زنداں ھے وہ ہی پاوں کی زنجیر وہ ہی ھے ۔ اب کے بھی میرے خواب کی تعبیر وہ ہی ھے ۔


میرا ایسا ماننا ھے کہ ہر انسان کو زندگی سے دوسرا موقعہ ضرور ملنا چاہیئے، گو کہ ایسا بہت کم ھوتا ھے بہت ہی خوش نصیب ھوتے ہیں وہ لوگ جنہیں قسمت دوسرا موقع دیتی ھے، ایسے ہی خوش نصیب لوگوں میں سے ایک نام ھے چیف جسٹس افتخار چوھدری۔
افتخار چوھدری کا شمار بھی ان ہی جج حضرات میں ھے جو جنرل پرویز مشرف صاحب کے لائے ھوئے پی سی او کے قانون کے تحت حلف لے کر آئے تھے، سالوں تک سب کچھھ ٹھیک ٹھاک چلتا رہا پاکستان میں دودھھ اور شہد کی نہریں بہتی نظر آتی رہیں پھر اچانک پرویز مشرف کے فیصلے غلط لگنے لگے اور نوبت آئی کہ جنرل صاحب نے انہیں گھر بھیج دیا۔
یہاں سے شروع ھوتی ھے محب وطنی کی ایک نئی داستان راتوں رات کوے ایک تنظیم کی صورت اختیار کر گئے فنڈ بھی آگیا اتحاد بھی ھوگیا جو اتحاد وطن کے لئیے ھونا چاہیے تھا وہ اقتدار کے لئیے ھوگیا، ایک بچے کی پیدائش میں بھی نو مہینے درکار ھوتے ہیں مگر یہاں راتوں رات سول سوسائٹی کی پیدائش بھی ھوگئی، میں حیران ھوتا تھا کہ یہ وہ معاشرہ ھے جہاں کوئی اپنے آپ سے مخلص نہیں ھے تو کسی اور سے کیا ھوگا پھر اچانک یہ کون لوگ ہیں جنہیں راتوں رات اتنا شعور آگیا کے یہ اپنے حق کے لئیے نکل آئے، میں اس وقت بھی کنوینس تھا کے یہ عام پاکستانی تو نہیں ہیں یہ کسی کے اشارے پر آئے ھوئے کرائے کے ٹٹو ہیں جو کسی بہت بڑے گیم کا حصہ ہیں، وقت نے ثابت کیا کے وہ سب کرائے کے ٹٹو ہی تھے جیسے اور جس کے اشارے پر جہاں سے آئے تھے وہیں واپس بھی چلے گئے۔
کتنی عجیب بات ھے کہ سول سوسائٹی نامی مخلوق افتخار چوھدری سے تو اتنی مخلص تھی کے ان کے لئیے سڑکوں پہ نکل آئی اور آج جب کے حالات ہر لحاظ سے اس وقت سے کہیں زیادہ بدتر ہیں مہنگائی کا ناسور پوری پوری فیملیز نگل رہا ھے لوگ اپنے بچے بیچ رہے ہیں، معیشت وینٹیلیڑ پہ لگی ھوئی ھے، بجلی ھے نہ گیس صرف بل ہی بل ہیں، سینکڑوں کی تعداد سے لوگ مر رہے ہیں کوئی بم دھاکے میں تو کوئی تو کوئی خود کشی سے، مگر سلام ھے اس سول سوسائٹی پر جسکا شعور ایک شخص کی بے دخلی پر تو جاگ گیا تھا مگر خود اپنے ساتھھ اتنا کچھھ ھونے پر اسکے شعور کو انگڑائی بھی نہیں آرہی۔ کہاں گئے وہ مہذب لوگ ؟ کہاں ھے وہ نام نہاد سول سوسائیٹی؟ ۔
عجیب عجیب سے انسان نما جانور گلے پھاڑ پھاڑ کے اس بیوقوف عوام کو مزید بیوقوف بناتے تھے کہ پاکستان کے ہر مسلے کا حل افتخار چوھدری کی بحالی سے ہی ممکن ھے مسلہ کوئی بھی ھوتا ایک ہی بات کہی جاتی کہ عدلیہ بحال ھوتی تو ایسا نہ ھوتا عدلیہ بحال ھوتی تو ویسا نہ ھوتا، ایسا بتایا جاتا تھا کے عدلیہ کے بحال ھوتے ہی پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ ایک اور صاحب تھے جو دونوں ھاتھوں میں لڈو رکھھ کر چل رہے تھے اعتزاز حسن صاحب ایک طرف مشرف صاحب کے خلاف تحریک چلا رہے تھے تو دوسری طرف مشرف صاحب سے ہی اپنی بیگم بشریٰ اعتزاز کے نام پر گیس اسٹیشن کے مرمٹ لے رہے تھے۔
نواز شریف ائیر کنڈیشن لینڈ کروزر میں بیٹھھ کر انقلاب لے آئے یہ بھی صرف اور صرف پاکستان میں ہی ممکن ھوسکتا تھا۔ یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کے قرض اتارو ملک سنوارو والے نواز شریف صاحب ( یہ الگ بات ھے کہ نا قرض اترا اور نہ ملک سنورا ہاں نواز شریف صاحب ضرور سنور گئے) نے پیسہ پانی کی طرح بہایا اس تحریک کے لئیے، جسکی وصولی وہ اب سود سمیت کر رہے ہیں اور اس خرچ کئیے گئے پیسے کا حق افتخار چوھدری صاحب نواز شریف صاحب کے گذشتہ کارناموں پہ چشم پوشی کر کے ادا کر رہے ہیں، میڈیا جو ایک منٹ کے اشتہار کے لاکھوں روپے لیتا ھے اس نے افتخار چوھدری صاحب کو ہی اشتہار سمجھھ لیا تھا۔ غرض پورے سسٹم نے ملکر اس ایک شخص کو بحال کروایا مگر نتیجہ ؟ کوئی ایک تبدیلی ھوئی ھو تو بتا دیں سب کچھھ ویسے کا ویسا ہی ھے بلکے آج اس وقت سے کہیں زیادہ تباہی ھے کرپشن اپنے عروج پر ھے کھلے عام ببانگ دھل اداروں کو لوٹا جارہا ھے پاکستان برائے فروخت کا اشتہار لگنا باقی ھے ورنہ عملَ تو ایسا ہی ھورہا ھے۔
مگر آج نہ لینڈ کروزر انقلاب آرہا ھے نہ کسی سول سوسائیٹی کا کہیں کوئی وجود نظر آرہا ھے، ایسا لگتا ھے کہ اندرون خانہ سب سیٹنگ ھوگئی ھے کے تم کالے کارنامے کرتے رھو ھم قوم کو دکھانے کے لئیے تمہارے اقدامات کے خلاف فیصلے دیتے رہیں گے مگر تم ان فیصلوں کو ماننا نہیں اور ہم عوام کے سامنے مظلوم بنتے رہیں گے کہ ہم کیا کریں عدالت کا کام فیصلے دینا ھے اس پر عمل درآمد کروانا حکومت کا کام ھے ہمارا نہیں، یوں دونوں کا کام چلتا رہے گا عوام کا کیا ھے عوام تو صدا کے بیوقوف تھے پہلے بھی بنے تھے اب بھی بنتے رہیں گے۔ آج کوئی بھی افتخار چوھدری صاحب سے یہ سوال نہیں کرتا کہ اگر حکومت آپ کے فیصلوں پہ عمل نہیں کررہی تو بھائی لعنت بھیجو ایسے عہدے پر اور مظلوم عوام کے ساتھھ آکر کھڑے ھوجاو تاکے ثابت ھو کے تم مخلص ھو قوم سے پاکستان سے، مگر افتخار چوھدری صاحب اس قوم کی طرح بیوقوف ہرگز نہیں ہیں جو لاکھوں روپے تنخواہ والی نوکری چھوڑیں اور اس سے بھی زیادہ کی مراعتیں چھوڑیں، سب کچھھ وہیں کا وہیں رکھا ھوا ھے رتی برابر بھی تبدیلی نہیں آئی ھے کسی بھی جگہ بلکے ہر ادارہ مزید انحطاط کا شکار ھے آج۔
غور کریں کہ کچھھ بھی نہیں بدلہ جو جہاں تھا آج بھی وہیں ھے صرف حالات مزید تباہی کی طرف چلے گئے، مشرف صاحب کے دور میں کہیں دس پانچ یہ نام نہاد جہادی مار دئیے جاتے تھے اور آج سینکڑوں کی تعداد میں آرمی نے آپریشن کر کے مار دئیے ہیں اور ھر روز مار رہی ھے، مگر اب یہ ہی آرمی میڈیا کی ہیرو ھے باقی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی رسمی طور پر بیان بازی کر کے اپنے لوگوں میں اپنی جگہ بنائے ھوئے ہیں۔ کرپشن مشرف دور سے کہیں زیادہ بڑھھ گئی ھے جسکا ثبوت یہ کہ ہم کرپٹ ترین ملکوں میں بیالیسویں نمبر سے چونتیسویں نمبر پر آگئے ہیں۔ مگر اب سوموٹو ایکشن کہیں نظر نہیں آرہے کسی جچ کے دل میں پاکستان کے لئیے درد نہیں اٹھھ رہا۔
دو ہزار تیراہ تک سب محفوظ کر دئیے گئے ہیں، آرمی چیف سے لے کر افتخار چوھدری صاحب اور خود زرداری صاحب سب محفوظ کر دئیے گئے ہیں۔ ساری بندر بانٹ ھوچکی ھے نواز شریف صاحب کو پاکستان کے اقتدار کی میوزیکل چئیر پر اپنی باری کا انتظار ھے عوام کو بیوقوف بنانے کے لئیے دکھاوے کے حکومت مخالف بیان دے دئیے جاتے ہیں تاکے عوام ٹھنڈی رہے، اے این پی ، ایم کیو ایم ، جے یو آئی ، یہ سب وہ اینٹیں ہیں جن کے بغیر کسی کے اقتدار کی بھی دیوار مکمل نہیں ھوسکتی اسلئیے یہ سب بھی محفوظ ہیں۔ ہر دور میں غیر محفوظ صرف اور صرف عوام تھے ہیں اور رہیں گے۔

Advertisements
This entry was posted in سیاست. Bookmark the permalink.

11 Responses to زنداں ھے وہ ہی پاوں کی زنجیر وہ ہی ھے ۔ اب کے بھی میرے خواب کی تعبیر وہ ہی ھے ۔

  1. بھائی صاحب ہتھ ہولا رکھو۔ ایک افتخار چوہدری کرے تو کیا کرئے؟۔ آپکے خیالات حکمرانوں کے دل کی آواز ہے کہ افتخار چوہدری کبھی ایک بار اسعفٰی دے سہی تو ایسا ڈوگر لائیں گے کہ پاکستانی عوام کو دن میں تارے نظر آجائیں۔ پورے پاکستان کو بیچنے میں آزاد ہوجائیں گے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ باقی ماندہ قوم بھی افتخار چوہدری بنے۔ بھلے مشرف کا دور قوم سہہ کر ظلم کے سامنے ڈھیٹ ہوچکی ہے ۔ مگر افتخار چوہدری کی طرح اپنے ساتھ رسوائے زمانہ کئیے گئے فیصلوں کے سامنے ڈٹ جائے۔کہ اب رینمائی کے لئیے آسمان سے پیغمبر نہیں اترتے۔ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کا مقابلہ کرنے اور ناانصافی کے سامنے ڈٹ جانے کی ہدایت کر رکھی ہے جو رہتے زمانوں تک یونہی رہے گی۔ مگر ادہر تو یہ عالم ہے کہ ایک گال پہ چانٹا کھا کر بار بار اپنے رخسار مزید چانٹوں کے لئیے پیش کر دئیے جاتے ہیں اور جن سے چانٹے کھاتے ہیں۔ انہیں کی خوشامد اور چاپلوسی کرتے تھکتے نہیں۔

    اس ظلم اور حالات سے مقابلہ کرنے کے لئیے جب عوام کمر باندہیں گے تو انقلابی رہنماء ان کے اندر سے خود بخود سامنے آجائئیں گے۔ یہ قدرت کا اٹل اصول ہے۔

  2. محمد احمد نے کہا:

    اچھی اور سچی تحریر ہے، آخری پیرے میں خلاصہ بھی خوب ہے۔

  3. fikrepakistan نے کہا:

    جاوید صاحب بلکل بجہ فرمایا آپ نے یہ ہی تو میں کہہ رہا ھوں کے افتخار چوھدری صاحب کیوں اس لعنتی سیٹ اپ کا حصہ بنے ھوئے ہیں جب قوم کو ڈلیور نہیں کر پا رہے تو لعنت بھیجیں ایسے منصب پہ اور قوم کے ساتھھ آکر کھڑے ھوجائیں کہ قوم تو پہلے بھی ان کے پیچھے اپنا سب کچھھ قربان کر چکی ھے آجائیں قوم کے ساتھھ اور مہیہ کریں بہترین اور مخلص لیڈر شپ تاکے صحیح معنوں میں ملک و قوم کی خدمت ھوسکے، ایسے مصنوی منصب سے تو قدر بہتر ھے کے اپنی ساکھھ بچائیں اور قوم کی رہنمائی کریں یہ اکھالی کھولی کی ڈرامے بازی کرنے سے کیا فائدہ ھورہا ھے ملک و قوم کو ؟ ایسے ہی مزید تین سال گزر جائیں گے اور وہ اپنے گھر چلے جائیں کے اپنی مدت پوری کر کے پھر ان میں اور باقی لوگوں میں کیا فرق باقی رہ جائے گا ؟

  4. daaljan نے کہا:

    اسلام وعلیکم بھای صاحب کیا حال ہے میرا پہلے والا ویب لاگ ہک ہو گیا ہے اور اب نیا ویب لاگ یہ ہے آہند اس کو دیکھ لینا اور اپنے دوستوں کو ارسال کرنا
    http://daaljan.wordpress.com/ دالبندین آنلاین

  5. گفتاری نے کہا:

    فکر پاکستان صاحب،
    کون دل جلاتے ہو، اپنا بھی اور قوم کا بھی؟ جب وڈے چودھری صاب کی نوکری کے لالے پڑے تو جرنیل سے پنگا لے لیا. اور جب ملک کی لٹیا ڈوبی تھی تو LFO کے تحت حلف اٹھا لیا تھا. شاوا جی شاوا. جسٹس سعید الزمان صدیقی جیسا صاحب کردار، جس نے واقعی "نہیں” بولا تھا، آج کسی کو بھی یاد نہیں، بس وڈے چودھری صاب کی بلے بلے ہے. سلام میری قوم.

    کچھ مکالمات ذہن میں آے تھے، نذر ہیں:
    بچہ جمہورا. جی استاد.
    مونگپھلی کھاۓ گا. جی استاد
    تو پھر نہیں بول کے اپنی فوٹو بنوا. بنوا لی استاد.
    اب نوکری بچانے کے لیے ملک میں تماشا لگا. لگا دیا استاد.
    پبلک لوگ کی سپورٹ مانگتا ہے؟ جی استاد
    پھرعوامی گانا سنا – "چاچا وردی لاہندا کیوں نئیں…”
    بچہ جمہورا، انٹلکچول بابو لوگ بھی کچھ مانگتا ہے، جلدی جلدی نظم سنا – "دنیا کی تاریخ گواہ ہے، کب کوئی منصف قید ہوا ہے…”
    بچہ جمہورا، اب پبلک لوگ کلائمیکس منگتا ہے، جلدی سے لینڈ کروزر میں بیٹھ جا. بیٹھ گیا استاد.
    شاباش جمہورا. اب سب کی نوکری ٣ سال تک پکی کروا کے، بیٹے کو پروٹوکول دلوا کے، سوموٹو نوٹس سے عوام کو بیوقوف بنا کے، پرمٹ بنوا کے، بار کونسل سے خطاب فرما کے، ٹی وی کے پروگرام میں آ کے، کالے کوٹ پا کے، چنگے بچے بن کے، جل شل لا کے، ترچھی نجریا وچ سرما پا کے، اپنی بلو کو ٹرین میں بٹھا کے، مونگپھلی کھاۓ جا.
    استاد، پبلک لوگ کا کیا ہویں گا؟
    جمہورا تجھے پبلک لوگ سے کیا؟ پھر بھی استاد.
    جمہورا، پبلک لوگ کو ابھی نیا تماشا منگتا ہے. ابھی نیا سکرپٹ چلیں گا. ٨٦ سال تک غیرت کے نام پر جلوس کا سکرپٹ، گوگلی پھینک کر وزیر اعظم بننے کا سکرپٹ، سیلاب میں فوج کی مدح کے بینر کا سکرپٹ، سکریپ F – 16 پر خوشی منانے کا سکرپٹ. پبلک لوگ تالی بجائیں گا، اپن لوگ مونگپھلی کھائیں گا.

    وسلام،
    گفتاری

    • fikrepakistan نے کہا:

      گفتاری صاحب پوسٹ سے زیادہ دلچسپ آپ کا تجزیہ لگا مجھے، بہت خوب انداز سے آپ نے حقائق بیان کئیے ہیں۔ یہ ایسی کوئی بیوقوف قوم ھے کے بہت ہی معمولی اور گھٹیا قسم کے لولی پوپس سے بہل جاتی ھے۔ ہاکی ٹیم کی جیت، سندہ کی ثقافت کا دن اس پر جاہلوں کے بھنگڑے، یہ تو شرم کا مقام ھے کے پانچ ہزار سال سے ایک ہی حال میں رہ رہے ہیں کہیں کوئی تبدیلی نہیں ھے یہ تو شرم اور پھٹکار کا مقام ھے جس پر یہ قوم بھنگڑے ڈال رہی ھے، اصل ایشوز سے ہٹا کر قوم کو ان سب بیہودہ کاموں میں لگا دیا گیا ھے، سلام ھے اس قوم کی جہالت کو کہ ٢٠١١ آنے کو ھے اور ہم آج تک اپنی پانچ ہزار سال پرانی گھسی بٹی روایات پر فخر کر رہے ہیں جن سے ہمیں سوائے جہالت کے کچھھ بھی نا ملا۔ جاہل سڑکوں پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں جب کے اشرافیہ ان کی لنگوٹ تک اتار رہی ھے اور انہیں خبر تک نہیں۔

  6. daaljan نے کہا:

    سلام وعلیکم بھای صاحب یہ میرا ویب سایٹ ہے اس کو لنک کر کے اور اپنے دوستوں کو ارسال کر دو آپ کی مہربانی ہو گی جزاک اللہ
    http://www.daaljan.wordpress.com ۔

  7. سارہ نے کہا:

    کیا پاکستان میں رہنے والی باقی سب قومیں علم و فراست کے آعلی درجے پر فائز ہیں کیا وہ سب جہالت سے مبرا ہیں ؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s