مجرمانہ خاموشی


وہ شخص مفتی صاحب کے کمرے میں داخل ہوا سلام کیا اور مفتی صاحب کے سامنے بیٹھہ گیا، مفتی صاحب میرے دو بچے ہیں بیوی ھے اور میں ہوں، یہ مختصر سا کنبہ ہے میرا، کرائے کے گھر میں رہتا ہوں، حالات بہت خراب ہیں بہت تنگدستی ھے منہگائی نے کمر توڑ دی ھے آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں کسی طور بھی گھر کا خرچہ پورا نہیں ھوتا رہنمائی فرمائیے کیا کروں؟۔
مفتی صاحب نے روایتی لائن دوھرائی، عیاشیاں ختم کرو اخراجات پر کنٹرول کرو تقویٰ اختیار کرو اور اپنی آمدنی بڑھانے کے لئیے جدوجہد کرو معاملات بہتر ھوجائیں گے انشاءاللہ۔

مفتی صاحب یہاں جائز خواہشات دم توڑ چکی ہیں آپ عیاشی کی بات کر رہے ہیں، اخراجات صرف اتنے ہیں کے روح سے سانس کا رشتہ قائم رہے، میرے گھر میں بھوک ناچ رہی ھے آپ کہہ رہے ہیں کہ میں تقویٰ اختیار کروں، تقویٰ اختیار کرنے کے لئیے پلے کچھہ ھونا ضروری ھوتا ھے کہ میرے پاس ہیں تو دنیا بھر کی نعمتیں مگر میں تقویٰ اختیار کرتے ہوئے انتہائی سادہ زندگی بسر کروں، میرے پاس تو تقویٰ اختیار کرنے کے لئیے بھی کچھہ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ کا قول ہے کے مفلسی کفر تک لے جاتی ھے۔ بھوکے آدمی کا کوئی مذہب ہی نہیں ھوتا اور آپ مجھے تقوئے کا درس دے رہے ہیں.

صبح منہ اندھیرئے گھر سے نکلتا ہوں اور رات اندھیرئے میں ہی گھر لوٹتا ہوں، سارے دن کی مشقت اس قابل نہیں چھوڑتی کہ کوئی اور کام کر سکوں اور نہ ہی وقت بچتا ھے کسی دوسرے کام کے لئیے، معاشرئے میں بیروزگاری اتنی پھیل چکی ھے کہ مالک سے تنخواہ بڑھانے کے لئیے کہتا ہوں تو وہ کہتا ھے زیادہ نخرئے نہ دکھاو تم سے بھی کم تنخواہ میں لوگ کام کرنے کے لئیے تیار ہیں۔

گورنمنٹ نے کم از کم تنخواہ سات ہزار روپے رکھی ھے مجھے تو پھر بھی دس ہزار روپے تنخواہ ملتی ھے میں سوچتا ہوں کے جب میرا دس ہزار میں گزارا ممکن نہیں تو سات ہزار روپے ماہوار کمانے والے شخص کے لئیے کیسے ممکن ھوسکتا ھے؟۔ ایک کچی بستی میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، چار ہزار مکان کا کرایہ ھے، بجلی کا کم از کم بل دو ہزار روپے آتا ھے، گیس اور پانی کی مد میں پانچ سو روپے خرچ ھوجاتے ہیں، صرف انتہائی ضروری اشیاء خورد و نوش مہینے کے راشن میں شامل ہوتی ہیں جو کم از کم تین ہزار میں آتی ہیں، ناشتے میں مکھن ڈبل روٹی جیم وغیرہ کھائے ہوئے تو مدت ھوگئی بلکے مجھے اور میری بیوی کو تو اب ذائقہ بھی یاد نہیں کے مکھن اور جیم کا زائقہ کیسا ھوتا ھے، جبکہ مکھن جیم جیلی وغیرہ جیسی پر تعیش چیزیں تو میرئے بچوں نے صرف ٹی وی پر ہی دیکھی ہیں وہ بھی پڑوسی کے گھر میں کہ ٹی وی خریدنے کی میری حیثیت نہیں۔

رات کی باسی روٹی چائے میں ڈبو کر کھا لیتے ہیں دودھہ چینی چائے کی پتی اتنی مہنگی ھوچکی ہیں کے صرف چائے کا وجود ناشتے میں شامل کرنے کے لئیے پندرہ سو روپے ماہوار خرچ کرنا پڑتے ہیں، گھر سے فیکڑی تک جانے میں بس کے کرائے کی مد میں ہر روز پچاس روپے خرچ ھوتے ہیں جو کے تقریباَ پندرہ سو روپے ماہوار بنتے ہیں، پان سگریٹ یا کوئی اور نشہ میں نہیں کرتا۔

(حدیث کا مفہوم ہے کہ) کوئی تمہیں دعوت دے تو تم ضرور جاو، مگر میں تو اس سعادت سے بھی محروم رہتا ہوں کہ کہیں شادی بیاہ میں جاوں تو عزت کا بھرم رکھنے کے لئیے کچھہ نہ کچھہ تو دینا پڑتا ہے جبکہ میرے پاس دینے کے لئیے صرف دعائیں ہوتی ہیں جو کے آج کے دور میں عزت بچانے کے لئیے ناکافی ہیں۔ مشقت اور مالی پریشانیوں کے باعث ہر وقت ڈپریشن میں رہتا ہوں جس کی وجہ سے شوگر کا مرض ھوگیا ھے جسکا علاج کم از کم دو ہزار روپے مہینہ نگل جاتا ھے۔

حدیث ھے کہ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے، مگر میں تو بچوں کو گلی کے نکڑ والے اسکول میں پڑھاتا ھوں اسکی بھی فیس ماہوار پانچ سو روپے فی بچہ بنتی ھے دو بچوں کے ہزار روپے ماہوار، نصاب اور یونیفارم کا خرچہ الگ ہے، گونمنٹ کے اسکولوں میں بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی نیت سے بھیجنا بلکل ایسا ہی ہے جیسے بیل سے دودھہ نکالنا، کے وہاں سے بچہ اور تو بہت کچھہ حاصل کرسکتا ھے مگر تعلیم نہیں۔

عید کے عید اپنے بیوی کے اور بچوں کے کپڑے بناتا ہوں کے ہر ماہ یا ہر دو تین ماہ بعد کپڑے خریدنا میری جیسی آمدنی والے کے لئیے عیاشی کے مترادف ھے، موبائل فون میرے پاس نہیں ھے کہ میری دسترس میں ہی نہیں ھے ویسے بھی مجھے اسکی ضرورت محسوس نہیں ھوتی کیوں کے میرے جیسے حالات رکھنے والوں کی خیریت دریافت کرنا کوئی گوارہ نہیں کرتا نہ ہی کسی کو مجھہ سے کوئی کام پڑتا ھے۔ پھل صرف بازاروں میں ہی دیکھتے ہیں ہم، دودھہ جیسی اللہ کی نعمت صرف چائے کے لئیے ہی استعمال کرتے ہیں، گوشت ہمیں صرف بقراء عید کے دنوں میں ہی میسر آتا ھے، بکرے کو تو کبھی بغیر کھال کے دیکھا ہی نہیں میرے بچوں نے۔ دال اور سبزیاں بھی اتنی مہنگی ھوچکی ہیں کے اب تو وہ بھی عیاشی کے زمرے میں آچکی ہیں۔ روز مرہ کے اخراجات جیسے کے سبزی وغیرہ کے لئیے سو روپے روز خرچ ھوجاتے ہیں جو کے مہینے کے تین ہزار بنتے ہیں۔

مفتی صاحب اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کے میرے ان اخراجات میں اصراف کہاں ھے؟ عیاشی کہاں ھے؟ کہاں کا تقویٰ کیسی قناعت؟ ان سارے اخراجات میں ناجائز کیا ھے؟ مفتی صاحب، میری تنخواہ دس ہزار ھے اور یہ جو میں نے آپکو انتہائی جائز اخراجات گنوائے ہیں سالانہ اور ماہوار ملا کر اوسطاَ بیس ہزار روپے مہینہ بنتا ھے جبکہ میری آمدنی دس ہزار روپے مہینہ ھے یعنی ہر ماہ دس ہزار روپے کا فرق، بتائیے یہ فرق کیسے مٹایا جائے؟، آپ نائب رسول ہیں امت کی زمہ داری ہے آپ پر، میں آپ سے سوال کرتا ہوں کے ان حالات میں کیا حکم ھے اسلام کا میرے لئیے؟ اور ان حالات میں بہ حیثیت مذہبی رہنما کیا زمہ داری بنتی ھے آپکی؟۔

میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اسلامی حدود کب اور کس معاشرے پر نافظ ھوتی ہیں؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ جنکا معاشی نظام آج بیشتر کفار ممالک میں نافظ ہے وہ نظام جس میں انسان تو انسان درختوں تک کا وظیفہ مقرر تھا، وہ نطام تو ہمیں بتاتا ھے کہ حکومت کی زمہ داری ھے کہ اپنے شہری کی جان، مال، عزت، روٹی، روزی، تعلیم، صحت، یعنی تمام بنیادی ضرورتیں انشور کرئے، مگر مجھے گورنمنٹ سے ان میں سے کوئی ایک چیز بھی نہیں مل رہی۔ قحط کے دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ نے ہاتھہ کاٹنے کی سزا معاف کر دی تھی فرمایا کہ جب میں لوگوں کو روٹی نہیں دے سکتا تو مجھے انہیں سزا دینے کا بھی حق نہیں ھے۔ تو اگر ایسے معاشرے میں، میں اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے یہ دس ہزار روپے ماہوار کا یہ فرق مٹانے کے لئیے کوئی ناجائز زریعہ استعمال کرتا ھوں تو آپ مجھے بتائیں کے اسلام کا کیا حکم ھے میرے لئیے؟ اور بہ حیثیت نائب رسول آپکی کیا زمہ داری ہےِ؟۔

آپ جیسے سارے مذہبی اکابرین پاکستان کے مختلف شہروں میں ہر سال لاکھوں لوگوں کا اجتماع کرتے ہیں جس میں آپ بعد از مرگ کی زندگی کے بارے میں لوگوں کو بہت تفصیل سے بتاتے ہیں قبر کے عذاب کے بارے میں بتانے ہیں جہنم سے ڈراتے ہیں، مگر یہ جو اٹھارہ کروڑ میں سے سولہہ کروڑ لوگ زندگی میں جہنم جھیل رہے ہیں انہیں آپ انکے جائز حقوق کے بارے میں آگہی کیوں نہیں دیتے؟ اسلام نے شہری کے لئیے کیا حقوق وضع کیئے ہیں یہ آپ لوگوں کو کیوں نہیں بتاتے؟ لوگ آپ کے منہ سے نکلی بات کو اہمیت دیتے ہیں اسے اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہیں، (سلمان تاثیر کا قاتل ممتاز قادری اسکی زندہ مثال ہے) عوام کے اس اہم مسلے پر جس مسلے پر صحیح معنوں میں ایک عام آدمی کی جنت اور دوزخ کا دارومدار ہے، اس اہم مسلے پر آخر آپ گورنمنٹ کو کوئی ڈیڈ لائن کیوں نہیں دیتے کہ یا تو عوام کو اسلام کے مطابق بنیادی حقوق دو ورنہ ہم ان لاکھوں لوگوں کو لے کر حکومتی اعوانوں میں گھس جائیں گے، میں نہیں مانتا کے آپ سے اتنی محبت کرنے والے لوگ آپکی اس آواز حق پر لبیک نہیں کہیں گے۔

میرا ایمان ہے کے ظالم ہمیشہ بزدل ہوتا ہے سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کی مثال سب کے سامنے ہے کے عوام کی بغاوت کے خوف سے کیسے ان ریاستوں کے حکمرانوں نے اپنے عوام کو اربوں ڈالر کے پیکج دئیے ہیں، مجھے پورا یقین ہے کے علماء برادری کا دیا ہوا فتویٰ اور الٹی میٹم ہی کافی ہونگے ان بزدل حکمرانوں کے لئیے۔

کیا آپکی زمہ داری نہیں بنتی کے آپ حکومت وقت سے مطالبہ کریں کے اسلام کے مطابق کم از کم تنخواہ دس گرام سونے کے برابر ھونی چاہیے، چلیں دس گرام نہیں تو پانچ گرام سونے کے مساوی تنخواہ کا مطالبہ کردیں۔ کیا آپکی زمہ داری نہیں بنتی کہ آپ فتویٰ دیں کے پاکستان جیسے معاشرے میں حدود نافظ العمل نہیں ہیں۔

میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں مفتی صاحب یہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ لوگوں میں سے سولہہ کروڑ لوگوں کا مسلہ ہے اس پر اپکی یہ مجرمانہ خاموشی آپ کی زات پر اور آپ کے منصب پر سوالیہ نشان ھے، میں وہ مفلس ہوں جسکے لئیے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ نے فرمایا ھے کہ مفلسی کفر تک لے جاتی ھے، آپ جیسے علماء کے پیچھے کروڑوں لوگ چلتے ہیں آپ کی بات سنتے ہیں اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لوگوں کا حق بنتا ھے آپ پر کہ آپ لوگوں کے اس بنیادی مسلے پر لب کشائی کریں فتویٰ دیں اور ان حالات میں اگر کوئی اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے کوئی ناجائز زریعہ استعمال کرتا ھے تو بتائیں لوگوں کو کے اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ھے؟.

یہ سب کہنے کے بعد وہ شخص خاموش ھوگیا اور مفتی صاحب کی طرف دیکھنے لگا، مفتی صاحب بولے تمہاری ہر بات ٹھیک ھے لیکن اب تم مجھہ سے کیا چاہتے ھو؟ میں آپ سے فتویٰ چاہتا ہوں کہ ایسے معاشرے میں حدود نافظ نہیں ھوتیں۔ یا تو گورنمنٹ پہلے عام آدمی کو اسلام کے مطابق تمام بنیادی سہولتوں سے آراستہ کرے پھر اگر وہ روزی کمانے کا کوئی ناجائز زریعہ استعمال کرتا ھے تو اسے سزا کا مرتکب ٹھرائے۔ اگر گورنمنٹ ایسا نہیں کرتی تو عام آدمی اپنی جائز ضروریات پوری کرنے کے لئیے آزاد ہے کے وہ جو بھی زریعہ چاہے استعمال کرے، مفتی صاحب بولے میں ایسا نہیں کرسکتا اسطرح تو معاشرے میں انتشار پھیل جائے گا سارا نظام دھرم بھرم ھوجائے گا انارکی پھیل جائے گی۔

وہ شخص بولا مفتی صاحب سولہہ کروڑ لوگوں کی زندگی تو اس وقت بھی انتشار کا شکار ہے، انکی زندگی میں انارکی تو اس وقت بھی پھیلی ہوئی ہے، آپ کے فتوے سے تو صرف دس پرسنٹ لوگوں کی زندگی میں انتشار پھیلے گا اور یہ وہ ہی دس پرسنٹ لوگ ہیں جو نوے پرسنٹ کا حق مار رہے ہیں تو اگر آپ کے فتوے سے دس پرسنٹ کی زندگی میں انارکی پھیلتی ہے تو اسکا فائدہ تو نوے پرسنٹ لوگوں کو ملے گا یہ تو گھاٹے کا سودا نہیں ہے، اور ویسے بھی آپکا کام نفع نقصان دیکھنا نہیں، آپکا کام حق اور صحیح کی حمایت کرنا ہے کیا آپکو نہیں لگتا کے آپ کے اور آپ جیسے تمام علماء اور مفتی حضرات کی خاموشی کا فائدہ لٹیروں کو مل رہا ہے؟۔

عام آدمی تو مسلسل تنزلی کا شکار ہورہا ہے وہ نہ دین کا رہا نہ دنیا کا، کبھی غور کیا آپ نے کہ ایک عام پاکستانی کی زندگی کا مقصد ہی صرف دو وقت کی روٹی کا حصول بن چکا ہے، زندگی جیسی قیمتی چیز کو لوگ موت کے حوالے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، سوچیں اس ماں کی ذہنی کیفیت کیا ہوتی ہوگی جو اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو موت کی نیند سلانے پر مجبور ہورہی ہے، عزت دار گھر کی لڑکیاں عصمت فروشی پر مجبور ہوگئی ہیں، جن ننھے ننھے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہییں ان ہاتھوں میں گاڑی کی ونڈ اسکرین صاف کرنے والا وائپر ہے، آپکا سینہ اس وقت غم سے کیوں نہیں پھٹتا جب سخت سرد رات میں دس سال کا معصوم بچہ ابلے ہوئے انڈے بیچ رہا ہوتا ہے؟ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں موبائل فون کی سم فری اور روٹی سات روپے کی ہے، کیا یہ انتشار نہیں ہے؟ کیا یہ انارکی نہیں ہے؟ کیا یہ سب ننگے حقائق آپکا دل دھلانے کے لئیے کافی نہیں ہیں؟ کیا بہ روز حشر آپ اللہ تعالی سے بھی یہ ہی کہیں گے کہ میں نے حق بات اسلئیے نہیں کہی کہ دس پرسنٹ لٹیروں کا نظام زندگی دھرم بھرم ہوجاتا انکی عیاشیاں ختم ہوجاتیں، دے سکیں گے آپ اللہ کے حضور یہ دلیل؟.

میں آپ کے آگے ہاتھہ جوڑ کے التجا کرتا ہوں کے آپ اور آپ جیسے تمام علماء اکرام مفتی حضرات جب سلمان تاثیر کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں، جب سنی حضرات شیعہ حضرات کے خلاف اور شیعہ حضرات سنی حضرات کے خلاف کفر کا فتویٰ دے سکتے ہیں، جب فرقے اور مسلک کے نام پر فتویٰ دے سکتے ہیں، جب فون پر سلام کے بجائے ہیلو کہنے پر فتویٰ دے سکتے ہیں، جب کسی اداکار یا کسی اداکارہ کے خلاف فتویٰ دے سکتے ہیں، تو پھر سولہہ کروڑ لوگوں کے جائز حقوق کے لئیے فتویٰ کیوں نہیں دیا جاسکتا ؟۔

مفتی صاحب بت بنے اسکی باتیں سنتے رہے اس اثناء میں وہ شخص جانے کے لئیے کھڑا ہوگیا اور بولا میرے ہر سوال کا جواب آپکی مجرمانہ خاموشی میں پنہاں ہے۔ بس اب آپ سے اور آپکی علماء برادری سے آخری بات یہ ہی کہوں گا کہ اب بھی اگر آپ لوگوں نے سولہہ کروڑ عوام کے اس مسلے پر مسجد کے منبر سے آواز حق بلند نہ کی تو ثابت ہوجائے گا کے آپ اور آپکی پوری علماء برادری بھی سولہہ کروڑ عوام کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں آپ بھی ان ہی دس پرسنٹ لٹیروں میں شامل ہیں، آپکو اور آپکی علماء برادری کو بھی سولہہ کروڑ عوام کے اس اہم اور بنیادی مسلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر برابر کا حصہ مل رہا ہے۔

یاد رکھئیے گا میری بات جس دن بھی عوام کے اندر پکا ہوا یہ لاوا پھٹا اس روز ان دس پرسنٹ مراعت یافتہ لوگوں کے ساتھہ ساتھہ عوام آپکی بھی پگڑیاں نہیں، سر اچھالے گی۔ اس سے پہلے کہ مفتی صاحب مزید کچھہ کہتے وہ شخص کمرے سے جاچکا تھا۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

38 Responses to مجرمانہ خاموشی

  1. منیر عباسی نے کہا:

    کیا آپ کے ممدوح مفتی صاحب ملک میں موبائل سم مفت فروخت ہونے اور روٹی کے سات روپے پر بکنے کے ذمہ دار ہیں؟

    کیا محض فتوی دینے سے روٹی سستی ہو جائے گی اور گندم پیسنے والی ملوں کے مالکان کے دلوں میں خوف خدا پیدا ہو جائے گا؟ کیا محض فتوی دینے سے ایک عزت دار گھرانے کی لڑکیاں عصمت فروشی بند کر دیں گی؟ کیا ایک فتوی دینے سے لوگ ان کی عصمت خریدنا بند کر دیں گے؟ کیا ایک فتوی سے اس ملک میں جاری لوٹ مار ختم ہو جائے گی؟

    کیا ایک فتوی دینے سے موبائل چھیننا بند ہو جائے گا؟ کیا ایک فتوی دینے سے ۔۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی آجر اپنے اجیروں کو پورا معاوضہ نہیں دیتا تو اس میں مفتی کا کیا قصور؟ اگر کوئی ملاوٹ کرتا ہے تو مفتی کی طرف انگلی اٹھانے کی کیا ضرورت؟ اس ملک میں تو بس ایک کھیل ہی بن گیا ہے۔ مفتیوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔ جس کو کچھ اور نہ ملا حسب معمول اٹھا اور دین کے علما پر سنگ زنی شروع کر دی۔

    میرے حساب سے آپ نے روشن خیال بننے کی ایک ناکام کوشش کی ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      منیر عباسی صاحب، آپ اگر غیر جانبدار پاکستانی بن کر پوسٹ پڑھتے تو شاید آپ کو بات کے مغز تک پہنچھنے میں آسانی ہوتی۔ ممتاز قادری کے جذبات کس کی بات سن کر بھڑکے تھے ؟ یہ جو لوگ خود کش حملے میں اپنی جان تک دینے کے لئیے تیار ہوجاتے ہیں یہ کس کی باتوں کا اثر ھوتا ھے ؟ میرے بھائی ہمارے علماء حضرات کی باتوں کو لوگ سنتے ہیں اہمیت دیتے ہیں، آج بھی جس معاملے پر فتویٰ آجاتا ہے اس معاملے پر لوگوں کی اکثریت دم صاد لیتی ہے اور سوچنے پر مجبور ہوجاتی ھے، نائب رسول ایسے ہی نہیں کہا جاتا علماء کو، انکی ایک آواز پر لوگ لاکھوں کروڑوں کے روپے کے ڈھیر لگا دیتے ہیں کچھہ سمجھتے ہیں مانتے ہیں تب ہی تو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں پیروی کرتے ہیں نہ لوگ انکی۔ میرا یا آپ کا کہا ہوا یا کسی بد کردار سیاستدان کا کہا ہوا لوگوں پر اتنا اثر نہیں کرتا جتنا کے ان علماء حضرات کے قلم سے نکلا ہوا فتویٰ اثر رکھتا ھے، دینا جانتی ہے ہم جذباتی قوم ہیں صرف جذبات کی زبان ہی سمجھتے ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو وہ ان علماء حضرات کے فتووں سے خوف کھاتئ ہے۔ آپ اپنی مثال ہی لے لئجیئے میری کہی ہوئی یہ باتیں آج آپکو روشن خیالی لگ رہی ہیں، لیکن اگر کل یہ ہی سب باتیں آپ کے مسلک کے علماء کہہ دیں (جو کہ کہنی چاہییں یہ عین اسلامی فریضے میں شامل ہے انکے) اور عوام کے اور دین کے مفاد میں مصلحت سے نکل کر حق کا ساتھہ دیتے ہوئے فتویٰ صادر کر دیں تو آپ کے اندر بھی ایک آگ لگ جائے گی پھر آپکی سمجھہ میں بھی معاملات آنے لگیں گے آپ بھی اس نظام کے خلاف عملی جدوجہد میں لگ جائیں گے۔ یہ وقت مصلحتوں کا نہیں ہے یہ وقت لوگوں میں ایسی ہی آگ بھرنے کا ہے تاکے جلد سے جلد اس نظام کو بدلا جاسکے جس میں یہ سب کچھہ ھو رہا ہے جنکی طرف پوسٹ میں توجہ دلائی گئی ہے۔ اور میں نے صرف فتویٰ ہی دینے کے لئئیے نہیں کہا ہے میں نے ایسے علماء حضرات سے ہاتھہ جوڑ کر التجاء کی ہے کو وہ عملی اقدام بھی کریں اور حکومت وقت کو صرف اپنے مفادات پر بلیک میل کرنے کے بجائے عوام کے اصل ایشوز پر بلیک میل کریں، اور اگر حکومت نظام نہیں بدلتی تو پھر لوگوں کے ساتھہ مل کر احتساب کریں اس دس پرسنٹ مراعت یافتہ طبقے کا۔ اگر وہ علماء حضرات وہ مفتی حضرات جن کے پیچھے لوگ لاکھوں اور کروڑوں کے تعداد میں چلتے ہیں وہ اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر اس بات میں کسی زی شعور انسان کے لئیے کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کے یہ سب علماء اکرام بھی اس ہی دس پرسنٹ مراعت یافتہ طبقے کا حصہ ہیں اور یہ سب بھی ہماری بربادی میں برابر کے شریک ہیں۔

      • منیر عباسی نے کہا:

        گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہ برداشت کر پانے کو آپ جذبات کے بھڑکنے کا نام دے رہے ہیں۔ کاشف یحیی صاحب۔ گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین برداشت کر جانا چاہئے۔ اور جذبات قابو کر لینے چاہئیں؟

      • fikrepakistan نے کہا:

        منیر بھائی آپ بات کا رخ بلکل ہی غلط سمت موڑ رہے ہیں۔

      • منیر عباسی نے کہا:

        جی نہیں، میں غلط سمت نہیں موڑ رہا۔ میں آپ ہی کے تبصرے کی تائید کررہا ہوں، جو کچھ آپ نے کہا وہ درست لگ رہا ہے تو اس کی رُو سے یہی کہنا چاہئے نا کہ ممتاز قادری سلمان تاثیر کے قتل کا فیصلہ ہر گز نہ کرتا اگر وہ حنیف قادری کی تقریر نہ سنتا۔ اس کا مطلب ہے کہ حنیف قادری نے صرف توہین رسالت کی اہمیت اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا کو اجاگر کیا تھا۔ اگر آپ میری بات پر اعتراض کر رہے ہیں تو اس کا صرف ایک مطلب نکلتا ہے کہ آپ کو بھی توہین رسالت کے قانون پر اعتراض ہے۔ کیونکہ یہ علما ہی تھے جنھوں نے شاتم رسول کی سزا پر روشنی ڈالی۔ ورنہ ہماری حکومت تو اس شاتمہ کو مغربی حکومتوں کے حوالے کرنے والی تھی۔ اگر یہ بات نہیں تو میں آپ کی اس بات کا کیا مطلب لوں جس میں آپ نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ ممتاز قادری کے جذبات کس کی بات سن کر بھڑکے تھے؟ اس بات کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس سوال کی وضاحت کریں گے؟ کیا ممتاز قادری نے غلط کیا؟ کیا آپ کو اگر کہا جائے کہ شاتم رسول کی سزا موت ہے اور نبی اکرم صلی اللہ ولیہ وسلم کے حکم سے ثابت ہے تو بھی آپ ایک شاتم کو قتل کرنے سے انکار کرو گے، کاشف یحیی صاحب؟

        آپ کا تبصرہ:
        نیر عباسی صاحب، آپ اگر غیر جانبدار پاکستانی بن کر پوسٹ پڑھتے تو شاید آپ کو بات کے مغز تک پہنچھنے میں آسانی ہوتی۔ ممتاز قادری کے جذبات کس کی بات سن کر بھڑکے تھے ؟ یہ جو لوگ خود کش حملے میں اپنی جان تک دینے کے لئیے تیار ہوجاتے ہیں یہ کس کی باتوں کا اثر ھوتا ھے ؟ میرے بھائی ہمارے علماء حضرات کی باتوں کو لوگ سنتے ہیں اہمیت دیتے ہیں، آج بھی جس معاملے پر فتویٰ آجاتا ہے اس معاملے پر لوگوں کی اکثریت دم صاد لیتی ہے اور سوچنے پر مجبور ہوجاتی ھے، نائب رسول ایسے ہی نہیں کہا جاتا علماء کو، انکی ایک آواز پر لوگ لاکھوں کروڑوں کے روپے کے ڈھیر لگا دیتے ہیں کچھہ سمجھتے ہیں مانتے ہیں تب ہی تو لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں پیروی کرتے ہیں نہ لوگ انکی۔ میرا یا آپ کا کہا ہوا یا کسی بد کردار سیاستدان کا کہا ہوا لوگوں پر اتنا اثر نہیں کرتا جتنا کے ان علماء حضرات کے قلم سے نکلا ہوا فتویٰ اثر رکھتا ھے، دینا جانتی ہے ہم جذباتی قوم ہیں صرف جذبات کی زبان ہی سمجھتے ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ کوئی بھی حکومت ہو وہ ان علماء حضرات کے فتووں سے خوف کھاتئ ہے۔ آپ اپنی مثال ہی لے لئجیئے میری کہی ہوئی یہ باتیں آج آپکو روشن خیالی لگ رہی ہیں، لیکن اگر کل یہ ہی سب باتیں آپ کے مسلک کے علماء کہہ دیں (جو کہ کہنی چاہییں یہ عین اسلامی فریضے میں شامل ہے انکے) اور عوام کے اور دین کے مفاد میں مصلحت سے نکل کر حق کا ساتھہ دیتے ہوئے فتویٰ صادر کر دیں تو آپ کے اندر بھی ایک آگ لگ جائے گی پھر آپکی سمجھہ میں بھی معاملات آنے لگیں گے آپ بھی اس نظام کے خلاف عملی جدوجہد میں لگ جائیں گے۔ یہ وقت مصلحتوں کا نہیں ہے یہ وقت لوگوں میں ایسی ہی آگ بھرنے کا ہے تاکے جلد سے جلد اس نظام کو بدلا جاسکے جس میں یہ سب کچھہ ھو رہا ہے جنکی طرف پوسٹ میں توجہ دلائی گئی ہے۔ اور میں نے صرف فتویٰ ہی دینے کے لئئیے نہیں کہا ہے میں نے ایسے علماء حضرات سے ہاتھہ جوڑ کر التجاء کی ہے کو وہ عملی اقدام بھی کریں اور حکومت وقت کو صرف اپنے مفادات پر بلیک میل کرنے کے بجائے عوام کے اصل ایشوز پر بلیک میل کریں، اور اگر حکومت نظام نہیں بدلتی تو پھر لوگوں کے ساتھہ مل کر احتساب کریں اس دس پرسنٹ مراعت یافتہ طبقے کا۔ اگر وہ علماء حضرات وہ مفتی حضرات جن کے پیچھے لوگ لاکھوں اور کروڑوں کے تعداد میں چلتے ہیں وہ اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر اس بات میں کسی زی شعور انسان کے لئیے کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کے یہ سب علماء اکرام بھی اس ہی دس پرسنٹ مراعت یافتہ طبقے کا حصہ ہیں اور یہ سب بھی ہماری بربادی میں برابر کے شریک ہیں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        میں نے ایک علامتی بات کی تھی کہ علماء کی باتوں کا لوگوں پر اثر ھوتا ھے جسکی مثال ممتاز قادری ھے،تو اس میں توہین رسالت کے قانون کی مخالفت کا پہلو کہاں سے نظر آگیا آپکو؟

  2. عمران اقبال نے کہا:

    کیا لکھوں، کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔ بہترین ترجمانی ہے آج کل کے معاشی حالات کی۔۔۔ لیکن افسوس ہو رہا ہے۔۔۔ کچھ لکھنے کو سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عمران بھائی، جس کیفیت کا آپ شکار ہورہے ہیں اس کیفیت کا شکار ہر وہ پاکستانی ہے جو پاکستان کے علماء حضرات سے اندھی عقیدت رکھتا ہے، میں عقیدت کا دل سے قائل ہوں مگر اندھی عقیدت کا نہیں، میں نہیں سمجھتا کہ آج کے علماء اکرام اتنے نابلد ہوں کے انہیں اپنے اس فتوے اپنی اس طاقت کا ٹھیک سے ادراک نہ ہو، آج ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین یہ ہی بات کسی اور انداز سے کہہ رہے ہیں تو ہم اسے دیوانے کی بڑ سمجھہ کر ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال رہے ہیں، لیکن اگر کل یہ ہی بات تمام علماء اکرام متفقہ طور پر فتویٰ صادر کرتے ہوئے کہہ دیں گے تو ہمارے سارے ابہام دور ہوجائیں گے اس وقت عمران اقبال کا ہاتھہ نہیں کانپے گا یہ سب لکھتے ہوئے، ہم سب شخصیت پرستی کا شکار ہیں اور شخصیت پرستی بت پرستی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ھے کہ بت نقصان نہیں پہنچاتے مگر شخصیتیں نقصان پہنچاتی ہیں اور پہنچا رہی ہیں، اپنے منصب کے مغز سے دانستہ چشم پوشی کر کے، اب یہ ہر پاکستانی کا فرض بنتا ہے کہ وہ شخصیت پرستی سے باہر نکل کر علماء حضرات کی اس دانستہ چشم پوشی کا جائزہ لے کہ انکی اس دانستہ چشم پوشی کا فائدہ کسے جارہا ہے، دس پرسنٹ مراعت یافتہ طبقے کو؟ خود علماء اکرام کو؟ یا نوے فیصد دبی کچلی عوام کو؟۔ میانہ روی کا حکم ہے مگر کچھہ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں فوری اور برق رفتار عمل کی ضرورت ہوتی ہے، اگر اللہ نہ کرے آپ کے گھر میں آگ لگ جائے اور اپ کے ماں، باپ، بہن بھائی بیوی بچوں کے زندگی خطرے میں پڑ جائے تو اس وقت میانہ روی کے بجائے آپکو برق رفتاری دکھانی ھوگی آگ بجھانے کے لیئے، اس وقت پورے پاکستان میں آگ لگی ہوئی ہے اس نظام کی وجہ سے ہی لوگ گناہ کبیرہ تک کرنے پر مجبور ہیں میرے بھائی اس نظام کی وجہ سے لوگوں کے جنت انکے ہاتھوں سے جارہی ھے، اور کونسا وقت آئے گا جب یہ علماء اکرام مصلحت سے باہر آکر مفادات سے باہر آکر عوام کی دنیا میں ہی جہنم بنتی جارہی زندگی کو بچانے کے لئیے کوئی عملی اور ٹھوس اقدامات کریں گے۔ آپکو نہیں لگتا کو وہ وقت آچکا ہے ؟ امید ہے آپ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس مسلے پر لب کشائی ضرور کریں گے، اور میری تو یہ بھی التماس ہے آپ سے بلاگر حضرات سے کہ میری یہ پوسٹ لے کر جائیں ان علماء حضرات کے پاس جنہیں بھی آپ فالو کرتے ہیں اور انکے سامنے یہ رکھہ کر جواب طلب کریں ان سے کہ جو کچھہ اس پوسٹ میں کہا گیا ھے کیا یہ سب زمہ داری علماء اکرام کی نہیں بنتی اگر انکی بھی زمہ داری نہیں بنتی تو پھر تو کسی کی بھی زمہ داری نہیں بنتی پھر تو اس ملک کو امریکہ یا اسرائیل کے حوالے کر دینا چاہیئے۔

  3. شخصیت پسندی تو خاصہ ہے انا پرست اور خود پسند لوگوں کا ۔۔۔۔ کہ جس نے نہ جانے کتنے گھروں کو تاریک کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پوسٹ میں جو مسائل لکھے ہیں ان سے شاید ہی کوئی انکا کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مگر علماء کرام کا تقابل کسی ایسی شخصیت سے کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ سے بالاتر ہے

  4. وقاراعظم نے کہا:

    یہ جہالت کا ایک اور طویل و عریض شاہکار کدھر سے چھاپا ہے بھئی۔ تم منافقین کو بھی کسی حالت میں چین نہیں ہے۔ اگر علماء دین کی باتوں پر اتنا ہی یقین ہوتا تو اپنے دنیاوی معاملات میں جھوٹ بولنے سے باز رہتے، اپنے گلی محلوں میں کمزورں کا حق مارنے سے ڈرتے، مظلوم پر ظلم ہوتے دیکھ کر خاموشی سے گھر کی راہ نہیں لیتے بلکہ ظالم کا ہاتھ روکتے۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے رشوت ستانی کا بازار نہیں گرم کرتے بلکہ جائز طریقے سے کام کروانے کی سر توڑ کوشش کرتے۔ مخالفین کے بغض و حسد میں پاگل ہوکر الٹے سیدھے الزام لگانے سے خوف زدہ ہوتے کہ یوم حشر میں میرا گریبان اس کے ہاتھوں میں ہوگا۔ قوم پرستی اور ذات برادری کو فروغ دینے والوں کا ساتھ کبھی نہ دیتے کہ حدیث کے مطابق قوم پرستی اور نسلی امتیاز پھیلانے والا مومن نہیں۔ آپس کے معاملات بھی قال اللہ و قال رسول کی روشنی میں طے کرتے۔ تمہارے گلی کوچوں میں فحاشی کے اڈے نہ چل رہے ہوتے، ووٹ جو کہ ایک شہادت ہے کا استعمال کرتے وقت ہر طرح کی نسلی منافرت سے بالا تر ہوکرمیرٹ کی بنیاد پر ووٹ دیتے کہ میں جس کو ووٹ دے رہا ہوں وہ یقینا اس کا اہل ہے اور وہ اپنے اس منسب کو اللہ اور اس کے روسول کے بتائے ہوئے حدود کے اندر رہتے ہوئے لوگوں کی فلاح کے لیے استعمال کریگا۔ لیکن نہیں یہ منافقین سب کچھ کرتے رہیں اور الزام علماء کرام پر کہ یہ فتوی نہیں دیتے۔

    امام ابو حنیفہ کے زمانے میں زید بن علی نے بنو امیہ کے خلاف خروج کیا، زید بن علی حضرت امام حسین کے پوتے اور امام باقر کے بھائی ہیں، شیعوں کا فرقہ زیدیہ اپنے آپ کو انہی کی طرف منسوب کرتا ہے۔ اپنے وقت کے بڑے جلیل القدر عالم، فقیہ، متقی و صالح بزرگ تھے۔ کسی گواہی کے سلسلے میں انہیں کوفہ طلب کیا گیا۔ اہل کوفہ نے انہیں یقین دلایا کہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ آپ کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ 15 ہزار لوگوں نے باقاعدہ بیعت کرلی لیکن عین وقت پر یہ جم غفیر ساتھ چھوڑ گیا اور تصادم کے وقت صرف 218 جانثار ساتھ تھے۔ وہیں آپ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ امام ابوحنیفہ نے زید بن علی کی بھرپور مالی مدد کی اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کی تلقین بھی کی اور ان کے اس خروج کو غزوہ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خروج سے تشبیہ دی لیکن جب زید کا پیغام آیا کہ آپ میرا ساتھ دیں تو انھوں نے کہا کہ اگر مجھے یقین ہوتا کہ لوگ آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے اور سچے دل سے آپ کی حمایت میں کھڑے ہونگے تو میں ضرور آپ کے ساتھ جہاد کرتا کیونکہ آپ امام حق ہیں لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اسی طرح آپ سے بے وفائی کریں گے جس طرح آپ کے دادا سے کرچکے ہیں۔

    کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ممتاز قادری جیسے سرپھرے تو 218 یا 313 میں سے ہی ہوتے ہیں باقی لاکھوں کے مجمع میں زیادہ تر تجھ جیسے منافق ہوتے ہیں جو دین کو صرف نماز، روز ، زکوۃ کی حد تک محدود سمجھ کر اور کسی تبلیغی اجتماع میں شریک ہوکر یہ سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہوگیا۔ اور پھر عام زندگی میں اس کا کوئی نمونہ دیکھائی نہیں دیتا۔

    منافقت کی انتہا دیکھیں کہ اسے تکلیف ہے کہ علماء حکمرانوں کے خلاف فتوی نہیں دیتے۔ جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ان کے بارے میں اس کی پچھلی پوسٹ میں اس کا خبث باطن عیاں ہے سب پر اور میں اس کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کہتا ہوں کہ اگر علماء کوئی اس قسم کا فتوی دے دیں تو یہ سب سے پہلے بھونکے گا کہ یہ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کررہے ہیں اور مذہب فروش سمیت نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازے گا۔

    دل کی مراد آخر کار سامنے آہی گئی کہ یہ منافق نظام کو درست کرنے کی جدوجہد کرنے کے بجائے حدود اللہ کو ساقط کرنے کے فتوں کے چکر میں ہیں کہ پھر اسی مرعات یافتہ طبقے کی موجیں ہوسکیں۔

  5. جماعتئے تو ہے ہی بد معاش ہیں۔۔عمران خان تو ہے ہی پرانا پاپی
    ووٹ دو ن لیگ ، ایم کیو ایم ، پی پی پی ، اے این پی کو ،نعرہ مارو مشرف زندہ باد کا، بھٹو زندہ ہے جی زندہ ہے۔خریدو فروخت کرو روشن خیالی کا۔
    زرداری کھپے۔۔۔۔اپنی خوشی سے برطانیہ میں جدید سہولتوں میں زندگی گزارنے والے کو چندہ بھیجو،یعنی بھتہ جمع کرکے۔۔۔۔
    پسندیدہ شرابی کبابی بے نمازی سیاسی لیڈر کو کوئی ناپسند کردے تو اسے گالیاں۔
    الزام مفتی جی کو کہ مجرمانہ خاموشی ناقابل معافی ہے؟
    ہر جمعہ کی نماز پر دو نمبری مولوی بھی اصلاح زندگی کا خطبہ دے ہی دیتا ہے۔
    مولوی گالیاں بھی کھائے اور مجرم بھی ٹھہرے؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر بھائی تبصرے کا بہت بہت شکریہ، عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں ووٹوں سے کوئی تبدیلی آجائے گی یا ووٹوں کے زریعے کوئی انقلاب برپا ہوجائے گا تو یہ انتہائی احمقانہ سوچ ہے۔ جو لوگ بھٹو کے نام پر ووٹ دیتے ہیں وہ مرتے دم تک پی پی پی کو ہی ووٹ دیں گے، جو لوگ قوم پرستی کے نام پر ووٹ دیتے ہیں وہ قوم پرستوں کو ہی ووٹ دیں گے،تقریباَ سب ہی کو آزمایا جاچکا ہے۔ یہ قوم جذبات پرست ہے اور مذہبی جذباتیت گے آگے کسی سیاسی جماعت تک کو نہیں گردانتی، ایک اور بات واضع کرتا چلوں کے جماعت اسلامی ہو ، جے یو آئی ہو، جے یو پی ہو، یا اور کوئی بھی ایم ایم اے کی اتحادی جماعت ہو، یہ سب مذہبی جماعتیں ہرگز ہیں نہیں یہ صرف اور صرف مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے سیاسی لوگ ہی ہیں، سب کا اپنا اپنا طریقہ واردات ہے انکا طریقہ وادات مذہب کی آڑ لینا ھوتا ھے ورنہ یہ سب اندر سے ایک جیسے ہی ہیں جو کام سیاسی جماعتیں کرتی آئی ہیں وہ ہی سب کام یہ جماعتیں جنہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے یہ بھی وہ کام کرتے آئے ہیں، جماعت اسلامی کو بھی اقتدار ملا ھے ایم ایم اے کو بھی اقتدار ملا ہے مگر نتیجہ وہ ہی ھے جو کے کسی بھی سیاسی جماعت کی حکمرانی کی صورت میں نکلہ ہے، تباہی اور صرف تباہی۔ ان بے چاروں کو تو انکے اپنے گھر والے ووٹ نہیں دیتے یہ کیا ووٹوں سے انقلاب لائیں گے۔ میں نے علماء حق کی بات کی ہے جن کے پیچھے کروڑوں لوگ تن من دھن سے جان کی بازی لگانے کو تیار رہتے ہیں، یہ وہ علماء حق ہیں جن کی آج بھی عزت ہے معاشرے میں چاہے وہ کسی بھی فرقے سے ہوں مگر انکے عقیدت مند انکے منہ سے نکلی ہوئ ہر بات کو ایمان کا درجہ دیتے ہیں، میں نے ایسے علماء اکرام سے حق کی آواز بلند کرنے کا کہا ہے۔

  6. ABDULLAH نے کہا:

    آپ منیر عباسی سے مغز کے استعمال کا مطالبہ کر کے ذیادتی نہ کیا کریں نا!
    اب جو چیز کسی کے پاس ہو ہی نہ وہ اسے استعمال کیسے کرے گا؟؟؟
    🙂
    تحریر ہمیشہ کی طرح نشتر ہے،اس معاشرے کے ناسوروں کے لیئے ایسے نشتر بے انتہاء ضروری ہیں،
    میں بھی اس موقف سے اتفاق کرتا ہوں کہ،
    میرے ہر سوال کا جواب آپکی مجرمانہ خاموشی میں میں پنہاں ہے بس آپ سے اور آپکی علماء برادری سے آخری بات یہ ہی کہوں گا کہ اب بھی اگر آپ لوگوں نے سولہ کروڑ عوام کے اس مسلے پر مسجد کے منبر سے آواز حق بلند نہ کی تو ثابت ہوجائے گا کے آپ اور آپکی پوری علماء برادری بھی سولہ کروڑ عوام کی تباہی میں برابر کے شریک ہیں آپ بھی ان ہی دس پرسنٹ لٹیروں میں شامل ہیں، آپکو اور آپکی علماء برادری کو بھی سولہ کروڑ عوام کے اس اہم اور بنیادی مسلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر برابر کا حصہ مل رہا ہے۔

    یاد رکھئیے گا میری بات جس دن بھی عوام کے اندر پکا ہوا یہ لاوا پھٹا اس روز ان دس پرسنٹ مراعت یافتہ لوگوں کے ساتھہ ساتھہ عوام آپکی بھی پگڑیاں نہیں سر اچھالے گی!

  7. وقاراعظم نے کہا:

    ایک بارا سنگھا اور ایک عدد منافق، خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے _____ دو۔
    اور میرے تبصرے پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کرلی ہے بھئی؟ پھر وہی بات کروں کہ میرے پاس بھی ایک عدد بلاگ ہے اور وہ سیارے پر رجسٹر بھی ہے اور اس بلاگستان میں دوسرے بلاگز بھی ہیں۔ مختلف سوشل نیٹ ورکس بھی ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ میرے پاس اپنے تبصرے کا اسکرین شاٹ بھی ہے۔ کیا سمجھے۔۔۔۔۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      وقار صاحب، جاوید گوندل صاحب سے پچھلی پوسٹ میں طے ہوا تھا کے بد تمیزی کا جواب بد تمیزی سے نہیں دیا جائے، میں اس بات کا پاس کرتے ہوئے ہی آپکی کسی بات پر کوئی ری ایکٹ نہیں کر رہا، قارئین خود دیکھہ رہے ہیں کے کون بد تہذیبی کی ابتداء کرتا ھے اور کون جواباَ تہذیب کا مظاہرہ کر رہا ھے۔

  8. جعفر نے کہا:

    بھائی تو شاید تین فیصد کہا کرتے تھے
    آپ نے دس فیصد لکھا ہے
    کیا یہ اپ ڈیٹڈ ڈیٹا ہے؟

  9. خرم ابن شبیر نے کہا:

    اور ہم سب بھی تو مجرمانہ خاموشی میں برابر کے شریک ہیں

  10. از راہ کرم میرا اوپر والا تبصرہ حذف کر دیں اور میں اسمیں لکھے الفاظ واپس لیتا ہوں۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید بھائی آپکا وہ تبصرہ حذف کردیا گیا ھے، بہت خوشی ہوئی مجھے آپکی اس اخلاقی جرت پر، کاش اس اخلاقی جرت کا مظاہرہ ہم سب کر سکیں، اور بلاگ کو انا کا مسلہ بنانے کے بجائے سیکھنے سکھانے کا زریعہ سمجھیں۔

  11. فتوٰی تو موجود ہے۔ اور کسی ایک خاص مفتی کے فتوے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی جبکہ آئین پاکستان، دستور ریاست میں کندہ ہے۔ تحریر میں ریاست اور اس پہ حکومت کرنے والے اس کے ذمہ دار ہیں کہ ریاست کے شہریوں کے لئیے ایسے حالات پیدا نہ ہوں جو آپ نے بیان کئیے ہیں ۔

    اس بگاڑ اور غریبی اور عسرت کے پھیلاؤ کے ذمے دار وہ لوگ ہیں جو ترینسٹھ سالوں سے حکومت میں رہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے مناصب اور عہدوں کے تقاضے پورے نہیں کئیے اور اپنے فرائض سرے سے سر انجام ہی نہیں دئیے، اور اپنے فرائض کے برعکس ہر وہ کام کیا ہے جس سے نتیجہ فرائض کے برعکس آیا۔ قوم لٹتی رہی۔ عسرت بڑھتی رہی۔ اب یہ مسئلہ مفتیوں قاضیوں اور علماء کے کیا شاید کسی ایک خاص طبقے کے بس کا بھی نہیں رہا۔

    غریبی، ننگ، بھوک، افلاس اور اسطرح کے بارے دیگر مسائل کے حل کے لئیے پوری قوم کو یک آواز ہوکر سالہاسال نہائت دلجمعی اور محنت سے کام کرنا پڑیگا اور کئی دائیوں کے بعد جا کر ہم اپنے مسائل پہ قابو پاسکیں گے۔

    خالی خولی فتاویٰ اور فیصلے جن پہ عمل درآمد کے لئیے آپکے پاس میڈیم اور وسائل نہیں۔ طاقت اور اختیار نہیں۔ایسی صورت میں اسیے فتاوٰی اور فیصلوں سے مزید انتشار پھیلے گا اور فتنئہ فساد خلق خدا کا اندیشہ رہے گا۔

    پھر بھی جس خاموشی کی آپ بات کرتے ہیں اگر اس خاموشی کے توڑنے سے ۔ فرض کریں مفتی صاحب یا مفتیان کی طرف سے فتوٰی یا فتاوٰی آچکے۔ پھر کیا ہوگا؟ کیا صرف فتوٰی آنے سے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے؟۔ فتوٰی پہ عمل درآمد کے لئیے اللہ تعالٰی فرشتے نہیں بیجھے گا۔ یہاں بسنے والوں کو ہی اس کا کوئی علاج ڈھونڈنا پڑے گا۔ اگر یہ یوں ہی ہے تو آئین کی شکل میں فتوٰی تو موجود ہے ۔ پھر بسم اللہ کی جئیے ۔ اور شروع ہوجائیں۔ بتایں اگلا قدم کیا ہوگا؟۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید صاحب میں نے وارننگ کے لئیے فتویٰ دینے کے لئیے کہا ھے تمام مکاتب فکر کے علماء اکرام متفقہ فتویٰ دیں اور عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں عوام کے ساتھہ حکومتی اعوانوں میں گھس جائیں، پھر دیکھیں کیسے نہیں مانے گی گورنمنٹ، کوئت، سعودی عرب، اور دوسرے عرب ممالک نے اس ہی عوامی خوف سے احتیاطاَ ہی اپنی اپنی عوام کو اربوں ڈالر کے پیکجز دے دئیے ہیں، ظالم ہمیشہ بزدل ھوتا ھے اور ہمارے حکمرانوں سے زیادہ بھلا بزدل کون ھوسکتا ھے۔ صرف متفقہ دھمکی سے ہی کام ھوجائے گا مگر یہ دھمکی یہ فتویٰ خلوص نیت کے ساتھہ دیا جائے تو۔

  12. ABDULLAH نے کہا:

    میرایہ تبصرہ جو جاوید گوندل کی بات کا جواب تھا بھی مٹا دیں!

    • fikrepakistan نے کہا:

      عبداللہ بھائی آپکی خواہش کے مطابق آپکا تبصرہ بھی حذف کردیا گیا ھے، اور بہت خوشی ہوئی کہ آپ دونوں حضرات نے خود بھی اپنی اصلح کی اور میری بھی رہنمائی فرمائی میں مشکور ہوں اس جرت پہ آپ دونوں کا۔ اللہ ہم سب کو اس پر مستقل بنیادوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔

  13. پنگ بیک: دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے. پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔ « گیلی دھوپ

  14. UncleTom نے کہا:

    آپ نے مفتی صاحب سے فتوے کی درخواست کی ، آپ سے چند سوال ہیں
    ۱۔ مفتی عتیق الرحمان شہیدؒ کو کیوں شہید کیا گیا ؟؟
    ۲۔مفتی نظام الدین شامزیؒ کو کیوں شہید کیا گیا ؟
    ۳۔ مفتی یوسف لدھیانویؒ کو کیوں شہید کیا گیا ؟؟؟
    ۴۔ مفتی یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے خاص شاگرد مولانا سعید احمد جلالپوریؒ کو کیوں شہید کیا گیا ؟؟
    مفتی صاحب فتویٰ دے دیں گے ، انکو یہ بھی پتا ہو گا کہ فتویٰ دینے کا انجام میری موت ہے اور فتویٰ لینے والا بھی جانتا ہو گا کہ مفتی صاحب کا فتویٰ ایسے موقعہ پر کیا ہو گا ۔۔ پھر مجھے کوی فائدہ نظر نہیں آتا فتویٰ مانگنے میں ۔ مفتی صاحب نے تو فتویٰ اس بات پر بھی دیا ہو گا کہ چوری کرنا گناہ ہے اور ایسا کرنے والے کی سزا وہی ہے جو اسلام نے مقرر کی ۔ کون کر رہا ہے عمل مفتی صاحب کے اس فتوے پر یا کس نے شور مچا دیا کہ مفتی صاحب کے اس فتوے پر عمل ہو ۔۔؟؟؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      آپ کے ہر سوال کا جواب ویسے تو میری تحریر میں ہی ہے۔ یہ ہی تو عرض کیا ہے کے چوری کا فتویٰ تو دے دیا جاتا ہے بھوکی ننگی قوم کے خلاف مگر انکے جائز حق کے لئیے کسی کی آواز نہیں نکلتی۔ علماء حضرات کو چوری کے خلاف فتویٰ دیتے وقت یہ بھی دیکھنا چاہئیے کے کس معاشرے میں دے رہے ہیں فتویٰ یہاں لوگ بھوک سے مجبور ہوکر اپنے بچے بیچ رہے ہیں انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کر رہے ہیں، ایسے لوگ چوری نہیں کرینگے تو کیا کریں؟ جہاں چوری کرنا گناہ ہے وہیں حق بات کہنے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا بھی گناہ ہے جناب۔ پہلے حکومت کو اس بات پر پابند کریں کے اسلام کی روح کے عین مطابق گلے تک بھر کے بنیادی سہولیات دی جائیں اور پھر اگر کوئی چوری کا مرتکب ہو تب اس پر سزا کا اطلاق ہو۔

      • UncleTom نے کہا:

        تو اس میں قصور تو پھر مفتی صاحب کا نہ ہوا نہ اب آپ اپنے مضمون میں سے مفتی صاحب ہٹا کر پارلیمینٹرین صاحب کر دیں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        اگر یہ زمہ داری علماء اکرام کی نہیں ہے تو پھر آپ ہی تعین کر دیجئیے کے یہ فتوے دینا کیس کی زمہ داری ہے ؟ اسلام کے مطابق کم از کم تنخواہ دس گرام سونے کے برابر ہونی چاہئیے، اب اس بات کے لئیے فتویٰ ہم کسی عالم دین سے نہیں مانگیں گے تو کیا کسی ڈاکٹر، یا کسی انجینئیر سے مانگیں گے ؟

  15. UncleTom نے کہا:

    حضرت میں نے یہ نہیں کہا کہ فتوے دینا علماء کی ذمہ داری نہیں ، انہی کی ذمہ داری ہے جب کوی فتویٰ مانگے تو وہ فتویٰ دیں، لیکن ان کو نافظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ میرا نقطہ صرف اتنا تھا کہ حکومت نے اسلام کے دیگر احکام پہلے نافظ نہیں کیے تو اگر بالفرض کوی مفتی کسی قسم کا فتویٰ دے دے تو اس سے فتویٰ تو آجاے گا لیکن نافظ نہیں ہو گا ، نافظ ہونے کے لیے امریکہ سے اجازت کون لے گا ؟؟؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      جب آپ مانتے ہیں ان ہی کی زمہ داری ہے تو ایک احسان کر دیجئیے اس تحریر کا ایک پرنٹ آوٹ نکال کر لے جائیں کسی بھی عالم کے پاس جنہیں آپ مستند مانتے ہوں اور مانگ لیں اسکا جواب ان سے، اور جو بھی جواب آئے وہ یہاں نیٹ پر پوسٹ کی صورت میں شائع کر دیں اچھا ہے سب تک حق پہنچ جائے گا۔

      • UncleTom نے کہا:

        میرے خیال سے آپ میرا نقطہ نظر نہیں سمجھ سکے ، چلیں بالفرض یہ مان لیتے ہیں کہ مفتی صاحب نے فتویٰ دے دیا ، آپ کے پاس کیا زرایع ہیں کہ اسکو نافظ کروائیں گے ؟؟؟؟ میں یہ ہی کہہ رہا ہوں کہ اسلام کے دیگر احکامات بھی ہیں اور پاکستان میں انکے خلاف قوانین ہیں ، اور دیگر فتاویٰ آجائیں گے تو انسے کونسا انقلاب آجاے گا

    • fikrepakistan نے کہا:

      انکل ٹام صاحب فتویٰ دینا تو بہت ہی دور کی بات ہے، اگر یہ تمام علماء حضرات نیک نیتی سے ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوکر یہ اعلان کر دیں کے اگر حکومت نے ایک عام انسان کی تنخواہ کم از کم بیس ہزار روپے نہیں کی تو ہم فتویٰ بھی دیں گے اور ان لاکھوں لوگوں کے لے کر حکومتی اعوانوں میں بھی گھس جائیں گے، یہ دھمکی ہی کافی ہوگی جناب، لیکن پوری نیک نیتی اور خلوص کے ساتھہ ہو یہ تب نکلے گا اسکا مثبت نتیجہ۔ ابھی سعودیہ کی ہی مثال لے لیں کیسے سعودی حکومت نے تقریباَ ستر ارب ڈالر کا پیکچ اپنی عوام کے لئیے دے دیا فوراَ سے، یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا سعودی حکومت کو ؟ عوام کے احتجاج اور اپنی حکومت جانے کے خوف سے ہی کیوں آیا یہ خیال ؟ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیوں واپس لینا پڑا حکومت کو؟ کیوں کے اس پر احتجاج نیک نیتی سے کیا گیا تھا تمام مذہبی جماعتوں کی طرف سے۔ اصل معاملہ ہی انکی نیک نیتی کا ہے۔ نیک نیتی اور کیس معاملے کو زاتی مفاد میں استعمال کرے کے لئیے بلیک میلنگ کرنےمیں فرق کو سمجھہ لیں تو اصل معاملہ سمجھہ میں آجائے گا آپکی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s