یھ طواف نہیں تیرے نصیب کا چکر ھے


اسلام میں الله کے دیئے ہوۓ ہر حکم کے پیچھے کوئی نا کوئی مصلحت کوئی نہ کوئی لوجک پنہا ہے الله کے ہر احکام میں کہیں نا کہیں انسانیت کی بھلائی ہوتی ہے، چاہے وہ حکم معاشرت سے متعلق ہو یا عبادات سے متعلق ہر حکم میں کوئی نہ کوئی فلاح پوشیدہ ہے، انسان کا کام ہے کے غور و فکر کرے اور الله کے ہر حکم میں چھپے اس فلسفے کو جانے تا کے وہ الله کے حکم کی تعمیل اس عمل کے مغز کے مطابق کر سکے ، مثال کے طور پر نماز، وضو میں کم سے کم پانی خرچ کرنے کا حکم ہے، اس سے ہمیں کفایت شعاری کا درس ملتا ہے نیز وضو پاکیزگی سکھاتا ہے، غور کیجیے کے آج پورا معاشرہ ہی فضول خرچی میں مبتلا ہے، رہی بات پاکیزگی کی تو وہ تو دور دور تک کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ہمارے معاشرے میں، پورے پاکستان کو ہی ڈسٹ بن کے طور پر استعمال کرتے ہیں ہم لوگ، نماز میں صفبندی ہمیں سکھاتی ہے نظم و ضبط ، ترتیب ، تنظیم ، اتحاد، جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کے وہ اپنے مسلمان بھائی کے ہر دکھ سکھ میں بھی ایسے ہی اس کے ساتھ کاندھے سے کاندھ ملا کر کھڑا ہوگا، صفبندی سکھاتی ہے کے صرف نماز میں ہی صفبندی نہیں کرنی ہے بلکے ہر جگھ ٹریفک سگنل پر بھی لائن بنانی ہے،بس کے انتظار کے لیے بھی لائن بنانی ہے غرض کسی بھی جگھ جانوروں کی طرح سلوک نہیں کرنا ایک دوسرے کے ساتھ ہر جگھ سلیقے سے لائن بنا کر کام کو تکمیل تک پہنچانا ہے، مگر آج ہمارے معاشرے کا حال دیکھ لیں سگنل پر سلیقے سے کھڑے ہونا تو بہت ہی دور کی بات ہے سرخ سگنل کا احترام میں کوئی کھڑا ہی نہیں ہوتا ، میں نے سینکڑوں بار پانچ وقت کے نمازی حضرات کو سگنل توڑتے دیکھا ہے آپ بھی روز دیکھتے ہونگے ، کیوں کے ہمیں پتا ہی نہیں ہے کے سگنل توڑنا بھی سنگین گناہ ہے سگنل توڑنا تو ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، نماز میں قیام تحمل سکھاتا ہے، مگر جسے دیکھو جلد بازی میں ہے کسی کے پاس بھی کرنے کے لیےٹکے کا کام بھی نہیں ہے مگر جسے دیکھو بس بھاگا چلا جا رہا ہے کیوں ہے وہ جلدی میں اسے خود بھی نہیں معلوم، سجدہ ہمیں سکھاتا ہے کے جو سر الله کے آگے جھکتا ہے وہ عظیم سر کسی اور کے آگے نہیں جھک سکتا ، مگر آج ہر پاکستانی کا سر ظلم کے آگے جھکا ہوا ہے، عرض کرنے کا مقصد یے ہے کے ہم الله کے احکامات کو صرف حکم سمجھ کے ہی کرتے ہیں کے ایسا کرنے کا حکم ہے تو بس ایسا کرنا ہے وہ حکم کیوں ہے اس کے پیچھے کا مقاصد ہیں الله کے وہ بتانے کی زحمت نا ہمارا ملا کرتا ہے اور نا ہی اس جاہل عوام کو غور و فکر کرنے کی فکر ہے، رٹے رٹائے طریقے ہیں جس پر جانوروں کی طرح سے بس عمل کرنا ہے، کیوں کیا کیسے جسے سوالات ان جانوروں کے ذھن میں آتے ہی نہیں، یھ وجہ ہے کے آج ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہے حج بھی ادا کیے جا رہے ہیں نمازیں بھی پڑھی جا رہی ہیں رائیونڈ میں ملتان میں لاکھوں سر جمع ہو کر مجمعے بھی لگا رہے ہیں مگر پھر بھی معاشرے میں تبدیلی دور دور تک نظر نہیں آرہی الٹا اور تنزلئ کا شکار ہوتے جارہے ہیں ہم، وجہ صاف ظاہر ہے کے جو عمل کیے جا رہے ہیں وہ روح کے مطابق ہو ہی نہیں رہے ہیں صرف اور صرف عادتوں کی ورزش ہورہی ہے ورنہ تو اگر صرف نماز کے ارکان کو ہی سمجھ کر ادا کر دیا جائے جیسا کے اپر بتایا گیا ہے تو ہی اتنا کچھ سدھار آسکتا ہے معاشرے میں کے ہم بھی معزز قوموں میں شمار ہو سکتے ہیں، مگر ہمارے تو عقیدے ہی عجیب ہیں کے چوری میرا پیشہ اور نماز میرا دین. تو کرتے رہو عادتوں کی ورزش جمع کرتے رہو لاکھوں کی تعداد میں جسموں کو اور دماغ سے خالی سروں کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا جب تک عبادت کو اس کے مغز کے مطابق ادا نہیں کریں گے ہم اس وقت تک کسی بھلائی کی امید رکھنا فضول ہے،

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

2 Responses to یھ طواف نہیں تیرے نصیب کا چکر ھے

  1. emran نے کہا:

    اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اللہ کے ہر حکم میں کوئی نا کوئی لوجک پنہا ہے۔ وہ لاجک ایک جسم کے لئے بھی ہے اور ایک سلجھے ہوئے معاشرے کے لئے بھی۔ ھم سگنل پر بھی اس لئے رکتے ہیں کہ چالان نا ھو جائے۔ ہم اس مداری کے بندر کی طرح ناچ تو رہے ھیں لیکن دل سے عمل نہیں کر رہے۔

  2. fikrepakistan نے کہا:

    عمران صاحب آپ نے بجا فرمایا پوری قوم اپنی م رضی اور ا پنی پسند سے بندر بنی ھوئی ھے اور ڈگڈگی ہمارے سیاستدانوں اور ملاوں کے ھاتھوں میں ھے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s