قصوروار کون ہم یا یہود و ہنود؟


محبت میں جنگ ہوتی ہے لیکن جنگ میں محبت نہیں ہوتی، فیشن بنا لیا ہے ہم نے کہ جو بھی واقعہ ہو جو بھی حادثہ ہو جو بھی بربادی ہو، اس میں اپنی خامیوں کو ڈھونڈنے کے بجائے ہم سارا الزام یہود و ہنود امریکہ یورپ اسرائیل ملک دشمن عناصر اسلام دشمن عناصر پر ڈال دیتے ہیں، غرض یہ کے ہم پارسہ ہیں ہم معصوم ہیں یہ جو تمام تباہی اور بربادی پھیلی ہوئی ہے اس میں ہمارا اپنا کوئی قصور نہیں ہے۔

پہلے بی عرض کیا تھا کہ محبت میں جنگ ہوتی ہے لیکن جنگ میں محبت نہیں ہوتی، تو وہ تو اپنی دشمنی نبھا رہے ہیں اور وہ اپنی قوم اپنے وطن کے لئیے ٹھیک کررہے ہیں، مگر ہم اس کے جواب میں کیا کررہے ہیں؟۔ یہ سازشیں یہ دشمنیاں یہ کونسی نئی فلاسفی ہے یہ دشمنیاں یہ سازشیں تو اس پہلے روز سے ہی شروع ہوگئی تھیں جب اللہ تعالی نے حضور پاک صلی علیہ وسلم سے غار حرا میں پہلی بار کلام فرمایا تھا، یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے غور فرمائیں کیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی نے یہ دشمنیاں یہ سازشیں جھیلی ہیں ؟.

سازشوں کا رونا کمزور اور نااہل لوگ پیٹا کرتے ہیں جنکا کوئی ویژن نہیں ہوتا جن میں کوئی قابلیت نہیں ہوتی جن کے پاس عشروں کے پار دیکھنے کی بصارت نہیں ہوتی، کمزور کا غصہ جہالت سے شروع ہو کر ندامت پہ ختم ہوتا ہے۔

تصور تو کریں زرا اس معاشرے کی ابتری اور ذہنی پسماندگی کا عالم کے جہاں بت تو بت انسانی نازک اعضاء تک کی پرستش کی جاتی تھی، لڑکیاں زندہ ہی دفنادی جاتی تھیں، اشرافیہ غریب غربہ کے ساتھہ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرتی تھی، عورت کے معنیٰ ہی صرف جسم کے ہوا کرتے تھے، ایسے معاشرے میں ایک انسان آواز حق بلند کرتا ہے انتہائی محنت کے بعد صرف تیس لوگ جمع کرپاتا ہے اور یہ تیس لوگ مل کر توحید کا اعلان کرتے ہیں، اعلان حق کے بعد کونسے مظالم ہیں جو ان لوگوں پر نہیں توڑے گئے؟.

شعب ابی طالب ( مکہ کے قریب ایک پہاڑ کی گھاٹی کا نام ہے۔ جہاں ستمبر 615 میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خاندان بنو ہاشم کو پناہ لینا پڑی ) سے لے کر طائف کے پہاڑوں تک کون کون سی صعوبتیں تھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اٹھائیں، تین بد ترین سال مظالم سہتے ہوئے معاشی بائےکاٹ سہتے ہوئے گزارے، نوبت یہاں تک آجاتی کے بھوک مٹانے کے لئیے درختوں کے پتے اور جڑیں تک کھانی پڑتیں۔

اگر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان ہی سازشوں اور دشمنیوں کو سوچتے رہ جاتے تو کیا آج میں اور آپ مسلمان ہوتے ؟ ہر جنگ کی ایک حکمت عملی ہوتی ہے، کبھی آگے بڑھہ کے وار کرنا پڑتا ہے تو کہیں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی مصلحتاَ فرار بھی ہونا پڑ جاتا ہے۔

دانش سے فہم سے عقل سے فراست سے غور و فکر سے تدبر سے تفکر سے حکمت سے علم سے، ان سب ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہیں لڑائیاں، کہیں صلح حدیبیہ کرنی پڑتی ہے تو کہیں میثاق مدینہ کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کے ثمر ملتا ہے۔ ہمارے پاس نہ علم ہے نہ تدبر ہے نہ تفکر ہے سوال کرنے والے کو نافرمان قرار دے دیا جاتا ہے، اپنی کوتاہیوں کو اپنی ناہنجاریوں کو اپنی غداریوں کو اپنی عیاشیوں کو اپنے عیبوں، تسلیم کرنے کے بجائے دشمنوں کی سازشوں کا رونا روتے رہتے ہیں۔

جسے دیکھو اسے ہر معاملے میں امریکہ اسرائیل نظر آجاتا ہے، چلو مان لیا کے مسلمانوں کے بربادی کے پیچھے یہود و ہنود کا ہاتھہ ہے وہ ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں، تو ثابت ہوا کہ وہ ہم سے زیادہ عقلمند ہیں جب ہی تو وہ ہمارے خلاف، کامیاب سازشیں کرتے ہیں، ہم مسلمان کیوں نہیں کرلیتے ان کے خلاف سازشیں؟۔

معدنیات کے ذخائر تیل گیس سونے کے پہاڑ پیسہ یہ سب تو سب سے زیادہ مسلمانوں کے پاس ہے تو ہم کیوں نہیں خرید لیتے کسی یہود و ہنود کو؟ یہ غدار پیدا کرنے کا ٹھیکا صرف مسلمانوں نے ہی کیوں لیا ہوا ہے؟ وہ ہمارے مسلمانوں کو ہی خرید کر مسلمانوں پر ہی خود کش حملے کروا رہے ہیں، تو مسلمان کسی یہودی کو خرید کر اسرائیل میں خود کش حملہ کیوں نہیں کروالیتے؟۔ ایسے ایک نہیں سینکڑوں سوالات ہیں جو تشنہ ہیں۔

اب ان حقیقی مسائل پر غور کیجئیے جسکی وجہ سے آج مسلمان پوری دنیا میں زلیل و خوار ہیں اور افسوس کا مقام یہ کہ ہم آج بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ یہ سب ہمارے قصور ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ، فریب، ملاوٹ، غلاضت، رشوت، سود، زناکاری، شراب نوشی، عورت کا مقام ہمارے ہاں آج بھی دور جہالت سے کچھہ زیادہ مختلف نہیں ہے، قانون کی پاسداری نہ کرنا باقائدہ پہچان بن چکی ہے ہماری، کم تولنا، ناجائز منافع خوری، زخیرہ اندوزی، جان بچانے والی دوائیوں تک میں ملاوٹ، مذہب کی غلط تشریحات، مسلک پرستی، فرقہ بندی، مسجدوں پر قبضے، ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا، کام چوری، قتل غارت، چائلڈ لیبر، بچے اور بچیوں کے ساتھہ بدفعلی، جواء، حرام کاری، حقوق غصب کرنا، عدالتوں کا بکنا، پولیس کا مطلب باوردی ڈاکو ہونا، ملاوں کا دنیا کے لئیے دین کا بیچنا، حدیث کا مفہوم ہے کہ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ علماء میٹھی بات کریں گے ایسے جیسے ان کے منہ سے شہد ٹپک رہا ہو اور وہ دین سے دنیا کو کمائیں گے۔

اور ان سب مکروہات کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، ایسا ہوتا ہے اسلام کا قلعہ؟۔   اب کوئی بتائے کے ان سب باتوں میں یہود و ہنود کہاں سے آگئے؟ کیا یہ سب کرنے کے لئیے بھی ہمیں امریکہ یا اسرائیل کہتا ہے؟۔

اپنی سوچ اور اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہی ہوگی، رک کر سوچنا ہوگا کہ وہ کیا عوامل ہیں کہ ہم مسلمان ڈیڑھہ عرب ہوتے ہوئے بھی ایک کروڑ چالیس لاکھہ یہودیوں سے شکست کیوں کھا رہے ہیں؟ کیا ہمیں یہ بات سوچنے سے بھی یہود و ہنود روکتے ہیں؟۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

7 Responses to قصوروار کون ہم یا یہود و ہنود؟

  1. مختصر بات ہے جو ان دو ٹيات ميں مفصل طور پر موجود ہے مگر کسی کو سمجھنے کی فرصت تو ہو

    سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت ۔ 39 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
    اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

    سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ
    اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے

  2. Imran نے کہا:

    بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔۔۔

    تلخ حقیقت۔۔۔ کمزور ایمان۔۔۔ ان گنت گناہ۔۔۔ اسلام کے قلعہ کے باسیوں کا وطیرہ ہیں۔۔۔

    جو گناہ پاکستان میں ہو رہے ہیں۔۔۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نا ہوتی تو آج پاکستان میں سور اور بندر ہی نظر آ رہے ہوتے۔۔۔ کونسا ایسا گناہ ہے جو ہم نہیں کرتے۔۔۔ وہ گناہ جن کی وجہ سے اللہ نے پہلی امتوں پر کیسے کیسے عذاب نازل کیے۔۔۔

    نا سمجھیں گے تو مٹ جائیں گے۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عمران بھائی ہم ہارے ہوئے لوگ ہیں یہ کوئی مسلے والی بات نہیں ہے، اصل کربناک بات یہ ہے کے ہم اپنی ہار ماننے کے لئیے بھی تیار نہیں ہیں، اسلاف کے کارنامے گنوا کر خود کو برتر ثابت کرنے میں ہی لگے ہوئے ہیں آج تک۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ، تھے تو وہ تمہارے ہی اجداد مگر تئم کیا ہو؟ ہاتھہ پہ دھرے ہاتھہ منتظر فردا ہو۔ جب تک اپنی ہار تسلیم نہیں کریں گے اس وقت تک ہم اپنی کمی کجیاں کیسے دور کر پائیں گے؟۔

  3. ABDULLAH نے کہا:

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خاندان بنو ہاشم کو پناہ لینا پڑی ) سے لے کر طائف کے پہاڑوں تک کون کون سی صحبتیں تھیں

    ایک تو یہ کہ یہ لفظ صعوبتیں ہے
    دوسرے آپ کی پچھلی پوسٹ میں بھی ایک املے کی سہو ہے آپ نے آستیں کو آئستیں لکھا ہوا ہے

  4. ABDULLAH نے کہا:

    یہ بزرگوار جو دوسروں کو دو آیات کا مطلب سمجھاتے پھرتے ہیں انکا خود یہ حال ہے کہ جہاں حقائق پر بات کی پنجاب پنجابی کا رونا شروع کردیتے ہیں،اورمیرا یہ تبصرہ،

    یہ پنجابی پنجابی کرنا بند کریں،یہ ملک تین طرح کے لوگوں میں تقسیم ہے ایک وہ جوکھلم کھلا کرپٹ ہیں ایک وہ جو کرپٹ نہیں اور ایک وہ جو اپنے کرپشن کو اسلام کے پردے میں چھپائے رکھتے ہیں!
    اور جو کرپٹ نہیں ان میں کچھ نادان ہیں جو اسلام کے پردے میں چھپے کرپٹ لوگوں کی شکنجے میں جکڑے جاتے ہیں اور کچھ سمجھ دار ہیں جو ان سب سے اوپر اٹھ کر مسائل کو دیکھتے اورسمجھتے ہیں اور انہیں ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں!

    جو انکی بات کا جواب تھا نہیں چھاپا کہ کہیں وہ ذہر جو یہ قوم کو پلا رہے ہیں اس کی تیزی میں کمی نہ آجائے

  5. خرم ابن شبیر نے کہا:

    جب جھوڑ بولنا اور فراڈ کرنا عام ہو جائے تو ایسا ہی ہوتا ہے اپنا قصور کسی اور کے سر دے مارتے ہیں ہم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s