کیا عجیب قوم ہیں ہم کھیل کو جنگ اور جنگ کو کھیل سمجھتے ہیں۔


کیا عجیب قوم ہیں ہم کھیل کو جنگ اور جنگ کو کھیل سمجھتے ہیں۔ کچھہ عقل و فہم سے عاری جہالت اور جذباتیت میں ڈوبے ہوئے خود کو مذہبی جماعت کے رہنما کہلوانے والے کہتے ہیں کے انڈیا سے جنگ کرلو انڈیا پہ حملہ کر دو، ایٹم بم مار دو، قبضہ کر لو، جنگ کو کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یہ لوگ۔ اور کھیل کو باقائدہ جنگ بنا کے رکھہ دیا.

نماز کے بعد دعا سے پہلے مولوی صاحب کو کسی نے پرچی دی کے کل پاکستان سیمی فائنل کھیل رہا ہے فتح کے لئیے دعا فرما دیجئیے، مولوی صاحب نے فرمایا آج تک میرے پاس غربت، جہالت، دہشت گردی، خودکش حملوں سے نجات کے لئیے کسی نے دعا کے لئیے پرچی نہیں بھیجی اور آج کتنے سطحی سے مسلے کے لئیے لوگ دعا کے لئیے پرچیاں بھیج رہے ہیں۔

غور کریں پچھلے پانچ روز سے پوری پاکستانی قوم بشمول ملا، سیاستدان، تاجر، آجر، حکمران، اپوزیشن، غرض پوری پاکستانی قوم کے پاس صرف ایک ہی کام تھا اور وہ تھا سیمی فائنل۔ انتہائی سطحی سا معاملہ تھا یہ جسے عجیب و غریب رنگ دے دیا گیا میڈیا سب سے آگے والی بھیڑ بنا اور پھر پوری قوم میڈیا کی اندھی تقلید کرتے ہوئے اسکے پیچھے ہو لی۔

فرض کریں اگر پاکستان جیت بھی جاتا تو کونسا تیر چل جانا تھا؟ پاکستان سے جہالت ختم ہوجاتی؟ وہ غربت جس سے نبیوں نے پناہ مانگی ہے وہ ختم ہوجاتی؟ پاکستان کا قرضہ اتر جاتا؟ ڈرون حملے بند ہوجاتے؟ خودکش حملے ختم ہوجاتے؟ معیشت سنبھل جاتی؟ بیروزگاروں کو روزگار مل جاتا؟ ہاں کرکٹ کے بجائے یہ اگر علمی میدان ہوتا، ترقی کا میدان ہوتا، ٹیکنالوجی کا میدان ہوتا، غربت سے نجات کا میدان ہوتا، تجارت کا میدان ہوتا، یا کوئی اور تعمیری میدان ہوتا اس کے لئیے پوری قوم اسطرح پاگل ہوئی ہوتی تو میں اس قوم کو سلام کرتا۔

جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ میڈیا کو معلوم ہے کے جاہل اور جذباتی قوم ہے اس کے ہاتھہ یہ موقع آیا اور اس نے پوری طرح سے کیش کروایا، میچ شروع ہونے سے کچھہ دیر پہلے تک جیو ٹی وی سے نشر ہو رہا تھا کے، پاکستانی ٹیم تک اپنی تجاویز پہنچانے کے لئیے فلاں نمبر پر میسج کریں، میسج کے چارجز پانچ روپے علاوہ ٹیکس، اب کوئی بتائے کے میچ شروع ہونے سے کچھہ ہی دیر پہلے کیا ٹیم ٹی وی کے آگے اس ہی انتظار میں بیٹھی ہوگی کے ہماری عقل و شعور سے عاری قوم ہمیں تجاویز دینے والی ہے اور ہمیں ان پر عمل کرنا ہے۔

جواء ایسی چیز ہے کے اسے کھیلنے والا پلس مائنس ہونے کے بعد ہمیشہ نقصان میں ہی رہتا ہے، فائدے میں ہمیشہ جواء کروانے والا رہتا ہے، کون ہارا کون جیتا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کسی ایک کو تو ہارنا ہی تھا، اصل جیت تو دونوں طرف کے میڈیا کی ہوئی ہے جو ایڈ چار لاکھہ میں دکھایا جاتا تھا وہ اس دوران اٹھارہ لاکھہ میں دکھایا گیا۔

میری دعا ہے جس طرح قوم ان پانچ دنوں تک ایک معمولی سے میچ کے لئیے سب کچھہ بھول کر پاگل رہی ہے اس ہی طرح کاش یہ قوم اپنے جائز حقوق کے لئیے، علم کے حصول کے لئیے، ٹیکنالوجی کے حصول کے لئیے، ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئیے، جہالت سے نجات پانے کے لئیے، غربت سے نجات پانے کے لئیے، اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئیے، آنے والی قدرتی آفات سے بچاو کے لئیے، بڑھتی ہوئی آبادی کے اس اژدھام کی روک تھام کے لئیے، یکجحتی کے لئیے، امن کے لئیے، بھائی چارے کے لئیے، قانون کے پاسداری کے لئیے، ایمان کی حفاظت کے لئیے پاگل ہو تو کیا ہی بات ہے۔

ان سب چیزوں کے لئیے قوم پاگل ہو کر دیکھے پھر انشاءاللہ یہ میچ جیسی معمولی چیز کے ہارنے پر دلگرفتگی نہیں ہوگی۔ کیا عجیب قوم ہیں ہم کھیل کو جنگ اور جنگ کو کھیل سمجھتے ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

11 Responses to کیا عجیب قوم ہیں ہم کھیل کو جنگ اور جنگ کو کھیل سمجھتے ہیں۔

  1. UncleTom نے کہا:

    میں آپ کے نظریے سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں ۔

  2. خِرد کا نام رکھ ديا جنوں ۔ جنوں کا خِرد
    جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

    ” آپ ” کی جگہ ” ہماری قوم ” لکھ ليجئے

  3. fikrepakistan نے کہا:

    حضرت بلکل بجہ فرمایا آپ نے۔

  4. ABDULLAH نے کہا:

    زرا نیوز ون پر رانا مبشر ایٹ پرائم ٹائم بھی کل ریپیٹ میں دیکھ لیجیئے گا جس میں بکی نے انڈیا اور پاکستان کے کون کون سے کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث تھے،
    مصباح الحق،کامران اکمل اور عمر اکمل،عمر گل کروڑوں دیکھ کر قوم کے جذبات کا سودا کر بیٹھے،
    ابھی تو ذوالقرنین حیدر نے بھی اس کے پروگرام میں آنے کےلیئے کہا ہے کہ میں قرآن پر ہاتھ رکھ کر سب کچھ سچ سچ بتاؤں گا،اور کامران اکمل برادران کے بارے میں تو اسکا کہنا ہے کہ ان کا تو پورا ایک الگ ہی گروپ ہے!

  5. ABDULLAH نے کہا:

    سیمی فائنل میں ہار کی وجہ؟ملین ڈالر کا سوال!
    http://www.voanews.com/urdu/news/sports/semi-final-analysis-31mar11-119011934.html

  6. Bushra Humdan نے کہا:

    Very well said bhai u hum logon ki soch mar gai hai.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s