سب سے بدترین وہ لوگ ہیں جو دنیا کے لئیے دین کو بیچتے ہیں


یہ پوسٹ میں اپنے اس ہی بلا گ پہ دس جون دو ہزار دس کو کی تھی۔   بہت جلد قوم کو مذہب ک نام پر لوٹنے والے قوم کے مذہبی جذبات سے کھیلنے والے ایم ایم اے کے تمام مذہب فروش اس بیوقوف قوم کو مزید بیوقوف بنانے ایک نیئے نام سے جلوہ افروز ہونے والے ہیں ، ابھی کچھ دنوں پہلے ایم ایم اے کی بحالی کے لیے ان سب مذہب فروشوں کی ایک نشست مولانا فضلل رحمان کے گھر پر ہوئی اصل میں تو مولانا کا مقصد ایم ایم اے کی بحالی تھا ہی نہیں وہ تو صرف حکومت کو بلیک میل کر کے اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی حاصل کرنے کے لیے انہوں نے یھ ڈرامہ رچایا تھا، اقتدار کی ہوس کے مارے قاضی حسین احمد اور ہمنوا ان کے اس جھانسے میں آگئیے اور منھ سے جھاگ نکالتے اور رالیں گراتے ہوئے خوشی خوشی مولانا کے گھر تشریف لے گئیے کے شاید دوبارہ مذہب کے نام پر دیہاڑی لگانے کا موقع مل جائے ، خبر ھے کے مولانا کے مطالبات مان لیے گیے ہیں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سربراہی مولانا کی پارٹی کے کسی مذہب فروش کو سون پ دی جائیگی یہ ہی مولانا چاہتے تھے انکا کام ہو گیا اب انھیں ایم ایم اے کی بحالی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، مگر قاضی حسین احمد اب نئیے انداز سے قوم کو بیوقوف بنانے کے لیے پر تول رہے ہیں اس بار تحفظ ختم نبووت کے نام سے نیا اتحاد بنانے کے لیے قاضی صاحب بری طرح سے بے چین ہیں اور اپنے ان بیہودہ عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اور پیشگی قوم کا دماغ بنانے کے لئے دو دن پہلے وہ ختم نبووت کے نام سے ایک ریلی بھی نکال چکے ہیں ، میں نے اپنا فرض جانتے ہوئے قوم کو پیشگی با خبر کرنا ضروری سمجھا ، اب جسے مذہب فروشی گوارہ ہو وہ ان تمام درندوں کے ساتھ ہو جائے اور جسے قوم کا اور دین کا ذرا سا بھی درد ھے اسے چاہیے کے قوم کو اور دین کو ان درندوں کی درندگی سے بچانے کے لیے قوم میں شعور پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے.

یہ پیشن گوئی ٹھیک چھے مہینے بعد پوری ھوگئی، اب ان مذہب فروشوں کو اپنے ناپاک اور مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آگیا ھے جس پر یہ کافی عرصے سے کام کر رہے تھے، پہلے انتخابی نشان کتاب کو قرآن کا درجہ دیا گیا اور کہا گیا کے یہ قرآن ھے اسے ووٹ دو، کچھھ بیوقوف لوگوں نے اس کتاب کو واقعی قرآن سمجھھ لیا اور اسے ووٹ بھی دیا مگر نتیجہ ؟ نو سال تک مشرف کو بلیک میل بھی کرتے رہے اور اسکی پھینکی ہوئی ہڈیاں بھی چوستے رہے، ان ہی نو سالوں میں انہوں نے پورے صوبہ سرحد کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا دیا جسکا خمیازہ آج پوری پاکساتانی قوم بھگت رہی ھے صوبہ سرحد میں مکمل طور پر انکی یہ حکومت تھی مگر پورے پاکستان میں تو یہ کیا شریعت نافذ کرتے جس صوبے میں انکی مکمل حکومت تھی وہاں بھی نافذ نہ کی۔
ایم ایم اے بنانے کے بعد اقتدار کے سارے مزے لوٹنے کے بعد کتے کی طرح لڑ بھڑ کر علیدہ ھوگئیے اب نئے سرے سے قوم کو بیوقوف بنانے کے لئیے ایک بار پھر عوام کے مذہبی جذبات کا صحارا لے کر یہ لوگ ناموس رسالت کے نام سے جمع ھوگئے ہیں اور اب یہ تحریک ناموس رسالت کو ھوا دے کر یہ لوگ اب پھر الیکشن لڑیں گے اور اسلام کے نام پر ایک بار پھر سے قوم کو بیوقوف بنائیں گے۔
جتنے درندے جتنے وحشی مفاد پرست لٹیرے اور حوس کے مارے سیاستدان ہیں اتنے ہی درندے وحشی مفاد پرست لٹیرے اور حوس کے مارے یہ مذہب فروش بھی ہیں، قوم کی گالیوں کے پھٹکاروں کے اور نفرت کے جتنے مستحق سیاستدان ہیں اتنے ہی قوم کے گالیوں کے پھٹکاروں کے اور نفرت کے مستحق یہ مذہب فروش بھی ہیں بلکے یہ ان سے بھی کہیں زیادہ ہیں کیوں کے سیاستدان تو ہمارے کھلے دشمن ہیں مگر یہ مذہب کے نام پر لوگوں کی جنت کے نام پر معصوم ذہنوں سے کھیلتے ہیں ان کے پھیچھے چلنے سے کہیں بہتر ھے انسان کسی سیاسی کتے کو اپنا رہنما بنا لے کہ کتا تو پھر وفادار ھوتا ھے مگر ان سے وفا کی امید رکھنا ایسا ہی ھے جیسے سانپ کو دودھھ پلانے کے بعد یہ توقع رکھنا کے یہ اب ہمیں نہیں ڈسے گا۔
یہ عوام کے اصل مسائل کی طرف کبھی بھی نہیں آتے بس ہر اس معاملے کو اچھالتے ہیں جس سے قوم کے مذہبی جذبات وابسطہ ھوں، ورنہ انکا تو عوام کے اصل مسائل سے دور دور تک کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے، آخری پوسٹ میں میں نے پاکستان کی اسسی پرسنٹ قوم کے مسلے کا ذکر کیا اور ان کے حمایتیوں سے پوچھا کے جواب مانگو اپنے ان ناخداوں سے کہ کیوں نہیں دیتے یہ فتویٰ قوم کے اتنے سنگین مسلے پر ؟ کہ سات ہزار تنخواہ میں کوئی کیسے پال سکتا ھے اپنا کنبہ ؟ دین کے مطابق کیوں نہیں دیتے یہ لوگ فتویٰ کے اسلام کے مطابق کم از کم ہر پاکستانی کی تنخواہ دس گرام سونے کے برابر ھونی چاہیئے، یہ ھے سب سے اہم مسلہ آج کا مگر اس پر نا فتویٰ نا کوئی تحریک نہ کوئی جلسہ نا کوئی دھرنا نہ کوئی ہڑتال، کیسے دیں کے فتویٰ یہ لوگ باقئدہ پیسے لیتے ہیں حکومت سے اس طرح کے معاملوں پر فتویٰ نہ دینے کے لئیے۔
اگر سیاستدان کنجر ہیں تو حاجی یہ سب بھی نہیں ہیں یہ ان سے بڑے کنجر ہیں حدیث ھے کہ، سب سے بد ترین وہ لوگ ہیں جو دنیا کے لئیے دین کو بیچتے ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

27 Responses to سب سے بدترین وہ لوگ ہیں جو دنیا کے لئیے دین کو بیچتے ہیں

  1. "اگر سیاستدان کنجر ہیں تو حاجی یہ سب بھی نہیں ہیں یہ ان سے بڑے کنجر ہیں”

    مندرجہ بالا فرمودات کے بعد آپکی اپنے بارے میں کیا رائے ہے؟۔ لگتا ہے مولوی آپ کے ساتھ کوئی برا ہاتھ کر گئے ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      اللہ کا شکر ھے میرا ویژن بہت کلئیر ھے پاکستان کے مولویوں کے بارے میں، اسلئیے میں انہیں ایسا کوئی موقع ہی نہیں دیتا جس سے وہ میرے مذہبی جذبات سے کھیل سکیں، اس کام کے لئیے انہیں آپ جیسے لوگ ایندھن کی صورت میں وافر مقدار میں میسر ہیں۔

  2. ABDULLAH نے کہا:

    مولویوں کے کرتوتوں پر ایک نظر!

  3. یہ خاص پیارے بار سنگ۔۔۔۔۔ کے لئیے

  4. ABDULLAH نے کہا:

    گوندل گند تم صرف ایک دو جھوٹی خبروں کو کیا اگلے دس سال تک اسی طرح ہر بات کے جواب میں پوسٹ کر کے اپنی حماقتوں کا ڈھنڈھورا پیٹتے رہوگے؟؟؟؟؟؟؟
    🙂
    تم ایسا کرو امت اخبار لگوا لو کم سے کم چھوڑنا ہی ہو تو تازہ چھوڑو!!!!!!
    🙂

  5. پیارے سین۔۔۔ فی الحال یہ دیکھو۔ پسند نہ آئے تو فرمائش کرنا ۔۔۔ تمہارے سرغنے کی ایک دم فٹا فٹ فریش فریش تازہ تازہ وارداتیں پیش کر دونگا، تم حکم تو کرو جی۔

    • ABDULLAH نے کہا:

      گوندل گند فی الحال تم اپنے سرغنوں کی فکر کرو جن کے اشاروں پر تم پاکستانیوں کے اندرنفرتوں کی بیج بو کر پاکستان کو تباہ کرنے کی تمام کوششیں کر چکے ہو،تمھاری اور تمھارے آقاؤں کی بساظ بہت جلد لپیٹی جانے والی ہے انشاءاللہ!
      🙂

  6. جو کچھ آپ نے لکھا وہ آپ کا فعل ہے ۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہيں ہے سوائے اس کے کہ کسی آدمی کو بہتری کی طرف راغب کرنا ميرا انسانی فرض ہے ۔

    "دُشنام طرازی اور بہتان تراشی سے بچنا ايک اچھی عادت ہے” ۔
    اسے لکھ کر رکھ ليجئے ۔ شايد کبھی اس پر عمل کرنے کو جی چاہے

    • ABDULLAH نے کہا:

      یہ جن باتوں پر عمل کرنے کی آپ دوسروں کو ہدایت کرتے رہتے ہیں کبھی کبھی خود بھی ان پر عمل کرلیا کریں یقین مانیں خاصا افاقہ ہوگا آپکی تمام بیماریوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      🙂

  7. نوازچوہدری نے کہا:

    پاکستان جس سج دھج، فخراور تيزی سے "ملائيت” کي کمان ميں انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے، اسے ديکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہنگامی طور پر يہاں کوئی کمال اتاترک سامنے نہ آيا تو يہاں عنقريب چہارسو "طالبانيت کا دور” ہوگا
    سعودی عرب کی امداد سے چلنے والا ملاں ازم اور اسلام کے نام پر؟ دیوبندی اسلام، سُنی اسلام، شیعہ اسلام، بریلوی اسلام، اہلحدیث اسلام۔۔۔۔؟
    "بجائے ایک کے ملتے ہیں کئی اسلام
    یہ حال زار مِرے دینِ بے مثال کا ہے۔
    کسی کے بس میں نہیں احتساب مُلا کا
    بس انتظار کسی مصطفٰی کمال کا ہے”۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جنتی باتیں اپ نے کی ہیں وہ سب بلکل صحیح ہیں اور ننگا سچ ہیں، پاکستان کی تباہی میں جتنا ہاتھھ سعودیہ عرب کا ہے اتنا تو امریکہ کا بھی نہیں ھے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ اگر یہ حقائق عیاں کرنا غلط ھے تو پھر کچھھ بھی صحیح نہیں ھے۔

  8. نوازچوہدری نے کہا:

    جب کسی ملک کے حالات یہ ہوں کہ نہ جمہوریت کا قبلہ درست ہو اور نہ ہی علماء کا اور عدلیہ کا یہ حال ہو کہ پانچ پانچ برس تک یہ صرف اس بات پر بحث ہوتی رہے کہ فلاں مقدمہ عدالت کو سننا چاہیے یا نہیں۔۔۔ اگر ایسے ہی حالات رہے تو عوام اپنے فیصلے خود کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      نواز صاحب یہ وہ ہی عدلیہ ھے نہ جس کی بحالی کے لئیے یہ ہی قاضی حسین احمد پوری قوم سے کہتے تھے کہ عدلیہ بحال ھوجائے گی تو پاکستان میں دودھھ اور شہد کے نہریں بہنے لگیں گی۔ عدلیہ تو بحال ھوئے مدت ہوئی اب قاضی صاحب کو چاہیئے کہ پوری قوم کو وہ دودھھ اور شہد کی نہریں بھی دکھا دیں جو عدلیہ کے بحال ھونے کے بعد بہنی تھییں۔ انکا کام صرف اور صرف ہر غلط بات پر قوم کو بہکا کر سڑکوں پہ لانا ھے اور بلیک میلنگ کر کے مال بنانا ھے اور پھر منظر سے غائب ھوجانا ھے، اب پھر ان درندوں کے ایک نیا ایشو مل گیا ھے جسے بنیاد بنا کر یہ لوگوں کے سڑکوں پہ لا رہے ہیں اور حکومت کو بلیک میل کر کے اپنا حصہ وصول کریں گے، یہ نہ مذہب سے مخلص ہیں نہ ہی پاکستانی قوم سے یہ صرف اور صرف پیسے کے یار ہیں۔

  9. مولوی ‘ملائیت نے کہا:

    ایک صاحب جو ایک یورپی ملک میں‌ قادیانی ریفیوجی ہیں‌ لیکن اپنے ضمیر کی خلش صاف کرنے کا مودا “عشق مولوی ” پر ڈال کر یار لوگوں کو قادیانیت اور منافقت کے سرٹیفیکٹ جاری کرتے رہتے ہیں۔

  10. عمران اقبال نے کہا:

    تحریر اور تبصرے پڑھ کر نہایت افسوس ہوا۔۔۔ پہلی بات یہ کہ بھائیو، کیا ہمارے سیاستدان ہمارے خدا (نعوز باللہ) ہیں جن کے بارے میں آپ حد سے زیادہ پروٹیکٹو ہو رہے ہیں۔۔۔ یارو، اس تحریر کا مقصد جو مجھے سمجھ آیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان، کرسی اور وزارتیں پانے کے لیے کسی بھی حد سے گزرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، اس وقت انہیں اللہ بھی یاد نہیں رہتا۔۔۔ اب وہ چاہے پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ ن یا ق والے ہوں، ایم کیو ایم ہو، جماعت اسلامی ہو، اے این پی ہو اور یا متحدہ مجلس عمل ہو، سب کا منشور صرف حکومت کرنا ہے۔۔۔ کاغذ پر بڑے بلند بانگ دعوے ہوں گے کہ عوام الناس کا بھی کچھ بھلا کرنا ہے لیکن آپ سب خود سوچ سمجھ کر بتا دیں کہ کیا بھلا کیا ہے ہمارا ان سیاستدانوں نے۔۔۔ براہ مہربانی۔۔۔ اس تحریر کو سمجھنے کی کوشش کریں نا کہ جزباتی ہو کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیں۔۔۔

    خدارا۔۔۔ اب جماعتوں، زات پات اور فرقوں سے باہر نکلیں۔۔۔ ان چیزوں نے ہمیں تباہیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔۔۔ عزت دیں اور عزت لیں پر عمل کریں۔۔۔ اور کسی دوسرے کی نکتہ چینی کو ہنس کر برداشت کریں اور پھر اس سے کچھ نا کچھ سبق حاصل کریں۔۔۔

    عبداللہ بھائی۔۔۔ آپ بلاگ لکھتے ہیں اور پڑھے لکھے انسان ہیں تو براہ مہربانی اپنوں سے بڑوں کے آداب ملحوظ خاطر رکھیں۔۔۔

    افتخار اجمل صاحب نا صرف ہمارے بزرگ ہیں۔۔۔ بلکہ نہایت شائستہ اور علم والے انسان ہیں۔۔۔ ان کی اپنی رائے ہے کچھ معاملوں میں۔۔۔ تو ہمیں ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔۔۔ جیسا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے رائے کا بھی احترام کیا جائے۔۔۔

    والسلام۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عمران صاحب میں نے کبھی بھی کسی سیاستدان کی فیور نہیں کی، میں نے اپنی اس تحریر میں بھی سیاستدانوں کے لئیے بھی وہ ہی الفاظ استعمال کئیے ہیں جو ان مذہب فروشوں کے لئیے کیئے ہیں، ان دونوں میں مگر فرق زمین آسمان کا ھے، سیاستدان ہم سے جنت کا وعدہ نہیں کرتا کے میرے پیچھے چلو میں ہوں صحیح فرقہ میں ھوں صحیح مسلک، تمہاری جنت کا راستہ میری جماعت سے ھو کر ہی جاتا ھے۔ یہ لوگ تو مذہب سے کھیل رہے ہیں لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیل رہے ہیں، مولانہ فضل الرحمان پہلے بھی ہمیشہ ہر حکومت میں رہے ہیں اور ابھی بھی تین سال سے اس حکومت کا حصہ رہے اور خوب مراعتیں لوٹیں ہیں انہوں نے، جب اپنے مفاد پر ضرب لگی تو حکومت سے الگ ھوگئے اور اب اس ہی حکومت کے خلاف ایک نام نہاد تحریک رسالت بنا کر حکومت کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، یہ کیسی منافقت ھے آخر ؟ یہ ہیں ان لوگوں کی جنت کے ضمانتی جو ان کے پیچھے چلتے ہیں ؟ ایسے منافق اور مذہب فروش لوگ کر سکتے ہیں دین کا بھلا ؟ یہ سارے چور پھر سے جمع ھورہے ہیں پوری قوم کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کے لئیے، ہر شخص کو چاہئیے کے سیاستدانوں کی طرح انکی بھی کردار کشی کی جائے تاکے کم سے کم لوگ انکا ایندھن بنیں۔

    • ABDULLAH نے کہا:

      عمران اقبال میں اپنے خاندان کے بڑوں کی عزت کرتا ہوں یا جنہیں پرسنلی جانتا ہوں،باقی اس بلاگنگ میں نہ کوئی میرا چاچا ماما ہے اور نہ میں بنانا پسند کرتا ہوں،یہاں میں صرف ان کی عزت کرتا ہوں جو منافقت سے پاک ہوں خواہ وہ مجھ سے چھوٹے ہوں اور میرے مخالف نظریات ہی کیوں نہ رکھتے ہوں،
      امید ہے بات آپکی سمجھ میں آگئی ہوگی!!!!!!!!!

      • عمران اقبال نے کہا:

        عبداللہ بھائی۔۔۔ (معاف کیجیے گا، میں آپ کو پرسنلی نہیں جانتا تو مجھے آپ کو نا تو بھائی کہنا چاہیے اور نا ہی آپ کی عزت کرنی چاہیے)۔۔۔

        جی تو میں کہ رہا تھا کہ عبداللہ واقعی آپ کا یہاں کوئی ماما چاچا نہیں ہے۔۔۔ اور منافقت کی بات تو آپ کے منہ سے بلکل اچھی نہیں لگتی۔۔۔ میرے خیال میں آپ سے بڑا منافق شاید کوئی اور نا ہو۔۔۔ جو اپنے چوہوں کے دفاع میں تہذیب کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے ہیں۔۔۔

        اپنی سمجھ پر مجھے اتنا یقین ضرور ہے کہ میں آپ کی طرح نا سمجھ نہیں ہوں۔۔۔

        امید ہے بات آپکی سمجھ میں آگئی ہو گی۔۔۔!!!!!!!

    • عمران اقبال نے کہا:

      فکر پاکستان: بھائی جان میرا پچھلا کمنٹ آپ کے لیے بلکل نہیں تھا۔۔۔ بلکہ کچھ قارئین کے لیے تھا جو ایک دوسرے پر نکتہ چینی کر رہے تھے۔۔۔ برا مت مانیے گا۔۔۔ آپ کے مضمون سے میں سو فیصد متفق ہوں۔۔۔

      • ABDULLAH نے کہا:

        عمران اقبال آپکی بڑی مہربانی کہ آپنے مجھے بھائی کی تہمت سے آزاد کیا،
        میرے نزدیک یہ بھی ایک بہت بڑی منافقت ہے کہ جسے آپ پسند نہ کریں اسے بھائی جان اور چچا جان بناتے رہیں،
        رہی میرے کسی کے دفاع میں تہذیب کا دامن چھوڑنے کی بات،تو ایسا میں بدتہذیب لوگوں کے ساتھ ہی کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا،
        امید ہے یہ بات بھی جناب کی سمجھ میں آگئی ہوگی!!!!!
        اور اگر خبیثوں سے جان چھڑا کر اپنا علاقہ چھوڑ کر نکل جانا چوہا ہونا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ چھوڑ کرمدینہ تشریف لے گئے تھے ان کے اس عمل کو بھی آپ یہی گھٹیا ذہنیت والا گھٹیا نام دیں گے؟؟؟؟؟؟؟

  11. عمران اقبال نے کہا:

    عبداللہ۔۔۔ حد درچہ گھٹیا بات کی ہے آپ نے اور یقین کریں کہ مجھے آپ سے امید بھی یہی تھی۔۔۔ منافقت کی حد کر دی آپ نے۔۔۔ الطاف حسین جیسے ننگ وطن کو آپ کس ہستی سے ملا رہے ہیں۔۔۔ شرم آنی چاہیے آپ کو۔۔۔ حقیقی معنوں میں تو آپ نے توہین رسالت کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔۔۔ آمین۔۔۔

    آپ چاہے جیسے ہیں مجھ سمیت کسی دوسرے قاری کو اس سے کوئی مطلب نہیں۔۔۔ لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنی سوچ کو شائع کرنے کے لیے اپنا بلاگ بنا لیں اور وہاں آپ نے جو بھی زہر اگلنا ہے۔۔۔ شوق سے اگلیں۔۔۔ دوسروں کے صفحات کو گندہ مت کریں اپنی گھٹیا سوچ سے۔۔۔۔

    پھر سے میری دعا یہی ہے آپ کے لیے ۔۔۔ کہ اللہ آپ کو صحت عطا فرمائے۔۔۔۔ انگریزی میں کہوں گا۔۔۔ Get Well Soon buddy… آپ نہایت ہی کسی خطرناک زہنی بیماری کا شکار ہیں۔۔۔

    کہیں سنا تھا کہ احساس کمتری کے چھپانے کے لیے لوگ احساس برتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔ تو آپ جیسے اخلاقی پسماندہ شخص بھی ایسی ہی اور کسی بڑی زہین بیماری کا شکار ہے۔۔۔ اپنا علاج کروایئں۔۔۔

    میری درخواست ہے "فکر پاکستان” سے۔۔۔ کہ جونکہ "عبداللہ” سے کوئی مفید تبصرے کی امید نہیں۔۔۔ لہذا انہیں بلاک کر دیں۔۔۔ اور یہ ہی ان کے ساتھ میں اپنے بلاگ میں کروگا۔۔۔ ایسے لوگ نام بدل کر پھر آ جائیں گے۔۔۔ کیونکہ یہ ماحول گندا کرنے کا عادی ہیں۔۔۔ اس لیے ان کی طرز بکواس کو سمجھیں اور ان کا کوئی بھی کمنٹ آتے ہیں ڈیلیٹ کر دیں۔۔۔

    والسلام۔۔۔

    • ABDULLAH نے کہا:

      عمران اقبال اور مجھے تم جیسے جاہلوں سے بعینہی یہی امید تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      تم جس معاشرے میں پل کر بڑے ہورہے ہو وہاں اپنے عمل کی تو کوئی پرواہ نہیں ہوتی مگر دوسروں پر توہین رسالت کا شوق ایک جنون اور دیوانگی اختیار کرچکا ہے بہتر ہوگا کہ تم اپنے اس پاگل پن سے ہم سب کو محفوظ رکھو،
      تم سے وقار کی پوسٹ پر ایک سوال کیا تھا ایک بار پھر پوچھتا ہون کہ تم نے قرآن پاک کتنی بار بمع ترجمعہ اور تفسیر کے پڑھا ہے اور کونسی صحیح احادیث کی کتب مکمل ختم کی ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
      تم جیسے نیم ملا خطرہ ایمان ٹائپ کے لوگوں نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اب بھی تمھیں سکون نہیں،اللہ تم جیسے ذہنی بیماروں سے اس ملک کو پاک کرے آمین ثمہ آمین

  12. ABDULLAH نے کہا:

    اور ہاں فکر پاکستان تم سے کہیں زیادہ ذہین اور سمجھدار شخص ہیں انہیں تمھارے مشوروں کی قطعی ضرورت نہیں ہے،کیا سمجھے!
    اور تم بھی جاکر صرف اپنے بلاگ کو گندہ کرو تو بہتر ہوگا!!!!

  13. عمران اقبال نے کہا:

    عبداللہ۔۔۔ شکریہ۔۔۔ آپ کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔۔۔ اور اگر مجھ میں کوئی خامی ہے تو میں انہیں درست کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔

    والسلام۔۔۔

  14. khokhar976 نے کہا:

    جناب فکر پاکستان صاحب، آپ کے خیالات سے متفق ہوں ۔ لیکن ذرا جذبات قابو میں رکھیں۔ ملاں کا کام جذبات بھڑکانا ہے۔ ان کے نقش قدم پرنہ ہی چلیں تو بہتر ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s