آستین کے سانپ


کون تصور کرسکتا تھا کہ وہ برطانیہ جسکی حکومت آدھی سے زیادہ دنیا پر پھیلی ہوئی تھی جسکی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، جس کے روپے کی قدر کیا تھی اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ھے کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے تک برطانیہ کے ایک پاونڈ کی قیمت ہندوستان میں پچاس گرام سونے کے برابر تھی۔
اس وقت پاکستان میں دس گرام چوبیس کیرٹ سونے کی قیمت اڑتیس ہزار سات سو پچیاسی روپے ہے، اسے پانچ سے ضرب دیں تو ایک لاکھہ ترانوے ہزار نو سو بچس روپے بنتے ہیں یعنی اگر آج کے حساب سے اگر جائزہ لیں تو اس وقت کے ایک برطانوی پاونڈ کی قیمت ایک لاکھہ ترانوے ہزار نو سو پچس روپے بنتی ھے۔ یہ تھی طاقت برطانیہ کی اور اسکی کرنسی کی۔
گو ہم پاکستانیوں کے لیئے تو آج بھی پاونڈ کی قیمت کم نہیں ھے مگر دنیا میں اب پاونڈ کی وہ حیثیت نہیں رہی، ہر عروج کو زوال ھے اس تناظر میں علامہ اقبال کی بہت ہی خوبصورت نظم یاد آگئی عنوان ھے حقیقت حسن۔
حقیقت حسن۔
خدا سے حسن نے اک روز یہ سوال کیا
جہاں میں تو نے مجھے کیوں نہ لازوال کیا؟
ملا جواب، تصویر خانہ ھے دنیا
شب دراز، عدم کا فسانہ ھے دنیا
ہوئی ھے رنگ تغیر سے جب نمود اسکی
تو حسین وہ ہی ھے حقیقت زوال ھے جسکی
قریب تھا کہیں یہ گفتگو قمر نے سنی
فلک پہ عام ہوئی اختر سحر نے سنی
سحر نے تارے سے سن کر سنائی شبنم کو
فلک کی بات، بتا دی زمیں کے محرم کو
بھر آئے پھول کے آنسو پیام شبنم سے
کلی کا ننھا سا دل خوں ھوگیا غم سے
چمن سے روتا ھوا موسم بہار گیا
شباب سیر کو آیا تھا سوگوار گیا۔

موضوع کی طرف واپس چلتے ہیں، کبھی آدھی دنیا کے رقبے پر جسکی حکومت تھی آج اسکی حکومت کی چادر سمٹ کر رومال بن چکی ھے، صرف پاکستان کے صوبہ سندھہ کے برابر رقبہ رہ گیا ھے برطانیہ کی حکومت کا۔
برطانیہ کو ریپلیس کیا روس اور امریکہ نے اور پھر پاکستان کی تاریخ کے سب سے منحوس انسان ضیاءالحق اور جماعت اسلامی کی مہربانی سے امریکہ اکیلا سپر پاور رہ گیا جو آج ہمارے ان داتا بنا بیٹھا ھے۔ جو لوگ آج سب سے زیادہ امریکہ کی مخالفت میں عوامی جذبات ابھارتے ہیں اصل میں یہ ہی لوگ زمہ دار ہیں امریکہ کو سپر پاور بنوانے کے۔
امریکہ اگر آج پوری دنیا کے لئیے ناسور بنا ہوا ھے تو کہیں نہ کہیں ان لوگوں کا بھی حصہ ھے اسے ناسور بنانے میں یہ عقل کے اندھے اگر اس وقت ڈالروں کی حوس میں پوری قوم کو جہاد کے نام پر نہ مرواتے تو آج دنیا کا نقشہ بہت حد تک تبدیل ھوتا۔
کچھہ غلطیاں ناقابل معافی ھوتی، ہیں ناقابل تلافی ہوتی ہیں، پاک آرمی اور ہمارے یہ نام نہاد ملا حضرات کی یہ غلطی ناقابل معافی اور ناقابل تلافی ہے اسکا بھگتاوا نہیں معلوم کے ہماری اور کتنی نسلوں کے دینا پڑے گا۔
ہر عروج کو زوال لازمی ھے امریکہ کی صبح کی بھی رات لازمی آنی ھے مگر، کون جیتا ھے تیری زلف کے سر ھونے تک۔

جماعت اسلامی کے ان درندوں نے جسطرح الشمس البدر بنا کر معصوم بنگالیوں کے خون کی ہولی کھیلی اور پاکستان کو دو حصوں میں بانٹ دیا، ان بےغیرتوں کو پاکستان کو اس حال پر پہنچانے پر پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیئے اور اگر زرا بھی ایمان باقی ھے جماعت اسلامی کا وجود ختم کر دینا چاہیئے۔ مگر یہ ایسا کریں گے نہیں انہیں مذہب فروشی کی ایسی لت پڑی ھے کہ اگر انہیں پھر سے انیس سو اسسی کی طرح کوئی موقعہ ملے امریکہ کی فرمابرداری کرنے کا تو یہ پھر سے اس کے آگے لیٹ جائیں گے۔

مبشر لقمان کے پروگرام کھری بات میں جسکا لنک یہ ھے۔ khaari baat – 24th jan 2011 – p1 چار پارٹ پر یہ پروگرام ھے جس نے بھی یہ پروگرام نہیں دیکھا ھے اسے چاہیئے کہ ایک قومی فریضہ سمجھتے ہوئے وہ یہ پروگرام لازمی دیکھے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ پروگرام دکھائے، اور خود فیصلہ کرے کہ امریکہ کا اصل ہمدرد کون ھے اور پاکستان کا اصل دشمن کون ھے.
اس لنک میں دیکھئیے کے اس جماعت کے بانی مودودی صاحب کے بیٹے کی کیا راے ھے جماعت اسلامی کے بارے میں، میں تو مخالف ہوں مگر وہ تو اس جماعت کے بانی کا بیٹا ھے اس سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ھے جماعت کے بارے میں؟۔

امریکہ کا زوال تو فلحال ہمارے بس میں نہیں مگر امریکہ کی اس ناجائز اولاد کا زوال پاکستانیوں کے اپنے ہاتھہ میں ھے پاکستان آرمی کو چاہیئے کے امریکہ کی اس ناجائز اولاد پر سے اپنا ہاتھہ ہٹائے اور پاکستان سے ان منافقوں کا جڑ سے خاتمہ کرے شاید اسطرح کسی حد تک پاک آرمی پر لگے دھبے دھل سکیں۔
یہ پروگرام دیکھنے سے پہلے تک میں صرف جماعت اسلامی کا مخالف تھا مگر یہ پروگرام دیکھنے کے بعد میں جماعت اسلامی سے شدید نفرت کرتا ھوں اور ببانگ دھل کہتا ہوں کے جماعت اسلامی سے نفرت کرنا ہر پاکستانی ہر مسلمان پر لازم ھے۔ امید ھے جس جس نے بھی یہ پروگرام نہیں دیکھا ھے وہ یہ پروگرام ضرور دیکھے گا۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

55 Responses to آستین کے سانپ

  1. جماعت اسلامی کے ان درندوں نے جسطرح الشمس البدر بنا کر معصوم بنگالیوں کے خون کی ہولی کھیلی اور پاکستان کو دو حصوں میں بانٹ دیا، ان بےغیرتوں کو پاکستان کو اس حال پر پہنچانے پر پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیئ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

    @ اور آپ کو کس نے سند عطا کی ہے کہ آپ دوسروں کے بارے ادھوری معلومات پہ فضول قسم کی رائے قائم کریںۤ؟ کسی سیانے نے سچ کہا ہے کہ ادہوری معلومات زہر قاتل ہوتی ہیں۔ پہلے آپ مشرقی پاکستان کے المیے اور اسکی وجوہات کا بغور مطالعہ کر کے آئیں اور دلائل سے بات کریں ورنہ ہم آپکی اس تحریر کو فتنہ سمجھیں گے جس سے فساد خلق خدا کا اندیشہ ہوتا ہے۔

    میں نے آپکا مجوزہ لنک نہیں دیکھا مگر مبشر لقمان کو کو آپ سے بہت زیادہ سمجھتا ہوں اور مجھے علم ہے کہ پاکستان میں بسنے والے قادیانیوں اور انکے مقربین کو پاکستان کی جماعت اسلامی سے ہی نہیں بلکہ سبھی مسالک کی مذھب اسلام سے دلچسپی رکھنے والی مسلمان تنظیموں اور جماعتوں سے وہی ازلی بغض یے جو منافقین اور کافروں کو مسلمانوں سے ازل سے رہا ہے اور آپ شاید پیر لنڈن یعنی بھائی کی الفت میں اسقدر دیوانے ہورہے ہیں کہ جمائت اسلامی کی مخالفت میں شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے آپ کو مبشر لقمان میں بھی اپنا اتحادی نظر آگیا ہے۔ یہ یہودیوں اور قادیانیوں کا حربہ ہے کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے ۔ کیا آپ بھی اسی مقولے پہ عمل کرتے ہیںَ؟

    بغض میں انسان اندھا ہو جاتا ہے آپکی یہ تحریر اور مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحیدگی کا ملغوبہ انٹ سٹنٹ طریقے سے توڑ موڑ کر اسکا قصور جماعت اسلامی پہ منڈھ دینا اس سے آپ کی معلومات اور علم کا اندازہ ہوتا ہے۔

    یاد رہے میں جماعت اسلامی کا رفیق وغیرہ نہیں ہوں مگر بھئی مافیا جیسی تحریکوں کے مقابلے میں یا قوم کو نام نہاد روشن خیالی کے ٹیکے لگانے والوں کے عزائم کے سامنے مزاحم پاکستان کی سبھی مسلمان جماعتوں کو جو اسلامی تشخص کا مطالبہ کرتی ہیں انھیں قابل احترام سمجھتا ہوں کہ کم از کم وہ چھڑتے سورج کی پوجا تو نہیں کرتے۔

    • Main نے کہا:

      jamaat e islami ka chief jab retire ho jata hai to kya woh musalman nahin rahta. jo log jamaat e islami ke member nahin hain kya woh musalman nahin hain. jamaat e islami ho ya koi aur jamaat islam main group bandi haram hai. Khuda ham ko ghalat aqaid se mahfooz rakhey.

      • Main نے کہا:

        Politics is human faculty, religion is divine. Religin is the quest for truth, politics is the art of beating, even cheating, rivals. Both are mutually exclusive. our identity comes with the name of the Holy Prophet. If we do not love the Prophet, do not submit to his authority, our knowledge and good deeds won’t pay. As Muslims, we should learn to follow before we harbor the ambition to lead others.

  2. Bdtmz نے کہا:

    No wonder u can’t think much

  3. fikrepakistan نے کہا:

    جاوید بھائی آپ جو چاہے کہیں، اس پروگرام کو دیکھنے کے بعد کوئی بھی ذی شعور انسان کم از کم جماعت اسلامی کا ہامی نہیں ھو سکتا۔ کیا آپ جماعت اسلامی کے بارے میں بانی جماعت مودودی صاحب کے بیٹے سے بھی زیادہ جانتے ہیں ؟

    • وقار اعظم نے کہا:

      ہاں بھیا زیادہ جانتے ہیں تم جیسے گندے انڈے تو حضرت نوح کے گھر بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور اگر کبھی پڑھنے لکھنے کا دل چاہے تو مولانا مودودی کی بیٹی سیدہ حمیرا مودودی کی کتاب "شجر ہائے سایہ دار، ہمارے والدین” کا مطالعہ کرنا تو کچھ علم میں اضافہ ہوجائے۔۔۔۔

      اور ہاں میرے اس کے ساتھ میرے پچھلے تبصرے تو اپروو کرو، ہمت جواب دے گئی کیا؟ اگر نہیں تو اسکرین شاٹس تو ہیں میرے پاس
      😉

  4. وقار اعظم نے کہا:

    حسن نثار کے کالموں، اخباری ٹوٹوں پر مبنی علم ایسے ہی گل کھلاتا ہے۔ مبشر لقمان جیسا حرامی جو احمدیوں کا سپورٹر ہے اور توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے والا بھی تو اگر یہ اور اسی جیسے حرامی یہ کہیں کہ جماعت اسلامی اسلام دشمن ہے تو اسکا مطلب یہی ہے کہ جماعت اسلامی سے زیادہ اسلام دوست اور اسلام کا خیر خواہ کوئی نہیں۔

    سید مودودی کے بارے میں جیو نے ایک ڈاکومنٹری بنائی ہے، ذرا اسے بھی دیکھ لے کہ یہ کسی گھٹیا دونمبری لندن والے پیر کا ذکر نہیں ہے ایک عظیم مفکر اسلام کا ذکر ہے جس کے دشمن بھی اس کی تعریف کرتے ہیں۔



    تمہاری تعلیمی قابلیت کا تو اندازہ ہوگیا پتہ نہیں کتنی مشکل سے اقبال کی نظم ڈھونڈھی ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اقبال ہی نے مولانا مودودی کو پنچاب بلوایا اور ایک ادارے کا انتظام ان کے سپرد کیا۔ تف ہے تجھ پر بھئی۔ اگر مولانا مودودی اسلام دشمن ہیں تو پھر سارا قصور اقبال کا ہوا، تم جیسے جہلا سے ایسی ہی توقع ہے۔

    اور ہاں مولانا طارق جمیل صاحب کی رائے بھی دیکھ لے۔۔۔

    یہ ایک اور ڈاکومنٹری ہے مجھے ہے حکم اذاں۔ اس بھی دیکھ لینا تاکہ کچھ تاریخ کا علم حاصل ہو اور سطحی انداز کے بجائے کچھ علمی بحث کرسکو، لیکن خیر یہ تمہارے بس کا نہیں۔۔۔۔۔





  5. جماعت اسلامی کے ان درندوں نے جسطرح الشمس البدر بنا کر معصوم بنگالیوں کے خون کی ہولی کھیلی اور پاکستان کو دو حصوں میں بانٹ دیا،

    آپ کا متذکرہ بالا بيان سو فيصد جھوٹ ہے ۔ يہ مکتی باہنی کا پروپيگنڈہ تھا اس کے ساتھ جو مووی بھی دکھائی گئی تھی اُس کے متعلق بنگاليوں نے ہی بتايا تھا کہ جو پاکستان کے حامی لوگ مکتی باہنی نے ذبح کئے اُن کی مووی بنائی اور اس کے ساتھ جعلی ٹکڑا جوڑ کر اسے شمس و بدر کے نام تھوپا گيا ۔ يہ سب کام کلکتہ بھارت ميں ہوا تھا
    خيال رکھئے کہ ابھی وہ لوگ زندہ ہيں جو سانحہ مشرقی پاکستان کے عينی شاہد ہيں

    • بدتمیز نے کہا:

      اجمل انکل آپ غلط بھینس کے آگے بین بجا رہے ہیں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        بدتمیز صاحب آئیں بائیں شائیں کرنے سے بہتر ھے کہ دلیل کا جواب دلیل سے دیں، جو کچھہ اس پروگرام میں سامنے آیا ھے اس کے بعد بھی اگر کوئی جماعت کی حمایت کرتا ھے تو پھر وہ بھی ان مذہب فروشوں میں ہی شمار کیا جاتے گا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب مجھے نہیں معلوم کے آپکا تعلق جماعت سے ہے یا نہیں مگر اس کہ بلاگ کے ایک بلاگر کاشف نصیر صاحب جنکا تعلق جماعت سے ھے وہ اس ہی بلاگ پر تحریر کر چکے ہیں کے الشمس البدر نے خون ریزی مچائی جو کے جماعت کی غلطی تھی۔ اور پھر آپ ہوں یا کوئی بھی حمایتی ھو جماعت کا کیا وہ مودودی صاحب کے بیٹے سے زیادہ جان سکتا ھے جماعت اسلامی کی اوقات کو ؟ اتنے واضع حقائق سامنے آنے پر بھی آپ جماعت کی حماعت میں بول رہے ہیں اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ھے بس۔

  6. وقار اعظم نے کہا:

    سید مودودی کے بارے میں جیو نے ایک ڈاکومنٹری بنائی ہے، ذرا اسے بھی دیکھ لے کہ یہ کسی گھٹیا دونمبری لندن والے پیر کا ذکر نہیں ہے ایک عظیم مفکر اسلام کا ذکر ہے جس کے دشمن بھی اس کی تعریف کرتے ہیں۔



    حسن نثار کے کالموں، اخباری ٹوٹوں پر مبنی علم ایسے ہی گل کھلاتا ہے۔ مبشر لقمان جیسا حرامی جو احمدیوں کا سپورٹر ہے اور توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے والا بھی تو اگر یہ اور اسی جیسے حرامی یہ کہیں کہ جماعت اسلامی اسلام دشمن ہے تو اسکا مطلب یہی ہے کہ جماعت اسلامی سے زیادہ اسلام دوست اور اسلام کا خیر خواہ کوئی نہیں۔

    تمہاری تعلیمی قابلیت کا تو اندازہ ہوگیا پتہ نہیں کتنی مشکل سے اقبال کی نظم ڈھونڈھی ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ اقبال ہی نے مولانا مودودی کو پنچاب بلوایا اور ایک ادارے کا انتظام ان کے سپرد کیا۔ تف ہے تجھ پر بھئی۔ اگر مولانا مودودی اسلام دشمن ہیں تو پھر سارا قصور اقبال کا ہوا، تم جیسے جہلا سے ایسی ہی توقع ہے۔

    اور ہاں مولانا طارق جمیل صاحب کی رائے بھی دیکھ لے۔۔۔

    یہ ایک اور ڈاکومنٹری ہے مجھے ہے حکم اذاں۔ اس بھی دیکھ لینا تاکہ کچھ تاریخ کا علم حاصل ہو اور سطحی انداز کے بجائے کچھ علمی بحث کرسکو، لیکن خیر یہ تمہارے بس کا نہیں۔۔۔۔۔





    • fikrepakistan نے کہا:

      وقار اعظم صاحب آپکی تعلیمی حیثیت کا اندازہ تو آپکے طرز گفتگو سے خوب ھورہا ھے۔ آپ نے جتنے لنک دئیے ہیں ان سب کا تعلق مودودی صاحب کی ذاتی حیثیت سے ھے اور میں نے پوری پوسٹ میں کہیں بھی مودودی صاحب کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں لکھا ھے۔ میں نے جماعت اسلامی کی بات کی ھے اور جو لکھا ھے وہ حق اور سچ ھے اگر آپ کے پاس ان سارے سوالوں کا جواب ھے تو دلیل سے دیں مودودی صاحب کی تو بات ہی نہیں کی گئی ھے پوسٹ میں، جتنے حقائق ہیں وہ جماعت اسلامی سے متعلق ہیں انکا جواب دیں دلیل سے یہ جماعتیوں کے روایتی منافقی طریقے کو اپناتے ہوئے بات نہ گھمائیں۔

      • وقار اعظم نے کہا:

        حضور کون سی دلیل؟ ملعون لقمان کی باتیں، اس نے تو احمدیوں کے لیے بھی بڑے دلائل دیے ہیں۔ توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہتے ہوئے اس پر بھی نام نہاد دلائل دیے ہیں تو کیا اس ملعون کی بات مان لیں۔ ابھی اگر آئینہ دکھانا شروع کروں تو بھیا بات بہت دور تک جائے گی سمجھے۔ اور ان ویڈیوز میں جماعت کے بارے میں بھی ہے، مولانا اور جماعت لازم و ملزوم ہیں۔

        جو کی پیدائش اور پرورش آمروں کی گود میں ہوئی وہ دوسروں پر الزامات لگاتے ہیں۔ طرز گفتگو کی بات کررہے ہو، تم نے وہ عنوان کیوں ختم کردیا جو ابھی بھی اس پوسٹ کے یوآرایل میں موجود ہے۔ کیا خوب انداز ہے ہیں جی۔۔۔۔۔

        ایک بات اور کہ کاشف نصیر کا کہنا اگر اتنا ہی پسند ہے تو اس نے اور بھی بہت سی باتیں کہی ہیں، انہیں بھی مان لو۔ جماعت کو البدر اور الشمس پر فخر ہے کہ مادر وطن کے لیے اپنے اس کے جوانوں نے اپنے خون کا نظرانہ دیا اور تم جیسے گھٹیا ذہنیت کے لوگ ان کا مرتبہ کم نہیں کرسکتے۔

  7. fikrepakistan نے کہا:

    آپ لوگوں کی اس ہی منافقت کی وجہ سے ہی آپ لوگوں کو کوئی ووٹ نہیں دیتا آپ لوگ کل بھی مذہب فروش تھے آج بھی ھو اور ہمیشہ رہوگے، امریکہ کے خلاف نعرے لگاتے ھو اور اس سے ہی امدام کی بھیک بھی مانگتے ھو اور کتنا آئینہ دکھایا جائے آپ لوگوں کو؟

  8. وقار اعظم نے کہا:

    ابے بھائی تیرا دماغ ہے بھی کہ نہیں، مجھے تو اب پتہ چلا کہ میرا بھائی موومنٹ اور پیپلز پارٹی اصل میں جماعت اسلامی ہے 😆

    ویسے یار تمہارا بھی جواب نہیں کتنی ڈھٹائی سے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہو، شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ کاسہ گدائی لیے کھڑے خود ہو اور الزام دوسروں پر لگاتے ہو۔ کھاتے لندن اور واشنگٹن کا ہو اور بھونکتے دوسروں پر ہو۔۔۔۔

    حیرت ہے کہ اگر سارے حرامی سکیولر ازم کی بنیاد پر سیاست کریں تو جائز، واہ واہ، کیا بات ہے اور اگر کوئی دین کو مکمل ضابطہ حیات بتاتے ہوئے دین کی بنیاد پر سیاست کرے جو یہ جہلا کہتے ہیں مذہب فروش، مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے۔ ایک مسلمان دین ہی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کریگا نا۔ تم جیسوں کو تو دین اور مذہب کا فرق بھی نہیں معلوم۔ تم جیسے استعمار کے ایجنت تو ہمیشہ سے موجود رہیں ہیں جو لوگوں کو باور کراتے نہیں تھکتے کہ وہ بڑا طاقتور ہے اس سے نہیں لڑ سکتے۔

  9. کس کے آگے بین بجا رہے ہیں۔۔اس کے اعلی اخلاقی تبصرے جو اس نے حب قوم میں کئے ہیں میرے پاس محفوظ ہیں۔۔
    جماعت اسلامی بھی دوسری جماعتوں کی طرح ایک سطحی سی سیاسی اور مذہبی بھی جماعت ہے۔
    لیکن موودی صاحب نے قادیانیوں سے جہاد کیا ہے اور ان کا غلیظ چہرہ سب کو دکھایا۔اس کام میں علامہ اقبال نے سب سے پہلے آواز اٹھائی تھی۔
    مولانا موودی کو گالی گلوچ کرنے والے قادیانی یا پھر ان کے چانٹے ہی ہیں۔
    حسن نثار تو علامہ اقبال کو بھی نہیں بخشتا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر صاحب میں نے اپنی پوسٹ میں مودودی صاحب کا کہیں ذکر تک نہیں کیا ھے، افسوس آپ بھی ان منافقوں کی طرح بات کو اسکے اصل مغز سے ہٹا کر بات کا رخ پھیر رہے ہیں۔

  10. ايک بات جو ميرے علم ميں تھی ميں نے لکھ دی ۔ آپ اگر نہيں مانتے تو اس سے حقائق نہيں بدل جائيں گے ۔ آپ کا يہ استدلال بھی کوئی وزن نہيں رکھتا کہ مودودی صاحب کا بيٹا يہ کہتا ہے ۔ کيا نوح عليہ السلام کا بيٹا اللہ کی نافرمانی کر کے کافروں کے ساتھ غرق نہيں ہوا تھا ؟

    ميرا تعلق جماعت اسلامی تو کيا کسی بھی سياسی جماعت سے کبھی نہيں رہا ۔ ميں اُس زمانہ ميں جس ادارے ميں کام کرتا تھا اُس ميں ميرے ايک ساتھی اور تين نائب بنگالی تھے ۔ يہ سب انجنيئر تھے ۔ ان ميں سے ايک کو 1971ء ميں مشرقی پاکستان ميں فوج نے اسلئے ہلاک کيا کہ اس نے بنگلہ ديش کا جھنڈہ اُٹھايا تھا ۔ بنگلہ ديش بننے کے بعد ميرا ساتھی بنگالی اور ايک ميرا نائب بنگالی ڈھاکہ ميں ہمارے ادارے کی شاخ کی دو فيکٹريوں کے ايم ڈی بنے ۔

    آج کے دور ميں وہ لوگ جو 1970ء ميں پيدا نہيں ہوئے تھے يا ابھی استنجہ کرنا نہيں سيکھے تھے معاندانہ پروپيگنڈہ کا سہارا لے کر دانشور بننے کی ناکام کوشس کرتے ہيں

    ميں نے پہلے ہی لکھ ديا تھا کہ ابھی وہ لوگ زندہ ہيں جنہوں نے سانحہ مشرقی پاکستان ديکھا تھا مگر آپ کو سمجھ نہ آ سکی

    • fikrepakistan نے کہا:

      تو اجمل صاحب یہ ہی تو رونا ھے کہ جس آرمی نے اتنے ظلم و ستم کیئے یہ لوگ اس ہی آرمی کے تو شانہ بشانہ تھے تو یہ کہاں سے معصوم ھوگئے ؟

  11. fikrepakistan نے کہا:

    ایک طرف لوگوں کو امریکہ کے خلاف بھٹرکاتے ھو اور دوسری طرف اپنی اولادوں کو امریکہ میں پڑھواتے ھو، قاضی نے اپنے بچوں کو کسی مدرسے میں کیوں نہیں تعلیم دلوالی پاکستان میں ؟ اس نے کیوں اپنے بچوں کو امریکہ میں تعلیم دلوائی؟ غریب کے بچوں کو جہاد کا درس دیتے ھو اور اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے لئیے امریکہ بھیچتے ھو یہ ھے تمہارا دین؟ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عملی طور پر خود شریک ھوتے تھے تمہارے یہ نام نہاد جعلی اور ان پڑھہ اصل حقائق سے ناآشنہ رہنما کیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خود کو افضل سمجھتے ہیں کہ ان پڑھہ اور معصوم لوگوں کو بہکا کر جعلی جہاد پر بھیجتے ھو اور ان کے بدلے میں لاکھوں کروڑوں ڈالر وصول کرتے ھو اپنے آقا امریکہ سے۔ تم لوگوں کا ایک اور ناجائز باپ جنرل حمید گل ھے اس نے خود اقرار کیا کہ افغان جنگ میں جو جماعت جنتے مجاہد تیار کر کے لاتی ہم اسے فی بندے کے حساب سے ڈالر دیتے تھے جو کے امریکہ ہمیں فراہم کرتا تھا۔ تم لوگ مذہب فروش ھو مذہب کے نام پر بلیک میلنگ کر کے مال کماتے ھو، آئی جے آئی بنانے کے لئیے کروڑوں روپے لئیے جماعت نے یہ کونسے مذہب کی خدمت تھی بھائی ؟ تم لوگ آرمی کی رکھیل ھو جو جب چاہیتی ھے تئمیں استعمال کرتی ھے اور پھینک دیتی ھے، جب بھی آرمی کو کوئی حکومت گروانی ھوتی ھے تو وہ جماعت کے آگے ہڈی ڈال دیتی ھے اور تئم لوگ مذہب خطرے میں ھے پاکستان خطرے میں ھے جیسے بیہودہ نعرے لگاتے ھوئے دیہاڑی لگانے سڑکوں پہ آجاتے ھو۔ کیا دیا ھے جماعت نے آج تک قوم کو سوائے دھرنوں کے احتجاجوں کے، جلوسوں کے، ریلیوں کے۔ تم لوگ چاہ کر بھی کچھہ ڈیلیور نہیں کرسکتے کیوں کے اہلیت ہی نہیں ھے تم لوگوں میں ڈلیور کرنے کی نہ اہلیت ھے نا ویژن ھے تم سب کچرے کا ڈھیر ھو اس سے زیادہ کی کوئی اوقات نہیں تم لوگوں کی۔ کتاب کو قرآن کہا تم لوگوں نے اور پھر پانچ سال تک جی بھر کے لوٹا ماری کی پورے صوبہ سرحد میں تمہاری حکومت تھی وہاں کیوں نہیں نافذ کرلی شریعت پانچ سالوں میں ؟ پانچ سالوں میں تم لوگ وہاں لوگوں کو جہاد کے نام پہ دہشت گرد بناتے رہے جسے اب پاک آرمی کو آپریشن کر کے ختم کرنا پڑا جسکا بھگتاوا آج ساری قوم دے رہی ھے۔ ریمنڈ ڈیوس ان ہی طالبان کی مدد سے دہشت گردی میں ملوث رہا ھے جن طالبان کے تم لوگ ہامی ھو آج ثابت ھوگیا ھے کہ پاکستانی طالبان نہیں دہشت گرد ہیں اور تم لوگ ان دہشت گردوں کو ھو بچانے کی بات کرتے ھو ثابت ھوگیا ھے کہ تم بھی ان ہی دہشت گردوں کے ساتھی ھو پاکستان کے سلامتی کے لئیے سب سے بڑا خطرہ ھو تم لوگ۔ پانچ سال مشرف کے خلاف بھونکتے بھی رہے اور اسے بلیک میل کر کے اسکے ہر فیصلے کی توثیق بھی کرتے رہے مشرف کو وردی میں کس نے صدر تسلیم کیا تھا ؟ پی سی او کی کس نے حمایت کی تھی ؟ کتنی منافقتیں گنوائیں تمہاری اور کتنی دھول جھونکو گے لوگوں کے آنکھوں میں، وہ وقت گیا جب لوگ اندھے ھوکر مذہب کے نام پر تمہارے پیچھے نکل آتے تھے یہ تمہارے کرتوت ہی ہیں کے آج تمہاری اوقات یہ ھے کہ پورے پاکستان سے ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکتے۔ ضیاءالحق سے لے کر مشرف تک سب کی رکھیل رہی ھے جماعت اسلامی اور میں نے بلکل صحیح ٹائیٹل رکھا تھا جماعت اسلامی نہیں جماعت حرامی ھے یہ۔ دو ہزار تین میں عین الیکشن والے دن تم لوگوں نے مولانہ وہاب صاحب کے نام سے اخباروں میں جھوٹا بیان لگوادیا کہ وہاب صاحب نے کہا ھے کہ ایم ایم اے کو ووٹ دیا جائے، اگلے دن وہاب صاحب کی تردید آئی کہ میرے نام سے جھوٹ کہا گیا ھے میں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا، یہ ھے تمہارا دین ؟ اور یہ ھوتے ہیں دین کے رہنماء ، ایک نمبر کا جاہل ترین انسان قاضی ، دوسرا جاہل لیاقت بلوچ جسے سورہ کوثر تک پڑھنی نہیں آتی یہ ھوتے ہیں دین کے رہنماء ؟ یہ فرید پراچہ اور نہ جانے کونسے کونسے دنیا بھر کے منافق جنکی نا کوئی تعلیم نہ کوئی ویژن نہ کوئی کردار ایسے ھوتے ہیں اسلام کے رہنماء ؟ ان بدکرداروں کے پیچھے چلے قوم جنکا ایمان صرف اور صرف امریکی ڈالر ہیں۔ اللہ کا شکر ھے کہ اب قوم کی سمجھہ میں بات آرہی ھے بہت جلد تم لوگوں کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ھوگا انشاءاللہ آنے والے الیکشن میں تمہیں مزید تمہاری اوقات پتہ چل جائے گی۔

    • وقار اعظم نے کہا:

      چل بھئی جہاد فرض کفایہ ہے کسی کو اس کے لیے زبردستی تیار نہیں کیا جاسکتا، اور تم جیسے کتوں کا تعلق تو مجھے بنی اسرائیل سے لگتا ہے کہ "جب موسی نے کہا کے اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو یہ منافق کہنے لگے کہ تم اور تمہارا خدا جاکر جہاد کرے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔” اللہ نے قرآن میں بھی ایسے حرامیوں کا ذکر کیا ہے جو دوسروں کو اسی طرح کی باتیں کہتے ہیں۔ ابے ام الخبائث جہاد کے لیے کسی کا بیٹا یا باپ تیار ہونہ ہو ہم تو تیار ہیں۔ کوئی بہانہ نہیں ڈھونڈھتے فرعونیت کے چمچے۔۔۔

      مولانا جان محمد عباسی سابق امیر جماعت صوبہ سندھ اور سابق نائب امیر جماعت پاکستان کو جانتا ہے؟ دو بیٹے افغان جہاد میں شہید ہوئے۔ ابے نیم حکیم تو جانتا کیا ہے بے جماعت کے بارے میں سالے اگر جماعت کے رہنمائوں کے بچوں کی لسٹ بنائی جائے تو خاصی لمبی لسٹ بن جائے۔

      جہاد تیرے چاچے کے سرمائے سے ہوتا کیا؟ ابے جاہل افغان جہاد کی الف بے پتہ نہیں اور چلا ہے باتیں بنانے۔ تیرا آقا امریکہ تو بعد میں آیا شروع کے دو تین سال تک یہ درّے کے بنے ہوئے بندوقوں سے لڑتے رہے۔ پھر جب یقین ہوگیا یہ لڑسکتے ہیں تو پہنچا مدد کے لیے۔ ڈالر تو تیرا آج کل کا ناجائز باپ پاکستانی فوج بھی لیتی رہے ہے اپنے مزے کے لیے تو جاکر اس پر بھی بھونک۔ تیرے پیٹ میں مروڑ تو اس لیے اٹھ رہا ہے کہ جماعت نے کمیونزام کو افغانستان میں برباد کر دیا کیونکہ تم جیسے قادیانیوں کے چانٹوں کے لیے روس کا کمیونزام کسی امید سے کم نہیں تھا۔۔

      کبھی اپنے باپ سے بھی پوچھا کہ اپنے قیام سے لے کر اب تک ہر حکومت میں کیوں ہوتے ہو۔ کیوں سب کی چاکری کرتے ہو۔۔۔ ابے ضیاالحق نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے بھئی۔ تم لوگوں کو تو اس کا شکر گذار ہونا چاہیے کہ وہ تمہارا باپ ہے، بھائی کو وہی نکال کر لایا ہے۔ آفاق خان شاہد مرحوم تو اس کے چشم دید گواہ تھے۔

      تیرا خبث باطن تو سب کے سامنے آہی گیا کہ جھوٹ تو تیری گھٹی میں پڑا ہے۔ اگر عبدالوہاب صاحب کی کسی ایسی تردید کا ثبوت ہے تو ادھر دکھا۔ ابے اگر جماعت بھی ایسے سارے حرامیوں کی طرح دھونس، دھاندلی، بھتہ گیری، جعلسازی، مکر و فریب، لالچ، نوکریوں کا وعدہ، قوم پرستی اور زمینوں پر قبضے کی سیاست کرے تو اقتدار پر قبضہ کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ سب تم انہی حرامیوں کا شیوا ہے جماعت کا نہیں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        ابے جاہل انسان ایم کیو ایم سے میرا دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں، اور ایم کیو ایم تو تم کنجروں کا ردعمل ھے تم لوگ اگر کسی قابل ھوتے تو کراچی والے تمہارے منہ پر تھوک کر ایم کیو ایم کو نہ اپناتے، ایم کیو ایم کا وجود تو ھے یہ تمہاری منافقت کا نتیجہ۔ جا جاکے پوچھہ اپنے حقیقی باپ قاضی سے کیوں اس نے اپنے بیٹے آصف لقمان کو امریکہ سے تعلیم کیوں دلوائی۔ غریب کے بچوں کو خود کش بمبار بناتے ھو اور اپنے بچوں کو امریکہ اور یورپ میں تعلیم دلواتے ھو کنجروں دنیا جانتی ھے تمہاری منافقت کو جب ہی ہر حلقے سے تئماری ضمانتیں تک ضبط ھوجاتی ہیں۔ بیوہ عورتوں کو کام تک کرنے کے لئیے گھر سے نکلنے نہیں دیتے تم لوگ اور تئمارا قاضی حرامی اپنی بہو اور بیٹیوں کو قومی اسمبلی میں بٹھاتا ھے، منافقوں اصل یہودی تو تم لوگ ہو، تم جیسے منافقوں کے لئیے ہیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کے یہ اگر کعبے کے غلاف سے بھی لپٹے ملیں تو مار دینا انہیں۔

      • وقار اعظم نے کہا:

        یعنی تو منافقوں اور حرامیوں کی اعلی ترین نسل سے ہے جو نہ ادھر کا نہ ادھر کا، ابے تیرا کنجر پنا تو خاور بھائی کے بلاگ پہ ہی دیکھا تھا کہ تیرا تعلق کدھر سے ہے۔

        ہمارے نبی نے بھی مسلمانوں کو اپنے دشمنوں سے تعلیم دلوائی، کہا کہ علم حاصل کرو بھلے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، تو قاضی کا بیٹا اگر چلا گیا تو تجھے کیوں موت پڑ رہی ہے سالے؟ تیرے باپ اگر کسی قابل ہوتا تو تجھ جیسے حرامی سب سے پہلے امریکہ میں ہوتے، اور وہیں کے ہورہتے جیسے تمہارا ملعون پیر آج کل ادھر ہے۔ اور آج اگر شفاف الیکشن ہوجائیں تو پھر تم جیسے کنجروں کو بڑی حیرانی ہوگی۔ یہ جو سارے تجھ جیسے کنجر کہتے ہیں کہ خودکش بمبار جماعت بنارہی ہے تو اگر ان کے پاس ثبوت ہے تو لگا دے جماعت پر پابندی کہ تمہارے بقول عوام کو پتہ ہے تو لگ پتہ جائے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے۔

        اور جاہل مطلق، جماعت کا ایک حلقہ خواتین بھی ہے اگر جماعت خواتین کے گھر سے باہر نکلنے کے خلاف ہوتی تو حلقہ خواتین نہ ہوتا لیکن یہ تجھ جیسے بغض و عناد میں ڈوبے ہوئے کنجر تو ہٹلر کے وزیر کے موقولے پر عمل کرتے ہیں کہ جھوٹ کو اتنا بولو کہ وہ سچ لگنے لگے۔

        اگر تجھ میں ہمت اور ضرف ہوتا تو اپنے نام سے اس قسم کی بکواس کرتا تاکہ لوگوں کو پتہ تو چلے کہ کون کون حرامی کس طرف ہے۔ تیری بہادری کی داد دیتا ہوں بھئی، کہ تو تو منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی پر بھی بازی لے گیا۔ تف ہے تجھ پر بھئی۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        ابے جانور جا جاے پوچھہ اپنے باپ قاضی سے کے اس نے کتنے غریب کے بچوں کو امریکہ بھجوایا ھے اعلی تعلیم کے لئیے۔ غریب کے بچوں کو صرف مروایا ھے تم لوگوں نے۔ اپنے مطلب پر تمہیں حدیثیں یاد آجاتی ہیں، یہ بھی تو حدیث ھے کہ جو اپنے لئیے پسند کرو وہ ہی دوسرے مسلمان بھائی کے لئیے پسند کرو۔ تو اپنے بچے کو امریکہ میں تعلیم دلوائی جارہی ھے اور دوسروں کے بچوں کو نام نہاد جہاد کے نام پر مروایا جارہا ھے۔ یہ ھے تیرا اور تیرے باپ قاضی کا دین۔ تم لوگوں نے منافقت کی حد کر دی ھے منافقوں کے سردار ھو تم لوگ۔

      • وقار اعظم نے کہا:

        اقتباس:: جو اپنے لئیے پسند کرو وہ ہی دوسرے مسلمان بھائی کے لئیے پسند کرو۔۔۔۔

        تبصرہ:: ابے گدھے اس حدیث کی روشنی میں تو پھر تو تو بھوکا سوتا ہوگا کہ پاکستان میں لاکھوں لوگ بھوکے سوتے ہیں۔۔۔

        یعنی تو واقعی جاہل ہے کہ اہل وطن کی اکثریت اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیج سکتی تو تو نے بھی کبھی اسکول کی شکل نہیں دیکھی ہوگی، خیر سے فکر مند جو ٹھرا تو۔۔۔۔

        کس عبداللہ بن سبا کی اولاد کو سمجھا رہا ہوں میں بھی۔۔۔۔۔

  12. واہ سبحان اللہ! یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ آپ کے اخلاقی مافی الضمیر کا پردہ آپ نے خود اپنے ہی ہاتھوں چاک کر دیا ہے۔

    مجھے تو لگتا ہے جماعت اسلامی نے آپ کا کوئی پرانا ادھار چکانا ہے۔ یا آپ انھی فرموادات بالا میں استعمال کرنے والی زبان کی وجہ سے کبھی جعیت کے ہاتھوں زبردست پٹے ہیں۔ ورنہ یہ لہجہ اور غیض و غضب سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیونکہ ایک کیوں ایک بھائی کے کے بھتہ خور بھی باوجود کوشش کے ایسی زبان اپنانے سے گریز کرتے ہیں کہ کچھ بھرم رہ جائے۔

    ویسے بائی دا وے یہ جو آپ نے اوپر حسب سابق اپنے من گھڑت اور ہر قسم کی دلیل سے عاری بیان میں بار بار جس "قوم” کا ذکر کیا ہے۔ اس "قوم” میں آپ کے علاوہ اور کتنے افراد شامل ہیں؟۔ کیونکہ پاکستانی قوم تو پورے پاکستان میں بسنے والی قوم کا نام ہے۔ اور اس قوم میں ایک کیوں ایک سے لیکر پی پی پی ، ہر قسم کی ننھی منھی لیگیں بشمول نون اور قاتل لیگ، پاکستان نیشنل عوامی پارٹی جماعت اسلامی ، عمران خان کی تحریک انصاف حٹی کی تانگہ پارٹیاں بھی اپنے ووٹر اور امیدوار رکھتی ہیں۔ اور ان میں سے بہت سوؤن کے امیدوار اسمبلیوں میں بھی پہنچ جاتے ہیں۔ اور جس جماعت کے اوپر آپ اپنا بغض نکال رہے ہیں وہ اکثر و بیشتر پاکستان کی اسمبلیوں اور سینٹ میں اپنے ممبرز رکھتی رہی ہے۔ پھر آپ کی قوم مین کتنے افارد اور شامل ہیں ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      جن ساری جماعتوں کا آپ ذکر کر رہے ہیں ان کے لئیے میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کے یہ سیاسی لوگ تو ہمارے کھلے دشمن ہیں یہ کم از کم مذہب کے نام پر تو بیوقوف نہیں بنا رہے یہ جنت کے وعدے کر کے تو ووٹ نہیں مانگ رہے یہ کتاب کو قرآن بتا کر تو ووٹ نہیں مانگ رہے نا۔ جماعت اسلامی تو وہ مذہب فروش جماعت ھے جو خالصتاًً مذہب کو بیچ کر اپنا کاروبار چلا رہی ھے معصوم لوگوں کو جنت کے خواب دکھا کر نام نہاد جہاد کے نام پر مروا رہی ھے ان سے بڑا دشمن کوئی ھو ہی نہیں سکتا پاکستانیوں کا اور مسلمانوں ک

      • وقار اعظم نے کہا:

        گوندل صاحب ان حرامیوں کو اسی سے تو پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے کہ یہ اسلام کا نام کیوں لیتے ہیں؟ اگر جماعت بھی ویسی ہی سیاست کرے تو یہ شاد رہتے ہیں۔

        جماعت تو چل جنت کے نام پر لوگوں کو مروارہی ہے لیکن جس قبیلہ حرامیاں سے تم جیسوں کا تعلق ہے وہ تو اپنے مردود پیر صاحب لندن والے کے نام پر نوجوانوں کو مرواتی رہی ہے۔ ابے 25000 ہزار لوگوں کا خون تو پی ہی چکے ہو کراچی میں صرف 90 کی دھائی میں اور گنتی ابھی بھی جاری ہے۔ اگر جہاد افغانستان اور کشمیر میں شہید ہونے والے پاکستانیوں کی گنتی کی جائے تو اس کا آدھا بھی نہ ہو۔ تو ڈریکولا کی اولادو کچھ اس پر بھی نظر کرم۔

        اور جماعت یقینا اسلام کے نام پر، جنت کے نام پر لوگوں کو انکریج کرتی رہے گی۔ چاہے قادیانیوں کے چانٹوں اور حرامیوں کو کتنا ہی ناگوار گذرے۔۔۔۔

  13. شمس و بدر پر آرمی اگر بھروسہ کرتی تو بنگلہ ديش نہ بنتا ۔ اگر آرمی مشرقی پاکستان ميں جماعتِ اسلامی کو سياسی سہارا ديتی تو مکتی باہنی زور نہ پکڑ سکتی اور تو اور اگر کيميونسٹ خيال ليڈر مولانا بھاشانی کو ہی سياسی سہارہ ديتی تو مجيب الرحمٰن کبھی اليکشن نہ جيت پاتا ۔ جب آرمی نے جماعتِ اسلام اور مولانا بھاشانی دونوں کو اپنا دشمن سمجھا تو مجيب الرحمٰن کيلئے ميدان مارنا بہت آسان ہو گيا ۔ آرمی کيلئے سب بنگالی تھے مگر مقامی لوگ جانتے تھے کہ کون پاکستان کا خير خواہ ہے اور کون غدار

  14. ABDULLAH نے کہا:

    ایسے گھٹیا لوگوں ہی نے تو مودودی صاحب کی جماعت اسلامی کو اس حال کو پہنچا دیا ہے ،
    یہ جو جیو کی ڈاکومینٹری لگا رہا ہے اس سے پوچھیں ،کہ یہ بات بھی تو جیو کی ڈاکومینٹری میں ہی بتائی گئی تھی نا کہ میاں طفیل نے بھٹو کے خلاف گواہی دینے والوں سے جھوٹی گواہی دلوائی،اوران سے قرآن پر ہاتھ رکھ کروعدہ کیا تھا کہ اگر وہ یہ گواہی دے دیں کہ انہوں نے قصوری پر حملہ بھٹو کے کہنےپرکیا تھاتو انہیں سزا سے بچا لیا جائے گا،

    ایجینسی کے پے رول پر موجود کرپٹ لوگ جماعت میں گھس گئے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے،
    فاروق مودودی ان جیسوں ہی کے خلاف تھے!

  15. ABDULLAH نے کہا:

    اور یہ گوندل گند جو دوسروں کو اخلاقیات سکھا رہا ہے اور قوم کی باتیں کررہا ہے اس سے پوچھیں،کہ لیاقت علی خان کے بارے میں پاکستان کے دشمنوں کا نفرت انگیز مواد پھیلانے میں اس کا خود کا کردار کس قدر غلیظ ہے،

    • fikrepakistan نے کہا:

      عبداللہ بھائی ان کے پاس میرے کئیے ھوئے کسی ایک سوال کا بھی مدلل جواب نہیں ھے ادھر ادھر کی ہانک کر بات گھما رہے ہیں جبکہ میں نے پوری پوسٹ میں مودودی صاحب کا کہیں ذکر تک نہیں کیا ھے میں نے تو ان کے بیٹے کا ذکر کیا ھے ان کے بیٹے نے بلکل صاف اور واضع الفاظ میں کہا ھے کہ جماعت میں چن چن کر منافقین جمع کئیے گئے ہیں جو جنکا کام ہی مذہب کے خلاف کام کرنا ھے۔ اسکا جواب دے نہیں پارہا کوئی ادھر ادھر کی ہانکے جارہے ہیں۔ یہ انکا شیوا ھے کہ جب کوئی جواب نہیں بن پڑتا تو بدتمیزی پر اتر آتے ہیں دلیل سے جواب دینے کے بجائے ثانوی باتوں میں الجھا کر اصل معاملے سے فرار اختیار کرلیتے ہیں۔

  16. لو آگیا ۔ ۔ ۔ ویسے بارہ سنگھے کی پھدکنیاں یہاں بھی ہوتی ہیں۔ حیرت ہے۔

  17. ABDULLAH نے کہا:

    اگر گھٹیا اورغلیظانہ گفتگو کا کوئی ایوارڈ ممکن ہوسکتا تو وہ اس وقار اعظم کو ہی ملتا،
    ویسے تو اس کے ہم زباں اور بھی بہت سے ہین جن میں سے چند تو یہاں بھی نظر آرہے ہیں مگر اسکا درجہ ان تمام گھٹیا لوگوں میں سب سے اوپر ہے!!!
    عنیقہ سے ڈانٹ کھا کر ٹیاؤں ٹیاؤں کرتا پلٹا تو راستے میں آپ پڑ گئے بس اب سنیئے بھو بھو بھو اس کی!!!

  18. ABDULLAH نے کہا:

    ان درندوں کا تازہ ترین شکار شہباز بھٹی۔۔۔۔۔
    😦

  19. qasim نے کہا:

    اگر گھٹیا اورغلیظانہ گفتگو کا کوئی ایوارڈ ممکن ہوسکتا تو وہ اس وقار اعظم کو ہی ملتا

    اور بدست عبد اللہ ملتا

  20. UncleTom نے کہا:

    یار تم صحیح کہہ رہے ہو ، ایویں مولویوں نے جہاد کے نام پر عوام کو الو بنایا ، میں تو یہ سوچ رہا ہوں نہ پاکستان افغانستان میں مدد کرتا تو اب تک سویتیوں کو قبضہ رہتا وہاں ، اور امریکہ سوپر پاور نہ ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو اسکے مقابلے کی دوسری سوپر پاور ہوتی ، پھر پاکستان پر سویت والے حملہ کرتے تو ایک بمب آپ کے گھر بھی گرتا اور آپ کے بلاگ پر پوسٹ لکھی ہوتی کہ پہلے میں طالبان نہیں تھا اب میں بھی انمیں شامل ہو رہا ہوں ۔

  21. fikrepakistan نے کہا:

    عبداللہ بھائی یہ وقار اعظم نہیں جاہل اعظم ھے، اور یہ ہی کیا اس کے جتنے بھی باپ ہیں وہ سب جاہل اعظم ہیں، دین کی غلط تشریحات کر کے معصوم اور ان بڑھہ لوگوں کو بہکانہ انکا کاروبار ھے یہ ہی زریعہ معاش ھے انکا۔ دین ایک دکان کو ایک دکان سے زیادہ نہیں سمجھہ ھے انہوں نے دین ان کے لئیے ایسی دکان ھے جس سے انکی پوری پارٹی اور پارٹی کے سارے جانوروں کا پیٹ بھرتا ھے، یہ منافق مذہب فروش ہیں انکی ہر ہر سطح پہ بیخکنی ضروری ھے۔ یہ وہ ہیجڑے ہیں جن میں اتنی جرت نہیں کے اپنے ان ناجائز باپوں سے پوچھہ بھی سکیں کہ یہ جو طالبان نے پاکستان میں کہرام مچا رکھا ھے ہر ہر طرح سے ثابت ھوگیا ھے کہ یہ طالبان ہی اصل دہشت گرد ہیں تو ہم انکی حماعت کیوں کرتے ہیں۔ ان میں اتنی اخلاقی جرت نہیں ھے یہ کیسے پوچھیں گے انکی تو دیہاڑیاں ہی دین کو بیچنے سے لگتی ہیں، انکا ہر عہدے دار تنخواہ پاتا ھے جماعت سے انکا باپ آکر دیتا ھےانہیں اتنا پیسہ کے یہ اتنے سارے جانورں کو تنخواہ دیتے ہیں۔ یہ جماعت اسلامی نہیں جماعت حرامی ھے جماعت حرامی ھے جماعت حرامی ھے۔

  22. سبحان اللہ۔ کیا انداز کلام ہے اور گلہ دوسروں کا کرتے ہیں۔ بس یونہی ہتھ دب کے رکھو۔ ایک بات تو طے ہے کہ اگر جماعت اسلامی یا کسی بھی اسلامی نقطعہ نظر رکھنے والی جماعت سے بغض رکھنے والے ایسی اقدار اور اخلاق کے حامل ہوگ ہیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ انہین دینی اور دین اسلام سے رغبت رکھنے والی جماعتوں سے اسقدر نفرت کیوں ہے؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید صاحب، ممکن ھے آپ جماعت اسلامی کو اسلامی جماعت مانتے ھوں، کم از کم میں تو نہیں مانتا، اور جو بھی ان منافقوں کو قریب سے جانتا ھو وہ اسکی بھی یہ ہی رائے ھے اس جماعت کے بارے میں۔ اگر یہ حقیقی معنوں میں اسلامی جماعت ھوتی تو آج اسکا یہ حال نا ھوتا کے اس کے امیدواروں کی ضماعنتیں تک ظبط نا ھورہی ھوتییں، انہیں ان کے گھر والے ووٹ نہیں دیتے انکی منافقت کی وجہ سے، یہ اسلامی جماعتیں نہیں ہیں یہ اسلام فروش جماعتیں ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      آپکو میرا طرز تخاطب نظر آرہا ھے مگر وقار صاحب کا انداز گفتگو نظر نہیں آرہا، چلیں میں تو انہیں اسلامی جماعت ہی نہیں مانتا تو میرا طرز تخاطب تلخ ھوا، مگر یہ بھی خود کو مذہبی جماعت نہیں مانتے کیا جو انکا طرز گفتگو اسقدر گھٹیا ھوا کے مجبوراً مجھے بھی انکے جیسے ہی زبان استعمال کرنی بڑی ان کے ساتھہ۔

  23. آپ پہ دوہری ذمہ داری ایک تو آپ صاحب بلاگ ہیں اور پھر زیر موضوع کو کم تر اور اپنے آپ کو اعلٰی ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اور منرجہ بالا انداز کلام سے آپ جماعت اسلامی یا کسی دیگر سے اعلٰی کیسے ثابت کر سکتے ہیں ؟

    آپ نے جماعت اسلامی کو جماعت حرامی کہا ہے۔ یہ یوں ہی ہے جیسے کوئی ایم کیو ایم یا نون لیگ یا بارے دیگر کسی جماعت کو چند گالیاں دے لے تو اس سے ان مزکورہ بالا جماعتوں کا کچھ نہیں بگڑنے والا مگر گالی دینے والے پہ سب متعجب ہوں گے۔

    غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے۔ مجھ سے آپ سے ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ مگر اعتدال اور اخلاق کا دامن ہاتھ نہیں چھوڑنا چاہئیے۔ اور جو قاری آپ کے بلاگ کی رونق بڑھائے اس سے آپ اختلاف ضرور کریں مگر اپنی شائستگی کسی طور پہ نہ چھوڑیں۔اتفاق رائے یا اختلاف رائے ہم سب کا حق ہے اور اسے استعمال کرتے ہوئے اخلاقی حدود کا خیال رکھنا چاہئیے۔

  24. fikrepakistan نے کہا:

    جاوید بھائی آپکی اس بات سے میں بلکل متفق ہوں امید ھے مچھہ سمیت دوسرے لوگ بھی آئندہ اس بات کا خیال رکھیں گے۔

  25. بہت اچھا فیصلہ ہے آپکا ۔
    یہ حقیقی مخالفین کی ایک ویڈیو ہے۔ جسمیں وہ لوگ اسلام آباد ، لاہور یا کراچی میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے یہ صرف ہمیں انہوں نے اسطرح کے مباحثوں میں الجھا کر نفرتوں کو ہوا دینے مشغول کر رکھا ہے۔اللہ تعالٰی ہم سب کو درست سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کی ہمت و توفیق دے۔

  26. ABDULLAH نے کہا:

    چلومل گیا موقع اپنا گند پھیلانے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بعض دمیں واقعی سیدھی ہونے کے لیئے نہیں ہوتیں!!!!!!!!!!
    اس ہندو لڑکی اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں ہی نفرت کے پجاری ہیں!

    اس دوسروں کو اخلاقیات سکھانے والے کی اپنی اخلاقیات بھی دیکھ لیجیئے!!!!!!!!!!

    6.جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین نے لکھا:
    Friday، 04 March 2011 بوقت 7:20 am خرم بھائی!
    ایک تبصرہ نگار بارہ سنگھا ادہر بھی گھوم رہا ہے۔ جب سے اسکے پیر لنڈن بھائی ایک کیو ایک کی “عزت افرائی” ہوئی ہے یہ بے چارہ باولا ہوا گھوم رہا ہے۔ ایسے کسی جھاڑی میں پھنسا رہ جائے گا۔اس بے بے چارے کو پاگل خانے کی”کھرلی” کی راہ دکھائیں۔

  27. ABDULLAH نے کہا:

    اس جیسوں کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  28. ایک بات جو سمجھ میں آتی ہے۔ کہ وکی لیکس بجائے خود ایک انہونی سی بات لگتی ہے۔ اگر وکی لیکس یوں ہوتا جیسے بیان کیا گیا ہے اور اس میں امریکہ اور کچھ دوسرے ممالک کی مرضہ شامل نہ ہوتی تو یہ کب کا اسانج وغیرہ کو ٹکٹکی پہ چڑھا چکے ہوتے۔ یا گوآناناموبے میں بیڑیاں پہنے نظر آتا ۔ اور کچھ نہیں تو دنیا کے سپر کمپیوٹرز رکھنے والا ملک کب کا وکی لیکس کی ویب سائٹس کا گھونٹ بھر چکا ہوتا۔ اور وکی لیکس کی ڈگڈگی اور اس پہ باوجود امریکی نام نہاد فرضی سی شرمندگی۔ اور وکی لیکس کی نظر کرم کا سارا زور ضرورت سے بڑھ کر ان رازوں کا پردہ آشکارا کرنا جس میں امریکی سفارتکار اور جاسوسوں نے مسلمان ممالک حکمرانی کرنے والوں کے بارے ناپسندیدہ رائے دی ہو۔ اور اسطرح کی بہت سی باتیں۔ پھر تیونس اور مصر کی تقریبا پرامن تبدیلی حکومت ۔ ان دو ممالک میں عوامی تحریکوں کا کسی خاص بڑے رہنماؤں اور واضح ایجنڈے کے پر امن طرقے سے محض چہروں کا بدل جانا۔ اور سارا خون خرابے کا سارا نزلہ ان ممالک میں گرنا جہاں گیس اور تیل کی فروانی ہے۔ اقوام متحدہ کی فر فر دھڑا دھڑ قراردادیں پاس کرنا امریکہ کے جنگی بحری جہازون اور اتحادیوں کا اپنے بیڑوں کو تیار رہنے کا حکم دینا۔

    ہوشیار باشد۔ یہ عراق و افغانستان والا ماحول تیار ہورہا ہے۔ یہ نیو ورلڈ آڈر کی نئی قسط ہے۔ اور اس دفعہ امت مسلمان کے تیل اور گیس کو قبضہ کرنے کی تیاری ہے۔

  29. ABDULLAH نے کہا:

    اچھا اسی لیئے تم جیسے نادان دوست امت مسلمہ کو باٹنے اور نفرتوں کا پرچار کرنے میں لگےہوئے ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    بہت دیکھے مگر تم جیسا ڈھیٹ نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  30. ABDULLAH نے کہا:

    مشرقِ وسطیٰ میں انقلاب سے اسرائیل پریشان
    زبیر احمد

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

    مشرقِ وسطیٰ میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی حمایت میں جاری انقلاب کو عالمی برادری نے سراہا ہے لیکن اسرائیل میں انقلاب سے بے چینی پائی جاتی ہے۔

    امریکی حزبِ اختلاف کے رہنما جان مکین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں اِس سیاسی تبدیلی کی لہر پر اسرائیل پریشان ہے۔ اس سیاسی تبدیلی کا اسرائیل اور اُس کی خارجہ پالیسی پر کیا اثر پڑے گا؟ اسرائیل اور فلسطینی امن مذاکرات کے مستقبل پر اس کا کیا اثر ہوگا؟

    ایران میں ملا، لبنان میں حزب اللہ ، غزہ میں حماس اور مصر میں اخوان المسلمین، اسرائیل میں کم از کم اس پر سخت تشویش ہے۔ مصر میں انقلاب شروع ہونے کے بعد سب نے اُس کی حمایت کی تھی لیکن اسرائیل نے امریکہ سے صدر حسنی مبارک کی مدد کرنے کو کہا تھا تاہم جمہوریت کی حمایت میں ہوا اس قدر تیزی سےچل رہی ہے کہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی سرائیل کو صحیح صورتحال کا اندازہ ہے۔

    اسرائیل کئی سالوں میں پہلی بار خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔اسرائیلی وزیرِاعظم نےگزشتہ ہفتےاس کا ذکر بھی کیاتھا جس کے جواب میں امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اسرایل کی تنہائی اُس کے لئے اچھی نہیں ہے۔
    اسرائیل کئی برسوں میں پہلی بار خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نےگزشتہ ہفتےاس کا ذکر بھی کیا تھا جس کے جواب میں امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اسرائیل کی تنہائی اُس کے لئے اچھی نہیں ہے۔

    اسرائیل کو اِس بات کا خوف ہے کہ اگر مصر میں انتخابات کے بعد اخوان المسلمین حکومت میں شامل ہو تی ہے تو کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ یہ سمجھوتہ اسرائیل کو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ مصر دیگر عرب ممالک کے ساتھ اُس کے خلاف محاذ نہیں بنائے گا۔

    سنہ انیس سو اناسی میں ہونے والے اس سمجھوتے پر دستخط کے بعد اُس وقت کے اسرائیلی وزیرِخارجہ موشے دیاں نے کہا تھا کہ اگر ایک گاڑی سے ایک پہیہ نکال دیا جائے تو گاڑی چل نہیں سکتی۔ کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے بعد اسرائیل اور امریکہ نے مصر کو عرب ممالک سے الگ کر کے ایک ناکارہ گاڑی بنا دیا تھا۔

    میرے خیال میں اسرائیل میں یہ تصور بڑھ رہا ہے کہ لمبے عرصے میں جمہوری عناصر سے رابطہ رکھنا ڈکٹیٹروں کے مقابلے زیادہ بہتر ہے، اگرچہ اسرائیل میں اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن اُسے خطّے میں جمہوریت کی حمایت میں ہونے والے انقلاب سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
    ریپبلکن پارٹی کے رہنما جان مکین
    اگرچہ حسنی مبارک کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد مصر کی حکمران فوجی کونسل نے کہا ہے کہ کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ اٹوٹ رہے گا لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ انتخابات کے بعد اقتدار پر آنے والی حکومت اس کا پاس رکھے گی؟۔

    مصر میں عام خیال یہ ہے کی یہ سمجھوتہ اسرائیل کے حق میں زیادہ ہے اور شاید اسی لئے اسرائیل کو حسنی مبارک کی ضرورت تھی۔

    امریکہ میں بھی اسرائیل کے حامیوں نے اسرائیل کو مشورہ دینا شروع کر دیا ہے کے وہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی تبدیلیوں پر لبّیک کہے۔

    ماہرین کے خیال میں مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل گھبرایا ضرور ہے لیکن وہ انتظار کر رہا ہے کہ خطّے میں بدلتے ہوے حالات کیا شکل اختیار کرتے ہیں اور مصر میں انتخابات کے بعد اقتدار میں کون آتا ہے؟لیکن شاید مستقبل قریب میں اسرائیل کو فلسطینی مسئلے کا حل نکالنے میں لچک دکھانی پڑ سکتی ہے۔
    ریپبلکن پارٹی کے رہنما جان مکین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو منتخب حکومتوں سے مذاکرات کرنے اور تعلقات قائم کرنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔

    جان مکین کے مطابق ’میرے خیال میں اسرائیل میں یہ تصور بڑھ رہا ہے کہ لمبے عرصے میں جمہوری عناصر سے رابطہ رکھنا ڈکٹیٹروں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے، اگرچہ اسرائیل میں اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن اُسے خطّے میں جمہوریت کی حمایت میں ہونے والے انقلاب سے گھبرانا نہیں چاہئے۔‘

    اسرائیل کو اب مشورہ یہ دیا جا رہا ہے کے وہ فلسطین کے مسئلے کو جتنا جلد حل کرے اُس کے لیے اتنا بہتر ہے۔ اس بارے میں پاکستانی نژاد دانشور شجاع نواز کہتے ہیں کہ اگر فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آ گیا اور اُسے اقوامِ متحدہ میں رکنیت مل گئ توخطّے میں مسئلے کا حل ممکن ہے۔ ’مجھے لگتا ہے کہ اگر اسرائیل فلسطینی معاملے میں لچک دکھاتا ہے اور امن کے لئے تیار ہے تو فلسطینی ریاست کو اقوامِ متحدہ کی رکنیت بھی ملنی چاہئے۔‘

    ماہرین کے خیال میں مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل گھبرایا ضرور ہے لیکن وہ انتظار کر رہا ہے کہ خطّے میں بدلتے ہوے حالات کیا شکل اختیار کرتے ہیں اور مصر میں انتخابات کے بعد اقتدار میں کون آتا ہے؟ لیکن شاید مستقبل قریب میں اسرائیل کو فلسطینی مسئلے کا حل نکالنے میں لچک دکھانی پڑ سکتی ہے_

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s