ہمارے گناہ بھی گھٹیا ہیں ہماری نیکیاں بھی گھٹیا ہیں۔


ہمارے گناہ بھی گھٹیا ہیں ہماری نیکیاں بھی گھٹیا ہیں۔ کیا سیاہ بختی ہے ہماری کہ گناہ بھی غیر معیاری کرتے ہیں اور نیکیاں بھی۔
کہیں پہنچنے میں دیر ھوجائے تو بہانہ کر دیتے ہیں کے گاڑی پنکچر ھوگئی تھی، موبائل فون پر کسی نے کوئی کام کہہ دیا تو فوراَ سے جھوٹ بول دیتے ہیں کہ میں ابھی ضروری کام سے فلاں جگہ آیا ہوا ہوں اور بیٹھے گھر میں ہی ھوتے ہیں، ٹریفک سگنل توڑنا تو خیر سے کوئی گناہ ہی نہیں ہمارے نزدیک، کوئی گاڑی والا اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں پہلے جانے کے لئیے راستہ دے دے تو اسے ہم اپنا حق سمجھتے ہیں پلٹ کر اسکا شکریہ ادا کرنا گوارہ نہیں کرتے جبکہ حدیث ھے کہ، جو بندوں کا شکر گزار نہیں وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں ھوسکتا۔
لفظ انشاءاللہ بہت کثرت سے استعمال کرتے ہیں ہم لوگ اور انتہائی افسوس کی بات یہ ھے کہ ہر اس کام کے ساتھھ انشاءاللہ لگاتے ہیں جسکا ہمیں یقین ھوتا ھے کہ یہ کام ہمیں نہیں کرنا یا یہ کام نہیں ھونا، یعنی دوسرے لفظوں میں ہم اللہ کو مورد الزام ٹھیرا رہے ہوتے ہیں کہ میں نے تو چاہا تھا مگر اللہ نے ہی نہیں چاہا، عمومی طور پہ جس کام کے ھونے کا ہمیں پورا یقین ھوتا ھے ہم اسکے ساتھھ انشاءاللہ نہیں لگاتے وہاں ہم پورے یقین کے ساتھھ کہتے ہیں بس آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ھوں میں اور جہاں ہمیں زرا سا بھی شک ھوتا ھے کہ میں نہیں پہنچ پاونگا مگر اس وقت بات بھی رکھنی ھے تو فوراً سے سامنے والے کی تسلی کے لئیے ہم بہت جما کے انشاءاللہ کہتے ہیں، لفظ ادا کرتے ہوئے ہمارے دماغ میں نہ ان لفظوں کی حرمت ھوتی ھے اور نہ ہی پاس.
اھدنا الصراط المستقیمہ، ترجمہ۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ ایک دن میں اڑتالیس بار اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں مگر مسجد سے باہر آتے ہی صراط غیر مستقیم پہ چلنے لگتے ہیں بھول جاتے ہیں کے ابھی ابھی اللہ سے کیا دعا مانگ کر آئے ہیں۔
ایسے سینکڑوں گناہ ہیں جنہیں ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے اور روز مرہ کے معمولات سمجھھ کے کئیے جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ھے کہ چوری ہیرے کی ھو یا کھیرے کی چوری چوری ھوتی ھے، ہمارے ہاں اکژیت ایسے شریف لوگوں کی ھے جنہیں کرپشن کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تو وہ شریف کہلاتے ہیں جبکہ کسی کی شرافت کا اصل پتہ تو تب چلتا ھے کہ جب اس کے پاس پوری طرح سے اختیار ھو اور وہ پارسہ رہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ھے کہ اختیار ملنے کے بعد لوگ بدلتے نہیں بے نقاب ھوجاتے ہیں۔
یہ اور ایسے بے شمار گھٹیا قسم کہ گناہ ہیں جو ہمارے معمولات میں شامل ہیں جنہیں عرف عام میں بے لذت گناہ کہا جاتا ھے۔ ٹھیک یہ ہی معاملہ ہماری نیکیوں کے ساتھھ ھے.
حدیث ھے کہ مومن وہ ھے جو دوسروں کے لئیے بھی وہ ہی پسند کرے جو اپنے لئیے پسند کرتا ھے، پچھلے دنوں سیلاب آیا جس سے بہت بڑے پہمانے پر تباہی پھیلی ہم نے اپنی ویلفئیر سوسائٹی کے باہر امدادی کیمپ لگایا تاکہ صاحب حیثیت لوگ اپنے پریشان حال مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئیے سامان جمع کروائیں، لوگوں نے اپنے گھر کا وہ کچرا جو کے انہیں بحرحال پھینکنا ہی تھا وہ کپڑے جو کہ اب مزید انہیں استعمال نہیں کرنے تھے ایسے کپڑوں کا ڈھیر لگا دیا ہمارے کیمپ پہ، سینکڑوں لوگوں نے امداد دی کپڑے بھی دئیے اللہ کا صرف ایک بندہ ایسا تھا جس نے بلکل نئے کپڑے امداد میں دئیے ہمارے کیمپ کو باقی کم از کم تین ٹرک کے مساوی کپڑے ایسے تھے جو کچرا تھے اور وہ انہیں پھینکنا ہی تھے۔
استحکام اسلام کے لئیے ضرورت تھی تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے امداد کی اپیل کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اپنے گھر کا سارا سامان حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لا کے رکھھ دیتے ہیں، پوچھا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ گھر میں کیا چھوڑا ؟ فرمایا اللہ اور اللہ کے رسول صلی علیہ وسلم کا نام، انتہائی خستہ حال لباس زیب تن کیا ہوا تھا اس وقت اللہ تعالی کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہہ کی یہ ادا اتنی پسند آئی کے علماء بتاتے ہیں کہ آپکا اس وقت کے لباس کو فرشتوں کی وردی کا درجہ دے دیا۔
ابھی عید قرباں گزری ھے ہر صاحب حیثیت پر قربانی فرض ھے اگر حیثیت نہیں ھے تو مت کرو قربانی مگر زیادہ تر لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا کے مہنگائی بہت ہے گنجائش نہیں بن رہی تھی مگر بچے بہت ضد کر رہے تھے بچوں کی خوشی کی خاطر لانا پڑا جانور، اور جو صاحب حیثیت لوگ ہیں وہ بڑے فخر سے جانور کی قیمت زیادہ کر کے بتاتے ہیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فکر میں مہنگے سے مہنگا جانور لائے اور پھر باقئیدہ نمائش کی گئی جانورں کی، یہ کون سا جذبہ ھے جسکی تسکین کے لئیے لوگ ایسا کرتے ہیں ؟.
مسجدوں میں نمازیوں کے سامنے سے اکژ انتظامیہ کی طرف سے ایک ڈبہ گزارا جاتا ھے جس میں دس روپے کوئی پانچ روپے ڈال رہا ھوتا ھے، سوچیں جو دس پانچ روپے بھکاری کو دیتے ہیں ہم انتی ہی رقم اللہ کے گھر کے لئیے دے رہے ھوتے ہیں، اور بعض جگہ جب نماز ختم ھوجاتی ھے تو دو چار لوگ ایک کپڑا چاروں کونوں سے پکڑے مسجد کے دروازے پر کھڑے ھوجاتے ہیں کے مسجد کے انتظامی امور چلانے کے لئیے مدد کرتے جائیں وہیں بھکاری بھی کھڑے ھوتے ہیں اور وہیں یہ لوگ بھی کھڑے اللہ کے گھر کے لئیے مدد مانگ رہے ھوتے ہیں، یہ کیا عمل ھے ؟ اللہ کا گھر بھیک کے پیسوں سے بنا رہے ہیں اور بھیک کے پیسوں سے چلا رہے ہیں کیا ستم ہے یہ کس مقام پہ آگئے ہیں ہم ؟۔
مدرسوں میں لوگ اپنے بچوں کو علم کے حصول کے لئیے بھیجتے ہیں کیا ستم ہے یہ کہ مدرسے کی انتظامیاں ان معصوم بچوں کے ہاتھھ میں بھیک کا کٹورا پکڑا کر انہیں سڑکوں پر مدرسے کے لئیے بھیک مانگنے جیسے گھٹیا کام پہ لگا دیتی ھے اور ان بچوں کے والدین کو بھی پتہ ھوتا ہے کے مدرسے والوں نے بھیک مانگنے پر لگایا ھوا ہے ہمارے بچے کو مگر وہ جاہل اسے نیکی کا کام سمجھھ رہے ھوتے ہیں اور خوش ھورہے ھوتے ہیں اپنے بچے کو بھکاری بنتا دیکھھ کر، ستم یہ ہے کہ اب بھی سوچنے سمجھنے کے لئیے تیار نہیں ہم نہ ہی اپنے یہ رویئے بدلنے کے لئیے تیار ہیں نہ اپنی یہ زنگ آلود سوچ بدلنے کے لیئے تیار ہیں.
محض تین سو روپے کی چیٹنگ کرنے پر ایک صاحب کی نوکری گئی ہے، تین سو روپے کی چیٹنگ سے کیا تیر مار لیتا وہ تین کروڑ کی کرتا تو سمجھھ بھی آتی بات کے چلو گناہ کیا مگر لذت والا تو کیا مگر یہ کیا سوچ ہے جس میں مفت کی بدنامی لی جارہی ہے، ہماری یہ ہی سوچ یہ ہی روئیے ہیں جنکی وجہ سے ہمارے گناہ بھی گھٹیا ہیں اور نیکیاں بھی گھٹیا ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

11 Responses to ہمارے گناہ بھی گھٹیا ہیں ہماری نیکیاں بھی گھٹیا ہیں۔

  1. اور کوئی افتخار اجمل بھوپال ٹريفک رُکنے کے انٹطار ميں کھڑا ہو تو نہ صرف اسے پوری رفتار سے ٹکر ماتے ہيں بلکہ وہ اُندھا گر جائے تو بچ نکلنے کيلئے موٹر سائيکل کے سميت اس کے اُوپر سے گذر جاتے ہيں

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخاراجمل صاحب آپ تو زندہ مثال ہیں ہمارے سامنے معاشرے کی اس درندگی کی، نہ جانے کتنے ہی افتخار اجمل ہر روز ہماری اس بے حسی کا نشانہ بن رہے ہیں،

      حادثے سے بڑھھ کر ثانحہ یہ ھوا
      کوئی ٹھیرا نہیں حادثہ دیکھھ کر۔

  2. سچی بات ہے بھائی، بہت سوچ افزا تحریر ہے۔ غور کریں تو بہت کچھ ہے اس میں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      غور و فکر ہی تو نہیں کرنے دیا جارہا ہمیں بھائی کوئی بتانے والا نہیں ہمیں کے قوموں کی تقدیر بدلتی ہی غور ہ فکر کرنے سے ہے۔

    • م بلال نے کہا:

      بہت خوب۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہو۔۔۔آمین
      جن کاموں کے نہ ہونے کا اندیشہ ہو تو انشاءاللہ لگایا جاتا ہے اور جو کام ہونے ہوں تو انشاءاللہ نہیں لگاتے، اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صرف مشکل یا تکلیف میں اللہ کو یاد کرتے ہیں جبکہ خوشی یا جہاں یہ پتہ ہو کہ فلاں کام ضرور کر لیں گے تو پھر اللہ یاد ہی نہیں رہتا۔
      آپ کی بات ”ہمارے ہاں اکژیت ایسے شریف لوگوں کی ھے جنہیں کرپشن کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تو وہ شریف کہلاتے ہیں“ یہ تو آپ نے خوب کہی واقعی ہماری اکثریت ایسی ہی ہے۔
      باقی مدرسوں کا نظام اور انتظامیہ والی بات پھر کبھی لیکن آپ نے جو کہا ”مدرسوں میں لوگ اپنے بچوں کو علم کے حصول کے لئیے بھیجتے ہیں“۔ دوست کبھی اس بات پر سوچنا اور اگر مدرسوں کا دورہ کرنے کا موقعہ ملے تو دیکھنا کہ زیادہ تر کون لوگ اور اپنے کس قسم کے بچوں کو مدرسے بھیجتے ہیں؟ مولوی تو ویسے ہی اب کسی کام کا نہیں رہا لیکن شاید اس میں صرف مولوی کا ہی قصور نہیں۔
      خیر آپ کی تحریر بہت اچھی تھی۔ جس نے کافی کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        بلال صاحب تحریر کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ، لفظ انشاء اللہ کا استعمال ہم لوگ بلکل ہی غلط معنوں میں کر رہے ہیں انشاء اللہ کا مطلب ھے کہ اللہ نے چاہا تو، اللہ کے چاہنے نا چاہنے کے بھی کچھھ پیمانے ہیں اللہ نعوذو بااللہ کوئی ڈکٹیڑ نہیں ہیں کے جس پر دل آگیا اسے نواز دیا اور جو پسند نہیں آیا اسے دھتکار دیا، اللہ حکیم و کلیم ہیں قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک قول نہیں بدلا جاتا اللہ کا چاہنا بھی اسکے بنائے ھوئے قانون کا پابند ہے، اللہ کے چاہنے نہ چاہنے کہ کچھھ اصول ہیں کچھھ ضابطے ہیں، یہ اللہ کا وعدہ ھے کہ اس نے جو طے کردیا تو پھر تم اس میں کوئی تبدیلی نہیں پاو گے، کبھی ایسا ھوا ھے کہ سورج کو ایک ہفتے کی چھٹی دی ھو اللہ نے ؟ اللہ نے جس چیز کے لئیے جو قانون بنا دیا وہ اس قانون کو ہی فالو کر رہی ھے، یہ ہماری کم عقلی ھوتی ھے کہ شاید معجزاتی طور پہ کوئی چیز اپنی روش تبدیل کرلیگی، ایسا ہرگز نہیں ھے اسلئیے ہمیں لفظ انشاءاللہ کا استعمال بہت سوچ سمجھھ کے قدرت کے قانون کے عین مطابق عوامل میں ہی استعمال کرنا چاہیئےایسا نہیں ھونا چاہیے کہ ہمارا عمل قدرت کے قانون کے خلاف ھے اور پھر بھی یہ ضد کے، اللہ نے چاہا تو، فلاں کام ھوجائے گا یہ اللہ کو مورد الزام ٹھیرانے کے مترادف ھے۔

  3. عادل بھیا نے کہا:

    بھیا بظاہر یہ بہت چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں بلکہ ہم تو انہیں گناہ سمجھتے ہی نہیں۔ لیکن اکثر یہی چھوٹی چھوٹی باتیں پریشان کر دیتی ہیں کہ کیسے انسے جان چھُڑائی جا سکتی ہے؟ نہ جانے کس طرف جا رہا ہے ہمارا معاشرہ اور کیا بنے گا ہمارا۔۔۔
    خیر اچھے عنوان پر لکھا ہے آپنے۔۔۔ جب تک ہم ان گناہوں کو گناہ نہیں سمجھیں گے تب تک ان سے جان چھُڑانا بھی مشکل ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      دن میں بھٹک رہے ہیں جو منزل کے واسطے
      وہ لوگ کیا کریں گے،اگر رات ھوگئی ؟۔

      اس بگاڑ پر ماتم کرنے والا کوئی نہیں ھے نہ ہی کوئی راہ دکھانے والا ھے سارے رہنما بس راہ سے بھٹکانے کے لیئے ہیں ہمارے۔

  4. عادل بھیا نے کہا:

    جی بلکل بجا فرمایا آُپنے بھیا۔ اوپر تبصرے میں یہ بھی خوب کہا کہ قوموں کی تقدیر بدلتی ہی غوروفکر کرنے سے ہے۔

  5. Asif Ali Ansari نے کہا:

    bohat he umda tehrir hey , Allah apko khush rakhey , Aameen

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s