آنے والے دور کے انسان ہم سے جینا سیکھیں گے.


شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ھے۔ اگست آگیا، ہر طرف آزادی کے نغموں کی دھوم ہوگی، سیاسی نوٹنکی باز ہمیں غلام بنانے کے بعد آزادی کی اہمیت پر لیکچر دیں گے، جناح صاحب کا مزار جوکے اب صرف ڈیٹنگ کے لئے کارآمد رہ گیا ہے اکیس توپوں کی سلامی دی جائے گی، چلو جی ہوگئی آزادی، آج ہی ایک جگہ نغمہ سنا آنے والے دور کے انسان ہم سے جینا سیکھیں گے، کتنی صحیح اور سچی بات کہی ہے کسی نے، اس میں کوئی شک نہیں کے آنے والے دور کے انسان واقعی ہم سے ہی جینا سیکھیں گے مگر عبرت کے طورپہ، وہ انگشت بہ دندان رہ جایا کریں گے یہ سن کریہ پڑھ کر کے اکیسویں صدی تک بھی ہمارے اسلاف اس حد تک جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے کے ملاوٹ کرتے تھے، جھوٹ دھوکا فریب کرتے تھے، آدھی زندگی مسلے پیدا کرنے اور باقی کی آدھی زندگی ان مسلوں کا حل ڈھونڈھنے میں گزار دیا کرتے تھے، پانچوں وقت کی نماز تو پڑھتے تھے مگر سگنل توڑنے جیسے سنگین جرم کو گناہ ہی نہیں سمجھتے تھے سوچ کا عالم یھ تھا کے نماز میرا دین اور عورت فروشی منشیات فروشی اور سود میرا پیشہ ، یہ تو شکر ہے کے قران کی زمےداری خود الله نے اپنے زمے لے رکھی ہے ورنہ ہم تو وہ کنجر لوگ ہیں کے تاریخ اسلام اور تاریخ پاکستان کی طرح قرآن میں بھی رد و بدل کر دیتے.
وہ یقیناً ہم سے ہی جینا سیکھیں گے کے صفائی نصف ایمان ہونے کے باوجود یہ لوگ غلاضت کا ڈھیر تھے، وہ سیکھیں گے ہم سے کے دور جہالت کے لوگ تو بچیوں کو زندہ دفنا دیا کرتے تھے، مگر یہ کیسے اکیسویں صدی کے لوگ تھے ڈھائی سال کی بچی کے ساتھ زنا کے مرتکب ہوتے تھے ان سے تو بہتر وہ کفّار تھے کے وہ یک لخت بچوں کو موت تو دے دیا کرتے تھے مگر یہ تو ان سے بھی بڑے درندے تھے کے بچیوں کو نہ موت دیتے تھے نہ جینے دیتے تھے زندگی بھر کے لیے تل تل مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیا کرتے تھے. بیشک وہ ہم سے ہی سیکھیں گے کے یہ نجس لوگ اپنی حوس کے لیے معصوم بچے بچیاں تو دور بے زبان جانوروں تک کو نہیں چھوڑتے تھے.
بیشک وہ ہم سے سیکھیں گے کے یہ وہ عظیم کنجر تھے کے جن کے سامنے غریب اور لاچار مائیں بہنیں فقط دو وقت کی روٹی کے لیے عصمت فروشی پر مجبور تھیں اور اس کے باوجود صاحب ثروت لوگ لاتعداد عمرے لاتعداد حج کیا کرتے تھے، جہیز جیسی لعنتی چیز منہ سے مانگ کر لیا کرتے تھے ایسی ایک لڑکی کو تو میں خود جانتا ہوں جس نے اپنی چار بہنوں کی شادی کرنے کے لیے خود کو بازاری عورت میں تبدیل کرلیا ، کس بات کے ہمارے حج کس بات کے ہمارے عمرے کس بات کی ہماری نمازیں بیکار ہے سب بیکار ہے دین کا مغز سمجھے بغیر عبادت صرف اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اور کچھ بھی نہیں. یقیناً آنے والے دور کے انسان ہم سے جینا سیکھیں گے یقیناً آنے والے دور کے انسان ہم سے جینا سیکھیں گے.

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

11 Responses to آنے والے دور کے انسان ہم سے جینا سیکھیں گے.

  1. جب سیاست اور حکمرانی دین سے جدا ہو تو کچھ ایسا ہی ہوتا ھے۔
    بے حیائی کو بھی قرآن سے ثابت کر نے نہیں چوکتے۔
    وہی بات مانیں گے جو ان کے مطلب کی ھو گی۔
    جن کی اندرونی اور بیرونی پالیسیاں ہی غیر مختار ہوں۔
    کیسی آزادی کہاں کی آزادی۔

  2. Saad نے کہا:

    آپ ٹائپ کرنے کے بعد ایک بار پڑھ لیا کریں۔ جگھ اور جگہ، یہ اور یھ ، پیشھ اور پیشہ میں فرق ہوتا ہے۔ اسی طرح یقینن اور یقیناً میں بھی۔ املا کی غلطیوں پر قابو پائیں

  3. طالوت نے کہا:

    یہ کیا ظلم کر دیا ، لوگوں کے حج و عمرے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ۔ اسلام سخت خطرے میں ہے آپ مغرب کے متاثرین تو بس چاہتے ہیں کہ اب لوگ نماز روزہ بھی چھوڑ دیں ۔
    حیرت ہے ایسا کوئی تبصرہ کسی پکے مسلمان کی طرف سے نہیں آیا ۔ دین سارے کا سارا ہمارے مغزوں میں گھس چکا ہے ، تو اس کا مغز سمجھنے کا کیا مطلب ہوا بھلا ؟ بھائی جی جو مرضی کر لو ، ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ تباہ و برباد ہو جائیں گے مگر آباء واجداد کی غلطیوں کی پیروی جاری رکھیں گے۔
    وسلام

  4. طالوت جی فکر پاکستان کوئی ایسا ویسا لکھتے تو ہم بھائی بندی چھوڑ کر لتاڑنا شروع کر دیتے۔
    انہوں نے مغر ب کی غلامی کب سے شروع کر دی؟ لام اور غین کی غلطی تو نہیں؟

  5. کھول کر آنکھیں میرے آئینہ گفتار میں
    آنے والے دور کی اک دھندلی سی تعبیر دیکھ

    فرما ديا تھا علامہ اقبال نے ۔ کوئی نہ سمجھے تو کيا علاج

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s