حق کے متلاشیوں کو غیر جانبدار ہونا پڑے گا۔


اگر تلاش ھے حق کی اگر تلاش ھے سچ کی تو پھر معملا ت کو ہر طرح کی جانبداری سے بالا تر ھو کر دیکھنا ھوگا، اگر میں کسی سیاسی جماعت سے وابسطہ ہوں یا پھر کسی مذہبی جماعت سے میرا دلی لگاو ھے، تو اگر میری وابستگی والی سیاسی جماعت یا مذہبی جماعت کوئی غلط کام کرتی ھے اور میں اس پر چشم پوشی کرتا ہوں صرف اس وجہ سے کہ میرا جذباتی لگاو ھے اس کے ساتھھ تو پھر میں کبھی بھی حق اور سچ کی راہ کا مسافر نہیں بن پاونگا۔

اس پوسٹ کے زریعہ میں آپ سب سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اور اس امید کے ساتھھ کے اختلاف برائے اختلاف کے بجائے ٹھنڈے دل سے میرے کیئے ہوئے سوال پر غور کریں اور یہ سوال ہر شخص اپنے مسلک یا اپنے فرقے کے عالم سے کرے اور جو بھی جواب ملے وہ یہاں پوسٹ کی صورت میں لوگوں سے شئیر کرے تاکے مجھھ جیسے لوگوں کی ذہنی اذیت کم ھوسکے۔  اور اس ملک کے تقریباًَ اسی فیصد لوگ صحیح اور حق کی راہ کا تعین کر سکیں، لیکن اگر اس سوال کا جواب آپ کے مسلک یا فرقے کے عالم صاحب کی طرف سے گول مول یا آئیں بائیں شائیں کی صورت میں ملے یا ایسا مبہم جواب ملے کہ جس سے مسلے کا کوئی حل نہ نکل رہا ھو صاف ظاہر ھورہا ھو کے مفتی صاحب یا عالم صاحب محض اپنی جان چھڑانے والی بات کر رہے ہیں،  تو پھر اپنے اپنے ضمیر کو ایک بار غیر جانبدار ھو کر جھنجھوڑیئے گا ضرور کہ کیا ہم ایسے لوگوں کے پیچھے چل کر صحیح کر رہے ہیں ؟۔

سوال آگے چل کر آئے گا سوال سے پہلے کچھھ باتوں کا پس منظر جاننا ضروری ھے۔   پاکستان کا آئین تمام مکاتب فکر کی باہمی رضا مندی کے ساتھھ بنایا گیا ھے، جس میں جماعت اسلامی کے غفور صاحب ہیں، اہلسنت جماعت کے مرحوم علامہ شاہ احمد نورانی صاحب تھے، اس ہی طرح دیو بند مسلک اہلحدیث اور شیعہ حضرات کے رہنماوں کی باہمی رضامندی اور انکی مشاورت سے ان سب کے دستخط کے ساتھھ یہ آئین تکمیل دیا گیا ھے۔

اسلام کی رو سے ریاست کے قوانین کو فالو کرنا ہر شہری کی زمہ داری ھے۔ یعنی یہاں تک تو بات بلکل کرسٹل کلئیر ھے کہ پاکستان میں ایک آئین موجود ھے اور ہر شہری کو اسے فالو بھی کرنا ھے، آئین پر عمل نہیں ھورہا یہ ایک بلکل الگ معاملہ ھے، لیکن کسی بھی معاملے میں  کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھانے سے پہلے ریاست کے آئین کے مطابق پروسیجر کا پیٹ بھرنا انتہائی ضروری ھے تاکے حجت تمام ھوسکے اور اللہ کے سامنے سرخرو ھوسکیں  کہ ہم نے تو اپنے طور ہر ممکن کوشش کی احتجاج بھی کیا، صدائے حق بھی بلند کی، سپریم کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا  عدالت سے انصاف مانگا مگر وہاں سے بھی انصاف نہیں ملا،  غرض یہ کے ریاست کے قوانین کی وہ پاسداری جو اسلام نے بتائی ھے وہ ہم نے ہر ہر طرح پوری کی مگر حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی اسلئیے اب اسلام کی روح کے مطابق جو صحیح اور حق ھے وہ کیا جائے۔

یہ کام کس کو کرنا تھا ؟ یہ کام مجھے کرنا تھا یہ کام آپ کو کرنا تھا یہ کام تمام علماء اکرام کو کرنا تھا یہ کام تمام مفتی حضرات کو کرنا تھا، یہ کام ہر سیاسی جماعت کو کرنا تھا، مگر کسی نے نہیں کیا، میں نے سلمان تاثیر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجو نہیں کیا اب مجھے اپنی اس غفلت پر ندامت ھے اور میں اللہ کی بارگہ میں معافی کا طلب گار ھوں، مگر اتنا ضرور ھے کہ اب میں سڑکوں پہ آکر بھڑکیاں نہیں مار رہا، جو اس وقت مذہب کے ٹھیکیدار بنے ھوئے ہیں اور سڑکوں پر تماشے کر رہے ہیں انہوں نے اپنا فرض کس حد تک ادا کیا ؟ ہڑتال کی گئی مگر وہ ہڑتال بھی سلمان تاثیر کے خلاف نہیں تھی وہ حکومت کو  توہین رسالت کے قانون میں ترمیم سے باز رکھنے کے لئیے کی گئی تھی، اور وہ بھی صرف اور صرف پوئنٹ اسکورنگ کے لئیے،  اس میں بھی کوئی آئیندہ کا کوئی لاحہ عمل طے نہیں کیا گیا، کوئی قرار داد منظور نہیں کی گئی، کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کے سلمان تاثیر توہین رسالت کا مرتکب ھوا ھے اسلئیے یا تو وہ اپنے الفاظ واپس لے اور تجدید ایمان کرے اور اللہ کی بارگہ میں توبہ کرے ورنہ  ہم اس کو سزا دلوانے کے لئیے عدالت جائیں گے، اور اگر عدالت سے بھی انصاف نہ ملا تو پھر جیسے تمام علماء اکرام اور تمام مکتب فکر کے مفتی حضرات نے متفقہ طور پر  جسطرح سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا  ٹھیک اس ہی طرح ہم سلمان تاثیر کے قتل کا فتویٰ جاری کرنے میں حق بہ جانب ہونگے۔

مرحوم سلمان تاثیر کی نیت کیا تھی یہ تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں مگر اتنا ضرور ھے کے  مرحوم نے سلمان رشدی کی طرح ڈائیرکٹ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کو نشانہ نہیں بنایا تھا ۔  مرحوم نے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا جسکی میں بھی مذہمت کرتا ہوں، بقول مرحوم کے کہ انہوں نے اس قانون کا جو غلط استعمال کیا جارہا ھے انکا اشارہ اسکی طرف تھا مگر یہاں یہ سوال پیدا ھوتا ھے کے پاکستان میں تو ہر قانون کا ہی غلط استعمال کیا جاتا ھے انہیں صرف یہ قانون ہی کیوں نظر آیا ترمیم کے لیئے ؟۔

قادری صاحب کو اپنے ضمیر کے مطابق جو ٹھیک لگا وہ کر گزرے اب اللہ ہی بہتر جانتے ہیں کے کس کے ساتھھ کیا معاملہ ھوگا بہ روز حشر۔  واضع کرتا چلوں کے اس پوسٹ کا مقصد نا تو سلمان تاثیر مرحوم کی حمایت کرنا ھے نہ ہی قادری صاحب کے اقدام کی حمایت کرنا ھے۔ اس سارے معاملے کے بعد ایک سوال بہت زیادہ تنگ کر رہا ھے جسکا جواب نہیں مل پا رہا مجھے امید ھے یہاں پڑھنے والوں میں سے کوئی خود جواب دے سکے یا پھر کسی مفتی یا کسی عالم سے جواب لا کر دے دیں کیوں کے مجھے اس سوال کا جواب نہیں مل پایا کسی سے بھی۔

جیسا کے عرض کیا کہ اسلام کی رو سے ریاست کا قانوں فالو کرنا ہر شہری کا فرض ھے، میں ان تمام مذہبی جماعتوں سے پوچھتا ھوں کہ  جو آج اس واقع کے بعد پوئینٹ اسکورنگ کے لئیے سڑکوں پر نکل آئی ہیں ان تمام جماعتوں نے اپنا فرض اس وقت کیوں ادا نہیں کیا جس وقت سلمان تاثیر مرحوم نے وہ الفاظ کہے تھے جو انکی موت کی وجہ بنے ؟  مان لیتے ہیں کے مرحوم کے خلاف  ایف آئی آر درج کروانا ممکن نہ تھا کہ وہ برسراقتدار تھے، بچہ بچہ جانتا ھے کہ سپریم کورٹ اس وقت حکومت کے زیر اثر نہیں، تو کسی مذہبی جماعت نے مرحوم کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین رسالت کا مقدمہ کیوں دائر نہیں کیا ؟ اسلام کی رو سے ریاست کے پروسیجر کو فالو کیوں نہیں کیا گیا ؟ بھلے عدالت سے انصاف نہ ملتا مگر حجت تمام ھوجاتی اور ہر پاکستانی کا ویژن کلئیر ھوجاتا کہ ہاں اتنا کچھھ ھونے کے باوجود سلمان تاثیر نے تجدید ایمان نہیں کیا یا توبہ نہیں کی تو اب حق بنتا ھے کہ اسلام کی روح کے عین مطابق  جیسے سلمان رشدی واجب القتل ھے ٹھیک اس ہی طرح سلمان تاثیر بھی واجب القتل ھے، اگر اسلام کی روح کے مطابق ریاست کے قانون کو بروقت فالو کرلیا جاتا تو شاید آج قوم یوں دو حصوں میں نہ بٹی ھوئی ھوتی اس معاملے میں۔

کیا ہماری مذہبی جماعتیں صرف اسلئیے ہی رہ گئی ہیں کے جس وقت اسطرح کے واقعات رونما ھورہے ھوں تو اس وقت صرف زبانی کلامی بیان بازیاں کرلی جائیں اور جب آگے بڑھھ کر کوئی قادری اپنے ضمیر کی آواز پر اسطرح کا اقدام کر گزرے تو پھر یہ مذہبی جماعتیں اسلام کی چیمیئن بن کر پوئینٹ اسکورنگ کے لئیے اسکی سپورٹ پر آجائیں،  سڑکوں پر آجائیں اور قوم کے درمیان  یوں نفرت کو ہوا دیں اور ایسے معاملات کو اپنے ذاتی مفادات کے لئیے استعمال کریں۔ اور یہ وہ ہی قادری ھے نہ جسے دوسرے فرقے یا دوسرے مسلک کی جماعتیں کل تک قبر پرست، مردہ پرست، بدتی، مشرک، اور الا بلا نا جانے کیا کیا کہتے تھے، کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ھے یہیں بلاگ پر کتنی ہی تحریریں کتنے ہی تجزیے ان قادریوں اور چشتیوں کے خلاف کئیے گئیے ہیں، اور آج اپنے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئیے وہ ہی قادری اسلام کا ہیرو بن گیا  ہر مذہبی جماعت اسے اون کرنے کے لئیے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ھے، یہ کیسی منافقت ھے ؟۔

اب میں آتا ھوں اس سوال کی طرف جس کا پوسٹ کی ابتداء میں زکر کیا تھا۔  ریاست کی زمہ داری ھے کہ ہر شہری کی جان، مال ، عزت ، روٹی ، رہائش، روزگار، یہ سب چیزیں انشور کرے اور پھر حدود نافظ کرے، ریاست کے یہ سب دینے کے بعد اگر کوئی شخص چوری کا مرتکب ھوتا ھے تو اسے سزا دے، قحط  کے دوران حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ نے ہاتھھ کاٹنے کی سزا ختم کردی تھی، فرمایا کے جب میں روٹی نہیں دے سکتا تو مجھے سزا دینے کا بھی کوئی حق نہیں ھے.

آج گورنمنٹ نے اس ملک کے اسی پرسنٹ غریب لوگوں کی تنخواہ سات ہزار روپے ماہانہ رکھی ھوئی ھے، جبکہ مہنگائی کا یہ عالم ھے کہ صرف دو بچے اور میاں بیوی جبکہ گھر بھی اپنا ھو تب بھی سات ہزار میں زندگی گزارنا نا ممکن ھے، تین سے چار ہزار کا تو صرف بجلی کا بل آرہا ھے، ایسے میں کوئی انسان کیا کرے ؟ کیا کھلائے اپنے بچوں کو کیا پہنائے ؟ کہاں سے تعلیم دے ؟ کیسے علاج کروائے ؟ کیسے گزارے زندگی ؟ کتنی ہی قناعت کرلے پھر بھی ناممکن ھے سات ہزار میں گزارہ، سات ہزار میں چار انسان تو دور چار عدد جانور بھی نہیں پالے جاسکتے،  جو کمزور لوگ ہیں وہ بیچارے بچوں سمیت خود کشیاں کر رہے ہیں، میرا سوال یہ ھے کہ کہاں ہیں یہ عالم حضرات ؟ کہاں ہیں یہ مفتی حضرات ؟ انہیں کیوں نظر نہیں آرہا یہ سب کچھھ ؟ کل کوئی قادری زرداری کو قتل کر دیتا ھے اور وجہ یہ بتاتا ھے کہ میرے بچے بھوک سے مر رہے تھے اتنی مہنگائی میں سات ہزار میں میرا گزارہ ناممکن ھوگیا تھا میں نے بیوی بچوں سمیت خود کشی کا فیصلہ کرلیا تھا مگر سوچا میں تو مروں گا مگر اپنے حکمراں کو بھی ساتھھ لے کے مروں گا کے اسکی ہی وجہ سے میرے بچے بھوک سے مرے ہیں، تب یہ مذہبی جماعتیں پھر ایسے کسی قادری کے پیچھے آکر کھڑی ھوجائیں گی پھر فتوے بھی دئیے جائیں گے، پھر اسلام کی رو سے شہری کے حق بھی بتائے جائیں گے، اس وقت یہ ساری جماعتیں لوگوں کو سڑکوں پہ لا کر پھر سے اپنی سیاست چمکائیں گی، تو یہ سب واقع ھونے کے بعد کیوں آخر ؟.

اسلام کی رو سے تو تنخواہ دس گرام سونے کے برابر ھونی چاہئیے، چلیں یہ بھی مان لیا کے سونے کا موجودہ ریٹ سٹہ بنا کر اتنا اوپر لے جایا گیا ھے، تو بھائی دس گرام نہیں تو پانچ گرام کا ہی فتویٰ دے دو اللہ کے واسطے، مگر نہیں کوئی مفتی یہ فتویٰ نہیں دے گا، تو پھر میرے جیسے لوگ یہ کہنے پر حق با جانب ہیں یا نہیں کے ہمارے مفتی حضرات ایسا کوئی بھی فتویٰ نہ دینے کی بھاری قیمت لیتے ہیں گورنمنٹ سے ؟ آپ سب کے جواب کا منتظر ہوں میں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

13 Responses to حق کے متلاشیوں کو غیر جانبدار ہونا پڑے گا۔

  1. Mohsin نے کہا:

    Tribute to Salman Taseer Shaheed

  2. معافی کا خواستگار ہوں کہ مجھ دو جماعت پاس کُند ذہن کو آپ کی پوری تحرير پڑھ کر سوائے ذہنی پريشانی کے کچھ سمجھ ميں نہيں آيا ۔ اگر آپ لوگ ميرے جيسوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختصر طور پر مسئلہ نمبر ايک ۔ مسئلہ نمبر دو وغيرہ کر کے لکھ ديا کريں تو سمجھ آنے اور جواب لکھنے ميں آسانی رہے

    سب سے پہلے ميں يہ واضح کر دوں کہ جو کچھ ممتاز قادری نے کيا اُسے ميں درست نہيں سمجھتا

    آئينِ پاکستان کی آپ نے بات کی تو يہ وہ آئين نہيں ہے جو سب حلقہ فکر کے لوگوں نے متفقہ طور پر منظور کيا تھا ۔ اس کے بنتے ہی ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے پۓ در پۓ اس ميں سات اہم تبديلياں کر کے اس کا حُليہ بگاڑ ديا تھا ۔ اس کے بعد جو آمر آيا اس نے اس کا مزيد حُليہ بگاڑا ۔ خيال رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب اٹل قسم کے آمر تھے اور ذرا سی مخالفت تو کيا کسی اور کی تعريف بھی برداشت نہيں کرتے تھے

    امتناع توہينِ رسالت کا قانون مولويوں کے نام مڑھا جاتا ہے ۔ ہوا يوں تھا کہ شايد تيس سال قبل عاصمہ جہانگير جو اب سپريم کورٹ بار ايسوی ايشن کی صدر ہے نے رسول اکرم صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی شان ميں گُستاخی کی تھی جس پر اسمبلی ميں شور مچا تھا جس کا نتيجہ قانون امتناع توہينِ رسالت کی صورت ميں نکلا تھا ۔ اس ميں سزائے موت يا عمر قيد تجويز کی گئی تھی جس پر سرکاری اسلامی نظرياتی کونسل نے اعتراض کيا تھا اور سزا صرف موت تجويز کی تھی جو منظور ہو گئی تھی

    آپ نے چارہ جوئی کا جو راستہ بتايا ہے آپ شايد اسے نہيں جانتے ۔ ميں اس راہ پر متعدد بار چل چکا ہوں ۔ صرف ايک مثال ديتا ہوں کہ جس مقدمہ کا فيصلہ قانون کے مطاق چھ ماہ ميں ہونا ضروری تھا اُس کا فيصلہ چھ سال بعد ہوا تھا ۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ دوسرے فريق نے مزيد پيروی نہ کی ورنہ مقدمہ چلتا رہتا اور ميرے مرنے کے بعد ميرے بيٹے بھی مقدمہ لڑتے لڑتے بوڑھے ہو جاتے

    اب آتے ہيں اصل مسئلہ کی طرف ۔ ہماری قوم اس وقت تک درست نہيں ہو گی جب تک عام آدمی کو سستا انصاف مہيا نہيں کيا جائے گا ۔ اگر چور ۔ لُٹيرے اور اُچکے حکمران عوام کے ووٹوں سے يا اس کے بغير بنتے رہيں گے تو حالات مزيد خراب ہوتے جائيں گے اور نتيجہ مکمل تباہی ہو گا جس کيلئے ميں اپنے آپ کو تيار کر چکا ہوں

    ہمارے ہاں جو سياسی جماعت روزانہ اور بعض اوقات دن مں متعدد با عوام کی نمائندہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے اس کی ناک کے نيچے روزانہ لاشيں گرتی ہيں بسيں جلائی جاتی ہيں ليکن اُسے کچھ نظر نہيں آتا مگر پنجاب ميں اُسے آگ لگی ہوئی خوابوں ميں بھی نظر آتی ہے

    عوام کو درست راہ پر چلانے کا آپ کے پاس کيا نُسخہ ہے ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب میں نے عدالت سے رجوع کرنے کا اسلئیے کہا ھے کہ یہ عین اسلامی طریقہ ھے، یہ ہی اسلام کی تعلیم ھے کہ ریاست کے قوانین کو فالو کیا جائے، لیکن اگر وہاں سے انصاف نہ ملے تو پھر ہمارے علماء اور مفتی حضرات آذاد ہیں کے دین اسلام کے مطابق جو حق اور صحیح ھو وہ ہی کریں، مگر پہلے ریاست کے قانون کے پروسیجر کو پورا کرنے کی حجت تمام کرنی چاہیئیے تاکے اللہ کے سامنے سرخرو ھو سکیں کے ہم نے اپنے طور تمام ظابطے اور پیمانے پورے کیئیے تھے، انصاف نہ ملنے کی صورت میں اسلام کے مطابق کوئی بھی انتہائی اقدام کیا گیا۔ میرا سوال شاید آپ ٹھیک سے سمجھھ نہیں پائے، کہ بروقت مفتی حضرات فتویٰ کیوں نہیں دیتے ؟ آج سات ہزار میں کیسے کوئی غریب انسان اپنے کنبے کو پال سکتا ھے ؟ کیوں نہیں دے رہے یہ مفتی حضرات فتویٰ کے سات ہزار میں گزارہ ناممکن ھے یا تو گورنمنٹ ایک عام انسان کی تنخواہ دس تولے سونے کے برابر کرے اور اگر گورنمنٹ ایسا نہیں کرتی تو پھر ہر شخص آزاد ھے کہ وہ اپنے کنبے کو پالنے کے لئیے کوئی بھی جائز نا جائز ذریعہ استعمال کرے۔ یہ پاکستان کے اسسی فیصد لوگوں کا مسلہ ھے اسکی وجہ سے کمزور لوگ اپنے بیوی بچوں سمیت خود کشیاں کر رہے ہیں سیاستدانوں کے سر تو جا ہی رہا ھے یہ عذاب مگر کیا یہ تمام عالم دین اور مفتی حضرات اس عذاب سے مبرا ہیں ؟ کیا انکا فرض نہیں ھے کہ یہ وقت کی اس اہم ضرورت پر بروقت فتویٰ دیں ؟ اگر مفتی حضرات اسسی فیصد قوم کے اس مسلے پر فتویٰ نہیں دیں گے تو پھر کون دے گا ؟ نوٹ۔ اس سوال کو سلمان تاثیر والے واقع سے نا ملایا جائے، میرے اس سوال کا سلمان تاثیر والے واقع سے کوئی تعلق نہیں ھے۔

    • ABDULLAH نے کہا:

      بات تو بالکل صاف اور سیدھی ہے اب کوئی اتنا ہی ناسمجھ ہو تو اور بات ہے کہ جتنا زور یہ مذہبی جماعتیں واقعہ وقوع پزیر ہونے کے بعد اسے کیش کرنے میں لگاتی ہیں اتنا ہی زور واقعہ پیش آنے سے پہلے اسے روکنے کے لیئے لگائیں تو شائد کچھ بہتری کی صورت بھی نظر آئے،
      باقی یہ تو سچ ہے کہ افتخار صاحب نے پاکستان کی تباہی کا یقین کر کے اپنی تیاری تو کرلی ہے ایک بیٹے کو امریکا سیٹل کروا کر اور دوسرے کو دوبئی!!!

      اور یہ جو فرماتے ہیں،
      ہمارے ہاں جو سياسی جماعت روزانہ اور بعض اوقات دن مں متعدد با عوام کی نمائندہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے اس کی ناک کے نيچے روزانہ لاشيں گرتی ہيں بسيں جلائی جاتی ہيں ليکن اُسے کچھ نظر نہيں آتا مگر پنجاب ميں اُسے آگ لگی ہوئی خوابوں ميں بھی نظر آتی ہے

      تو جناب کا خود بھی کچھ ایسا ہی حال ہے کہ انہیں اپنی ناک کے نیچے ہوتے جرائم نظر نہیں آتے بس نظر رہتی ہے تو کراچی میں ہونے والے واقعات پر جس میں کوئی مثبت چیز ان حضرت کو نظر نہیں آتی!
      تو پاکستان کے رہنے والوں کی اکثریت ان ہی کی جیسی ہے پھر رونا کس بات کا!

  3. پہلی بات تو يہ ہے کہ جو ہميں بظاہر عالم نظر اتے ہيں ان ميں سے کتنے واقعی عالم ہيں ؟
    ميرا اندازہ ہے کہ فی صد کے لحاظ سے کُل ميں اتنے يا اس سے بھی کم ہوں گے جتنے عام لوگوں ميں اچھے مسلمان ہيں ۔ عوام نے مسجدوں ميں اپنی مرضی کے امام بٹھا رکھے ہيں جو اسلام نہيں خودغرضی سکھاتے ہيں ۔ ذرا سے اختلاف پر يا سوال پوچھنے پر کفر کا فتوٰی لگا ديتے ہيں ۔ ميں تو ان لوگوں کو عالم نہيں سمجھتا ۔
    اور کچھ ايسے عالم بھی ہيں جو اس تعليم پر عمل نہيں کرتے جو اُنہوں نے خود حاصل کی تھی ۔
    عوام کا يہ حال ہے کہ انگريزی سيکھنے پر پوری قوت خرچ کر ديں گے مگر قرآن کا ترجمہ پڑھنے کيلے وقت يا وصائل کی کمی کی شکايت کريں گے ۔
    ہماری ايک ملازمہ تھی گھر کے کام کيلئے ۔ اس کے دو بيٹے تھے جنہيں پرائيويٹ انگريزی سکول ميں داخل کرايا ہوا تھا ۔ اخراجات پورے کر نہيں سکتی تھی تو ہر وقت غريبی کا رونا ۔ ہم نے بہت سمجھايا کہ اچھے سرکاری سکول ميں داخل کرا ديتے ہيں مگر ن مانی ۔ ميرے تينوں بچوں نے عام سکولوں ميں پڑھا ہ اور ميں خود اُردو ميڈيم سکول کا پڑھا ہوا ہوں
    حضور جب تک ہم اپنا نصب العين درست نہيں کريں گے يا جب تک کوئی جابر مُصلح آ کر ہميں سيدھا نہيں کرے گا ہماری قوم نہيں سنبھلنے کی

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار صاحب، میرا سوال ابھی تک تشنہ ھے، بہت ہی سادہ سے سوال ھے کہ سات ہزار میں جائز ضروریات کا حصول بھی ناممکن ھے تو ایسے میں کسی ایک فیصد ہی صحیح کوئی تو ایسا مفتی ھوگا کوئی تو ایسا عالم ھوگا جو اس مسلے پر قوم کی رہنمائی کرسکے، چلیں اسے اسطرح سمجھ لیں کے آپ پورے پاکستان میں جس بھی عالم یا جس بھی مفتی کو ٹھیک مانتے ہیں بھلے وہ تعداد میں اکا دوکا ہی ھوں تو ان سے ہی پوچھھ کے بتا دیں کے وہ اس حالت میں فتویٰ کیوں نہیں دے رہے ؟ کونسی ایسی مجبوری ھے جس نے انکو قوم کے اتنے سنگین مسلے پر جسکی وجہ سے لوگ اپنے بچوں سمیت خود کشیاں کرنے پر مجبور ھوچکے ہیں اس پر آخر انکی یہ مجرمانہ خاموشی کیوں ھے ؟ اگر وہ نہیں بتائیں گے قوم کو وہ اس معاملے میں رہنمائی نہیں کریں گے تو پھر کیا لوگ ایسے ہی خود کشیاں کرتے رہیں؟ سات ہزار میں کوئی کیسے پال سکتا ھے آج کے دور میں اپنے کنبے کو ؟ یہ صحیح عالم اور مفتی جنکی تعداد آپ سمجھتے ہیں بہت ہی معامولی سی ھے تو یہ معامولی تعداد کے مفتی حضرات کیوں نہیں دے رہے فتویٰ ؟ برائے مہربانی مجھے جواب دیں آپ اس بات کا۔ اور اگر نہیں دے رہے پھر آپ یا میں یا یہ پوری قوم کیسے انہیں ٹھیک اور حق پر مان سکتے ہیں ؟ کیسے ان کے پیچھے چل سکتے ہیں ؟ بظاہر تو یہ ہی نظر آرہا ھے کہ اس معاملے پر انکا فتویٰ نہ دینا حکومت سے پیسے لے کر خاموشی اختیار کرنے کے مترادف ہی ھے پھر تو۔ اگر ایسا نہیں ھے تو پھر کیوں نہیں دیتے فتویٰ ؟

  4. fikrepakistan نے کہا:

    افتخار صاحب، آپ اس بلاگ پر سب سے زیادہ قابل احترام شخصیت ہیں، آپ ہم سب کے بزرگ ہیں اور والد کی طرح قابل احترام بھی، میں تو اپنے لڑکپن سے ہی داغ یتیمی کا شکار ہوں، مگر خوش نصیبی ھے کہ آپ جیسے جہاندیدہ اور زمانہ شناس لوگوں کا قرب نصیب ھے، اسلئیے ہی آپ سے عرض ھے کہ میری رہنمائی فرمائیں، یہ وہ سوال ھے جسکا جواب نہیں ملا تو میرا تو پاکستان کے ہر مفتی ہر عالم پر سے اعتماد اٹھھ جائے گا، اسلئیے آپ سے اور بلاگ پر موجود لوگوں سے جنکا تعلق کسی بھی مذہبی جماعت سے ھے وہ اس سوال کا جواب مانگیں اپنے اپنے حلقوں میں تاکے پوری قوم تک صحیح اور حق بات پہنچ سکے اور لوگ کھل کر فیصلہ کرنے میں حق با جانب ہوں کے اب انہیں اس مہنگائی کے دور میں سات ہزار تنخواہ پانے پر اسلام کی روح کے مطابق کیا کرنا چاہیئے، آیا خود کشی کرنی چاہیئے یا پھر ہر جائز ناجائز زریعہ استعمال کر کے اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھائے جائے ؟ مفتی حضرات کا فتویٰ ہی قوم کو اس کرب سے نجات دلا سکتا ھے، اسلئیے برائے مہربانی رہنمائی فرمائی جاتے۔

  5. محترم!

    ایک بات مجھے بھی سمجھا دی جئیے گا۔ آپ بضد ہیں کہ آپکا سوال آپکے الفاظ میں "اس سوال کو سلمان تاثیر والے واقع سے نا ملایا جائے، میرے اس سوال کا سلمان تاثیر والے واقع سے کوئی تعلق نہیں ھے۔” جبکہ آپ نے اسی پوسٹ پہ آپ نے ویدیو سلمان تاثیر کی تائید تعریف میں لگائی ہے ۔ جسکا عنوان "Tribute to Salman Taseer Shaheed”
    کیا یہ محض اتفاقیہ ہے یا آپ اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے پاکستان کی مفتیوں علمائے دین سبھی کو فریق مخالف سجھ کر سوال کا چیلنج کرنا چاہتے ہیں؟

    ایک عرض کروں اگر آپ کا مان پسند فتوٰی آگیا تو عمل درآمد کون کروائے گا؟ اور ممکنہ فساد کا ذمہ ببھی کیا آپ کی نظر میں مفتیوں کو جائے گا؟

  6. fikrepakistan نے کہا:

    وعلیکم السلام، جاوید صاحب یہ ویڈیو میں نے نہیں لگائی ھے، یہ کوئی محسن صاحب ہیں انہوں نے لگائی ھے تجزیئے کا حق سب کو ھے اگر آپ اپنے تجزیئے میں قادری صاحب کے حق میں کوئی ویڈیو لگانا چائیں تو لگا سکتے ہیں میں اسے بھی حذف نہیں کروں گا۔ دوسری بات یہ کہ میرا من پسند فتویٰ کیسے ھوسکتا ھے ؟ فتویٰ دین اسلام کے اصولوں کے عین مطابق دیا جاتا ھے، دس گرام سونے کے برابر تنخواہ میں نے نہیں بھائی اسلام نے رکھی ھے، حق اور صحیح بات کا فتویٰ دینے میں اتنا تامل کیوں ؟ کون کرے گا جھگڑا فساد ؟ یہ تو پاکستان کے اسسی پرسنٹ لوگوں کے مسلے کا حل ھے بھائی تو یہ اسسی پرسنٹ لوگ اپنے ہی حق میں دیئے گئے فیصلے پر کیوں فساد کریں گے ؟ ایک خیالی خدشے کے پیش نظر اتنا بڑا حق چھپانا کیا اسلام کے عین مطابق ھے ؟ آپکو ایک خیالی فساد کا بےبنیاد خدشہ تو ھے، مگر یہ جو اس دس گرام سونے کے برابر تنخواہ کا اسلامی حق ھے یہ نہ ملنے کی وجہ سے جو لوگ بھوک سے مر رہے ہیں جو لوگ اپنی اولادوں سمیت خود کشیاں کر رہے ہیں وہ کس کے کھاتے میں جائے گا ؟ لڑکیاں جسم فروشی پر مجبور ھوگئی ہیں یہ نظر نہیں آرہا اپکو؟ یا آپ جنہیں مانتے ہیں انہیں یہ کیوں نظر نہیں آرہا ؟ جس فساد کا ابھی وجود بھی نہیں ھے وہ نظر آرہا ھے آپکو، مگر جو درندگی اس وقت ھورہی ھے وہ نظر نہیں آرہی آپکو، واہ کیا بات ھے آپکی۔ میری پھر آپ سے درخواست ھے کہ آپ جس بھی عالم کو مانتے ہیں برائے مہربانی ان سے غیر جانبدار ھو کر سوال کریں یہ، اور جو جواب آئے اس سے آگاہ کریں سب کو، تاکے اسسی فیصد لوگ اس کرب سے نجات پا سکیں اور ایک طرف ھو سکیں کے انہیں کیا کرنا ھے، خود کشیاں کرنی ہیں یا پھر ہر جائز ناجائز زریعے سے اپنی اولاد کا پیٹ پالنا ھے۔اور جہاں تک رہی بات عمل درآمد کروانے یا کرنے کی تو وہ زمہ داری ھے گورنمنٹ کی، اگر گورنمنٹ اس فتوے پر عمل نہیں کرے گی تو پھر جس طرح مذہبی جماعتیں توہین رسالت پر اللہ کے کرم سے یکجہ ھوئی ہیں تو یہ بھی تو اٹھارہ کروڑ لوگوں کا مسلہ ھے نہ بھائی اس پر بھی اس ہی یکجہتی کا مظاہرہ کر کے کروایا جائے عمل درآمد، یہ کوئی گناہ کا کام تو نہیں ھے نا یہ تو عین عبادت ھوگی کہ لوگوں کی اتنی بڑی اکثریت کا بھلا ھوگا اس سے اس سے بڑی عبادت بھلا اور کیا ھوسکتی ھے ؟۔

  7. پہلے ایک غلط فہمی دور ہوجائے۔ میں سبھی علمائے دین کی عزت کرتا ہوں مگر مجھے کسی عالم دین تک نہ رسائی ہے اور نہ ہی خصوصی طور پہ کسی دینی مسئلے کے حل کے لئیے کبھی کسی عالم دین کی خدمت میں پیش ہونے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔

    میری ذاتی رائے میں جسطرح چوری پہ اسلامی حد جاری کرنے کے لئیے ریاست کے لئیے کچھ خاص پابندیاں ہیں اسی طرح پاکستان میں ہر معاملے پہ فتوٰی لئیے جانے کے بعد اس پہ عمل درآمد کے لئیے ریاست میں قابل ازیں وہ ماحول ضروری ہے جس سے مخصوص قسم کے فتاوٰی پہ احسن طیقے سے عمل کیا جاسکے۔ آپ ریاست کے کرتادھرتاؤں کو جب تک اسلامی دائر میں نہیں لاتے اس وقت تک اسطرح کا کوئی فتوٰی پاکستان کے موجودہ حالات میں ، محض مزید فساد کی بنیاد بنے گا۔

    ہم سب کو سوچنا چاہئیے کہ اگر اس ملک کو روز اول سے چلانے والے مخلص ہوتے۔ اسلام کے بتائے آسان سے طریقوں پہ عمل رتے تو آج اس ملک میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوتیں۔

    آپ فتواٰی لے لیں۔ یا دنیا کا بہتریں قانون لے آئیں لیکن جب نیتوں میں فتور ہوگا وہ فتاوٰی اور قوانین بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔

    نیکوکار مے خانے میں بھی شراب سے پرہز کرتا ہے۔ اور بدکار آدمی مسجد میں بھی اپنی عادت سے باز نہیں آتا۔

    کوشش کرنی ہے تو ملک میں اچھی اقدار کے عام کرنے سے آغاذ کی جئیے۔ جس میں اسلامی اخلاقی اقدار ہوں۔ لوگ برداشت اور تحمل سے کام لیں۔ علم عام ہوگا تو ایک دوسرے کا احترام عام ہوگا۔ دیانت اور شرافت کو رواج دی جئیے ۔ ممکن ہے اسکا پھل ہم نہ کھائیں مگر آنے والی نسلیں ان عزابوں سے محفوظ رہ سکیں جن سے ہم آج دوچار ہیں۔

    جہاں تک پاکستان میں خوفناک حد تک بڑھتی غریبی اور منہ کھولے بھوک کے عفریت کا تعلق ہے۔ اس کے لئیے انتہائی دیانتداری سے پوری قوم کو نہائے محنت سے جہادی بنایدوں پہ کام کرنا ہوگا تب جا کر اگلے بیس پچیس سالوں میں ہم اس قابل ہونگے کہ ہم اپنی پوری قوم کو باعزت طریقے سے اسکی بنیادی ضرورتیں پوری کر سکیں گے۔ اور اس کے لئیے پاکستان پہ مسلط موجودہ سسٹم اور ایلیٹ کلاس سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔ ورنہ ساری مشق بے کار جائے گی۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید صاحب افلاس کفر تک لے جاتا ھے، اور آپ ایک ایسے آدمی سے اخلاق اقدار بھلائی نیکو کاری میانہ روی اور نا جانے کیا کیا توقعات کر رہیے ہیں، بھوکے آدمی کا تو کوئی مذہب ہی نہیں ھوتا بھائ صاحب۔ یہ سب بے کار کا ڈھکوسلہ ھے جب تک انسان کی روٹی انشور نہیں ھوگی اس وقت تک وہ نیکی کی طرف آ ہی نہیں سکتا۔ میرا خیال ھے کہ یہ تمام مذہبی جماعتیں جسطرح ناموس رسالت پر یکجہ ھوئی ہیں انہیں یہ فتویٰ دینے کے بعد اس ہی یکجہتی کا مظاہرہ کر کے گورنمنٹ سے منوانا ھوگا اس مسلے کو۔ لیکن یہ تب ھوگا جب ہماری مذہبی جماعتیں ایسا کرنا چاہییں گی۔ اور وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہیتییں، کیوں نہیں کرنا چاہیتییں اسے سمجھنے کے لئیے کسی راکٹ سائینس کی ضرورت نہیں ھے۔

  8. چلین کچھ دیر کے لئیے یہ تصور کئیے لیتے کہ آپ کا نظریہ درست ہے۔ اب آپ اسکا کا ایک آدھ حل بھی تجویز کر دیں۔ خواہ وہ حل کسقدر مشکل یا ناممکن ہی کیوں نہ ہو۔ یا ہم یہ سمجھیں کہ آپ نے یہ ساری مشق محض پاکستانی مذھبی جماعتوں پہ تبراہ بیجھنے کے لئیے ہی کی ہے؟

  9. fikrepakistan نے کہا:

    بھائی صاحب حل تو بہت ہی سادہ سا ھے، جس طرح ناموس رسالت پر ایک ھوئے ہیں ٹھیک ویسے ہی دین اس مسلے پر بھی ایک ھو کر عدالت جائیں عدالت سے بھی انصاف نہ ملے تو پھر اس معاملے میں جو شریعت کے احکامات ہیں اس کی روشنی میں فتویٰ دیں کے جی گورنمنٹ نے جس حساب سے مہنگائی کی ھوئی ھے اس لحاظ سے یہ سات ہزار کی تنخواہ کسی طور بھی کافی نہیں ھے اور اسلام کے مطابق نہیں ھے جسکی وجہ سے لوگ خود کشیوں پر مجبور ھوگئیے ہیں، لڑکیاں جسم فروشی پر مجبور ھوگئی ہیں، یا تو گورنمنٹ اسلامی حساب سے دس گرام سونے کے برابر تنخواہ کا علان کے ورنہ پھر اس معاشرے میں اتنی مہنگائی میں اسلامی حساب سے تو حدود نافظ نہیں ھوتیں۔ جیسے گورنمنٹ نے پیڑول کی قیمت واپس لی ھے جیسے ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کرنے سے باز آئی ھے گورنمنٹ ویسے ہی اس پر بھی گھٹنے ٹکوائے جائیں گورنمنٹ کے تاکے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ میں سے سولہ کروڑ لوگوں کا یہ مسلہ حل ھوسکے۔ اس کے لئیے صرف اور صرف خلوص نیت کی ضرورت ھے بھائی صاحب۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s