کوئی پرسان حال نہیں


ڈی جی خان میں آج پھر ایک خود کش حملہ ہوا، آج پھر نہ جانے کتنے بچے یتیم ہوئے، کتنی عورتوں کا سہاگ لٹ گیا، کتنی ماوں کی گود اجڑ گئی، ایک شیر خوار بچی جو کے لاوارث حالت میں ملی جسکے ماں باپ اس خود کش حملے میں ہلاک ہوگئے، یہ ہی سب کچھہ ڈرون حملے میں ہوتا ہے کسی ایک دہشت گرد کو مارنے کے لئیے سینکڑوں لوگوں کو گھن بنا دیا جاتا ہے۔

ڈرون حملہ امریکہ کرتا ہے مگر اسکا بدلہ امریکہ سے لینے کے بجائے معصوم پاکستانیوں سے لیا جاتا ہے۔ میرے لئیے دونوں دکھہ ایک جیسے ہیں معصوم لوگ چاہے کراچی میں مریں، پنجاب میں مریں، فرنٹئیر میں مریں یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں، میرے دل میں سب کے لئیے ایک جیسی ہی ٹیس اٹھتی ہے۔

خبر ہے کے ایک خودکش بمبار گرفتار ہوگیا ہے اور اس نے یہ بیان دیا ہے کے اسے اگر دوبارہ موقع ملا تو پھر سے خودکش حملہ کرے گا، کتنا بڑا المیہ ہے کہ ابھی تک جتنے بھی دہشت گرد گرفتار کئے گئے وہ عدالتوں سے با عزت بری کردئیے گئے، پاکستان حالت جنگ میں ہے، یہاں قانون بھی حالت جنگ والا ہی لاگو ہونا چاہئیے، جنگ کے دوران دشمن کو عدالت تک نہیں لایا جاتا بلکے اسے دیکھتے ہی گولی مار دی جاتی ہے۔

یہ بات اب ثابت ہوچکی ہے کے پاکستان اور پاکستانیوں کی بربادی میں سب برابر کے شریک ہیں، عدلیہ سے لے کر فوج تک سیاستدانوں سے لے کر مذہبی جماعتوں تک سب کے سب ہماری بربادی پر متفق ہیں۔

صدر اور وزیراعظم صاحب نے میڈیا کو ایک رٹا رٹایا تعزیتی بیان لکھہ کر دے رکھا ہے کہ جب بھی خودکش حملہ ہو تو ہماری طرف سے یہ بیان چھاپ دیا جائے، یہ ہی حال سیاستدانوں کا ہے خانہ پوری کے لئیے تعزیتی بیان دے دیا جاتا ہے اور پھر اگلے خود کش حملے کا انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ نام نہاد مذہبی جماعتوں کی روزی روٹی کا واحد زریعہ ہی ڈرون اور خودکش حملے ہیں، جمعہ کی نماز کے بعد ایک احتجاج، واہ واہ سمیٹی اور اپنے اپنے گھر کو چل دئیے۔

کسی کے پاس نہ کوئی فیوچر پلان ہے نہ کوئی فیوچر پالیسی ہے کسی کو کچھہ نہیں پتہ کے اس حالت سے کیسے نکلنا ہے، جنگ لڑنے کے کچھہ ٹولز ہوتے ہیں، حدیث ہے کہ مومن اپنے عصر( دور ) سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ تو اس وقت دور کا تقاضہ تو تعلیم ہے ٹیکنالوجی ہے جو کے پاکستان میں تو کیا پوری مسلم امہ میں کہیں بھی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

ٹنڈولکر کو آوٹ کرنے کے لئیے شعیب اختر بننا پڑتا ہے، یہ مغز سے خالی احتجاج یہ انسانوں کو جانوروں میں تبدیل کردینے والی ریلیاں، یہ گو امریکہ گو جیسے طفلی نعرے، یہ جذباتی جلسے جسلوس، یہ سب بیکار بیہودہ اور قوم کو مزید کمزور کردینے والی تھیوری ہے۔ اس سے صرف مذہب فروشوں کی روٹیاں ہی سینکی جاسکتی ہیں۔

بد قسمتی سے پاکستان کا وہ ادارہ جس سے آج بھی قوم کو کچھہ تھوڑی بہت امید ہے یعنی آرمی، وہ بھی اپنی اس غلطی کو جو کے جنرل ضیاء الحق نے کچھہ مذہب فروشوں کے ساتھہ ملکر افغان وار میں ٹانگ اڑا کر کی تھی جسکا تتیجہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے، آرمی آج بھی خود پر لگا وہ داغ دھونے کے لئیے کوئی مستند اقدامات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

نہیں معلوم ابھی اور کتنی لاشیں گرنا باقی ہیں، کتنی عورتوں نے مزید بیوہ ہونا ہے، کتنی ماوں کے گودیں اجڑنا باقی ہیں، کتنے بچوں کو داغ یتیمی لگنا ہے، میں آج یہاں یہ سب لکھہ کر اپنا دل جلا رہا ہوں ممکن ہے آنے والے دنوں میں، میں خود بھی ایسے ہی کسی واقعہ کی خبر بن جاوں۔

میں موت سے نہیں ڈرتا مجھے افسوس اس بات کا ہوتا ہے کے میری موت کا فیصلہ ایک اجڈ، جاہل، گنوار، انسانیت کے ہر درجے سے گرا ہوا، ایک جانور ایک درندہ ایک وحشی خودکش بمبار کرے گا!

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

6 Responses to کوئی پرسان حال نہیں

  1. عمران اقبال نے کہا:

    فکر پاکستان بھائی۔۔۔ یہ تو ہمارے سدا کے رونے ہیں۔۔۔ لگتا ہے اب ہر قسم کے غم پاکستان کے ساتھ مستقل نتھی ہو گئے ہیں۔۔۔ اور ان کا نا کوئی حل ہے اور نا ہی کوئی چارہ۔۔۔ بس اب برداشت کرتے جائیں۔۔۔ جب تک کہ آخری سانس بھی نا نکل جائے۔۔۔

    کل کے واقعے کے بارے میں، میں اتنا ہی کہوں گا۔۔۔ کہ آخر ہماری عوام اپنے پہلے کے تجربات سے سبق کیوں نہیں سیکھتی۔۔۔ دھمال ڈال کر نعوذ باللہ کون سے رب کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں یہ لوگ۔۔۔؟ آخر کیوں مساجد کی جگہ درگاہوں کو آباد کرتے ہیں۔۔۔ جب اللہ کی بجائے ان نیک بزرگوں کو اپنا رب اور پروردگار مانیں گے تو پھر اللہ کے ایسے عذاب تو ہم پر آئیں گے ہی۔۔۔

  2. fikrepakistan نے کہا:

    عمران بھائی آپکی بات بجہ، مگر مساجد کونسی محفوظ ہیں ان درندوں سے؟

  3. ہماری قوم کے جوانوں نے جنگ شروع بھی کی تو اپنی تنخواہ کيلئے ۔ ميں نے قوم کہہ ديا ۔ ہم قوم تو ہيں ہی نہيں ۔ يہاں کوئی اپنے قبيلے کو قوم سمجھتا ہے اور کوئی اپنے بھائی بندوں کو ۔ جب تک ہم قوم نہيں بنيں گے حالات مزيد بگڑتے جائيں گے

  4. ABDULLAH نے کہا:

    ایک قوم یعنی صرف پاکستانی بننے کے ساتھہ ساتھہ ہمیں صرف مسلمان بھی بننا ہوگا۔ مسلک پرستی سے بھی جان چھڑانی ہوگی۔

    سچ کہا ہے مگر کن سے کہہ رہے ہیں جو اپنے علاوہ نہ کسی کوپاکستانی سمجھتے ہیں نا مسلمان
    مگر صرف وہ جو ان کی ہاں میں ہاں ملائیں،ان کے ہر غلط کو صحیح کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

    کار بد خود کرتے ہیں اورالزام دیتے ہیں شیطان کو

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s