دین اور مذہب کے درمیان فرق


شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ھے۔
دین اور مذہب میں وہ ہی فرق ھے جو بہتے ہوئے دریا اور اس ہی دریا کے چند چلو پانی سے بھرے ہوئے گٹھرے میں ھوتا ھے، یعنی پانی تو وہ ہی ھے لیکن زمین و آسمان کے اس فرق کے ساتھ کہ تھوڑی سی غلاضت بھی گٹھرے کے پانی کو ناپاک کردے گی لیکن بے تحاشہ غلاضت بھی بہتے ہوئے دریا میں گم ھو کر اسکی پاکیزگی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ مذہب احاطہ کرتا ھے آپ کہ مذہبی عقائد کا جب کہ دین مکمل حیات کا احاطہ کرتا ھے جس میں دین و دنیا دونوں کی سرخروہی شامل ھوتی ھے۔
پہلے دین کو مذہب کا رنگ دیا گیا اور پھر مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا گیا۔ عبادات کو فقط جنت کے حصول کا ذریعہ بنا کر لوگوں کے دل و دماغ میں راسخ کرنا بھی دراصل مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف ھے، ورنہ یہ کیسے ممکن ھے کہ کپڑے کی تقسیم کے معاملے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر انگلی اٹھانے والوں کے وارث بلکے لاوارث آج جانورں کی زندگی گزارنے پر راضی ہیں، انقلاب اورئینٹڈ لوگوں کو ثواب اورئینٹڈ بنا دیا گیا۔
ایک سازش کے تحت خاص طور پہ برصغیر کے مسلمانوں کی ذہنیت کو زنگ لگایا گیا، ہم گورے کو کہتے ہیں کے اس نے ڈیوائڈ اینڈ رول کیا جب کہ حقیقت یہ ھے کہ ڈیوائڈ اینڈ رول تو ہمارے رہنماوں نے ہمارے ساتھ کیا ھے، پہلے دین کو مذہب بنایا پھر مذہب کے فرقے بنائے مسلک بنائے آپس میں نفرتیں پھیلائیں بھائی کو بھائی سے جدا کردیا، گورے نے کیا ھے دین کا یہ حال؟ گورے نے کہا تھا کہ مسلمان سے دیوبندی بن جاو اہل حدیث بن جاو اہل سنتی بن جاو شیعہ بن جاو؟ یار لوگ اس میں بھی یہود و ہنود کی سازش ڈھونڈ لیں گے۔
میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کے آخری خطبے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کے آج دین مکمل ھوگیا، تو جس دن دین مکمل ھوا اس دن کہاں تھے یہ سنی شیعہ اہل حدیث دیوبندی وغیرہ ؟ اجتہاد کا پہلو اپنی جگہ ھے اجتہاد ضروری ھے بدلتے دور کہ تقاضوں کے ساتھ ساتھ اجتہاد چلتا رہنا چاہییے مگر یہ قوموں کہ درمیان شر پھیلانہ یہ کسی طرح بھی جائز نہیں۔ کبھی سوچیں اس تفریق کا فائدہ کسے ھوا؟ عام آدمی کا تو صرف نقصان ھوا ھے اس کے لئیے یہ تمیز کرنا ہی محال ھے کہ کون صحیح اور کون غلط ھے؟ فائدہ صرف اور صرف ان مذہب فروشوں کا ھوا۔ آج کوئی نہیں بتاتا کے اپنے حق کے لئیے آواز اٹھانا عین اسلامی عمل ھے.
کم سے کم تنخواہ سات ہزار مقرر کی گئی ھے منہگائی کا یہ عالم کہ پندرہ بیس ہزار کمانے والا بھی اپنی جائز ضروریات پوری کرنے سے قاصر ھے، آپ کتنی ہی کفایت شعاری سے بجلی خرچ کریں مگر کم سے کم بھی بجلی کا بل تین سے چار ہزار آتا ھے جسکی تنخواہ ہی سات ہزار ھے یا اس سے کچھ زیادہ بھی ھے تو کوئی بتائے کہ وہ بجلی کا بل کہاں سے ادا کرے؟.
ایسی صورت حال میں ان مذہبی حضرات سے مسلے کا حل پوچھنے جاو تو تقوے کا درس دیتے ہیں، غور کریں جسکا بچہ بھوک سے بلک رہا ھوگا وہ بھلا کیسے تقوے کی طرف آسکتا ھے؟ بھوکے انسان کا تو کوئی مذہب ہی نہیں ھوتا، کہتے ہیں اندھیرے میں رہ لو کل کپڑے خریدنے کی سکت نہیں رہے گی تو یہ کہیں گے کہ بغیر کپڑوں کے بھی تو زندہ رہا جاسکتا ھے۔ یہ ریاست کی زمہ داری ھے کہ پہلے اپنے شہری کی روٹی، جان و مال، روزگار، عزت، انشور کرے اور پھر حدود نافض کرے، اسلامی حدود ایسے ہی نافظ نہیں ھوجاتیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہ دور میں ہر ہر چیز کا وضیفہ ملتا تھا عزت، جان مال روزگار انشور تھا یہ سب ملنے کہ بعد کوئی چوری کرتا تو اس پر حد لگتی تھی، قحط کے دوران حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ھاتھ کاٹنے کی سزا معطل کردی تھی فرمایا جب میں روٹی غزاء ہی نہیں دے سکتا تو مجھے حدود نافض کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔
یہ مفتی حضرات علماء حضرات آج ایک زبان ھو کر قوم کے اتنے سنگین مسلے پر کیوں آواز نہیں اٹھاتے آخر؟ لوگ اپنے معصوم بچوں سمیت خودکشیاں کر رہے ہیں مگر انہیں غیرت نہیں آرہی یہ سب آخر کیوں فتوی نہیں دیتے کہ پاکستان میں جو مہنگائی ھے عام آدمی کی انکم اس لحاظ سے بہت کم ھے جسکی وجہ سے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں سات ہزار یا دس پندرہ ہزار میں بھی عزت سے گزاراہ ناممکن ھے اسلیئے ایسے معاشرے میں اسلامی حدود نافض نہیں ھوتیں۔ باہر نکلو یا تو ان سیاستدانوں کہ ایوانوں میں گھس جاو یا سول نافرمانی کی تحریک چلاو، مگر یہ سب کون کرے گا؟ وہ جو خود حکومتوں کو بلیک میل کر کے اپنے اپنے پیٹ بھر رہے ہیں یہ سب بکے ھوئے ہیں یہ سب شامل ہیں ہماری بربادی میں، حمایت علی شاعر نے کہا تھا کہ، اور کیا کہوں رہزن کے بارے میں کھل کر۔ میر کارواں یاروں, میرکارواں یاروں۔ اللہ غارت کرے ان لوگوں کو جنہوں نے اسلام کو دین سے مذہب میں تبدیل کیا اور اپنے مفادات کی خاطر پوری قوم کو انقلاب اورئینٹڈ سے ثواب اورئینٹڈ بنا دیا, وہ وقت ضرور آئے گا جب ان سیاستدانوں کی اور ایسے مفاد پرست علماء اور مفتیوں کی جو حکومتوں سے فتوی نہ دینے کہ پیسے لے رہے ہیں, ان کی پگڑیاں نہیں، سر اچھالے جائیں گے انشااللہ، اللہ پاکستان میں وہ وقت جلدی لائیں آمین۔

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

8 Responses to دین اور مذہب کے درمیان فرق

  1. جاویداقبال نے کہا:

    بالکل آپ نےصحیح ترجمانی کی ہےلیکن اس کام کےلئےذہن بنانےپڑتےہیں قربانیاں دینی پڑتی ہےہم لوگ کواحتجاج کرناہوگاہرہرجگہ پراس چیزکوعام کرناہوگالوگوں کےذہنوں میں اس کاصحیح تصوربیٹھاناہوگا۔طاہرالقادری صاحب کی ایک تقریرمیں انہوں نےبھی یہی بات کہی تھی کہ اس بات کوجب تک ایک عام کی زندگی کانصب العین نہ بناسکیں گےاس وقت تک کوئی تبدیلی ممکن نہیں عام لوگوں میں یہ شعورجب تک نہیں آئےگاکہ ان کےساتھ ناانصافی ہورہی ہےیہ تبدیلی ممکن نہیں۔ اللہ تعالی ہم کوصحیح طورپردین اسلام کوسمجھنےاوراس پرعمل پیراہونےکی توفیق عطاء فرمائيں۔ آمین ثم آمین

  2. fikrepakistan نے کہا:

    جاوید بھائی تجزیہ کا شکریہ، جب تک ہماری قوم غیر جانیبدار ھوکر معاملات کا تجزیہ نہیں کرے گی اس وقت تک کچھ ممکن نہیں ھے شخصیت پرستی سے نکلنا ھوگا اور حق اور سچ کو سمجھنا ھوگا دھوکے باز چاہے میری قوم کا ھے میرے مسلک کا ھے یا میرا رہنما ھے اس سے جان چھڑانی ھوگی اور جو حق پر ھے سچ پر ھے چاہے وہ کسی بھی قبیلے کا ھے کسی بھی مسلک کا ھے اسکا ساتھ دینا ھوگا۔

  3. arifkarim نے کہا:

    دین ایک مذاق ہے اور مذہب ایک بہانہ۔ آج بھی یہ بیوقوف مسلمان ۱۴۰۰ پرانی یادوں میں کھوئے ہیں ہیں جبکہ باقی دنیا ۲۱ویں صدی پار کر چکی ہے۔ الو کے پٹھے۔

  4. محمد سعید پالنپوری نے کہا:

    پہلے دین کو مذہب بنایا پھر مذہب کے فرقے بنائے مسلک بنائے آپس میں نفرتیں پھیلائیں بھائی کو بھائی سے جدا کردیا،
    بھائی صاحب! دین میں اتنے سارے فرقے اور مسلک بن جانے پر آپ کا مولویوں کو لتاڑنا بجا ہے مگر تکوینی طور پر ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ حضور اپنی حیات ہی میں اپنی امت کے تہتر فرقوں میں بٹ جانے کی پیش گوئی فرما چکے تھے ۔ آج حضور کی بات حرف بحرف ثابت ہوچکی ہے جو کہ آپ کی نبوت پر دلیل ہے ۔
    میرا خیال ہے کہ ملاوں کو گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ اتنے سارے فرقوں میں صحیح فرقہ کونسا ہے؟ یہ سوال صحابہ نے حضور سے کیا تھا اور آپ صحیٰح فرقہ کو پہچانے کی کسوٹی اپنی امت کو دیکر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ کسوٹی ہے: ما انا علیہ و اصحابی۔ تفصیلی حدیث دیکھیں۔ ابن ماجہ ص:۲۷۸ مطبع ہندی۔ ہمیں اس کسوٹی پر پرکھنا سیکھنا ہوگا

    • fikrepakistan نے کہا:

      محمد سعید صاحب کسی حد تک آپ کی بات درست ھے،مگر یہ بات بھی ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بہت فخریہ یہ بات نہیں کہی تھی کیفیت افسوس کی ہی تھی۔

  5. محمد سعید پالنپوری نے کہا:

    میرا خیال ہے کہ حضور کے یہ بیان کرنے کا مقصد فخر کرنا یا افسوس کی کیفیت کا اظہار کرنا نہیں تھا بلکہ اس شدید اختلاف سے دوچار ہونے والوں کو لائحہ عمل دینا تھا کہ وہ اس کٹھن وقت میں اپنا ایمان کیسے بچائیں اور کھرے کھوٹے میں تمیز کیسے کریں

    • fikrepakistan نے کہا:

      محمد سعید صاحب ذرا شب ابی طالب یاد کیجیئے، طائف کہ بازار کا وہ منظر یاد کیجئیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر سے پاوں تک لہو لہان کردیا گیا تھا، وہ مصائب وہ تکلیفیں یاد کیجیئے جو دین اسلام کو نافض کرنے کے لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھیلیں انتی محنت اور اتنی اذیتیں جھیلنے کے بعد جب علم ھو کے آنے والے لوگ کیا حشر کریں گے میرے دین کے ساتھ تو کیفیت افسوس کی نا ھو یہ تو ھو ہی نہیں سکتا، بات بس اتنی ھے کہ خود کو اس فرقہ بندی سے جس حد تک بچا سکتا ھے انسان بچا لے، کہ دین اسلام کسی فرقے کا محتاج ھرگز نہیں ھے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s