر نکل جانے کے مشورہ دیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      اسد صاحب آپ پنی انفارمیشن کی حد تک یقینا درست فرما رہے ہیں لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کے عدلیہ تحریک بغیر سیاسی جماعتوں کے کامیاب ہوئی ہے تو یہ مناسب بات نہیں ہے، اس تحریک پر جتنا خرچہ آیا ہے وہ کس نے کیا ہے؟ ساری دنیا جانتی ہے نواز شریف نے کیا ہے وہ سارا خرچہ جو کے اب وہ سود سمیت واپس بھی لے رہے ہیں مفادات کی صورت میں، وزیر ا قانون بابر اعوان قوم کا پییسھ اپنے باپ کی جاگیر سمجھ کر ان وکیلوں اور ججز میں بانٹ رہے ہیں یہ سب کیا ہے ؟ شہباز شریف نے پانچ کروڑ روپے پنجاب بار کو کس کھاتے میں دیے ہیں ؟ مجھے حیرت ہے آپ کس دنیا میں رہتے ہیں کے آپ کو ان حقائق کا علم ہی نہیں ہے اور اگر آپ کو ان حقائق کا علم ہے تو پھر آپ بھی شخصیت پرستی ک مرتکب ہو رہے ہیں جو کے بت پرستی سے بھی زیادہ خطرناک چیز ہوتی ہے، کے بت نقصان نہیں پہنچاتے مگر شخصیتیں نقصان پہنچاتی ہیں اور پہنچا رہی ہیں .

  7. محمداسد نے کہا:

    عدلیہ بحالی تحریک سے متعلق غلط فہمیاں اس سے قبل بھی کئی بار پھیلانے کی کوشش کی جاچکی ہے. اس دوران کئی ایک ٹاک شوز میں بھی مالی معاملات زیر بحث آئے لیکن کوئی بھی یہ بات ثابت نہیں کرسکا کہ معزول جج صاحبان نے کسی سیاسی جماعت سے کسی بھی قسم کی مالی یا اخلاقی مدد کا مطالبہ کیا ہو یا. رہی بات سیاسی جماعتوں کے ساتھ دینے کی تو وہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا. آپ شاید بھول رہے ہیں کہ اس وقت کی حکمران سیاسی جماعتوں نے اس کی بھرپور مخلافت بھی کی تھی اور عدلیہ بحالی تحریک کو محض ڈرامہ سے تعبیر کیا تھا. لیکن یہ وکلاء اور سول سوسائٹی کی محنت سے بحال ہوئے. یہ بات درست کے سیاسی جماعتوں نے اس تحریک کو کافی تقویت پہنچائی لیکن اس کی تمام تر کامیابی کا سہرا ان کے سر باندھنا قطعاَ درست نہیں.

    شاید آپ کے علم میں نہیں کہ موجودہ دور حکومت میں جو حکمران جماعتیں بار ایسوسی ایشنز کو پیسہ تقسیم کررہی ہیں، وہ ایک حد تک ان کا مالی حق ہے اور ہر حکومت دیگر اداروں میں رقوم کرتی ہے. البتہ اس میں جب حدود سے تجاوز کیا جائے تو اس کی فورا سے بیشتر تحقیقات کرنی چاہیے. اور صرف اسی پر نہیں بلکہ ہر اس شعبہ پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے جس میں رتی برابر کرپشن کا چانس باقی ہو.

    رہے عدلیہ پر آپ کے باقی الزامات تو اس کا نہ کوئی ثبوت ہے نا جواز. اگر ہے تو بس جذباتیت کہ جس میں انسان اندھا ہو کر چٹیا کو بھی سانپ سمجھتا ہے.

    آپ مجھے شخصیت پرستی کی تعریف کے ساتھ یہ بھی بیان فرمادیجیے کے ایک شخص سے بلاعذر بغض و عناد رکھنے کی اسلام نے کس طرح ممانعت کی ہے تاکہ میرے علم میں اضافہ ہوسکے. شکریہ

    • گیلی دھوپ نے کہا:

      میرے بھائی مجھے نہ کسی سے ذاتی عناعد ھے اور نہ ہی میں بے وجہ کسی کی مخالفت کرتا ہوں ، آپ جن کو قوم کا محسن سمجھ رہے ہیں اگر یہ صحیح معینوں میں محسن ہوتے تو ملک تو چھوڑیں خود عدالتی نظام کا یھ حال نہ ہوتا یہ سب بت ہیں انہیں ایک دن گرنا ہے آپ جنہیں قوم کا ہیرو سمجھ رہے ہیں ان کے کارنامے شاید آپ کے علم میں ہی نہیں ہیں اعتزاز احسن دکھانے کے لئے مشرّف کا سب سے بڑا مخالف رہا ہے اس ہی اعتزاز احسن نے اپنی بیوی کے نام پر بشریٰ اعتزاز نام ہے اسکی بیوی کا بشریٰ اعزاز کے نام پر گیس اسٹیشن کا پرمٹ لیا ہے اس نے مشرّف سے جس کا اس نے خود ٹیلیوژن پر اعتراف بھی کیا ہے کیوں کے اعتراف کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچا تھا اس کے پاس . اور رہی بات سول سوسائیٹی کی تو یہ وہ جاہل قوم ہے جو ڈھائی سال کی بچی کا ریپ کر دیتی ہے یہاں کونسی سول سوسائیٹی؟ کیسی سول سوسائیٹی ؟ اس سے پہلے ت وکبھی نہیں سنا کسی نے نام پاکستان میں سول سوسائیٹی کا یہ اچانک راتوں رات اس جاہل قوم کو اتنا شعور کہاں سے آگیا کے سول سوسائیٹی بن گئی . اور اگر اس سول سوسائیٹی کا کوئی وجود تھا تو وہ سول سوسائیٹی اب کہاں ہے ؟ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں خود کشیاں کر رہے ہیں مائیں اپنے ہاتھوں سے بچوں کو زہر دے دے کر مار رہی ہیں اب کہاں گئی وہ نام نہاد سول سوسائیٹی ؟ ایسے تمام ڈرامے بازییاں ایجنسیز کرتی ہیں کرائے کے لوگوں کو پیسے دے کر ایسی سوسائیٹیاں راتوں رات بنا دی جاتی ہیں یہ پاکستان ہے فرانس نہیں اس قوم کے شعور کی تو یھ حالت ہے ک دستی اور جٹوں کو ووٹ دیتی ہے یہ آج تک اور آپ بات کر رہے ہو سول سوسائیٹی کی اپنی غلط فہمی دور کر لیں کے عدلیہ بغیر کسی ڈیل کے بحال ہوئی ھے یہ باقاعدہ ڈیل ہوئی ھے، یہ عدلیہ نواز شریف کے پجیرو انقلاب سے بحال نہیں ہوئی ھے ائیر کنڈیشنڈ پجیرو میں بیٹھ کر انقلاب آتا ھے کیا ؟ انقلاب کسے کہتے ہیں اور اس کے لئے کیا کیا قربانی دینی پڑتی ہے اس کے لئے کبھی چین کے رہنما موزے تنگ کی ہسٹری پڑھیے گا تب آپکو پتا چلے گا کے انقلاب کہتے کسے ہیں.عدلیہ باقاعدہ ایک ڈیل کے تحت بحال ہوئی ھے آرمی چیف نے بیچ میں پڑ کر یہ ساری ڈیل کروائی ہے مجھے حیرت ھے آپکی سوچ پر کے آپ ان بتوں سے آس لگائے بیٹھے ہیں.پہلے پاکستان کے نظام کو ٹھیک سے گہرائی میں جا کر سمجھیئے پھر کوئی رائے قائم کیجیے یہاں کچھ بھی امریکا اور آرمی کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتا آج نہیں تو کل آپکی بھی سمجھ میں یھ بات آجائے گی. اور رہی بات ذاتی عناعد کی تو مجھے کسی سے کوئی ذاتی عناد نہیں ھے یہ تھوڑا سا سوچ کا فرق ہے میں کیوں کے ان سب درندوں ک ی درندگی کو جانتا ہوں سمجھتا ہوں اسلیے ہی میں ان بتوں پر ایمان نہیں رکھتا آپ جسے معصوم ذہنیت کے لوگ ہی ان درندوں کا اساسہ ہیں جب تک آپ جیسی معصوم ذہنیت کے لوگ ان کی حمایت کرتے رہیں گے ان کا کاروبار کامیابی سے ایسے ہی چلتا رہے گا .

  8. محمداسد نے کہا:

    جی آپ نے درست فرمایا۔
    آپ ایک شخص سے نہیں بلکہ پوری قوم ہی سے تعصب کا شکار ہیں۔
    اور تعصب کے بارے میں گوگل پر بہت کچھ مل جائے گا۔
    اسلامی بھی اور غیر اسلامی بھی۔

  9. طالوت نے کہا:

    دور آمریت نما جمہوریت کا ہو یا جمہوریت نما آمریت کا ، سیاسی پارٹیاں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ۔ سب نظر بندی کے ماہر ہیں ۔ ناظم کراچی سے لے کر لاہور کے برادران تک چلتے جائیے ۔ایجنٹ ڈیڈی سے شروع کیجئے مکے باز کمانڈو تک کا جائزہ لیجئے۔ سب کے پاس کچھ نہ کچھ ایسا ضرور رہتا ہے جس وہ اپنا دور اچھا اور اگلا پچھلا برا ثابت کر سکیں ۔ یہ سب نظر بندی کے ماہر جادوگر ہیں اور بس ! ہمیں چاہیے کہ جب یہ اپنا تماشا شروع کریں جوتے الٹے کر کے ان پر کھڑے ہو جائیں تو یقینا اس کا اثر الٹا ہو گا ۔ جو قوم آج بھی سبز طوطوں اور طوطوں سے فال نکال کر مستقبل کا تعین کرتی ہو وہاں یہ سب کچھ کوئی اچھنبے کی بات ہرگز نہیں ۔
    نوٹ: سبز طوطے عموما اور محض طوطے خصوصا پائے جاتے ہیں اسے کسی سے مخصوص نہ کیا جائے۔
    وسلام

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s