بڑھتی ھوئی آبادی یا بڑھتی ھوئی بربادی؟


حدیث کا مفہوم ھے کہ، کثرت امت پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم فخر کریں گے۔ یہ حدیث اکثر اس وقت سنائی جاتی ھے جب کسی مولوی سے آپ منصوبہ بندی سے متعلق معلومات لیں.
حدیث سے انکاری کوئی بھی مسلمان نہیں ھوسکتا لیکن حدیث کو اس کہ مغز کے مطابق سمجھ کر ہی عمل کیا جانا چاہیئے۔ امت کا مطلب لوگوں کا ہجوم ھرگز نہیں ھے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق جو امتی کی تصویر بنتی ھے کیا وہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ کے ہجوم سے مشابہہ بھی ھے؟ امتی دنیا کو ڈلیور کرنے والا ھوتا ھے، صرف ڈلیوریاں کروانے والا نہیں.
اگر کسی کو یقین ھے کے اس کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ دس بچوں کا باپ بننے کہ بعد ان دس بچوں کو صحیح معنوں میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنا سکتا ھے تو یقیناً اسے دس بچے پیدہ کرنے کا حق ھے۔ لیکن پاکستان میں مشاہدہ اس کے برعکس ھے، یہاں وسائل ھونا نا ھونا میڑ نہیں کرتا، حدیث کو بغیر سمجھے اسے اپنی خواہش کے حق میں مان لینا زیادہ میڑ کرتا ھے۔
چائینہ کے علاوہ دنیا کے زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی ایک وجہ آبادی پر کنٹرول بھی ھے، یورپ میں زیادہ تر ممالک کی آبادی چار سے پانچ کروڑ ھوتی ھے آسٹریلیا رقبے کے لحاظ سے پاکستان سے کہیں بڑا ھے جبکہ آبادی اسکی پورے سندہ کی آبادی سے بھی کم ھے، ان کے ہاں بچہ کسی بھی زریع سے پیدہ ھو مگر دنیا میں آنے کے بعد وہ ریاست کی زمہ داری ھوتا ھے کے کیسے اسے ایک مہذب انسان بنانا ھے، وہ تعداد پہ نہیں استعداد پہ یقین رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم صرف تعداد پہ یقین رکھتے ہیں استعداد کے بارے میں تو کوئی سوچتا تک نہیں.
جس اوسط سے پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ھے اس لحاظ سے بیس سال بعد پاکستان کی آبادی تقریباً ڈبل ھوجاے گی، ایسا نہیں کہ پاکستان کے پاس وسائل کی کمی ھے مگر یہاں ایسا نظام ترتیب دیا گیا ھے کے یہ وسائل شروع سے ہی مخسوس ھاتھوں میں ہیں اور مستقبل قریب میں ایسے کوئی آثار نظر بھی نہیں آرہے کہ یہ وسائل عام آدمی تک بھی پہنچینگے۔
حدیث ھے کہ اپنے بچوں کو رزق کے خوف سے قتل مت کرو کہ رزق کا وعدہ اللہ کا ھے۔ اس حدیث کی روشنی میں جو لوگ اپنے بچوں کو قتل یعنی اسقاط حمل کرواتے ہیں وہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ھوتے ہیں، حدیث ھے کہ ایک انسان کی جان کی حرمت کعبہ شریف کی حرمت سے زیادہ ھے۔ اسلئیے حمل ھونے کے بعد اسطرح کا کوئی بھی عمل انسانی جان کا قتل ھے، اللہ نے انسان کو عقل دی ھے حدیث کا مفہوم ھے کے اللہ نے عقل بنانے کے بعد اس پر فخر کیا۔ ایسے کئی زریعہ ہیں جن پر عمل کریں تو نوبت حمل تک پہنچے ہی نہ۔
بدقسمتی سے ہم پاکستانی خود سے پڑھنے لکھنے کی کوشش نہیں کرتے بس جو مولوی نے کہہ دیا اسکو ہی دین مان لیتے ہیں اور کوئی بھی مولوی آبادی کے بڑھتے ھوئے اس اژدھام کو روکنے کی تبلیغ کبھی بھی نہیں کرتا وہ ہمیشہ اس کے برعکس ہی درس دیتا ھے مولوی حضرات ہمیں بتاتے ہیں کہ جو بچہ دنیا میں آتا ھے وہ دو ھاتھ اور ایک منہ ساتھ لے کر پیدہ ھوتا ھے، تو عقل کے اندھوں یہ بھی تو سوچو کے وہ جو دو ھاتھ ساتھ لے کر پیدہ ھوا ھے وہ دو ھاتھ تو پندرہ بیس سال بعد کمانے کے لائق ھونگے، منہ تو ماں کے پیٹ سے ہی غذا مانگتا ھے۔
جتنی مہنگائی آج ھوچکی ھے اس لحاظ سے تو پچیس تیس ھزار روپے کمانے والا بھی کوئی بہت اچھی تعلیم نہیں دے سکتا اپنے بچوں کو جبکہ ہماری اکثریت کی انکم زیادہ سے زیادہ بارہ سے پندرہ ھزار ھے، کیا تعلیم دے گا وہ کیا تربیت کر پائے گا وہ کیا بنا لے گا وہ زیادہ سے زیادہ اپنی اولاد کو؟ اور ایسی اولاد کیا دے پائے گی ملک و قوم کو ؟ وہ تو انسان کے درجے تک بھی نہیں پنیج پائے گا ہاں زیادہ سے زیادہ انسانوں کی فوٹو کاپی بن جائے گا وہ بھی غیر مصدقہ۔ اللہ ہم پاکستانیوں پر اپنا رحم فرمائیں اور اس عقل کو جسے بنانے کے بعد خود اللہ نے فخر کیا تھا، صحیح معنوں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

10 Responses to بڑھتی ھوئی آبادی یا بڑھتی ھوئی بربادی؟

  1. بی بی ۔ آپ نے سب کچھ درست لکھا ہے ۔ ہمارے ہاں زيادھ بچے ان لوگوں کے ہوتے ہيں جن کی آمدن کم ہوتی ہے ۔ اور دو شادياں کرنے والے بھی يا ان ميں سے ہوتے ہيں يا پھر بہت زيادہ دولتمند ۔ درميانے لوگ ايک بيوی اور کم بچوں سے گذارہ کرتے ہيں ۔
    مولوی کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہاں جتنے امام مسجد ہيں ان میں اکثريت اُن لوگوں کی ہے جنہيں محلے والوں يا محلہ کے کھڑپينچوں نے امام بنايا ہوتا ہے اور وہ مولوی نہيں ہوتے يعنی اُنہوں نے کسی دينی مدرسہ کی مطلوبہ سند حاصل نہيں کی ہوتی ۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے مولوی نما ہمارے ملک ميں پائے جاتے ہيں جنہيں علماء اور مشائخ کہا جاتا ہے ۔ ان ميں بھی زيادہ تر صرف حکومت يا بڑے لوگوں کے حق ميں فتوٰی دينے والے ہوتے ہيں اور ان کی تعليم واجبی ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو معاشرہ کو بہتر کرنے کی اُمنگ ہے تو کوشش کرے کہ مسجد کا امام صرف وہ بنے جس کے پاس مطلوبہ سند ہو ۔ ابھی تک اس سند کا نام درسِ نظامی ہے جو اپنی تمام تر خاميوں کے ساتھ بھی اگر لاگو کر دی جائے تو معاشرہ بہت بہتر ہو سکتا ہے

  2. fikrepakistan نے کہا:

    اجمل صاحب درس نظامی آٹھ سو سال پرانا نظام ھے جو کسی طرح بھی آج کے جدید نظام سے میل نہیں کھاتا،ضرورت تو اس درس نظامی میں ترمیم کی ھے جسے کرنے کے لئیے کوئی بھی تیار نہیں ھے، لیکن اگر اب بھی اس نظام میں تبدیلی نہیں کی گئی تو یہ نظام اپنی موت آپ مر جائے گا، اب وہ وقت گیا کہ جو ان فرقوں نے کہہ دیا اسے ہی دین مان لیا گیا، اب تبدیلی کی ھوا چل چکی ھے، کم لوگوں کو ہی صحیح مگر شعور بیدار ھونا شروع ھوگیا ھے، لوگ اب سوال کرتے ہیں عمل کرنے سے پہلے۔

  3. درسِ نظامی نہيں بلکہ درسِ نطامی کا نصاب بلاشُبہ پرانا ہو چکا ہے اور اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے مگر وہ تبديلی نہيں جو امرکی حکومت کے کہنے پر ہماری باجگذار حکومت لانا چاہتی ہے ۔ تبديلی نہ لانے کی وجہ علماء نہيں بلکہ اُس وقت سے آج تک کے حکمران ہيں ۔ تعليمی نصاب ميں تبديلی حکمرانوں کا کام ہوتا ہے ۔ ہمارے ملک کی يونيورسٹيوں ميں بھی وہی گھسے پٹے نصاب چل رہيں ہيں جو لارڈ ميکالے کی سوچ کے مطابق ترتيب ديئے گئے تھے
    the great object of the British Government ought to be the promotion of European literature and science among the natives of India thus promoting and establishing a permanent position for the use of English language in Indian educational institutions
    کے مطابق پونے دو سو سال قبل ترتيب ديئے گئے تھے

    دوسری بات يہ ہے کہ فرقہ بندی درسِ نظامی کے نصاب کی وجہ سے نہيں ہے کيونکہ اس ميں صرف قرآن و حديث کی تعليم ہے اور کچھ تاريخِ اسلام ہے ۔ درسِ نظامی دين کے عالم بنانے کيلئے نہيں تھا بلکہ ميجسٹريٹ اور جج بنانے کيلئے تھا مگر اس ميں دين کی بنيادی باتيں بالخصوص سزا و جزا کے حوالے سے شامل کی گئيں تھيں ۔
    فرقہ بندی کرنے والے يا تو حکمرانوں يا کھڑپينچوں کے پالے ہوئے ہيں يا پھر دين کے درس سے عاری ہيں
    جب تک ترميم نہيں کی جاتی تب تک آپ کيا کرنا چاہتے ہيں ۔ جس طرح ہمارے حکمران بدلتے ہيں تو ملک کا ہر منصوبہ بدل جاتا ہے عمارتوں اور سڑکوں کے نام بدل ديئے جاتے ہيں اس بہتری نہيں کہا جاتا تباہی کہا جاتا ہے ۔ درسِ نظامی کے نصاب ميں بھی ترميم کی ضرورت ہے اسے مسترد کرنا جاہليت کے مترادف ہو گا

  4. کاشف نصیر نے کہا:

    آپ سیدھی سادھی طریقے سے اپنے پرویزی پیش رو کی طرح حدیث کا کھلا انکار کرنے کی ہمت پیدا کیوں نہیں کرتے، آخر کب یہ نام نہاد روشن خیال قبیلے کے لوگ منافقت سے کام لیں گے؟

    آپ کیا شیخ الحیث ہیں جو تفسیر کرنے اور شرح لکھنے بیٹھ گئے، کتنا علم ہے قرآن، حدیث اور فقہ کا؟ پورا قرآن اور تمام احادیث پڑھ لیں، قرآن و حدیث کو پڑھا یا اسکا ترجمہ پڑھا؟ کیا آپ نے علم رجال پر کمان حاصل کرلیا؟ کون استاد ہے آپکا؟ خود سے کیا مطلب کیا خود پر وحی اترتی ہے۔ حدیث بیان کرنے کے لئے ایک حدیث کا علم بھی کافی ہے لیکن تعریف کرنے کے لئے گہرا مطالعہ چاہئے ہوتا ہے کیا وہ آپ اور میرے پاس ہے۔ ہماری چھوڑیں کیا وہ کسان کے پاس ہے، کیا بس ڈائیور، مزدور، سبزی فروش کے پاس ہے۔ تو پھر وہ خود سے کیا کرے؟ کیا اس پر وحی اترے گی؟

    جناب دین کوئی تجربے اور مشاہدے کا نام نہیں جو روز بروز بدل جائے اور جسکی نت نئی تعریف کرنی پڑے، دین احکامات کا مجموعہ ہے اور احکامات رسول اللہ صلہ اللہ و علیہ وسلم سے ہم تک پہنچے، براہ راست تو اللہ نے بھی ہم تک اپنا کلام نہیں پہنچایا، ہھر ہم تک جو اسلام پہنچا ہے وہ خود جناب رسول اللہ صلہ اللہ و علیہ وسلم سے براہ راست نہیں بلواسطہ یعنی سینہ با سینہ پہنچا۔ اب خود سے کیسے؟ کیا ہم پر وحی اترے گی؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      کاشف بھائی آپ معاملے کا رخ غلط سمت لے جاتے ہیں، قرآن حدیث سنت یہ سب اس وقت بھی تھے جب مسلمان آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کر رہے تھے، اس سے زیادہ سنہری دور اسلام نے نہیں دیکھا، تو کیا وجہ ھے کہ آج وہ ہی قرآن ھے وہ ہی حدیث وہ ہی سنت ھے مگر مسلمان سب سے پیچھے ھے؟ میں پھر آپ سے وہ ہی بات کہوں گا بھائی مادی ترقی اسلام میں کہیں منع نہیں ھے اسلام نے ہی تو مادی ترقی کا نظریہ دیا ھے جسے ھم نے یکسر بھلا دیا اور صرف ثواب اورینٹڈ ھو کر رہ گئے۔ میرے بھائی یہ جو بھی نظام ھے اس میں تشریحات غلط کر کے بتائی جا رہی ہیں دین کی۔ میں آپ سے پوچھتا ھوں آپ جس بھی عالم جس بھی مفتی کو مانتے ہیں ان سے مجھے جواب لا کر دے دیں کہ قرآن کا جو غور ہ فکر کا حکم ھے اس کی تبلیغ کیوں نہیں کی جارہی؟ قرآن کے اس حکم پر کفار ہی کیوں عمل پیرا ہیں ہم کیوں نہیں ہیں؟۔ ہیمیں صرف بعد از مرگ کی تبلیغ ہی کیوں کی جاتی ھے ؟ زندگی کے بارے میں تبلیغ کیوں نہیں کی جاتی؟ مادی ترقی کے بارے میں بات کیوں نہیں کی جاتی ؟ اللہ نے جو کائنات میں اسرار و رموز رکھے ہیں انہیں ڈسکور کرنے کے بارے میں تعلیم کون دے گا؟ اسکی تبلیغ کون کرے گا؟ بتا دیں آپ مجھے کے پاکستان کے کس مدرسے میں یا کس امام نے کس عالم نے اس پر بات کی ھے کوئی ریسرچ کی ھے کوئی تیر مارا ھے اس میدان میں؟ اپنے رہنماوں سے مجھے اس سوال کا جواب لا دیں آپ۔ یا پھر کھل کر اعلان کر دیں کے تدبر تفکر غور و فکر کائنات کے اسرار و رموز کا کہیں کوئی حکم نہیں ھے قرآن میں اور اگر ھے تو ھم نہیں مانتے ایسے کسی حکم کو۔

  5. Aniqa Naz نے کہا:

    کاشف نصیر صاحب، حدیث ہے کہ مسلمان مرد اورعورتوں کو شادی کی عمر پہنچنے کے بعد فورا شادی کرنا چاہئیے۔ اب ایک فی الفور کام تو آپ یہ کریں کہ فی الفور شادی کریں۔ دنیا میں بانجھ پن کی نسبت دس فی صد سے بھی کم ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں جو عورت شادی کرے گی وہ کم از کم ہر سال ایک کے حساب سے بیس پچیس بچے تو پیدا کر ہی لے گی چاہے بیسویں بچے کی پیدائیش پہ وہ جان سے جائے۔ اس صورت میں تو وہ شہید ہوتی ہے یہ بھی مولانا صاحب کی کوئ حدیث ہے۔ اب مردوں کی بچے پیدا کرنے کی شرح کے بارے میں، میں کچھ نہیں کہنا چاہتی۔ پیر پگارا صاحب اسی سال کی عمر میں بھی یہ کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔
    تو ان ساری باتوں سے قطع نظر، آپکے مستقبل کے کیا ارادے ہیں۔ ہم سب کب کھا پائیں گے آپکی شادی کی بریانی اوور بچے کے عقیقے کا پلاءو۔ بچوں کے عقیقے کے سلسلے میں آپ نے کسی فارم سے بکنگ کروالی ہے کہ نہیں۔ میں خود بھی سنجیدگی سے کاروبار کرنے کا منصوبہ بناتی رہتی ہوں ۔ ایسا کاروبار جس میں آمدنی کا مستقل ذریعہ برقرار رہے۔ اور مجھے یہ عقیقے کے بکروں والا پلان بڑا مناسب لگ رہا ہے۔ بس آپ ذرا اپنے مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کر دیں۔ کیونکہ اسی پہ اسکا دارومدار ہے۔ میرا خیال ہے کہ بچوں کی پیدائیش کے سلسلے میں صرف ایک ذمہداری بہت بڑی ہوتی ہے اور وہ ہے انکا عقیقہ۔ اس لئے نہیں کہ میں بکروں کے کاروبار میں دلچسپی رکھتی ہوں بلکہ اس لئے بھی کہ خواتین زیادہ تر گائینی کے شعبے سے منسلک ہیں اور جب تک طالبان کا طرز حکومت نہیں آجاتا۔ وہ اس ذریعے سے پیسے کماتی رہیں گی۔ سو اس طرح خواتین کو اس سے بڑا فائدہ ہے۔

  6. fikrepakistan نے کہا:

    محترمہ عنیقہ صاحبہ میں نے کاشف بھائی سے بہت ہی آسان سا سوال کیا ھے اب مجھے انتظار ھے ان کے جواب کا یہ جو انہوں نے اتنی لمبی تقریر کی ھے عالموں مولویوں مفتیوں اور شیخ الحدیث کے بارے میں نے تو مان لیا میں کم علم ہی نہیں جاہل انسان ھوں، تو بھائی آپ اس جاہل انسان کے سوال کا جواب ان سب پڑھے لکھوں سے لا کر دے دیں مجھے کہ قرآن میں سات سو پچاس سے بھی زیادہ مقام پر جو غور و فکر تدبر تفکر تسخیر کائینات کا حکم ھے اسکی کیا حقیقت ھے ؟ اسکی کیا تشریح ھے ان سب پڑھے لکھوں کے نزدیک؟ اور اگر یہ مانتے ہیں کہ قرآن میں تسخیر کائینات اور کائینات کے اسرار و رموز جاننے کے لئیے غور و فکر کرنے کے لیئے قرآن نے واضع حکم دیا ھے تو پھر یہ کاشف نصیر کے یہ سارے پڑھے لکھے قرآن کے اس حکم کی تشہیر و تبلیغ کیوں نہیں کرتے ؟ ریسرچ سینٹر کیوں نہیں بناتے؟ لیبارٹریز کیوں نہیں بناتے؟ قرآن بتاتا ھے کہ اللہ تعالی رب العلمین ھے، کفار نے قرآن کو سمجھہ کہ اللہ رب العلمین ھے تو اسکا مطلب ھے کہ اس دنیا کے علاوہ بھی کوئی عالم ھے، اور وہ نکل کھڑا ھوا دوسرے جہانوں کی تلاش میں وہ چاند تک پہنچ گیا، سیاروں تک پہنچ گیا غرض اسکی لگن سچی تھی تو اس نے دنیا کے علاوہ دوسرے جہان ڈھونڈ نکالے۔ بقول کاشف صاحب کے کہ مولوی علامہ مفتی اور شیخ الحدیث ھونا ہی قابلیت کی دلیل ھے تو بھائی یہ سارے قابل لوگ کیا کر رہے ہیں دوسرے جہانوں کی تلاش کے سلسلے میں؟ کفار تو دوسرے جہانوں سے معدنیات نچوڑ کے لا رہے ہیں دوسرے جہانوں سے، اور ایک یہ ہمارے پڑھے لکھے ہیں کے اس دنیا کو بھی ٹھیک سے نہیں ڈسکور کر پائے، سمندروں کے نیچے کتنے جہان آباد ہیں کیا کیا معدنیات رکھی ہیں اللہ تعالی نے انسان کی بھلائی کے لئیے یہ دنیا کو قاضی حسین احمد نے مولانہ فضلل رحمان نے یا کسی مولانہ سلفی نے بتایا ھے؟ پچھلے پانچ سو برس میں کسی ایک عالم کسی ایک مفتی کسی ایک شیخ الحدیث کا نام بتا دیں جس نے اس میدان میں کوئی تیر مارا ھو۔ کاشف صاحب کی نظر میں تو یہ سب یہ دلیل ہیں نہ ذہانت کی عقلمندی کی پڑھے لکھے ھونے کی دین کا شعور رکھنے کی۔ تو بھائ صرف ایک پاکستان تو چھوڑیں پوری مسلم دنیا اٹھاون مسلم ممالک میں سے کوئی ایک نام بتا دیں یہ مجھے جس نے قرآن کے اس حکم کو ٹھیک سے سمجھ کر اس پر عمل کیا ھو اور بنی نو انسان کو کچھ ڈلیور کیا ھو۔ کاشف صاحب اور کاشف صاحب کی ذہنیت رکھنے والے ہر انسان کو میرا چیلنج ھے کے کوئی ایک نام لا کر دکھا دیں پچھلے پانچ سو برسوں میں۔ میں وعدہ کرتا ھوں میں بلاگ پر لکھنا ہی چھوڑ دونگا۔ اور اگر کاشف صاحب کوئی نام نہ لا سکیں تو پھر اپنے ضمیر کو خود ہی جھنجوڑ لیں اور ان مذہب فروشوں کے پیچھے چلنا چھوڑ دیں کہ یہ کیا کسی کو صحیح راہ دکھائیں گے یہ تو خود بھٹکے ھوئے لوگ ہیں جو قرآن کے بلکل واضع حکم کو اسکی روح کے عین مطابق سمجھنے سے قاصر ہیں۔ میں تو کم علم ھوں کاشف بھائی آپ پر لازم ھے اب آپ مجھے میرے ان دو سوالوں کا جواب لا کر دیں۔ ایک۔ قرآن کے تسخیر کائینات کے حکم والا دوسرا ۔ پچھلے پانچ سو پرسوں میں کوئی ایک نام ایسا لا کر دکھا دیں جس نے اس میدان میں کوئی تیر مارا ھے اور بنی نو انسان کو کچھ ڈلیور کیا ھے جس سے پوری انسانیت رہتی دنیا تک مستفید ھوسکے اور قرآن کے اس حکم کی تعمیل ھو سکے۔ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔

  7. Abdullah نے کہا:

    فکر پاکستان سب سے پہلے تو عید مبارک اور اس کے بعد ایک درخواست کہ آپ بلاگ لکھنا نہ چھوڑیئے گا آپ کے اور عنیقہ جیسے لوگوں کی اس بلاگستان کو سخت ضرورت ہے!

  8. fikrepakistan نے کہا:

    عبداللہ بھائی آپکو بھی میری جانب سے عید قرباں بہت بہت مبارک ھو۔ عبداللہ بھائی یہ سوالات میں کاشف نصیر کے بڑوں سے بھی کر چکہ ھوں کوئی جواب نہیں ھے کسی کے پاس، آئیں بائیں شائیں تک ٹھیک سے نہیں کر پاتے ان سوالات پر۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s