داتا دربار


لوگ کہ رہے ہیں ک داتا دربار پر جو خود کش حملہ کیا گیا یہ کام کوئی بھی مسلمان نہیں کر سکتا ، میں بھی ایسا ہی سوچتا شاید اگر میں مسلمانوں کی تاریخ سے واقف نہ ہوتا تو. تاریخ بتاتی ہے کے یہ کام کوئی مسلمان ہی کر سکتا ہے، حججاج بن یوسف بھی مسلمان ہی تھا اس نے تو کعبھ شریف پر منجنیق سے حملہ کر دیا تھا تو یہ تو صرف ایک بزرگ کا مزار ہے، حضرت عثمان غنی رحمت الله علیھ کو کس نے شہید کیا ؟ نواسھ رسول؛ صلھ اللہ علیھ وسلم کو کس نے شہید کیا ؟ مسلمانوں میں جو آپس میں جنگیں ہوئی ہیں اس میں جو لاکھوں لوگ مارے گئیے وہ کس نے مارے ؟ محمد بن قاسم کو کس نے شہید کیا ؟ ٹیپو سلطان احمد شاہ ابدالی نواب سراج ا لدین دولھ یہ سب ہمارے ہیروز ہیں انہیں کس نے مارا؟ دنیا جانتی ہے مسلمان پیسے اور اقتدار کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے، یہ ان ہی لوگوں کا کام ہے جنہوں نے پچھلے دنوں سوات جیسی جنّت کو دوزخ میں تبدیل کیا ہوا تھا مزاروں سے ا سلاف کی لاشیں نکال نکال کر لٹکا رہے تھے یہ لوگ, تو یہ تو بہت ہی معمولی سا کام ہے ان کے لیے ، تاریخ بھری پڑی ہے مسلمانوں کی آپس کی درندگی سے پڑھتے اور لکھتے ہوئے بھی گھن آتی ہے.

Advertisements
This entry was posted in زمرہ کے بغیر. Bookmark the permalink.

8 Responses to داتا دربار

  1. یہ سب ہمارے اندر کے ہمارے بھائی بند ہیں۔جو کہیں مذھب کے نام پر کہیں اعلی نسل کے ھونے کے دعوی پر کہیں لسانیت پر نفرت کی تبلیغ کرتے ہیں۔اور اپنے موقف پر اتنے مضبوط ھوتے ہیں کہ دوسروں کو لعنتی اور واجب القتل قرار دے دیتے ہیں۔ان کا علم ان کی تعلیم ان کی ذہنی صلاحیتیں صرف نفرت کی تبلیغ اور اپنے آپ کو حق پر ثابت کر نے پر صرف ھوتی ہیں۔

  2. خاور نے کہا:

    میں اس کو اس رنگ میں دیکھتا هوں که قبر پرستی ، شخصیت پرستی کی انتہا ہے
    توحید کے نام پر ایسا کرنا کچھ محال نهیں ہے
    خود کش حملہ کرنے والے کیا سوچتے هیں ؟
    اس کا کسی نے کبھی سوچا ہے که کیوں ایک بندھ خود کو اڑا دیتا ہے ؟؟
    امریکه کہتے هیں اس کو نشہ کروایا جاتا ہے
    اور اپ کیا کہتے هیں؟؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      خاور بھائی قبر پرستی سے متعلق آپ کی بات بجا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کے ایسا کرنے والے کم علم لوگ ہوتے ہیں مزارات پر جانے والے زیادہ تر لوگ ا حترامن جاتے ہیں اس حقیقت سے بھی انکار م مکن نہیں ہے کے بزرگان دین کی خدمات بے انتہا ہیں دین کے لیے اور خاص طور پر اس خطے کے لیے ہمارے خطے میں اسلام بنیادی طور پر تو محمد بن قاسم کے آنے کے بعد پھیلا ہے وہ بیچارا بھی ناہید کے خط کی وجہ سے اس طرف آنکلا صرف تین سال کا عرصھ ہی وہ یہاں گزار پایا پھر اسے مسلمانوں کے روایتی آ پسی اختلاف کی وجہ سے واپس بلا کر شہید کردیا گیا ، اس کے جانے کے بعد یھ بزرگان دین تھے جنہوں نے اسلام کی تبلیغ کی اور آج ہم اور آپ مسلمان ہیں ، اسلیے ان بزرگان دین کی عزت و احترام ہم سب پر لازم ہے. اور جہاں تک رہی آپکی یھ بات کے انہیں کچھ کھلا دیا جاتا ہے یا کچھ اور کردیا جاتا ہے ایسا کچھ نہیں ہے یہ اپنے پورے حوش و حواس میں یھ درندگی کرتے ہیں ، مسلھ یھ ہے کے انہیں بچپن سے دنیا سے کاٹ دیا جاتا ہے صرف ایک مدرسھ ہی ان کی کل کائنات ہوتی ہے وہاں انہیں دین کے نام پر صرف جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے، قران میں جہاد سے متعلق ٢٨ آیات ہیں جن میں سے صرف آٹھ آیات میں قتال کا ذکر ہے باقی بیس آیات کا تعلق معاشرت سے ہے ، انہیں صرف وہ آٹھ آیات ہی بتائی اور پڑھائی جاتی ہیں ان کے نزدیک اسلام صرف اور صرف جہاد کا نام ہے ، یھ اپنے تئیں بہت عظیم کام کر رہے ہوتے ہیں یھ جہاد کو جنّت کا شارٹ کٹ سمجھتے ہیں یھ ٹھیک ہے کے جہاد جنّت میں لے جاتی ہے مگر یہ والی دو نمبر جہاد نہیں کے اپنے ہی مسلمان بھائی کو مار کے جنّت کے دعویدار بن جاؤ ، یہ سیدھا جہنم کا راستہ ہے مگر انکو بتانے والا کوئی نہیں اور نا ہی یہ سمجھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، انکا ایک ہی حل ہے انہیں بھرپور طاقت سے کچل دیا جائے اور ایسے تمام مدرسوں کو بند کردیا جائے جو انسانوں کو درندہ بنانے کی فیکٹری بن چکے ہیں .

  3. خاور جی آپ کی بات واقعی سچی ھے کہ ایسی نتہا پسندی دیکھنے میں عموما آتی ھے۔امریکہ والے ناتجربہ کار ہیں جی انہیں نہیں معلوم کہ یہ نشہ بغیر پیئے چڑتا ھے اور دھمال ڈلواتا ھے۔

  4. emran نے کہا:

    یہ بھی ایک سوچی سمچھی سازش ہے۔ ہمیں پتہ اس وقت چلے گا جب پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔ کسی نے کہا تھا کہ پاکستانی وہ قوم ہے جو پیسوں کے لئے اپنی ماں بھی بیچ ڈالتا ہے۔ غلط تو نہیں کہا تھا۔ ان ہی لوگوں کی لئے کہا تھا۔

  5. طالوت نے کہا:

    کچھ تاریخی اختلافات کے ساتھ پر ” بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی”
    وسلام

  6. Muhammad Qader Ali نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    کیا حال ہے سب دوستوں کا اور بہنوں کا۔ اللہ سے دعاء ہے کہ ہم سب کو ایمان کامل عطا فرمائے۔آمین
    دربار میں جو ہوا وہ انتہائی غلط ہوا۔ مسلمان کے لیے تو چیونٹی، شہد کی مکھی اور ھد ھد کو مارنا جائز نہیں۔ یہاں تو انسان مرے ہیں چاہے کسی بھی نسل ، رنگ اور مسلک و مذہب کا ہو۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔
    کوئی بھی کسی کو زبردستی کسی بھی اچھے یا برے فعل سے نہیں روکتاسکتا ماسوائے اس کو تلقین کرنے کے۔
    مزار جاتا صحابہ فعل میں سے نہیں تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہما امت کے سب سے اعلی مسلمان تھے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے تھے۔اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے والوں میں سے تھے۔ جب بھی کسی چیز کی حاجت ہوتی یا پریشانی آتی تو دو رکعت نماز ادا کرکے اللہ پاک کو پکارتے تھے جیساکہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت عباس رضی اللہ عنہہ سے کہا گیا کہ بارش کے لیے دعاء کریں اس وقت مدینے میں زیادہ بوڑھے صحابی یہی تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چاچا تھے۔ انہوں نے دعاء فرمائی اور بارش ہوگئی۔ اس وقت کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پکارا۔ بکارا تو صرف اور صرف اللہ پاک کو۔ کیا یہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ان کے بعد کی امت سے عمل اور قول میں کم تھے ۔ نہیں کبھی نہیں۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین پورا کا بورا ہم تک بہنچا دیا۔ اب اس میں کوئی بھی چیز مشروع نہیں ہوسکتی چاہے وہ سونے سے بھی زیادہ اچھی ہو۔
    اگر ہم دین میں کوئی چیز مشروع کرتے ہیں تو گویا ہم نے اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا کہ دین ہم تک کامل نہیں ہوا۔ لا حولۃ ولاقوۃ الا باللہ۔
    تو یہ مزارات جس کی زیارت لوگ کرتے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اور انکے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہما اجمعین، قرون اولی سے لے کر قرون ثلاثۃ کا عقیدہ و طریقہ نہ تھا
    حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے وہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کہ تین مساجد کی زیارت کے علاوہ کسی بھی مقام کی زیارت کے لئے باقاعدہ اہتمام کر کے نہ جایا جائے ۔ مسجد حرام اور میری مسجد یعنی مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ ۔ “ اس حدیث کو امام بخاری نے بیان کیا ۔

    اپنے گھر سے تیار ہو کر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ صرف تین مساجد میں زیارت کی نیت سے جانے کی اجازت ہے ۔ دیگر مساجد میں بھی انسان اہتمام کے ساتھ جاتا ہے لیکن وہاں جانا مسجد کی زیارت کے لئے نہیں ہوتا بلکہ نماز کی ادائیگی کے لئے ہوتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی مزار کی زیارت یا کسی عرس وغیرہ میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے کسی مقام پر جانا شرعاً جائز نہیں ہے ۔ ان مساجد کی زیارت کے علاوہ کسی بھی مقام پر زیارت کے لئے جانا درست نہیں ۔ اس سفر پر اٹھنے والے اخراجات اور پہنچنے والی تکلیف کا کوئی اجر و ثواب نہیں ہو گا بلکہ قیامت کے روز سوال کیا جائے گا کہ یہ سفر کیوں اختیار کیا ۔ جن مقامات پر جانے سے انسان کو فائدہ ہو گا وہ مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ ، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد اقصیٰ ہیں ، بیت اللہ میں حج کے دو ارکان ادا ہوتے ہیں ایک طواف دوسرے سعی صفا اور مروہ ۔ بیت اللہ میں داخل ہونے کے بعد پہلا کام جو کیا جائے وہ طواف ہے اور دیگر دونوں مساجد میں جا کر سب سے پہلے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی جائیں ۔ دنیا میں سب سے پہلے مسجد حرام یعنی بیت اللہ کی تعمیر کی گئی اس کے بعد مسجد اقصیٰ تعمیر ہوئی جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات سے تعمیر کروایا ان دونوں مساجد کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد مسجد نبوی تعمیر کروائی ۔ بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہے ۔ جبکہ مسجد نبوی میں جو ایک نماز ادا کریں تو اسے ایک ہزار نمازوں کے برابر ثواب ملتا ہے اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا پانچصد نمازوں کے ثواب کے برابر ہوتی ہیں ۔ مسجد نبوی میں داخل ہونے والا با ادب اور عاجزی کے انداز میں داخل ہو ۔ عمدہ لباس پہنے ، خوشبو لگائے ہوئے ہو ، مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرے پھر بیت اللہ کی طرف پشت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف منہ کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s