تم ھو پاسبان اس کے


امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے .کبھی با حیلہ مذہب کبھی با نام وطن. یہ امیر شہر کیا ھے ؟. امیر شہر دراصل وہ بدمعاش وہ مراعت یافتہ طبقات ہیں جو کسی بھی ملک ک وسائل پر قابض ہوتے ہیں. وہ پھر عام آدمی کو بیوقوف بنانے کے لئے جذبات بھرکاتے ہیں وطن پرستی کا مادر وطن کے نعارے لگا کر مادر وطن اسے پوچھے بھی نہیں اسے روٹی نھ دے دودھ نہ پلائے مگر مادر وطن ھے. عام آدمی کا استحصال کرتے ھیں جذبات بھرکاتے ھیں، یھ وطن تمہارا ھے تم ھو پاسبان اس کے، خوامخواہ میں اسے گلیمرائز کرتے ہیں، اس بیچارے کو روٹی نہیں مل رہی وہ چھتر کھا رہا ھے تھانوں میں، عزت نفس نہیں دے سکے یھ تو صدر وزیراعظم گزرتے ھیں تو چار پولیس کے چمپو پوری قوم کو کتے کی طرح روک کر کھڑے ہو جاتے ھیں گاڑیوں میں بچے پیدا ہورہے ہیں ان کے مگر ان سے کہا جاتا ہے تم ہو پاسبان اس کے. یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے بچوں میں اپنےا آنے والی نسلوں میں کوئی دلچسپی نہیں اندازہ لگائیں بڑے سے بڑا صنعتکار جاگیردار کوئی ٹرائیبل ھے کوئی سردار ھے ، جیسے آئین معطل ہوتا ہے ویسے ہی یہاں عقلیں معطل ہیں . غریب کی نمائندگی ایک صنعتکار ایک جاگیردار کیسے کر سکتا ہے ؟ جس کے سر پھ چھت اپنی نہیں پیروں کے نیچے زمین اپنی نہیں اسکی رائے اپنی کیسے ہو سکتی ھے؟.اس ے علاوہ ایک اور نعرا لگایا جاتا ہے قوم کو بیوقوف بنانے کے لیئے کے مسلمانوں نے بر صغیر پر ہزار سال حکومت کی یہ بھی جھوٹ ھے اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں، چند مسلمان خاندانوں کے حکمرانوں کی حکمرانی کو مسلمانوں کی حکمرانی کہا جاتا ہے .ان کو کبھی تین وقت کھانا نصیب نہیں ہوا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یھ ھے کے آج ٢٠١٠ میں یہ حکمران قوم کو روٹی نہیں دے رہے ذلیل کر رہے ہیں تو یہ پانچ سو سال ہزار سال پہلے کیا نہیں کرتے ہونگے ؟ آج میڈیا ہے کمیونیکیشن ہے دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہھے یہ تب بھی ان کو جانوروں کی طرح ٹریٹ کر رہے ہیں چند حکمران خاندان فنگر ٹپس پر ہیں جو تریسٹھ سال سے ہم پر حکمرانی کر رہے ہیں یہ سب جھوٹے ہیں مکار ہیں ان کی یہ بکواس یہ بیچتے ہیں اور خریدنے والے آج بھی خریدتے ہیں. ملا حضرات پاکستان کو اسلام کا قعلھ بتاتے ہیں جبکھ اسلام تو پاکستان میں ھے ہی نہیں یہاں تو بس فرقے ہیں مسلک ہیں، بھوک سے لوگ مر رہے ہیں مائیں اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو قتل کررہی ہیں، بھوکے آدمی کا تو کوئی مذہب ہی نہیں ھوتا، لوگ بھوکے ننگے جاہل علم کی اہمیت سے بے شعور ، اور ملاوں کے کھا کھا کے پیٹ نہیں سنبھل رہے، قوم زمین پھ رینگ رہی ھے اور ملا پراڈو میں گھوم رہے ہیں، ایسا ھوتا ھے اسلام اور اسلام کا قعلھ ؟ یھ سب ملے ہوئے ہیں آپس میں اس سب کا ٹارگٹ ایک ہی ھے کے اس جذباتی قوم کو آخرت سے ڈراتے رہو تاکے یھ اپنے جائز حق کے لیے بھی آواز بلند نھ کرسکے، ھر معاملے میں صبر کی تلقین کر دیتے ھیں یھ سب انقلاب کو روکنے کے حربے ھیں اس کے، قرآن کو ضابتھ حیات بھی کہیتے ہیں اور حیات کی بات ہی نہیں کرتے انکا سارا زور تو موت اور موت کے بعد ک زندگی پر ھوتا ھے، حیات اتنی ہی بےمعانی ھے تو پھر یھ زندگی کیوں دی ھے اللہ نے ؟ سب کنجر ہیں مل کر قوم کے لوٹ رہے ہیں اور قوم بھی اس سے بری کنجر ھے جو آج بھی اس ہی ملاوں اور سیاستدانوں کے پیچھے چل رہی ھے۔

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

4 Responses to تم ھو پاسبان اس کے

  1. ایک اور ٹانک جو عوام کو ملتا ھے۔لکھنا بھول گئے۔
    عوام کو ابھی ملک کیلئے بہت قربانیاں دینی ہیں۔
    تو جناب خواص نے اور کتنی قربانیاں قربان کروانی ہیں؟۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s