سانپ بیٹھا ہنس رہا ھے ۔ آدمی، آدمی کو ڈس رہا ھے۔


پچھلے دنوں اسلام آباد کی مرگلہ ہلز سے ٹکرا کر ائیر بلو کا ایک مسافر طیارہ تباہ ھوگیا تھا، طیارہ گرنے کی وجہ آج تک سامنے نہیں آسکی مگر اس حادثے کے بعد جو کچھہ میرے سامنے آیا وہ کم از کم میرے لئیے حیرت انگیز ہرگز نہیں ھے قابل افسوس ضرور ھے۔
ائیر بلو کے آپریشن ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ راحیل صاحب، ایک نفیس اور درد مند انسان ہیں، فرماتے ہیں میری آج تک کی عمر میں مجھے زندگی کا ایسا تجربہ نہیں ملا جو کے اس حادثے کے بعد ملا، حادثے کے بعد ائیر بلو نے اناونس کیا تھا کے مرنے والے ہر مسافر کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا، اس سلسلے میں انشورنس کمپنی سے معاملات طے ہو رہے تھے انشورنس کمپنی فی مسافر دس لاکھہ دینے کے لئیے آمادہ تھی مگر ائیر بلو کےڈائریکٹرزحضرات اس معمولی معاوضے پر راضی نہ تھے جسکی وجہ سے معاملہ التوا کا شکار تھا۔
ہر گزرتے دن کے ساتھہ مرنے والوں کے لواحقین کے شک  و شبہات بڑھتے جارہے تھے کہ ائیر بلو ہرجانہ دینے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہر روز مرنے والوں کے لواحقین جلوس کی صورت میں آتے اور مغلظات بکتے، بحرحال انشورنس کمپنی سے معاملہ فی مسافر پچاس لاکھہ طے پاگیا اور ائیر بلو کی انتظامیاں نے اناونس کر دیا کے ضروری کاغذات کے ساتھہ مرنے والوں کے لواحقین ہمارے آفس سے چیکس وصول کرسکتے ہیں۔
فرماتے ہیں کے لگ بھگ ایک سو پچھتر مسافر تھے ان میں سے نوے پرسنٹ مسافروں کے لواحقین کا معاملہ یہ تھا کے وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے، ہر شخص یہ ہی کہہ رہا تھا کہ اس رقم کا اصل حقدار میں ھوں، ایک خاتون جس کا شوہر اس حادثے میں ہلاک ھوا تھا اس مسافر کا والد اس بات پر بضد تھا کے میرے بیٹے کی بیوی اس رقم کی حقدار ہرگز نہیں ہے کیوں کے میرے بیٹے نے تو اسے طلاق دے دی تھی، اسلئیے اب اس رقم پر اسکا کوئی حق نہیں ھے اس رقم پر صرف میرا حق ھے میں باپ ھوں اسکا، جبکہ حقیقتاَ طلاق واقع نہیں ھوئی تھی۔
ایک مسافر کے دو بھائی اپنے آپ کو حقدار ثابت کر رہے تھے ایک بھائی دوسرے بھائی کےلئیے کہہ رہا تھا کے یہ تو بہت ہی نافرمان ھے ساری زندگی اسکا جھگڑا رہا ھے مرحوم سے اور مرحوم تو اسکا چہرہ تک دیکھنا گوارہ نہیں کرتا تھا، اسلئیے اس پیسے پر اسکا کوئی حق نہیں بنتا۔
اس ہی طرح ایک اور مسافر کے دو بھائی اور آگئے انتہا یہ کے دونوں نے ایک دوسرے کو پنچاننے سے ہی انکار کر دیا ایک کہہ رہا تھا کہ یہ مرحوم کا بھائی نہیں ھے جبکہ دوسرا کہہ رہا تھا کہ یہ مرحوم کا بھائی نہیں ھے۔ غرض یہ کہ اس ہی طرح کے معاملات تھے ہر کسی کے ساتھہ جو کے اپنے اپنے پیاروں کے مرنے کا معاوضہ لینے آئے ھوئے تھے، گنتی کی چند فیملیز ایسی تھیں جنہوں نے پیسے کے لئیے رابطہ نہیں کیا، راحیل صاحب ایسی فیملیز کے پاس خود گئے اور انہیں راضی کیا پیسے لینے پر کہ یہ پیسہ آپ کے غم کا مداوا تو نہیں ھوسکتا مگر یہ آپکا حق ھے یہ پیسہ آپ کو لینا ہی پڑے گا۔ یہ سب سننے کے بعد جب میں وہاں سے اٹھا تو ناجانے کیوں مجھے یہ شعر بہت یاد آیا۔

سانپ بیٹھا ہنس رہا ھے
آدمی، آدمی کو ڈس رہا ھے۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

7 Responses to سانپ بیٹھا ہنس رہا ھے ۔ آدمی، آدمی کو ڈس رہا ھے۔

  1. بے حسی کی انتہاء ہے کہ اپنے پیاروں کے خون کی قیمت وصول کرتے ہوئے بھی ھوس اور لالچ نے پیچھا نہ چھوڑا۔

  2. عدنان مسعود نے کہا:

    خاندانی ومعاشرتی اقدار کی شکست وریخت کا جو المیہ آپ نے لکھا ہے وہ نہایت غمگین کرنے والا احوال ہے۔ شائد یہ کہنا مزاج عمومی کے لئے ‘کلیشے’ ہوگا کہ یہ سب کچھ دین سے دوری کی وجہ سے ہے لیکن مبصر کا تو یہی غالب گمان ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عدنان مسعود صاحب، تھوڑی سے تصیح کرنا چاہوں گا ، دین سے دوری تو شاید نہیں، دین کے صحیح تشریحات سے دوری کا نتیجہ کہہ سکتے ہیں، کیونکے اس پاکستان میں کوئی ایک مذہبی جماعت بھی دین کا صحیح مغز بیان نہیں کرتی، سب کو بس اپنے اپنے فرقے اپنے اپنے مسلک کی بقا کی پڑی ہے اسلام کا تو نام و نشان تک نہیں ھے پاکستان میں۔

  3. آپ کی اس تحرير پر ميں سوائے اشکبار ہونے کے کچھ نہ کر سکا ۔ نمعلوم يہ آنسو اپنی بے بسی کے تھے يا اپنی قوم کی موت کے

  4. عمران اقبال نے کہا:

    افسوس صد افسوس۔۔۔ اس مردہ قوم پر۔۔۔
    افسوس صد افسوس— پیسے کی اس اندھی لالچ پر۔۔۔
    افسوس صد افسوس۔۔۔ مردہ غیرت اور ہمیت پر۔۔۔

    اب رونے کے سوا چارہ بھی کیا رہ گیا ہے۔۔۔ خون کے آنسو بہنے باقی رہ گئے ہیں اس قوم کی بگڑتی ہوئی حالت اور بے شرمی پر۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s