خاور بھائی قبر پرستی سے متعلق آپ کی بات بجا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کے ایسا کرنے والے کم علم لوگ ہوتے ہیں مزارات پر جانے والے زیادہ تر لوگ ا حترامن جاتے ہیں اس حقیقت سے بھی انکار م مکن نہیں ہے کے بزرگان دین کی خدمات بے انتہا ہیں دین کے لیے اور خاص طور پر اس خطے کے لیے ہمارے خطے میں اسلام بنیادی طور پر تو محمد بن قاسم کے آنے کے بعد پھیلا ہے وہ بیچارا بھی ناہید کے خط کی وجہ سے اس طرف آنکلا صرف تین سال کا عرصھ ہی وہ یہاں گزار پایا پھر اسے مسلمانوں کے روایتی آ پسی اختلاف کی وجہ سے واپس بلا کر شہید کردیا گیا ، اس کے جانے کے بعد یھ بزرگان دین تھے جنہوں نے اسلام کی تبلیغ کی اور آج ہم اور آپ مسلمان ہیں ، اسلیے ان بزرگان دین کی عزت و احترام ہم سب پر لازم ہے. اور جہاں تک رہی آپکی یھ بات کے انہیں کچھ کھلا دیا جاتا ہے یا کچھ اور کردیا جاتا ہے ایسا کچھ نہیں ہے یہ اپنے پورے حوش و حواس میں یھ درندگی کرتے ہیں ، مسلھ یھ ہے کے انہیں بچپن سے دنیا سے کاٹ دیا جاتا ہے صرف ایک مدرسھ ہی ان کی کل کائنات ہوتی ہے وہاں انہیں دین کے نام پر صرف جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے، قران میں جہاد سے متعلق ٢٨ آیات ہیں جن میں سے صرف آٹھ آیات میں قتال کا ذکر ہے باقی بیس آیات کا تعلق معاشرت سے ہے ، انہیں صرف وہ آٹھ آیات ہی بتائی اور پڑھائی جاتی ہیں ان کے نزدیک اسلام صرف اور صرف جہاد کا نام ہے ، یھ اپنے تئیں بہت عظیم کام کر رہے ہوتے ہیں یھ جہاد کو جنّت کا شارٹ کٹ سمجھتے ہیں یھ ٹھیک ہے کے جہاد جنّت میں لے جاتی ہے مگر یہ والی دو نمبر جہاد نہیں کے اپنے ہی مسلمان بھائی کو مار کے جنّت کے دعویدار بن جاؤ ، یہ سیدھا جہنم کا راستہ ہے مگر انکو بتانے والا کوئی نہیں اور نا ہی یہ سمجھنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، انکا ایک ہی حل ہے انہیں بھرپور طاقت سے کچل دیا جائے اور ایسے تمام مدرسوں کو بند کردیا جائے جو انسانوں کو درندہ بنانے کی فیکٹری بن چکے ہیں .

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

4 Responses to

  1. خاور نے کہا:

    سب سے پہلی بات که میں انسانوں کے قتل کے حق میں نهیں هوں
    لیکن اپ کی تحریر سے بہت سے سوال پیدا هوتے هیں
    یہاں جاپان ميں جب هم آئے تھے تو لوگوں کو اسلام کا کچھ معلوم نهیں تھا
    لیکن اعلی تعلیم یافتہ سے جب گفتگو کا اتفاق هوا تو انہوں نے بتایا که هماری کتابوں میں لکھا ہے دنیا مينں مسلمان نام کے لوگ بھی هوتے هیں اور ان کی ڈیفینیشن جو که صدیوں پہلے مقرر کی گئی تھی یه ہے
    وھ لوگ جو مورتوں کی پرستش کے خلاف هوتے هیں
    گوزو تسوہائی کینشی
    تو جی اس تناظر میں دیکھیں تو ابراهیم علیه سلام نے بت توڑ کر جو”شر” پھلایا تھا اس زمانے ميں کسی ایک بھی بندے نے اپ کے اس کام کو اچھا نهیں کہا تھا یعنی که اکثریت کا فیصله تھا که یه شرپسندی ہے
    لیکن مورتوں کی پرستش کے مخالف لوکاں کے لیے یه عین اسلام ہے
    اور نبی پاک نے جو مورتیں نکال باہر کی تھیں تو اس طاقت تک پہنچنے کے لیے ان مورتوں کے احترامیں سے ایک طویل جنگ کرکےهی ایسا کرنا ممکن هوا تھا
    اور مورتوں کی پرستش کے مخالف لوکاں کے لیے یه عین اسلام ہے
    وھ محمود غزنوی مال لوٹنے اور غلام اغوا کرنے کے لیے آتا تھا لیکن اپنی ریپوٹیشن بنانے کے لیے اس نے بھی مورتوں کی شکنی کا شوشا چھوڑا تھا
    اس لیے مورتوں کی پرستش گے مخالف لوکاں کے لیے یه بھی اسلام ہے.
    مورتوں کی پرستش ہے کيا ؟؟
    یه احترام کب عقیدت میں بدلتا هے اور عقیدت اور پرستش میں کیا فرق ہے ؟؟
    میرا مقصد یه کومنٹ کرفنے کا یه ہے که بلاگر لوگ صرف ایسا هی راگ نه الاپنا شروع کردیں جو که میڈیا کے جغادری الاپ رهے هیں
    بلکه بلاگر کی جڑیں عام بندے میں هیں اور اس کو اخباروں کو مطالعے کی بجائے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر سوال اٹھانے چاهییں ، تاکه معاشرتی برائیوں کی وجه کو اجاگر کرکے ان پر قابو پانے کا کچھ اپاء کیا جائے
    میرے یه خیالات نامکمل یا غلط بھی هو سکتے هیں اور ان خیالات پر تنقید کرنے والوں کے خیالات پڑھ کر هی میں اندازھ لگا سکتا هوں که میں کہاں کہاں غلط هوں
    اور یه بات میرے دشمن بھی تسلیم کرتے هیں که بات اگر صحیع هو تو میں دشمن کی بات سے بھی اتفاق کرتا هوں .

    • جاویداقبال نے کہا:

      السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
      خاوربھائی، آپ نےجوکمنٹ کیاہےاس میں بہت سےفقرےایسےلکھےہیں جوکہ انتہائی قابل اعتراض ہیں۔
      "تو جی اس تناظر میں دیکھیں تو ابراهیم علیه سلام نے بت توڑ کر جو”شر” پھلایا تھا اس زمانے ميں کسی ایک بھی بندے نے اپ کے اس کام کو اچھا نهیں کہا تھا یعنی که اکثریت کا فیصله تھا که یه شرپسندی ہے”دیکھیں انہوں نےکتنےسال لوگوں کوتبلیغ کیااوریہ صرف ان کوسمجھانےکاایک اندازتھابس کہ جوبت اپنےآپ کونہیں بچاسکتےوہ خداکیسےہوسکتے؟

      والسلام
      جاویداقبال

    • fikrepakistan نے کہا:

      خاور بھائی آپ گفتگو کو کہیں سے کہیں لے گیے ہیں ، آپ نے جو کچھ لکھا یہ تو موضوع تھا ہی نہیں ، اور جہاں تک رہی بات شخصیت پرستی کی تو آپ میری پچھلی پوسٹس پڑھ سکتے ہیں میں نے متعدد جگھ لکھا ہے کے شخصیت پرستی بت پرستی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے کے بت نقصان نہیں پہنچاتے مگر شخصیتیں نقصان پہنچاتی ہیں، جہاں تک رہی بات بزرگان دین کے احترام کی تو وہ ویسے بھی سب کو ہی کرنا چاہیے یھ بزرگان دین محسن ہیں ہمارے ان کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا انکی عزت ان کا احترام نہ کرنا احسان فراموشی کے مترادف ہوگا ، کہیں نہ کہیں آپ کے اور میرے اسلاف ایسے ہی کسی بزرگان دین کے ہاتھوں مسلمان ہوئے تھے تو آج ہم بھی الله کے کرم سے مسلمان ہیں ، پہلے بھی عرض کیا تھا کے جو لوگ بھی قبر پرستی کرتے ہیں قبروں کو سجدہ گاہ بناتے ہیں وہ انتہائی غلط کرتے ہیں ، یہ اسلام کی روح کے خلاف عمل ہے اس کی ہر ذی شعور انسان مذمت کرے گا ، باقی جو باتیں آپ نے تحریر کی ہیں وہ میری سمجھ سے باہر ہیں کے وہ آ پ نے کس سینس میں لکھی ہیں میرا نہیں خیال کے وہ موضوع سے مطابقت رکھتی ہیں. حضرت ابراہیم علیھ سلام سے متعلق جو آپ نے لفظ شر استعمال کیا ہے وہ کم اس کم کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا آپ کو یہاں کوئی اور لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا ، ممکن ہے آپ بے د یھانی میں ایسا لکھ گیے ہیں، کیوں کے یہ شر تو کفّار کے لیے تھا انکا یہ عمل مسلمانوں کے لیے تو عین حق ہے. میرا مقصد صرف آ پ کی تصیح کرنا ہے آ پ کی دل آزاری نہیں اگر کچھ برا لگے تو پیشگی معذرت چاہتا ہوں. اور ا یک بات کے جو کچھ بھی پاکستان میں جہاد کے نام پر ہو رہا ھے اگر آپ اسے جہاد سمجھتے ہیں تو پھر آپ ا نتہائی غلطی پر ہیں یھ جہاد نہیں فساد ھے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s