میجورٹی از اتھارٹی


بچپن سے ایک جملہ سنتے آئے ہیں میجورٹی از ا تھارٹی ، ہو سکتا ہے کے آج کے دور میں پڑھی لکھی مہذب دنیا کے لئیے یھ محاورہ کسی حد تک درست ہو، مگر اتنا مجھے یقین ہے کے کم از کام ہم پاکستانیوں کے لیے یہ محاورہ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے، یھ گمان کیا جاتا ہے کے جو لوگوں کی اکثریت کہتی ہے وہ ہی درست فیصلہ ہوتا ہے، لیکن الله قرآن میں اس محاورے اور ا کثریت کی رائے کے خلاف حضور پاک صلی اللہ علیھ وسلم کو متنبہ کرتےہوئے فرماتا ہے، اے نبی صلی اللہ علیھ وسلم اگر تم ان لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین پر بستے ہیں تو وہ تمہیں الله کے راستے سے بھٹکا دیں گے، وہ تو محض گمان پر چلتے ہیں اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں، در حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کے کون اس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے، ( الانام ١١٦-١١٧ ) . صرف قران ہی نہیں تاریخ بھی اس بات کی گواہی دیتی ہے کے حق اور سیدھے راستے پر چلنے والوں کی تعداد ا س ز مین پر ہمیشہ تھوڑی رہی ہے.دنیا کے کسی بھی خطے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اکثریت نے ہمیشہ اس شخص کے خلاف فیصلہ دیا جس نے حق بات کی، اس ہی لیے الله نے کسی شہر کسی علاقے کسی قوم کا نام نہیں لیا ہے بلکے جو ا س ز مین پر بستے ہیں کا لفظ ا ستعمال کیا. ایتھنس کی پوری اسمبلی ایک ساتھ جمع ہو کر سقراط کو مجرم ٹھہراتی ہے اور اسے زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کرتی ہے، حضرت عیسی علیھ سلام صرف ١٢ حواریوں کے ساتھ یروشلم میں موجود ہوتے ہیں اور پورا شہر انھیں صلیب پر چڑھانے کے درپے ہوتا ہے ، خود حضور پاک پورے مکّھ اور مدینے سے صرف ٣١٣ صحابہ کی جمع پونجی لے کر بدر کے میدان میں اترتے ہیں، حضرت امام حسین کے لشکر کی تعداد صرف بہتر تھی، اکثریت تو دم سادھے خاموش بھیڑوں کے لشکر کی طرح ہوتی ہے ان پر کوئی فرعون قبضہ پا لے تو ظلم سہتی رہتی ہے، ا کثریت ہمیشہ غلّط ہوتی ہے تاریخ گواہ ہے کے حق اور سچ پر لوگوں کی تعداد ہمیشہ بہت کم ہوتی ہے مگر آخر میں فتح انھیں ہی نصیب ہوتی ہے. پاکستان کی مثال سامنے ہے یہاں بھی اکثریت کی جہالت کی وجہ سے ہی مسائل ہیں یھ اکثریت ا ن جاہل اور گنوار لوگوں کو ووٹ دے کر اقتدار میں لاتی ہے اور بھگتنا سب کو پڑتا ہے، یھ حقیقت ہے کے ا کثریت ہمیشہ غلط ہوتی ہے کبھی اپنی عملی ز ندگی میں اسکا مظاہرہ دیکھ لیجئیے گا کسی سنگین معاملے میں آپکو بھی اندازہ ہو جائے گا .

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

2 Responses to میجورٹی از اتھارٹی

  1. گیوں اور گھن میں فرق۔۔۔۔۔ ایک ہی ھے جس کی ڈیمانڈ زیادہ ھو گی وہی طاقتور ھو گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s