مذہب فروش


ہہت جلد قوم کو مذہب ک نام پر لوٹنے والے قوم کے مذہبی جذبات سے کھیلنے والے ایم ایم اے کے تمام مذہب فروش اس بیوقوف قوم کو مزید بیوقوف بنانے ایک نیئے نام سے جلوہ افروز ہونے والے ہیں ، ابھی کچھ دنوں پہلے ایم ایم اے کی بحالی کے لیے ان سب مذہب فروشوں کی ایک نشست مولانا فضلل رحمان کے گھر پر ہوئی اصل میں تو مولانا کا مقصد ایم ایم اے کی بحالی تھا ہی نہیں وہ تو صرف حکومت کو بلیک میل کر کے اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے یھ ڈرامہ رچایا تھا، اقتدار کی ہوس کے مارے قاضی حسین احمد اور ہمنوا ان کے اس جھانسے میں آگئیے اور منھ سے جھاگ نکالتے اور رالیں گراتے ہوئے خوشی خوشی مولانا کے گھر تشریف لے گئیے کے شاید دوبارہ مذہب کے نام پر دیہاڑی لگانے کا موقع مل جائے ، خبر ھے کے مولانا کے مطالبات مان لیے گیے ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی مولانا کی پارٹی کے کسی مذہب فروش کو سون پ دی جائیگی یہ ہی مولانا چاہتے تھے انکا کام ہو گیا اب انھیں ایم ایم اے کی بحالی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، مگر قاضی حسین احمد اب نئیے انداز سے قوم کو بیوقوف بنانے کے لیے پر تول رہے ہیں اس بار تحفظ ختم نبووت کے نام سے نیا اتحاد بنانے کے لیے قاضی صاحب بری طرح سے بے چین ہیں اور اپنے ان بیہودہ عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اور پیشگی قوم کا دماغ بنانے کے لئے دو دن پہلے وہ ختم نبووت کے نام سے ایک ریلی بھی نکال چکے ہیں ، میں نے اپنا فرض جانتے ہوئے قوم کو پیشگی با خبر کرنا ضروری سمجھا ، اب جسے مذہب فروشی گوارہ ہو وہ ان تمام درندوں کے ساتھ ہو جائے اور جسے قوم کا اور دین کا ذرا سا بھی درد ھے اسے چاہیے کے قوم کو اور دین کو ان درندوں کی درندگی سے بچانے کے لیے قوم میں شعور پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے.

Advertisements
This entry was posted in سیاست. Bookmark the permalink.

8 Responses to مذہب فروش

  1. Saad نے کہا:

    کاشف صاحب یہ گرم موسم کا اثر ہے یا کچھ اور وجہ؟ اتنی تلخ زبان؟

  2. کاشف صاحب مولوی فضلو وغیرہ کے تو ہم بھی خلاف ہیں۔ختم نبوت کے تحفظ کے نام پر قاضی صاحب کے کیسے بیھودہ عزائم ہیں ذرا وضاحت کر دیں تو مہربانی ھو گی۔کیونکہ قوم کو قاضی جی کے عزائم نہ بتائے تو قوم کیسے خبردار ھوگی جی؟ ہیں جی؟ غلطی فہمی میں نہ پڑھئے گا میں جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہوں۔ویسے قاضی صاحب نااہل لیڈر ھو سکتے ہیں۔کرپشن کا کبھی نہیں سنا۔آپ کی تلخی کی وجہ بھی جاننا چاھوں گا۔کہ بوجہ موسم ھی ھے نا؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر صاحب قاضی صاحب کے عزائم کو بیہودہ اسلیے لکھا کے یھ سب مذہب ک نام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلنے والے لوگ ہیں انکا مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں ھے یھ ختم نبووت کی آڑ لے کر بلیک میلینگ کریئگے اور پیسھ بنائیں گے انہیں حرمت رسول صلئ اللہ علیھ وسلم سے اگر اتنی ہی محبت ہوتی تو آج پاکستان میں مذہب کا اسطرح مزاق نھ بنا ھوا ھوتا آج کچھ اور ہی حالت ہوتی اس قوم کی اور ملک کی قوم اسطرح فرقوں اور مسلکوں میں نا بٹی ھوئی ھوتی، آپکو یاد ہوگا کے جس وقت ایم ایم اے بنی تھی اور انہوں نے الیکشن میں حصّہ لیا تھا انکا انتخابی نشان کتاب تھا، ان لوگوں نے قوم کے مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کتاب کو قران کہا اور اور کہا یھ الله کی کتاب ہے اسے ووٹ دو تاکے اللہ کی زمین پر اللہ کا نطام نافض ھو سکے اور پھر حسب تواقع لوگوں نے ان لوگوں کی باتوں میں آکر اس کتاب کے نشان کو ووٹ بھی دیے، مگر انہوں نے کیا حشر کیا اس انتخابی نشان کے ساتھ جسے قران بتایا تھا انہوں نے؟ پیسے اور اقتدار کی خاطر مشرّف کے ہر اقدام کی انہوں نے حمایت کی، سترھویں ترمیم ، ایل ایف او ، پ ی سی او، مشرّف کے ان سارے اقدامات کی حمایت میں ووٹ دیا ان لوگوں نے، مشرّف کو وردی میں صدر منتخب کروایا، اور یھ سارے کام مشرّف کی محبت میں نہیں کیے ان لوگوں نے بہت تگڑی قیمت وصول کی تھ ی مشرّف سے ہر حمایت کی، پانچ سال سرحد میں بلا شراکت ان ہی لوگوں کی حکومت رہی ان کی ہی نگرانی میں طالبان پانچ سال تک سرحد میں پنپے ہیں جس کا خمیازہ آج پوری پاکستانی قوم کو بھگھتنا پڑ رہا ہے ، پانچ سال سرحد میں صرف ایم ایم اے کی حکومت رہی ہے کوئی بتایے گا مجھے کے پانچ سال میں ان لوگوں نے کیا خد مت کی مذہب کی ؟ قرآن کے نام پر مذہب کے نام پر ووٹ لے کر ایسی کیا خدمت کی گئی اسلام کی ؟ شریعت نافذ کی ؟ اسلامی اسٹیٹ بنا دیا سرحد کو کیا کیا انہوں نے پانچ سال ؟ جب مشرّف نے ان کے آگے ہڈی ڈالنا بند کردی تو یہ سب اس کے مخالف ہوگیے، لال مسجد کے معاملے میں ان لوگوں نے ہی سب سے زیادہ آگ لگائی امام کعبھ تک آئے اور انہوں نے ریکویسٹ کی تھی کے آپ لوگ باہر آجائیں ساری دنیا نے ہاتھ پاؤں جوڑے ان کے آگے کے آپ لوگ باہر آجائیں مگر اس وقت بھی ایم ایم اے کے مولانا عبدل عزیز لال مسجد کے باہر کھڑے فون پر اندر بات کرتے ہوئے کہھ رہے تھے غازی صاحب ڈٹے رہنا ہم آپ کے ساتھ ہیں، اور جب لال مسجد آپریشن کیا گیا تو یھ سب اس وقت لندن میں بیٹھے تھے آل پارٹی کانفرنس میں اقتدار کی بندر بانٹ کر رھے تھے ، جب ان پر برا وقت آیا تو کوئی بھی نہیں تھا ان کے پاس لال مسجد والوں کے اصّل قاتل یھ ہی لوگ ہیں انہوں نے ہی مروایا ہے انھیں جھنڈے پر چڑھوا کر.اور جب مدد کا وقت آیا تو سب لندن بھاگ گئیے اور جب آپریشن مکمل ہوگیا تو آگئیے سب لاشوں پھ سیاست کرنے، اور کیا کیا گنواؤں میں آپکو انکی حیوانیت کے قصّے؟ اور رہی بات کرپشن کی تو یھ پانچ سال تک مشرف کو بلیک میل کر کے اس سے پیسے بٹورتے رہے یھ کرپشن نہیں ھے ؟ برگیڈئیر امتیاز نے خود اے آر وائی پر ان سب کی اصلیت کا بھانڈا پھوڑا ھے کے کس کس کو کتنے کتنے پیسے دیئے گئیے تھے بینظیر کی پہلی حکومت گرانے کے لیے، قاضی صاحب کو پچاس لاکھ دیے تھے یھ میں نہیں کہہ رہا یہ جس نے دیئے ہیں اس نے خود بتایا ہے میڈیا کے سامنے اب اگر یہ سب آپکو کرپشن ہی نہیں لگتی تو پھر آپ ہی مجھے کرپشن کی تعاریف بتا دیں تاکے میری بھی اصلاح ہو سکے.اور یھ تو بہت ہی ہلکی اور معمولی سی تلخی کا مظاہرہ ہے میرے حساب سے تو یہ سب واجب ال قتل ہیں میں کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کا ہمدرد نہیں ہوں مگر اتنا ضرور ہے کے کوئی بھی سیاسی جماعت کم از کم مذہب کے نام پر یھ درندگی نہیں کر رہی وہ تو کھلے چور ہیں سب کو نظر آرہے ھیں مگر یھ تو آئیستین کے سانپ ھیں جنّت کے ٹھیکیدار بنتے ہیں مذہب فروشی کر کے درندگی کر رہے ہیں یھ نہ قابل معافی ھے، امید ہے آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا اور میری تلخی کی وجہ بھی سمجھ میں آگئی ہوگی.

  3. محمداسد نے کہا:

    بہت اعلیٰ۔ گویا آپ کے خیال میں ابھی تحفظ ختم نبوت پر کوئی اتحاد بننا باقی ہے۔
    اسے جناب کی کم علمی ہی کہا جاسکتا ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے قائم جماعت جس کے موقف سے تمام مکتب فکر کے علماء کرام متفق ہیں ایک طویل عرصہ سے دنیا بھر میں پہلے ہی کام کررہی ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      محمد اسد بھائی آپ نے بجھ فرمایا کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے جماعت موجود ھے جو بہت اچھا کام بھی کر رہی ھے، میرے بتانے کا مقصد صرف یھ ھے کے اس ہی ایشو کو بیس بنا کر اس بار یھ لوگ نیے نام سے آنے والے ھیں ضروری نہیں کے یھ ہی نام رکھیں یھ لوگ نام کوئی بھی ھوسکتا ھے مگر اس بار ایشو یھ ہی بنا کر جماعت بنائیں گے یھ لوگ، کیونکھ جب تک فضلل رحمان کو پی پی پی کی طرف سے ہڈی ملتی رہے گی وہ حکومت سے الگ نہیں ھونگے اور نھ ہی ایم ایم اے بحال ھوسکے گی، اسلیئے یھ نیا طریقھ واردات اختیار کرنا پر رہا ھے قاضی صاحب کو۔ باقی تفصیلی تسلی کے لیے یاسر صاحب کو جو جواب دیا ھے میں نے اسے پڑھ لییں آپ۔

  4. جناب ہم آپ کی ہر بات سے متفق ہیں۔پوسٹ سے کچھ اور طرح کی مجھ کم فہم کو غلط فہمی ھورہی تھی۔میں خود ان تما م کو کلو کے حساب سے دین بیچنے والا کہتا ہوں۔ایک دفعہ قاضی صاحب سے ملاقات ھوئی تھی اور میں نے انہیں صاف گو پایا۔باقی دلوں کا حال اللہ بہتر جانتا ھے۔جب کوئی ہمارا راہنما بنتا ھے تو ہمیں حق حاصل ھےکہ اس کا گریبان پکڑیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      بھائی صاف گو تو سارے سیاستدان ہی اپنے آپ کو شو کرتے ھیں کون ھے جو خود کو حاجی ثابت نہیں کرتا؟ مل تو آپ زرداری سے بھی لینگے تو وہ بھی آپکو حاجی ہی لگے گا، یھ ہیئ تو ہنر ھے انکا اور ہتھیار بھی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s