بلاعنوان


ایک ایسے موضوع پر بات ھونے جارہی ھے جو کہ ممکن ھے کافی لوگوں کے مشتعل ھونے کا سبب بنے مگر میرا مقصد نہ کسی کو مشتعل کرنا ھے اور نہ ہی کسی کے دینی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ھے، میرا مقصد صرف اور صرف حق اور سچ تک پہنچنا ھے امید ھے آپ حضرات مثبت انداز سے غور و فکر کرنے کی کوشش کریں گے اور اپنی اپنی آراء سے اس سیکھنے کے عمل میں مدد فرمائیں گے۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت چار اماموں کی تحقیق کی مقلد ھے، کوئی امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کی تحقیق کو زیادہ مستند مانتا ھے تو وہ خود کو حنفی کہلوانا پسند کرتا ھے اور اپنی زندگی کے تمام معملات انکی ہی تحقیق کے سائے میں کرتا ھے، کوئی امام حمبل رحمت اللہ علیہ کی تحقیق کو زیادہ مستند مانتا ھے تو وہ خود کو حمبلی کہلانا پسند کرتا ھے اور تمام معملات انکی تحقیق کے مطابق ہی کرتا ھے، اس ہی طرح امام مالک رحمت اللہ علیہ اور شافعی رحمت اللہ علیہ کے ماننے والے ہیں وہ انکی ہی تحقیق کے سائے میں اپنے اپنے معملات کرتے ہیں۔
یہاں ایک بات قابل غور ھے کہ تمام مسلمان ان چاروں آئمہ اکرام کی تحقیق کو مستند مانتے ہیں غلط کوئی کسی کو بھی نہیں کہتا ایمان چاروں پر یکساں ھے مگر میری سمجھہ میں یہ بات نہیں آتی کے جب چاروں کی تحقیق پر سب کا اتفاق ھے تو پھر تقلید کسی ایک امام کی کیوں؟.
عجیب بات ھے کہ میں امام ابو حنیفہ کا ماننے والا ہوں مگر میں یہ بھی مانتا ہوں کے باقی تینوں اماموں کی تحقیق بھی درست ھے وہ بھی انتے ہی قابل احترام ہیں جتنے کہ امام ابو حنیفہ ہیں تو یہاں سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ میرا کیسا اعتقاد ھے باقی تین اماموں پر کہ میں انکی تحقیق کو درست بھی مان رہا ھوں مگر انکی بات نہیں مان رہا میرا عمل صرف ایک امام کی تحقیق پر مشتمل ھے۔
یہ تو طے ھے کہ چاروں اماموں کی تعلیم قرآن اور سنت کی روشنی میں ہی ھے اور ہر لحاظ سے مستند ھے تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہمیں جو مسلہ درپیش ھو اس مسلے کے حل کے لیئے ہم چاروں اماموں کی تحقیق کا مطالعہ کریں اور جنکی تحقیق میں ہمیں زیادہ آسانی یا زیادہ سہولت ہو ہم اس مسلے کو ان امام کی تحقیق کے سائے میں حل کریں، یہاں لوگ یہ بات کرتے ہیں کے ایسا کیسے ممکن ھے تقلید تو کسی ایک امام کی ہی کرنی پڑے گی جس ایک امام کو بھی آپ مانتے ہیں آپکو اپنی زندگی کے تمام معملات انکی ہی تحقیق کی روشنی میں طے کرنے ھونگے، یہاں سوال یہ اٹھتا ھے کہ ایک کی ہی تقلید کیوں ؟ جب ہم تہہ دل سے مانتے ہیں کے چاروں اماموں کے تحقیق مستند ھے تو پھر تقلید کسی ایک کی ہی کیوں ؟.
طلاق کے مسلے کو ہی لے لیجئیے امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق ایک ہی وقت میں دی گئیں تین طلاقوں کے نتیجے میں طلاق واقع ھوجاتی ھے, جبکہ امام حمل رحمت اللہ علیہ کی تحقیق کہتی ھے کہ ایک وقت میں کتنی ہی طلاقیں دے دی جائیں وہ ایک طلاق ہی مانی جائیگی، اب یہ پوری پوری نسلوں کے معاملات ہیں طلاق کے اثرات صرف میاں اور بیوی کی زندگی پر ہی نہیں آتے بلکے بچوں اور پورے خاندان پر اسکے اثرات آتے ہیں طلاق کے نتیجے میں جو بگاڑ پیدا ھوتا ھے وہ نسلوں کو منتقل ھوتا ھے، تو اگر کوئی امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ کی تحقیق کو مان کر چلتا ھے اور اسے طلاق کے معاملے میں امام حمبل رحمت اللہ علیہ کی تحقیق میں سہولت مل رہی ھے تو وہ اسے کیوں نہیں اپنا سکتا ؟ جبکہ ہمارا یہ ایمان ھے کہ امام حمبل رحمت اللہ علیہ کی تحقیق بھی مستند ھے تو جب انکی تحقیق بھی مستند ھے اور ظاہر ھے انہوں نے یہ سہولت اپنے پاس سے تو نہیں دی ھے یہ سہولت قرآن و سنت کی روشنی میں ہی دی ھے انکی تحقیق نے جسے ہم تہہ دل سے مستند بھی مانتے ہیں تو پھر ہمارا عمل ہمارے قول سے متضاد کیوں ھے ؟۔
طلاق کی تو میں نے ویسے ہی مثال دی ھے اور سینکڑوں مسائل ہیں جنکی وجہ سے پوری امت ٹکڑوں میں بٹ گئی ھے فرقوں اور مسلکوں میں بٹ گئی ھے۔ میرا بس آپ سب سے یہ ہی سوال ھے کہ جب چاروں کی تحقیق کو ہم مستند مانتے ہیں تو پھر پیروی کسی ایک کی ہی کیوں چاروں کی کیوں نہیں ؟۔
اگر ہم اس ایک نقطے پر متفق ھوجائیں تو سینکڑوں مسائل سے ہماری جان چھوٹ جائے اور ہم اس فرقہ بندی اور مسلک پرستی کی لعنت سے بھی نکل پائیں گے۔

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

17 Responses to بلاعنوان

  1. عامر شہزاد نے کہا:

    فرق چھوٹا سا ہی ہے۔ آپ دوسری طرف ریکھنا پسند کرتے ہیں۔ لازمی نہیں کہ اور لوگ بھی دوسری طرف دیکھنا پسند کریں۔ ان کو اپنی پسند پر مجبور نہ کریں۔ خود اچھے کام کرنے کی کوشش کریں اور ان کی تبلیغ جاری رکھیں۔ یہ فرق تو رہنے ہی ہیں ورنہ ساری دنیا ہی درست نہ ہو جائے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عامر شہزاد، یہ چھوٹا سا فرق ہیں ھے، جسے آپ چھوٹا سا فرق گردان رہے ہیں یہ چھوٹا سا فرق پوری امت مسلمہ پہ بھاری پڑ رہا ھے اور ہمارے ٹکڑوں میں بٹنے کا سبب بنا ھوا ھے، اگر یہ فرق آپکی نظر میں چھوٹا سا ھے تو اسے مٹائیے اور عہد کیجئیے کہ اپنی نئی نسل کو فرقہ بندی اور مسلک پرستی کی تعلیم نہیں دیں گے اور انہیں صرف اور صرف مسلمان بنائیں گے۔

      • عامر شہزاد نے کہا:

        جو میری سمجھ میں بات آئی لکھ دی، آپ کو بری لگی، معذرت

        بھائی آپ کو میری تحریر سے اندازہ نہیں‌ہوا؟ میں یہ فرق مٹا چکا ہوں۔ جو بہتر لگتا ہو وہی کرتا ہوں۔ صرف مسلمان ہی کہلانا پسند کرتا ہوں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        عامر صاحت بہت اچھی بات ھے اللہ آپ کو استقامت عطا فرمائیں اور ہم سب کو صرف اور صرف مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

  2. دوست نے کہا:

    ہمارے لیے تو چار اماموں جمع اہل تشیع کے نظریات کے سب کچھ قابل قبول ہے۔ بات صرف ہماری اپنی عقل کے قبولنے کی ہے، اگر اندر سے اوکے کی آواز نہ آئے تو ریجیکٹ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      دوست، بہت اچھی بات ھے کہ چاروں اماموں کی تعلیمات کو آپ مستند مانتے ہیں، امید ھے آپ اسکا عملی مظاہرہ بھی کریں گے اور عمل کے وقت کسی ایک امام کی تعلیم کو ہی مقدم نہیں رکھیں گے۔

  3. السلام علیکم

    جناب میں اکثر لوگوں کو کہا کرتا ہوں کہ اماموں کا آپس میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ یہ اختلافات تو خود مولویوں نے بنائے ہیں۔ اب غوث الاعظم شیخ سید عبد القادر جیلانی حنبلی تھے جبکہ آج پاکستان کے تقریباً سارے قادری حضرات حنفی ہیں۔
    جب امام شافعی امام ابو حنیفہ کی قبر پر جایا کرتے تو اُن کی فقہ سے نماز ادا کیا کرتے۔

    تو اس چیز سے اسلام پہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کونسی فقہ پہ چلتے ہیں۔ ان پانچ اماموں نے اپنی اپنی فقہ دی جو کہ دین کو سمجھ کر ایک آسان لفظوں میں تشریح تھی۔ جس میں قرآن اور حدیثوں کے مطابق چند اصول مرتب کیے گئے۔ فقہ تو آج کل بھی بن سکتی ہے۔ فقہ تو ایک علم ہے۔ آج کا مسلمان اس چیز میں اپنا وقت ضائع کر دیتا ہے کہ نماز کس طرح پڑھے۔ وہ یہ اس چیز کی طرف نہیں جاتا کہ جسیے بھی پڑھے لیکن نماز تو پڑھے۔ وہ کیسے کیسے ہی کر کے نماز چھوڑ دیتا ہے۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ہر انداز میں نماز پڑھی۔ اگر نہ پڑھی ہوتی تو آج یہ پانچ مختلف فقہ کہاں سے آتیں؟ اور ان مختلف فقہوں کی وجہ صرف یہی ہے کہ اللہ تعالٰی کو یہ پسند نہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی عمل ان دنیا میں ختم ہو جائے۔ اللہ تعالٰی نے اُن کے ہر اِک عمل کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      وعلیکم السلام، سید شاہ رخ کمال صاحب میں متفق ہوں آپکی بات سے، مگر کتنے لوگ ہیں جو اسطرح سوچتے ہیں ؟ ہماری اکثریت ان ہی سب مسائل میں الجھی ہوئی ھے اور دین کے اصل مغز سے ناآشنہ ھے اور ستم یہ کہ حق اور سچ جاننے کی آرزو بھی نہیں رکھتی۔ جو جس مسلک سے ھے وہ بس اس ہی بات کو دین سمجھتا ھے جو اسکے مولوی نے کہہ دیا خود سے نا پڑھنے کی زحمت گواراہ کرتے ہیں نہ ہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہی وجہ ھے کہ ہم مسلمان صرف اور صرف ڈیڑھہ ارب سر ہیں دماغ نہیں۔

  4. عمران اقبال نے کہا:

    فکر پاکستان: پہلے تو معذرت کہ بہت دن بعد آپ کے بلاگ پر آیا۔۔۔

    آپ کی اس تحریر کو بغور پڑھا اور یقین کیجیے کہ میری سوچ آپ سے ۱۰۰ فیصد ملتی ہے۔۔۔ یوں کہہ لیجیے کہ کہ میری سوچ کو آپ نے الفاظ دے دیے۔۔۔

    کچھ عرصے پہلے میں پاکستان گیا تو اپنے ایک عزیز سے ملنے دارالفقہ جانا پڑا۔۔۔ دارلفقہ کا راستہ معلوم نہیں تھا۔۔۔ ایک دکاندار سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کس مسجد میں جانا چاہتے ہیں۔۔ دیوبندیوں کی یا اہل حدیث کی۔۔۔ تو میں نے انہیں جواب دیا کہ "مسلمان” کی مسجد میں جانا چاہتا ہوں۔۔۔ تو وہ بے چارے لاجواب ہو گئے۔۔۔

    خیر میں اس بات پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ چاروں آئما اور ان کے مسلک ایک دوسرے سے مختلف نہیں لیکن ہمارے زمانے تک پہنچتے پہنچتے ان کی تعلیمات کی شکل بگڑ چکی ہے۔۔۔ یعنی ان کی تعلیمات کو قبول کرنے اور ان پر عمل کرنے والوں کا مائنڈ سیٹ بھی بدل چکا ہے اور الفاظ میں بھی ہیرا پھیری کی جا چکی ہے۔۔۔

    اب نماز جیسی بھی ھو۔۔۔ ہاتھ سینے پر رکھے جائیں یا ناف پر۔۔۔ میرے لیے تو نماز نماز ہی ہوتی ہے۔۔۔ آداب کے ساتھ ساتھ اگر خشوع و خضوع کا خیال رکھا جائے تو یہی روح ہے نماز کی۔۔۔

    پاکستان ہی میں ایک بار دوست سے کہا کہ یار آج دوسرے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنے چلتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ وہاں ہماری نماز نہیں ہوتی کیونکہ وہ قیام میں اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہیں۔۔۔ میں انہیں تو کچھ نا کہہ سکا لیکن دل میں دکھ بہت ہوا کہ کیا ہو گیا ہمارے ایمان کو۔۔۔

    اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔۔۔ بہت عمدہ تحریر ہے۔۔۔ اور مجھے خوشی اس لیے بھی زیادہ ہوئی کہ میرے جزبات اور ایمان کا عکس پیش کیا ہے آپ نے۔۔۔

    بہت عمدہ۔۔۔

  5. fikrepakistan نے کہا:

    عمران اقبال، جان کر خوشی ہوئی کہ آپ بھی خود کو صرف مسلمان کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، کاش یہ سوچ ہم سب کی بن جائے تو سارے جھگڑے ہی ختم ھوجائیں۔ لفظ مسلمان خود اللہ نے پسند کیا ھے ہمارے لئیے یہ اللہ کی طرف سے دیا گیا نام ھے اور دین اسلام بھی اللہ کی طرف سے ہی پسند کیا گیا ھے ہمارے لئیے، کتنے بدنصیب ہیں ہم کے اللہ کے دیئے گئے ناموں کو چھوڑ کر مسلکوں اور فرقوں کو اپنے لئیے پسند کرلیا اور خود کو برباد کر بیٹھے، یہ بربادی ہماری اپنے ہاتھوں سے پھیلائی ہوئی ھے اور الزام ہم یہود و نصارا پہ ڈالتے ہیں یہ ہماری اور ہمارے رہنماوں کی منافقت ھے، ہماری بربادی کے زمہ دار ہم خود ہیں۔

  6. ABDULLAH نے کہا:

    اللہ آپکو جزائے خیر دیں اور آپکے الفاظ میں برکت اور تاثیر میں دن بدن اضافہ فرمائیں،آمین

  7. UncleTom نے کہا:

    بات صرف اتنی سی ہے کہ دین میں نفس پرستی حرام ہے اور اور اس سے بچنا واجب ہے ، اسی لیے اپنی مرضی کے فتوے اپنانے سے انسان نفس پرستی میں پڑ جاتا ہے اسی لیے تقلید بھی واجب ہے اور تقلیدِ شخصی واجب لیغیرہِ ہو گی ، دوسری بات یہ ہے کہ تین طلاق تین ہی ہے اس پر آئمہ اربعہ کا اختلاف نہیں اور میری معلومات کے مطابق امام احمد بن حنبل بھی تین طلاق کو تین ہی مانتے ہیں ، ہاں بعض حنابلہ تین کو ایک ماننے کی طرف گئے ہوں گے ، لیکن سعودیہ ؔ(جو حنبلیوں کا گڑھ ہے ) کے علماء کا متفقہ فتویٰ تین طلاق کے تین ہونے پر ہی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام اچھی طرح سمجھتا ہے کہ طلاق دینے سے کیا نقصانات ہیں اور کیا نہیں ہیں اسی لیے اسلام میں بھی طلاق کو کوی پسندیدہ عمل نہیں سمجھا گیا ، لیکن اگر کوی طلاق دے دیتا ہے تو طلاق واقع ہو گئی بچوں کی پرورش کے لیے اب اسلام کو نہیں بدلا جاے گا بلکہ انسانون کو بدلا جاے گا تا کہ وہ پہلے ہی طلاق نہ دیں ۔

    ایسے لوگوں کے بارے میں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں ۔

  8. UncleTom نے کہا:

    اگر ضرورت پڑے تو پوچھ لیجیے گا میں اس پر دلائل بھی دے دوں گا ، انشااللہ

  9. ABDULLAH نے کہا:

    تین طلاقوں سے متعلق ایک بحث یہاں بھی ہوئی تھی،

    http://nawaiadab.com/khurram/?p=1128#comments

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s