غریب کے بچوں کو جہاد کی تلقین کرنے والوں کی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں ؟


پاکستان کے معصوم اور بدقسمتی سے کم علم رکھنے والے پاکستانیوں کو جس طرح اس نام نہاد جہاد کے لئیے استعمال کیا گیا اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں.
زرا ملاحظہ کیجئیے ان درندوں کی درندگی کہ غریبوں کو جہاد کا درس دینے والے دنیاوی تعلیم کو کفر قرار دینے والے لڑکیوں کے اسکول تباہ کرنے والوں کے ان حمایتیوں نے دولت اور اقتدار کی خاطر غریب کے بچوں کو تو خود کش بمبار بنا دیا جہاد کے نام پہ مروا دیا مگر انکی اپنی اولادوں کو اس نام نہاد پری پیڈ ( پری پیڈ اسلئیے کہا کے جنگ میں تو مال غنیمت جنگ ختم ھونے کہ بعد آتا ھے مگر یہ کیسا پری پیڈ جہاد ھے جس میں مال غنیمت یعنی ڈالر، ہتھیار، لینڈ کروزر، پراڈو، اور بے انتہا دولت پہلے ہی آجاتی ھے) جہاد کے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیا، ملاحضہ کیجئیے انکی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمان تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کے باپ ہیں، انکے ایک بیٹے اسد محمود خیر المدارس ملتان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ساتھھ ساتھھ دنیوی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ھوا ہے، دوسرے بیٹے انس محمود ڈی آئی خان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ تیسرے بیٹے اسجد محمود حفظ قرآن میں مگن ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی نہ فدائی بنا نہ ہی کسی نے افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور نہ ہی کشمیر میں ہنود کے خلاف جہاد کا حصہ بنا۔ مولانا سمیع الحق یہ بھی غریبوں کے بچوں کو نام نہاد جہاد میں مروانے میں پیش پیش رہے ہیں اور ابھی تک ہیں، مولانا سمیع الحق نے دو شادیاں کی ہیں، ایک بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ھے، ایک بیٹے کا نام مولانا حامد الحق حقانی ھے جو جامعہ حقانی سے تعلیم کے حصول کے ساتھھ ساتھھ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں، گذ شتہ اسمبلی میں ایم ایم اے کے ٹکٹ سے منتخب ھوئے اور قومی اسمبلی کے ممبر بنے، دوسرے بیٹے ارشاد الحق حقانی عالم دین ہیں اور حافظ قرآن ہیں یہ ماہنامہ الحق کے مدیر ہونے کے ساتھھ ساتھھ اپنے اپنے دارلعلوم میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، یعنی ہر طرف سے مال بنا رہے ہیں مگر جہاد کے لئیے غریب کے بچوں کو بھیجتے ہیں۔
مولانا سمیع الحق کی دوسری بیوی سے بھی دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں مگر وہ ابھی کمسن ہیں مگر انہیں بھی جہاد پہ بھیجنے کا مولانا کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ جہاد اور امریکہ دشمنی کے بظاہر ایک اور علمبردار صاحبزادہ فضل کریم ہیں انکے ایک بیٹے حامد رضا نے ایم اے اسلامیات، ایم بی اے، اور لندن کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ھے اور اپنا بزنس رن کر رہے ہیں، دوسرے بیٹے حسن رضا لاہور کے ایک کالچ میں زیر تعلیم ہیں، تیسرے بیٹے محمد حسین رضا دینی تعلیم کے ساتھھ ساتھھ جی سی یونیورسٹی سے دنیاوی تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں، جبکہ چھوتھے بیٹے محمد محسن رضا کالچ سے دنیاوی تعلیم لینے میں مصروف ہیں، مولانا سمیع الحق صاحب کی کوئی اولاد بھی جہاد میں حصے دار نہیں ہے۔
دنیا جانتی ھے کہ ہمارے اس خطے میں جہادی سوچ کی بنیاد جماعت اسلامی نے رکھی اس جماعت نے آج تک ہزاروں معصوم غریب بچوں کو لوگ اس نام نہاد جہاد میں جھونک دیا اس جماعت کے امیر منور حسن صاحب ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے والد ہیں انکے دونوں بچے کراچی میں معمول کی زندگی گزار رہے ہیں بیٹی کی شادی ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی کی ھے اور انکا بیٹا طلحہ کراچی یونیورسٹی سے ماسڑز کی ڈگری لئیے ہوے ھے اور اس وقت آئ ٹی اور پراپرٹی کے کاروبار میں مگن ھے مگر جہاد کیا ھوتا ھے میدان جنگ کسے کہتے ہیں اسکا دور کا بھی واسطہ نہیں ان سب سے۔
اس ہی جماعت کے سابق امیر قاضی حسین احمد جو کے سب سے بڑے زمے دار ہیں ہمارے معاشرے میں یہ جہاد کے نام پہ فساد پھیلانے میں سب سے زیادہ بچے اس ہی شحص نے مروائے ہیں انکے اپنے بچے کیا کر رہے ہیں ملاحضہ کیجئیے، انکے بڑے صاحبزادے آصف لقمان قاضی ہیں جو کے امریکہ ( کفر کی علامت ) سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کے ساتھھ ساتھھ اپنے بزنس میں مصروف ہیں، جبکہ دوسرے بیٹے ڈاکڑ انس قاضی پرائیویٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پشاور میں صحت کے شعبے میں کاروبار کررہے ہیں۔ایک اور صاحب ہیں پروفیسر ساجد میر، انکے بھی دو بیٹے ہیں ایک بیٹے احمد میر  نے نائیجیریا سے میڑک کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ڈگری لی اور اس وقت سیالکوٹ میں گڈز فارورڈنگ کا بزنس چلا رہے ہیں، دوسرے بیٹے عاقب میر نے بھی نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد الخیر یونیورسٹی لاہور سے ام سی ایس کیا ھے اور اس وقت کینڈا کی ایک کمپنی سے وابسطہ ہیں۔باقی بچے وہ فوجی جرنیل جنھوں نے بورے بھر بھر کے امریکہ سے ڈالر لئیے ہیں اس  پری پیڈ جہاد کے لئیے تو ان میں سے بھی کسی ایک کی بھی اولاد نے اس جہاد میں عملی حصہ نہیں لیا سب کی اولادیں بیرون ملک پڑھی ہیں اور کتنے تو وہیں سیٹلڈ ھوگئیے ہیں، حمید گل نے ٹی پر خود اقرار کیا تھا کے امریکہ سے ڈالر آتے تھے اور جو ملا جتنے بچے لاتا تھا جہاد کے لئیے ہم اسے فی بچے کے حساب سے ڈالر دیا کرتے تھے۔  تو یہ ہیں ہمارے نام نہاد مذہبی رہنما جنکا کردار واضع ھے کہ دولت کی خاطر کیسے انہوں نے غریب کے بچوں کو مروایا اور اپنے بچوں کو بیرون ملکوں میں اعلی سے اعلی تعلیم دلوائی کاش انکا بھی احتساب ھو اور انکو بھی اس ہی طرح سر عام لٹکایا جائے جسطرح غریب کے بچے جہاد کے نام پر مار دئیے گئے

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

48 Responses to غریب کے بچوں کو جہاد کی تلقین کرنے والوں کی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں ؟

  1. Gul Khan نے کہا:

    ماشاء اللہ بھائی
    آپ نے بہت اچھے انداز میں ایک بہت اہم قومی مسئلے پر اپنے دلائل پیش کئے بظاہر تو اسوقت آپ کی بات سو فیصد درست معلوم ہو رہی ہے
    اصل حقیقت تو اسوقت معلوم ہو گی جب کوئی آپکے کئے گئے دعوے کو جھٹلائے
    کیا کوئی ہے جو یہ کہ سکے کہ قاضی صاحب،منور حسن،مولانا فضل الرحمٰن یا دیگر کا کوئی بیٹا یا بیٹی بھی کسی معرکے میں شہادت پا گیا ِ؟؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      جناب اکثر کی اولادیں تو پاکستان میں ہی نہیں ہیں وہ بیوقوف ہیں کیا جو اس نام نہاد جہاد کے چکر میں پڑیں گے، وہ تو امریکہ سے ڈالر لے کر مزے کر رہے ہیں جہاد کا کام تو غریب کے بچوں کو سونپا ھوا ھے نہ۔

  2. پتہ نہیں کیوں آپکی تحریر سے ہمیں "حبِ علی” کی بجائے "بغضِ معاویہ” کی بُو آتی ہے۔ ہم آپ کو ضرور داد دیتے اگر آپ اس گرو کے بارے میں بھی کچھ لکھتے جن کی نمائیندگی آپ عام طور پہ کرتے رہتے ہیں۔ جی ہاں آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کونسی ۔۔ وہ وہی والے جو بھتہ لیتے ہیں اور مافیا تحریک چلاتے ہیں اور بوری بند لاشیں جن کا ٹریڈ مارک ہے۔

    کیونکہ صرف انھی لوگوں کو برا بھلا کہہ دینا جن سے آپ کو اختلاف ہو اور بغیر مکمل معلومات کے برا بھلا کہنا یہ تو پاکستانی معاشرے کا ایک عام سا چلن ہے۔ اس میں کوئی خاص نئی بات نہیں۔

    ویسے آپ سے گزارش ہے کہ اسطرح کا مضمون لکھنے سے پہلے اپنی معلمات کو اچھی طرح اپ ڈیٹ کر لیا کریں۔ صرف ایک مثال۔ قاضی حسین احمد جدی پشتی تاجران ہیں۔ یعنی بزنس کرتے آئے ہیں اور اسطرح کی بہت سی باتیں ہیں جن کے بیان کرنے سے آپکی تحریر اور آپکے جزبات ٹھنڈے ٹھار ہوجائیں گے۔

    آپ کی کاوش یا کسی بھی فرد کی کاوش کی قدر اسی وقت ہوتی ہے جب وہ ہر قسم کی جانبداری یا اختلاف سے بلند ہو کر لکھے۔ ورنہ اردو بلاگنگ جانبداروں سے پٹا پڑا ہے ایک اور سہی۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید بھائی میری کسی ایک بھی پوسٹ میں کہیں ایک جگہ بھی آپ مجھے دکھا دیں جہاں میں نے کسی بھی جماعت کی حمایت کی ھو، آپ جیسے لوگ ایسی باتیں کر کے خود مجبور کرتے ہیں جانبداری کے لیئے، جو سچ ھے اسے مانیں، اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے مفادات کے لئیے کسی کو مارتی ھے یا مرواتی ھے تو یہ سراسر غلط ھے اسکی تائید کوئی بھی نہیں کر سکتا، مگر یہاں معاملہ مذہب کا ھوتا ھے کوئی بھی انسان اپنی جنت اور اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیئے ان مذہبی جماعتوں کے پیچھے چلتا ھے ایسے میں اگر اسکے ان معصوم جذبات کا فائدہ اٹھا کر ڈولر کمانے کا زریعہ بنایا جائے اسے مذہب کے نام پر استعمال کیا جائے تو اس سے زیادہ گھناونا عمل کوئی ھو ہی نہیں سکتا، میں نے پہلے بھی لکھا تھا کے سیاسی جماعتیں تو ہماری کھلی دشمن ہیں وہ کم از کم جنت کے نام پر تو ہمیں نہیں بہکا رہیں، یہ درندے تو جنت کے نام پر معصوم لوگوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں، جو انکی حمایت کرے وہ بھی کسی بھی لحاظ سے معافی کا مستحق نہیں ھے وہ بھی برابر کا شریک ھے ان کے اس گھناونے فعل میں۔

  3. نوازچوہدری نے کہا:

    بہت اچھی اور معلوماتی تحریر ھے۔

  4. بدتمیز نے کہا:

    تحریر سے جزوی طور پر متفق مگر لکھنے والی پر صد افسوس

  5. کاشف نصیر نے کہا:

    آپ نے یہ پورا آرٹیکل سلیم سافی کا چھاپ دیا ہے خود بھی کچھ لکھا کریں۔
    ویسے آپ کو بتاتا چلوں کہ جو لوگ جہاد پہ جاتے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ان مولویوں میں سے کسی ایک سے بھی متاثر نہیں ہوتا اسکے سامنے ان لوگوں کی اعلی مثالیں ہوتی ہیں جو اپنے اربوں کھربوں کی جائدادیں اور کمپنیاں چھوڑ کر صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے میدان جہاد کا رخ کرتے ہیں۔ جو آپ نے گنائے یہ سارے کہ سارے مزے کر رہے ہیں اور مجاہدین کو ان میں کسی کی کوئی فکر نہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      حق اور سچ کہیں سے بھی ملے لے لینا چاہیئے سلیم صافی صاحب سے مواد ضرور لیا ھے اگر جھوٹ اور غلط ھے تو آپ ثابت کردیں، اور یہ بھی آپ نے خوب کہی کہ جہاد کرنے والے ان سے متاثر نہیں ھوتے یا ان کے کہنے پہ نہیں چلتے، یہ جتنے بھی نام ہیں یہ سب مدرسہ ھولڈر ہیں اور اپنے اپنے مدرسوں سے ایسے ہی دہشت گرد پیدا کر کے معاشرے کو ڈلیور کر رہے ہیں، خود میں ذاتی طور پہ ایسی فیملیز کو جانتا ھوں جن کے لخت جگر جماعت اسلامی نے مروائے ہیں جہاد کے نام پر۔

      • بدتمیز نے کہا:

        جناب حق بات لے کر لکھ کر آخر میں لکھ دیا کریں کہ یہ حق بات کس نے لکھی تھی۔ دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت

  6. fikrepakistan نے کہا:

    میرے بھائی یہ معلومات ایسی ہیں جو کسی کتاب سے یا کسی ٹیکسٹ بک سے نہیں مل سکتییں، یا یہ حقائق کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھائے جاتے، اصل مسلہ یہ نہیں کے کون کہہ رہا ھے اصل مسلہ یہ ھے کہ کیا کہہ رہا ھے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ھے کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ھے یہ دیکھو کیا کہہ رہا ھے.

  7. Tariq نے کہا:

    Hi brother i just can its not comprehensive its just copy paste of one party mind set, you can not fingure other untill yourself is clean. Two wrong never make right. Its politics not religion… And you are using it sorry but better come out with some solutions its not enough like dr shahid masood.

    • fikrepakistan نے کہا:

      طارق صاحب پہلی بات تو آپکی خدمت میں یہ عرض ھے کہ میرا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ھے، میں نے کبھی بھی کسی سیاسی پارٹی کی حمایت میں کچھھ کہا ھے تو سامنے لائیں، دوسری بات یہ کہ سیاسی جماعتیں تو ہیں ہی کرپٹ انکا کون فیور کر رہا ھے ؟ لیکن اتنا ضرور ھے کہ وہ دین کے نام پر قوم کا استحصال نہیں کر رہے وہ جو کر رہے ہیں کھلے عام کر رہے ہیں کم از کم مذہب کا استعمال نہیں کر رہے، یہ جو نام نہاد مذہبی جماعتیں ہیں ان کے پیچھے لوگ اپنے جنت تلاشتے ہوئے چلتے ہیں کسی کے مذہبی جذبات کو اپنے مفادات کے لیئے استعمال کرنا، اس سے زیادہ گرا ھوا فعل کوئی ھو ہی نہیں سکتا۔

  8. Amir نے کہا:

    بحث کو خواہ مخواہ ادھر سے ادھر گھمانے کی کوشش کی جا رہی ہے صرف واضح لفظوں میں یہ بیان کر دیا جائے کے لکھنے والے نے جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں اس میں کوئی جھوٹ ہے یا نہیں ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      عامر بھائی آپ نے بلکل بجہ فرمایا بات کو اس کے اصل مغز سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ھے، اور ایسا اسلئیے ہے کہ ان حقائق سے کچھھ لوگوں کے ناخداوں کا کردار سامنے آرہا ھے ناقابل تردید دلائل کے ساتھھ اسئلیے ان کے پاس اس بات کی وضاحت کے لئیے تو کچھھ ھے ہی نہیں کیوں کے یہ لوگ جانتے ہیں کے یہ سب سچ ھے اور حقیقت ھے، مگر سچ کو مان کر بھی نہیں ماننا بس آنکھیں بند کر کے اپنے ناخداوں کے پیچھے چلنا ھے قوم کے بچے مروانے ہیں تو حقائق کو تسلیم کیسے کریں گے یہ لوگ، ان کے پاس ان سے حقائق کے تردید کے لییے ھے ہی کچھھ نہیں سب جانتے ہیں کے یہ سب سچ ھے، ان میں تو اتنی بھی اخلاقی جرت نہیں کے اپنے ان ناخداوں سے ہی یہ سوال کر سکیں کے یہ سب کیا ھے ؟ تمہارے بچے انسان کے بچے ہیں اور ہمارے بچے جانور کے بچے ہیں جو تم ہمارے بچے تو ڈالر کے عوض مرواتے ہو اور اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلواتے ھو اور انہیں اس نام نہاد جہاد سے دور رکھتے ھو۔ کون کرے گا یہ جسارت ؟

  9. جناب ۔ بادی النظر ميں لکنے والے نے درست لکھا ہے مگر ميں تو اس کے اندر کچھ مفروضے ديکھ رہا ہوں ۔ صرف ايک سوال پوچھنے کی جسارت کروں گا ۔ فضل الرحمٰن ۔ قاضی حسين احمد اور منور حسن صاحبان کے کفتار و کردار سے مجھے کئی اختلافات ہيں مگر يہ لوگ پچھلے کم از کم بيس سال سے منظرِ عام پر ہيں مگر خود کُش دھماکے چھ سا سال قبل شروع ہوئے ۔ ايسا پہلے کيوں نہ ہوا ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب یہ معاملات اتنے آسان نہیں کے ان کے نتائج فوراً ہی سامنے آجائیں،
      وقت کرتا ھے پرورش برسوں
      حادثہ ایک دم نہیں ھوتا۔
      یہ معاملات گنے کی مشین تھوڑی ھوتے ہیں کے ادھر گنا ڈالا اور دوسری طرف سے جوس نکال لیا، یہ انیس سو اسسی کا رونا ھے جو آج پوری قوم کو رونا پڑ رہا ھے، اور جو آج بربادی ھورہی ھے اسکا بھگتان آنے والی نسل کو دینا پڑے گا۔

  10. kafeel_Ahmad نے کہا:

    سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ،قاضی حسین احمد ،منور حسن اور ان جیسے دیگر جہاد کے نعرے لگانے والوں کی اولادیں بھی اس جہاد فی سبیل اللہ میں شہید ہوئیں یا نہیں ِِ؟؟؟؟
    موضوع یہ نہیں ہے کس تنطیم نے کیا کیا ، آپ اس کے خلاف نہیں لکھتے،کون بھتہ مافیا ہے یا بوری میں بند لاشیں کس کا ٹریڈ مارک ہے
    اگر ان مولویوں کی اپنی اولادیں جہاد میں شہید نہیں ہوئیں تو بات ختم ہو جاتی ہے اور اس بات کو بہت سنجیدگی سے لینا ہو گا ان قوم کے راہنمائوں سے سوال کرنا ہو گا کے ایسا کیوں نہیں ہے آپ کب اپنے بچوں کو فدائی حملہ نہ سہی فدائی کی ٹریننگ ہی کے لئے کب بھیجیں گے

    • fikrepakistan نے کہا:

      کفیل صاحب بات یہ ھے کہ ان کے پاس ان حقائق کو جھٹلانے کے لئیے کوئی دلیل ھے ہی نہیں یہ اٹل حقیقت ھے جو بہت سے لوگ نہیں جانتے اور یہاں یہ سب لکھنے کا مقصد ہی یہ ھے کہ لوگوں کو ان کے مکرو چہرے دکھائے جائیں جو غریب کے بچوں کو تو بچپن سے ہی مذہب کے نام پہ جہاد کا درس دیتے ہیں یہ لوگ معصوم بچوں کو ایسی تربیت دیتے ہیں کے انہیں یہ تاثر ملتا ھے کہ اسلام کا مطلب ہی جہاد ھے بس، اور جہاد بھی وہ نام نہاد جہاد جس میں انکا مفاد پوشیدہ ھوتا ھے، قرآن شریف میں اٹھائیس آیات مبارکہ میں جہاد کا ذکر ھے جن میں سے صرف آٹھھ کا تعلق قتال سے ھے باقی بیس آیات مبارکہ کا تعلق معاشرت سے ھے، یہ درندے صرف ان آٹھھ آیات کا ذکر کرتے ہیں معصوم بچوں کے سامنے باقی بیس آیات مبارکہ نہیں بتائی جاتیں جنکا تعلق معاشرت سے ھے، یہ سب ڈھونگی ہیں مذہب فروش ہیں یہ مذہب فروشی میں معصوم بچوں کو درندہ بنانے تک سے گریز نہیں کرتے، اور اپنے بچوں کو ناز ہ نم میں پالتے ہیں انہیں دنیاوی تعلیم دلواتے ہیں امریکہ کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے بچے امریکہ میں ہی پڑھواتے ہیں، اور غریب کے بچوں کو تلقین کرتے ہیں کے دنیاوی تعلیم تو کفر ھے علم صرف دین کا ھوتا ھے، یہ اپنے مفادات کی خاطر دین تک میں تبدیلی کر دیتے ہیں غلط تشریحات کر کے بتاتے ہیں تاکے لوگ جاہل رہیں اور انکے دکانیں چلتی رہیں۔جب کوئی جواب نہیں بن پڑتا تو معاملات کو گھماتے ہیں آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں تاکے لوگوں کا ذہن اصل معاملے سے ہٹ جائے مگر اب اللہ کا شکر ھے کہ یہ اتنے ننگے ھوچکے ہیں کے اب انہیں کہیں جگہ نہیں ملنے والی یہ بھی انشاءاللہ کتے کی موت ہی مرینگے جیسے انہوں نے معصوم لوگوں کو مروایا ھے نام نہاد جہاد کے نام پر۔

  11. abdullah adam نے کہا:

    asslam o alyum

    yeh sb jihad ka naam laytay hain…………..jo krtay hain un a sb kuch isi liyay hota hay or hay……..

    kisi jgh say copy paste krain to ref day dia krain………..

    logo a husn zn qaim rehta hay

    w slam

  12. Ameen نے کہا:

    Great Shairing

  13. daaljan نے کہا:

    میں ان ملاؤں،مفتیوں، تبلیغیوں اور ان سارے مسلمانوں سے کہتاہوں
    جوجہادکو بھول کر آرام سے بیٹھ گئے ہیں ۔
    اگرتم اپنے بچوں کے دفاع اور حفاظت کی خاطر کسی بھی چیز سے دریغ نہیں کرتے،اگرکوئی تمہارے کتوں اور مرغیوں کومارڈالے تو سالہا سال تک لڑنے سے گریز نہیں کرتے،
    اس وقت نہ توکسی مفتی سے فتویٰ طلب کرتے ہو اورنہ ہی کسی مولوی سے پوچھنا گوارا کرتے ہو۔
    لیکن جب جہادکے فرض عین ہوجانے کی خبرسامنے آجائے توپھر فتووں کے پیچھے پڑجاتے ہو ،
    کبھی کہتے ہو کہ جہاد کیلئے شرعی امیرنہیں اورکبھی کہتے ہو کہ ہم جہاد کے لیئے تیار نہیں،کبھی کہتے ہوکہ ہم کس کی بات مانیں؟
    اورکبھی کہتے ہو کہ مسئلہ دعوت اور تبلیغ سے حل ہوجائے گا میں آپ سے درخوست کرتاہوں کہ جس طر ح تم کسی شخص کی دشمنی کے وقت کسی کی نہیں مانتے
    اسی طرح جہاد کے وقت بھی اللہ اور رسولۖ کے علاوہ کسی کے فرامین کومت مانو جو صراحت سے جہاد کے فرضیت کا اعلان کرتے ہیں۔
    اب بھی جہاد نہ کرنے کیلئے کو ئی عذر معذر ت باقی ہے؟ نہیں ہرگزنہیں بلکہ تمام مسلمانوں خصوصاً علما حضرات کے لئے ضروری اور لازمی ہے
    کہ جہادکیلئے نکل جائیں اور اپنے ان ازلی شیعہ رافضی کفار یہودی دشمنوں سے قتال کریں جومسلم علاقوں پرقبضہ کرکے اہل اسلام کی عزت و آبرو کو پامال کر رہے ہیں۔
    روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو شہید اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی کررہے ہیں۔
    ہمیں چاہیے کہ رافضی کفار کو ایسی عبرتناک شکست دیں جس طرح کہ ہمارے نبی محمدۖ، و اصحاب کرام نے شکست دی تھی۔
    دالبندین آنلاین
    http://daaljan.wordpress.com/

  14. fikrepakistan نے کہا:

    بہت اچھی باتیں کی ہیں آپ نے دالجان صاحب، لیکن مسلہ یہ ھے کہ کفار کو صرف جذباتی باتوں یا جذباتی نعروں سے تو زیر نہیں کیا جاسکتا، امریکہ بچاس ہزار فٹ کی بلندی سے بم برساتا ھے کیا بغیر پائلٹ کے ڈرون سے بم برساتا ھے، ایسے میں ہم علم و ہنر سے آری لوگ کیا بگاڑ لیں گے اسکا ؟ کیا یہ بہتر نہیں ھے کہ بجائے جزباتی نعروں کے ہم پہلے اپنی قوم کو اپنے بچوں کو علم و ہنر سے آراستہ کریں ٹیکنولوجی حاصل کریں ان کے برابر ہتھیار بنائیں انکے برابر آکر پھر اسے منہہ توڑ جواب دیں تاکے برابری کی سطح پہ جنگ ھوسکے اور ہم اسے زیر کرسکیں۔ بغیر علم و ہنر بغیر ٹیکنولوجی کے تو لڑ کے دیھکھھ لیا سالوں سے پٹتے ھوئے آرہے ہیں کیوں نہ اس بار اپنا طریقہ بدل کر دیکھیں ؟

  15. daaljan نے کہا:

    سلام وعلیکم :: بھای صاحب اگر ہم مسلمان ٹیکنالوجی کے لیے بیٹھ جاہیں تو مشرکین ایران اور کفار امریکہ سارے دنیا پھر قبضہ کر لے۔ ہمیں ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہے ہمارے ساتھ اللہ تعالی نصرت کرتا ہے جیسے کہتے ہیں کہ ہمت مردان مددء خدا۔۔۔۔ جنگ بدر میں رسولۖ کے اصحاب کتنے تھے اور کفار کتنے تھے شکست کس کو ہوی ۔کفار کو اچھا روس کو افغانستان سے کس نے بھگایا اللہ کے مجاہدین نے اور اب امریکہ کو 10 سال ہوتے اب تک پورے افغانستان کو قبضہ نہیں کر سکا کیا طالبان کے پاس میزاہل ہیں یا ہوای جہاز یا ٹھینک ہیں صرف صرف ایمان ہے اللہ تعالی نے ہمیں اور آپ کو ایسا چیز دیا ہے کہ کفار کو نہیں ہے ۔وہ ہے ایمان والے انسان اللہ والے جو اپنے سینوں میں بم باندھ کر اللہ کے رضا کی خاطر اپنے کو قربان کرتے ہیں کفار ایسا کبھی نہیں کرسکتا ہے ہمارے مجاہدین بھاہیوں کا ٹیکنالوجی یہ فدای ہے بھای ایمان چاہیے ٹیکنالوجی نہیں ۔۔۔۔۔۔ ٹیکنالوجی کفار کے پاس بھی ہے لیکن استعمال کے لیے دل نہیں ہے اور ہندوستان کو بھی ایٹم بم ہے لیکن مارنے کو دل نہیں ہے اور پاکستان کو بھی ایٹم بم ہے لیکن مارنے والے کے ہاتھ میں نہیں۔۔ اگر یہ ایٹم بم ہمارے کو یعنی مجاہدین کو دے دیں پھر دیکھ لو کہ ہم کفار اور مشرکین ایران 10 دن میں اللہ تعالی کی سرزمین سے ہٹا لیں گے انشاء اللہ تعالی ۔۔ دالبندین آنلاین

  16. abdullahadam نے کہا:

    afghanistan main amrica kis technology say ZLEEL O KHWAR ho raha hay???…………….

    A MILLION DOLLAR QUESTION!!!

    • fikrepakistan نے کہا:

      کوئی خوار نہیں ھورہا بھائی وہ، لاکھوں کی تعداد میں شہید کرچکا ھے وہ لوگوں کو، جبکہ آپ لوگوں نے تین ہزار سے زیادہ لوگ نہیں مارے ہیں اسکے۔

  17. fikrepakistan نے کہا:

    یہ سب جذباتی مئیڈ سیٹ ھے ڈئیر، بدر کی جو آپ نے مثال دی ھے اس میں صرف تعداد کا فرق تھا ہتھیار ایک جیسے ہی تھے ایسا نہیں تھا کے مسلمانوں پاس تیر تلوار اور بھالے تھے اور کفار کے پاس ایمٹی ہتھیار تھے، یہ جو جذباتی باتیں آپ کر رہے ہیں یہ صرف سننے میں اچھی لگتی ھیں اگر انکا حقیقت سے کوئی تعلق ھوتا تو فلسطین کے مسلمان اب تک اسرائیل سے نہ پٹ رہے ھوتے، اور سعودی عرب نے عرب کی اس پاک زمین کی حفاظت کے لئیے کفار کو نہیں رکھا ھوا ھوتا، آپ کی اطلاع کے لئیے عرض ھے کہ روس کے خلاف بھی کوئی خالی ہاتھھ لڑ کر فتح نہیں ملی ھے وہاں پاکستان آرمی اور امریکن اسلح استعمال ھوا ھے تب روس بھاگہ ھے، یہ سب جذباتی باتیں ہیں اپنے اس مائینڈ سیٹ سے باہر آجائیں، اس سوچ سے نہ پہلے کچھھ ملا ھے نہ آئیندہ کچھھ ملے گا آپکا جذبہ قابل احترام ھے میرے لئیے مگر اب دور بدل گیا ھے بھائی اب خالی خولی کے جذباتی نعروں سے نہیں اب ٹیکنالوجی کی جنگ ھے وہ تو بغیر پائلٹ کے ڈرون سے مار رہا ھے آپ مارو گے بھی تو کسے مارو گے اور کیسے مارو گے ؟ وہ مائینڈ سیٹ کے قرآنی آیات پڑھھ کے پھونکنے سے گر جائے گا کیا ڈرون ؟

  18. mussa baloch نے کہا:

    اللہ کے رسول نے اپنے وقت کی سپرپاور عیسائیوں کی رومی قوت سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا اور تبوک میں جانے کی تیاریاں شروع ہوگئیں – سفر لمبا اور انتہائی دشوار تھا سواریوں کی قلت تھی اور سواری کے بغیر اللہ کے رسول مجاہدین کو ساتھ لے جا نہیں رہے تھے اب جن مسکینوں کے پاس سواریاں نہ تھیںان کا اصرار برابر جاری تھا کہ ہم تو راہ جہا دمیں جائیں گے-
    مگر جوانہیں مدینے میں ہی چھوڑ دینے کا فیصلہ ہو اتو قرآن نے ان کی حالت کا نقشہ یوں کھینچا ہے
    اذَا ماتَوکَ لِتَحمِلَھُم قُلتَ لاَ اجِدُ مَآ احمِلُکُم عَلَیہِ تَوَلَّوا وَاعیُنُھُم تَفِیضُ مِنَ الدَّمعِ حَزَنًا الاَّیَجِدُوا مَا یُنفِقُونَ
    جب وہ ( مجاہدین ) تیرے پاس آتے ہیں تاکہ ان کو سواری مہیا کردے ( مگر جب )آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میر ے پاس تو سواری نہیں ہے کہ جس پر میں تم کو سوار کردوں تو وہ واپس اس حال میں پلٹتے ہیں کہ ان کی آنکھیں حزن و ملال سے آنسو بہائے چلی جاتی ہیں اس وجہ سے کہ وہ ایسی کوئی شئے ( رقم) نہیں پاتے کہ وہ اسے خرچ کریں ۰ اور سواری کا بندوبست کرلیں)
    ان کا رونا ہی اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اس کا قرآن میں ذکر کردیا اور صحابہ میں یہ لوگ ” البکائین“ یعنی رونے والوں کے نام سے معروف ہوگئے اور صحیحین کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کے سفر میں ان کے بارے میں صحابہ کو بتلایا :
    تم اپنے پیچھے ( مدینے میں ) کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ آئے ہو کہ تم نے جو مسافت طے کی جو مال خرچ کیا ہے اور جس وادی کو پار کیا ہے ان سب اعمال میںوہ تمہار ے ساتھ ہیں ایک روایت میں ہے کہ وہ اجر میں تمہارے ساتھ شامل ہیں
    یہ حقیقت ہے اس میں کوی شک نہیں ایسے واقعہ مجاہدین کے میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
    یہ جنداللہ کے شیر مجاہدین میں اس دن جب فتح المبین کے کے لیے تیاری ہوی تو امیر سردارمجاہد شہید عبدالمالک جان نے چند مجاہدین کے نام لے کر سفر کو تیار ہونے کا کہا تو بقایا ساتھی جو پیھچے رہ جانے والے تھے تو سب نے گڑ گڑھا کر رونا شروع کیا اور ہر ایک کہنے لگا کہ امیر صاحب مجھے ساتھ لے چلو لیکن یہ سفر ایسا تھا کہ 30 مجاہدین بھی بہت زیادہ تھا۔ امیر صاحب نے پہلے 20 مجاہدین کو تیار ہونے کو کہا لیکن ہمارے مجاہد بھاہیوں نے بہت رو کر اسرار کیا تو امیر صاحب نے ان کی تعداد 30 کیا ۔ باقی پیھچے رہنے والے مجاہدین کو صبر اور ٹہرنے کے لیے راضی کیا۔ آگے اللہ پاک کا نصرت دیکھو کہ کیا ہو گا۔
    جب مجاہدین سفر کو روانا ہوا تو وہاں سے ایک رہنما (جو راستہ دیکھاتاہے)بھی ساتھ لے چلے اس رہنما کا نام شکاری لال جان سیانی تھا۔یہ شکاری پہلے سے ایرانی جاسوس تھا لیکن مجاہدین کو معلوم نہیں تھا۔ اس شیطان نے ایرانی حکومت کو سفر کا سارا قصہ راستے میں سیٹ لایٹ فون کے ذریعے سے آگاہ کیا تھا۔
    جنداللہ کے مجاہدین کو یہ معلوم نہیں تھا کہ شکاری نے ان کا سودا ایران کے حکومت طے کیا ہے۔ ادھر مشرکین ایران نے 3000 ہزار مشرک فوجی کمانڑو اور بلوچ مرتدین کے ساتھ راستے میں پہاڑوں کے اوپر مورچے زن تھے کہ اچانک شیر مجاہد شہید امیر عبدالمالک جان اپنے مجاہدین بھاہیوں کے ہمرہ اسی پہاڑوں کے درمیان پھہنچا ۔ اس وقت شکاری ملعون نے مجاہدین کو چھوڑ کر بھاگ گیا تھوڑی دیر بعد ایرانی مشرکوں نے چار طرف سے اندھا دھند گولی چلای اور کھچ دیر نہ گزری کہ 7 ہیلی کاپٹر بھی آیا اور دو 16F نے بھی اس جنگ میں حصہ لیا ۔ لیکن اللہ پاک نے مجاہدین کے نصرت کی اور 300 سے زیادہ فوجی مردار ہوے تھے ۔اور مجاہدین کے 2 جوان شہید ہوا اور 4 مجاہدین معمولی سا زخمی ہوا تھا۔ شکاری بھی پکڑا گیا اور جہنم وصل ہوا اور مجاہدین واپس اپنے ٹھکانے پر پھہنچ گہے۔ یہ ہے اللہ کا نصرت اور مجاہدین کی جہاد کے لیے تیاری
    یہ پڑھ کر ہمیں بتانابھای جان اس جنگ میں میں بھی شامل تھا

  19. daaljan نے کہا:

    اللہ کے رسول نے اپنے وقت کی سپرپاور عیسائیوں کی رومی قوت سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا اور تبوک میں جانے کی تیاریاں شروع ہوگئیں –
    سفر لمبا اور انتہائی دشوار تھا سواریوں کی قلت تھی اور سواری کے بغیر اللہ کے رسول مجاہدین کو ساتھ لے جا نہیں رہے تھے
    اب جن مسکینوں کے پاس سواریاں نہ تھیں ان کا اصرار برابر جاری تھا کہ ہم تو راہ جہا دمیں جائیں گے-
    مگر جوانہیں مدینے میں ہی چھوڑ دینے کا فیصلہ ہو اتو قرآن نے ان کی حالت کا نقشہ یوں کھینچا ہے
    اذَا ماتَوکَ لِتَحمِلَھُم قُلتَ لاَ اجِدُ مَآ احمِلُکُم عَلَیہِ تَوَلَّوا وَاعیُنُھُم تَفِیضُ مِنَ الدَّمعِ حَزَنًا الاَّیَجِدُوا مَا یُنفِقُونَجب
    وہ ( مجاہدین ) تیرے پاس آتے ہیں تاکہ ان کو سواری مہیا کردے ( مگر جب )آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ میر ے پاس تو سواری نہیں ہے
    کہ جس پر میں تم کو سوار کردوں تو وہ واپس اس حال میں پلٹتے ہیں کہ ان کی آنکھیں حزن و ملال سے آنسو بہائے چلی جاتی ہیں
    اس وجہ سے کہ وہ ایسی کوئی شئے ( رقم) نہیں پاتے کہ وہ اسے خرچ کریں ۰ اور سواری کا بندوبست کرلیں)ان کا رونا ہی اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اس کا قرآن میں ذکر کردیا
    اور صحابہ میں یہ لوگ ” البکائین“ یعنی رونے والوں کے نام سے معروف ہوگئے اور صحیحین کی روایت کے مطابق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کے سفر میں ان کے بارے میں صحابہ کو بتلایا :تم اپنے پیچھے ( مدینے میں ) کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ آئے ہو کہ تم نے جو مسافت طے کی جو مال خرچ کیا ہے
    اور جس وادی کو پار کیا ہے ان سب اعمال میںوہ تمہار ے ساتھ ہیں ایک روایت میں ہے کہ وہ اجر میں تمہارے ساتھ شامل ہیں
    یہ حقیقت ہے اس میں کوی شک نہیں ایسے واقعہ مجاہدین کے میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
    یہ جنداللہ کے شیر مجاہدین میں اس دن جب فتح المبین کے لیے تیاری ہوی تو امیر سردارمجاہد شہید عبدالمالک جان نے چند مجاہدین کے نام لے کر سفر کو تیار ہونے کا کہا تو بقایا ساتھی جو پیھچے رہ جانے والے تھے
    تو سب نے گڑ گڑھا کر رونا شروع کیا اور ہر ایک کہنے لگا کہ امیر صاحب مجھے ساتھ لے چلو لیکن یہ سفر ایسا تھا کہ 30 مجاہدین بھی بہت زیادہ تھا۔
    امیر صاحب نے پہلے 20 مجاہدین کو تیار ہونے کو کہا لیکن ہمارے مجاہد بھاہیوں نے بہت رو کر اسرار کیا تو امیر صاحب نے ان کی تعداد 30 کیا ۔
    باقی پیھچے رہنے والے مجاہدین کو صبر اور ٹہرنے کے لیے راضی کیا۔
    آگے اللہ پاک کا نصرت دیکھو کہ کیا ہو گا۔
    جب مجاہدین سفر کو روانا ہوا تو وہاں سے ایک رہنما (جو راستہ دیکھاتاہے)بھی ساتھ لے چلے اس رہنما کا نام شکاری لال جان سیانی تھا۔
    یہ شکاری پہلے سے ایرانی جاسوس تھا لیکن مجاہدین کو معلوم نہیں تھا۔
    اس شیطان نے ایرانی حکومت کو سفر کا سارا قصہ راستے میں سیٹ لایٹ فون کے ذریعے سے آگاہ کیا تھا۔
    جنداللہ کے مجاہدین کو یہ معلوم نہیں تھا کہ شکاری نے ان کا سودا ایران کے حکومت طے کیا ہے۔
    ادھر مشرکین ایران نے 3000 ہزار مشرک فوجی کمانڑو اور بلوچ مرتدین کے ساتھ راستے میں پہاڑوں کے اوپر مورچے زن تھے کہ اچانک شیر مجاہد شہید امیر عبدالمالک جان اپنے مجاہدین بھاہیوں کے ہمرہ اسی پہاڑوں کے درمیان پھہنچا ۔
    اس وقت شکاری ملعون نے مجاہدین کو چھوڑ کر بھاگ گیا تھوڑی دیر بعد ایرانی مشرکوں نے چار طرف سے اندھا دھند گولی چلای اور کچھ دیر نہ گزری کہ 7 ہیلی کاپٹر بھی آیا اور دو 16F نے بھی اس جنگ میں حصہ لیا ۔
    لیکن اللہ پاک نے مجاہدین کے نصرت کی اور 300 سے زیادہ فوجی مردار ہوے تھے ۔
    اور مجاہدین کے 2 جوان شہید ہوا اور 4 مجاہدین معمولی سا زخمی ہوا تھا۔
    شکاری بھی پکڑا گیا اور جہنم وصل ہوا اور مجاہدین واپس اپنے ٹھکانے پر پھہنچ گہے۔
    یہ ہے اللہ کا نصرت اور مجاہدین کی جہاد کے لیے تیاری۔
    اس جنگ میں میں خود موجود ہوا ہوں بھای جان

  20. abdullah adam نے کہا:

    السلام علیکم::

    امریکہ آج افغانستان میں کس "”ٹیکنالوجی”” کے ہاتھوں ذلیل ہو رہا ہے؟؟؟

    دوسروں کو مائنڈ سیٹ کا قیدی بتانے سے فرصت پا کر "”دہشت گردی”” کے خلاف صلیبی جنگ کے اعداد و شمار اور نفع نقصان کے ترازو پر بھی نظر ڈال لیں…………..!!!

    ہالبروک تو مرتے ہوئے بھی افغانستان سے نکلنے کی بات کر رتا رہا اور ہمارے لوگ پتہ نہیں کب ذہنی احساس کمتری سے باہر آئیں گے؟؟؟

    بھائی جان یہ "”زمینی حقائق”” نامی وہ بلا ہے……………..جس کا نام لے لے کر مشرف ہمیں ڈراتا تھا کہ پتھر کے دور میں جانا چاہتے ہو؟؟

    آج یہی زمینی حقائق طاغوت اکبر اور اس کے حواریوں کی ہر جگہ شکست کا اعلان کر رہے ہپیں………….

    یہ عقیدے کی "”ٹیکنالوجی”” ہے………….جو اپنا آپ منوا رہی ہے…

  21. fikrepakistan نے کہا:

    عبداللہ بھائی اور دلجان بھائی، میں دل سے عزت کرتا ھوں آپ کے جذبے کی اور ایسا نہیں کہ یہ جذبہ صرف آپ کے اندر ہی ھے باقی مسلمانوں کے اندر نہیں ھے، مگر سوچ کا فرق ھے علم کا فرق ھے شعور کا فرق ھے۔ کیا بگاڑ لیا بھائی کسی نے امریکہ کا ؟ انکی سر زمین پہ قدم تک نہیں رکھھ سکتے آپ لوگ، الٹا اپنے ہی ملک و قوم کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہو، جو کام امریکہ پاکستان کے خلاف خود کرنا چاہتا تھا وہ کام اب آپ کر رہے ہو اس کے لئیے، امریکہ کو تو آپ برباد کر نہیں سکے ہاں پاکستان کا مقدر بربادی ضرور بنا دیا آپ لوگوں نے، بغیر علم کے بغیر ترقی کیئے بغیر کفار کے برابر آئے کچھھ بھی حاصل نہیں کرسکتے آپ لوگ، لاکھوں لوگوں کو مروا چکے ہو اور مزید لاکھوں کو مرواو گے بلآخر آنا وہیں پڑے گا تعلیم کی طرف علم کی طرف ٹیکنالوجی کی طرف جب تک امریکہ کے برابر نہیں آو گے اسے شکست نہیں دے سکتے ہاں الٹا مسلمانوں کی بربادی کا باعث بنتے آرہے ھو اور مزید بنتے رہو گے۔

  22. mussa baloch نے کہا:

    رحمن ملک کو سورہء اخلاص نہیں آتا تو یہ کیسے مسلمان ہے

    آج کل دین سے دوری کی وجہ سے اسلام کا یہ حال ہے کہ قرآن شریف کا ایک چھوٹا سا سورہ آدمی کو نہیں آتا ہو اور یہی بھی ہر جگہ اعلان کر کے کہتا ہے کہ مجاہدین دہشت گرد ہے ۔اور خود کو کلمہ پڑھنا نہیں آتا ہے ۔ یہودی عیساہیوں ہندووں اور شیعہ رافضیوں کا تعلیم یہی ہے کہ چھوٹا سا سورہ نہیں آتا اگر میں ہوتا تو شرم سے مرجاتا لیکن اس نے کوی پروا نہیں کیا ۔آج کل کے دو یا تین سال کے مسلم بچے کو پورا قرآن شریف زبانی یاد ہیں ۔
    دالبندین آنلاین
    سورہ اخلاص کی غلط تلاوت: رحمن ملک کی نااہلی کیلئے درخواست دائر
    اسلام آباد…وزیر داخلہ رحمان ملک کی نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرا دی گئی ہے۔طارق اسد ایڈووکیٹ نے سینیٹر رحمن ملک کی نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ رحمن ملک نے کابینہ اجلاس میں تین دفعہ سورة اخلاص کی غلط تلاوت کی۔ رحمن ملک کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کا علم نہیں،اس لئے وہ آئین کے آرٹیکل62 اور63 پر پورا نہیں اترتے، لہذا انہیں سینیٹ کی سیٹ سے نا اہل قرار دیا جائے۔ درخواست میں الیکشن کمیشن پاکستان، وفاق پاکستان، پرائم منسٹر سیکریٹریٹ، چیف الیکشن کمیشنر اور چیئرمین سینیٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ بھا ی صاحب اگر ٹیکنالوجی والا تعلیم یہ ہے کہ آدمی کو ایک چھوٹا سا سورہ یاد نہ ہو تو ہمیں ٹیکنالوجی نہیں چاہیے ۔ ہمارے لیے ہمارے اللہ پاک کافی ہے ۔ رحمن ملک کا ویڈیو اب موجود ہے چاہیے تو ایمیل اڈرس دینا ۔ یا فیس بک میں دالبندین آنلاین پر دیکھ سکتے ہو جان

    • fikrepakistan نے کہا:

      بلکل صحیح فرمایا آپ نے یہ پوری قوم کے لئیے شرم کا مقام ھے، مگر اس سے میرے کئیے ھوئے سوال کا کوئی تعلق نہیں بنتا، وہ ایک الگ معاملہ ھے، رحمان ملک کوئی اکیلا جاہل نہیں ھے پوری اسمبلی بھری پڑی ھے ان ہی جاہلوں سے۔ رحمان ملک کے جاہل ھونے سے مسلمانوں میں ٹیکنالوجی کے حصول کی بحث سے کوئی مماثلت نہیں ھے۔ میں نے کب آئیڈیل ٹھیرایا ھے رحمان ملک کو یا ان جیسے اور سیاستدانوں کو ؟

  23. mussa baloch نے کہا:

    بھای جان ہمارے مسلمان ملک پاکستان کے سارے ایٹم بم اور ٹیکنالوجی ان ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ مثال کے طور پر کل آپ تعلیم حاصل کرکے ٹیکنالوجی بناو تو آپ کا وزیر اور صدر یہی ہو گا۔جیسا قدیر خان نے ایٹم بنایا کس کے لیے اور کس کے پاس ہیں بھای جان ہمارا ٹیکنالوجی ہمارا ایمان ہے ۔ ہم کافر اور مشرکوں سے جہاد کرتے ہیں اگر بچ گیا تو کا میاب اور اگر شہید ہوا بھی کامیاب ۔ ہمیں کرسی کی ضرورت نہیں ہے ہمیں اللہ تعالی کو راضی کرنا ہے اور ہمیں اللہ پاک کا فرض ادا کرنا ہے ۔ یہ فضل رحمن کو گولی مارو یہ طالبان کے دور میں طالبان تھا اور اب امریکہ کے دور میں امریکہ کے ساتھ ہیں یہ اپنے پیٹ کے مولانا ہے ۔مولانا وہ ہے جو لال مسجد میں شہید ہوے ۔ جو اس کو مولانا کہے وہ بھی اسی کے یار ہے ۔ یہ جو مسجدوں اور بازاروں میں بم دھماکے ہوتے ہیں ۔ یہ خو د حکومت کرتے ہیں ۔یہ طالبان نہیں ہے ۔ نہ طالبان ایسا کرتے ہیں ۔ یہ خود کش نہیں ہے یہ سب جھوٹ ہیں بھای جان یہ بلیک واٹر امریکہ اور ہندوستان کے چال ہے ۔ ان دھماکوں کی کھبی کسی طالبان نے ضماداری قبول نہیں کی ہے ۔ حکومت اپنی طرف سے کہتا ہے کہ فلاں طالبان نے ضماداری قبول کی ہے ۔ یہ سب جھوٹ ہیں ۔ یہ سورہ اخلاص کو نہیں جانتے پھر تو انکے گوای قبول نہیں ہے

  24. fikrepakistan نے کہا:

    پاکستان کو بھی ایٹم بم ہے لیکن مارنے والے کے ہاتھ میں نہیں۔۔ اگر یہ ایٹم بم ہمارے کو یعنی مجاہدین کو دے دیں پھر دیکھ لو کہ ہم کفار اور مشرکین ایران 10 دن میں اللہ تعالی کی سرزمین سے ہٹا لیں گے انشاء اللہ تعالی ۔۔ دالبندین ۔ یہ آپکا پچھلا تبصرہ ھے، یعنی آپ مانتے ہیں کے اگر آپ کے پاس ٹیکنالوجی ھوتی تو آپ با آسانی کفار کو ختم کر سکتے تھے، تو بھائی اپنی نسلوں کو پڑھائی کی طرف راغب کرو تاکے جو کام تم نہیں کرسکے وہ کام وہ کر سکیں پڑھھ لکھھھ کر وہ حاصل کر سکیں یہ ٹیکنالوجی اور کفار کو ختم کر سکیں اور اسلام کا بول بالا کر سکیں دنیا میں۔

  25. tania rehman نے کہا:

    فکر پاکستان آپ بھی کمال کرتے ہیں ۔۔۔ ان کے بچے بعد میں اسلام کو مذید آگے بڑھاہیں گے ۔۔ والد صاحبان تو آج کل میں اوپر چلے جاہیں گے ۔۔ پھر جہاد کے لیے غریب کے بچوں کو تیاری کون کروائے گا۔۔۔ اسلام کے ٹھکداروں کی نشانی بچنی ضروری ہے ۔ جس طرح بھٹو خاندان نے ملک کے لیے قربانیاں دیں ۔۔۔ نواز شریف کا بھی بہت کچھ چلا گیا ۔ اسی طرح باقی پاڑتیوں نے بھی بہت کچھ گنوا کرملک سے باہر بیٹھ کر حکومت کر رہے ہیں ۔ ایسے میں تو مولانا سب سے آگے ہیں ۔۔۔ توبہ کرو ۔ ابھی کوئی نا کوئی فتوی لگا دے گا ۔ کہ آپ کے نکاح اور جنازہ مولانا کے ہاتھوں ہی پڑھوایا جاتا ہے ۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      یہ ہی تو ہم غلط کرتے ہیں، نکاح اور جنازے کے لئیے بھی انکی ضرورت نہیں ھونی چاہیئے یہ کام کوئی کسی بھی با کردار انسان سے لیا جاسکتا ھے۔

  26. mussa baloch نے کہا:

    سارے جہان کا نکاح اور جنازہ یہی نہیں پڑھتا ہے بلکہ اس سے اچھے اور مخلص مولانا بہت ہیں

  27. Dr.Jawwad Khan نے کہا:

    فکر پاکستان ! کتنی غلط بات ہے اپنے میرا تبصرہ تک آنے نہیں دیا حالانکہ آپکے تبصروں کے برعکس میں نے نہ تو نازیبا زبان استعمال کی اور نہ ہی گالیاں دیں.
    آپ دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں مگر کوئی آپکو نصیحت کرے تو آپ سننا تک گوارا نہیں کرتے. آپ خود ایک تنگ نظر اور انا پرست انسان ہیں.

    • fikrepakistan نے کہا:

      اور جہاں تک رہی سلیم صافی والے معاملے کی بات تو اسکا میں بتا چکا ھوں کے ایسی معلومات ظاہر ھے کسی یورنیورسٹی میں نہیں ملتیں تو ایسی معلومات کسی ایسی ہی سورس سے لینی پڑتی ہیں، اور اگر کوئی کسی سے متاثر ھے بھی تو اس میں کوئی بری بات نہیں ھے، خود علامہ اقبال جرمن فلاسفر نطشے سے متاثر تھے، یہ دنیا ھے بھائی اس میں اسطرح یہ ایک دوسرے سے سیکھا جاتا ھے، اسلئیے ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ، یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ھے یہ دیکھو کیا کہہ رہا ھے۔

  28. TANIA REHMAN نے کہا:

    السلام و علیکم ، مجھے زرا ای میل کریں پلیز میں نے کوشش کی ہے دروازے بند تھے ۔۔بہت شکریہ

  29. Jawad نے کہا:

    Another display of our Hippocratic behavior which exists in the society alot.

    • fikrepakistan نے کہا:

      انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کا یہ حال ہے کہ بھوک، ننگ، غربت، افلاس، لوگوں کے بچے نگل رہی ھے لوگوں کو خود کشی پر مجبور کر رہی ہے، بجائے قوم کے ان اصل مسائل پر بات کرنے کے یہ پیشہ ور لوگ آج بھی قوم کو نفرتیں ہی بانٹ رہے ہیں۔ اللہ ہی جانتا ھے کہ جہنم کی کس پاتال میں ایسے مولویوں کا مقام ہوگا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s