حساب زیست کا بس اتنا سا گوشوارھ ھے۔ تمہیں نکال کے دیکھا باقی سب خسارھ ھے۔


کبھی کبھی سوچتا ہوں کے اگر ہم مسلمانوں کی زندگی سے کافروں کو نکال دیا جائے تو ہمارا معاشرہ کیا منظر پیش کرے گا ؟ سواری کے لیے اونٹ خچچر اور گھوڑے استعمال کئیے جایا کریں گے، کیسا عجیب منظر ہوگا کمپنی کا ڈائیریکٹر خچچر پر سوار ہو کر آفس آیا کرے گا، مینجر حضرات اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہو کر آیا کریں گے ، ہم جسے تو پیدل ہی جایا کریں گے آفس ، کام کی نوعیت بھی بدل جائے گی، کمپیوٹر پر ای میل کے بجائے کبوتر کے پر سے خط لکھے جایا کریں گے، کورئیر کمپنیز جہاز کے بجائے کبوتروں کے ذریے لیڑرز بھیجا کریں گی، کچی مٹی کی عمارتیں ہونگی تو زیادہ بلند بھی نہیں ہونگی اسلیے لفٹ کے استعمال کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوگی، بجلی ہی نہیں ہوگی تو تمام الیکٹرونکس آئیٹمز کی بھی ضرورت نہیں رہ جائے گی، گرمیوں میں ائیرکنڈیشنڈ اور ملّت فین کی جگھ ہمّت فین ہوا کرینگے جس کے ہاتھ میں جتنی طاقت اور ہمّت ہوگی وہ اتنی ہی زیادہ ہوا لیا کرے گا. چرخے سے کپڑا بنا جایا کرے گا ، ایک شپمنٹ گمان غالب ھے تقریبن تین سے چار سال میں یورپ پہنچ جایا کرے گی کتنی خوش حالی ہوجائے گی نہ ہر طرف، چپل سنگھا کر مرگی کا علاج ہوا کرے گا، کینسر اور دوسرے موزی امراض کے لیے ڈاکٹر بنگالی عامل سے جھاڑ پھونک کروائی جایا کرے گی، آپریشن کی تکلیف سے بھی نجات مل جائے گی ہمیں، جسے بھی موزی مرض لا حق ہوگا اسے جن بھوت کا سایا کہہ کر علاج کا خرچہ بچا لیا جایا کرے گا، آنکھوں میں موتیا نہیں پورا موتیا کا درخت اگ آیا کرے گا، موتیا کے معاملے میں ہم خود کفیل ہو جائیں گے ساری دنیا ہم سے مانگنے آیا کرے گی موتیا. جوانی میں حج کرنے کے لیے پچپن میں ہے خچچر پھ سوار ہو کر سفر پھ نکلنا ہوا کرے گا ، جوان بڑھاپے میں پہنچیں گے، اور بوڑھے حضرات کو تو سفر کے دوران ہی حج کی نیت کا ثواب مل جایا کرے گا، بغیر لاوڈ اسپیکر کے ملا حضرات مذہبی منافرت نہیں پھیلا پائیں گے، مولانا فضلل رحمان جو کے قوم کو دیکھانے کے لیئے کافروں کے خلاف ہیں اور غیرت پھر بھی نہیں آتی انہیں کے ان کے دل میں کافروں کی ہی ایجاد کردہ بیٹری لگی ہوئی ہے وہ بھی کافروں کا احسان لینے سے بچ جائیں گے، اور جلد اس دنیا سے رخصت ہو کر پوری پاکستانی قوم پر احسان عظیم کریں گے، کراچی والوں کو تو ہر روز حب ڈیم سے پانی بھر کے لانا پڑا کرے گا کیوں کے پانی سپلائی کرنے والی مشینیں ہی نہیں ہونگی، بار بار گھڑی دیکھ کر لوگوں کو انکی اوقات یاد دلانے سے بھی جان چھوٹ جائے گی قوم کی، سورج کی گردش سے ہی وقت کا اندازہ لگا لیا کریں گے، ایٹم بم کی جگھ ہمارے پاس منجنیق ھوتی انڈیا کے بم کے جواب میں ہم منجنیق سے پتھر برساتے جی تھری گن کی جگھ ہمارے فوجی جوانوں کے پاس تیر اور بھالے ھوتے اور ملا حضرات ہیمیں آج بھی یھ ہی تلقین کر رہے ھوتے ، مومن ھے تو بے تیغ بھی لٹرتا ھے سپاہی۔ پورے عرب کی زمین کے نیچے جو خزانے الله نے دیے ہیں جنھیں ہم تیل کہتے ہیں اسکی حیثیت بھی کیچڑ سے زیادہ نہیں ہوگی، پورا عرب دو ہزار دس میں بھی انیس سو پینسٹھ سے پہلے کا ہی منظر پیش کرے گا ، اگر کسی کو عرب کی ترقی دیکھنی ہو تو سعودیھ عرب کی انیس سو پینسٹھ سے پہلے کی تصویریں دیکھ لے سعودیھ عرب اور پورے عرب کی یھ بغیر پلر کی نام نہاد ترقی بھی کافروں کی ہی دین ہے، عرب کی زمین کے نیچے کیا کیا خزانے پوشیدہ ہیں یھ بھی انھیں کافروں نے ہی بتایا تھا. ورنہ ان کے لیے یہ تیل کیچڑ سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا تھا. کبھی سوچیے گا کے کافروں کو ہماری زندگی سے نکال دیا جائے تو کیا بچے گا ؟ نہ یھ کمپیوٹر بچے گا نہ یھ بلاگ بچے گا اور نھ ہی قوم کو آگاہی دینے والا کوئی بچے گا.

Advertisements
This entry was posted in امت مسلمہ. Bookmark the permalink.

16 Responses to حساب زیست کا بس اتنا سا گوشوارھ ھے۔ تمہیں نکال کے دیکھا باقی سب خسارھ ھے۔

  1. دوست نے کہا:

    سر جی ارب نہیں عرب۔

  2. ارے۔۔۔ فکر پاکستان صاحب ابھی بھی یہی کچھ نہیں ھے کیا؟کیا پاکستان بہت ترقی کر گیا ھے؟ پچھلے سال جب پاکستان گیا تھا تو جیسا آپ نے لکھا ایسا ہی تھا۔

  3. رابیل نے کہا:

    ایک نظریہ جو مسلمانوں میں پایا جاتا ہے وہ یہ کہ اسلام سادگی سے زندگی گذارنے کا درس دیتا ہے ۔۔ اور یہ سب سہولیات جس کے لئے غیر مسلمز سرگرداں رہتے ہیں وہ سب عیاشی کے زمرے مین اتی ہیں اور زندگی کو غیر فطری بناتی ہیں ۔۔ شاید یہی منفی سوچ مسلمز کو اس میداں میں آگے بڑھنے سے روکے ہوئے ہے ۔۔ لیکن اس نظریے کے برعکس مسلمان ان ایجادات کی افادیت کے باءث ان کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ۔۔ یعنی بنی بنائی ملنے کے بعد انہیں ان کا غیر فطری ہونا یا عیاشی کے زمرے میں آنا یاد نہیں رہتا ۔۔

  4. ڈفر - DuFFeR نے کہا:

    اچھا ہی تھا جی
    نہ یہ بلاگ شلاگ ہوتے
    اور نہ ہی پھڈے بازیاں ہوتیں

  5. کاشف نصیر نے کہا:

    رات کی اخری پہر میں، نیند کی جھرمٹ میں اسی طرح کے خیال جنم لیتے ہیں۔ صاحب اگر گورے نہ ہوتے تو کوئی اور سرپھرا یہ سر کا درد ٹائپ کا سامان جمع کردیتا آپ کیوں ہلکان ہورہے ہیں۔ مسلمان پہلے ذہنی غلامی سے آزاد ہوکر صحیح والے مسلمان تو بن جائیں پھر کچھ ایجاد بھی کرلیں اور دریافت بھی۔

    ویسے پاکستان کی فکر میں یہ مت بھول جائیں کہ انسان اس عالم اسباب ہمیشہ میں رہنے کے لئے نہیں آیا، اسے یہاں سے لوٹ کر واپس ایک دوسری دنیا میں جانا ہے ہمیشہ اور ہمیشہ کیلئے اس لئے بہتر ہے کہ وہاں کی "فکر” زیادہ کی جائے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      کاشف آپ بھی اپنے کیئیے ہوئے تبصرے کے جواب کے لیئے کراچی کا بھائی کو دئیے گئیے جواب کو پڑھ لیں تو شاید آپکو آپکئ بات کا جواب مل جائے، کے دنیا کی فکر ہی اصل میں آخرت کی فکر ھے انسانیت کی خدمت ہی اسلام کا مغز ھے اور خود اندازہ کر لیں کے آج انسانیت کی خدمت کون کر رہا ھے ھم یا کافر۔

  6. karachi ka bahi نے کہا:

    السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
    ( مسلمانوں ) تمہارے لۓ ابراھیم علیہ السلام میں اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں میں بہترین نمونہ ہے ، جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا یہ کہہ دیا کہ تم تو تم سے اور اللہ تعالی کے علاوہ تم جن جن کی عبادت کرتےہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں ، تم تمہارے (عقائدکے ) منکر ہیں جب تک کہ تم اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایما ن نہ لے آؤ ۔

    ہمارے اور تمہارے درمیان بغض و عداوت و دشمنی ظاہر ہوگئ ، لیکن ابراھیم علیہ السلام کی اپنے باپ سے اتنی بات تو ہوئ تھی کہ میں تمہارے لۓ ضرور استغفار کروں گا اور تمہارے لۓ مجھے اللہ تعالی کے سامنے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہيں ہے ، اے ہمارے رب ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی لوٹنا ہے ۔

    اے ہمارے رب تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال ، اور اے ہمارے رب ہماری خطاؤں اور غلطیوں کو معاف کر دے ، بیشک تو ہی غالب و حکمت والا ہے ، یقینا تمہارے لۓ ان میں اچھا نمونہ ( اور عمدہ پیروی ہے خاص کر ) ہر اس شخص کے لۓ جو اللہ تعالی اور قیامت کے دن کی ملاقات کی امید رکھتا ہو ، اور اگر کوئ روگردانی کرے تو اللہ تعالی بالکل بے نیاز ہے اور تعریفات کے لائق ہے } الممتحنۃ ( 4 – 6 )

    تو جب یہ دشمنی اور انفصال ثابت ہوچکا ہے ، اور پھر عداوت ودشمنی اور برات کا اظہار اور جو کچھ ا س لوازمات ہیں مثلا اللہ تعالی کے دشمنوں سے جھاد وقتال کرنا ایک ایسا امراور معاملہ ہے جس سے کوئ مفر نہیں اور نہ ہی اسے ترک کیا جاسکتا اور اس سے علیحد ہ نہیں ہو ا جاسکتا ۔

    توجب اللہ تعالی کی یہ سنت اور طریقہ اور اس کی حکمت کا تقاضہ ہے کہ کچھ مومن اور کچھ کافر ہوں تو اس بغض و عداوت اور دشمنی کا وجود ضروری ہے ، اور پھر بات یہ ہے کہ آپ اللہ تعالی کی سنت و طریقے کو بدلہ ہو ا نہیں دیکھيں گے ۔

    یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ مسلمان کافروں سے دشمنی کررہے ہیں۔ عرب اقوام کا تیل زیادہ تر کفار ہی استعمال کررہے ہیں اور ان کی آمد افغانستان اور پاکستان میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
    ماشاء اللہ ہم سب نام سے مسلمان ہیں کام سے نہیں اور مسلمان ہو بھی کیسے سکتے ہیں۔ مزاروں کو دین و ایمان بنالیا۔پیر فقیروں کو صوفیاء (یہ لفظ اسلامی لغت میں نہیں)بنالیا۔مسجدیں کو گانے کی جگہہ بناڈالی اب تو ڈانس کو بھی شامل کرلیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے کہ گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔ اور ایک حدیث کا مفہوم ہےکہ فرض نمازیں مسجد میں اور باقی نمازیں گھر میں ادا کرنا افضل ہے۔
    اب آپ دیکھیں یہ قوالی کی محفلیں، نعتوں کی محفلیں، مرد اور عورت کا ایک جگہہ اکٹھا ہونا۔ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ حکم دیا تھا مومن عورتیں روڈ پر سے ایک طرف ہوکر چلیں علیحدہ ہوکر اور مومن مردوں کو حکم دیا تھا کہ بیچ سے چلیں۔ اب جو طریقہ نام نہاد مسلمانوں نے اپنائے ہوئے ہیں کیا وہ میل کھاتا ہے شروط اسلامی سے ? دوسری طرف دیکھیں تو کافر، اپنے عبادت گاہوں میں گانا(بجھن، جیسس سونگس)گاتے ہیں اب تو کلاسیکل سے بدل کر ڈسکو بھی شروع ہوگیا۔ جو ہماری مسجدوں کا طریقہ نہیں۔
    آخرت کو دنیا میں جی کر ہی حاصل کرنا ہے حساب دنیا کا ہی دینا ہے اور اپنا حساب دینا ہے تو زرائع کا استعمال منع کہاں لکھا جو آپ نے تلخ لہجے میں لکھ ڈالی۔ کیا اللہ کی دی ہوئی چیزوں میں مسلمانوں کا کوئی حق نہیں، کیا مسلمان کافروں سے چیزیں مفت میں حاصل کررہے ہیں، ان سب کا جواب نہیں ہے ہم اس کی بڑی بڑی قیمتیں دے رہے ہیں کیا آپ بھول گئے ایف 16 کےلیے امریکہ نے کیا تھا جب ہم نے میزائل بنالیے اور چائنہ کے ساتھ مل کر جے ایف 17 ٹھنڈر بنالیا تو اب جاکر ہمیں ایف 16 کا کہہ رہے ہیں۔
    مجھے ایسا لگتا ہے کہ آپ نےبہت سی کتابیں پڑی ہیں۔
    افسوس ایک کتاب کو پڑھ کر سمجھ لیتے اور اس کے مطابق بات کرتے تو اچھا ہوتا۔
    آج دنیا میں جو بھی سائنس کی ترقی ہے وہ مسلمانوں کی ابتدائی وجہ ہے۔
    عالم ندوٰی رحمہ اللہ نے ایک کتاب لکھی تھی جس نے عرب دنیا کو خیران و پریشان کردیا تھا اسکے ٹائٹل کا ترجمہ یہ ہے۔ مسلمانوں کے زوال سے دنیا نے کیا کھویا۔
    جب تک مسلمانوں کے اندر توحید تھی اور طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا تو اس وقت بڑے بڑے نام سائنسی میدان میں تھے ہسپانیہ میں تو یہودی اور یوروپین کافر پڑھنے آتے تھے۔ اب یہ نہ کہنا کہ ہسپانیہ کونسا ملک ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      وعلیکم السلام، میرے بھائی افسوس آپ نے بھی وہی روایتی عامیانہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا جس کی توقع کسی بھی ٹٹ پونجئیےملا کی سنگت میں کچھ وقت گزارے انسان سے کی جا سکتی ہے، آپ بات کا رخ کہاں سے کہاں لے گیے. میری پوسٹ میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں ہے کے مسلمان کافروں سے دشمنی کر رہے ہیں، اور عرب ممالک کے جس تیل کی آپ بات کر رہے ہیں کے سب سے زیادہ کافر ہی خریدتے ہیں تو اپنی معلومات میں یہ بھی اضافھ کر لیں کے اس سے بے غیرتی اور بےشرمی اور جہالت کی کیا بات ہوگی کے تیل عرب کی زمینوں سے نکل رہا ہے مگر عرب کے شیخوں کی جہالت اور عیاشیوں کی وجہ سے تیل کا ٹوٹل کونٹرول کافروں کے ہاتھ میں ہے، اوپیک نامی ادارہ کنٹرول کرتا ھے جس پر عیاش شیخوں کا نہیں بلکے کافروں کی اجاراداری ھے وہ اپنی مرضی کا ریٹ اوپن کرتے ہیں ھر روز، لعنت ہے ان شیخوں پر جن کی زندگی کا مقصد ہی صرف سو سو شادیاں کرنا اور لاس ویگاس کے جوئے خانوں میں جوئے کھیل کر پیسھ برباد کرنا ہے، ان جاہلوں کو کیا پتا کے ٹریڈ کیا ہوتی ہے ویژن کسے کہتے ہیں عشروں کے پار کیسے دیکھا جاتا ہے انہیں اونٹوں کی ریس سے ہی فرست نہیں تو یھ کیا سوچیں گے، الله کی مہربانی سے ان کو سب کچھ مل گیا ہے انکا اپنا کیا کمال ہے اس میں ؟ یھ تو وہ بے غیرت ہیں کے اس مقدس زمین کی حفاظت بھی خود نہیں کر سکتے جس کے محافظ کھبی خالد بن ولید اور طارق بن ذیاد تھے یھ بے غیرت تو اس زمین کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے اپنے ملک کی حفاظت کے لیئے بھی یھ امریکھ یعنی کافروں کے ہی محتاج ہیں، آپکی معالومات بہیت ہی محدود ہیں اپنا مطالعھ بڑھائیے پہلے پیلے، میری پوسٹ کا مغز آپ نے سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی اور بات پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیے آپ، مزاروں مسجدوں اور پتا نہیں کیا کیا آپ مسلک اور فرقھ پرستی مہیں کہاں سے کہاں نکل گئے مسلک پرستی اور فرقھ پرستی سے باہر نکلیں اگر سچ کی تلاش ھے تو۔، میرے بھائی دنیا کی فکر ہی آخرت کی فکر ہے دنیا ٹھیک ہوگی تو ہی آخرت ٹھیک ہوگی، جو یھ معمولی سو پچاس سال کی زندگی کا فاتح نہیں بن پایا وہ اس لافانی دنیا کا فاتح کیسے بن سکتا ہے ؟ کافر کوئی الگ سے آسمان سے نہیں اترے الله نے مسلمانوں کو بھی ہی دماغ دے کے بھیجا ہے جو کافروں کو دے کے بھیجا ہے، فرق صرف یھ ہے کے ہم اسکا منفی استعمال کرتے ہیں اور کافر مثبت استمعال کرتے ہیں، اصل معاملہ علم اور جہالت کا ہے اور جو آپ نے قرآن کو پڑھنے کی بات کی ھے تہ پہلے آپ خود قرآن کو سمجھ کر پڑھیں پھر بات کعجیئے گا، قران میں سترہ سو چھیاسٹھ جگا تسخیر کائنات کا حکم ہے، بار بار الله بندے سے کہ رہے ہیں کے تم غور کیوں نہیں کرتے تم تفکر کیوں نہیں کرتے تم تدّبر کیوں نہیں کرتے ہم نے اس کائنات میں سب کچھ رکھا ہے غور کرو تلاش کرو، ہمارا کوئی ملا ہمیں یہ والی بات تو بتاتا نہیں ہے بس مسلک پرستی فرقہ بندی میں الجھائے رکھتا ہے، اور آپ جیسی ذہنیت کے لوگ ایسے مللاؤں کا ایندھن بنتے ہیں.، کبھی سوچا ہے کے ابّا جی کے ہارٹ کا آپریشن ہوتا ہے تو کیسی خوشی ہوتی ہے کبھی دھیان گیا اس انسان کی طرف جس نے یہ ہارٹ کا آپریشن ممکن بنایا ؟ کبھی فریج میں سے ٹھنڈا پانی نکال کر پیتے وقت خیال آیا کے شکریہ ہی ادا کر دیں اس انسان کا جس نے اتنی گرمی میں ہم جسے جاہلوں کے لیے ایسا ٹھندّ پانی کرنے والی مشین بنائی، اس پھ ڈھٹٹائی یہ کے ہم تو پیسے دے کر خرید تے ہیں ہم یوزر ہیں اور وہ پروڈیوسر ہیں یہ ہی وہ فرق جو آج پوری مسلم امّھ اور کافروں میں ھے تو نتیجہ بھی دیکھ لو پھر اسکا پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہیں مسلمان اور وہ نئی نئی ایجادات کر کے حکمرانی کر رہے ہیں ہم پر اور ہم بھی پلے درجے کے بے غیرت ہیں کے پھر بھی نہیں سمجھتے زمینی حقائق کو ، انسانیت کی خدمات تو وہ کر رہے ہیں اگر وہ کلمہ گو ہو جائیں تو جنّت پھ حق صرف انکا ہی ہوگا ہم تو صرف اور صرف حضور پاک صلی اللہ علیھ وسلم کے امتی اور کلمہ گو ہونے کی وجھ سے جائیں گے جنّت میں ورنہ مسلمانوں کے اعمال میں ایسی کوئی چیز بھی نہیں بچی جس سے وہ جنّت کے دعوے دار بن سسکے، قران میں جو حکم الله نے کل انسانیت کو دیا تھا وہ ہم نے نہیں اپنایا علم کو نہیں اپنایا ہم نے ہم نے جہالت کو اپنا لیا انہوں نے قران کے اس حکم کو سمجھا اور علم کی اہمیت کو جانا اور آج وہ مقام پا لیا ہے کے جسے مسلمان ہزاروں سال بھی نہیں پا سکیں گے اگر اب بھی ذہنی کیفیت یھ رہی جسکا اظہار آپ نے کیا ہے تو. اور آپکی اس بات میں بھی کوئی دم نہیں ھے کے اسپین میں کافر مسلمانوں سے پڑھنے آتے تھے یھ کوئی ایسی بات نہیں ھے ایسے تو جنگ بدر کی فتح کے بعد جو کفار قیدی بنا کے لائے گئیے تھے ان سے آپ صلی اللہ علیھ وسلم نے فرمایا تھا، جو قیدی پڑھا سکے دس مسلمانوں کو وہ آذاد ھوگا، ایک تو اس سے دنیاوی علم کی اہمیت کا اندازہ ھوتا ھے کے کتنا ضروری ھے مسلمانوں کے لیئے دنیاوی علم کیوں کے ظاہر سی بات ھے دینی علم سیکھانے کے لئیے تو کہھ نہیں سکتے تھے آپ صلی اللہ علیھ وسلم کافروں سے۔ ھوسکے تو قرآن کے مغز کو سمجھئیے اور ان روائیتی ملاوں سے جان چھٹرائیے اور خود پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کعجئیے اگر چھاہتے ہیں کے حق اور سچ ٹھیک سے سمجھ آئے۔ اور آج بھی جو نصاب آپ پڑھ کر اس قابل ہوئے ہیں کے اپنی روزی روٹی عزت سے کما سکیں تو یھ نصاب بھی کسی وزیرستان کے مدرسے کا بنایا ہوا نہیں ھے، یھ بھی ان کافروں کا ہی وضع کردہ ھے جس کی بدولت آج آپ اور ہم بلاگ لکھنے اور یھ تجزیھ کرنے قابل ہوئے ہیں۔

  7. karachi ka bahi نے کہا:

    گزشتہ سے پیوستہ
    اور ایک بات آدم علیہ السلام سے لے قبل نوح علیہ السلام تقریبا دس صدی تک شیطان اپنا کام اچھی طرح انجام دے نہیں پایا تھا اور اس وقت پوری قوم ایک قوم تھی یعنی توحید کو اپنائے ہوئے قوم قوم نوح میں بہت ساری خرابیاں آنے کے بعد اللہ نے نوح علیہ السلام کو اپنے دین حق پر معمور کیا۔ جیساکہ سب مسلمانوں کو معلوم ہے قوم نوح علیہ السلام کو االلہ پاک نے پانی میں ڈبو دیا اور بچا لیا تو صرف دین حق والوں کو۔
    آج بھی اگر ہم غیروں کی پیروی میں لگے رہیں گے تو ہمیں بھی وہ عذاب ملے گا جو اللہ کے غداروں کو ملتا ہے۔ آج جو مسلمانوں پر مصیبتوں کا پہاڑ ہے وہ سب ہمارے اپنے بھیجے ہوئے اعمال ہے۔
    غور کیجیے۔

  8. عثمان نے کہا:

    فونٹ کے لئے میں نے آُ پ کو ای میل بھیجی ہے۔ ای میل چیک کریں۔ اگر کوئی سوال ہو تو پوچھ سکتے ہیں۔

  9. crazypakistanis نے کہا:

    hello bhai kiya aap non-muslims ko hur ijaad ka bani mantey hain aapney to islamic history to door ki baat kesi history ki book ko nahi read kiya,aapney iqbal ke sher ka bhi mazak ura dhala iqbal ko un non-muslims ne hi doctor keh ke izet di thi kiya aap iqbal se ziada door-undesh hogay hain aap doobara se sher read kerain apney parents se meaning poochain inhallah peta chel jaye gha ke ke aaj ka muslim peechay kyun hai aur apney parenst se yeh bhi zaroor poochna ne ke agher shiekh boorey kaam kerta hain to unka thukana konsa hoga?yaar ziada kuch nahi bolna chahta kyune aap mujay bhi mulla keh ke hunsi main baat taal dain ghain,kesi ne sahi kaha tha ke kum baat main wazan hota hai baaki main aap pe chorta hoon is umeed ke saath ke aapka shumar un logon main nahi jinhey undha-ghoonga QURAN main kaha gyia hai

    • fikrepakistan نے کہا:

      میرے دوست جذباتیت اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے، حقیقت یھ ہی ھے کے پچھلے تقریبن پانچ سو سالوں میں کسی مسلمان کا کوئی کنٹریبوشن نہیں ہے دنیا کی ترقی میں، موجودہ دنیا میں ، میں اور آپ جو بھی سہولیات استعمال کر رہے ہیں اس میں کسی مسلمان کا کوئی ہاتھ نہیں یھ ہی حقیقت ہے ، اگر آپکو لگتا ہے کے ایسا نہیں ہے تو پچھلے پاچ سو سالوں میں کسی ایک مسلمان کا نام باتیں جس نے پوری انسانیت کو کچھ ڈیلیور کیا ہو. پھر آپ سے مزید بات ہوگی، اور جہاں تک رہی بات تاریخ کی تو بھائی میں نے پڑھ رکھی ہے تاریخ اسلام بھی اور تاریخ مسلمان بھی، لوگوں کو تو تاریخ اسلام اور تاریخ مسلمان کا فرق تک نہیں معلوم ہوتا، اور آپ نے جو علامہ اقبال کا حوالہ دیا ہے تو بھائی یہ بھی علامہ نے ہی فرمایا تھا کے. تھے تو وہ تمہارے ہی اجداد مگر تم کیا ہو ؟ ہاتھ پی دھرے ہاتھ منتظر فردا ہو. فردا آنے والے کل کو کہتے ہیں.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s