دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے. پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔


دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔

مورخہ چھہ مارچ دوہزار گیارہ کو میں نے اپنے بلاگ پر مجرمانہ خاموشی کے نام سے ایک پوسٹ لکھی۔ https://fikrepakistan.wordpress.com/2011/03/06/مجرمانہ-خاموشی.  اس پوسٹ کا طعلق پاکستان میں بسنے والے اس اکثریتی طبقے سے تھا جو کہ سالوں سے ایک ہی حال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

میرے حلقہ احباب میں اس تحریر کو بہت زیادہ سراہا گیا میرے تمام دوستوں نے میری یہ پوسٹ اپنے اپنے فیس بک اکاونٹ پر بھی شئیر کی، ای میل کی صورت میں بھی سینکڑوں لوگوں تک پہنچائی گئی، پرنٹ آوٹ نکال کر دست بہ دست بھی بانٹی گئی۔ کچھہ دوستوں نے اس پوسٹ کو ہینڈ بل کی صورت میں چھپنے کے لئیے بھی دے دیا ہے جیسے ہی ہینڈ بلز چھپ کر آئیں گے تو میرے وہ احباب مختلف مساجد کے باہر جمعہ کی نماز کے بعد اسے لوگوں میں تقسیم کریں گے.

انکا کہنا ہے کے یہ بلکل حق بات ہے اور آج کے دبے کچلے ہر پاکستانی کی آواز ہے اسلئیے اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہئیے۔ میرے احباب میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں کافی لوگوں نے وہ پوسٹ اپنے اپنے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے ولے علماء حضرات و مفتی حضرات کی خدمت میں بھی پیش کی، جسکا نتیجہ یہ نکلا جامعہ بنوریہ ٹاون کے کچھہ علماء حضرات نے وہ پوسٹ میڈیا کو ارسال کردی.

تئیس مارچ کو جیو ٹی وی، دنیا ٹی وی، اور اے آر واے نیوز پر اس کے متن پر بات کی گئی کہ لوگوں کو حکمرانوں نے کس نہج پر پہنچا دیا ہے کے آج لوگ مفتی حضرات سے اسطرح کے فتوے مانگنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ گذشتہ روز یعنی پچس مارچ کے قومی اخبار نے اچھی خاصی ہیڈنگ کے ساتھہ یہ خبر شائع کی ہے۔

میں جانتا ہوں اس سے کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں آجائے گی مگر میرے قلبی سکون کے لئیے اتنا بھی کافی ہے کے لوگوں میں شخصیت پرستی سے نکل کر سوال کرنے کی جرت تو پیدا ہوئی، میرے لئیے یہ ہی میری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہاں یہ سب لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کے بلاگنگ بہت مثبت زریعہ بن چکا ہے اپنے جذبات دوسروں تک پہنچانے کا، ہمیں بجائے آپس میں لڑنے جھگڑنے کے ان بلاگز کا مثبت اور رزلٹ اورنینٹڈ استعمال کرنا چاہئیے، میرا ایمان ہے کے خلوص نیت سے کی ہوئی محنت کبھی بھی ضائع نہیں جاتی۔

جن لوگوں نے بھی میری پوسٹ کو پسند کیا میں ان سب کا شکر گزار ہوں، اور جن لوگوں نے تنقید کی انکا بھی، کے انکی تنقید سے بھی مجھے زمانے کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ اللہ ہم سب کو حق اور باطل کی صحیح معنوں میں پہچان عطا فرمائیں آمین۔

Advertisements
This entry was posted in طرزعمل. Bookmark the permalink.

10 Responses to دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے. پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔

  1. Aniqa Naz نے کہا:

    آپکی یہ بات بالکل صحیح ہے۔ اگر ٹی وی اور اخبارات پڑھتے رہیں تواندازہ ہوتا ہے کہ میڈیا کی دلچسپی بلاگز میں خاصی زیادہ ہے۔ یہ الگ بات کہ وہ بلاگرز کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔
    مثلاًہمارے بلاگستان میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت ایک انتہائ فضول مشق میں خاصی گرمجوشی سے حصہ لیتی ہے اور وہ ہے لوگوں کے نام رکھنا۔ ابھی ایک مہینہ پلے ایکسپریس میں لوگوں کی چھیڑِں رکھنے کے پیچھے کام کرنے والی سائیکلوجی اور اسکے سد باب پہ ایک لمبا چوڑا مضمون چھپا۔
    اسی طرح، میں نے بلاگنگ اور خواتین پہ ایک پوسٹ لکھی تضی۔ ایکپریس میں ہی اس موضوع پہ اب تک دو فل پیج مضامین آ چکے ہیں۔ میں بلوچستان پہ لکھ رہی ہوں اور ہمارے دونوں اخبارات میں بلوچستان پہ دو مضامین آئے۔
    خیر اسکی ایک نہیں درجنوں مثالیں ہیں۔ وہ لوگ جو میڈیا اور بلاگز کو ذہن میں رکھیں، اس چیز کو فورا محسوس کر لیتے ہیں۔ میڈیا کو موضوعات کی تلاش رہتی ہے اور وہ ہر اس موضوع کو جو جان رکھتا ہو اٹھآ لیتے ہیں۔
    آپ نے بلاگرز سے درخواست کی ہے۔ لوگ جو کر سکتے ہیں وہیں کریں گے۔ یہ بات میں ایک دفعہ نہیں کئ دفعہ کہہ چکی ہوں۔ اس لئے ایسی کسی درخواست کا فائدہ نہیں۔
    لیکن باقی لوگوں کے یہ روئیے دل شکن نہیں ، دلچسپ ہیں۔ یہ ہماری سماجی حالت کا آئینہ ہیں۔ اور لکھنے والون اور دیکھنے والوں کو لکھنے کا مزید مواد اور موقع اور مہمیز دیتے ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عنیقہ صاحبہ آپکی بات بلکل درست ہے کے بلاگرز کی ایک بہت بڑی اہمیت ہے جسے دبے لفظوں میں ہی سہی مگر مانا جارہا ہے، اور مجھے پورا یقین ہے کے آنے والے وقتوں میں بلاگرز کو لوگ میڈیا کا ہی درجہ دیں گے۔ مگر اس کے لئیے بلاگرز کو بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے، تعصب سے پاک تحریریں ہی لوگوں پر اثرانداز ہوتی ہیں، برائی جہاں بھی ہو اسکی نشاندہی لازمی کرنی چاہیئے مگر تعصب سے بالاتر ہوکر۔ بلاگ کو تفریح کا زریعہ بنانے یا سمجھنے کے بجائے اسے ایک تعمیراتی مقصد کے لئیے استعمال کیا جائے تو یہ بہت بڑی عبادت ہے۔ امید ہے وہ تمام بلاگرز جنہیں لوگ انہماک سے پڑھتے ہیں اور انکی تحریروں کو اہمیت دیتے ہیں ایسے تمام بلاگرز بلاگ کو عبادت کی طرح لکھیں گے۔

  2. خرم ابن شبیر نے کہا:

    چلیں جی کسی طرح تو کچھ بہتر ہوا نا انشاءاللہ اور بھی بہتر ہوتا رہے گا آپ کوشش کرتے رہیں۔
    یہاں ایک یہ بھی مسئلہ ہے اگر کسی غلطی کیطرف اشارہ کیا جائے تو پڑھنے والا اس کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور لکھنے والے کو الزام دینا شروع کر دیتا ہے۔ اور ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہر لکھنے والا بس یہی سمجھتا ہے کہ اس نے سب کچھ ٹھیک لکھا ہے باقی سب اوے ہی ہیں
    خیر آپ کی تحریر تو ماشاءاللہ تھی ہی اس قابل اور اللہ کرے اس سے کچھ تبدیلی آئے آمین
    اس تحریر پر آپ اپنی پہلی والی تحریر کا لنک بھی دیں تاکہ نئے آنے والے اس لنک سے پہلے والی تحریر بھی پڑھ سکیں شکریہ

  3. تانیہ رحمان نے کہا:

    پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ۔ اگر تھوڑی سی بھی تحریر پسند کی جائے ۔ تو لکھنے کا مقصد اور دل کا سکون کسے حد تک رہتا ہے ، کہ میں نے اتنے عرصے کی محنت رایگاں نہیں گئی ۔ اللہ پاک آپ کو مزید ترقی کی منازل تک پہنچائے ۔۔۔ آمین

  4. fikrepakistan نے کہا:

    تانیہ صاحبہ سب سے پہلے تو میں آپکو اپنے بلاگ پر خوش آمدید کہوں گا، آپ نے بلکل صحیح کہا کے حوصلہ افزائی سے مزید بہتری پیدا کرنے کا جذبہ ملتا ہے، تحریر کی پسندیدگی کے لئیے بہت شکریہ امید ہے آپ کا آنا جانا لگا رہے گا ان نا چیز کے بلاگ پر۔

  5. ABDULLAH نے کہا:

    تحریر تو واقعی آپکی بہترین تھی،مگر مجھے خوشی جب ہوگی جب لوگوں پراس کا کچھ اثر بھی ہو فی الحال تو آثار کم ہی ہیں،
    😦
    یہ دہشت گرد اور ان کے ہمدرد بھی جانتے ہیں کہ پاکستانیوں کو بے وقوف بنانا کتنا آسان ہے سو وہ اپنے ایجینڈوں کی تکمیل میں لگے ہیں اور جیسا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ بلاگس بھی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں!

  6. fikrepakistan نے کہا:

    عبداللہ بھائی آپکی بات درست ہے، ہمارا کام تو بوند بوند گرانا ہے کبھی تو سراخ ہوگا، جس حد تک عملی طور پر ممکن ہے ہم وہ بھی کر رہے ہیں اور جس حد تک لکھہ کر شعور بیدار کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے وہ بھی کر رہے ہیں۔ مجرمانہ خاموشی والی پوسٹ پر وقار اعظم صاحب کا بیہودہ تبصرہ سب نے پڑھا، اب حق اور باطل کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا ہے میں نے۔ ویسے سچ بات یہ ہے کے مجھے تو وقار اعظم
    صاحب جیسے ہر شخص پر بھی ترس آتا ہے کے یہ انکا قصور نہیں ہے یہ قصور ان لوگوں کے ہے جن کے پاس یہ اپنی سوچ، سمجھہ، اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت گروی رکھہ چکے ہیں، انکے وہ اکابرین انکے زہنوں کے جیسے چاہتے ہیں استعمال کرلیتے ہیں اور یہ بھی لوگ بھی خوشی سے استعمال ہورہے ہیں میں ایسے لوگوں کے حق میں دعا ہی کرسکتا ہوں کے اللہ انہیں سیدھی اور صحیح راہ دکھائیں اور یہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کے صحیح ہمدردوں اور دشمنوں میں فرق کر سکیں آمین۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s