حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ھوا ۔ کوئی ٹھرا نہیں حادثہ دیکھ کر۔


شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے، حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا . کوئی ٹھہرا نہیں حادثہ دیکھ کر. سیلاب کی تباہ کاریاں کسی طور بھی دو ہزار پانچ کے زلزلے سے کم نہیں ہیں، کیا وجہ ہے کے اس وقت لوگ یکجہ ہوگیے تھے تعصب وقتی طور پر ہی سہی مگر ختم ہو گیا تھا ہر خطے کا پاکستانی اشکبار تھا اپنی حثیت سے بڑھ کر امدادی کاموں میں حصّہ لے رہے تھے لوگ مگر آج کیا ہوگیا ہے قوم کو نہ وہ درد ہے نا وہ احساس ہے نا وہ اشکباری ہے نا وہ امداد کا جذبہ ہے افسوس کا اظہار صرف لفظوں کی حد تک ہے کوئی اپنے منہ کا نوالا اپنے بھوکے بھائی کے منہ میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہے نہ ہی میڈیا کا وہ کردار ہے جو اس وقت تھا نا ہی سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں وہ لگن نظر آرہی ہے جو اس وقت دیکھنے میں آئی تھی.                                                                                     حضرت شیخ سعدی سے کسی نے پوچھا آپ کس سے ڈرتے ہیں ؟ فرمایا میں دنیا میں دو چیزوں سے ڈرتا ہوں ، ایک الله سے اور دوسرا اس شخص سے جو الله سے نہیں ڈرتا. کیا پانچ سال میں ہم نے الله سے اتنا ڈرنا چھوڑ دیا کے اتنی بڑی تباہ کاری بھی ہمارے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑ پا رہی ؟ جانور اور درندوں سے بھی زیادہ بدتر ہوگیے ہم کے اس نازک گھڑی میں بھی قومیت لسانیت اور فرقہ بندی میں پڑے ھوئے ہیں ہم، اور کس ثانحہ کے منتظر ہیں ہم ؟ اس سے بھی زیادہ بڑے عذاب یا آزمائش کا انتظار ہے ہیمیں ؟ یا دکھ کو اس وقت دکھ سمجھیں گے ہم کے جب اپنی بہن کا سہاگ اجڑے گا ؟ تکلیف کو اس وقت تکلیف سمجھیں گے جب ہمارے اپنے ماں باپ بہن بھائی اس سیلاب کی نظر ہونگے ؟                        دنیا میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک. جو دوسروں کی غلطی سے سیکھتے ہیں.دو. خود غلطی کر کے سیکھتے ہیں.تین. جو خود غلطی کر کے بھی نہیں سیکھتے. ہم تیسرے درجے پر آگیے ہیں میری ان تمام لوگوں سے ہاتھ جوڑ کے گزارش ہے کے الله اور رسول کے واسطے جس حد تک بھی ہو سکے اپنے بھائیوں کی مدد کریں، ورنہ یاد رہے حادثے اندھے ہوتے ہیں ، کوئی بچے گا نہیں سب کا پتا جانتی ہے. کہاں گرانی ہے برق باد صباح جانتی ہے. جو گورنمنٹ پر اعتماد نہیں کرتا اسے چاہیے کے ایدھی یا پھر اور جو بھی ادارے متحرک ہیں ان کے پاس اپنے حصّے کے عطیات جمع کروا دیں قطرہ قطرہ کر کے ہی سمندر بنتا ہے۔ کیا ہم اس ابابیل سے بھی کمتر ہوگیے ہیں جو اپنی چونچ میں پانی لے کے جا رہی تھی تو اس سے کسی نے پوچھا کے کیا تیرے اتنے سے پانی سے یہ آگ بجھ جائے گی ؟ جواب دیا میں جانتی ہوں میرے اتنے سے پانی سے یہ آگ نہیں بجھے گی مگر الله کے سامنے سرخرو ہوجاؤں گی کے میں نے اپنا حصّہ ڈالا تھا. خدارا پانچ سال پہلے والا جذبہ اپنے اندر ایک بار پھر جگائیے اور اپنا حصّہ لازمی ڈالیے تاکے با روز حشر کم از کم اس ابابیل کے برابر تو کھڑے ہوسکیں ہم.

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

8 Responses to حادثے سے بڑھ کر سانحہ یہ ھوا ۔ کوئی ٹھرا نہیں حادثہ دیکھ کر۔

  1. Abdullah نے کہا:

    کراچی کے حالات خراب کرنے والے باہر سے آتے ہیں اس کا ثبوت یہ کالم ہے!
    http://www1.voanews.com/urdu/news/karachi-rains09aug10-100287444.html

  2. Abdullah نے کہا:

    سانحہ کو صحیح کر لیں!
    نیچے آپنے صحیح لکھا ہے ہیڈلائن میں گڑ بڑ ہے!

  3. آپ نے مجھے دُکھی کر ديا اللہ اور رسول کا واسطہ دے کر
    جس قوم کے دل ميں الل کا خوف اور رسول کی محبت ہی نہ رہی اسے کيا واصطہ دينا ؟
    ميں نے کسی باعمل بزرگ کا قول پڑھا تھا کہ مسلمان وہ ہے جو کھا کر سوئے تو اس کے اردگرد کوئی بھوکا نہ رہا ہو

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب آپکا دکھ بجہ ھے مگر ہم مایوسی بھی تو اختیار نہیں کرسکتے نہ، اللہ نے اندھیرا نام کی کوئی چیز تخلیق نہیں کی ھے یہ جو ہم اندھیرا دیکھتے ھیں رات کی شکل میں یہ درحقیقت روشنی کی عدم موجودگی ھے، اللہ نے صرف روشنی تخلیق کی ھے اور یہ اشارہ ھے غور و فکر کرنے والوں کے لئیے کے اللہ کی ذات سے مایوسی کفر ھے میں آپ ھم سب جو کچھ بھی کر سکتے ھیں کررہے ھیں نتیجہ اللہ پہ چھوڑ دیجئیے ھوگا ہی جو اللہ کو منظور ھے۔

  4. اے کے ملک نے کہا:

    مشکل کی اس گھڑی ميں ان چيزوں سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے کہ حکومت کيا کر رہی ہے يا اپوزيشن کيا کہہ رہی ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اپنے طور پر ان لوگوں کے لیے جو بھی تھوڑا يا زيادہ کر سکتے ہيں ضرور کرنا چاہيے۔ اگر کچھ نہيں تو اپنے بھائيوں کے لیے اس مشکل وقت ميں دعا ضرور کرنی چاہيے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا رحم کرے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے‘

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s