ہماری تحریریں آنے والی نسلوں کی امانت ہیں!


حدیث شریف ہے کہ، عالم کے قلم کی روشنائی شہید کے خون سے زیادہ مقدس ہے۔ ایک بار تانیہ رحمان صاحبہ نے بلاگرز سے ایک سوال کیا تھا کے، آپ بلاگ کیوں لکھتے ہیں؟ تقریباَ سب نے ہی بلاگ لکھنے کی وجہ بیان کی تھی، میں نے اس وقت بھی یہ ہی لکھا تھا کہ میں بلاگ کو سیکھنے سکھانے کا زریعہ سمجھتا ہوں۔

میرا ایسا ماننا ہے کے لکھنے کا کوئی بھی ایسا زریعہ جس سے آپ اپنی تحریر سپرد زد عام کر رہے ہوتے ہیں وہ قوم کی امانت ہوتی ہے وطن کی امانت ہوتی ہے وطن میں رہنے والے لوگوں کی ذہنی سطح کا تعین کرتی ہے، ظاہر ہے بلاگ بھی ایک زریعہ ہے اپنی بات کے اظہار کا، ( یہ میرے زاتی احساسات ہیں اس سے کسی دوسرے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ) کہ اس بلاگ پر لکھا گیا ایک ایک لفظ امانت ہے آنے والی نسلوں کی، انٹر نیٹ کی وجہ سے آج دنیا گلوبل ولیج نہیں گلوبل اسٹریٹ بن چکی ہے.

اب بلاگز پہچان بن گئے ہیں قوموں کے، اب بلاگرز شناخت بن گئے ہیں وطن کی، میری لکھی ہوئی تحریریں آپکی لکھی ہوئی تحریریں پوری دنیا میں پڑھی جاتی ہیں، اس سے قوموں کے امیج قائم کئیے جاتے ہیں، بلاگز اب قوموں کے علمی، شعوری، اور فکری سطح کے غماز بن چکےہیں۔ جیسا کے یاسر بھائی نے اپنی پچھلی تحریر میں حوالہ دیا تھا جاپانی بلاگرز کا کے کیسے وہ لوگ اپنے بلاگز پر پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں۔ جس طرح یاسر بھائی نے ہمیں جاپانی بلاگز کا حوالہ دیا ٹھیک اس ہی طرح کوئی جاپانی بھی کہیں کسی حوالے سے اپنی قوم کے لوگوں کو پاکستانی بلاگز کا حوالہ دے سکتا ہے۔

کوئی اگر بلاگ کو محض ہنسنے ہنسانے اور تفریح کا زریعہ سمجھتا ہے تو یہ اسکی زاتی سوچ تو ہو سکتی ہے مگر حقیقت نہیں۔ آج لکھی ہوئی تحریر کو صرف آج کی حد تک نہ دیکھیں، کل عنیقہ صاحبہ کی بیٹی مشعل، تانیہ صاحبہ کی بیٹی ماہم، عمران اقبال کی بیٹی علیزہ، یاسر صاحب کے بیٹا یا بیٹی نے بھی یہ سب تحریریں پڑھنی ہیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کے جو حضرات صاحب اولاد ہیں وہ بھی اور جنہیں کل صاحب اولاد ہونا ہے وہ بھی اس بات کا خیال رکھیں کے تحریر ایسی ہو تبصرہ ایسا ہو کے کل اپنی اولاد کے سامنے ہم شرمندہ نہ ہوں، اسلئیے ہی آپ لوگوں سے عرض کیا ہے کے ہماری یہ تحریریں امانت ہیں آنے والی نسلوں کی۔

اختلاف برائے اختلاف میں ہم اتنے آگے تک چلے جاتے ہیں کے ہم خواتین اور اپنے سے بڑوں کا احترام تک ملحوظ خاطر نہیں رکھتے، باقائدہ گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں، یہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔

علمی اختلاف بہت اچھی چیز ہوتی ہے، علمی اختلاف تو صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہہ کے درمیان بھی ہوا کرتے تھے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب تدوین قرآن کا مرحلہ آیا تو صحابہ اکرام میں اختلاف پایا جاتا تھا مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ نے اسے دلیل سے حل کیا، تو اگر کوئی دلیل کے ساتھہ اپنی بات ثابت کردیتا ہے تو جواب میں دلیل ہی لانی چاہئیے اختلاف برائے اختلاف نہیں، اختلاف ہی سیکھنے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے، جو سوال کرنا نہیں جانتا وہ کبھی بھی نہیں سیکھہ سکتا، اس ہی طرح اختلاف رائے بھی سیکھنے کی بنیاد بنتی ہے لیکن شائستگی کے ساتھہ، بردباری کے ساتھہ، کہتے ہیں کے جہالت بری چیز نہیں اگر اسکا اظہار نہ کیا جائے تو۔

حدیث مجھے ٹھیک سے یاد نہیں آرہی کسی کو پوری یاد ہو تو تصیح فرما دے میں حدیث کا مفہوم بیان کردیتا ہوں، کسی کا نام بگاڑنا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناپسند فرمایا ہے، ( کمی بیشی اللہ معاف فرمائیں) مجھے یقین ہے افتخار اجمل صاحب یقیناََ مکمل حدیث بیان کردیں گے انشاءاللہ۔

ممکن ہے مجھہ سے بھی کبھی کسی کی دل آزاری ہوئی ہو، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ایک بار خاور صاحب سے ضرور تلخ کلامی ہوئی تھی اور آج میں خاور صاحب سے اپنے اس تلخ روئیے پر شرمندہ ہوں، امید ہے خاور بھائی میری معزرت دل سے قبول فرمائیں گے، ایک بار ڈاکٹر جواد صاحب سے بھی تلخ کلامی ہوچکی ہے جسکی میں ان سے معزرت بھی کرچکا ہوں امید ہے کہ ڈاکڑ صاحب نے بھی اپنا دل صاف کرلیا ہوگا میری طرف سے، وقار اعظم اور عثمان دونوں میرے مسلمان بھائی ہیں ان سے بھی جو تھوڑی بہت نوک جھوک رہی ہے امید ہے وہ بھی میری طرف سے اپنا دل صاف کرلیں گے۔ اس موقع پر میں جاوید گوندل صاحب کا دل سے مشکور ہوں کے انکی ہی تلقین کی وجہ سے میرا دھیان اس اعتراف کی طرف گیا، یہ ہی امید میں آپ سب سے بھی کرتا ہوں کے آپ سب بھی ایک دوسرے کی قومیت، مسلک اور شخصیت سے بالاتر ہوکر صرف تحریر پر تبصرہ کریں گے، بلاگرز ایک دوسرے کی زات کو نشانہ بنانے کے بجائے قوم کے اور پاکستان کے اصل اور حقیقی مسائل کی طرف توجہ دیں گے.

اللہ پاکستان کو سلامت رکھیں بس اتنا یاد رکھئیے گا کے آج ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کے جب عراق پر تاتاریوں نے حملہ کیا تو عراق کے علماء مناظرے میں لگے ہوئے تھے ایک دوسرے کی دھجیاں بکھیر رہے تھے، اللہ نہ کرئے کل یہ ہی سب کچھہ آنے والی نسل ہمارے یہ بلاگز پڑھہ کر ہمارے بارے میں کہہ رہی ہو۔ ایک بار پھر میں اپنی انا کو زیر پا رکھہ کر ہر اس انسان سے معزرت خواہ ہوں جسے میری تحریر یا تبصرے سے زاتی طور پر تکلیف پہنچی ہو۔

میرا اللہ جانتا ہے کہ میں بلاگ کو عبادت سمجھہ کر لکھتا ہوں میری کوشش ہوتی ہے کے جو تھوڑی سی بہت معمولی سی میری معلومات ہیں وہ دوسروں تک پہنچاوں، اور جو اس ملک و قوم کے حق میں بہتر ہے وہ ہی لکھوں، تحریر کے شروع میں میں نے حدیث کا ایک حصہ لکھا تھا اب پوری حدیث تحریر کر رہا ہوں، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کے، عالم کے قلم کی روشنائی شہید کے خون سے زیادہ مقدس ہے ایک خاندہ شخص اللہ کو بہت پیارا ہے تو پڑھنا سیکھو اور جب پڑھہ جاو تو اوروں کو پڑھاو۔ امید ہے میرا پیغام آپ سب تک پہنچ گیا ہوگا۔

Advertisements
This entry was posted in افسوس. Bookmark the permalink.

33 Responses to ہماری تحریریں آنے والی نسلوں کی امانت ہیں!

  1. خاور کھوکھر نے کہا:

    لو جی مجھے یاد بھی نہیں کہ کیا ہوا تھا
    قران میں اللہ جی کے ایک احسان کا فرمان ہے کہ
    جس کو کینے سے پاک دل دیا اس پر بڑا حسان کیا
    مجھ پر بھی جی اللی سائیں عالی شان کا یہ احسان ہیے
    اس کے علاوہ جی میں نظریاتی اخرتلاف اور ذاتی اختلاف کے فرق کو سمجھتا ہوں
    اور اگر لکھنے والوں میں نظریاتی اختلافات سر ناں اٹھائیں تو جی یہ بھی ادب کی موت کا سبب ہوتا ہے
    میں اپنے بلاگ کی کومنٹس پر قدغن کیوں نہیں لگاتا؟
    کیونکہ تحاریر انے والی نسلوں کی امانت ہیں
    اور میں دیکھانا چاہتا ہوں کہ
    خاور کیا سوچتا تھا
    اس دور کے دانشمند اس تحریر کو کیسے لیتے تھے
    اور

    احمق لوگ کیسے تبصرے کرتے تھے

  2. ميں تو طالب علم ہوں اور آپ سب سے سيکھتا ہوں ۔ بہر کيف آپ نے مجھے علم والا سمجھا يہ آپ کی دريا دلی ہے جس کيلئے مشکور ہوں ۔ حديث تو بعد ميں آتی ہے اول اللہ کا حکم ہے جو ان آيايات سے واضح ہو جاتا ہے

    سورت 4 النسآء آيت 148 ۔ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ بُرا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو ۔ اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

    سورت 49 الحجرات آيت 11 ۔ اے ایمان والو ۔ مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو ۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں‏

    • fikrepakistan نے کہا:

      جزاک اللہ افتخار صاحب، آپ نے بہت ہی مفصل طریقے سے میری ادھوری بات مکمل کردی ہے، مجھے یقین ہے انشاءاللہ لوگ اس پر عمل کریں گے۔

  3. يہ آپ نے درست لکھا کہ ہر لکھی ہوئی بات قوم کی امانت بن جاتی ہے اور اسی سے قوم پہچانی جاتی ہے ۔ ميں نے کئی بار محسوس کيا ہے کہ ہمارے ہاں بولنے اور لکھنے ميں بہت لاپرواہی برتی جاتی ہے ۔ جيسے کہ آپ نے لکھا بولا يا لکھا ہوا فقرہ بولنے يا لکھنے والے کی شخصيت کا عکاس ہوتا ہے ۔ کاش يہ بات کم از کم ہماری قوم کی پڑھی لکھی نفری کی سمجھ ميں آ جائے ۔
    انکساری سے فائدہ تو ہو سکتا ہے مگر کبھی نقصان نہيں ہوتا ۔

  4. fikrepakistan نے کہا:

    عثمان بھائی میری دعا ہے آپ اور ہم سب ایسے ہی ہنستے مسکراتے رہیں۔

  5. السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ
    ماشاءاللہ بہت اچھی بات کی آپ نے بہت اچھے انداز میں

  6. عمران اقبال نے کہا:

    فکر پاکستان بھائی۔۔۔۔ پہلے تو بہت بہت شکریہ۔۔۔ کہ آپ نے میرا اور میری بیٹی کا حوالہ اتنی اہم تحریر میں دیا۔۔۔

    ہم سے کی رائے اور سوچ ایک دوجے سے بہت جدا ہے۔۔۔ ہمیں کسی دوسرے کی رائے سے اتفاق اور اختلاف دونوں کا حق ہے۔۔۔ لیکن آپ کی یہ بات بجا ہے کہ ہمیں لغویات پر نہیں اترنا چاہیے۔۔۔ ایک دوسرے کی "ذات” کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔۔۔

    افتخار اجمل صاحب کے بارے میں عبداللہ کی رائے جیسی بھی ہو۔۔۔ ان کی ذاتی ہے۔۔۔ لیکن مجھے افتخار اجمل صاحب سے بات کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔۔۔ میں دل کی گہرائیوں سے ان کی عزت کرتا ہوں اور انہیں اپنا نہایت معتبر بزرگ، دانشور اور رہنما مانتا ہوں۔۔۔ وجوہات یہ کہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔۔۔ اور علم اور تجربہ میں بھی مجھ سے بہت بہت آگے ہیں۔۔۔ میں اللہ کے فضل و کرم سے ایک پڑھا لکھا انسان ہوں اور اللہ نے مجھے صحیح اور غلط کا شعور بخشا ہے۔۔۔ اس لیے میرا شعور یہی کہتا ہے کہ افتخار اجمل صاحب ایک سرمایہ ہیں ہماری نسل کے لیے۔۔۔ اور ہمیں ان بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔۔۔ (میں ان کی عزت اس لیے نہیں کرتا کہ وہ پنچابی یا پٹھان یا کشمیری ہیں۔۔۔ میں ان کی عزت اس لیے کرتا ہوں کہ ان کی باتوں سے مجھے حد درجہ زیادہ سیکھنے کو ملتا ہے)۔۔۔

    عبداللہ کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتا۔۔۔ لیکن میری ان کے ساتھ اختلاف، اختلاف رائے سے ہوا۔۔۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ میری بات مانیں۔۔ لیکن مجھے بھی مجبور نا کریں کہ میں ان کی رائے تسلیم کروں۔۔۔ وہ کسی بھی حالات کو اپنی نگاہ اور تجربے سے دیکھتے ہیں اور میں اپنی نظر سے۔۔۔ عبداللہ اگر فضول بحث کرنا چھوڑ دیں تو کوئی ان کے بارے میں غلط رائے کیوں رکھے گا۔۔۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر وہ بلاگر جو آج عبداللہ کے بارے میں "غلط” رائے رکھتا ہے۔۔۔ اس کی غلط رائے قائم کرنے میں خود "عبداللہ” کا بھی بہت ہاتھ ہے۔۔۔

    فکر پاکستان بھائی۔۔۔ جب سے میں آپ کے بلاگ پر آیا ہوں یا آپ میرے بلاگ پر تشریف لائے ہیں۔۔۔ کیا کبھی میں نے بدتمیزی کی۔۔۔؟ اور آپ نے بھی کبھی مجھ سے غلط بات نہیں کی۔۔۔ اور یوں عزت کا ایک رشتہ بن گیا ہے۔۔۔ آپ کی بھی کچھ باتوں سے مجھے اختلاف ہوگا۔۔۔ اور آپ کو بھی میری باتوں سے۔۔۔ لیکن کیا اس کا حل وہی ہے کہ آپ یا میں ایک دوسرے کو منافق اور جاہل کہنا شروع کر دیں۔۔۔ ؟؟؟ نہیں۔۔۔ عزت کا رشتہ بنا ہے۔۔۔ لحاظ رکھنا پڑتا ہے ایک دوسرے کی عزت کا۔۔۔ اور اسی طرح ایک اچھا معاشرہ وجود میں آتا ہے۔۔۔

    آپ کی اس تحریر کے بعد میں بھی وہی سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں جو آپ نے اس تحریر میں بیان کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔۔۔ اور گواہ رہیے گا۔۔۔ کہ "فکر پاکستان” نے ایک بہت ہی بہترین ابتدا کی ہے۔۔۔ آپ ہی کے توسط سے میں آج عبداللہ، عنیقہ صاحبہ اور ہر اس بلاگر سے معذرت کرتا ہوں جن سے میں اختلاف رائے رکھتا ہوں۔۔۔ اور یہ بھی مانتا ہوں کہ مجھے عبداللہ کو الٹے سیدھے ناموں سے نہیں پکارنا چاہیے۔۔۔ اور میں یہ معذرت آپ کی لکھی ہوئی حدیث اور اجمل صاحب کی بیان کی ہوئی قرآنی آیات کے حوالے پڑھ کر لکھ رہا ہوں۔۔۔

    میرا عبداللہ کے لیے براہ راست پیغام یہ ہے۔۔۔کہ۔۔۔

    میں اچھا مسلمان بننے کی کوشش میں ہوں۔۔۔ اس لیے مجھے منافق نا کہو۔۔۔
    میں کچھ سیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ اس لیے مجھے جاہل نا کہو۔۔۔
    میں پاکستان میں رہتا نہیں ہوں۔۔۔ لیکن مجھے پاکستان کے زرے زرے سے محبت ہے۔۔۔
    مجھے کراجی سے بھی اتنی ہی محبت ہے جتنی لاہور سے ہے۔۔۔
    میرے بھی آنسو نکلتے ہیں جب میں اپنے وطن کے سینے پر زخم دیکھتا ہوں۔۔۔
    میں بھی محب وطن پاکستانی ہوں۔۔۔ مجھے غدار مت کہو۔۔۔
    میں بھی اپنی رائے لکھنا اور بیان کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ اگر میں غلط ہوں تو میری تصحیح کرو۔۔۔ لیکن اگر میں درست ہوں تو فراخ دلی سے اسے مانو۔۔۔
    میری عزت کرو۔۔۔ جیسے کہ تم خود چاہتے ہو کہ تمہاری عزت کی جائے۔۔۔

    عبداللہ۔۔۔ آپ کو یاد ہوگا کہ تانیہ آپا کے بلاگ پر دعا کے متعلق ایک بحث میں آپ نے اپنی رائے دی تھی اور میں نے آپ کی بات نا صرف مانی بلکہ آپ کے ایمان کو بہترین قرار دیا تھا۔۔۔ میں متعصب نہیں ہوں۔۔۔ مجھے متعصب مت بناو۔۔۔ مجھے اپنے ہر پاکستانی بھائی سے محبت ہے۔۔۔ میں کسی سندھی، بلوچی، پٹھان یا پنچابی کو نہیں جانتا۔۔۔ میں صرف پاکستانی کو جانتا ہوں۔۔۔ مجھے صوبائی تعصب میں مت دھکیلو۔۔۔ خدارا۔۔۔ مجھے اچھا پاکستانی اور اچھا مسلمان بننے دو۔۔۔ آپ نہیں جانتے کہ آپ اپنی فضول بحث کے ذریعے بہت سے محب وطن پاکستانیوں کو سندھ یا کراچی کے خلاف کر رہے ہو۔۔۔ پھر بھی۔۔۔ تم میرے مسلمان بھائی ہو۔۔۔ میں اپنی ہر اس بات کے لیے آپ سے معذرت کرتا ہوں۔۔۔ جو بحیثیت مسلمان۔۔۔ مجھے نہیں کرنی چاہیے تھی آپ سے یا آپ کے بارے میں۔۔۔

    فکر پاکستان بھائی۔۔۔ اللہ آپ کا بھلا کرے۔۔۔ آپ نے بہت سی آنکھیں اور دل کھول دیے ہونگے آج اس تحریر کے ذریعے۔۔۔

    آپ کی مختلف تحاریر سے بہت سے لوگوں کو شاید اختلاف ہو۔۔۔ لیکن ایک دفعہ آپ نےمجھ سے کہا تھا۔۔۔ کہ ہم میں "فکر” ایک جیسا ہے۔۔۔ :-)۔۔۔ میں ہمیشہ محسوس کرتا ہوں کہ سوچ میری ہے اور الفاظ آپ کے ہوتے ہیں۔۔۔ اس لیے میری سوچ کو اپنے بہترین الفاظ کا روپ دیتے رہیے۔۔۔ اچھا لکھ رہے ہیں۔۔۔ لکھتے رہیے۔۔۔ اس کی جزا اللہ آپ کو دے گا۔۔۔

    امید ہے میری بیٹی جب بڑی ہوگی تو میرا بلاگ فخر سے پڑھے گی۔۔۔ اور سیکھے گی۔۔۔ انشاءاللہ۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عمران اقبال بھائی آپکی تمام باتیں بہت اچھی اور مثبت ہیں، ہم سب کے اندر صرف برداشت کی کمی ہے ورنہ زاتی حثیت میں برا کوئی بھی نہیں ہے، جسطرح آپ نے اس تمام جھگڑے کو ختم کرنے میں پہل کی ہے مجھے امید ہے کے عبداللہ بھائی سمیت باقی لوگ بھی اس پر غور کریں گے۔ افتخار صاحب کی کچھہ باتوں سے ممکن ہے مجھے بھی علمی اختلاف رہا ہو، انکی معلومات اور تجربہ یقیناَ ہم سب کے لئیے سود مند ہے اور یہ سب بھی ایک طرف رکھیں میرے لئیے تو اتنا ہی کافی ہے کے وہ ہمارے بزرگ ہیں۔

      جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں وہ جھک کر ملا کرتے ہیں
      کہ صراحی سرنگو ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ۔

      یہ میرا یقین ہے کے جتنے بھی بلاگرز ہیں یا تبصرہ کرنے والے ہیں یہ سب کے سب پڑھے لکھے اور بہت اچھے گھروں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، یہاں ہر بلاگرز اور تبصرہ نگار پہچان ہیں اپنی فیملی کی، اسلئیے سب سے ہی درخواست ہے کے خدارا اپنی اقدار کی پاسداری کریں، یہاں سب لوگ بہت اچھے ہیں بس تھوڑا برداشت کا مسلہ ہے اور یہ مسلہ صرف اس بلاگ کے لوگوں کا نہیں ہے یہ المیہ تو پوری پاکستانی قوم کا ہے کے بائے ڈیزائن اس قوم کا رویہ ایسا ڈویلپ کیا گیا ہے کہ یہ قوم عدم برداشت کا شکار ہے، یہ ہی تبدیلی تو لانی ہے ہمیں اپنے اندر ورنہ پھر ہم میں اور اس ان پڑھہ انسان میں فرق ہی کیا رہ جائے گا جو کبھی غیرت کے نام پر قتل کردیتا ہے تا کبھی انا کے نام پر۔ اور یہ بھی سوچئیے گا کے ہمارے اس عدم برداشت والے روئیے کا فائدہ کسے مل رہا ہے؟ ہمارے اپنے قاتلوں کو جنہیں ہم اپنے ہی سر پر بٹھائے گھومتے ہیں۔ مجھے یا آپکو کبھی فرقہ پرستی یا لسانیت کا کیا فائدہ ملا ہے ؟ کچھہ بھی نہیں ملا اور نہ ہی کبھی مل سکتا ہے اسکا فائدہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ہی ملتا ہے ہمیشہ ہمیں اور آپکو تو صرف اور صرف نقصان ہوا ہے اور ہوتا رہے گا جب تک ہم ان دونوں گھنوونے دائروں سے باہر نہیں نکلیں گے۔ مجھے یقین ہے آپکی بیٹی علیزہ اور باقی ہم سب کی اولادیں بھی اپنے اپنے والدین کے یہاں لکھی ہوئی تحریریں فخر سے پڑھیں گی اور ہم بھی لفظوں کی حرمت قائم رکھتے ہوئے وہ سب کچھہ لکھہ کر جائیں گے جو انشاءاللہ ہماری نسلوں کے لئیے مشعل راہ ہونگی۔

  7. پنگ بیک: ہماری تحریریں آنے والی نسلوں کی امانت ہیں! (via گیلی دھوپ) « دائرہ فکر… عمران اقبال

  8. اللہ تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے اور ہم سب کو درست سوچنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

    بلاشبہ آپ کی یہ تحریر سنہرے الفاظ میں کندہ کئیے جانے کے قابل ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ سبھی بلاگرز اور رائے دہندگان اس تحریر کو مثبت پس منظر میں لیں گے۔ اور اختلاف برائے رحمت علمی کے لیں گے نہ کہ برائے زحمت۔

    خدا آپ کو جزآئے خیر دے۔ آمین

  9. بہت اچھی تحریر ہے۔
    آنے نسلوں کا تو نہیں معلوم لیکن اپنا لکھا پڑھ کر بندے خود کو شرمندگی نہ ہونی چاھئے۔میں تو ایسا سمجھتا ہوں۔
    میرا تو کسی سے کو ئی اختلاف نہیں ہے۔یہاں پر بھی عبداللہ نامی شخص وہی حرکت کر رہا ہے۔طنز۔۔تحقیر؟ْ۔۔۔۔یا پھر وہی فساد پیدا کرنا؟
    عنیقہ سے اختلاف اسی وجہ سے ہوا کہ بے نام تبصروں والا شخص اجمل صاحب کیلئے غلط الفاظ استعمال کر رہا تھا۔میں نے کہا ایسا تبصرہ مٹا دیں۔۔۔۔اور عنیقہ صاحبہ بے ڈھنگی سی بات کرکے تبصرہ نہیں ہٹایا۔۔۔۔اور عموماً تعصبانہ تبصرے وہ خود کرتی ہیں۔۔۔۔آپ فکر پاکستان صاحب آپ سے مجھے کوئی بغض نہیں۔۔لیکن لیکن کسی قسم تعلق رکھنا نہیں چاہتا ۔۔۔کہ خاور نے ایک پوسٹ لکھی اور آپ کا تبصرہ نہایت غلط تھا۔۔اور میں صرف ایک بات سے نفرت کرتا ہوں۔۔پنجابی سندھی پٹھان بلوچی مہاجر یا کسی دوسری قوم یا نسل یا لسانیت کا نعرہ مار کر ے نفرت پیدا کی جائی یا اپنے سے مختلف سوچ رکھنے والوں سے حقارت سے پیش آیا جائے۔سب کو معلوم ہے کون فساد پیدا کرتا ہے۔۔۔میرا پاکستان ، اور کاشف نصیر نے تنگ آکر بلاگ لکھنا ہی چھوڑ دیا۔۔۔۔تو جناب عرض ہے کہ نصحیت کرنا اچھی بات ہے عمل کرکے دکھایا جائے کہ مجھ جیسے جاہل پر کچھ اثر تو ہو۔ابتدا اس پوسٹ سے کریں اور طنزیہ تبصرے مٹا دیں۔ اتنی بات سمجھنے کی کوشش کریں جس کا بھی کسی مخصوص شخصیت یا سیاسی تنظیم سے اختلاف ہوتا ہے۔اسے ہی کیوں گالیاں دی جاتی ہیں ؟اور انہی لوگوں کے ای میلزاور نام استعمال کرکے گالی گلوچ کی جاتی ہے؟۔مثلاًمیں نے آج تک عثمان یا آپ کے نام سے کسی بھی جگہ فحش تبصرہ ہوتے نہیں دیکھا۔

    • عمران اقبال نے کہا:

      بلکل درست کہا یاسر بھائی نے۔۔۔ ہمارے نظریاتی اور جماعتی اختلافات کی وجہ سے ہمارے ہی نام استعمال ہو رہے ہیں دوسرے بلاگز پر گالیوں اور لغویات کے ساتھ ۔۔۔ اور جب ہم کہہ بھی رہے ہیں کہ یہ کام ہمارے نہیں۔۔۔ تو بھی مورد الزام ہمیں ہی ٹھرایا جاتا ہے۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر بھائی آپکی خواہش کے مطابق میں نے وہ تبصرے حذف کر دئیے ہیں، اگر محض تین تبصرے حذف کرنے سے اگر ہم سب کے دل صاف ہوسکتے ہیں تو سودا مہنگا نہیں ہے۔ آپکی ایک بات میری سمجھہ میں نہیں آئی آپ نے فرمایا کے اب بھی آپ مجھہ سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتے، جب کے میں نے صاحب معاملہ سے معزرت بھی کرلی ہے اس کے باوجود آپکا ایسا کہنا سمجھہ سے بالا تر ہے۔ یہ بھی واضع رہے کے میں نے پہل نہیں کی تھی میں نے تو ایک پوسٹ کے جواب میں تبصرہ کیا تھا، اس کے باواجود آپ کا یہ یکطرفہ فیصلہ میری سمجھہ میں تو نہیں آیا۔ میں اب بھی سب سے یہ ہی کہوں گا کے پچھلی تمام تلخیاں فراموش کر کے نئے سرے سے بھائی چارگی کے فروغ کے لئیے کام کیا جانا چاہیئے۔ علمی اختلاف جتنا کرنا ہے کریں مگر زاتیات کو بیچ میں نہ لائیں۔

      • ارے بھائی ایسی کوئی بات اگر آپ اپنی غلطی مان رہے ہیں۔
        تو محترم ہمارے دل میں کسی قسم کی کوئی رنجش نہیں ہے۔
        بس مجھے نسلی لسانی مسلکی تفاوت سے الجھن ہوتی ہے۔
        اختلاف ہو تو احسن طریقے سے کر دیا جائے ۔
        جو لوگ فساد کی جڑ ہیں انہیں سمجھیں ۔انشاءاللہ اردو بلاگستان کا ماحول اچھا ہو جائے گا۔

  10. UncleTom نے کہا:

    اسلام علیکم
    جناب فکرِ پاکستان صاحب بہت اچھا مضمون لکھا ہے ، میرا اختلاف چند مسائل میں اکثر رہتا ہے شاید آپکے بلاگ پر بھی ایک دو جگہ میں نے اختلاف کیا ہو ، اور میری کوشش ہوتی ہے کہ کوی بھی شخص جس سے میرا اختلاف ہو میں اس سے اچھے طریقے سے پیش آوں اور یہ تو بلاگر ہی بتائیں گے کہ میں اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوں ۔

    آپ کی تحریر بہت اچھی ہے ، مجھے صرف ایک حوالہ چاہییے ہے عراق کے علماء کے حوالے سے جو آپنے لکھا ہے کہ وہ مناظروں میں لگے ہوے تھے

  11. UncleTom نے کہا:

    اسلام علیکم
    جناب فکرِ پاکستان صاحب بہت اچھا مضمون لکھا ہے ، میرا اختلاف چند مسائل میں اکثر رہتا ہے شاید آپکے بلاگ پر بھی ایک دو جگہ میں نے اختلاف کیا ہو ، اور میری کوشش ہوتی ہے کہ کوی بھی شخص جس سے میرا اختلاف ہو میں اس سے اچھے طریقے سے پیش آوں اور یہ تو بلاگر ہی بتائیں گے کہ میں اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوں ۔

    آپ کی تحریر بہت اچھی ہے ، مجھے صرف ایک حوالہ چاہییے ہے عراق کے علماء کے حوالے سے جو آپنے لکھا ہے کہ وہ مناظروں میں لگے ہوے تھے اگر آپ مجھے اس تاریخ کی کتاب کا نام بتا دیں جس میں آپ نے یہ پڑھا ہے تو بہت مشکور ہوں گا ، اصل میں میں نے بہت لوگوں سے یہ سنا ہے لیکن کسی نے کتاب کا نام نہیں بتایا ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      علیکم السلام۔ انکل ٹام صاحب آپ نے جو حوالہ مانگا ہے اسکا جواب اتنا طویل ہے کے مجھے اسکے لئیے ایک عدد پوسٹ لکھنی پڑے گی، انشاءاللہ جیسے یہ وقت نکال پایا آپکو اپکے سوال کا جواب میں پوسٹ کی صورت میں دے دونگا۔

  12. بہت خوب !!!
    غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں؟ .بڑے آدمی کی پہچان یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطیوں کو تسلیم کرلیتا ہے …
    لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ اردو بلاگنگ ورلڈ میں لوگ اتنے حساس کیوں ہیں ؟ گالم گلوچ اگر ہو بھی گئی تو اس سے فرق کیا پڑتا ہے ؟ کوئی دشمنی تو نہیں ہوئی . کسی کا مال نہیں کھایا ، کسی کی جائیداد نہیں چھینی، کسی کو جسمانی یا مادی طور پر نقصان تو نہیں پہنچایا …میں زبانی کلامی جنگ سے مزہ لیتا ہوں کیونکہ حقیقی زندگی میں وہ الفاظ استعمال نہیں کرسکتا جو نیٹ پر کرلیتا ہوں.
    .بھڑاس ہی نکل جاتی ہے. اندر کا بیڈ مین ٹھنڈا پر جاتا ہے …کسی کا کیا جاتا ہے ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      جواد صاحب آپ پیشے سے ماشاءاللہ ڈاکٹر ہیں ڈاکٹر کا تو کام ہی مسیحائی کرنا ہے۔ جہاں تک میں سمجھہ پایا ہوں آپ خاصہ مذہبی رجحان بھی رکھتے ہیں چہرہ بھی آپکا ماشاءاللہ سے سنت رسول صلی علیہ وسلم سے آراستہ ہے، میں نہیں سمجھتا کے آپ جیسا انسان اتنی معمولی سی بات نہیں سمجھتا ہوگا کے گالم گلوچ کو یا بد زبانی کو اسلام میں کس نظر سے دیکھا گیا ہے۔ حدیث پاک ہے کہ، حضور پاک صلی علیہ وسلم نے فرمایا کے تم مجھے دو چیزوں کی حفاظت کی ظمانت دے دہ میں تمہیں جنت کی ظمانت دیتا ہوں، ایک وہ جو تمارے دانتوں کے بیچ میں ہے اور ایک وہ جو تماری ٹانگوں کے بیچ میں ہے۔ اس حدیث کے بعد بھی اگر آپ بھڑاس نکالنے پر مضر رہ سکتے ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      • بڑے بھائی!
        میں کبھی پہل نہیں کرتا …..نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ آدمی کہیں بھی کبھی بھی اپنے دل کی بھڑاس گالیوں کی صورت میں نکال لے …لیکن اگر کوئی آپکو برا بھلا کہہ دے تو آپ کے لئے دو راستے ہیں ایک شرفا کا راستہ اور ایک عامیانہ راستہ …میں یہ کہتا ہوں کہ شریفوں سے شریفوں کے لہجے میں اور عامی سے عامیانہ لہجے میں …
        اگر آپ بھتے کی رسید کے جواب میں قریب رکھا ہوا اسٹول سامنے والے کے سر پر نہیں ماریں گے تو آپ ہمیشہ کے لئے حرام خوروں کے غلام بن جائیں گے .

      • fikrepakistan نے کہا:

        جواد صاحب جو تاویل آپ پیش کر رہے ہیں یہ ہی تاویل دوسروں کے پاس بھی ہوتی ہے، بحرحال آپ سمجھدار ہیں، اچھے برے کی تمیز یقیناَ ہوگی آپکو۔

      • ABDULLAH نے کہا:

        گالیاں پسند کرنے والا صرف اور صرف انسان کی شکل میں شیطان ہی ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
        اور ہر بلاگ پر دوسروں کے ناموں سے گالیوں بھرے تبصرے کرنے کی شیطانی حرکت کرنے والابھی وہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

      • fikrepakistan نے کہا:

        عبداللہ بھائی جو بھی یہ حرکت کرتا ہے وہ سب کو آپس میں لڑوانا چاہتا ہے، اسلئیے سب کی زمہ داری بنتی ہے کے عقل و فہم سے کام لیں۔

  13. عمران اقبال نے کہا:

    فکر پاکستان بھاءی۔۔۔۔ یاسر بھاءی کے نام سے یہ تبصرہ یاسر بھاءی نے نہیں کیا۔۔۔ کوءی اور ان کا نام لے کر مختلف بلاگز پر یہ پوسٹ کر رہا ہے۔۔۔ تانیہ آپا کے بلاگ پر تو میرے نام سے بھی تبصرہ کیاگیا ہے۔۔۔ اس لیے آپ اس تبصرے کو حذف کریں اور یقین کر لیں کہ یہ کام اس شخص کا ہے جو آپ کی اس تحریر کے مقصد کو نہیں مانتا۔۔۔

  14. hijabeshab نے کہا:

    بہت اچھی تحریر ہے اگر عمل بھی کیا جائے تو ۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      محترمہ حجاب صاحبہ، میں نے تو اپنے طور پر پوری نیک نیتی کے ساتھہ ابتداء کر دی ہے اب ہم سب کو مل کر اس ابتداء کو کامیاب کرنا چاہییے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s