بتوں سے آس


ایک کام کو بار بار ایک ہی طریقے سے کرنے کے بعد مختلف نتیجے کی توقع رکھنا انتہائی بیوقوفی ھے۔ اور الحمدواللہ ہم پاکستانی چیمپین ھیں اس کام میں۔ ھم سالوں سے بتوں سے آس باندھتے آرہے ہیں، نہ بت بدلنے کو تیار ہیں اور نہ ہی آس۔
چونسٹھ سالوں میں نہ ہی جمہوریت خالص نصیب ہوئی اور نہ ہی آمریت، جمہوری حکومت آتی ھے تو وہ آمریت کا روپ دھار لیتی ھے، اور آمریت آتی ھے تو اسے جمہوری حکومت کا روپ دھارنے کا بھوت سوار ھوجاتا ھے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی طرز حکومت خالص نصیب ھوجاتی تو یقیناً آج معاملات مختلف ھوتے۔
میں ذاتی طور پہ جمہوریت کہ حق میں ھوں لیکن ایسی جمہوریت کے حق میں نہیں جو کہ پاکستان میں لائی جاتی ھے، پاکستان جمہوریت کی بدترین مثال ھے اس کے برعکس امریکہ اور یورپ جمہوریت کی بہترین مثالیں ہیں، دنیا میں کچھ بھی بے سبب نہیں ھوتا کوئی اگر اوپر ھے تو اسکی وجہ ھے اور کوئی پاتال میں ھے تو اسکی بھی وجہ ھے، گدھا اور گھوڑا کبھی بھی برابر نہیں ھوسکتے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ہم کسی کے رائی برابر عمل کو بھی زایع نہیں ھونے دیتے، تو انکے پہاڑ جیسے اچھے اعمالوں سے مثبت نتائج کیونکر برآمد نہیں ھونگے؟ قانون کی پاسداری وہ کرتے ہیں، انسانیت کی پوجہ وہ کرتے ہیں، انکا تو کتا بھی پاکستانیوں سے کہیں اچھی زندگی بسر کرتا ھے ملاوٹ سے پاک غذا کھلاتے ہیں اسے، کیونکہ وہاں موسم سرد رہتا ھے تو ہیٹر کا اہتمام کرتے ہیں اسکے لئیے، بیمار ھوجائے تو بہترین طریقے سے علاج کرواتے ہیں اسکا غرض یہ کہ زندگی کی اہمیت کو تو وہ سمجھتے ہیں انسانیت تو ان میں ھے، صفائی نصف ایمان ھے تو صفائی کا اہتمام انکے ہاں دیکھیں، انسانی جان کی قدر و قیمت صحیح معنوں میں وہ جانتے ہیں پوری ریاست کا مفاد ایک طرف اور انکے شہری کی جان ایک طرف ھوتی ھے، آپ کسی گورے کو یہ کہیں کے تم زانی ھو شرابی ھو تو وہ لا جواب ھوجائے گا خاموش رہے گا، لیکن اگر آپ اسے کہیں کے تم جھوٹے ھو دھوکے باز ھو تو وہ آپ کے دانت توڑ دے گا کیوں کہ نہ وہ جھوٹ بولتے ہیں نہ فریب دیتے ہیں، ( یہاں اکثریت کی بات کی جارہی ھے ورنہ اچھے برے تو ہر قوم میں ھوتے ہیں مگر جب موازنے کی بات ھوتی ھے تو فیصد اکثریت کی لی جاتی ھے)۔
محب وطن وہ ہیں، تعلیم کی اہمیت کو وہ سمجھتے ہیں، غور و فکر وہ کرتے ہیں وہ صرف اپنی موجودہ نسلوں کی ہی فکر نہیں کرتے اپنی آنے والی نسلوں تک کا مفاد عزیز رکھتے ہیں، سر تھامس اسٹرو نے جہانگیر کے بیٹے کا علاج کیا اور وہ صحتیاب ھوگیا جہانگیر نے کہا اس کو انعام کے طور پہ اس کے وزن کے برابر سونا دیا جاے مگر سرتھامس اسٹرو نے سونا لینے سے انکار کر دیا اور کہا بادشاہ سلامت مجھے سونا نہیں چاہیے سونے کے بجائے میری قوم کو اپنی ریاست کے ساتھ تجارت کی اجازت دے دیں، یہ ھے جمہوریت کی روح یہ ھوتی ہیں قومیں یہ ھوتے ہیں خوبصورت لوگ یہ ھوتی ھے محب وطنی، ان کے ہاں فرد اور ریاست کا مفاد اٹھارویں صدی میں ایک ھوچکا تھا، جبکہ ہمارے پاس یہ وفا آج دو ہزار دس میں بھی نہیں ھے۔
جس وقت ٹونی بلئیر وزیراعظم تھا اس وقت اسکی بیوئ ٹرین میں بغیر ٹکٹ سفر کرتے ہوئے پکڑی گئی اسے جرمانہ دینا پڑا، پچھلے دنوں فرانس کے صدر سرکوزی بے ہوش ھوگئے انہیں فوری طور پہ ہسپتال لایا گیا اور انکی اہلیہ کو فون پر اطلاع دی گئی تو اسکی بیوئ فوری طور پہ اپنی اسکوٹی خود چلا کے ہسپتال پہنچ گئی، اوبامہ لائن میں لگ کر مکڈونلڈ سے برگر خریدتا ھے، اسے کہتے ہیں جمہوریت، اسکے کہتے ہیں حکمران.
ہمارے ہاں تو انجلیانا جولی خیرات دینے آتی ھے تو ہمارے وزیراعظم اسکے ساتھ اپنی فیلمی کا فوٹو سیشن کروانے کے لئیے ملتان سے بائی ایئر پوری فیملی کو حکومتی خرچے پر اسلام آباد بلوالیتے ہیں، وہ بیچاری یہاں سیلاب ذدگان کی مدد کرنے آئی تو ہمارے بےغیرت وزراء اسے اپنا وزٹنگ کارڈ دینے لگ پڑے کہ جیسے وہ ان سے ڈیٹ لگانے ہی آئی ھے اتنی دور، اسکی جوتی کے برابر بھی نہیں یہ وزراء کسی بھی لحاظ سے۔ انکے مثبت اعمال گنوانے کے لئیے یہ پوسٹ کم نہیں بہت کم پڑ جائے گی، غرض یہ کے انکے اعمال انکی سوچ انکے رویے انکے کردار انکی گفتار ہر چیز مختلف ھے ہم سے، تو نتائج ایک جیسے کیسے ھو سکتے ہیں ؟.
چور ہم ھیں، دھوکے باز ہم ہیں، جھوٹ مکر فریب ہم کرتے ہیں، ملاوٹ دھوکہ دہی ہم کرتے ہیں، مذہب کی غلط تشریحات ہم کرتے ہیں، محب وطنی نام کو نہیں ھم میں، ہمارے ہاں شریف وہ ھے جو نسبتاَ کم حرامی ھے، ایماندار وہ ھے جو نسبتاَ کم بے ایمان ھے، رحم دل وہ ھے جو نسبتاَ کم بے رحم ھے، اچھا وہ ھے جو نسبتاَ کم برا ھے, صفائی پسند وہ ھے جو نسبتاَ کم غلیظ ھے، مذہبی وہ ھے جو نسبتاَ کم غیر مذہبی ھے، عاقل وہ ھے جو نسبتاَ کم بیوقوف ھے، قابل وہ ھے جو نسبتاَ کم جاہل ھے، چست وہ ھے جو نسبتاَ کم سست ھے، کمی وہ ھے جو نسبتاَ کم نکما ھے، انصاف پسند وہ ھے جو نسبتاَ کم ظالم ھے
۔ غیرت کے نام پہ عورتوں کا قتل یہاں ھوتا ھے، اور قتل بھی ایسا کے دور جہالت کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں زندہ ہی دفنادی جاتی ہیں خواتین اور پھر اس پر فخر کہ یہ ہماری روایت ھے اس پر اعتراض نہ کیا جائے، انسان تو انسان جانورں کو نہیں چھوڑتی یہ قوم اندرون سندھ اور اندرون پنجاب میں محض دس روپے میں گدھیوں کے ساتھ بدفعلی کی جاتی ھے سمجھ میں آرہی ھے بات کیا کہہ رہا ہوں میں ؟ گڈھا کھود کر گدھی کو اس میں اتارا جاتا ھے تاکے وہ ان درندوں کے لیول پہ آسکے پچھلی دونوں ٹانگیں باندھ دی جاتی ھیں تاکے مذہمت نا کر پائے دس روپے کرایہ وصول کیا جاتا ھے اس بدفعلی کا، ہم زندہ قوم ہیں پائیندہ قوم ہیں، ابے لعنت ھے ہم پر ہم تو قوم ہی نہیں ھیں زندہ اور پائیندہ تو بہت دور کی بات ھے.
کچھ عرصہ پہلے پڑھی ھوئی ایک خبر یاد آگئی پنجاب کے کسی گاوں میں ایک جوان لڑکی کی موت ھوگئی شام تک اسے دفنا دیا گیا اگلے روز صبح جب گھر والے فاتحہ خوانی کی غرض سے لڑکی کی قبر پہ گئے قبر کھلی ھوئی تھی اور لڑکی کی لاش برہنہ قبر سے باہر پڑی تھی کسی بھیڑیئے نے رات کو اس لڑکی کو قبر سے نکال کر اپنی حوس کا نشانہ بنایا تھا، اب باقی کیا رہ جاتا ھے اس فعل کے بعد ؟ اسکے بعد اس قوم کے بارے میں مزید کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی۔
یہ ڈنڈے کی قوم ھے بند ھونا چائیے یہ نام نہاد جمہوریت کا ڈھکوسلہ اٹھتے جوتی بیٹھتے لات والا معاملہ ھونا چائیے اس قوم کے ساتھ، جمہوریت مہذب قوموں میں چلتی ھے پڑھے لکھے با شعور لوگوں میں چلتی ھے جن جن ممالک میں صحیح معنوں میں جمہوریت کامیاب ھے وہاں لٹریسی ریٹ بھی تو دیکھو نوے پرسنٹ پڑھے لکھے لوگ ھوتے ہیں وہاں جبکہ ہمارے ہاں صحیح معنوں میں صرف دس سے پندرہ پرسنٹ پڑھے لکھے لوگ ہیں، پہلے اس قوم کو ڈنڈے سے سدھارا جائے پڑھایا لکھایا جائے کوئی تمیز کوئی تہذیب سکھائی جائے آزادی کا مطلب سمجھایا جائے، وطن سے محبت کا مطلب سمجھایا جائے، پھر کہیں جا کے ملیں گے ہمیں جمہوریت کے ثمرآت۔
ایک کام کو بار بار ایک ہی طریقے سے کرنے کے بعد مختلف نتیجے کی توقع رکھنا انتہائی بیوقوفی ھے۔ اور الحمدواللہ ہم پاکستانی چیمپین ھیں اس کام میں۔ ھم سالوں سے بتوں سے آس باندھتے آرہے ہیں، نہ بت بدلنے کو تیار ہیں اور نہ ہی آس۔ ۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

25 Responses to بتوں سے آس

  1. BASIL نے کہا:

    BAHI WO LOG KUD SAHI HA PHALA SAHI KUD HO JAO PAR DOSRO PA TANQEED ACHI HA KUD B KUCH KARANA PARTA HA KALI DOSORO KO ACHA KHANA SA AAP BARIUZMA NAHI HA AAP SAHI HONA KI TRY KARA AAP B MOHZAB FARAD BAN JAI GA ? AP B KUCH KARANA NAHI CHATA SIRF BOL KA BARAS NIKAL LATA HA

    • fikrepakistan نے کہا:

      باسل صاحب شکر ھے آپ نے تمام دیوبندی حضرات کی طرف سے یہ تو مان لیا کے وہ لوگ صحیح ہیں، اور ھم غلط ہیں۔ آپ کے اس اعتراف کے بعد تو تبدیلی واجب ھوجاتی ھے پاکستانی معاشرے میں۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کے مرض کا علاج تشخیص ھونے کے بعد شروع ھوتا ھے جبکہ مرض کا علاج اس سے ایک اسٹیپ پہلے شروع ھوتا ھے یعنی ہم یہ مانیں کے ہمیں کوئی بیماری ھے ہم اعتراف کریں کے ہاں کہیں کوئی گڑ بڑ ھے ہمارے رویوں میں ہماری سوچ میں جب ہم اعتراف کریں گے تب ہی تو ڈاکڑ کے پاس جائیں گے اور پھر تشخیص کا مرحلہ ائیگا.

  2. zia نے کہا:

    achi bat kahi. Magar yeah Deobandi ka zikar kahan say aur kiyoun aur kis lia ?

    • fikrepakistan نے کہا:

      ضیاء بھائ یہ جو باسل صاحب ھیں یہ میرے بہت ہی دیرینہ دوست ہیں ان سے اکثر اس طرح کے مسلوں پر بحث چلتی رہتی ھے یہ خود کیوں کے دیوبندی ہیں اسلئیے مینے انہیں چھیڑنے کہ لئیے ایسا کہہ دیا۔

  3. عثمان نے کہا:

    ہاہاہا ۔ ۔ ۔ ۔
    اپنی پوسٹ کی پہلی لائن بار بار پڑھیں۔
    اور اس کے بعد اپنی سابقہ پوسٹیں اور تبصروں پر نظر ڈالیں۔ آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے جو آپ نے دوسروں کے لئے اخذ کیا ہے۔ 🙂

  4. fikrepakistan نے کہا:

    عثمان بھائی کسی کا بچہ اگر برائی کی راہ پر ھے تو کیا اس کے بڑے محض اس وجہ سے اسے اچھائی کی تلقین کرنا بند کردیں کے اس پر تو اثر ہی نہیں ھوتا ؟ میرا کام ھے دستک دینا کبھی نا کبھی تو دروازہ کھل ہی جائے گا، ویسے بھی جو درخت لگاتا ھے پھل کھانا اسے نہیں اگلی نسلوں کو نصیب ھوتا ھے۔

  5. جعفر نے کہا:

    ماشاءاللہ بڑی ریسرچ ہے جی آپ کی۔۔۔
    ساری ریٹ لسٹیں آپ کے علم میں ہیں
    اللہ آپ کے ‘علم’ میں دن دگنا دوپہر چوگنا اضافہ کرے

  6. سارہ نے کہا:

    ڈنڈے سے اپ کی مراد کیا ہے ؟ اگر ڈندے سے مراد لا اینڈ آرڈر کا نظام صحیح طور پر قائم کرنا ہے تو یہ نظام بھی ہمارے ہاں جاہلوں یا پڑھے لکھے جاہلوں کے ہاتھ میں ہے.. تو لا اینڈ ارڈر صحیح قائم کرنے کے لئے پڑھے لکھوں کا ہونا ضروری اور پڑھانے کے لئے بقول آپ کے ڈنڈے کا ہونا ضروری …تو اب مرغی پہلے آئے گی یا انڈہ یا پھر کچھ بدلے گا ہی نہیں یہ ہماری آنے والی نسلیں ہی دیکھیں گی کیونکہ ابھی تو دور دور تک اصلاح کا کوئی نشان نظر نہیں آتا …

    • fikrepakistan نے کہا:

      سارہ بی بی مچھلی سر سے سڑنا شروع ھوتی ھے اسلئیے تبدیلی ہمیشہ اوپر سے ہی آتی ھے، تبدیلی جب بھی آئیگی بھر پور ائیگی انشاءاللہ اور اوپر سے ہی آئیگی یہ نیچے والے کسی کھاتے میں نہیں ھوتے یہ اوپر والوں کا حشر دیکھ کے خود اپنا قبلہ درست کر لیں گے۔

  7. عثمان نے کہا:

    آپ کی پوری پوسٹ اب پڑھی ہے۔ اور اب پتا چلا ہے کہ آپ کسی بڑی خطرناک ذہنی بیماری کا شکار ہیں۔ آپ کی اوقعات تو بہت پہلے ایک تبصرے میں کھل گئی تھی۔ لگے رہیے۔

  8. fikrepakistan نے کہا:

    عثمان اوقات تو ان لوگوں کی پتہ چلتی ھے ایسی باتوں سے جو محض تعصب پہ مبنی بات کرتے ہیں اور ان لوگوں کی بھی جو ایسے لوگوں کے ہمایتی ھوتے ہیں، میں نے جو کہا تھا بلکل ٹھیک کہا تھا اور آج بھی میں اپنی بات پر قائم ھوں، اور میں نے جو کہا تھا وہ جواباَ کہا تھا پہل میں نے نہیں کی تھی۔ افسوس کے اتنا زہر بھرا ھوا ھے ان لوگوں کے اندر مجبوراَ کہنا پڑتا ھے کہ ہمارے بلوچ بھائی کچھ بہت زیادہ غلط نہیں کر رہے ایسے لوگوں کے ساتھ بلکل ٹھیک کر رہے ہیں وہ اپنی جگہ ایسے لوگوں کے ساتھ، اگر ایسے لوگوں نے اب بھی اپنی روش نا بدلی تو وہ وقت بھی دور نہیں جب صرف بلوچستان ہی میں نہیں پورے پاکستان میں ایسا ہی سلوگ کیا جائے گا ایسے لوگوں کے ساتھ۔

    • عثمان نے کہا:

      متعصب نہ ہونے کا دعوی صرف وہی کرسکتے ہیں جو عصبیت کا جواب عصبیت سے نہیں دیتے۔ جو عصبیت کا جواب عصبیت سے دینے کے عادی ہوں وہ انہی میں سے ہیں۔ آپ کی تمام تحاریر اور تبصروں میں آپ کی تان لے دے کر ایک آدھ جگہ ہی آکر ٹوٹتی ہے۔ اس لیے کہا ہے کہ آپ کسی خطرناک ذہنی بیماری کا شکار ہیں۔ تقریبا اسی ملتی جلتی بیماری کا جس کا شکار آپ دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔ لگے رہیے۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        یہ عصبیت کا بیج آپ ہی لوگوں کا بویا ھوا ھے پاکستان میں اب اگر مکافات عمل ھورہا ھے تو تکلیف کیسی؟ وہ وقت گیا جب سینہ با سینہ تبلیغ کر کے لوگوں کو سمجھایا جاتا تھا، آج جیسا کرو گے سامنے والے سے رپلائی بھی ویسا ہی پاو گے، آپ چاہتے ھو کوئی کسی پر کتنی ہی کیچڑ اچھالتا رہے مگر سامنے والا ایک لفظ بھی نہ کہے ایسا نہیں ھوتا ڈئیر۔ غلط کہو گے تو غلط سننے کو بھی ملے گا۔

  9. mohibalvi نے کہا:

    عثمان کا تجزیہ خاصہ جاندار ہے اور قابل توجہ بھی ۔

    ایک ہی بات کو بار بار ایک ہی انداز سے دہرانے سے اس بات میں اگر کوئی اثر بھی ہو تو مائل ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں برائیاں ہیں اور اس وقت بہت زیادہ ابھر اس لیے آئی ہیں کہ برائی کا احساس ہونے اور معلوم ہونے پر صرف بات کرنے اور شور کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہو رہا ، نہ تو حل پیش کیا جاتا ہے اور نہ بہتری کی تجاویز دی جاتی ہیں اور نہ بہتر عمل کے لیے خود عزم کیا جاتا ہے اور نہ دوسروں کو اس کے لیے ابھارا جاتا ہے۔
    خود ملامتی ایک حد رہے تو ٹھیک ہے مگر اگر یہ زیادہ ہو جائے جیسا کہ ہو رہی ہے ہر طرف تو بجائے خود ایک ڈپریشن اور زوال کا سبب بن جاتی ہے۔ اخبار ، میگزین ، ٹی وی ، انٹر نیٹ ہر جگہ خود ملامتی اور بری خبروں سے بھرے پڑے ہیں ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب برائیاں اور غلطیاں ایک دم سے خؤفناک حد تک بڑھ گئی ہیں حالانکہ چند سال پہلے تک ایسا نہیں تھا ۔ برائیاں تھی تو اچھائیاں بھی تھی اور بہتری کے لیے کوششیں بھی۔

    میری ذاتی رائے میں کرپشن اور ڈھیٹ حد تک کرپشن پر قائم رہنے کی اوپری طبقے کی روش نے معاشرے میں انتہائی بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ کرپشن ہر ملک اور خطہ میں ہوتی ہے کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ اچھا اور بہتر ملک اسے گنتے ہیں جہاں کرپش سامنے آ جائے تو اس پر لازمی کاروائی ہو اسی سے ملک اور قوم کی بہتری جڑی ہوتی ہے۔ پاکستان میں آج سے پہلے اتنی ڈھیٹ اور دھڑلے کی حد تک کرپشن نہیں ہو رہی تھی کہ ثبوت کے ساتھ کرپشن موجود ہو اور نام کی کاروائی نہ ہو۔ اس معاملے پر سب سے زیادہ اور سر جوڑ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا معاشی بدحالی بذات خود برائیوں کی ماں ہے اور سخت معاشی بدحالی جمع بدعنوانی معاشرے کے اچھے اقدار کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ سیاست میں دلچسی لینے ہو گی لوگوں کو اور آزمائے ہوئے لوگوں کو بار بار آزمانے کی روش بھی بدلنے ہوگی۔

    آئندہ الیکشن اس چیز کا ایک بڑا امتحان ثابت ہوں گے اور اس میں تعصبات سے بالا تر ہو کر اچھے شخص کی حمایت اور مدد سے ہی ثابت ہوگا کہ ہم نے حالیہ چند برسوں میں کتنا سیکھا ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عثمان کے تجزیے سے مجھے اختلاف نہیں ھے، مجھے اختلاف انکی اس سوچ سے ھے جسے یہ تعصب کا رنگ کر ماحول خراب کر رہے ہیں، میں نے مکمل پاکستان کی بات کی ھے جسے یہ ایک مخسوس صوبے کی طرف لے جارہے ہیں اور بیکار میں ہی زہر اگل رہے ہیں۔ یہ اگر یہ چاہیں کہ یہ جو چاہے کہیں اور سامنے والا انہیں جواب بھی نہ دے تو ایسا تو ممکن نہیں ھے۔ اور میں نے جو باتیں پوسٹ میں لکھی ہیں وہ کوئی جھوٹ نہیں ھے وہ سب سچ ھے اور سچ برداشت کرنے کا حوصلہ سب میں ھونا چاہیے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      اب محب صاحب آپکی دوسری بات کا جواب عرض ھے کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ اللہ نے مجھے ان تماشائیوں میں نہیں رکھا ھوا جو صرف زبانی جمع خرچ کرتے ہیں اور عملی طور پہ کچھ بھی نہیں کرتے، میں خود ایک ویلفئیر سوسائٹی چلاتا ھوں اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے ساتھ دو سو ممبرز ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئیے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں اس ویلفئیر سوسائٹی کے توسط سے ہم عملی طور پہ پاکستان کی خدمت عبادت سمجھ کے کر رہے ہیں اس میں نہ ہمیں گورنمنٹ کی کوئی سپورٹ حاصل ھے اور نہ ہی کسی بہت بڑے بڑے مخیر حضرات کی ہم اپنی اپنی تنخواہ میں سے ہر ماہ اپنی اپنی حثیت کے مطابق پے کرتے ہیں اور اس فنڈ کو پوری دیانداری کے ساتھھ استمال کیا جاتا ھے، ایسے والدین جو اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے ہم ایسے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرتے ہیں، بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرتے ہیں، غریب مسکین یتیموں کی کفالت کرتے ہیں جن کے لئیے ماہانہ مخسوس رقم دی جاتی ھے انہیں، فری کفن سروس ھے، لائیبریری ھے جس سے سینکڑوں لوگ ہر روز فیضیاب ھوتے ہیں، ہمارے ممبرز رجسٹرڈ ہیں بلڈ بینکس میں جب کھبی بھی کوئی بڑا حادثہ ھوتا ھے یا خون کی اشد ضرورت ھوتی ھے ہمارے ممبرز اپنے لہو کے نظرانے بھی پیش کرتے ہیں، مستحقین کے لئے مفت علاج کی سہولت پیش کرتے ہیں کیسے ہیں مہنگے سے منہگے ٹیسٹ ھوں یا کیسا ہی موضی مرض لاحق ھو ہم اللہ کی مدد سے اپنی ایسے مریضوں کے لئیے دن رات ایک کر کے ان کے علاج کا بندوبست کرتے ہیں۔ ہم والدین سے لڑ لڑ کے ان کے بچوں کو اسکول میں داخل کرواتے ہیں اور انکے تمام تعلیمی اخراجات برداشت کرتے ہیں، اللہ کا بڑا فضل و کرم ھے کہ اللہ نے ہمیں آگ بجھانے والوں میں رکھا ھوا ھے آگ لگانے والوں میں نہیں، اور یہ سب ہم بغیر کسی تعصب بغیر کسی رنگ نسل قومیت کے کرتے ہیں زرہ برابر بھی امتیازی سلوک نہیں برتا جاتا ہمارے ہاں، ہم تو مذہب تک کی قید نہیں رکھتے کتنے ہی غیر مسلم ہیں جو اپنے مسائل لے کر آتے ہیں اور ہم اللہ کے کرم سے اپنی حیثیت کے مطابق انکے مسائل حل کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں، مجھے نہیں یاد کے کتنی غریب لڑکیوں کی شادی میں ہم نے اپنا معقول حصہ ڈالا ھے، سینکڑوں کی تعداد میں روزگار مہیا کیا گیا ھے، ہم فکری نشستیں کرتے ہیں گھر گھر جاکر تعلیم اور شعور کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں، چاہے وہ زلزلہ ھو یا سیلاب ایسے کسی بھی بڑے ثانحہ کے صورت میں ہم لوگوں کے پاس بھیک تک مانگنے جاتے ہیں سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں تاکے کسی طرح اپنے پاکستانی بھائیوں کی مصیبت کی اس گھڑی میں ہم کوئی مدد کر سکیں۔ یہ سب یہاں بتانے کا مقصد صرف یہ ھے کہ صرف زبانی کلامی تنقید کرنے والوں کو تعصب کی آگ لگانے والوں کو یہ پتہ چل سکے کہ کس سے کہہ رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں۔ اللہ کا بڑا احسان ھے کہ اس نے ہمیں اس کام کے لئیے منتخب کیا ھوا ھے کیوں کے ہم دن رات پاکستان اور پاکستانیوں کی بھلائی کے لئیے ہی کام کر رہے ہیں تو ہمییں ایسے حالات اور واقعات سے زیادہ تکلیف پہنچتی ھے بہ نسبت ایسے لوگوں کے جو دیار غیر میں ائیرکنڈیشن روم میں بیٹھھ کر اسطرح کے کمنٹس پاس کرتے ہیں اور تعصب کی آگ پھیلاتے ہیں۔ vserveu.net یہ ویب سائٹ ایڈریس ھے ہماری ویلفئیر سوسائٹی کا آپ اسکا وزٹ کرسکتے ہیں۔

  10. عثمان نے کہا:

    جو لوگ مجھے پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ "عصبیت کے بیج بونے ” میں میرا کتنا حصہ ہے۔ نیز آپ کی تحاریر اور تبصروں سے آپ کی شخصیت اور خیالات خوب واضح ہیں۔ 🙂

    مجھے خوشی ہے کہ میں اپنا پوائنٹ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہوں۔ 🙂

  11. fikrepakistan نے کہا:

    آپکی شخصیت بھی مجھ پر اس روز ھی کھل گئی تھی جس روز آپ نے اس تعصب بھری پوسٹ کی حمایت کی تھی ڈئیر، تعصب کی حمایت بھی اتنا ہی گھنونا فعل ھے جتنا کے تعصب کرنا۔

  12. Abdullah نے کہا:

    چلیں بھئی عنیقہ اب تو آپ ہی آکر فیصلہ کروائیں کہ کون تعصبی ہے اور کون نہیں کیونکہ یہاں جتنے لوگ ہیں ان میں سب سے سمجھدار آپ ہی ہیں!!!!!

  13. Abdullah نے کہا:

    ویسے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ میں آدھاسندھی اور آدھا اردو اسپیکنگ ہوں اور کراچی والا بھی ہوں!
    اب اگر کوئی یہ کہے کہ کراچی کے لوگ بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں بلاوجہ کی رشتہ داریاں نہیں پالتے یا کراچی کے لوگ بہت پان کھاتے اور جگہ جگہ پیک تھوکتے پھرتے ہیں اور میں کہوں کہ نہیں جناب اپ تو تعصب کررہے ہیں؟؟؟
    یا کوئی کہے کہ اردو بولنے والے ایک نہیں ہوتے اپنوں کی ٹانگیں گھسیٹتے ہیں ہڈی بوٹی جوڑتے پھرتے ہیں دوسری زبان بولنے والوں کی اردو کا مزاق اڑاتے ہیں اپنے آپ کو بڑا اردو داں سمجھتے ہیں اور میں کہوں نہیں جناب آپ تو تعصب کرتے ہیں؟؟؟
    یا کوئی کہے کہ اندرون سندھ کارو کاری عام ہے،چور ڈاکو بہت ہوتے ہیں،یا فکر پاکستان کا بتایا ہوا کام کرنے والے سندھ میں موجود ہیں(خیال رہے کہ یہ تمام باتیں پوری قوم پر نہیں مگر اس کے بڑے حصے پر منطبق کر کے کہی جاتی ہیں)اور میں کہوں نہیں جناب آپ تو تعصب کررہے ہیں؟؟؟
    تو کیا میرا ایسا کہنا جائز ہے؟؟؟؟
    عثمان کی اطلاع کے لیئے یہ گدھی والی کہانی پنجاب کے حوالے سے پہلی بار میں نے انکل ٹام جو ایک پنجاب سے تعلق رکھنے بلاگر ہیں کی زبانی ڈفر کی ایک پوسٹ کے تبصرے میں پڑھی تھی،
    ہوسکتا ہے کہ عثمان کے علم میں نہ ہو جیسے بہت سی باتیں ذندگی کا بڑا حصہ شہر میں اور ملک سے باہر گزارنے کی وجہ سے پہلے میرے علم میں بھی نہ تھیں مگر علم میں نہ ہونے سے انکا نہ ہوناثابت نہیں ہوتا جنہیں فکر پاکستان کی باتوں پر اعتراض ہے وہ انکا ناقابل تردید ثبوت مہیا کریں پھر بات کریں،
    میں نہیں جانتا کہ فکر پاکستان سندھی ہیں پنجابی ہیں بلوچی ہیں پٹھان ہیں یا اردو اسپیکنگ مگر ان کی تحاریر مجھے ویسا ہی نشتر محسوس ہوئیں جیسی عنیقہ کی تحریریں اسی لیئے میں انکی تحاریر کو ایپریشیئیٹ کرتا ہوں اور ان کے دل میں اس ملک اور اس میں بسنے والوں کے لیئے جو درد ہے اسے محسوس کرتے ہوئے ان کی اس پوسٹ کے لیئے انکا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں میرا خیال ہے کہ لیپا پوتی اور کاسمیٹک سرجری کا وقت اب گزر چکا ہے اس وقت اس جہالت کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر ہم انسان بھی نہیں بن سکیں گے سچا مسلمان اور اچھا پاکستانی بننا تو بہت دور کی بات ہے!!!!

  14. Abdullah نے کہا:

    فکر پاکستان،
    جناب آپ جو اچھے کام کررہے ہیں اللہ آپکو اور آپکے ساتھیوں کو مزید ہمت عطافرمائے اور ہم سب کو بھی باتیں بنانے کے علاوہ ان پر عمل کرنے کی توفیق بھی عطافرمائے،
    آپکے مددگاروں میں برکت عطاہواور ان نیک کاموں کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیل جائے،آمین یا رب العالمین

    • fikrepakistan نے کہا:

      عبداللہ بھائی جو بات آپ نے کہی ھے یہ ہی میرا بھی مقصد ھے، اب لیپا پوتی کا وقت گزر چکا ھے بہت گلیمرائز بہت گلوریفائی کرلیا گیا قوم کو یہ بیوقوف بنانا بند ھونا چاہیے اب، میں پھر وہ ہی بات کہوں گا کہ ہم سب، میں بھی شامل ھوں اس میں کراچی والے بھی شامل ہیں کراچی کوئی جاپان میں نہیں ھے جو اسے کسی قسم کا استثنہ حاصل ھو جب قوم کا لفظ استعمال کیا جاتا ھے تو اس میں تمام پاکستانی آجاتے ہیں صرف کوئی ایک قوم نہیں آتی، یہ پاکستان ہم سب کا ھے ہم سب کا گھر ھے یہ اور اسکے اچھے برے کا ہم سب نے ہی سوچنا ھے میں نے آپ نے ھم سب نے۔ ہمارے اندر اگر کوئی اچھائی ھے تو وہ تو ھے اسکو کیا کرنا ھے توجہ تو برائی کی طرف دینی چاہیے تاکے ہم اپنی برائیاں ختم کر سکیں اور پاکستانی بن کر صرف پاکستان کی بات کریں پاکستان کی بھلائی کہ لئیے ھو ہمارا ہر اقدام، یہ ڈرامے بازی اب بند ھونی چاہیے کہ ہم زندہ قوم ہیں غیور قوم ہیں، گاوں دیہات تو چھوڑیں میں اس شہر کراچی میں آپکو ایسے ہزاروں غیور پاکستانی دکھا سکتا ھوں جنہوں نے چھھ چھھ مہینے سے دانت صاف نہیں کیے ھونگے، یہ بیکار کے نعرے لگانا اب بند ھونا چاہیے جب مجھے یہ پتہ ہی نہیں ھوگا کہ میرے اندر برائی کیا ھے خامی کیا ھے مجھے بیماری کیا ھے تو میں اسکا علاج کروانے کے لئیے کیسے جاوں گا ڈاکٹر کہ پاس ؟ جب تک یہ سیاسی جماعتیں مذہبی جماعتیں اس قوم کو بیکار میں چنے کے جھاڑ پہ چڑھاتی رہیں گی اس وقت تک تو کسی کو پتہ ہی نہیں چلے گا کے وہ غلط ھے اسکا ہر اقدام پاکستان کی سلامتی کے خلاف اٹھھ رہا ھے، اس وقت ضرورت ھے قوم کو انکی برائیاں بتانے کی خامیاں بتانے کی تاکے انہیں ریکٹیفائی کیا جاسکے اور کوئی بھلائی کی صورت نکل سکے۔ میرا اختلاف ان ذہنیتوں سے ھے جو اس وقت بھی قوم کو بجائے حقیقت کا آئینہ دکھانے کے انکی جھوٹی تعریفیں کر کے اپنے اپنے الو سیدھے کر رہے ہیں، اور قوم کے اصل مسائل سے انکی توجہ ہٹا کر ان سب بیہودہ چکروں میں لگا رکھا ھے۔ غیور قوم ھے، غیرت کا سودا نہیں کرنے دیں گے، آہنی ھاتھوں سے نمٹا جائے گا، قوم اپنا خون دے کر پاکستان کی حفاظت کرے گی، بچہ بچہ کٹ مرے گا، کیوں کٹ مرے گا بچہ بچہ ؟ غریب کا بچہ ہی رہ گیا ھے کٹ مرنے کے لئیے ؟ نعرہ لگاتے ہیں کے بچہ بچہ کٹ مرے گا، کبھی کسی سیاسی جماعت نے کسی مذہبی جماعت نے یہ نعرہ لگایا کہ، بچہ بچہ ڈاکڑ عبدالقدیر بنے گا ؟ ڈاکڑ ثمر مبارک بنے گا ؟ اور ہم بنائیں گے اسے ہم دیں گے ہر بچے کا ساتھھ، پھر دیکھتے ہیں کون دیکھتا ھے پاکستان کی طرف میلی نظر سے۔ لگایا کبھی کسی نے یہ نعرہ آج تک ؟ یہ آج تک جنتے بھی لوگ مذہبی منافرت میں ہلاک ھوئے ہیں ان میں سارے غریب لوگ ہی کیوں ھوتے ہیں ؟ اپنے بچے باہر ملکوں میں پڑھاتے ہیں اور ہمارے بچوں کو شہید ھونے کا درس دیتے ہیں۔ اپنی جانوں کے نظرانے پیش کر کے مذہب کی حفاظت کریں گے، کیا ھے یہ سب ؟ میرے بھائ مرنا تو سب سے آسان کام ھے، مشکل حالات میں جینا اور مشکلوں سے لڑنا ہی اصل فلسفہ ھے، جان دینا تو سب سے آسان کام ھے اور نہیں بھی دے گا جان تو کیا قیامت تک زندہ رہنا ھے اس نے؟ جان تو جانی ھے ایک دن، اصل معاملہ تو زندگی کا ھے کے یہ زندگی کیسے اسلام کے سنہری اصولوں کے مظابق گزارنی ھے، اسلام نفاظ کیسے اس دینا پر کرنا ھے اللہ کے بتائے ھوئے راستے میں کیسے اس زندگی کو بسر کرنا ھے کے دنیا دیکھے تو کہے کے یہ ہیں پاکستانی قوم یہ ہیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی، جب قوم اتنی خوبصورت اور با عمل ھے تو انکا نبی ، صلی اللہ علیہ وسلم، کیسا ھوگا ؟ تو بھائی معماملات بہت دوسرے قسم کے ہیں مگر ہمیں صرف اندھے سیدھے کاموں میں لگا دیا گیا ھے اور ہمیں ہمارے اصل سے ہٹا دیا گیا ھے۔ یہ بیہودگی اب بند ھونی چاہیے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s