خدارا نظر ثانی، وہ بھی کم پڑے تو نظر ثالث!


کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محوغم دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کے خاموش رہوں؟۔

وہ میرے پاس آیا اور سر جھکا کر بیٹھہ گیا، میں نے تشویش ناک لہجے میں اس سے دریافت کیا سب خیریت تو ہے اتنے پریشان کیوں ہو؟ تو اس نے کہا، یہ سب مجھہ سے ناراض کیوں رہتے ہیں؟ میری سوچ،میری فکر،میرے خدشے،میرا احساس سب غلط ہیں؟ میں بھی تم سب کی طرح سوچوں تم سب کی طرح آنے والے کل سے غافل ہو کر گزاروں زندگی؟ میں نے غلاموں کی غلامی میں زندگی گزار دی، یہ سب کیا چاہتے ہیں میری اولاد اب ان غلاموں کی اولادوں کی غلامی میں گزار دے زندگی؟۔

اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ہے یعنی اللہ کے نزدیک میں فرشتوں،حوروں،جنوں،جانورں،حیوانوں،چرند،پرند غرض ہر مخلوق سے بہتر ہوں۔ جو باپ اپنی لائق اور فرمابردار اولاد کے لئیے چھاتی پھلا کر معاشرے سے کہتاہے یہ ہے میری اولاد جس نے میرا سر فخر سے بلند کردیا، اگر وہ ہی اولاد کچھہ ایسا کرگزرے جسکی وجہ سے باپ کا سر زمانے کے سامنے شرم سے جھک جائے تو کیا گزرے گی اس باپ کے دل پر؟۔

حضرت موسیٰ علیہ سلام نے اللہ سے دریافت کیا اے اللہ مجھے سمجھہ نہیں آیا تو نے چھپکلی کو کیوں بنایا ہے؟ جواب ملا، موسیٰ یہ ہی سوال چھپکلی ہم سے دن میں ہزاروں بار کرتی ہے کہ اللہ تو نے یہ انسان کیوں بنایا؟۔ کس فخر کے ساتھہ کس اعتماد کے ساتھہ اللہ نے ہمیں تمام مخلوقوں کا سردار بنایا ہوگا! مگر انسان نے کیا سلوک کیا اللہ کے اس فخر کے ساتھہ اللہ کے اس اعتماد کے ساتھہ، کیا ترغیب دی گئی تھی، اور کیا عمل کیا گیا، شیر جیسے خونخوار درندے اور حیوان کو سدھار کے سرکس میں اشاروں پہ نچوا دیا اور خود انسان حیوان بن گیا۔

مجھے ادراک ہوچکا ہے میں اس معاشرے کو نہیں بدل سکتا، ہاں مگر میں خود کو بدل سکتا ہوں جو گزر گیا اس پر رونے کے بجائے اپنی آنے والی نسلوں کو اس دلدل کا حصہ بننے سے روک سکتا ہوں۔ یہ معاشرہ ایک ایسا گندہ دریا ہوچکا ہے جسکی صفائی اب میرے اکیلے کی یا مجھہ جیسے اور چند لوگوں کے بس کی بات نہیں رہی۔ میں قبول کرتا ہوں ہم نہیں کرسکتے اس گندے دریا کی صفائی، ہاں مگر ایک کام ہے جو کیا جاسکتا ہے. دریا میں لاکھوں کی تعداد سے مختلف چھوٹی چھوٹی نہریں آکر گرتی ہیں اگر ہم دریا کی صفائی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ان چھوٹی چھوٹی نہروں کی صفائی کرنا شروع کردیں تو تبدیلی کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔ جب ان چھوٹی چھوٹی نہروں سے صاف پانی دریا میں گرنا شروع ہوگا تو پچاس سال بعد سو سال بعد یا شاید اس سے بھی زیادہ عرصے بعد ایک وقت آئے گا کے دریا صاف ہونا شروع ہوجائے گا گندہ پانی سمندروں میں گرتا رہے گا اور صاف پانی اپنی جگہ بناتا رہے گا ایسا کرنے سے انشاءاللہ وہ وقت ضرور آئےگا کہ جب ان چھوٹی چھوٹی نہروں کا صاف پانی پورے دریا میں اپنی جگہ بنا لے گا اور دریا شفاف پانی سے چمک اٹھیں گے اور اس عمل کی وجہ سے سمندر خود بہ خود صاف شفاف ہوجائیں گے۔

علامہ اقبال نے فرمایا تھا کے، تھے تو وہ تمہارے ہی آبا مگر تم کیا ہو؟ ہاتھہ پہ دھرے ہاتھہ منتظر فردا ہو۔ میں آج کے بعد اپنے اسلاف کی اچھائیاں نہیں گنواوں گا، میری ناپاک زبان اس قابل نہیں کے انکا زکر بھی کرسکے اسلاف کی اچھائیوں پر فخر کرنے سے کہیں بہتر ہے میں اپنے اس گھنوونے آج کی فکر کروں خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس قابل کرسکوں کہ کسی کے سامنے فخر سے کہہ سکوں کہ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہوں، میں خلفاء راشدین کی اولادوں میں سے ہوں، میں بزرگان دین کے پیروکاروں میں سے ہوں، میں حضرت قائداعظم کے پاکستان کا پاکستانی ہوں، میں علامہ اقبال کے شاہنوں میں سے ایک شاہین ہوں۔

میں پوری دنیا کے سامنے اپنی کوہتائیوں کی وجہ سے ہونے والی شکست قبول کرتا ہوں، میں قبول کرتا ہوں میرا سفر منزل کی مخالف سمت تھا مگر آج اللہ نے مجھے ایک نئی راہ دکھلائی ہے اب سے میں دریا کی صفائی کے بجائے ان چھوٹی چھوٹی نہروں کی صفائی کا کام شروع کروں گا جن نہروں کی وجہ سے دریا کا وجود بنتا ہے۔ میں اپنی آنے والی ان نسلوں کی بھلائی کے لئیے کام کروں گا انہیں اس دریا کی گندگی بننے سے روکنے کی ہر ممکن تدابیریں کروں گا، اپنی تمام عیاشیاں تمام فضول خرچیاں تمام بے مقصد کاروائیاں ختم کر کے اپنی پوری توانائی اپنی نسلوں کی بھلائی کےلئیے صرف کرونگا، اپنی نسلوں کو اپنے بچوں کو ایک نیا پاکستان دوں گا ایک نئی سوچ دوں گا، ایک ایسی سوچ جو اس روایاتی گلے سڑے نظام سے ہٹ کر ہوگی جو اس روایتی بدبودار کلچر سے بلکل مختلف ہوگی۔ مجھے فاقہ بھی کرنا پڑا تو کروں گا مگر اپنی اولاد کو تعلیم دونگا، تربیت دونگا انسانیت دونگا، راہ میں پڑے پتھروں کو درگزر کر کے منزل پر نظر رکھنے کا احساس دونگا، فرقوں سے پاک مسلکوں سے پاک دین اسلام دونگا، میں خود سے عہد کرتا ہوں میری اولاد نہ سنی ہوگی، نہ شیعہ ہوگی، نہ دیوبندی ہوگی، نہ بریلوی ہوگی، نہ اہل حدیث ہوگی، میری اولاد صرف مسلمان ہوگی، وہ پاسدار ہوگی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ہر فرمان کی، وہ پاسدار ہوگی آخری خطبے کی جس میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ، دیکھو میرے بعد آپس میں لڑنے نہ لگ جانا فرقوں میں نہ بٹ جانا، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر فوقیت نہیں، کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فوقیت نہیں۔

میں یہ بھی عہد کرتا ہوں میری اولاد نہ سندھی ہوگی، نہ پنجابی ہوگی، نہ بلوچ ہوگی، نہ پٹھان ہوگی، نہ مہاجر ہوگی، میری اولاد صرف پاکستانی ہوگی۔ میں اسکی کسی بات سے اختلاف نہ کرسکا بس چپ چاپ اسے سنتا رہا وہ پھر سے گویا ہوا جیسے کچھہ دیر سانس لینے کے لئیے رکا ہو۔

کبھی غور کیا ہے تم نے ان مغرب والوں پر یہ وہ جاہل اور پستی کے دلدل میں دھنسے ہوئے لوگ تھے جنہوں نے ایک دوسرے سے سو سو سال تک جنگیں لڑی ہیں انہیں نہ اپنے کل کا پتہ تھا نہ آج کا اور نا مستقبل کا، پھر اچانک ایسا کیا ہوا جسکی وجہ سے یہ لوگ ہم سے اتنا آگے نکل گئے کے اب ہم انکی دھول کو بھی چھونے سے قاصر ہیں۔ تعلیم تعلیم تعلیم، علم کا حصول کائنات کے اسرار و رموز جاننے کی فکر، شعور، محنت، برداشت، حب الوطنی، اسلام کا مطالعہ، قرآن کا مطالعہ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں معاشروں کی بنیاد رکھنا، یکجہتی، سچائی، ایمانداری، غرض جو کچھہ اسلام نے مسلمانوں کو کرنے کا حکم دیا وہ ان لوگوں نے اپنا لیا تو یہ کل کے جاہل آج ایک عظیم قوم بن گئے۔

ہمیں بھی اپنے دین کو فرداً فرداً ٹھیک سے سمجھنا ہوگا، بہت چھوڑ دیا ہم نے ملا پر دین، اب ہر شخص کو خود سمجھنا ہوگا دین کے مغز کو۔ نظر ثانی کرنی ہوگی اسلام کی ان تشریحات پر جو آج تک ہمیں بتائی گئی ہیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کے، مومن اپنے عصر (دور) سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ آج کتنے مومن اور مسلمان اس موجودہ عصر سے ہم آہنگ ہیں؟ فرد تو دور پوری مسلمہ امہ میں سے ایک بھی ملک موجودہ عصر سے ہم آہنگ نہیں ہے، جو بنیادی وجہ ہے آج مسلم امہ کی بربادی کی، جو چاہتا ہے کچل کر چلا جاتا ہے کبھی افغانستان کو، کبھی عراق کو، کبھی فلسطین کو، کبھی لیبیاء کو، یہ ہی حال رہا تو وہ وقت دور نظر نہیں آرہا جب ایک ایک کر کے ان اٹھاون مسلم ممالک پر کفار کا قبصہ ہوگا۔ جذباتیت کے کھوکھلے نعروں سے نکلنا ہوگا مسلم امہ کے ہر مسلے کا حل صرف اور صرف تعلیم کے حصول میں ہے ٹیکنالوجی کے حصول میں ہے۔

اب مجھے اجازت دو مجھے اپنے بچے کے ایڈمیشن کے لئیے جانا ہے یہ کہہ وہ جانے لگا، میں نے پوچھا کہاں؟ اسکول میں داخلہ کروا رہے ہو یا کسی مدرسے میں؟ اس نے ایک تحقیر آمیز نگاہ مجھہ پر ڈالی اور بغیر جواب دیئے خاموشی سے چلا گیا، مگر مجھے ایسا لگا کے جیسے اسکی یہ خاموشی مجھہ سے کہہ رہی ہے تم جیسی زنگ آلود زہنیت کے حامل شخص کے ساتھہ میں نے یہ سب شئیر کر کے اپنا وقت برباد کیا۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

6 Responses to خدارا نظر ثانی، وہ بھی کم پڑے تو نظر ثالث!

  1. ABDULLAH نے کہا:

    ہاں واقعی، کبھی کبھی ایسا ہی لگتا ہے کہ وقت ہی برباد کیا!
    😦

  2. میں یہ بھی عہد کرتا ہوں میری اولاد نہ سندھی ہوگی، نہ پنجابی ہوگی، نہ بلوچ ہوگی، نہ پٹھان ہوگی، نہ مہاجر ہوگی، میری اولاد صرف پاکستانی ہوگی۔ میں اسکی کسی بات سے اختلاف نہ کرسکا بس چپ چاپ اسے سنتا رہا وہ پھر سے گویا ہوا جیسے کچھہ دیر سانس لینے کے لئیے رکا ہو

    عہد ہے۔ انشاءاللہ ہمارا بھی عہد ہے۔

  3. fikrepakistan نے کہا:

    جاوید بھائی بہت ہی اچھی بات ہے، کاش ہر پاکستانی یہ عہد کرلے تو میرا کامل ایمان ہے اس بات پر کے پھر دنیا میں ہم سے بہتر کوئی قوم کوئی ملک نہیں ہو سکے گا انشاءاللہ۔

  4. fikrepakistan نے کہا:

    عبداللہ بھائی ، وقت اچھا بھی آئے گا ناصر۔ غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی۔

  5. Aniqa Naz نے کہا:

    میں تو نظر ثانی اور نظر ثالث سے پہلے نظر چیک کروانا چاہتی ہوں۔ کچھ باقی ہوگا تو سوچیں گے کیا کرنا ہے۔

  6. fikrepakistan نے کہا:

    آپ جیسی چند امیدیں ہی تو ہیں جن کے پاس آج بھی کچھہ بچا ہوا ہے جس سے مجھہ جیسے کم علم فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s