یاداشت


وہ نشے میں دھت حالت میں بار میں داخل ہوا متلاشی نگاہوں سے ویٹر کو تلاشنے لگا ویٹر ادب سے اس کی خدمت میں حاضر ہوا اور آرڈر طلب کیا، اس نے ایک بیش قیمت برانڈ شراب کا نام بتایا اور ویٹر سے وہ شراب لانے کے لیے کہا ، شراب کا نام سن کر ویٹر چونکا کیوں کے وہ بہت ہی قیمتی شراب تھی ویٹر کے دل میں بےایمانی آگئی اس نے سوچا یہ شراب کے نشے میں د ھت ہے اسے کوئی بھی معمولی قیمت کی شراب بھی پلا دونگا تو اسے کیا پتا چلے گا ، کچھ دیر بعد ویٹر ایک معمولی قیمت کی شراب گلاس میں لے آیا، اس شخص نے پہلا گھونٹ لیتے ہے چیخ ماری اور زور سے دھاڑہ ، تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو کیا؟ یہ وہ شراب ہرگز نہیں ہے جس کا میں نے ارڈر دیا تھا میری ساری زندگی شراب پیتے ہوئے گزری ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کے مجھے کوئی شراب کے معاملے میں دھوکا دے سکے ، بار میں موجود ل وگ اسکی طرف متوجھ ہو گیے شور شرابا سن کر بار کا مینجر آگیا اور اس نے معذرت کی کے غلطی سے آپ کا آرڈر چینج ہوگیا ہوگا میں آپکی مطلوبہ شراب بھجوا دیتا ہوں، وہ پھر چلایا میں شراب کا پہلا گھونٹ پی کر بتا سکتا ہوں کے شراب کا نام کیا ہے مجھے شراب کے معاملے میں کوئی بھی بیوقوف نہیں بنا سکتا میں چیلنج کرتا ہوں کے بار میں موجود کوئی بھی شخص مجھ سے شرط لگا لے میں پہلا گھونٹ پی کر ہی شراب کا نام بتا سکتا ہوں، اسکی یھ بات سن کر سب اسکی طرف دیکھنے لگے ایسے میں ا یک شخص اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے پاس آکر کہنے لگا مجھے تمھارا چیلنج قبول ہے میں جو شراب منگواؤں گا اگر تم نے اسکا نام بتا دیا تو میں تمہیں سو ڈالر دونگا، اس نے چیلنج قبول کر لیا اس آ دمی نے ایک پرچی پر ایک نادر شراب کا نام ویٹر کو لکھ کر دیا کچھ ہی دیر میں ویٹر گلاس میں وہ شراب لے آیا اب بار میں موجود لوگوں کی توجہ اسکی طرف ہ وچکی تھی سب لوگ دلچسپی سے یہ نظارہ دیکھ رہے تھے، اس نے شراب کا پہلا گھونٹ لیتے ہی شراب کا نام بتا دیا ، نام بلکل سہی بتایا تھا بار میں موجود سب لوگ حیران رہ گیے ایسے میں ایک اور شخص نے اس سے شرط لگائی اور وہ بھی ہار گیا اسطرح کافی لوگوں نے اس سے شرط لگائی اور وہ ہر بار جیتتا گیا، ایسے میں ایک شخص نے اسے پھر چیلنج دیا کے اگر تم نے میری منگوائی ہوئی شراب کا نام بتا دیا تو میں تمہیں دس ہزار ڈالر دونگا اس نے چیلنج قبول کرلیا، اس آ دمی نے پرچی پر ایک بہت ہی پرانی شراب کا نام لکھ کر دیا شراب آئی اس نے پہلا گھونٹ لیا اور کچھ دیر سوچتا رہا اور کافی غور کرنے کے بعد اسنے شراب کا نام بتایا، وہ شخص کہنے لگا اس بار تم نے نام غلط بتایا ہے تم شرط ہار گیے ہو، اس شراب کا نام یھ نہیں یھ ہے، وہ کہنے لگا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں سو فیصد مطمئن ہوں مینے جو نام بتایا ہے وہ ہی نام ہے اس شراب کا، اس آدمی نے ویٹر سے کہا شراب کی بوتل لے آو ویٹر بوتل لے آیا اس پر جو نام لکھا ہوا تھا وہ اس نام سے مختلف تھا جو ا س نے بتایا تھا بوتل پر نام پڑھنے کے بعد بھی وہ اپنی بات پر قائم رہا کے یہ بوتل بھلے ہی مختلف ہو مگر اس کے اندر جو شراب ہے وہ وہی ہے جو میں بتا رہا ہوں، معاملہ گھمبھیر ہوگیا تھا کیوں کے وہ بہت پراعتماد تھا، آرڈر دینے والے شخص نے بار کے مالک کو بلوا لیا اور اسے سارا ماجرا بتایا مالک نے ساری بات سننے نے کے بعد کہا کے یہ شراب کی بوتل مجھے پندھرہ سال پہلے میرے ا یک د وست نے گفٹ کی تھی میں آپ سب کے سامنے اس سے ابھی فون پر کنفرم کروا دیتا ہوں، فون لگایا گیا بار کے مالک نے اپنے دوست کو یاد دلایا کے آج سے پندھرھ سال پہلے تم نے مجھے جو بوتل گفٹ کی تھی اسکا نام کیا تھا ؟ ساری بات سننے کے بعد بار کے مالک کے دوست نے معذرت کرتےہ وئے کہا کے وہ شخص ٹھیک کہ رہا ہے بوتل پر نام دوسرا لکھا ہوا ہے مگر اس کے اندر شراب وہ ہی ہے جو وہ شخص بتا رہا ہے، اب تو اس شخص کی دھوم مچ گئی ہر شخص حیران تھا کے یہ کیسا ا نسان ہے اسے کس طرح یاد رہتا ہے یہ سب، اب بار کے مالک نے اس سے شرط لگاتے ہے کہا کے اب میں جو تمہیں شراب پلاؤں گا اگر تم نے اسکا نام بتا دیا تو میں یہ بار تمہارے نام کر دونگا، اس شخص نے چیلنج قبول کر لیا بار کے مالک نے پرچی پر ایک نام ویٹر کو لکھ کر دیا ویٹر کچھ پہ دیر میں گلاس میں وہ شراب لے آیا اب عالم یہ تھا کے بار میں موجود سب لوگ اس شخص کی ٹیبل کے گرد جمع تھے اور منتظر تھے اس کے جواب کے، اس نے گلاس سے پہلا گھونٹ لیا اور سوچنے لگا کافی دیر تک سوچتا رہا غور کرتا رہا مگر نام ذ ھن میں نہیں آیا اس کے، پھر اس نے دوسرا گھونٹ لیا مگر نام پھر بھی اس کے ذ ھن میں نہیں آیا، پھر تیسرا گھونٹا لیا خلا میں گھورتا رہا اور نام یاد کرتا رہا مگر اس بار بھی اسے ناکامی ہی، آخر کار وہ ہار مانتے ہوئے کھڑا ہو گیا اور کہا میں ہار گیا میں نہیں بتا سکا اس شراب کا نام، یہ کہتے ہوئے وہ گیٹ کی طرف جانے لگا بار کے گیٹ تک پہنچ کر وہ رکا اور پلٹ کر کہنے لگا یھ شراب جس بھی کمپنی کی ہے یہ کمپنی زیادہ عرصے چلے گی نہیں، یہ کھ کر وہ بار سے نکل گیا، اب سب لوگ حیرانی سے بار کے مالک کی طرف دیکھنے لگے اور پوچھنے لگے کے کیا نام تھا اس شراب کا ؟ بار کے مالک نے سب کا تجسّس دیکھتے ہوئے وہ پرچی جس پر شراب کا نام لکھ کر دیا گیا تھا وہ سب کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی، اس پر پرچی پر درج تھا سادہ پانی۔

Advertisements
This entry was posted in کچھ ہلکا پھلکا۔۔. Bookmark the permalink.

7 Responses to یاداشت

  1. خاور نے کہا:

    عرصہ پہلے یه کہانی ایک ڈائجسٹ میں پڑھی تھی

  2. جاویداقبال نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔مجھےپہلےہی شک تھاکہ یہ سادہ پانی ہی ہوگا

    والسلام
    جاویداقبال

  3. عثمان نے کہا:

    اچھی کہانی ہے۔

    میں نے آپ کو فونٹ کے متعلق معلوماتی لنک دیا تھا۔ آپ نے وہ دیکھا کہ نہیں؟ اسطرح پڑھنا بہت مشکل ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عثمان بھائی ک ہانی کی پسندیدگی کے لیے بہیت بہت شکریھ، دوست مینے و ہ لنک دیکھا تھا مگر مسلھ میرے ساتھ یھ ھے کے میں ا ن سب ٹیکنیکل چیزوں سے بلکل نابلد ھوں سچ بات یھ ھے کے و ہ لنک میری سمجھ میں ہی نہیں آیا کے مجھے اس میں کرنا کیا ھے۔ میرے لیے کوئی آس ان راستھ نکال سکیں آپ تو آ پکی نوازش ھوگی۔

  4. emran نے کہا:

    مزیدار کہانی ہے اور عمدگی سے لکھی گئی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s