جنھیں سحر نگل گئی


جنھیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈتا ھوں میں
کہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈتا ھوں میں
مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ھے
برہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ھے
وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھھ گئی
میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ھے
کٹی ھوئی ہیں انگلیاں رباب ڈھونڈتا ھوں میں.
یہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے یہ کیا ھوا
یہ کتنے پھول ٹوٹ کے بکھر گئے یہ کیا ھوا
پڑی وہ تیز روشنی کہ دمک اٹھی روش روش ( کیاری)
مگر لہو کے داغ بھی ابھر گئے یہ کیا ھوا
انہیں چھپاوں کسطرح نقاب ڈھونڈتا ھوں میں.
بہت دنوں میں راستہ حریم ناز کا ملا
مگر حریم ناز تک پہنچ گئے تو کیا ملا
میرے سفر کے ساتھیوں تم ہی سے پوچھتا ھوں میں
بتاو کیا صنم ملے بتاو کیا خدا ملا
جواب چاہیے مجھے جواب ڈھونڈتا ھوں میں۔

Advertisements
This entry was posted in کچھ اچھا سا. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s