انکل ٹام سے انکل سام تک۔


میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ایک مثال پیش کی تھی عراق پر تاتاریوں کے حملے کے حوالے سے کے جس وقت تاتاریوں نے عراق پر حملہ کیا اس وقت عراق کے علماء و عمائدین مناظروں میں لگے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کی دھجیاں بکھیر رہے تھے۔

انکل ٹام صاحب نے مجھہ سے حوالہ طلب کرلیا اس تاریخی حقیقت کا، عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کے یہ تو بہت ہی معمولی سی مثال ہے امت مسلمہ کے رویے کی ایسی ہزاروں مثالیں ایسے ہزاروں حقائق موجود ہیں جن سے امت مسلمہ چاہ کر بھی چشم پوشی نہیں کرسکتی، کہ جس وقت دنیا اپنی لگی بندی ذہنیت سے نکل کر انقلابی تبدیلیوں کی طرف جا رہی تھی اس وقت ہم مسلمان کن کن بیہودہ کاموں میں اپنی توانائی صرف کررہے تھے، اور آج تک کر رہے ہیں۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں ایسی ہی چند حقیقتوں کا۔

سلطنت عثمانیہ کا زوال تو پندھرویں صدی کے بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا پندھرویں صدی کے بعد سے لے کر انیس سو بائیس تک مسلمان اقتدار کے لئیے آپس میں ہی لڑتے رہے، نسل پرستی، قوم پرستی، مذہبی تفرقے، جدت کو کفر قرار دینا، یہ سب بنیادی اسباب بنے مسلمانوں کے زوال کے، جس وقت سلطنت عثمانیہ کے ہاتھہ سے ایک ایک کر کے ملک نکل رہے تھے اس وقت کیا کررہے تھے مسلمان؟ انجام انیس سو تئیس میں سطنت عثمانیہ کے مکمل خاتمے کی صورت میں ہوا۔ دوسری جنگ عظیم تک امریکہ ایٹم بم بنا چکا تھا اور انیس سو پینتالیس میں جاپان پر گرا بھی چکا تھا، یہ وہ وقت تھا جب امت مسلمہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوب چکی تھی.

جس وقت انگریزوں نے برصغیر پر قبصہ کیا اس وقت بہادر شاہ ظفر شعر و شاعری کی محفلیں گرم کرنے میں لگے ہوئے تھے اور رعایا کبوتر بازی میں لگی ہوئی تھی، جس وقت اسرائیل ڈرون بنا رہا تھا قذافی اس وقت لڑکیوں کی فوج اپنے گرد جمع کر کے خیمے آباد کر رہا تھا، سوئیڈن کا بادشاہ جس وقت میڑنٹی سسٹم کو ڈیولپ کر رہا تھا تاکے اسکی بیوی کی طرح کسی کی بیوی زچگی کے دوران ناقص علاج کی وجہ سے نا مرے، تو شاہ جہاں اس وقت ممتاز کے عشق میں ( جسکا انتقال چودھویں بچے کی پیدائش میں ہوا تھا ) تاج محل تعمیر کروا رہا تھا.

جو لوگ ترک خلیفہ کے پاس پرنٹنگ پریس لے کر آئے انہیں یہ کہہ کر بھگا دیا گیا کے یہ شیطانی چرخہ ہے اس سے ہمارے وہ لوگ بیروزگار ہو جائیں گے جو ہاتھہ سے خطاطی کرتے ہیں جدت کو کفر قرار دیا گیا، مجبوراً ان لوگوں نے جرمنی میں اس نظام کو متعارف کروایا۔

دور کیوں جاتے ہیں جس وقت ہمارے ہاتھہ سے مشرقی پاکستان گیا اس وقت کیا کررہے تھے ہم لوگ؟ شہاب نامہ پڑھیئے گا کبھی جس میں قدرت اللہ شہاب صاحب نے لکھا ہے کہ میرے حساب سے تو مشرقی پاکستان اس دن ہی الگ ہوگیا تھا جس دن کچھہ سینٹری کا سامان امپورٹ کیا گیا اس میں لوٹے بھی تھے تو مشرقی پاکستان کے زمہ داروں نے کہا کے ہمارے حصے کا سامان ہمیں دیا جائے جواب میں کہا گیا کے تمہیں اس سامان کی کیا ضرورت ہے تم تو کیلے کے چھلکے سے نجاست صاف کرنے والے لوگ ہو۔

صدام حسین نے کویت پر صرف دو گھنٹے میں قبضہ کرلیا تھا، کیا کر رہے تھے اس وقت کویت کے حکمران؟ ایک سو پچاس بیگمات نکلی تھیں کویت کے بادشاہ کے حرم سے، کویت پر عراق کے قبضے کے بعد سعودی عرب کی مقدس زمین کے رکھوالے اور مجاہدین اسلام کہاں تھے اور کیا کررہے تھے؟ کہ جب سعودی عرب کی مقدس زمین کی حفاظت کے لئیے سعودی حکمرانوں کو کفر کی علامت امریکہ کا سہارا لینا پڑا؟ جو کے آج تک سعودی زمیں کی حفاظت پر معمور ہیں۔

آج دنیا تعلیم میں ٹیکنالوجی میں کہیں سے کہیں نکل گئی تو ہم آج بھی کیا کر رہے ہیں؟ دنیا یونیورسٹیز بنا رہی ہے لیبارٹریز بنا رہی ہے ریسرچ سینٹرز بنا رہی ہے، ہم مدرسے بنا رہے ہیں ہم خود کش بمبار بنا رہے ہیں، پوری مسلم امہ میں اتنی یونیورسٹیاں نہیں ہیں جتنی صرف انڈیا میں ہیں۔ آٹھہ ہزار چارسو یونیورسٹیاں ہیں انڈیا میں۔ مہذب دینا اور ہمارے درمیان ہر گزرتے روز کے ساتھہ ایک صدی کا فرق پیدا ہورہا ہے، کوئی سوچتا ہے اس طرف؟ نعرے سنو ان جاہلوں کے امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کر دو، انڈیا پہ حملہ کر دو، بھوکی ننگی قوم دس دن کا راشن نہیں ہے پاس، بیکار کی جہالت سے بھری جذباتی تقریریں کروالو ان سے۔ ایچ ای سی کو ختم کیا جارہا ہے جس کے لئیے پورے پاکستان میں شور پڑا ہوا ہے، لاکھوں ڈالرز کی بھیک دیتے ہیں امریکہ اور یورپ ہمیں تعلیم کی مد میں تب یہ ادارہ چلتا ہے اور لوگ ہائر ایجوکیشن لے پاتے ہیں اس پر احسان فراموشی دیکھو کے یہ امریکہ کے پیسے سے ہی ہائر ایجوکیشن لینے والے چند مذہب فروش بلیک میلروں کے اکسانے پر امریکہ کے ہی خلاف بھونک رہے ہوتے ہیں بھیک بھی چاہیئے حقوق بھی چاہئیں آزادی بھی چاہئیے، بھکاری کے پاس بارکنگ پوزیشن ہوتی ہے کیا ؟۔

تعلیم ہی واحد زریعہ ہے دنیا کے برابر آنے اور خود کو منوانے کا۔ یہ جذبات فروش کہتے ہیں کے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جائے، کوئی ان جاہلوں کو بتائے کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال بات کرنے کے لئیے قد کا برابر ہونا ضروری ہوتا ہے،  اور فلحال ہم ہی کیا پوری مسلم امہ کا یہ حال ہے کے امریکہ کی  آنکھیں تو کیا تلوے بھی دور کہیں بہت دور نظر آرہے ہیں۔

جس وقت امریکہ چاند پر پہلا قدم رکھہ رہا تھا ہم اس وقت زمین پر ٹھیک سے نہیں چل پا رہے تھے، زمیں پر تو ہم آج تک بھی ٹھیک سے نہیں چل پا رہے ہیں، اپنے ٹریفک نظام پر غور فرما لیجئیے گھنٹوں سڑکوں پر ٹریفک جام رہتا ہے، سڑکوں کے بجائے آئی لینڈ پر گاڑیاں چل رہی ہوتی ہیں، تو بھائی میرے معمالات کو سمجھیں حقیقت کو پہچانیں جذباتیت سے باہر آئیں پھر معاملات کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان سب سیاسی اور مذہبی جانوروں سے جان چھڑانی ہوگی یہ نہ ہمیں پڑھنے دیں گے نہ شعور لینے دینگے نہ ہی کبھی حق اور صحیح راہ دکھائیں گے.

ان سب کا مفاد قوم کے جاہل رہنے میں ہی ہے جب تک یہ قوم جاہل رہے گی تب تک ہی ان سب کی سیاسی اور مذہبی دکانیں چلتی رہیں گی، اسلئیے خود بھی ان درندوں سے بچیں اور اپنی آنے والی نسل کو بھی ان سب ناپاک لوگوں سے دور رکھیں.

اب یقیناَ آپکی سمجھہ میں آگیا ہوگا کے ہم مسلمان کیا کرتے رہے ہیں اور آج تک کیا کررہے ہیں۔ مثالیں تو انتی ہیں کے تفصیل سے لکھنے بیٹھا جائے تو پوری پوری کتابیں لکھہ دی جائیں فلحال تو اتنے حقائق ہی کافی ہیں آپ کے سوال کے جواب میں۔

 

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

123 Responses to انکل ٹام سے انکل سام تک۔

  1. قاسم نے کہا:

    پوری تقریر تو لکھ ماری پر حوالہ نہیں لکھا حوالہ دیجئے اور لوگوں کے علم میں اضافہ کیجئے

  2. آپ کی کچھ باتيں درست ہيں مگر کچھ نہيں ۔ کچھ ايسی معلومات ہيں جن کی تشہير مناسب نہيں ۔ صرف چند باتيں لکھ ديتا ہوں
    تاتاريوں کے ہاتھوں عراق کی تباہی کی ايک وجہ تو آپ نے لکھ دی ہے دوسری اور بڑی وجہ مشہور سائنسدان ناصر الدين الطوسی کی غداری ہے جو ذاتی لالچ کی وجہ سے خفيہ طور پر ہلاکوں خان سے مل گيا تھا ۔ خيال رہے کہ يہ سائنس کے عروج کا دور تھا جو مسلمانوں کے ہاتھوں ہو رہا تھا

    پاکستان ميں پچھلے 20 سال ميں کوئی مدرسے نہيں بنے ۔ تعليم کی جڑيں مدرسے والے نہيں کاٹ رہے روشن خيال حکمران کاٹ رہے ہيں ۔ ہائر ايجوکيشن کميشن کو توڑنے کا آرڈيننس صدر ذرداری نے جاری کيا ہے کسی مدرسے نے نہيں ۔ مدرسے تو ان بچوں کو پڑھا رہے ہيں جن کے پاس تعليم تو ايک طرف کھانے اور پہننے کيلئے بھی پيسے نہيں ۔ کبھی کسی مدرسے کا چکر لگايئے ۔ ميں ان مدرسوں کی بات نہيں کر رہا جو ہر مسجد کے ساتھ کھلے ہيں ۔ اُن ميں سے بھی زيادہ تر تعليم ہی دے رہے ہيں

    • ABDULLAH نے کہا:

      لو ،کرلوبات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب آپ نے شاید غور سے نہیں پڑھا، میں نے یہ عرض کیا تھا کے ہائر ایجوکیشن امریکہ اور برطانیہ کے دئیے ہوئے فنڈ سے چل رہی ہے پاکستان میں، ورنہ یہاں تو یہ حال ہے کے کراچی یونیورسٹی کے اسٹاف کو دینے کے لئیے تنخواہ تک کے لالے پڑئے ہوئے تھے ابھی پچھلے دنوں تک۔ میں عرض یہ کرنا چاہ رہا تھا کے منہ کھاتا ہے تو آنکھہ شرماتی ہے، یہ طالب علم امریکہ کے دئیے ہوئے پیسوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر کچھہ نام نہاد مذہبیِِِ پلس پیور سیاسی بلیک میلروں کے اکسانے پر امریکہ اور یورپ کے خلاف ہی کھوکھلے اور جذباتی نعرے لگانے سڑکوں پر بھی نکل آتے ہیں۔ اس ضمن میں تو مدرسوں کا تو کوئی ذکر نہیں کیا میں نے۔ اور جہاں تک آپکی یہ بات کہ پچھلے بیس سالوں میں کوئی مدرسہ ہی نہیں بنا تو یہ بلکل ہی بےبنیاد بات ہے، پاکستان میں مدرسہ کلچر تو فروغ ہی انیس سو اسسی کے بعد پایا ہے۔ یہ تیس ہزار مدرسے پھر کب بنے ہیں ؟

  3. ABDULLAH نے کہا:

    جہاں ایسے ایسے عالم نما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوں وہاں آپ کسے عقل دے سکتے ہیں؟؟؟؟

  4. عمران اقبال نے کہا:

    سمجھنے کے لیے تو یہ دی گءیں مثالیں بھی کافی ہیں۔۔۔ ہم فلسفہ کے چکر میں پھنس کر حقیقت سے منہ کیوں موڑ لیتے ہیں۔۔۔ حوالوں کو چھوڑیں اور تعلیم کو پکڑیں۔۔۔ تب ہی کچھ نیا سیکھ بھی سکیں گے۔۔۔ اب یہ کہنا ضروری تو نہیں کہ فکر پاکستان کا مقصد بیان کیا ہے۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عمران بھائ، کوئی بھی زی فہم انسان یہ سارے حقائق جاننے کے بعد میرا نہیں خیال کے حجت میں پڑے گا، ہمارا المیہ ہی یہ ہے کے ہم احساس برتری سے باہر نہیں نکلنا چاہتے، ہم عظیم تھے کبھی، ہم تعلیم یافتہ تھے کبھی، ہم علم اور سائنس میں آگے تھے کبھی، ہم دنیا پر راج کرتے تھے کبھی، مگر یہ سب ماضی بعید کی باتیں ہوچکی ہیں ہمارا مسلہ ہی یہ ہے کے ہم پاسٹ گلوری سے نہیں نکلنا چاہتے، کتے کی طرح پٹ رہے ہیں ساری دنیا میں زلیل و خوار ہو رہے ہیں ساری دنیا میں اپنی جہالت اور کم علمی کی وجہ سے مگر یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کے ہم اب دور جدید کے تقاضوں سے بہت پیچے رہ گئے ہیں، ہم اب بھی خود کو ہی برتر مانتے ہیں تو پھر رہو بھائی اس ہی خوش فہمی میں اور مار کھاتے رہو ساری دینا سے۔ مگر یہ فیکٹ ہے کے آنا لوٹ کر جدید تعلیم کی طرف ہی پڑے گا آنا لوٹ کر ٹیکنالوجی کے حصول کی طرف ہی پڑے گا، ہم نہیں آئیں گے تو ہماری نسلیں آئیں گی اور پھر وہ ہماری قبروں پر جوتے ماریں گی کے سن دوہزار گیارہ میں بھی جاہلوں تم لوگ دنیا سے اتنا پیچھے تھا اور پھر بھی اکڑتے تھے کے ہم برتر ہیں ہم عظیم ہیں لعنت ہے تم پر افسوس ہے ہمیں کے ہم اتنی گھٹیا سوچ رکھنے والوں کی اولادیں ہیں۔ مسلہ یہ ہے کے انکی سمجھہ میں بات آتی ہے مگر کم از کم سو سال بعد۔ سر سید احمد خان نے انگریز کی غلامی سے نکلنے کے لئیے قوم سے انگریزی زبان سیکھنے کا نعرہ لگایا تو یہ سارے جاہل ملا ایک زبان ہو کر اس عظیم انسان کے خلاف ہوگئے اور ان پر کفر کے فتوے لگا دئیے جبکہ آج سو سال بعد ان ہی ملاوں کی اولادیں باقائدہ لائن میں لگ کر اپنے بچوں کو انگلش اسکول میں داخل کرواتے ہیں، جب لاوڈ اسپیکر آیا تو ان ہی ملاوں نے کہا کے یہ کافروں کا ہتھیار ہے اسکا استعمال کفر ہے، جبکہ آج یہ ہی لاوڈ اسپیکر ان ملاوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ یہ نہیں انکی نسلیں مانیں گی مگر کم از کم سو سال زلیل ہونے کے بعد۔ یہ جاہلت میں ڈوبے ہوئے گھٹیا ترین لگی بندی سوچ کے لوگ ہیں جو صدیوں سے ایک ہی حال میں جی رہے ہیں نہ اپنے اندر کوئی مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس جاہل قوم کی ذہنیت کو بدلنے دینا چاہتے ہیں کیوں کے جس دن لوگوں کو شعور آگیا اس دن انکی کون سنے گا؟ انکی دکانوں پر تو تالے لگ جائیں گے اسلئیے یہ کبھی بھی قوم کو عصر سے ہم آہنگ نہیں ہونے دینگے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کے مومن اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے، اور یہ آٹھہ سو سال پرانا درس نظامی پڑھانے میں ہی لگے ہیں آج تک۔ بحرحال دلیلیں تو بہت دی ہیں میں نے کسی بھی زی شعور انسان کے لئیے یہ سب دلیلیں کافی ہیں اپنی سوچ کا رخ صحیح سمت میں ڈالنے کے لئیے باقی جو سمجھنا ہی نا چاہے تو وہ تو من او سلویٰ کو بھی نہیں مانتا۔

  5. UncleTom نے کہا:

    کچھ لوگوں کو علماء سے مفت ک بغض ہوتا ہے اور میرے خیال سے آپ کے ساتھ بھی اسی قسم کا مسلہ ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جگہ جگہ آپ مولویوں اور علماء کو گھسیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسا آپ نے پچھلے تھریڈ میں یہ بات کہہ کر کیا کہ بغداد کے زوال کے وقت علما مناظروں میں لگے ہوے تھے ۔ میں اس بات کو سالوں سے سنتا آرہا ہوں لیکن اسکی کوی تصدیق نہیں، جو بھی یہ بات کہتا ہے اسکو حقیقت سمجھ کر کہتا ہے ، چونکہ آپنے بڑے دعوے اور وثوق سے بات کی تھی اسی لیے میں نے سوچا آپ کے پاس اسکی کوی دلیل بھی ہو گی، لیکن آپکی یہ پوسٹ بتاتی ہے کہ آپکے پاس بھی سواے خالی الفاظوں کے کوی دلیل نہیں۔ اس سے میرا شک اور پختہ ہو چکا ہے کہ یہ عوامی طور پر مشہور باتوں کے سوا کچھ نہیں۔

    جو حالت ان دنوں بغداد کی تھی اسکو دیکھتے ہوے یہ تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ علماء مناظروں میں لگے ہوں اور وہ بھی اس قسم کے جس طرح نسیم حجازی نے لکھا ہے ۔ میرے خیال سے زیادہ تر لوگ اسی کے ناول کو پڑھ کر شور مچاتے ہیں۔ بہرحال ، جس طرح ہر ادارے کے کچھ شعبہ جات ہوتے ہیں اسی طرح علماء کا بھی ہے ، مختلف علماء مختلف چیزوں میں سپیشلائزیشن کرتے ہیں، بہرحال اختلاف ہر جگہ ہوتا ہے اور علماء کی اس پر بحثیں بھی ہوتی ہیں، اسی طرح جہادی لائین کے کچھ علماء ہوتے ہیں۔

    میں اسکی ایک مثال دینا چاہوں گا کہ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں ایک بڑا کردار علماء نے ادا کیا ، جہاں مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ نے انگریز پادریوں سے مناظرے کیے وہیں ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں انکو اپنے علاقے کا سربراہ مقرر کیا گیا، مولانا قاسم نانوتویؒ ، مولانا رشید احمد گنگوہی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں بڑا نام ہیں، اس تجربے کی بناد پر میرے لیے یہ ماننا بہت مشکل ہے کہ جس طریقے سے یہ بات مشہور ہو چکی ہے کہ علماء سب کچھ چھوڑ کر مناظروں ہی میں لگے ہوے تھے ۔

    جب قوم کو جگانے کی بات اور کفار سے جہاد کی بات آتی ہے تو یہ علماء سب سے آگے ہوتے ہیں، اور اسکی سب سے قریبی مثال جس سے شاید ہی کوی اختلاف کرے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی اور شاہ اسماعیل شہیدؒ ہیں (جن پر یاسر بھای بھی لکھ چکے ہیں) لیکن چونکہ لوگوں کو مولویوں سے بغض ہوتا ہے اسی لیے اگر گلی کا کتا بھی مر جاے تو مولوی کو ضرور رگڑا لگانا ہے ۔
    میں نے آپ سے نہایت اخلاص سے حوالہ مانگا تھا آپنے حوالہ دینے کی بجاے الٹی سیدھی چھوڑنی شروع کر دیں ۔ آپ نے مسلمانوں کی زوالی کا رونا رونا شروع کر دیا، مسلمانوں کی اجماعی زوالی کی ہو سکتا ہے تھوڑی بہت ذامہ داری علماء پر آتی ہو لیکن اسکو وجہ بنا کر لتاڑنا بلکل بھی ٹھیک نہیں۔

    ہم مدرسے بنا رہے ہیں ہم خود کش بمبار بنا رہے ہیں،”

    ان الفاظوں کے ساتھ آپ کی روشن خیالی کھل کر سامنے آجاتی ہے ، مدارس تعلیم حاصل کرنے کی جگہوں کو کہا جاتا ہے ، اگر مسلمان مدارس بنا رہے ہیں تو اس میں بری بات کیا ہے ؟؟ بلکہ مدارس توآپ لوگوں کی روشن خیالی تعلیمی اداروں سے اچھے ادارے ہیں یہاں غریب اور امیر اکھٹے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں، یہ وہ تعلیمی ادارے نہیں جو غریب عوام میں اتنا احساس کمتری پیدا کر دیں جیسا آپکے روشن خیال تعلیمی اداروں نے کیا ہے کہ بڑے کالجز اور یونیورسٹیوں میں چھوٹے گھرانوں کی لڑکیاں موجودہ دور کے فیشن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جسم فروشی شروع کر دیں، بلکہ مدارس میں تو امیر طلباء کا بھی احساس برتری ختم کر دیا جاتا ہے اور خالص اسلامی تعلیمات میں انکو امیر غریب کالے گورے کا فرق مٹا کر اکھٹا رہنا سکھایا جاتا ہے ۔

    پھر آپ نے لکھا

    یہ امریکہ کے پیسے سے ہی ہائر ایجوکیشن لینے والے چند مذہب فروش بلیک میلروں کے اکسانے پر امریکہ کے ہی خلاف بھونک رہے ہوتے ہیں بھیک بھی چاہیئے حقوق بھی چاہئیں آزادی بھی چاہئیے، بھکاری کے پاس بارکنگ پوزیشن ہوتی ہے کیا ؟

    اگر امریکہ روشن خیالی کی تعلیم کے لیے پیسے دیتا ہے
    تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم لوگ اس کی غلط باتوں پر بھی سر جھکا کر بیٹھ جائیں صرف اسی لیے کہ وہ ہمیں اپنی روشن خیالی کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے چندہ دیتا ہے ، آپ لوگوں کے دل میں اصل میں امریکہ کا احساس برتری بیٹھا ہوا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ آپ لوگ اسی ہر غلط کام کو بھی جسٹیفائی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اگر کوی کہتا ہے کہ امریکہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی جاے تو اس میں غلط بات کیا ہے ؟؟ ہمارے یہاں مغربی کلچر میں اگر کوی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات نہ کرے تو اسکو جھوٹا سمجھا جاتا ہے ۔ :ڈ:ڈ

    بہرحال آپ نے جتنی بھی چیزیوں گنوائی ہیں یہ سب روشن خیالوں کا قصور نکالتی ہیں کیونکہ پاکستان کے بننے سے لے کر اب تک وہی حکومت پر قبضہ کر کے بیٹھے رہے ، تو آپ جوتے اٹھا کر ان کو ماریں کیونکہ وہی اس زوالی کے ذمہ دار ہیں ۔

    ویسے اس مضمون میں آپ نے ایک نئی بات کی ہے کہ مغل بادشاہ نے پرنٹنگ پریس والوں کو بھگا دیا تھا ، مجھے تاریخ کا اتنا علم نہیں ہے ، اگر آپکو اسکا حوالہ ملا ہو تو مجھے ضرور دجیے گا ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      آپ نے فرمایا کے مدارس تعلیم حاصل کرنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے، بلکل صحیح بات ہے مگر کونسا علمِِ؟ آٹھہ سو سال پرانا درس نظامی، جو کے خود ڈسپیوٹڈ ہے، آوٹ ڈیٹڈ ہے، یہ نظام تو مدارس میں صدیوں سے پڑھایا جارہا ہے اور صدیوں سے ہی کوئی مسلمان کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکا، کیا دور جدید کا تقاضہ یہ درس نظامی ہے ؟ ڈاکڑ ثمر مبارک اور ڈاکڑ قدیر صاحب یہ درس نظامی پڑھہ کر ہی سائنسدان بنے ہیں؟ کیا اب بھی آپکو نہیں لگتا کے مسلمانوں کے اس لگی بندی ذہنیت سے باہر نکل آنا چاہئیے اور جدید دور کے جدید تقاضوں کے ساتھہ چلنا چاہئیے، پہلے بھی یہ حدیث عرض کر چکا ہوں پھر سے عرض ہے کے، مومن اپنے عصر ( دور ) سے ہم آہنگ ہوتا ہے، کیا آپکو لگتا ہے کے یہ آٹھہ سو سال پرانا درس نظامی پڑھا کر ہم دور جدید سے ہم آہنگ ہیں؟ اللہ کے واسطے اس گھسی پٹی ذہنیتوں سے اب باہر آجاو ساری دنیا میں پٹ رہے ہو مگر پھر بھی عقل نہیں آرہی، ڈرون حملوں کا توڑ مدرسے سے ملے گا؟ یہ ایٹم بم کا فامولہ میران شاہ کے کسی مدرسے میں بنایا گیا ہے؟ یہ جنتی بھی آج دنیا میں ترقی نظر آرہی ہے اس میں کیا کردار ہے کسی بھی درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے والے کا؟ پاکستان میں ایک سازش کے تحت اعلیٰ دماغ والوں کو آگے نہیں آنے دیا جاتا، اسلئیے ہی ایسے قابل پاکستانیوں کو باہر والے مہنگے دام دے کر لے جاتے ہیں، کبھی کہیں سنا کے فلاں مدرسے سے فارغ التحصیل طالب علم کو امریکہ یا کوئی یورپی ملک کی حکومت مہنگے دام دے کر لے گئی ؟ میں آپکو ایک ایسے عالم کا ٹیلی فون نمبر دے رہا ہوں جو کے ایک مستند عالم دین ہیں حافظ قرآن ہیں، اور یہ خود درس نظامی پڑھے ہوئے ہیں مدارس کی تعلیم اور درس نظامی کی حقیقت آپ کو ان سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا، حافظ احسان انکا نام ہے 03212991687 یہ انکا سیل نمبر ہے ایک بار ان سے مل لیں آپکی مکمل تشفی ہوجائے گی یہ کیوں کے عالم دین ہیں تو یقیناَ انکی کہی ہوئی بات آپکی سمجھہ میں آسانی سے آجائے گی۔ یہ آپکو کھول کھول کر سارے حقائق بتا دیں گے جس سے انشاءاللہ آپکی تمام غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی۔

      • UncleTom نے کہا:

        جناب فکر پاکستان صاحب جتنا جتنا آپکی پوسٹس کو پڑھتا جاتا ہوں اتنا ہی یقین ہوتا جاتا ہے کہ آپ بغیر علم کے بات کر کر رہے ہیں، درس نظامی صدیوں پرانا ضرور ہے لیکن اس میں وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوے تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، اسکے علاوہ بھی دیگر کورسز مدارس میں پڑھاے جاتے ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا کہ درس نظامی آوٹ ڈیٹیڈ ہے سراسر غلط اور کم علمی والی بات ہے ۔
        صدیوں سے مسلمان کوی کارنامہ سر انجام نہیں دے سکے، یہ بھی غلط بات ہے ، اور مجھ جیسا دقیا نوسی انسان اسکو تسلیم نہیں کرتا، ہاں اگر آپ اپنے الفاظ کو تبدیل کر لیں اور جملہ ایسے بنا لیں کہ صدیوں سے مسلمانوں کے کارناموں کا تذکرہ نہیں ہوا یعنی انکے کارناموں پر شور نہیں مچایا گیا کیونکہ مغرب نے شور مچانا سیکھ لیا ہے اور انکے شور کے سامنے مسلمانوں کی ضعیف آواز دب کر رہ گئی ہے اور جو مسلمان شور مچانے والے ہیں وہ بھی کفار کے شور کو سن کر اسی کا شور مچاتے ہیں۔
        آپ نے کہا کہ درس نظامی پڑھ کر سائنسدان بنے تو جناب مجھے اس بات سے بلکل بھی انکار نہیں کہ درس نظامی پڑھنے والے سائنسدان نہیں بنے لیکن جو پہلے مسلمان سائنسدان تھے وہ ضرور درس نظامی پڑھتے تھے موجودہ دور میں چونکہ کالجز اور یونیورسٹیاں بن گئی ہیں اسی لیے مدارس نے جب دیکھا کہ یہ کام کالجز والے کر رہے ہیں تو اس سے دست بردار ہو گئے ورنہ دو ڈھای سے سالوں پہلے تک دارلعلوم دیوبند میں جانے والے انگریز انکی ریاضی دانی پر حیران ہوا کرتے تھے۔ یہ جتنے مسلمان سائنسدان ہیں جنہوں نے سائنسی علوم کی بنیاد رکھی ہے یہ آکسفورڈ نہیں جاتے تھے بلکہ انہی مدارس میں جایا کرتے تھے ۔
        اسکے علاوہ ضرورت کے مطابق علماء کو جدید دور کی ٹیکنالوجی سے بھی مدارس میں متعارف کروایا جا رہا ہے کبھی کسی مدرسے کا چکر لگا کر دیکھیں۔
        آپ نے پوچھا کہ ڈرون حملوں کا توڑ مدرسے سے ملے گا تو میرا خیال تو یہ ہی ہے کہ ہاں مدرسے سے ہی ملے گا کیونکہ یونیورسٹیوں والے تو اسکے جسٹیفای کرتے ہیں، اور جس چیز کی تاویلیں گھڑی جاتی ہوں اسکا توڑ نہیں کیا جاتا ۔ ڈرون حملوں کے بارے میں آپکے کالجز اور یونیورسٹیوں والے سائنسدانوں کے بیانات عوام کے سامنے ہیں ۔
        مدراس خود کش بمبار پیدا کر رہے ہیں یہ بات آپکی جھوٹ اور تعصب پر مبنی ہے جسکا جواب سعد بھای دے چکے ہیں ۔
        اور مجھے آپ کے حوالے کے کسی عالم سے بات کرنے کی ضرورت نہیں میری خود ۴۔۵ مفتیوں اور کئی علماء سے دوستی ہے جنہوں نہ انہی مدارس سے درس نظامی پڑھا ہے اور جدید دور کےساتھ چلتے ہیں۔ ایک مولانا صاحب نے پہلے درس نظامی کیا پھر اسی یونیورسٹی میں جس میں ہمارے بلاگر دوست عثمان پڑھتے ہیں وہاں سے وہ اکنامکس اور بزنس کے کورس میں ڈگری لے رہے ہیں، ایک مولانا صاحب اور ہیں جنہوں نے درس نظامی مکمل کیا اور پھر کمپیوٹر پروگرامنگ سیکھی، اسکے علاوہ اور بہت سی مثالیں ہیں بلکہ انڈیا میں تو مدارس کے تحت کالجز اور یونیورسٹیاں بھی چل رہی ہیں جہاں جدید تعلیم دی جا رہی ہے ۔ اور جتنی سائنسی علوم کی ضرورت ہے اتنی مدارس میں پڑھای بھی جاتی ہے ، ایک مولانا صاحب جنہوں نے درس نظامی کیا اور خود ایک مدرسے میں پڑھاتے بھی ہیں ،انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے فلکیات بھی پڑھی ہوی ہے ۔ اور مدرسے سے ہی پڑھی ہے اور اس مدرسے میں فلکیات پر کورس بھی کروایا جاتا ہے ۔
        میں اتنی دیر سے اس بات پر زور ڈال رہا ہوں کہ کام شعبوں میں بٹے ہوتے ہیں اور جن کاموں کا آپ رونا رو رہے ہیں وہ موجودہ دور کی ان درسگاہوں جنکو مدارس کہا جاتا ہے ، سے فارغ التحصیل ہونے والے لوگوں کے نہیں ہیں۔ اسی لیے انکو بیچ میں گھسیٹنا فضول ہے ۔
        عمران اقبال بھای
        آپ انکی پچھلی پوسٹ میں میرا کمنٹ دیکھ سکتے ہیں میں نے انکی اچھی بات کی تعریف بھی کی ہے ، لیکن ایک حوالہ مانگا جو مجھے نہیں ملا اور اسکو جسٹیفائی کرنے کے لیے انکو دوسری کہانیاں نکالنا پڑیں، اور یقین کریں میں نے علم کی خاطر وہ حوالہ پوچھا تھا۔ میں صرف ایک غلطی کی طرف توجہ دلا رہا ہوں جو کہ عوامی طور پر مشہور ہے ۔ اور لوگ اس بات کو اچھال کر علماء کی توہین کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ، اور شاہ عبد العزیز دہلوی کے فتاوی عزیزی میں علماء کی توہین کو کفر کہا گیا ہے اور مولانا تھانوی نے بھی ایسا ہی کہا ہے ، اور یہ بات تجربے سے بھی ثابت ہے کہ علماء کی توہین کرنے والوں کا ایمان سلب ہو گیا اس پر بہت سے واقعات بھی پیش کیے جا سکتے ہیں ، اگر میری توجہ ایک چیز کی طرف دلانہ مناظرہ ہے تو آپ اسکو مناظرہ ہی سمجھ لیں،

      • fikrepakistan نے کہا:

        ٹام انکل صاحب، آپ کے بیشتر سوالوں کے جواب میں نے جاوید گوندل صاحب کے تبصرے کے جواب میں دے دئیے ہیں آپ وہ پڑھہ لیں، اور آپکی یہ دلیل تو کوئی بھی قبول نہیں کرے گا کہ مولوی حضرات نے اسلئیے جدید تعلیم سے ہاتھہ کھینچ لیا کے اس کے لئیے اسکول اور یونیوسٹیز میدان میں آگئی ہیں۔ اول تو یہ بلکل ہی غیر اسلامی عمل ہے، دوسے یہ کے اگر ایسا کرنا ہی تھا تو بھائی آج سے سو سال پہلے سر سید احمد خان پر کفر کا فتویٰ کیوں لگایا گیا تھا پھر، جب انہوں نے جدید تعلیم کے حصول پر زور دیا تھا؟۔ آپ سے بھی میں وہ ہی بات کہوں گا کے کیا آپکو لگتا ہے کہ درس نظامی جدید دور سے ہم آہنگ ہے؟ میرے بھائی جدید دور کے جتنے بھی علوم ہیں وہ سب کفار کے ہی وضع کردہ ہیں، ایم بی اے، پی ایچ ڈیز، ماسٹرز، ایم فل ماہر معاشیات، ماہر ارضیات وغیرہ وغیرہ یہ ہیں آج کی ضرورت، اور یہ وہ علوم ہیں جنکے نام تک سے واقف نہیں ہیں آج کے ملا حضرات۔

  6. UncleTom نے کہا:

    ایک بات اور شامل کرنا چاہوں گا کہ مدارس خود کش بمبار بنا رہے ہیں بہت ہی غلط بات ہے اور امریکی زبان کے الفاظ ہین، مدارس تو انکے خلاف ہیں۔

  7. محمد سعد نے کہا:

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ہفتے میں زیادہ نہیں تو کم از کم دو تین بار اخبار میں کسی نہ کسی مدرسے کے پڑھے ہوئے عالمِ دین کا بیان لکھا نظر آتا ہے کہ خود کش حملوں کی اسلام میں گنجائش نہیں۔ :p
    بہرحال، میں آپ کو یہ دعوت دینا چاہتا ہوں کہ میں نے کسی زمانے میں ایک عدد سائنسی فورم شروع کیا تھا۔ فی الحال اپنی تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے اس کے لیے وقت نہیں نکال پا رہا۔ اگر آپ اس میں کچھ مدد کرنا چاہیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔ شکریہ ویری مچ۔

  8. ABDULLAH نے کہا:

    مانا کہ نصیرالدین طوسی غدار تھا،
    مگر احمق،کم ہمت اور عیاش خلیفہ بغداد جسکا نام مستعصم باللہ تھا، اس تباہی کا اصل ذمہ دار تھا،اس کے دور میں شیعہ سنی فسادات برپا ہوئے،جس نے مسلمانون کو کمزور کر کے رکھ دیا،جو سمجھ دار لوگ اسےحقیقت حال سے باخبر کرتے وہ ان کی تمام باتیں اپنے غدار وزیر علقمی کو جو نصیرالدین طوسی کا آدمی تھا بتا دیتا،جوان کے ساتھ ایسا سلوک کرتا کہ وہ یا تو ملک چھوڑ جاتے یا ہمیشہ کے لیئے خاموش کردیئے جاتے
    اگر خلیفہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا،اپنے وزیر علقمی کی باتوں میں آکر آنکھیں بند کیئے بیٹھا نہ رہتا اپنی فوج پر اپنا وہ خزانہ خرچ کرتا جو اس نے گاڑ کر رکھا ہوا تھا تو شائدمسلمان اس بدترین تباہی سے بچ جاتے،
    دوسرے ذمہ دار اس دور کے مسلمان تھے جو آج کی طرح چھوٹی چھوٹی فروعی باتوں پر ایک دوسرے سے جنگ و جدل مین مصروف تھے،سچ تو یہی ہے کہ ہم مسلمانوں پر جب بھی مصیبت آئی ہے ہمارےاپنے اعمال کی وجہ سے،مگر ہم پھر بھی اپنی آنکھیں نہیں کھولتے نہ ہوش کے ناخن لیتے ہیں 😦

  9. ABDULLAH نے کہا:

    چھاپا خانہ ترک خلیفہ کے پاس لے جایا گیا تھا جس کے استعمال کو وہاں کے مذہبی علماء نے غیر اسلامی قرار دیا تھا

    • fikrepakistan نے کہا:

      عبداللہ بھائی تصیح کا بہت بہت شکریہ، میں نے سلطنت عثمانیہ اور مغل دور کی تاریخ کافی پہلے اور تقریباَ ایک ساتھہ ہی بڑھی تھی جسکی وجہ سے کچھہ مغالطہ ہوگیا آپ نے میری تصیح کی جس کے لئیے ایک بار پھر شکریہ۔

      • ABDULLAH نے کہا:

        فکر پاکستان بھائی،شکریہ کی کوئی بات نہیں،مجھے جو علم تھا وہ میں نے بتا دیا،بھول تو ہم سب ہی سے ہوسکتی ہے،

        بے وقوفوں کی طرح مجھے خود کو عالم فاضل ظاہر کرنے کا کوئی شوق نہیں،اور مجھے اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی میرے بارے میں کیا سمجھتا ہے،
        ویسے آپکی تحاریر کا تو میں شروع ہی سے معترف رہا ہوں یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں!!!!!!
        🙂

      • fikrepakistan نے کہا:

        شکریہ کے تو آپ مستحق ہیں آپ نے میری تصحیح کی ہے اور علمی اختلاف کا فائدہ ہی یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی کوتاہیاں سدھارنے کا موقع ملتا ہے، میں نے پوسٹ میں بھی آپکی بتائی ہوئی تبدیلی کر دی ہے۔

  10. عمران اقبال نے کہا:

    مناظروں میں وقت ضائع کرنے کی سب سے بڑی مثال "اسی پوسٹ کے تبصروں” میں اس تحریر کے مقصد کو چھوڑ کر "اپنی اپنی علمیت کی بڑائی دکھانا” ہے۔۔۔ یہاں پر بھی مناظرے چل رہے ہیں۔۔۔ ہر بندہ اپنے اپنے علم کے مطابق ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے درپے ہے۔۔۔

    ہو سکتا ہے "فکر پاکستان” کی اس تحریر میں کچھ تاریخی غلطیاں ہوں۔۔۔ لیکن ہم اس تحریر لکھنے کے ان کی نیت کیوں نہیں دیکھ رہے۔۔۔

    میں بھی یہ مانتا ہوں کہ معاشرے کی خرابی اور بربادی میں علماء سے کئی زیادہ قصور ان روشن خیال سیاستدانوں، جاگیرداروں، وڈیروں، صنعتکاروں، شیخوں اور ڈکٹیٹروں کا ہے جو مغربی چک و چوند سے متاثر تو ہو گئے لیکن اس روشنی سے اپنے اپنے ملکوں کو روشن نہیں کرنے دیا۔۔۔

    دینی علماء کا کام مذہب کا صحیح فروغ اور تعلیم و تربیت ہے۔۔۔ جو علماء سیاست میں آ کر ملک و قوم کی "خدمت” کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ میں انہیں علماء نہیں سیاستدانوں کے ذمرے میں لاتا ہوں۔۔۔ مثال کے طور پر "مولانا فضل الرحمن” یا "قاضی حسین” جیسے حضرات۔۔۔ میں انہیں ٹکے کا دینی عالم نہیں سمجھتا۔۔۔ ان حضرات اور ان جیسے وہ حضرات جو اسلام کا نام لے کر سیاست میں آئے۔۔۔ انہیں تو میں ٹکے کا سیاستدان بھی نہیں سمجھتا۔۔۔

    جناب، دین کی تحقیق اور ترویج الگ کام ہے۔۔۔ اور دنیاوی تحقیق مختلف۔۔۔ دنیاوی خرابیوں کا الزام علماء کے سر ڈالنا نا انصافی ہے۔۔۔

    اب یہ بات الگ ہے۔۔۔ کہ مختلف مسالک کے علماء اپنے اپنے مقاصد کے لیے عام عوام میں فتنے ڈال رہے ہیں۔۔۔ لیکن فکر پاکستان بھائی کی یہ بات کہ مدارس سے "خودکش بمبار” نکل رہے ہیں۔۔۔ تو میں اس کی سخت تردید کرتا ہوں۔۔۔ جناب کھلی آنکھوں سے دیکھیں۔۔۔ کہ یہ خودکش بمبار کسی مذہبی مدرسے کے نہیں، سیاسی مصلحتوں کا نتیجہ ہیں۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ ان کی تربیت کون کر رہا ہے۔۔۔ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے۔۔۔ یہ معصوم بچوں کو کیسے رکریوٹ کرتے ہیں۔۔۔ کیا آپ کو لگتا ہے۔۔۔ کہ وہ مدرسے جن کے پاس سو بچوں کو کھلانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔۔۔ وہ بم بنانے اور بمباروں کو تربیت دینے کے لیے اپنے پیسے صرف کریں گے۔۔۔

    ایج ای سی کو تحلیل کرنے کا فتوی کیا کسی مذہبی مدرسے سے آیا ہے۔۔۔؟

    خدارا۔۔۔ پہلے سب اپنی سوچ بدلیں۔۔۔ ملک چلانا سیاستدانوں کا کام ہے۔۔۔ مختلف ڈیپارٹمنٹس کا انتظام چلانا سیاستدانوں کا کام ہے۔۔۔ ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کو فروغ دینا سیاسی رہنماوں کا کام ہے۔۔۔ اب مذہب کی وزارت تک سیاسی مصلحتوں کے تحت چلائی جائے تو اس میں قصور مذہب کا نہیں۔۔۔ سیاست کا ہے۔۔۔ اور پھر پیری مرشدی کے نام کروڑوں کے گھپلے کرنے والا بھی سیاستدان تھا نا کہ عالم فاضل شیخ۔۔۔

    کب تک اپنی تاریخ کا رونا روتے رہیں گے۔۔۔ جانے والے چلے گئے۔۔۔ ان کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنا مستقبل کے بارے میں سوچیں۔۔۔ نا کہ اس معاملے پر بحث شروع کر دیں کہ چھاپہ خانہ مغلوں کے پاس گیا تھا یا ترکوں کے پاس۔۔۔ سب جانتے ہیں کہ کون کتنا ذہین ہے۔۔۔

    فکر پاکستان کی پچھلی پوسٹ کا کیا نتیجہ نکلا۔۔۔ ان کی اسی پوسٹ پر عبداللہ کے طنز دیکھ کر میں سمجھ گیا۔۔۔ میں نے ان کے بارے میں اپنا نظریہ بدلنے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن ان کی طرف سے کیا رسپانس آیا۔۔۔ یہی کہ مختلف بلاگز پر ان کے ہم خیالوں نے میرے اور یاسر بھائی کے تبصرے پوسٹ کرنے شروع کر دیے۔۔۔ مقصد صاف ظاہر تھا۔۔۔ اور پھر اسی پوسٹ پر حضرت نے پھر سے اپنا پہلا تبصرہ طنزیہ کیا۔۔۔ جب وہ صلح صفائی چاہتے ہی نہیں۔۔۔ تو ہم کب تک خاموشی سہیں۔۔۔ اللہ عقل عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

  11. ABDULLAH نے کہا:

    ’جہاد کے لیے افغانستان بھیج رہے ہیں‘
    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/04/110408_sakhisarwar_omar_suicide_rh.shtml

  12. علماء نبیوں کے وارث ہیں۔
    سیاست سے اگر دین خارج کر دیا جائے تو باقی چنگیزی رہ جاتی ہے۔ علامہ اقبال۔
    پچھلی چند صدیوں خاص کر سقوط بغداد سے لیکر موجودہ دور میں اُمہ اور پاکستان کے موجودہ حالات کا علماء کو قصوروار ٹہرانا سخت بددیانتی ہے۔ یہ شر ابگیز پروپگنڈاہ ایک خاص مقصد کے تحت پھیلایا جاتا رہا ہے ۔بعین اسی طرح جس طرح مسلمانوں کے تمام مشاہیر اور قابل قدر ہستیوں کے بارے میں جان بوجھ کر شکوک پھیلائے جاتے ہیں تانکہ مسلمان قوم ہر طرف سے مایوس ہو کر بیٹھ جائے۔ اور اس شر انگیز پروپگنڈے کے ڈانڈے انگریزوں ، مغربی اقوام کے دانشوروں اور انکی اشرافیہ سے جا ملتے ہیں ۔ باخبر مسلمان ۔ جھوٹ اور اسکے پیچھے چھپی سازش کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔ مگر عام آدمی ابھی اس دھوکے میں آجاتا ہے کہ شاید مسلمان ایک گئی گزری قوم ہے۔ جبکہ اگلا قدم عام مسلمان کو اسکے دین سے گمراہ ، برگشتہ اور گم گشتہ کرنے کی کوششوں کا ہوگا۔
    جلال الدین محمد اکبر کے بارے یہ شوشہ چھوڑا گیا تھاکہ اس نے انارکلی نامی کنیز کو دیوار میں چُن دیا تھا۔ جبکہ یہ مسلمانوں کے خلاف جھوٹ پہ مبنی شر انگیزی کی ایک مثال ہے۔ اس کا مقصد ہندؤستا ن کے مسلمانوں اور انکے حکمرانوں کو خون آشام ثابت کرنے کی انگریزوں کی بھونڈی کوششوں میں سے ایک کوشش تھی ۔ تانکہ برصغیر کے مسلمان جن سے انگریزوں نے ہندؤستان کی شہنشاہیت چھینی تھی ۔ وہ انگریز کوبرتر اور مسلمان اپنے آپ کو ایک کم تر اور حقیر قوم سمجھنے لگیں ۔ مسلمان ہر قسم کے تفاخر سے محروم ہو کر انگریزوں کے سامنے سپر ڈال دیں۔ نت نئی بغاوتیں فرو کی جاسکیں ۔ مسلمان بد دل ہو کر انگریزوں کی اطاعت مان لیں۔ اسطرح کی بہت مثالیں ہیں مگر یہ ہمارا موضوع نہیں ۔ انھیں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ باخبر مسلمانوں کو تاریخ اور واقعات پہ بہت گہری نظر رکھنی چاہئیے اور اغیار کے دہوکے میں نہیں آنا چاہئیے۔اسکے ساتھ اپنے دوسرے لوگوں کو بھی باخبر رکھنا چاہئیے۔
    آپ نے پاکستان کے تعلیمی نظام کی بات کی ہے۔ کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کے پیچھے وہ کونسی خرابیاں ہیں اور کیونکر پاکستان کے ساتھ پچھلے تریسنٹھ سالوں تعلیم کے نام پہ مذاق ہورہا ہے؟۔ حیرت ہے کہ آپ نے مدارس کے نظام کو درس نظامی کی تعلیم کہہ کر ٹال دیا ہے جبکہ پاکستان میں کھڑی اتنی بڑی بڑی وفاقی اور صوبائی تعلیم کی وزارتوں۔ انکے فنڈز اور انکی خرد برد ، بندر بانٹ، گھوسٹ اسکول، گھوسٹ اساتذہ، غریب اور امیر کے لئیے دو مکمل مختلف سمتوں پہ تعلیم دینے والے ادارے اور تعلیم۔ پاکستان کی ایلیٹ کلاس تیار کرنے میں کانونٹ اداروں ، مشنری اسکول کالجوں اور مشنری ماحول ۔ قدیم یونانیت پہ مبنی فرسودہ سوچ کے تحت پاکستان کی ایلیٹ کلاس کی پنیری اور فصل کی کاشت کرنے والے ادارے۔ حکومتوں کی ناقص تعلیمی پالسیاں جنکی وجہ سے ہر گلی میں تین تین کمروں کے مہنگے پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم کے نام پہ مذاق ہورہا ہے۔ چھتوں اور دیواروں سے محروم سرکاری اسکول ۔ اساتذہ کو سیاسی ملازم سمجھنا۔ خرابی ایک ہو، چند ہوں تو گنوائی جاسکتی ہیں۔ اگر لاتعداد ہوں تو وہ گنتی میں نہیں آتیں۔ اس پہ مستزاد آپکی طرف سے پاکستان میں تعلیمی نظام کے فرض کو مدارس اور علماء پہ ڈالے جانی کی کوشش ؟
    کیا آپ کو پتہ ہے ؟ کہ حکومت اور ہمارے ٹیکسز سے چلنے والے اداروں سے کتنے لوگ بامقصد تعلیم حاصل کر رہے ہیں؟۔ اور وہ ڈگریز لیکر باعزت نوکری کے لئیے بغیر پرچی اور دس بارہ لاکھ کی رقم نذرانہ نظرکئیے بغیر کہاں کہاں جوتے نہیں چٹخاتے؟۔ اگر آپ کو شک ہو تو پتہ کریں پاکستان میں کتنے ذہین طلباء کو حکومت پاکستان اور وزرائے اعلٰی کے عوام میں دئیے گئے بیانات ۔ اعلانات اور بوگس چیکوں کا حشر کیا ہوتا ہے۔ چیک اسٹیج پہ بیٹھ کر باقاعدہ اعلانات کے تحت کاٹے جاتے ہیں ۔ داد سمیٹی جاتی ہے۔ غریب اور ضرورتمند ذہین بچے اور ہونہار طالب العلم وزارء اور حکومتی نمائیندوں کے سامنے جھک جھک جاتے ہیں کہ دن بدلنے والے ہیں۔ کل سے وظیفہ ملے گا۔ حکومت نے ، وزیر اعلٰی نے اعلان کیا ہے ایک لاکھ ، دو لاکھ کا چیک کاٹ کر دیا ہے۔ غریب گھروالوں کے بیٹے کےتعلیمی اخراجات پہ اٹھنے والے خرچ میں کمی ہوجائے گی۔ مگر اگلے دن چیک باونس ہوجاتے ہیں۔ سرکار کے اکاؤنٹ میں رقم نہیں اسی پہ بس نہیں وظیفہ کی رقم بھی نہیں ملتی۔ مگر اگلے دن اخبارات میں تصویریں چھپ گئیں ۔ بیانات آگئے۔ یہ سلسلہ اگلے سال تک چلتا ہے ۔ ایسا بھی ہوا کہ ایک غریب خاندان کا ہونہار بیٹا ہر سال پوزیشن لیتا رہا ۔ وزیر تقریریں کرتے رہے ۔ انعامات کے چیک باؤنس ہوتے رہے۔ ہر سال اعلان شدہ وظیفے سے ایک پھوٹی کوڑی بھی اس ہونہار طالب علم کو نہ ملی۔ ۔ اور حکومت پاکستان کی مشہور یونیورسٹی سے چار پانچ سال میں اس نے ٹاپ پوزیشن کے ساتھ ڈگری لی۔ ملازم پیشہ بوڑھے باپ کا پہلا بیٹا جسے اپنے باپ کا کندھا بننا چاہئے اسکے پاس علاقے کے حکمران جماعت کے ایم این اے کو رشوت میں دینے کے لئیے دس لاکھ روپے نہیں جس سے وہ اپنی ملازمت خرید سکے۔
    پاکستان کے سرکاری تعلیمی نطام کی یہ تصویر ایک افسانہ نہیں بلکہ سبھی باؤنس چیکوں اور اخبارات کے تراشوں ۔ اور وظیفوں کے اعلانات اور وظیفے کی رقم جاری کروانے کے لئیے پروفیسروں کی کوشش کے ثبوت کے ساتھ ایک حقیقت بیان کر رہا ہوں۔ اس کے باوجود ایسے خاندان کسی کے سامنے ایسی حقیتیں بیان کرنے سے اجتناب برتتے ہیں۔کہ مبادا طاقتور حکمرانوں اور سیاستدانوں کی طبع نازک کی وجہ سے ۔الٹا ان پہ ہی کوئی مصیبت نہ نازل ہوجائے۔
    کیا آپ کو پتہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران یا دہشت گردی کی وارداتوں میں شہید ہوجانے والوں کو،ان شہید ہونے والوں میں پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ اعلانات کے باوجود ان کے لواحقین اور یتیم بچوں کو اعلان کی گئی رقم نہیں ملتی؟ آپ کرید کریں آپ کو بہت سے تلخ حقائق سے واسطہ پڑے گا۔
    دوسری طرف پاکستان کے مدارس ہیں۔ جو ایک غریب ملک کے انتہائی غریب لوگوں کی اکثریت کو بلا معاوضہ زیور علم سے آراستہ کر رہے ہیں۔ بلکہ اکثر مدارس اپنے طلباء کی کفالت کرتے ہیں۔ انھیں کھانا اور رہائش مفت مہیاء کرتے ہیں ۔ اور یہ چند ہزار غریب طلباء کی بات نہیں ہورہی بلکہ پاکستان کے لاکھوں کی تعداد پہ مشتمل طالبعلموں کی مفت تعلیم، مفت، کھانے، اور مفت رہائش کا ذکر ہے۔ جس کے لئیے میں آپ اور ہم سب ٹیکسز حکومت پاکستان کو مہیاء کرتے ہیں اور جو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ مگر اس حکومت کی اس ذمہ داری کو مدارس محض خوف خدا اور دین سے محبت کی وجہ سے پوری کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ایسے مدارس ہیں جہاں نہ صرف اعلٰی سائسنی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ وہاں اسلامی اخلاق کا عملی نمونہ بننے کا شعور بھی بخشا جاتا ہے۔ جبکہ مدارس کا پورا نظام اس چندے یا فنڈ سے چلتا ہے۔ جو پاکستان کے عام لوگ دین سے محبت کی وجہ سے اکھٹا کرتے ہیں۔ جس کے خلاف، روشن خیال اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پہ مولوی مولوی کہہ کر حقارت پہ مبنی شر پھیلانے کی کو شش کرتے ہیں۔
    اسکے باوجود پاکستان کے طول و عرض میں کئی لاکھ بچے اسکول اور مدرسے کا منہ نہیں دیکھ پاتے۔ تو آپکی نظر میں اس کا قصور وار کون ہے مغرب کے دلدادہ لوگوں کا ترتیب دیا حکومتی تعلیمی نظام یا مدارس؟
    سقوط بغداد کے اسباب میں علماء کی بجائے خلیفہ اور اعمال کا قصور تھا۔ منگولوں کے طوفان کو جلال الدین شیر خوازرم باپ، بیٹے نے سالوں روکے رکھا مگر طوسی جیسے غداروں اور اقتدار کی اندرونی سازشوں کی وجہ سے خلیفہ کے کانوں پہ جوں تک نہ رینگی۔ ورنہ اتنے سال کا عرصہ بہت عرصہ ہوتا ہے۔ منگول متواتر کئی سالوں تک اسلامی خلافت کی سرحدوں پہ حملے کرتے رہے۔ جنہیں جلال الدین شیر خوازرم نے روکے رکھا۔ علماء کے مناظرے کی اپچ فضول اور غیر حقیقی ہے۔ یہ حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان کرنے کے مترادف ہے۔
    منگولوں کی فرماروائی تاریخ کی بڑی فرماروائیوں میں سے ایک تھی ، مغرب میں ہنگری، شمال میں روس، جنوب میں انڈونیشیا اور وسط کے بیشتر علاقوں مثلا افغانستان، ترکی، ازبکستان، گرجستان، آرمینیا، روس، ایران، شمالی ھندؤستان کے کچھ حصے، چین اور بیشتر مشرق وسطی پر مشتمل تھی۔
    منگول جن کا جد امجد جس کانام تموجن تھا اور جسے تاریخ ہلاکو خان کے نام سے جانتی ہے ۔ اسکے تیرہ سال کی عمر میں ایک ہزار ایک سو پچھتر سن عیسوی 1175ء میں تخت نشین ہونے سے لیکر بار سو اٹھاون سن عیسوی 1258ءمیں اسکے ایک پوتے ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کے سقوط تک۔یوروپ اور ایشیا کی ریاستوں نے منگولوں کے ہاتھوں ے در پے عبرتناک شکستیں کھائیں۔ منگولوں نے ہر طرف قتل و غارت اور ظلم ودہشت کا بازار گرم کئیے رکھا ۔
    یوروپ اور ایشیاء کے کسی حکمران یا قوم میں اتنی جرائت نہیں تھی کہ وہ منگولوں کے خلاف آنکھ اٹھا کر بات کرسکیں۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ بغداد کو روندا گیا اور وحشت اور بربریت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا مگر اسمیں مسلمانوں کی بزدلی کی بجائے اندرونی سازشیں تھیں جنہوں نے رنگ دکھایا اور بغداد میں مسلمان مغلوب ہوئے۔ گیارہ سو پچھتر سن عیسوی سے لیکر بار سو اٹھاون تک کی ماردھاڑ اور کامیابیوں کے بعد سقوط بغداد کے بعد چنگیز خان ، قرارقرم میں اپنے بھائی کی موت کے بعد جب واپس پلٹا تو اس نے قط بوغا کو سپہ سالاری سونپی۔ قط بوغا نے مصر کے مسلمان امیر کو ن الفاظ میں دھمکی دے بیجھی۔
    “ہم نے زمین کو تاراج کردیا، بچوں کو یتیم اور لوگوں کو سزا دی اور قتل کردیا، ان کے سرداروں کی عزتوں کو خاک میں ملادیا۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ہم سے بھاگ سکتے ہو؟ کچھ ہی دیر بعد تیںو معلوم ہوجائے گا کہ تمہاری طرف کیا آرہا ہے؟”۔
    مصر کے مسلمان امیر قطز کی غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ یوں سرعام کوئی مسلمانوں کے بارے فرعونیت برتے۔ مسلمان امیر قطزنے مسلمانوں کو دہمکی دینے والے منگولوں کو قتل کرواکر ان کی لاشیں دارالحکومت میں لٹکادیں۔ تانکہ دشمن کے حوصلے پست اور مسلمان افواج اور عوام کے حوصلے بلند ہوں۔
    سقوطِ بغداد کے محض دو سال بعد منگولوں کو تاریخ میں پہلی شکست مسلمانوں کے ہاتھوں ہوئی اور شکست بھی ایسی جنہوں نے منگولوں کے لئیے رسوائی اور پسپائی کا در کھول دیا اور اسکے بعد منگولوں کو مسلمان ممالک اور علاقوں سے رسواکن انجام سے دو چار ہونے کی وجہ سے واپس منگولیا تک محدود ہونے میں بہت کم عرصہ لگا اور یوروپ اور ایشیاء کے ممالک نے سکھ کا سانس لیا ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ محض یہ کہہ دینا کہ منگولوں نے بغداد کو ساقط کیا اور اس وقت کے مکمل حالات بیان کئیے بغیر اصل حقیقت کی بجائے قصور علماء پہ ڈال دینا درست نہیں اور منگولوں کی اس وقت کی طاقت اور دہشت اور اتنی بڑی سلطنت جو بلا مبالغہ اس وقت کی سب سے بڑی عالمی طاقت تھی ۔ اور مسلمان خلیفہ کی بزدلی اور نصیرالدین طوسی جیسے کرداروں کا نہ گنوانا اور پھر خاصکر یہ بیان نہ کرنا کہ سقوط بغداد کے محض دوسال کے بعد تاریخ میں پہلی دفعہ اتنی بڑی عالمی طاقت کو مسلمانوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست ہوئی۔ جس کے بعد منگولوں کے پاؤں کہیں بھی نہ جم سکے۔ تاریخ بیان کرنے کا یہ درست طریقہ نہیں۔
    آپ اسے امریکہ اسکے اتحادی اور مسلمان حکمرانوں کے موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھیں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ مسلمان امریکہ کا مقابلہ کر سکیں اور امریکہ کو اپنے ممالک میں ریشہ دوانیاں کرنے سے بے دخل کردیں ؟۔ آپ کو ناممکن نظر آتا ہے۔ تب سقوط بغداد کے بعد بھی بہت سے لوگوں تاتاریوں سے جنگ کرنا اور ان پہ فتح پانا ناممکن نظر آتا تھا ۔ مگر ایمان کی دولت سے سرشار لوگوں نے اس وقت سپر پاور کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر نہ صرف بات کی بلکہ منگولوں کی شکست و ریخت کی وہ بنیاد ڈالی کہ منگول پھر دوبارہ اٹھ نہ سکے۔ جبکہ مسلمان آج بھی دنیا میں ان سے ذیادہ جانے جاتے ہیں
    یہ جنگ،جنگ عین جالوت کے نام سے جانی جاتی ہے۔یہ جنگ سقوط بغداد کے دو سال بعد تین ستمبر بار سو ساٹھ سن عیسوی بمطابق چھ سو اٹھاون ہجری میں مسلمان افواج اور منگولوں کے درمیان ہوئی۔ تاریخ کی اس مشہور ترین جنگ جس میں شاہ سیف الدین قطز اور اس کے مشہور جرنیل رکن الدین باربروس نے منگول افواج کو بدترین شکست دی۔
    یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ کو منگولوں کی تباہ کاریوں سےنجات ملی۔ جنگ میں منگول سپہ سالار قط بوغا قتل ہوا اور اسکا بیٹا زندہ پکڑا گیا ۔ تاریخ کی مشہور ترین جنگوں میں سے ایک جنگ،جنگ جالوت جس میں مسلمانوں نے تاتاریوں کی سپر طاقت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ڈبو دیا ۔ تاتاری افواج منتشر ہوگئیں اور ان کی ایک قابل ذکر تعداد ہلاک ہوگئی یا گرفتار ہوگئی ۔ تاتاری افواج کا سردار قط بوغا مارا گیا ۔اس کا بیٹا بھی گرفتار ہوا۔ تاتاری افواج کا کوئی بھی فرد قتل یا گرفتار ہونے سے نہ بچ سکا کیونکہ جو تاتاری اس میدان جنگ سے بھاگ گئے وہ شام میں مارے گئے۔مسلمانوں نے تاتاریوں پر حملے شروع کردیئے اور اسی سال منگولوں کو حمص سے بھی نکال باہرکیا۔مسلمانوں نے اپنی قوت بحال کرلی اور تاتار قراقرم کی طرف بھاگے۔مسلمانوں نے آسانی سے شام کو کچھ ہی ہفتوں میں آزاد کراوا لیا ۔
    جنگ جالوت ، مقام جنگ ۔ فلسطین
    ۔ 3 ستمبر 1260ء (658ھ)
    مادی ترقی اور قوموں کےکسب کمال کا کچھ تعلق اس پہیے سے بھی ہے جس کے تحت قوموں پہ عروج و زوال آتے رہتے ہیں۔ یہ کسب کمال ماضی میں کئی ایک بار مسلمانوں کی معراج رہا ہے۔ آج اغیار کا تاج ہے۔ کون جانے کل کس کے پاس ہوگا ؟ مسلمان پھر سے عروج کی بلندیوں کو چھو لیں گے۔مگر ایک بات طے ہے کہ دنیا میں ہزاروں سالوں سے موجود قومیں عروج و زوال کے ہاتھوں کئی بار اس معراج کو پاتی اور کھوتی رہیں گی۔ مگر اغیار کی یہ کوششیں کہ مسلمانوں کو انکے عزم سے ۔ انکے اعتماد سے، انکے تفاخر سے انہیں محروم کر دیں۔ ان سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ ایسی سازشوں کے کامیاب ہونے سے قومیں ناپید ہوجاتی ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ ناپید قوموں کا کوئی درست نام تک نہیں جانتا۔
    البتہ آپکے بنیادی نکتے سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں کہ مسلمانوں ، پاکستانیوں کو تعلیم و ہنر، علم و ٹیکنالوجی میں ترقی کرنی چاہئیے ۔ یہ ہی وہ راستہ ہے جو مسلمانوں کو اس گھٹا ٹوپ اندھیرے سے باہر نکلنے کا رستہ دکھائے گا۔
    اللہ آپکو جزائے خیر دے ۔ آمین

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید گوندل صاحب، ماشاءاللہ سے آپ نے بہت ہی اچھے اور مفصل طریقے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے، مگر یہ سکے کا ایک رخ ہے، اس حقیقت سے کوئی بھی انکاری نہیں ہوسکتا کے دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جو مسلمانوں پر غلبہ حاصل کر پاتی صرف اس وقت تک کہ جب تک مسلمانوں کا اپنا قصور نہ ہو، اپنی طرف سے کوئی کوتاہی کوئی کمی کوئی کجی نہ رہ جائے، جنگ احد اسکی واضع مثال ہے کہ جہاں مسلمانوں نے حکم عدولی کی وہیں شکست انکا مقدر بن گئی، میرا ایمان ہے یہ اور حقیقت بھی یہ ہی ہے جب تک مسلمان اسلام کی روح کو سمجھتے ہوئے عمل کرتے رہے اس وقت تک مسلمانوں کو ہر ہر محاذ پر عروج ملا، اس دور کا سب سے بڑا ہتھیار منجنیق تھا جو کے مسلمانوں کی ایجاد تھا، جب تک مسلمان حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی روح کے عین مطابق اپنے عصر سے ہم آہنگ رہا اس وقت تک مسلمانوں کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکا، ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اس وقت کے جنگی ہتھیار تیر، تلوار، بھالے، نیزے، خنجر، اور منجنیق تھے، جنگ کے دوران تعداد بھلے ہی مسلمانوں کی کم رہی ہو مگر ہتھیار دونوں جانب ایک جیسے ہوتے تھے، جنگ بدر میں بھی تعداد کا فرق ضرور تھا کہ مسلمان تعداد میں تین سو کے لگ بھگ تھے اور کفار کی تعداد تقریباَ ایک ہزار تھی، مگر ہتھیار اس وقت بھی دونوں جانب ایک جیسے ہی تھے، ایسا نہیں تھا کے کفار کے پاس ڈرون تھے اور مسلمانوں کے پاس صرف تلواریں تھیں، وہ لوگ اور تھے انکے معاملات اور طرح کے تھے، جنگ شام میں ہورہی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ مدینے شریف میں بیٹھے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں کے سعد ( حضرت سعد بن ابی وقاص ) پہاڑ کے پیچھے دیکھو، اور جب حضرت سعد بن ابی وقاص پہاڑ کے پیچھے دیکھتے ہیں تو دشمن کو پاتے ہیں تو وہ لوگ اور تھے انکے معاملات اور تھے لیکن ان سب باتوں کے باوجود بھی آئین کی پاسداری شرط ہے یہ جنگ احد میں بتا دیا اللہ تعالیٰ نے۔ اب دیکھئیے زوال کے اسباب اس حقیقت سے کوئی بھی زی شعور انکاری نہیں ہوسکتا کہ مسلمانوں کے زوال میں سب سے زیادہ اقتدار کی ہوس، مال و زر کی لالچ، قوم پرستی، مذہبی فرقہ واریت، غداریاں، علم سے دور ہوجانا، ٹیکنالوجی کو کفر قرار دینا، بدلتے دور کے تقاضوں کو نہ اپنانا بلکے انہیں شرک قرار دینا، یہ سب عوامل شامل ہیں مسلمانوں کی بربادی میں، انکل ٹام ہوں، جاوید بھائی ہوں عمران اقبال ہوں یا اور کوئی بھی ہو اور یا فکر پاکستان ہو، ہم سب کے دیکھنے کا زاویہ الگ الگ ضرور ہوسکتا ہے مگر مقصد ایک ہی ہے فکر ایک ہی ہے کے کسی طرح سے مسلمانوں کی یہ بدترین حالت بدل جائے، ایک بار پھر سے مسلمانوں کا پوری دنیا پہ غلبہ ہو، مسلمان علم سے نا پہچانا جائے بلکے علم مسلمانوں سے پہچانا جائے، کیا آپ کو لگتا ہے کے آج ایسا ہو رہا ہے؟ اور آج ہی نہیں تقریباَ پچھلے پانچ سو سالوں سے یہ ہی حال ہے مسلمانوں کا، جذباتیت اپنی جگہ مگر حقیقت اپنی جگہ ہوتی ہے، آج دور بدل گیا ہے دور کے تقاضے بدل گئے ہیں، آج تیر، تلوار، اور منجنیق کا دور نہیں رہا، آج ایک کمرے میں بیٹھہ کر بغیر پائلٹ کا ڈرون آپریٹ کیا جاتا ہے، پچاس ہزار فٹ کی بلندی سے بم مارے جاتے ہیں ایسے ایسے طیارے ہیں جو جدید ریڈار پر بھی نہیں آتے، اب بتائیں کہ ہے مسلمانوں کے پاس وہ ہتھیار جو کفار کے پاس ہیں؟ جو کچھہ ہتھیار آج مسلمانوں کے پاس ہیں بھی وہ بھی کفار کی ہی ایجاد ہیں، ایسے میں کوئی اگر یہ کہے کے امریکہ کے خلاف اعلان جہاد کردو جنگ کردو حملہ کردو، تو بھائی یہ سب سننے میں تو بہت اچھا لگتا ہے مگر سوائے جذباتیت کے حقیقت کچھہ بھی نہیں ہے اسکی، یہ جذباتیت ہم نے افغانستان میں کر کے دیکھہ لی، عراق میں کر کے دیکھہ لی، لبنان میں کرکے دیکھہ لی، ابھی لیبیاء میں دیکھہ ہی رہے ہیں، کیا نتیجہ نکلا خالی خولی کی جذباتیت کا ؟ ابھی تک افغانستان میں تین ہزار سے زیادہ امریکن نہیں مار سکے مسلمان، اور اس نے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کر دیا ہے، تو اگر مقصد صرف جذباتیت میں ملغوب ہوکر شہادت کا رطبہ پانا ہے تو پھر سو بسمہ اللہ، لیکن اگر مقصد باقائدہ پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ ہے تو بھائی پھر تو اس خالی خولی کی جذباتیت سے باہر نکلنا ہوگا، دور جدید سے ہم آہنگ ہونا ہوگا تعلیم ٹیکنالوجی حاصل کرنی ہوگی امریکہ اور اسرائیل کے بنائے ہوئے ہر اس ہتھیار کا توڑ ڈھونڈھنا ہوگا جس سے آج وہ پوری دنیا کو اپنے آگے لگا کے چل رہا رہے ہیں، اب یہ بتانے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے کے یہ سب ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لئیے کونسی تعلیم لینی ہوگی اور کہاں سے لینی ہوگی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کے بیشک تم ہی غالب آو گے اگر تم مومن ہو۔ اسکی ایک تشریح یہ بھی بنتی ہے کے، جو غالب ہے وہ ہی مومن ہے۔ تو بھائی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کے مسلمانوں کو غلبہ گو امریکہ گو جیسے نعرے لگانے سے مل جائے گا تو وہ لگاتا رہے ایسے بیہودہ نعرے، کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کے آیتیں اور درود پڑھہ کر پھونکنے سے جنگیں جیت لے گا مسلمان تو بھائی وہ اپنے اس عمل سے صرف ایک ڈرون ہی گرا کر دکھا دے مجھے۔ میں بار بار ایک حدیث کوڈ کر رہا ہوں مگر افسوس کے کسی نے بھی اس حدیث کے مغز کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، اگر صرف یہ حدیث ہی ٹھیک سے سمجھہ لی جائے تو پھر کسی بحث کسی مباحثے کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی، ایک بار پھر یہ حدیث کوڈ کر رہا ہوں کوئی اگر اس حدیث کا جواب دے سکے تو لازمی دے مجھے تاکے میں بھی پھر حقیقت سے آنکھیں چرانے والوں میں خود کو شامل کرلوں اور اس کرب سے باہر آسکوں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کے، مومن اپنے عصر ( دور ) سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اب غور کرلیں کے دور جدید سے کون ہم آہنگ ہے اور کون نہیں، اور کیا اس حدیث کو فراموش کرنے کے بعد کیا ہم محض جذبات سے پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ لاسکتے ہیں ؟

  13. صدیوں سے علما کرام بحث مباحثے میں لگے ہوئے ہیں۔۔تاریخ میں یہ بات ملتی ہے۔
    لیکن یہ بات قطعی غلط اور بے بنیاد ہے کہ منگولیوں کے عراق پر حملے کے وقت علما کرام بحث مباحثے میں لگے ہوئے تھے۔اگر کوئی مستند حوالہ مل جائے تو میں نہایت مشکور ہوں گا۔بغداد اس وقت کا اسلامی دنیا میں مرکزی شہر تھا ہر مکتبہ فکر کے لوگ وہاں جمع ہوتے تھے۔علمی بحث مباحثہ بھی ہوتا تھا اور روزگار کیلئے آئے ہوئے مزودور طبقہ کے عوام ہاتھا پائی مار کٹائی بھی کرتے تھے۔اس وقت کے روشن خیال جیسے کے اس وقت کے عراق افغانستان لبیا وغیرہ میں ایسے ہی روشن خیال موجود ہیں اور جن کا تعاون حاصل کر کے غیر ملکی افواج انہیں اقتدار سے نواز کر مال غنیمت سمیٹ رہی ہیں۔اسی طرح کے روشن خیال حضرات کے تعاون سے اس وقت کی منگولی افواج آسانی سے بغداد میں گھسی تھیں اور اس کے بعد کھوتا گھوڑا ایک برابر کی بنیاد پر سب کو کھیت کیا۔
    پاکستان کی چونسٹھ سالہ تاریخ میں مولویوں کو پاکستان میں حکمرانی کا موقع نہیں ملا کچھ عرصے کیلئے مولوی فضل الرحمن وغیرہ سرحد اور بلوچستان میں آئے ضرور لیکن آپ کو بھی اورسب کوبھی ان کا معلوم ہے۔زیادہ تر ایوب خان ۔یحیی خان، بھٹو ،ضیاء، بھٹو ،نواز ، مشرف وغیرہ مولوی نہیں تھے اور ان جیسے لوگوں نے ہی پاکستان پر حکومت کی۔۔۔۔۔۔اب سمجھ نہیں آتی کہ حسن نثار جو میرے بھی پسندیدہ اور ٹاپ کلاس کےدانشور لکھاری ہیں۔ہمیشہ سارا الزام مولویوں کو ہی کیوں دیتے ہیں۔مدارس کے پڑھے ہوئے دقیانوسی اگر اس ملک اس معاشرے کیلئے کچھ نہیں کر رہے تو جنہوں نے اتنا عرصہ اس ملک پر حکمرانی کی انہوں نے کونسا ایسا اعلی کام کیا کہ پاکستان اس وقت دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن گیا؟!!! جس طبقے کے لوگوں نے اس ملک پر حکمرانی ہی نہیں کی۔۔۔انہیں ہی ساری خرابی کا الزام دینا میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔امریکی امداد سے پاکستانی مستفید ہوتے ہیں۔۔۔۔۔اگر نہ ملے تو کونسی قیامت آجائے گی؟۔تکلیف وہی پاکستانی محسوس کریں گے۔جن کیلئے پاکستان صرف ذریعہ معاش ہے۔ساہوکار اگر کہیں سرمایہ کاری کرتا ہے تو سرمایہ کاری کرنے پہلے حساب لگا لیتا ہے کہ معاملہ فائدے کا ہے کہ نہیں۔امریکی امداد یا دوسرے ممالک کی امداد نے پاکستان میں کتنی دودھ کی نہریں بہا دیں ہیں۔۔کوئی ایڈریس وغیرہ مل جائے تو نوازش ہوگی میں یاترا کرنا پسند کروں گا۔ شکریہ ویری مچ

    • محمد سعد نے کہا:

      یاترا پر چلتے وقت مجھے بھی ایک فون کال کھڑکا دینا۔ میں بھی ساتھ چل کر دیکھوں گا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر بھائی، پاکستان آزاد ہونے کے کچھہ ہی عرصے بعد بدقسمتی سے قائداعظم نہ رہے اور جو مخلص لوگ بچے انہیں مار دیا گیا، قائداعظم کے بعد سے آج تک تو پاکستان کو کوئی صحیح رہنما ملا ہی نہیں، مفاد پرست، جاگیردار، صنعتکار، مذہب فروش، یا پھر فوجی ڈکٹیٹر ہی پاکستان کا مقدر بنے رہے، آپکی بات بلکل ٹھیک ہے کے اگر ملاوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا تو باقی لوگ جو اقتدار میں رہے انہوں نے کونسا تیر مار لیا۔ میں تو خود اس بات کا قائل ہوں اور یہ ہی وجہ ہے کے میں نے آج تک کسی بھی سیاستدان اور کسی بھی ایسے ملا کی ہمایت نہیں کی جو پاکستان کی بربادی میں برابر کا حصے دار رہا ہو۔ آپ نے فضل الرحمان قاضی صاحب وغیر کا حوالہ دیا تو انکو پورے پانچ سال ملے سرحد میں مکمل انکی ہی حکومت رہی پاکستان کی تو یہ کیا خدمت کرتے انہوں نے تمام اختیارات ہونے کے باوجود سرحد تک میں شریعت نافذ نہیں کی، جبکہ یہ ضیاء الحق کے گود میں شریعت کے نفاذ کا نعرہ لگا کر سالوں بیٹھے رہے اور تمام مراعتیں لوٹتے رہے۔ اس ہی طرح تمام سیاستدانوں کا بھی یہ ہی حال ہے اصل مسلہ یہ ہے کے ان کے بس کی بات ہی نہیں ہے بھائی، رہنما ہونا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہوتا رہنمائی کے لئیے تدبر چاہئیے ہوتا ہے، علم چاہئیے ہوتا ہے، عشروں کے پار دیکھنے والی بصارت چاہییے ہوتی ہے، ایمانداری چاہئیے ہوتی ہے، نیک نیتی چاہئیے ہوتی ہے۔ وہ چاہے سیاستدان ہوں یا یہ نام نہاد مولوی ہوں میرے حساب سے تو یہ ٹھیک سے مولوی بھی نہیں ہیں عالم دین تو ان میں سے ایک بھی نہیں ہے داڑھی رکھہ لینے سے یا پائنچے اوپر کر کے نماز پڑھہ لینے سے کوئی عالم دین ہوجاتا ہے کیا ؟ یہ جتنے بھی بڑے بڑے نام ہیں ان میں ایک بھی مستند عالم دین نہیں ہے، یہ سب تمام سیاستدانوں کی طرح فوج اور اسٹیبلشمنٹ کی ناجائز اولادیں ہیں، ان میں سے ایک بھی ڈلیور نہیں کر سکتا انہیں پتہ ہی نہیں ہے کے کرنا کیا ہے۔ اسلئیے ہی میں باربار یہ ہی کہتا ہوں کے ہمیں عقل و ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ان بتوں سے جان چھڑانی چاہئیے، میرا ایسا ماننا ہے کے اس قوم کا مقدر اس وقت بدلنا شروع ہوگا جب مسجد کے منبر سے پی ایچ ڈیز خطبے دیا کریں گے۔ آج یہ بات بہت عجیب لگ رہی ہے مگر انشاءاللہ وہ وقت ضرور آئیگا ہم نہیں تو ہماری نسلیں دیکھیں گی۔

  14. قاسم نے کہا:

    اتنی لمبی بحث ہوگئی پر حوالہ اب تک کسی نے نہیں دیااگر یہ بے حوالہ بات ہے تو اللہ کی بے شمار لعنتیں ہوں اللہ کے بے قصور بندوں پر الزام لگانے والوں کے اوپر

    • fikrepakistan نے کہا:

      بے قصور تو وہ لوگ ہیں جو کبھی شیعہ کے نام پر مارے جاتے ہیں کبھی دیوبندی کے نام پر کبھی بریلوی کے نام پر اور کبھی اہل حدیث کے نام پر۔ اور انکو مروانے والے میں اور آپ نہیں یہ ہی سب ملا ہوتے ہیں جو مسجد کےمنبر پہ بیٹھہ کر مذہبی منافرت پھیلاتے ہیں اور اپنی اپنی دکانیں چمکاتے ہیں۔ جن ملاوں کی آپ ہمایت کر رہے ہیں ان میں سے مجھے کوئی ایک ملا بھی ایسا دکھا دیں جو خود کو کسی مسلک سے یا کسی فرقے سے وابسطہ نا کرتا ہو۔ اور پھر مجھے آپ ثابت کر دیں کے اسلام میں فرقہ بندی اور مسلک پرستی جائز ہے۔ تب میں آپ کی ہر بات مان لونگا۔

      • قاسم نے کہا:

        بھائی حوالہ اور صرف حوالہ دیجئے بغلیں جھانکنا اور آئیں بائیں شائیں کرنا چھوڑ دیجئے

  15. ABDULLAH نے کہا:

    سقوط بغداد سے پہلے ہونے والے شیعہ سنی فسادات کو ہوا دینے میں دونوں طرف کے نام نہاد علماء کا ہی سب سے بڑا کردار تھا!!!!!!!!
    اور ایسے علماء آج بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جلال الدین خوارزم شاہ یقینا اسلامی تاریخ کا ہیرو ہےمگر اس کے باپ کا کردار ہر گز ہیرو کہلانے کے قابل نہیں،بلکہ چنگیز خان کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے والا یہی شخص تھا،
    منگولوں(مغل) کی وہ حکومت جو ایران و عراق میں ہلاکو خان نےبغداد کی تباہی و بربادی کے بعد قائم کی سمیت منگولوں کی اکثر حکومتیں اسلامی حکومتوں میں تبدیل ہوگئیں،یعنی منگولوں یا مغلوں نے اسلام قبول کرلیا،پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
    یہ مسلمانوں کی نہیں اسلام کی فتح تھی،
    جیسا کہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اگر تم ان احکامات پر عمل نہ کرو گے تو ہم تمھیں ختم کر کے تمھاری جگہ اور لے آئیں گے ،اور اللہ کی سنت کبھی نہیں بدلتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  16. ABDULLAH نے کہا:

    حوالے کے لیئے تاریخ اسلام کو آنکھیں اور دماغ کھول کر پڑھنا پڑے گا!!!!

  17. ABDULLAH نے کہا:

    فکر پاکستان، علماء کسی بھی معاشرے اور خصوصا اسلامی معاشرےکی بہت بڑی طاقت بلکہ روح ہوتے ہیں جب تک روح صحیح رہے گی جسم بھی صحیح رہے گا مگر جب روح سڑنا شروع ہوجائے تو جسم کو کوئی نہیں بچاسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  18. قاسم نے کہا:

    بھئی ایک کال مجھے بھی کھڑ کا دینا

    • قاسم نے کہا:

      کالجوں کی تعلیم کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بچے پڑھ کر سند تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ان کی تربیت کا اہتمام کالجوں میں نہیں ہوتا

      خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ تعلیم میں کج بحثی اور طاقت گفتار کو تیز کر دیا گیا ہے لیکن جہاں تک دل و روح کا معاملہ ہے کمالاتِ علم سے بالکل خالی ہے۔

      http://urduhyd.blogspot.com/2011/04/phir-pisr-saheb-e-meeraas-e-padr-kyun.htm
      پڑھئے اور سرمہ بصیرت حاصل کیجئے

      • fikrepakistan نے کہا:

        تربیت گھر سے ملتی ہے میرے بھائی، اور صحیح تربیت دینے کے لئیے پہلے خود والدین کو اپنا عقیدہ درست کرنا ہوگا، جو والدین خود دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ، سنی، جیسے بیہودہ خرافات میں پڑے ہونگے وہ کیا تربیت دے پائیں گے اسلام کے عین مطابق اپنی اولاد کو؟ ایسے تمام والدین کو تو خود ابھی تربیت کی ضرورت ہے۔

  19. حافظ نے کہا:

    کیا مسلمانوں کی تنزلی کے ذمہ دار دینی مدارس اور علماء ہیں ؟
    http://bunyadparast.blogspot.com/2011/04/blog-post_09.html

  20. UncleTom نے کہا:

    بنیاد پرست صاحب نے ادھر جواب دیا ہے
    http://bunyadparast.blogspot.com/2011/04/blog-post_09.html

    • fikrepakistan نے کہا:

      انکل ٹام صاحب نے کسی بنیاد پرست نامی صاحب کے بلاگ کا لنک دیا ہے جس پر ان بنیاد پرست صاحب نے میری لکھی ہوئی پوسٹ کا جواب دیا ہے، انکے جواب کے جواب میں میں نے یہ تحریر لکھی ہے، اس تبصرے کو پڑھنے سے پہلے بنیاد پرست صاحب کا جواب لازمی پڑھہ لیا جائے تو بات سمجھنے میں آسانی ہوگی، میں نے اپنی یہ تحریر بنیاد پرست صاحب کے بلاگ پر پوسٹ کرنی چاہی جو کے کسی ٹیکنیکل وجہ کی بنا پر پوسٹ نہیں ہو پارہی، اسلئیے ٹام انکل صاحب یا کوئی اور صاحب میرا یہ جواب بنیاد پرست صاحب کے بلاگ پر فکرپاکستان کے جواب کے نام سے من و عن پوسٹ کر دیں بڑی مہربانی ہوگی، مناظرہ کرنا ہرگز ناجائز عمل نہیں ہے اگر مناظرہ کسی ایسے موضوع کے لئیے کیا جائے جس سے امت ٹوٹنے کے بچائے آپس میں جڑے، ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں آج مسلم امہ کے مسائل ہی وہ نہیں ہیں جن میں یہ نام نہاد عالم حضرات پوری قوم کو الجھائے رکھتے ہیں، زرا مناظروں کے نوئیت تو دیکھو کے سن دو ہزار گیارہ میں یہ قوم کو کن مسلوں میں الجھائے رکھنا چاہتے ہیں، رفع الیدین سے نماز پڑھنے سے نماز ہوتی ہے یا رفع الیدین کئیے بغیر نماز جائز ہے؟ دورد و سلام بیٹھہ کر پڑھنا چاہئیے یا کھڑے ہو کر؟ نظر و نیاز جائز ہے یا ناجائز؟ تقلید جائز ہے یا ناجائز؟ امامہ کس رنگ کا پہننا چاہئیے سبز رنگ کا سفید رنگ کا ؟ داڑھی کا سائز کیا ہونا چاہئیے، مونچھیں ترشوانی ہیں یا بلکل صاف رکھنی ہیں؟ میلاد جائز ہے یا ناجائز ہے؟ قرآن خوانی جائز ہے یا ناجائز ہے؟ شعیہ حق پر ہیں؟ دیوبندی حق پر ہیں؟ بریلوی حق پر ہیں؟ یا اہل حدیث حق پر ہیں؟۔ امت مسلمہ اپنی کم علمی اور جاہلت کی وجہ سے پوری دنیا میں زلیل و خوار ہورہی ہے دور جدید سے ہم آہنگ ہونا تو ایک طرف دور جدید کو کفر قرار دیا جارہا ہے، جو کے بنیادی وجہ ہے مسلمانوں کے زوال کی، اس پر کوئی بات نہیں کررہا تعلیم کے حصول پر کوئی مناظرے نہیں کررہا، جہالت اس وقت کفر کے برابر ہے مگر جہالت کو ختم کرنے کے لئیے کوئی مناظرے نہیں کررہا، ٹیکنالوجی کے حصول کو کفر قرار دیا جارہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ کوئی عالم یہ حدیث نہیں بیان کر رہا کے مسلمان اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے، آج پوری مسلم امہ میں سے کوئی ایک بھی ملک دور حاضر سے ہم آہنگ ہے ؟ مگر اس پر مناظرے نہیں ہورہے جو کے اصل جڑ ہے امت مسلمہ کی۔ مناظرے ہر اس موضوع پر کیئیے جارہے ہیں جو کے فروعی مسلے ہیں، بیشمار احدیث ہیں جن میں حضور پاک صلی علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کے، جو ایسا کرے وہ ہم میں سے نہیں جو ویسا کرے وہ ہم میں سے نہیں، جو کم تولے وہ ہم میں سے نہیں، جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں، جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اسکا پڑوسی بھوکا سو جائے وہ ہم میں سے نہیں، جبکہ یہ ساری خوبیاں آج مسلمانوں میں موجود ہیں مگر اس کے لئیے کوئی مناظرے نہیں ہورہے، غربت کیسے ختم کرنی ہے، جہالت کیسے ختم کرنی ہے، بھائی چارگی کی فزاء کیسے قائم کرنی ہے اس پر کوئی مناظرے نہیں ہورہے۔ ہر اس بات پر مناظرے ہو رہے ہیں صرف جس سے انکے اپنے فرقے ان کے اپنے مسلک پر ضرب پڑتی دکھائی دیتی ہے جس سے انکی دکانیں بند ہوتی نظر آتی ہیں، موصوف نے اپنی بات ثابت کرنے کے لئیے کچھہ حدیثوں کا سہارا لیا ہے تو یہ بھی حدیث سن لیں کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کے، ایک وقت آئے گا کہ علماء میٹھی بات کریں گے ایسے جیسے ان کے منہ سے شہد ٹپک رہا ہو اور وہ دین سے دنیا کو کمائیں گے۔ پھر موصوف فرماتے ہیں کے یونیورسٹیاں مذہبی اسکالر کیوں تیار نہیں کر رہیں؟ موصوف کی لاعلمی پر ماتم کرنے کا دل چاہ رہا ہے انہیں چاہئیے زرا مدرسے سے نکل کر کسی یونیورسٹی کے سبجیکٹ کی لسٹ پر ہی نظر ڈال لیں تو موصوف کو اندازہ ہوگا کے یونیورسٹیاں اسلامک ہسٹری سے لے کر اسلامک اسٹڈیز تک ہر سبجیکٹ میں ماسٹرز کروا رہی ہیں۔ اور پھر انتہائی احمقانہ دلیل دے رہے ہیں کے جدید تعلیم دینا مدرسوں کا کام نہیں ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے دور سے ہی علم و تحقیق کے لئیے مدارس قائم کردئیے گئے تھے، جہاں ہر طرح کی تعلیم و تحقیق کے لئیے اس وقت کے پڑھے لکھے لوگوں کو مقرر کیا گیا تھا، یہ اسکول یونیورسٹیاں تو ابھی کل کی ایجاد ہیں جبکہ قرآن نے تو چودھہ سو سال پہلے ہی مسلمانوں اور پوری دنیا کے لوگوں کے یہ پیغام دے دیا تھا کے ہم نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جسکا علاج نہ رکھا ہو، غور کرو، فکر کرو، تدبر کرو، تفکر کرو، تلاش کرو ہم نے اس کائنات میں ہر ہر چیز رکھی ہے، سمندروں میں کیا ہے آسمانوں میں کیا ہے ڈھونڈو تلاش کرو، تو یہ سب کام تو مسلمانوں کے کرنے کے تھے میرے بھائی جو کے کفار کر رہے ہیں، ہم نے علم کو صرف اور صرف دین تک محدود کر کے رکھہ دیا کے علم تو صرف دین کا ہوتا ہے دنیا کا تو ہنر ہوتا ہے، یہ سب سے بڑی غلط تشریح کر کے بتائی گئی قوم کو جسکا خمیازہ آج پوری مسلم امہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے، مسلمان کو تو ٹرینڈ سیٹر بننا تھا ان زنگ آلود زہنیت والوں کی وجہ سے مسلمان آج تک ٹھیک سے فالوور بھی نہیں بن پایا، موصوف کا یہ کہنا کے مدرسوں کا کام صرف دین کی تبلیغ کرنا ہے یہ اسلام کے ساتھہ انتہائی بھونڈا مذاق ہے، جنگ بدر میں جو کفار قیدی بنا کے لائے گئے تھے ان سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے جو قیدی پڑھا سکے دس مسلمانوں کے وہ آزاد ہوگا، تو اگر ان کے نزدیک مدارس کا کام صرف دین کی تبلیغ کرنا ہے یا علم صرف دین کا علم حاصل کرنے کا نام ہے تو موصوف یہ بھی بتا دیں کے کیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے کیا دین سیکھانے کے لئیے کہا تھا مسلمانوں کو ؟۔ قصور موصوف کا نہیں ہے مسلہ یہ ہے کہ یہ جن کے پیچھے آج تک چلتے آئے ہیں ان لوگوں نے انکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں اپنے پاس گروی رکھہ لی ہیں اور ان کے دماغوں میں اسلام کی اپنے اپنے مسلک اور اپنے اپنے فرقے کے حساب سے کی گئی تشریحات پھر دی ہیں، یہ بیچارے نکل ہی نہیں سکتے ان کے چنگل سے۔ پھر موصوف فرماتے ہیں کے آج ہمارے معاشرے میں اسلام کی جو تھوڑی سی بھی جھلک ہے وہ ان ہی مدارس اور ان ہی علماء اکرام کی وجہ سے ہے۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کے ان ہی لوگوں کی وجہ سے تو پاکستان میں اسلام کی جھلک تک نظر نہیں آتی، اسلام اور مسلمان ہیں کہاں پاکستان میں؟ یہاں مسلک دیوبند ہے، مسلک بریلوی ہے، یہاں سلفی ہیں یہاں شیعہ ہیں یہاں وہابی ہیں، او بھائی مسلمان کہاں ہیں یہاں؟ مسلک ہیں یا فرقے ہیں اسلام کہاں ہے پاکستان میں؟ کوئی ایک بڑا نام بتا دیجئیے جو خود کو کسی مسلک یا فرقے سے وابسطہ نا کرتا ہو، صرف کوئی ایک بڑا اور معتبر نام بتا دیجئیے دور حاضر کے پاکستان میں؟ اور اگر آپ کے نزدیک یہ دیوبندی ہونا بریلوی ہونا، سلفی ہونا، شعیہ ہونا یا وہابی ہونا ہی اسلام کی روح ہے تو پھر مجھے اسلام کی روح سے ثابت بھی کر دیجئیے کے فرقہ بندی اور مسلک پرستی اسلام میں جائز ہے، یہ سب اپنی اپنی دکانیں چمکانے والے مداری ہیں مذہب کو بیچنے والے مذہب فروش ہیں، آخری خطبے کی روح کو سمجھہ کر پڑھہ لئجئیے پھر بھی اگر آپ بضد رہے کے یہ ہی اسلام ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے مسلمان تو پھر آپکو اور آپکے جیسی زنگ آلود زہنیت رکھنے والوں کو ہی مبارک ہو ایسا اسلام۔ میں جس اسلام کو مانتا ہوں اس میں فرقہ بندی مسلک پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، وہ اسلام لوگوں کو جوڑتا ہے، مسلک اور فرقوں کے نام پر لوگوں کو توڑتا نہیں۔ پھر موصوف معاشے میں علماء کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ایران اور توران کی قلابیں ملاتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ قوم کے اصل اور بنیادی مسائل کی ان نام نہاد علماء کی نظر ہی نہیں جاتی کبھی، اس وقت علماء کا کردار یہ ہونا چاہئیے تھا کہ وہ لوگوں میں انکے بنیادی حقوق کا پرچار کریں، لوگوں کو بتائیں کے ایک اسلام نے شہری کو کیا کیا حقوق دئیے ہیں، معصوم بچے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں چائلڈ لیبر لی جارہی ہے پاکستان میں، اس پر کبھی بات کیوں نہیں کرتے یہ لوگ؟ کبھی کسی عالم نے کہا کے حکمران چائلڈ لیبر پاکستان سے ختم کریں ورنہ ہم تحریک چلائیں گے لوگوں کو موٹی ویٹ کیا اسطرف کسی عالم نے؟ صفائی نصف ایمان ہے، پورا معاشرہ گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے مساجد کے سامنے گندگی اور غلاضت کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں، مساجد کے استنجہ خانے ایسے بدبودار کے سانس روک کر بھی کوئی اس میں جانا گواراہ نا کرے، کبھی اس طرف دھیان دی کسی عالم نے؟ یہ معاشرے کی گندگی کیا صاف کریں گے یہ تو مساجد کے استنجہ خانے صاف نہیں کروا سکتے، بنتے دین کے ٹھیکےدار ہیں، گورنمنٹ نے کم از کم تنخواہ سات ہزار روپے رکھی ہے، کوئی عالم مجھے کر کے دکھائے آج کے دور میں سات ہزار میں گزارہ، عام شہری کی تنخواہ دس گرام سونے کے برابر ہونی چاہئیے، یہ مطالبہ کیا کبھی کسی عالم نے؟ حدیث ہے کہ مفلسی کفر تک لے جاتی ہے، غربت سے انبیاءاکرام نے پناہ مانگی ہے، غربت کے دلدل سے کیسے نکلنا ہے کبھی یہ بتایا کسی عالم نے؟ جہالت اور غربت کے خلاف آواز اٹھائی کبھی کسی عالم نے؟ یہ ہے قوم کا اصل مسلہ اس کے لئیے کبھی آواز اٹھائی کسی عالم نے؟ اسکے لئیے ہڑتال کی کبھی کسی نے؟ گورنمنٹ مدرسوں میں اصلاحی ترمیم کرنے کا بل پاس کرنے کا کہتی ہےتو پھر دیکھو کیسے یہ سب ایک ہوجاتے ہیں اور سڑکوں پر آجاتے ہیں اس جاہل قوم کے جذبات سے کھیلتے ہیں، پھر ہڑتالیں بھی کرتے ہیں احتجاج بھی ہوتا ہے پھر گورنمنٹ کو دھمکایا بھی جاتا ہے اور اپنے مطلب کے مطالبات منوا کر واپس اپنے اپنے بلوں میں چلے جاتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں معاشرے میں عالم کا کردار؟۔ پھر موصوف نے فرمایا کے امریکہ کو بغیر ٹیکنالوجی کے شکست دی جاسکتی ہے، اور اسکی مثال انہوں نے جنگ بدر کی دی، پہلے بھی عرض کیا تھا کے تعداد بھلے مسلمانوں کی کم تھی مگر ہتھیار دونوں جانب ایک جیسے ہی تھے، جبکہ آج معاملہ زمین اور آسمان کے فرق کے برابر آچکا ہے، ہم تو آج تک بھی تیر اور تلوار تک ہی محدود ہیں یہ جو ایٹم بم اور آج کے جدید ہتھیار ہیں یہ بھی کفار کے ہی بنائے ہوئے ہیں، پھر وہ ہی بات کہوں گا کے مومن اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے، بجائے ڈرون کا توڑ تلاش کرنے کے یہ جاہل آج تک بھی جذبات فروشی ہی کر رہے ہیں جنگ بدر میں بھی مسلمان اس وقت کے جدید ہتھیار سے لیس ہوکر لڑے تھے خالی ہاتھہ نہیں لڑے تھے، آج دشمن جدید ہتھیار سے لیس ہے اور ہم محض کھوکھلے نعروں سے لیس ہیں، انہوں نے قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر آج تحقیق کی تفکر کیا تلاش کیا کائنات کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کی تو آج وہ اس مقام پر ہے کے ایک کمرے میں بیٹھہ کر بغیر پائلٹ کے ڈرون سے ہمیں تہس نہس کر رہا ہے، قرآن کا یہ حکم تو ہمارے لئیے بھی تھا تو ہم نے کیوں نہیں کرلیا یہ سب حاصل ؟ جب تک مسلمانوں کا رشتہ علم اور تحقیق سے جڑا رہا تب تک مسلمان بحر ضلمات میں گھوڑے دوڑاتا رہا، اب اگر وہ تعلیم اور تحقیق پہ ملکہ حاصل کرنے کے بعد بحرظلمات میں ڈرون دوڑا رہےہیں تو اس میں قصوروار کون ہے ہم یا امریکہ؟۔ اللہ کے واسطے نکلنے دو مسلمانوں کو جہالت کے اندھیرے سے، اگر خود کچھہ نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم ان لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی مت کرو جو لوگ اسلام کی روح کے عین مطابق علم حاصل کر کے صحیح معنوں میں اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ پھر موصوف فرماتے ہیں کے مسلمان حکومتوں کے زوال کے اصل زمہ دار غداروں کے قرار دیتے ہیں، تو چلو اس پر ہی بات کرلیتے ہیں کہ یہ غدار صرف مسلمانوں میں ہی پیدا کیوں ہوتے ہیں ؟ کبھی ایسا سنا کے کسی مسلمان ملک نے کسی یہودی کو خرید کر اسرئیل پر خودکش حملہ کروا دیا ؟۔ یہ بھی ہماری ہی کمزوری ہے ہمارا ہی قصور ہے اس میں کسی اور کو کیوں مورودالزام ٹھیراتے ہیں ہم ؟۔

      • بنیاد پرست نے کہا:

        موضوع نمبر ۱ کا جواب :
        جناب فکر پاکستان صاحب آپ کو کس نے بتلا دیا کہ علما جہالت کے خلاف بات نہیں کرتے یا جدید علوم کے حصول ، جدید دور سے ہم آہنگ ہونے منع کرتے ہیں۔ آپ نے اپنا آئی ڈی فکر پاکستان رکھا ہوا ہے اور علم آپ کو پاکستانی لوگوں کا ککھ بھی نہیں۔ اگر پاکستانی میں رہتے ہیں تو یہ فضول بہتان لگانے کے بجائے جاکر کسی مستند مدرسے سے فتوی لیں وہ یہاں آکر پیش کریں کہ کس عالم نے منع کیا ہے کہ ڈاکٹر، سائنسدان، انجنیر نہ بنو۔ میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں بھی اس پر بات کی تھی کی ہمارے مدارس نے علما اور غیر علما کے لیے مختلف جدید نوعیت کے کورسس شروع کیے ہیں ۔ آپ تفصیل اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔
        http://www.kulyatushariah.edu.pk/jrks/Page.do?id=6
        آپ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ آپ علما کے طرز عمل کو ان لوگوں کی زبان سے پڑھتے اور سنتے ہیں جن کی زندگی کا مقصد ہی ورثۃ الانبیآء کی توہین و تذلیل ہے ۔ میرا آپ کو مشورہ ہے کبھی ذاتی طور پر بھی کسی عالم سے مل کر تفصیلات پوچھ لیں۔ اگر آپ کو اچھے عالم میسر نہیں تو میں آپ کو نمبر فراہم کرسکتا ہوں۔ اگر آپ یہاں بھی اپنی عقل کو حق سمجھتے ہیں تو میرا آپ کو چیلنج ہے آپ کسی مستند مدرسے کا جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے خلاف فتوی پیش کردیں۔ آپ اپنی انکل ٹام کو بھی آخر تک اپنی بات کو حوالہ نہیں دے سکے ، یہاں بھی آپ ایسا ہی کریں گے۔
        جناب نے فرمایا کہ مناظرہ کرنا جائز ہے لیکن دین میں فتنہ اور فرقہ واریت پھیلانے والوں سے مناظرہ نہیں کرنا چاہیے، اگر ایک شخص اٹھ کر کہتا ہے کہ ابوبکر وعمر و عثمان سمیت تما م بڑے صحابہ کافر و زندیق تھے، ایک دوسرا بندہ آکر اللہ نبی ، سنت وبدعت میں فرق ختم کردیتا ہے، ایک مفکر آتا ہےآکر چودہ سوسال سے چلے آنے والی مذہبی تشریح و تحقیق کے مطابق عمل کرنے کو کفر کہہ قرآن و حدیث کی اپنی کی گئی تشریحات پر عمل کرنے کو کہتا ہے اور رفع یدین، اونچی آہستہ آمین، رکعات تراویح کو کفر اسلام کا مسلہ بنادیتا ہے، ایک گرگٹ آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت پر حملہ کردیتا ہے اور ان فتنوں کے نتیجے میں عوام ملحد وکافر ہوجاتے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ساری عوام کافر ہوجائے، اصل دین مٹتا ہے تو مٹے ،دین کی حیثیت ہی کیا ہے ،۔ آج کل اور بھی بڑے مسائل ہیں ، عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مغربی تہذیب و تمدن سے جہالت ہے ۔ اس جہالت کے خلاف مناظرے ہونے چاہیے، ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے مناظرے ہونے چاہیے۔ مسجد میں اعلان ہونا چاہیے آج مناظرے کا موضوع ہے ” جہالت سے نجات اور ٹیکنالوجی کا حصول کیسے” مناظر ہیں سید پرویز مشرف اور اسری نعمانی۔ مولوی تو ہیں ہی جاہل یہ لوگوں کو کیسے انسانیت و تہذہب سکھائیں گے’ انہوں نے قرآن و حدیث پڑھا ہے اس میں ایسی تعلیم وتذکرہ کہا ، یہ باتیں تو مغرب سے پڑھے ہوئے جدید تعلیم یافتہ ، روشن خیال لوگوں کا ہی ورثہ ہیں کیونکہ انہوں نے انگریجی پڑھی ہوئی ہے ، وہ جدید دور کی تمام ضرورتوں منافقت، حرام خوری، ، شراب نوشی، زنا، ناچ گانا کے جدید طریقوں سے واقف ہیں۔ محفل کے شروع میں پہلے جنون گروپ کا گانا چلے۔
        زمانے کے انداز بدلے گئے
        نيا راگ ہے ، ساز بدلے گئے
        عوام کو پیغام دیا جائے گا کہ چھوڑیں اسلامی دقیانوسیت ، زمانہ بدل چکا ہے ، تیاری کریں جدید دور میں داخل ہونے کی ۔ پھر مشرف صاحب عوام کو بتائیں گے کہ کیسے ان کے گھر والے جدید دور میں داخل ہوئے۔ اپنی کتاب میں لکھی گئی بات کا تذکرہ بھی کریں گے کہ میری ماں بہترین ڈانسر تھی ، ترکی کے کلب میں ناچتی تھی۔پھر بتائیں کہ میں نے جاہل پاکستانیوں کو جدید دور میں داخل کرنے کے لیے کتنی قربانیاں دیں۔ پہلے میں نے خود ان مسلمانوں کا قتل عام کروایا جو کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھے، پھر امریکن کو تمام بنیاد پرست مسلمانوں کے قتل عام کا لائسنس جاری کردیا۔ دیکھیں کتنی ترقی آئی پاکستان میں ، لاکھوں ڈالر پاکستان منتقل ہوئے، ابھی ہر طرف چین ہی چین ہے۔ ہمیں لوگوں کو آزادی اظہار رائے اور سب کو برابر انسانی حقوق دینے ہیں، لال مسجد کی طالبات نے طوائفوں کے انسانی حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی میں نے ان سب کو زندہ جلا دیا تین بازاری عورتوں کی عصمت ہزاروں دن رات قال اللہ قال الرسول کے تذکرے کرنے والی پاک دامن لڑکیوں کے مقابلے میں ذیادہ معتبر ہے ۔میں نے عوام کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے میرا تھن ریس جیسے مختلف صحت مندانہ پروگرام شروع کیے ، یہ لوگ چونکہ آپ کی ترقی نہیں چاہتے اس لیے انہوں نے وہاں بھی آپکی بہنوں بیٹیوں کو ننگی ریسیں لگانے سے روک دیا ،آپ لوگ چھوڑیں انکے بنیاد پرستوں کے پیچھے نمازیں پڑھنا، قرآن وسنت کی تبلیغ کرنے والے مدارس اور علما کو مٹانے میں میرا ساتھ دیں، جب یہ لوگ ختم ہوجائیں گے پھر پاکستان بھی یورپ بن جائے گا، روشن خیالی ہی روشن خیالی ہوگی، ترقی ہی ترقی ہوگی۔ والسلام علی من تبع الیہودی و نصاری۔
        پھر اسری نعمانی صاحبہ عوام کو بتائیں گیں کہ اصل اسلام کی تشریح وہی ہے جو یہودونصاری نے کی۔ اگر جہالت سے نجات حاصل کرنی ہے تو ان چودہ سوسال پرانی کتابوں کو چھوڑنا ہوگا، یہ کتابیں مخالفین کے قتل عام، زنا و شراب نوشی، بے حیائی سے منع کرتے ہوئے معاشرے میں انتہا پسندانہ ذہنیت کی پرورش کرتیں ہیں۔ اسلام میں سختی نہیں ہے۔ اگر آپ نے ترقی کرنی ہے تو آپ کو مرد وعورت میں تمیز کو چھوڑنا ہوگا ، جو کام مغرب والے کررہے ہیں وہ کرنے ہوں گے، تبھی آپ لوگ ترقی کرسکیں گے، مولوی لوگ لازمی آپ کو اس ننگ دھڑنگ ترقی سے روکنے کی کوشش کریں گے ، آپ لوگ نمازیں پڑھنے، نکاح پڑھوانے، جنازے پڑھوانے میں انکے محتاج بنے ہوئے ہیں۔ میں اس کے لیے آپ کو اپنی خدمات پیش کرتی ہوں، آئندہ آپ کا نکاح ،جمعہ، جنازہ میرے انسٹیوٹ کی لڑکیا ں پڑھایا کریں گی۔ ڈبل مزے نماز بھی پڑھیں آنکھیں بھی ٹھنڈی کریں۔
        http://sweetjaveria.blogspot.com/2009/04/blog-post_14.html
        جناب مفکر پاکستان صاحب۔
        ایک بات کلیئر کرتا چلوں۔ مناظر ہ ہمیشہ وہاں کیا جاتا ہے جہاں کسی بات پر اختلاف ہوں۔ اسلام آیا ہی جہالت سے نجات کے لیے تھا، اور دنیا کا واحد مذہب جس نے انسانوں کو کائنات میں غوروفکر و تحقیق کا حکم دیا ہے وہ اسلام ہے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہر جدید علم اور ایجاد کی بنیاد کے پیچھے مسلم سائنسدان کا نام آتا ہے۔ مطلب اس میں دورائے نہیں ہیں کہ جدید علوم و تحقیق سے فائدہ اٹھانا چاہیے یا نہیں اس لیے ان پر مناظروں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ باقی جہاں تک دینی مسائل میں مناظروں کی بات ہے وہ کوئی واجب کا درجہ رکھتے بلکہ یہ بوجہ ضرورت ہے۔ انگریز کے آنے سے پہلے برصغیر میں کوئی فرقہ واریت نہیں تھی صرف احناف کا مسلک چلتا تھا اس لیے ان مناظروں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ موجودہ دور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق ہے جس میں آپ نے زمانہ آخرزمانہ میں دین اسلام میں مختلف فتنے پیدا ہونے کی پیشن گوئی کی تھی اب دوسرے تمام شعبوں علم وعمل‘ تقویٰ وطہارت‘ تصنیف وتالیف‘ تعلیم وتدریس‘ اصلاح وتربیت‘ تردیدِ باطل‘ احقاقِ حق‘ میدانِ جہاد ، میدان سیاست کے ساتھ ان فتنوں سے عوام کو بچانا بھی علمائے حق کی ذمہ داری ہے۔
        موضوع نمبر 2 کا جواب :
        آپ نے فرمایا کہ یونیورسٹیوں میں اسلامیات بھی پڑھائی جاتی ہے ، حقیقت میں ماتم تو آپ کی عقل پر کرنا چاہیے کہ آپ کو پتا ہی نہیں اسلامیات یا ہسٹری میں ایم اے کرنے سے کوئی عالم نہیں بن جاتا ، اگر دین کا اتنا علم ہی کافی ہے پھر آپ کو مدرسوں پر کیا اعتراض جہاں کمپیوٹر ، انگلش، میتھ کے بیسک کورسس پڑھائے جارہے ہیں۔ آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کی بات کی انہوں نے علم و تحقیق کے لیے مدارس قائم کیے تھے، دوسری آپ نے غزوہ بدر کی مثال دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے علم سیکھنے کی راہ نکالی ۔ جناب والا آپ حقیقت کی طرف آئیں اور مجھے بتائیں جنگ بدر کے قیدیوں نے مسلمانوں کو کون کون سے سائنسی علوم سیکھائے اور عمر رضی اللہ عنہ نے کونسے سائنسی ادارے قائم کیے تھے۔ آ پ میری اس بات سے یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ میں سائنسی علوم کا انکار کررہا ہوں۔ اصل میں میں آپ کو اسلامک ہسٹری میں تحقیق کے طریقہ کار بتانے کی طرف لانا چاہتا ہوں۔ آپ مسلمان سائنسدانوں کے حالات پڑھیں ۔ آپ کو پتا چلے گا کہ وہ اسلامی حکومت کی طرف سے دیئے گئے ایک سیٹ اپ میں جڑے ہوئے تھے ۔ آپ سپین میں مسلمانوں کی حکومت کے دوران ہونے والی تحقیق و ترقی کے متعلق پڑھیں ۔ اس میں بادشاہ وقت نے مدارس کے علاوہ خود ایسے ادار ے قائم کیے تھے جن میں غیر زبانوں میں موجود علوم کی عربی میں منتقلی، پھر قرآنی علوم و پہلے سے چلے آنے والے علوم کی روشنی میں نت نئی تحقیقات و تجربات کیے جاتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ اسلامی تاریخ میں ہونے والی ایجادات و تحقیق ایک نظام کے تحت تھی، جسکی سپورٹ خود اسلامی حکومت کرتی تھی، تعلیمی نظام چونکہ سارا مسلمانوں کا ہی بنایا ہوا تھا اس لیے یونیورسٹی یا مدرسے میں فرق نہیں ہوتا تھا، بنیادی دینی تعلیم کے بعد ہر شخص اپنی مرضی کے شعبہ اور ادارے سے منسلک ہوجاتا تھا۔ یہی طریقہ کار برصغیر میں بھی انگریزوں کے آنے سے پہلے تک چلتا رہا۔ انگریزوں نے برصغیر کی زمین پر قبضہ کے بعد یہاں کے لوگوں کے ذہنوں پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی، اس کے مقابلے میں اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے بعد کے بچے کچھے علما نے جمع ہوکر مسلمانوں کے دین کی حفاظت، ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کے دور استبداد میں حضرت شاہ ولی اللہ کی تحریک کو جاری رکھنے ، مسلمانانِ ہند کے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے ، مسلک حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنے ، دشمنان اسلام ، مشرکین ہندوستان اور عیسائی مبلغین کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کا اپنی مدد آپ کے تحت بیڑا اٹھایا ۔ اب لازمی بات تھی کہ ان حالات میں جبکہ وہاں نہ اسلامی حکومت تھی جو انکی مالی و اخلاقی سپورٹ کرتی اور مکمل اسلامی تعلیمی نظام کو بحال کرنے میں انکی مدد کرتی اس لیے مدارس خالص دینی تعلیم تک محدود ہوگئے۔بعد میں جب پاکستان آزاد بھی ہوگیا تو مسلمانوں کی حکومت آئی انہوں نے بھی اسلامی تعلیمی نظام جو کہ ہماری میراث تھی کو بحال کرنے کے بجائے انگریز وں کے دیئے گئے تعلیمی نظام کو ہی برقرار رکھا ، بلکہ موجودہ حکومتوں نے تو اپنے تعلیمی نظام کا قبلہ درست کرنے کے بجائے اپنے مائی باپ کے اشارے پر دینی علوم کے طریقہ کار کو بدلنے کی ٹھان لی ۔۔۔ اب ہمارے مدارس کے موجودہ سٹائل کا سکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کے طریقہ کار سے مختلف ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں لارڈ میکالے کا نظام ہے اور مدارس میں اسلامی نظام۔ یہ دونوں بظاہرا ایسے ہی ایک دوسرے کی ضد ہیں جیسے جمہوریت اور خلافت۔ یہاں میرا لارڈ میکالے کے نظام کو اسلامی نظام کے خلاف کہنے کا مطلب جدید علوم و تحقیق سے انکار کرنا نہیں بلکہ اختلاف طریقہ کار پر ہے ، جسکی وجہ سے آج بھی ہماری یونیورسٹیوں سے فارغ طلبا یورپ و امریکہ کے تعلیمی اداروں سے فارغ طلبا کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ وجہ یہی ہے کہ یہاں کا دنیاوی تعلیمی نظام محض ایک ڈھکوسلہ اور لارڈ میکالے کی سوچ کے مطابق ہے اور وہاں کا نظام حقیقت میں وہ طریقہ کار رکھتا ہے جو کہ مسلمانوں نے رائج کیا تھا کہ وہاں سے نکلنے والا شخص صرف کتابیں رٹنے کے بجائے محقق و سکالر کی صورت میں نکلتا تھا۔
        ۔ خلاصہ یہ کہ اسلامی تاریخ میں ہونے والی ایجادات و تحقیق اور اسکے ادارےایک نظام کے تحت تھی، جسکی سپورٹ خود اسلامی حکومت کرتی تھی، تعلیمی نظام چونکہ سارا مسلمانوں کا ہی بنایا ہوا تھا اس لیے یونیورسٹی یا مدرسے میں فرق نہیں ہوتا تھا، بنیادی دینی تعلیم کے بعد ہر شخص اپنی مرضی کے شعبہ اور ادارے سے منسلک ہوجاتا تھا۔ جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ اب چونکہ ایسا کوئی سسٹم نہیں ہے اور یونیورسٹی کالجوں نے سائنسدان ، ڈاکٹر، انجنئر پیدا کرنے کا اور مدارس نے دینی علما و سکالر پیدا کرنے کا بیڑا اٹھا یا ہے۔ اسی لیے ہمیں ہر شعبہ سے اسکی متعلقہ امیدیں رکھنی چاہییں۔
        موضوع نمبر ۳ کا جواب :
        فرقوں کے پیدا ہونےا ور انکے سدباب پر تو میں اوپر بات کرچکا ۔ آپ نے جو نئے میزائل چلائے ہیں انکے لیے اتنا ہی کہوں گا کہ علما کا کام صرف حکمت و دانش کے ساتھ سمجھانا نصیحت کرنا ہے ۔ باقی معاشرتی و سیاسی مسائل تنخواہوں میں کمی، غربت کا سدباب، گندگی اٹھانا، چائلڈ لیبر اور بچوں کو بھیک مانگنے سے بچانا حکومت وقت کا کام ہے جو آپ کے پسندیدہ تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے لوگ ہیں۔ جب اتھارٹی مکمل علما کے ہاتھ میں ہوگی پھر ان معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل کے ذمہ دار بھی علما ہونگے۔ ابھی فی الحال یہ الزام آپ جدید تعلیم یافتہ افسران اور حکمرانوں کو ہی دیں۔ علما نے اسلام آباد میں ایڈز پھیلانے والوں کے خلاف آواز اٹھائی نتیجہ آپ نے دیکھ ہی لیا کہ آپکی روشن خیال حکومت نے ہزار طالبات کا قتل عام کردیا۔
        موضوع نمبر 4 کا جواب :
        جناب آپ نے جنگ بدر کے متعلق فرمایا کہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی مگر ہتھیار دونوں جانب ایک جیسے ہی تھے، مسلمان جدید ہتھیاروں سے لیس ہوکر لڑے تھے۔ میں جناب سکالر اعظم اسلام کے سامنے جنگ بدر میں کفار اور مسلمانوں کے لشکر کا موازنہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
        لشکر اسلام لشکر کفار تفصیل
        213 950 افراد
        70 700 اونٹ
        3 100 گھوڑے
        8 950 تلواریں
        6 950 زرہیں
        آپ کی اسلامی تاریخ کے متعلق یہ علمی حالت ہے اور تنقید علما اور مدارس پر کرنے آگئے ہیں۔ میراد ل تو کر رہا ہے کہ جس طرح آپ نے چھوٹی سی بات کے اوپر اتنے طعنے دیے اور طنزیں ماری ذرا میں بھی آپ کی طبیعت صاف کروں ، لیکن میرا مقصد آپ کی تذلیل کرنا نہیں بلکہ ایک مسئلہ سمجھانا ہے ۔ امید ہے آپ سمجھ جائیں گے کہ
        کسے خبر کہ ہزاروں مقام رکھتا ہے
        وہ فقر جس میں ہے بے پردہ روح قرآنی
        مٹا یاقیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
        وہ کیاتھا؟ زور حیدر ، فقر بوذر ، صدق سلمانی
        آپ نے فرمایا ایک کمرے میں بیٹھ کر لوگ ایک ڈرون حملہ سے ہمیں تہس نہس کررہا ہے۔ جناب والا کیا ہمارے پاس ڈرون حملوں کو تباہ کرنے کی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ کیا ڈروں ایف سکسٹین اور کروز میزائل سے بھی تباہ نہیں ہوسکتا ؟ مفکر پاکستان بات پھر وہیں آ جاتی ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں ہے۔ مسئلہ ایمان کا ہے ، آپ کسی کھسرے کو بندوق پکڑا دیں ، وہ اسی کو لے کر ناچنا شروع کردے گا۔ ہمارے حکمرانوں کی بھی یہی حالت ہے۔ لاکھوں روپیا دفاع پر لگا رہے ہیں اور کیا دفاع ہورہا ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے۔ ڈرون حملوں سے تین ہزار کے قریب بے گناہ شہری اب تک مارے جاچکے ہیں، کیا کوئی ایک بھی ڈرون گرایا۔
        امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ آخر زمانہ کے مسلمانوں کی اصلاح بھی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک وہی طریقہ نہ اختیار کیا جائے جو اس امت کے پہلے لوگوں کے اوپر انکے نبی نے اختیار کیا تھا۔ جناب ہمارا مسئلہ نہ دولت، نہ طاقت ہے ۔ ہمارا مسئلہ دین سے دوری ہےاس کی وجہ سے ہم دنیا میں ذلیل ہورہے ہیں۔ جس دن لوگوں کے اندر اللہ کا ڈر اور آخرت میں اسکے آگے جواب دہی کا احساس پیدا ہوگیا ۔ معاشرے سے ساری برائیاں ختم ہوجائیں گیں۔ یہ احساس پیدا کرنا صرف ایک طبقہ کا کام نہیں ، ہم سب کو دین کی وقعت دینی ہوگی اور دینی شعور کو اجاگر کرنا ہوگا۔
        مومن پہ گراں ہيں يہ شب و روز
        دين و دولت ، قمار بازي!
        ناپيد ہے بندہ عمل مست
        باقي ہے فقط نفس درازي
        ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
        جس فقر کي اصل ہے حجازي
        اس فقر سے آدمي ميں پيدا
        اللہ کي شان بے نيازي
        کنجشک و حمام کے ليے موت
        ہے اس کا مقام شاہبازي
        روشن اس سے خرد کي آنکھيں
        بے سرمہ بوعلي و رازي
        حاصل اس کا شکوہ محمود
        فطرت ميں اگر نہ ہو ايازي
        تيري دنيا کا يہ سرافيل
        رکھتا نہيں ذوق نے نوازي
        ہے اس کي نگاہ عالم آشوب
        درپردہ تمام کارسازي
        يہ فقر غيور جس نے پايا
        بے تيغ و سناں ہے مرد غازي
        مومن کي اسي ميں ہے اميري
        اللہ سے مانگ يہ فقيري

      • fikrepakistan نے کہا:

        بنیاد پرست بھائی آپکی تحریر کا جواب میں اوپر دے چکا ہوں، بہت زیادہ طویل بحث میں میں جانا نہیں چاہتا کہ میرا مقصد بحث و مباحثہ ہرگز نہیں ہے۔ یہاں بس اتنی تصحیح کرنا چاہوں گا کے جنگ بدر میں دو سو تیرہ نہیں تین سو تیرہ مسلمان تھے۔

  21. یہ جذباتیت ہم نے افغانستان میں کر کے دیکھہ لی، عراق میں کر کے دیکھہ لی، لبنان میں کرکے دیکھہ لی، ابھی لیبیاء میں دیکھہ ہی رہے ہیں، کیا نتیجہ نکلا خالی خولی کی جذباتیت کا ؟ ابھی تک افغانستان میں تین ہزار سے زیادہ امریکن نہیں مار سکے مسلمان، اور اس نے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو شہید کر دیا ہے، تو اگر مقصد صرف جذباتیت میں ملغوب ہوکر شہادت کا رطبہ پانا ہے تو پھر سو بسمہ اللہ، لیکن اگر مقصد باقائدہ پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ ہے تو بھائی پھر تو اس خالی خولی کی جذباتیت سے باہر نکلنا ہوگا، دور جدید سے ہم آہنگ ہونا ہوگا. فکر پاکستان۔
    یہاں ایک حقیقت واضح کرنا بہت ضروری ہے۔ کہ عراق، لبنان، افغانستان اور لبیا نے یا ان ممالک کے عوام نے امریکہ پہ حملہ نہیں کر رکھا بلکہ ان ممالک اور ان میں بسنے والے مسلمان عوام پہ باقاعدہ حملہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے کیاہے۔ انسانیت سوز جنگیں چھیڑ رکھیں ہیں۔ مسلمان ممالک اور عوام کو تاراج کر رکھا ہے۔ جہاں انسانیت سرنگوں اور شیطانیت اپنے پورے عروج پہ ناچ رہی ہے۔ مثال کے لئیے ابو غریب، پل چرخی، گوآنتاناموبے جیسی جیلوں کے چند نمونے ملاحظہ کر لیں۔ جہاں بے گناہ اور عام شہریوں پہ ہر وہ ستم روا رکھا گیا جس کی اجازت کوئی مذھب اور اخلاقی پیمانہ نہیں دیتا۔ تفضیلات جان کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کمزور دلوں کو ابکائی آجاتی ہے اور شیطان بھی شرما دیتا ہے۔
    ان مندرجہ بالا ممالک کے مسلمان عوام کو سلام کیا جانا چاہئیے جنہوں نے انتہائی کم وسائل سے حملہ آور اور قابض فوجوں کو اتنے سالوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ ورنہ ان کا اگلا ہدف پاکستان ہوتا۔
    ان ممالک کے عوام نامساعد حالات میں کم تر ٹیکنالوجی اور ہتیاروں کے باوجود اپنے جذبہ ایمانی سے اپنے ملک پہ حملہ آور اور قابض ہونے والے غاصبوں کے خلاف مزاحمت میں کامیاب ہیں اور حملہ آور دنیا کے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہونے اور دنیا کی فی الوقت سب سے بڑی عالمی طاقت ہونے کے باوجود دنیا کی غریب ترین قوم پہ ایک دہائی کے لگ بھگ اپنا ہر جتن آمازما لینے کے باوجود تھک ہار کر وہاں سے نکلنے کے جتن کر رہا ہے۔ اور اپنی شکست اور شرمندگی چھپانے کے لئیے کوئی عجب نہیں کہ اس ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پہ ڈال دیا جائے ۔ آپکو اس بات کے لئیے بھی تیار رہنا چاہئیے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان وغیرہ میں ناکامی کے بدلے کے طور پہ پاکستان کے اندرونی حالات مزید خراب کر دئیے جائیں۔ اور پاکستان کے خلاف اس کار شر میں بھارت کا دست تعاون ابھی سے حرکت میں آچکا ہے۔
    موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ عراق، لبنان، افغانستان اور لبیا پہ ناحق مسلط کی گئ جنگوں کا مقصد امریکہ اور دنیا پہ اسلام یا مسلمانوں کا غلبہ حاصل کرنے سے باز رکھنا نہیں۔ اور نہ ہی ان ممالک کے عوام حملہ آور قابضوں کے خلاف اسلئیے مزاحمت کر رہے ہیں کہ وہ دنیا پہ اسلام یا مسلمانوں کا غلبہ کرنے کا ایجینڈا لئیے نامساعد حالات میں مزاحمت کر رہے ہیں۔ بلکہ حملہ آور غاصب افواج کو اپنے ممالک سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں اور جس میں وہ بڑی حد کامیاب ہیں۔ اور یہ حق ہر انسان کا پیدائشی حق مانا جاتا ہے کہ وہ اپنی آزادی پہ حملہ کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرے۔ اور ہزاروں سال سے اس دنیا میں یوں ہوتا آیا ہے۔

  22. ٹیکنالوجی کے حصول کو (علماء کی طرف سے) کفر قرار دیا جارہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کر رہا۔فکر پاکستان۔
    کیا آپ یہ بات بتانا پسند کریں گے۔ کہ پاکستان اور باقی دنیا میں وہ کونسے علماء ہیں جو ٹیکنالوجی کے حصول کو کفر قرار دیتے ہیں۔ آپ کچھ دن پہلے لکھ چکے ہیں کہ ایک مسلمان کو اپنے لکھے کی حرمت کا خیال رکھنا چاہئیے۔ کیا آپ کے علم میں ہے کہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟ یا ہم اسمجھیں کہ آپ کا اپنی باتوں میں غیر جانبداری کی بجائے دین کا نام لینے والوں اور علماء سے کسی خاص وجہ یا مقصد کے تحت معاندانہ اور جانبدارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور آپ کا سارا زوربیاں علمائے دین کو حقیر اور دین اسلام کی تبلیغ و ترویج کو فضول قرار دینے پہ ہے؟۔
    کیا آپ نے محسوس کیا ہے "بنیاد پرست” نامی بلاگ کے تحریری جواب میں آپ نے جوابی مناظرہ کیا ہے۔ جس میں آپ نے مناظرے کے بنیادی اور اہم اصول یعنی شہادت اور ثبوت کو یکسر پس پشت ڈالتے ہوئے علمائے دین کے بارے میں نہائت عامیانہ اور ہندو ستان میں انگریز دور کی انگریزوں کی علمائے دین کے خلاف اسٹیریو ٹائپ زبان استعمال کی ہے۔
    اپنے لکھے کی حرمت کے لئیے شہادت اور ثبوت ضرور دیں۔ بغداد پہ چگیز خان کی چڑہائی اور قتل و غارت کی روک تھام نہ کرنے کی وجہ، آپکے بیان کے مطابق علمائے دین تھے انکل ٹام نے مستند حوالہ مانگا ہے جو آپ نے نہیں دیا۔ اب آپ نے مزید لکھ بیجھا ہے کہ "ٹیکنالوجی کے حصول کو (علماء کی طرف سے) کفر قرار دیا جارہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کر رہا” تو کیا آپ کے پاس اس بارے متنند حوالہ جات ہیں۔ اور کیا آپ سمجھتے ہیں انگریزوں کی پھیلائی سنی سنائی باتیں یا کسی ایک کم فہم مسلمان کی کہی بات درست ہوتی ہے جسے سبھی علمائے دین پہ آسانی سے تھوپا جاسکتا ہے۔ تو پھر آپکی نظر میں ان علمائے دین کی حیثیت ہے جو کہ نا صرف خود جدید ٹیکنالوجی کے کئی ایک شعبہ جات کو مدارس میں نہ صرف پڑھا رہے ہیں بلکہ ایک عام پڑھے لکھے پاکستانی سے کئی درجہ زیادہ نئی ٹیکنالوجیز کے بارے نہ صرف علم رکھتے ہیں بلکہ ان پہ عبور کی ڈگری یافتہ بھی ہیں۔ اور وہ اسلام کو دین سمجھتے ہوئے اسے کل عالم انسانت کو لاحق مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ پابند شرع و صوم و صلواۃ بھی ہیں۔ تو کیا آپ کے نزدیک ایسے علمائے دین کے موجود ہوتے ہوئے محلے کی مسجد کے کم تعلیم یافتہ مولوی صاحب کو جو بے چارے محلے کے بچوں کو قرآن ناظرہ، نمازیوں کو نماز، شادیوں پہ نکاح اور فوتگیوں پہ نماز جنازہ پڑھوا کر اپنی گزر بسر کر رہے ہیں۔ اگر محلے داروں کو یہ منظور نہیں تو مولوی صاحب کو مسجد اور محلے سے نکال باہر کریں۔ اگر محلے والے یوں نہیں کرتے یا کرنا نہیں چاہتے تو اس میں محلے والوں کا قصور ہے۔ جبکہ آپ نے دیدہ و دانستہ ایک کم خواندہ مولوی کو عالم دین قرار دے کر علماء کو حقیر قرار دیا ہے۔آپ نے انکال ٹام کے بارے حوالہ نہیں دیا اور اب "ٹیکنالوجی کے حصول کو (علماء کی طرف سے) کفر قرار دیا جارہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کر رہا” بیان جاری کر کے موضوع کو مزید الجھا دیا ہے۔ ا کیونکہ ایسے غلط شوشے ایک اسلام کے خلاف جامع مقاصد حاصل کرنے کے لئیے اغیار کی طرف سے پھیلائے گئے اور پھیلائے جارہے ہیں جبکہ انکی کوئی حقیقت نہیں۔ ور اس بارے اسلئیے آپ کوئی حوالہ دینے سے قاصر ہیں۔ اسکا دوسرا آسان حل یہ بھی تھا کہ آپ اپنی بات سے رجوع کرتے اور مناسب الفاظ میں وضاحت بیان کر دیتے۔
    پاکستان میں عموما یوں ہوتا ہے کہ روانی بیان یا روانی تحریر میں اکثر لوگ کچھ ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں۔ لکھ جاتے ہیں جنہیں بعد میں پڑھ کر سن کر انھیں بھی یقیناََ افسوس ہوتا ہوگا۔ شاید اسطرح کا معاملہ آپکے ساتھ بھی ہوا ہے اور یہ کوئی ایسی بھی غلط بات نہیں کہ اس پہ نادم ہوا جائے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مگر کچھ معاملات ایسے ہیں جہاں "لے سانس بھی زرا آہستہ” کے مصداق نہائت احتیاط سے کام لینا چاہئیے خاص کر جب قومی سلامتی اور دین اسلام جیسے موضوعات پہ لکھا جائے یا بیان دیا جائے۔
    میری ذاتی رائے میں آپ کی نیت پہ شک نہیں مگر آپ کے طریقہ کار سے اختلاف ہے۔ امید ہے آپ میری باتوں کو اپنی زات پہ نہیں لیں گے۔ میرا مقصد محض اتنا سا ہے کہ آپ کی توجہ ایسی طرف دلاؤں جس بارے شاید آپکی نظر نہ گئی ہو۔
    وما علینا الا البلاغ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101213424&Issue=NP_LHE&Date=20110410 اتفاق سے جاوید جوھدری صاحب کا آج کا کالم اس ہی موضوع پر ہے اسے پڑھئیے زرا اور ان تمام لوگوں کو بھی پڑھوائیئے جو خالی خولی کی بھڑکیاں مار کر خود کو عظیم قوم تصور کرتے ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید بھائی حقائق سے اسطرح آنکھیں چرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے اس سے حقائق کو کوئی فرق نہیں پڑے گا الٹا ہمارا اپنا ہی نقصان ہے، اتنی جلدی بھول گئے آپ ابھی کل کی ہی بات ہے کے سوات میں اسلامی شریعت کے نام پر ان لوگوں نے اپنی مرضی کی سوچ اور اپنی مرضی کا اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی، جسکے تمام مکاتب فکر کے متفقہ فیصلے کے بعد انکی وہ نام نہاد خود ساختہ شریعت ختم کرنا پڑی، کل تک یہ تصویر کو حرام قرار دیتے تھے جبکہ آج انکے فوٹو سیشن ہر اخبار ہر رسالے میں چھپتے ہیں، کل تک یہ ٹی وی کو مووی کو حرام قرار دیتے تھے جبکہ آج ہر اسلامی چینلز کے نام سے ان کے چہرے ہٹتے ہی نہیں ٹی وی سے درخواستیں کر کر کے ٹی وی پر آتے ہیں یہ لوگ، کل تک یہ لاوڈ اسپیکر کو حرام قرار دیتے تھے جبکہ آج لاوڈ اسپیکر ہی انکا سب سے بڑا ہتھیار ہے، یہاں تک کے کچھہ علماء حضرات تو آج تک نہیں مانتے کے انسان چاند پر گیا بھی ہے، پرنٹنگ پریس کو کس نے حرام قرار دیا تھا؟ اعضاء کی پیوند کاری کو کس نے حرام قرار دیا تھا؟ جبکہ آج خود یہ لوگ خود کوئی مرض لاحق ہوجائے تو امریکہ اور یورپ سے اعضاء کی پیوند کاری کروا کے آجاتے ہیں، مولانہ فضل الرحمان صاحب کے اپنے دل میں کفار کی ایجاد کی ہوئی بیڑی لگی ہوئی ہے، کل تک جمہوریت کو کفر قرار دیا جاتا تھا اور آج اس ہی کفر کے نظام کے لئیے اسلامی جماعتیں اتحاد بنا بنا کر الیکشن لڑتی ہیں، مجھے اور آپکو شیعہ، سنی ، دیوبندی ، بریلویَ سلفی، جیسے بیہودہ مسلکوں میں بانٹ کر درس دیتے ہیں کے فلاں کافر ہے فلاں کافر ہے بس ہم حق پر ہیں اور اقتدار کے لئیے سب ایک ہوجاتے ہییں ایک تھالی میں کھاتے ہیں ایک ہی صف میں نماز پڑھتے ہیں جبکہ مجھے اور آپکو یہ کہتے ہیں کے فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، کیا ہے یہ سب؟ انجیکشن کو کفر قرار کس نے دیا تھا؟ پولیو کے قطروں کو تو آج تک یہودیوں کی سازش قرار دیا جاتا ہے، سرسید احمد خان کے خلاف انگریزی تعلیم کے حصول کی جدوجید پر کفر کا فتویٰ میں نے دیا تھا؟ اور آج ان کی اولادیں لائن میں لگ کر انگلش اسکولوں میں اپنے بچوں کے تعلیم دلوا رہے ہیں، ہوائی جہاز کے سفر کو یہ کہہ کر کفر قرار دیا گیا کے یہ جان بوجھہ کر موت کے منہ میں جانے والی بات ہے، قوم کو یہ تلقین میں نے کی تھی یا آپ نےکی تھی؟ یہ آخر ہر بات انکی سمجھہ میں سو سو سال بعد ہی کیوں آتی ہے؟ ایک نہیں ایک ہزار مثالیں موجود ہیں مگر عقل رکھنے والوں کے لئیے، انکے لئیے نہییں جو سمجھنا ہی نہیں چاہتے اور اپنی لگی بندی سوچ سے نکلنا ہی نہیں چاہتے۔ اتنی ساری دلیلیں دینے کے باوجود بھی یہ عقل کے اندھے دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے جس حوالے کے پیچھے پڑے ہیں میں نے وہ بھی حاصل کر لیا ہے مکمل تصدیق کے مرحلے میں ہے تصدیق ہوتے ہیں آپکی خدمت میں پیش کردیا جائے گا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید بھائی آپکے علاوہ باقی جتنے لوگ بھی چاہے وہ بنیاد پرست ہوں یا بےبنیاد پرست ہوں مجھے انکے تجزیوں پر زرا حیرت نہیں ہوری، کیوں کے میں جانتا ہوں کے انکی علمی سطح اس سے زیادہ کی ہے ہی نہیں، وہ بیچارے تو اپنی اپنی سوچ و سمجھہ گروی رکھوا چکے ہیں اپنے اپنے مسلک کے رہنماوں کے پاس، ان میں تو انتی بھی اخلاقی جرت نہیں کے وہ اپنے اپنے رہنماوں سے یہ سوال ہی کرسکیں کے حضرت آخری خطبہ تو کچھہ اور کہتا ہے اور آپ پرچار کرتے ہیں مسلک پرستی کا فرقہ بندی کا زرا ہمیں اسلام کی روح سے ثابت تو کر دیں کے کہاں سے جائز ہے اسلام میں فرقہ بندی اور مسلک پرستی ؟ مگر یہ لوگ یہ سوال کبھی بھی نہیں کریں گے اپنے اپنے رہنماوں سےکیوں کے انہیں سوال کرنا سکھایا ہی نہیں گیا، انہیں بس یہ بتایا گیا ہے کہ جو کہہ دیا اسے مان لو بس اور یہ عقل کے اندھے فرقوں اور مسلکوں کو اسلام سمجھہ کر ایسے تمام رہنماوں کے اندھے پیروکار بنے ہوئے ہیں، تو اسلئیے مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں نہ ہی رحم آتا ہے ایسے لوگوں پر کہ یہ رحم کے قابل بھی نہیں ہیں کہ اللہ نے قرآن میں فرما دیا ہے کے جو قوم خود اپنی حالت نہیں بدلنا چاہتی ہم بھی اسکی حالت نہیں بدلتے۔ لیکن آپ کی تاویلوں پر مجھے ضرور حیرت ہورہی ہے، میری آپ کے بارے میں اب بھی یہ ہی رائے ہے کے آپ اس لگی بندی گلی سڑی سوچ کے حامل انسان نہیں ہیں، آپ اسلام کی روح کو سمجھنے والے انسان ہیں اور آپ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کے اس مسلک پرستی اور فرقہ بندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ نے میرے مکمل تحریر یا تو پڑھی نہیں یا پھر آپ کے پاس مکمل تحریر کا جواب دلیل کے ساتھہ نہیں ہے، مجھے مندرجہ ذیل کے بھی جوابات دیجئیے آپ، کوئی عالم یہ حدیث نہیں بیان کر رہا کے مسلمان اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے، آج پوری مسلم امہ میں سے کوئی ایک بھی ملک دور حاضر سے ہم آہنگ ہے ؟ مگر اس پر مناظرے نہیں ہورہے جو کے مسائل کی اصل جڑ ہے امت مسلمہ کے۔ مناظرے ہر اس موضوع پر کیئیے جارہے ہیں جو کے فروعی مسلے ہیں، بیشمار احدیث ہیں جن میں حضور پاک صلی علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کے، جو ایسا کرے وہ ہم میں سے نہیں جو ویسا کرے وہ ہم میں سے نہیں، جو کم تولے وہ ہم میں سے نہیں، جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں، جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اسکا پڑوسی بھوکا سو جائے وہ ہم میں سے نہیں، جبکہ یہ ساری خوبیاں آج مسلمانوں میں موجود ہیں مگر اس کے لئیے کوئی مناظرے نہیں ہورہے، غربت کیسے ختم کرنی ہے، جہالت کیسے ختم کرنی ہے، بھائی چارگی کی فزاء کیسے قائم کرنی ہے اس پر کوئی مناظرے نہیں ہورہے۔ ہر اس بات پر مناظرے ہو رہے ہیں صرف جس سے انکے اپنے فرقے ان کے اپنے مسلک پر ضرب پڑتی دکھائی دیتی ہے جس سے انکی دکانیں بند ہوتی نظر آتی ہیں، موصوف نے اپنی بات ثابت کرنے کے لئیے کچھہ حدیثوں کا سہارا لیا ہے تو یہ بھی حدیث سن لیں کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کے، ایک وقت آئے گا کہ علماء میٹھی بات کریں گے ایسے جیسے ان کے منہ سے شہد ٹپک رہا ہو اور وہ دین سے دنیا کو کمائیں گے۔
      نہیں کر رہیں؟ موصوف کی لاعلمی پر ماتم کرنے کا دل چاہ رہا ہے انہیں چاہئیے زرا مدرسے سے نکل کر کسی یونیورسٹی کے سبجیکٹ کی لسٹ پر ہی نظر ڈال لیں تو موصوف کو اندازہ ہوگا کے یونیورسٹیاں اسلامک ہسٹری سے لے کر اسلامک اسٹڈیز تک ہر سبجیکٹ میں ماسٹرز کروا رہی ہیں۔ اور پھر انتہائی احمقانہ دلیل دے رہے ہیں کے جدید تعلیم دینا مدرسوں کا کام نہیں ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے دور سے ہی علم و تحقیق کے لئیے مدارس قائم کردئیے گئے تھے، جہاں ہر طرح کی تعلیم و تحقیق کے لئیے اس وقت کے پڑھے لکھے لوگوں کو مقرر کیا گیا تھا، یہ اسکول یونیورسٹیاں تو ابھی کل کی ایجاد ہیں جبکہ قرآن نے تو چودھہ سو سال پہلے ہی مسلمانوں اور پوری دنیا کے لوگوں کے یہ پیغام دے دیا تھا کے ہم نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جسکا علاج نہ رکھا ہو، غور کرو، فکر کرو، تدبر کرو، تفکر کرو، تلاش کرو ہم نے اس کائنات میں ہر ہر چیز رکھی ہے، سمندروں میں کیا ہے آسمانوں میں کیا ہے ڈھونڈو تلاش کرو، تو یہ سب کام تو مسلمانوں کے کرنے کے تھے میرے بھائی جو کے کفار کر رہے ہیں، ہم نے علم کو صرف اور صرف دین تک محدود کر کے رکھہ دیا کے علم تو صرف دین کا ہوتا ہے دنیا کا تو ہنر ہوتا ہے، یہ سب سے بڑی غلط تشریح کر کے بتائی گئی قوم کو جسکا خمیازہ آج پوری مسلم امہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے، مسلمان کو تو ٹرینڈ سیٹر بننا تھا ان زنگ آلود زہنیت والوں کی وجہ سے مسلمان آج تک ٹھیک سے فالوور بھی نہیں بن پایا، موصوف کا یہ کہنا کے مدرسوں کا کام صرف دین کی تبلیغ کرنا ہے یہ اسلام کے ساتھہ انتہائی بھونڈا مذاق ہے، جنگ بدر میں جو کفار قیدی بنا کے لائے گئے تھے ان سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے جو قیدی پڑھا سکے دس مسلمانوں کے وہ آزاد ہوگا، تو اگر ان کے نزدیک مدارس کا کام صرف دین کی تبلیغ کرنا ہے یا علم صرف دین کا علم حاصل کرنے کا نام ہے تو موصوف یہ بھی بتا دیں کے کیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے کیا دین سیکھانے کے لئیے کہا تھا مسلمانوں کو ؟۔
      پھر موصوف فرماتے ہیں کے آج ہمارے معاشرے میں اسلام کی جو تھوڑی سی بھی جھلک ہے وہ ان ہی مدارس اور ان ہی علماء اکرام کی وجہ سے ہے۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کے ان ہی لوگوں کی وجہ سے تو پاکستان میں اسلام کی جھلک تک نظر نہیں آتی، اسلام اور مسلمان ہیں کہاں پاکستان میں؟ یہاں مسلک دیوبند ہے، مسلک بریلوی ہے، یہاں سلفی ہیں یہاں شیعہ ہیں یہاں وہابی ہیں، او بھائی مسلمان کہاں ہیں یہاں؟ مسلک ہیں یا فرقے ہیں اسلام کہاں ہے پاکستان میں؟ کوئی ایک بڑا نام بتا دیجئیے جو خود کو کسی مسلک یا فرقے سے وابسطہ نا کرتا ہو، صرف کوئی ایک بڑا اور معتبر نام بتا دیجئیے دور حاضر کے پاکستان میں؟ اور اگر آپ کے نزدیک یہ دیوبندی ہونا بریلوی ہونا، سلفی ہونا، شعیہ ہونا یا وہابی ہونا ہی اسلام کی روح ہے تو پھر مجھے اسلام کی روح سے ثابت بھی کر دیجئیے کے فرقہ بندی اور مسلک پرستی اسلام میں جائز ہے، یہ سب اپنی اپنی دکانیں چمکانے والے مداری ہیں مذہب کو بیچنے والے مذہب فروش ہیں، آخری خطبے کی روح کو سمجھہ کر پڑھہ لئجئیے پھر بھی اگر آپ بضد رہے کے یہ ہی اسلام ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے مسلمان تو پھر آپکو اور آپکے جیسی زنگ آلود زہنیت رکھنے والوں کو ہی مبارک ہو ایسا اسلام۔ میں جس اسلام کو مانتا ہوں اس میں فرقہ بندی مسلک پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، وہ اسلام لوگوں کو جوڑتا ہے، مسلک اور فرقوں کے نام پر لوگوں کو توڑتا نہیں۔ پھر موصوف معاشے میں علماء کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ایران اور توران کی قلابیں ملاتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ قوم کے اصل اور بنیادی مسائل کی ان نام نہاد علماء کی نظر ہی نہیں جاتی کبھی، اس وقت علماء کا کردار یہ ہونا چاہئیے تھا کہ وہ لوگوں میں انکے بنیادی حقوق کا پرچار کریں، لوگوں کو بتائیں کے ایک اسلام نے شہری کو کیا کیا حقوق دئیے ہیں، معصوم بچے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں چائلڈ لیبر لی جارہی ہے پاکستان میں، اس پر کبھی بات کیوں نہیں کرتے یہ لوگ؟ کبھی کسی عالم نے کہا کے حکمران چائلڈ لیبر پاکستان سے ختم کریں ورنہ ہم تحریک چلائیں گے لوگوں کو موٹی ویٹ کیا اسطرف کسی عالم نے؟ گے یہ تو مساجد کے استنجہ خانے صاف نہیں کروا سکتے، بنتے دین کے ٹھیکےدار ہیں، گورنمنٹ نے کم از کم تنخواہ سات ہزار روپے رکھی ہے، کوئی عالم مجھے کر کے دکھائے آج کے دور میں سات ہزار میں گزارہ، عام شہری کی تنخواہ دس گرام سونے کے برابر ہونی چاہئیے، یہ مطالبہ کیا کبھی کسی عالم نے؟ حدیث ہے کہ مفلسی کفر تک لے جاتی ہے، غربت سے انبیاءاکرام نے پناہ مانگی ہے، غربت کے دلدل سے کیسے نکلنا ہے کبھی یہ بتایا کسی عالم نے؟ جہالت اور غربت کے خلاف آواز اٹھائی کبھی کسی عالم نے؟ یہ ہے قوم کا اصل مسلہ اس کے لئیے کبھی آواز اٹھائی کسی عالم نے؟ اسکے لئیے ہڑتال کی کبھی کسی نے؟ گورنمنٹ مدرسوں میں اصلاحی ترمیم کرنے کا بل پاس کرنے کا کہتی ہےتو پھر دیکھو کیسے یہ سب ایک ہوجاتے ہیں اور سڑکوں پر آجاتے ہیں اس جاہل قوم کے جذبات سے کھیلتے ہیں، پھر ہڑتالیں بھی کرتے ہیں احتجاج بھی ہوتا ہے پھر گورنمنٹ کو دھمکایا بھی جاتا ہے اور اپنے مطلب کے مطالبات منوا کر واپس اپنے اپنے بلوں میں چلے جاتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں معاشرے میں عالم کا کردار؟ انہوں نے جنگ بدر کی دی، پہلے بھی عرض کیا تھا کے تعداد بھلے مسلمانوں کی کم تھی مگر ہتھیار دونوں جانب ایک جیسے ہی تھے، جبکہ آج معاملہ زمین اور آسمان کے فرق کے برابر آچکا ہے، ہم تو آج تک بھی تیر اور تلوار تک ہی محدود ہیں یہ جو ایٹم بم اور آج کے جدید ہتھیار ہیں یہ بھی کفار کے ہی بنائے ہوئے ہیں، پھر وہ ہی بات کہوں گا کے مومن اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے، بجائے ڈرون کا توڑ تلاش کرنے کے یہ جاہل آج تک بھی جذبات فروشی ہی کر رہے ہیں جنگ بدر میں بھی مسلمان اس وقت کے جدید ہتھیار سے لیس ہوکر لڑے تھے خالی ہاتھہ نہیں لڑے تھے، آج دشمن جدید ہتھیار سے لیس ہے اور ہم محض کھوکھلے نعروں سے لیس ہیں، انہوں نے قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر آج تحقیق کی تفکر کیا تلاش کیا کائنات کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کی تو آج وہ اس مقام پر ہے کے ایک کمرے میں بیٹھہ کر بغیر پائلٹ کے ڈرون سے ہمیں تہس نہس کر رہا ہے، قرآن کا یہ حکم تو ہمارے لئیے بھی تھا تو ہم نے کیوں نہیں کرلیا یہ سب حاصل ؟ جب تک مسلمانوں کا رشتہ علم اور تحقیق سے جڑا رہا تب تک مسلمان بحر ضلمات میں گھوڑے دوڑاتا رہا، اب اگر وہ تعلیم اور تحقیق پہ ملکہ حاصل کرنے کے بعد بحرظلمات میں ڈرون دوڑا رہےہیں تو اس میں قصوروار کون ہے ہم یا امریکہ؟۔ میں نے بلکل ٹھیک کہا تھا کے ہمیں تحریر کی حرمت کا پاس رکھنا چاہیے اور میں اب بھی اپنی بات پر قائم و دائم ہوں، مجھے جواب دیجئیے میں نے کیا غلط کہا ہے اس میں؟ کوئی بھی ثابت کردے کے اسلام میں دیو بندی ہونا، بریلوی ہونا، شیعہ ، سنی ہونا، وہابی ہونا، جائز ہے، تو میں پنے بلاگ پر لکھی گئیں ایسی تمام تحریریں حذف کر دونگا اور میں بھی خود کو صرف مسلمان کہلوانے کے بجائے دیوبندی ، بریلوی، وہابی، یا سلفی وغیرہ میں سے کچھہ کہلوانا شروع کردونگا۔ ہے کوئی بنیاد پرست یا بےبنیاد پرست جو یہ ثابت کرسکے؟

  23. ایک بات جو رہ گئی کہ اللہ تعالٰی نے انسان کی ساخت اور پروان میں اچھے برے دونوں جزبے شامل کرتے ہوئے اس پہ اچھے اور برے عمل کی تمیز کرنے کی سوجھ بوجھ اور عمل کرنے کی توفیق دی تانکہ انسان اچھائی اور برائی اپنانے میں آزاد رہے اور اللہ کے بندوں اور شیطان کے رستے پہ چلنے والوں کو یوم قیامت حساب بے باق کرکے جزا و سزا دی جائیگی۔اسلئیے اچھائی برائی دنیا کی ہر قوم میں پائی جاتی ہے۔ کسی میں کم کسی میں زیادہ اور غداری بھی ایک انسانی کزوری اور عیب ہے ہے ۔ اسلئیے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہ عیب دوسری قوموں میں بھی پایا جاتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔۔
    آپ کہہ سکتے ہیں کہ بر صغیر ہندو پاک کے مسلمانوں میں یہ لعنت دوسری قوموں کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ جسکی ایک بڑی وجہ اس خطے میں اسلامی عقائد اور اطوار کا نہ نپنے دیا جانا ہے۔ کیونکہ اس خطے میں شاہی اور ذاتی اقتدار کے لئیے اقلیتی طبقے مسلمانوں کی بجائے دوسرے مزاہب خاص کر ہندو مذھب کے ماننے والوں کو زیادہ ترجیج دی گئی کیونکہ بر صغیر پاک و ہند میں میں اسلام بڑے طبقے کا مزھب کبھی نہیں رہا اور یہاں اسلامی امارت تاریخ میں آج تک کبھی بی نہیں رہی۔ اور پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں کا ایک ملک تو وجود میں آگیا ہے مگر نظام حکومت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور اقتدار اور ذاتی مفاد کو ویسے ہی اسلام اور ہر قسم کی اخلاقایات پہ ترجیج دی جاتی ہے۔ اسلئیے اس خطے کے مسلمانوں کا اجتماعی اسلامی شعور نہیں بن سکا۔
    اسلئیے اس خطے کے مسلمانوں یا یعنی بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں دوسری مسلمان قوموں کی نسبت ہر دینی اور اخلاقی عیب کئی گنا زیادہ پائے جاتے ہیں جن میں سے غداری بی ایک ہے۔
    اگر پاکستان کو اسکی درست سمت مل گئی۔ اسلامی روح اور آئین پاکستان کے مطابق۔ اللہ اور اسکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتائے طریقے کے مطابق اسلامی قوانین پاکستان میں نافذ کر دئیے اور انکا اطلاق ہر بڑے چھوٹے پہ جاری کرنے میں ہم کامیاب رہے تو پاکستان کے اکچر مسائل ہوجائیں گے عام آدمی کی زندگی بدل جائے گی اور کچھ دہائیوں تک اس خطے کے مسلمانوں کا بھی اجتماعی اسلامی آخلاق اور شعور بن جائے گا جس کی مثال صدیوں دی جائے گی۔ اسلئیے ہمیں نا امید ہونے کی بجائے محنت کئیے جانا چاہئیے۔
    پاکستانی مسلمان پاکستان کے مستقبل سے بہت پر امید ہیں۔

  24. قاسم نے کہا:

    آپ نے انکال ٹام کے بارے حوالہ نہیں دیا اور اب “ٹیکنالوجی کے حصول کو (علماء کی طرف سے) کفر قرار دیا جارہا ہے اس پر کوئی بات نہیں کر رہا” بیان جاری کر کے موضوع کو مزید الجھا دیا ہے۔

    یہ چونکہ پہلے حوالہ میں پھنس گئے ہیں اور نہ اگلتے بات بن رہی ہے نہ نگلتے اسلئے حواس باختہ ہوگئے ہیں اور موضوع کو دانستہ طور پہ الجھا رہے ہیں ان کو چاہئے کہ معتبر کتاب کا نام صفحہ نمبر اور سطر نمبر لکھیں اور لوگوں کے علم میں اضافہ کریں

  25. ABDULLAH نے کہا:

    سب سے پہلے تو پوسٹ کے لیئے جو خط استعمال کیا جارہا ہے اسے آپ تبصروں پربھی اپلائی کریں تاکہ تبصرے پڑھنے میں بھی آسانی ہو

  26. ABDULLAH نے کہا:

    علماء کا سب سے بڑا قصور ہی یہ رہا ہےچند ایک کو چھوڑ کر ان کی اکثریت حاکموں کی کاسہ لیس اور انکے اور اپنے ذاتی مفادات کے لیئے کوشاں رہی ہے،اور اس کے لیئےاسلام کا مس یوز کیا ،

  27. جہاں تک میں سمجھا ہوں۔
    اول۔ آپ مسالک اور فرقہ بندی میں الجھے لوگوں اور انکے رہنماؤں کے خواہ وہ کس قدر بڑے عالم اور صوم صلواۃ کے پابند ہوں۔ اور محض مسلک اور فرقے کی بنیاد پہ دوسروں کی گردنیں کاٹنے کا درس دیتے ہیں یا فساد خلق خدا پھیلاتے ہیں۔ آپ انکے سخت خلاف ہیں۔
    دوئم۔ نہ جانے کیوں آپ انہیں اسلام کے عالم سمجھ بیٹھے ہیں۔
    میری ذاتی رائے میں آپ کو مسالک اور تفرقے کے موضوع اور اسکی وجہ سے ہونے والی قتل و غارت کو بنیاد بنا کر لکھنا چاہئیے تھا تانکہ مزید الھجن پیدا نہ ہو۔
    اور ایسے لوگوں کو نہ صرف آپ میں اور دیگر قارئین بلکہ ہر ذی ہوش اور سمجھ دار پاکستانی جائز طور پہ فسادی سمجھتا ہے جو اللہ کی زمین پہ مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلاتے ہیں اور فساد اور قتال ناحق کرواتے ہیں۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ اسمیں غیر مسلم عالمی طاقتوں اور بھارت کے خفیہ ہاتھ کا بھی ذکر ہونا چاہئیے۔ تانکہ موضوع میں توازن رہے۔
    جبکہ اتنی سی بات ایک عام سا مسلمان بھی جانتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو کسی کی ناحق جان لینے سے سخت منع کیا ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ یہ خود کش بمبار جو مسالک کی وجہ سے زہنوں کو ہائی جیک کرتے ہیں۔ اور انھیں بمبار بناتے ہیں۔ ان کی فیکٹریز اور ورکشاپس کہاں کہاں ہیں۔ انھیں سرمایہ، تکنیکی تربیت، اسلحہ اور درست درست معلومات کون دیتا ہےَ۔ پاکستان کو انتشار اور فرقہ بندی کی جنگوں پہ مجبور کرنے کے لئیے سائنٹیفک طریقوں سے اہداف کا تعین کون کرتا ہے۔؟ ہماری اکچھ ایجینسیز جن کے بارے عام طور پہ یہ کہا جاتا اور ہمارے دشمن بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر ہماری ایجینسیز کا ارادہ ہو تو وہ اڑتی چڑیا کت بھی پر گن لیں اور کسی سراغ کو پاتال سے بھی ڈھونڈ لانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ تو پھر آخر کیا وجہ ہے وہ جاہل سے لوگ جنہیں نہ آپ ۔نہ ہم اور نہ دیگر مسلمان اور پاکستانی عام ذہانت کے حامل ہونے سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ تو ایسے نیم خواندہ لوگوں اور انکی تربیت گاہوں کے بارے ہماری ایجینسیز سراغ لگانے میں کیو کر ناکام ہیں؟۔ اور ایسے لوگ پاکستان میں جہاں چاہئیں اپنے لاؤ لشکر اور مکمل سازوسامان سمیت پہنچ جاتے ہیں اور پتہ تب چلتا ہے جب کوئی بچہ یا نوجوان اپنے سمیت عام اور بے گناہ غریب لوگوں کو پھاڑ دیتا ہے۔؟
    کیا آپ کو نہیں لگتا یہ مسالک میں الجھے نیمخواندہ اور عام سے آدمی کے بس سے آگے کا کھیل ہے؟ اور اس کھیل کو کھلوانے والی طاقتیں عام سے لوگ نہیں۔
    اسلئیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں آپس میں سر پھٹول کرنے کی بجائے اپنی توانائیاں اس طرف منتقل کرنی چاہئیں جہاں سے ہمیں من الحیثیت قوم منتشر کرنے کے پروگرام جاری ہوتے ہیں
    ۔ بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ انیس سو پچاسی میں ایک ایسے منصوبے کا سراغ پاکستان کی ایک مرکزی ایجینسی کو لگا تھا جس میں دو ہزار پندرہ تک یعنی تیس سال تک پاکستان کو ایک مجبور اور لاغر ریاست میں تبدیل کر دینا تھا جس کی عملا عملداری محض اسلام آباد کے گرد چند ایک ڈویژزنوں تک ہو۔ اور باقی ماندہ پاکستان میں لاقانونیت کا راج ہو ۔ جو پاکستان کے خیمیے میں گڑی میخیں اکھاڑنے کے انجام کا آغاز ہوگا۔ زرا سوچیں انیس سو پچاسی میں ابھی سویت یونین قائم تھا۔ دیوار برلن نہیں گری تھی اور سرد جنگ جاری تھی جس کی وجہ سے یہ ماننا ناممکن تھا۔ کہ چند عالمی قوتیں اپنے لئیے اتنے مفید استعمال میں آنے والے ملک پاکستان کے بارے میں اسطرح کی منصوبہ بندی کریں گی۔
    وہ لوگ کوئی ایک منصوبہ نہیں بناتے بلکہ ایک ہی وقت میں پاکستان کے مختلف گھوڑوں اور گدھوں پہ دام لگاتے ہیں کہ جو بھی جیتے اسکا فائدہ انھی کو ہو۔ اسی طرح کئی ایک منصوبے ایک ہی وقت میں کام کرتے ہیں ۔ بعض اوقات ایک منصوبے پہ کام کرنے والوں کو دوسرے منصوبے پہ کام کرنے والوں کا علم نہیں ہوتا۔ کہ چت بھی انھی کی اور پت بھی انھی کی۔ یہ عالمی طاقت ہر قسم کے حالات کے لئیے آپشن تیار رکھتے ہیں۔ اگر انکے منصوبے پکڑیں جائیں جیسے ریمنڈ ڈیوس پکڑا گیا تھا ۔ تو انھیں ذرا بھر شرمندگی نہیں ہوتی۔
    اسلئیے بی حیثیت پاکستانی پڑھے لکھے پاکستانیوں کو چاہئیے کہ وہ منتشر ہونے کی بجائے۔ آپس میں سر ٹکرانے کی بجائے۔ متحد ہو کر۔ مختلف تنظیمیں قائم کر تے ہوئے۔ پاکستانی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے پاکستان اور اسکے شہریوں کے لئیے مفید کام کریں۔
    فرض کریں۔ مان لیتے ہیں کہ مدرسے والے ناقص علم ہیں۔ مگر ایک بات کا کریڈٹ انھیں جاتا ہے کہ وہ اپنی سی مقدور بھر کوشش سے غرباء اور پاکستانی نوجوان کے لئیے وہ کچھ کر رہے ہیں جو ہماری حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے اور خزانہ ہونے کے باوجود حکومت نہیں کر پارہی۔ تو کیا یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل لوگوں کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ آگے بڑھیں۔ اور مختلف انجمنیں بنائیں۔ این جی اوز نہیں بنانی۔۔ کہ پاکستان میں ورقہ ڈیڑھ ورقہ کی این جی اوز انہی قتوں کی زیر سرپرستی پہلے ہی سے بہت ہیں جنکے مقاصد اور ایجنڈے میں اغیار کے مقاصد کی تکیمل کرنا شامل ہے۔
    پاکستان اسوقت قحط الرجالی کا شکار ہے ۔ اوتر نکھتر ہو رہا ہے۔ جسطرح مختلف کھیلوں کے لئیے عام کھلاڑیوں کے کیمپ لگانے سے ان میں سے قومی ٹیمیں اور انکے کپتان چنے جاتے ہیں۔ کیا عجب پاکستان کو پڑھے لکھے لوگوں کی ایسی تنظیموں سے پڑھے لکھے دیناتدار اور ولولہ انگیز رہنماء میسر آجائیں اور موجودہ بدیانت رہنماؤں سے قوم کی جان چھوٹ جائے۔
    آخر میں بصد احترام عرض ہے کہ آپ کے بلاگ پہ آنے والے ۔ لکھنے والے پڑھنے والے۔ سبھی قارئین اور رائے دھندگان آپ کے نزدیک قابل احترام اور معتبر جانے جانا چاہئیں۔ خواہ وہ کسقدر عام سے معلومات ہی کیوں نہ رکھتے ہوں۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ آپ کا بلاگ ہے۔ آپکی محفل ہے۔ محفل تبھی سجتی ہے جب اس میں شرکت کرنے والے ہوں، امید ہے آپ میری بات کابرا نہیں محسوس کریں گے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید بھائی اب آپ بلکل صحیح پہنچھے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ آپ کتنے عرصے سے اسپین میں رہائش پزیر ہیں اور آپ پاکستان کی موجودہ گراونڈ ریالٹیز سے ٹھیک طریقے سے واقفیت رکھتے ہیں یا نہیں، اخبار اور میڈیا کے زریعہ واقف رہنا الگ معاملہ ہوتا ہے اور معاشرے میں رہتے ہوئے زمینی حقائق کا ادراک رکھنا بلکل ہی مختلف ہوتا ہے۔ میں نے جب سے آنکھہ کھولی ہے پاکستان میں مذہب کے نام پر لوگوں کو ایک دوسرے کو لڑتے جھگڑتے ہی پایا ہے، اور یہ جگھڑے فساد باقائدہ اپنے اپنے مسلک اور فرقے کے علماءاکرام کے زیر سرپرستی ہوتے ہیں۔ میں ان سب سے پوچھتے پوچھتے تھک گیا کے مجھے بتا دو کے اسلام میں فرقہ پرستی اور مسلک پرستی کیسے جائز ہے؟ مگر کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا آج تک، یہاں باقائدہ فخر کیا جاتا ہے اپنے دیوبندی ہونے پر بریلوی ہونے پر اہل حدیث ہونے پر، شیعہ، سنی ہونے پر، میں نے تو اپنے ارد گرد یہ ہی سب لوگ دیکھے ہیں، مجھے نہیں پتہ مسلمان کیسا ہوتا ہے؟ مجھے یہ پتہ ہے کے دیوبندی کیسا ہوتا ہے، بریلوی کیسا ہوتا ہے اہل حدیث کیسا ہوتا ہے، یا اور جتنے مسالک ہیں۔ پاکستان میں مذہب سے جڑے جتنے بھی بڑے بڑے نام ہیں، میں یہاں نام اسلئیے نہیں لکھہ رہا کے انکے پیروکاروں کو تکلیف پہنچے گی اور پھر سے ایک نئی بحث چھڑ جائے گی۔ میرا مقصد بحث مباحثہ ہرگز نہیں ہوتا میرا مقصد خود بھی حق جاننا اور دوسروں تک بھی حق پہنچانا ہے۔ اب اس بلاگ پر موجود لوگ خود اپنا اپنا تجزیہ خود ہی کرلیں کے وہ لازمی کسی نا کسی فرقے یا کسی نہ کسی مسلک سے وابستگی پر فخر کرتے ہونگے، میرا کہنا یہ ہے کے آخر وہ وقت کب آئے گا پاکستان میں جب ہم خود کو صرف مسلمان کہلوانے میں فخر کریں گے؟ ہم آخر کیوں ان لوگوں کی اندھی تقلید کرتے ہیں ہم ان سے یہ سوال کیوں نہیں کرتے کے اسلام میں کہاں سے ثابت ہوتا ہے کے مسلک پرستی اور فرقہ بندی جائز ہے؟۔ میرا تجزیہ تو یہ ہی ہے کے پاکستان کی تقریباَ پجانوے فیصد آبادی کسی نہ کسی مسلک یا فرقے سے فخریہ طور پر وابسطہ ہے اور اس ہی فرقہ بندی اور مسلک پرستی کی وجہ سے ہم ٹکڑوں میں بٹ کر رہ گئیے ہیں جو تھوڑی بہت کسر بچی تھی وہ سیاستدانوں نے پوری کر دی ہمیں لسانیت میں بانٹ کر۔ میں تو بس یہ جاہتا ہوں کے اگر اسلام میں مسلک پرستی ناجائز ہے، جو کہ واقعی نائز ہے، تو پھر ہمیں یہ بڑے بڑے ناموں کے چنگل سے خود کو آزاد کروانا ہوگا انکے پیروکاری چھوڑنی ہوگی اور دین اسلام کو اسکی روح کے مطابق سمجھنے کے لئیے صرف اور صرف مسلمان بن کر خود تحقیق کرنی ہوگی حق اور باطل کی۔ اب یہ بات آپ بھی جانتے ہیں اور باقی لوگ بھی جانتے ہیں کے اگر اس ملک سے فرقہ پرستی اور مسلک پرستی والی ذہنیت کے علماءاکرام کو مائنس دیا جائے تو مٹھی بھر لوگ ہی بچیں گے۔ خیر اللہ آپکو جزا دیں اور مجھے آپکو اور ہم سب کو دین اسلام کو اسکی صحیح روح کے عین مطابق سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائیں، اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبے کی روشنی میں صرف اور صرف مسلمان بنا دیں آمین ثم آمین۔ (جاوید بھائی ایک التماس اور ہے آپ سے کے اگر آپکی معلومات میں کراچی میں کوئی ایسے مستند عالم دین ہوں جو کے خود کو کسی مسلک یا کسی فرقے سے وابسطہ نا کرتے ہوں تو مجھے انکا نام ضرور بتائیے گا تاکے میں انکی سرپرستی میں صحیح معنوں میں دین کے حقیقی تعلیمات لے سکوں۔)

  28. این جی اوز انہی قتوں کی زیر سرپرستی پہلے ہی سے بہت ہیں جنکے مقاصد اور ایجنڈے میں اغیار کے مقاصد کی تکیمل کرنا شامل ہے۔

    اس جملے میں شامل لفظ "قتوں” کو "قوتیں” پڑھا جائے۔

  29. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان کے دینی طبقے پر اعتراضات کا جواب تو دوسرے بھائی دے چکے ہین لیکن یہ بات کہ ( صدیوں پرانا درس نظامی ) تو جناب درس نظامی میں تو قران کریم ، احادیث نبویہ ، عربی گرائمر اور عربی ادب ، علم میراث اور دیگر قوانین قضاء و حکم پڑھائے جاتے ہیں۔ اور یہ تمام علوم دور نبوت سے ہی زیر تعلیم ہیں۔
    اب سمجھ میں نہیں آتا کہ درس نظامی کو مکمل جدت کیسے دیں ، کیا نیا قران بنائیں ، یا صدیوں پرانے احادیث کو چھوڑ کر اس صدی کے نئے احادیث بنائیں جائیں۔ یا قران و حدیث کو سمجھنے کیلئے عربی گرائمر کو چھوڑ کر اسکی جگہ انگریزی یا جرمن گرائیمر سکھایا جائے۔ میراث کے نبوی طریقہ تقسیم کو چھوڑ کر نیا امریکی طرز تقسیم پڑھایا جائے۔
    کیا ایک بندہ ایک ساتھ ڈاکٹری اور انجینئرنگ کر سکتا ہے کہ دونوں کلاسیں ایک وقت میں لیں؟
    اگر نہیں تو اسطرح موجودہ درس نظامی کا طالب علم بھی دوران طالب علمی انجینئرنگ وغیرہ نہیں کرسکتا ہے۔ہاں فراغت کے بعد اکثر علماء عصری علوم حاصل کرکے عوام کی راہنمائی کرتے ہیں۔
    موجودہ اعلیٰ سائنسی تعلیم کیلئے تو پاکستانیوں نے ایچ ای سی بنایا تھا اور یہ مولوی اسکے حمایتی تھے لیکن آپ جیسے نادان پاکستانیوں نے جب خود اپنے اعلیٰ تعلیم کے راستے بند کردئے تو اس میں مدرسے اور درس نظامی کا کیا قصور؟
    یہ علماء حضرات آج کل اگر کسی کو کہے کہ کھانا ناک کے بجائے منہ سے کھاو تو فورا یہ نادان کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ مولوی کھانے کے مخالف ہیں۔
    دوسری ایک سادہ سی بات کہ ہم یہ بات دیکھیں کہ ہمارے معاشرے اور ہمارے مذہب کا کونسا ایسا رکن ہے جو کہ ہمارے دشمن کے انکھوں میں کھٹکتا ہے ۔؟
    اور یہ میڈیا اور یہ این جی اوز کس کے خلاف کام کر رہے ہیں اور آپ جیسے نادانوں کو آپ کے معاشرے کے کونسے اہم رکن کے خلاف اکسانے کی کوشش میں ہیں؟
    ظاہر ہے کہ اسکا جواب یہ علماء کرام ہیں۔جدھر بھی جاو ان ملک اور اسلام دشمنوں نے انکے خلاف محاذ سجایا ہوتا ہے ۔ اخر کیوں کوئی وجہ تو ہے نا۔ایک غریب ملا کا نام سن کر کیوں وائٹ ہاوس کے مکینوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے؟
    بر صغیر پر انگریز قبضے کے وقت کونسے طبقے کو سب سے زیادہ پھانسیاں دی گئی؟ اور کس کے لاشیں درختوں سے لٹکتی تھیں؟
    ظاہر ہے کہ یہ علماء ہی تھے۔
    اور اسی خطرے کو اقبال نے بھانپا تھا اور کہا تھا کہ انگریز کا اصل مقصد یہ ہے کہ
    افغانیوں کی غیرت دین کا ہے یہ علاج
    ملا کو انکی کوہ و دامان سے نکال دو۔
    اور اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ
    قوم مذہب سے ہے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
    جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں
    یہ لوح و قلم تمھارے ہیں اور تم ہی کو ملیں گے لیکن ذرا محمد (صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم) سے وفا تو کرو ۔ اسکے طریقے پر تو عاشق بن کر چلو۔ اگر نہ ملیں تو پھر کہنا ۔
    لیکن یہاں حال الٹا ہے جو لوگ ہم کو نبوت کے طریقے کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں ہم الٹا انہیں کے دشمن بن جاتے ہیں تو بھلا پھر کامیابی کیسی۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      درویش خراسانی صاحب، تجزیہ کے لئیے بہت بہت شکریہ، پہلے تو آپ سے یہ عرض کر دوں کے مجھے میرے سوالات کے جوابات نہیں ملے میرے سوالات ابھی تک تشنہ ہیں آپ تبصروں میں سوالات پڑھہ سکتے ہیں اور جاہیں تو جوابات بھی دے سکتے ہیں، باقی جوابات تو چھوڑیں صرف اس بات کا ہی جواب لا دیں کے اسلام میں فرقہ بندی اور مسلک پرستی جائز ہے کے نہیں؟۔ درس نظامی پر اعتراض میرے جیسے لوگوں کا ہی نہیں ہے بلکے خود درس نظامی کیئے ہوئے علماء حضرات کا بھی اعتراض ہے اس پر، آپ نے یہ تو بہت ہی عجیب سی بات کی ہے کے ایک وقت میں دو طرح کے علوم کوئی کیسے حاصل کرسکتا ہے، ایک میڑک کا بچہ بھی چھہ سات طرح کے سبجیکٹ ایک ساتھہ ہی پڑھہ رہا ہوتا ہے، ڈاکڑ زاکر نائک ایم بی بی ایس، ہیں اور انکے دینی علوم کے بارے میں بھی آپ جانتے ہی ہونگے، اسلئیے یہ تو نا قابل قبول تاویل پیش کی ہے آپ نے، درس نظامی میں تبدیلی کا مطلب جو آپ نکال رہے ہیں وہ ہرگز نہیں ہے، تبدیلی سے مراد اس نظام میں وہ نصاب اور وہ علوم ہیں جو کے آج کی دنیا کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں، درس نظامی کرنے کے بعد اگر کوئی نئے سرے سے یہ سب علوم سیکھنا چاہئے تو اس کے لئیے انتہائی مشکلات ہوتی ہیں، ایک تو اسکی عمر کافی ہوچکی ہوتی ہے دوسرے اسکے سامنے معاشی مسائل سر اٹھائے کھڑے ہوتے ہیں تیسرے وہ ذہنی طور پر ان علوم کو قبول کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا، درس نظامی کرنے والے کے پاس زیادہ سے زیادہ کیا آپشن ہوتا ہے؟ کسی مسجد کی امامت، بچوں کو گھر گھر جا کر قرآن پڑھا لینا، یا پھر کسی کا نکاح پڑھا دینا، اسکے علاوہ اس کے پاس کیا زریعہ رہ جاتا ہے پیٹ پالنے کا؟ مسلمانوں کی بربادی کی وجہ ہی یہ ہے کے یہ بدلتے وقت کے ساتھہ نا چل سکے اور ساری دنیا سے بہت بہت بہت پیچھے رہ گئے۔ اللہ نے علم حاصل کرنے کا حکم دیا ہے جسکا مطلب ہمارے علماء حضرات نے صرف دین کا علم لے لیا اور یہ ہی وجہ ہے کہ درس نظامی میں صرف دین کا ہی علم دیا جاتا ہے اور وہ بھی اپنے اپنے مسلک اور اپنے اپنے فرقے کے حساب سے، دنیاوی علم کو ہنر کا نام دے دیا ان لوگوں نے یہ سب سے بڑا ظلم کیا گیا امت کے ساتھہ، اللہ نے کیوں کے قرآن میں ہی فرمایا ہے کے تحقیق کرو، تفکر کرو، تلاش کرو، کائنات کے اسرار و رموز ڈھونڈو، سمندروں میں کیا ہے آسمانوں میں کیا ہے جاو تلاش کرو، ہم نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جسکا علاج نہ رکھا گیا ہو، تو بھائی یہ سب حکم کیا صرف کافروں کے لئیے تھے قرآن میں؟ اور کیا درس نظامی یہ سب علوم کور کرتا ہے ؟ یہ ہے وہ وجہ جسکی وجہ سے درس نظامی پر اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں اور آج لوگ درس نظامی کی طرف نہیں آنا چاہتے کیوں کے یہ آج کے دور جدید سے بلکل بھی ہم آہنگ نہیں ہے، اگر اب بھی اس میں تبدیلیاں نہیں کی گئیں تو وہ کوئی نہیں پڑھائے گا اپنے بچوں کو یہ نا مکمل نظام۔ اللہ نے کائنات کے اسرار و رموز تلاشنے کے لئیے کہا ہے، اللہ رب عالمین ہے، کافروں نے اس نقطے کو سمجھا کے اللہ رب عالمین ہے رب عالم نہیں، یعنی اس دنیا کے علاوہ بھی اور کئی عالم ہیں اس نے اس نقطے کو ٹھیک سے سمجھا اور وہ نکل پڑا دوسرے عالموں کی تلاش میں اور چاند سے لے کر سیاروں تک پہنچ گیا، یہ ہے میرا اصل سوال کے قرآن کی ان تعلیمات کو کفار نے ہی کیوں سمجھا ؟ مسلمانوں نے کیوں نہیں سمجھا؟ مسلمان صرف درس نظامی کو ہی اپنی کل کائنات کیوں سمجھہ بیٹھا ہے؟ علامہ اقبال کا آپ نے حوالہ دیا ہے تو ان ہی علامہ نے فرمایا تھا کے ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ان جہانوں تک کوئی مسلمان کیوں نہیں پہنچا؟ کفارہی کیوں پہنچ رہے ہیں ؟ اللہ فرما رہے ہیں کے ہم نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جسکا علاج نہ رکھا ہو، تو آج ہر بیماری کا علاج کفار ممالک سے ہی کیوں دریافت ہوتا ہے؟ ہارٹ سرجری، بائے پاس، کینسر، ٹی بی، سیکڑوں بیماریاں ہیں جنکا علاج کفار ہی دریافت کر رہے ہیں تو یہ حکم مسلمانوں کے لئیے نہیں تھا کیا ؟ میرے بھائی ایک نہیں ایک لاکھہ سوالات ہیں جنکا جواب کسی کے پاس نہیں ہے، اور اسکی وجہ ہی یہ مسلمانوں کی لگی بندی گلی سڑی ذہنیت ہے جس سے وہ آج دو ہزار گیارہ میں بھی نہیں نکلنا چاہ رہے۔ اگر آپکو لگتا ہے کے اللہ کے یہ سارے احکامات صرف درس نظامی کے زریعہ حاصل کئیے جاسکتے ہیں تو آپ اپنے بچوں کو بڑے شوق سے پڑھائیے درس نظامی۔ اور اگر آپکو لگے کے فکر پاکستان کی بات صحیح ہے تو جائیے اور سوال کیجئے اپنے رہنماوں سے کے اللہ کے ان سب احکامات پر عمل کرنے کے لئیے کونسی تعلیم لینا پڑے گی ؟ ۔ در حقیقت تو یہ سارے علوم مسلمانوں کو ترتیب دینے تھے مگر مسلمان دین کے غلط تشریحات کی وجہ سے آج تک پیچھے رہ گیا وہ علم کے حصول کا ہی مطلب ٹھیک سے نہیں سمجہ پایا، ایک سازش کے تحت علم کو صرف دین کے علم تک محدود کر کے مسلمانوں کی ذہنیت کو زنگ لگا دیا گیا۔ جہاں سے جاگو وہیں سے صبح سمجھو مسلمان تو یہ سب علوم ترتیب نہیں دے سکے اب اگر کافروں نے یہ سب علوم ترتیب دے ہی دیئے ہیں تو ان علوم کو خود بھی پڑھہ لو اور اپنی اولادوں کو بھی پڑھا دو تاکے وہ مکمل انسان بن سکیں، اور اگر اس ہی لگی بندی ذہنیت کے تحت ہی زندگی گزارنی ہے جس لگی بندی ذہنیت کی وجہ سے آج مسلمان علم اور ٹیکنالوجی میں ساری دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں تو پھر تو کوئی مسلہ نہیں ہے لگے رہو صرف درس نظامی میں ہی۔ مگر یہ طے ہے کے دین و دنیا کی کامیابی دونوں طرح کے علوم حاصل کرنے کے بعد ہی ملے گی۔ کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کے صرف درس نظامی کرنے کے بعد اسے جنت مل جائے گی تو وہ اللہ کے اس سوال کے لئیے بھی تیار رہے کے ہم نے قرآن میں تم سے کائنات کے اسرار و رموز جاننے کے لئیے بھی کہا تھا، ہم نے تم سے تمام عالموں تک رسائی کے لئے بھی کہا تھا، ہم نے تم سے تدبر تفکر کے لئیے بھی کہا تھا، ہم نے جو بیماریں اتاری انکے علاج تلاش کرنے کے لئیے بھی کہا تھا، میں نے تم سے انسانیت کی خدمت کرنے کے لئیے بھی کہا تھا۔ یہ جتنی ایجادات ہیں یہ درحقیقت انسانیت کی ہی خدمت ہیں، لاکھوں لوگ بغیر علاج کے ہی مر جایا کرتے تھے مختلف بیماریوں میں، جس جس نے بھی موضی بیماریوں کا علاج دریافت کیا ہے کیا اس نے انسانیت پہ احسان نہیں کیا؟ جب موتیا کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا تو لوگ اندھے ہوجایا کرتے تھے اور اندھے ہی مر جایا کرتے تھے، جبکہ آج محض پانچ منٹ کے آپریشن سے بینائی لوٹ آتی ہے، یہ دریافت انسانیت پر احسان نہیں ہے؟ لاکھوں چیزیں ہیں ہمارے اور آپ کے ارد گرد جو مسلمانوں نے دریافت کرنی تھیں جنکا تعلق براہ راست انسانیت کی خدمت سے ہے مگر افسوس مسلمانوں کے کرنے کے کام کفار نے کئیے اور اس سے بھی زیادہ افسوس کا مقام یہ ہے کے ہم آج بھی یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کے ہم غلط ہیں ہماری سوچ غلط لے ہماری تشریحات غلط ہیں۔ افسوس صد افسوس۔

      • Darvesh Khurasani نے کہا:

        فکر پاکستان صاحب آپکے دوسرے اعتراضات کا جواب بعد میں لیکن اب صرف درس نظامی کی بات کرتے ہیں کہ آپ نے جو میٹرک کے مضامین کا ذکر کیا ہے ۔ تو جناب میٹرک میں اسلامیات ، معاشرتی علوم ، حساب ، اردو ، انگریزی اور سائنس کے کچھ مختصر سے مضامین ہوتے ہیں۔
        اور یہ نصاب اسلئے تیار کیا ہوتا ہے کہ بعد میں لڑکے نے کالج میں جانا ہوتا ہے تو اور وہاں سے اگر میڈیکل کیلئے جانا ہے تو پری میڈیکل پڑھتا ہے اور اگر انجینئر بننا ہے تو پری انجینئر نگ پڑھتا ہے۔
        اور بعض لڑکے آرٹس کے مضامین لیتے ہیں تو انکو آرٹس میں دل چسپی ہوتی ہے۔
        اسی طرح درس نظامی میں درجہ اعدادیہ جو کہ مڈل کے برابر ہے تو اسمیں سائنس ، اردو ،حساب ، معاشرتی علوم ، انگریزی اور مختصر روزمرہ کے مسائل کے کتب پڑھائیں جاتے ہیں۔
        پھر درجہ متوسطہ جو کہ اٹھویں کے برابر ہوتا ہے تو اس درجہ میں یہی مضامین کچھ تبدیلی کے ساتھ کے ساتھ پڑھائیں جاتے ہیں۔
        اسکے بعد جسطرح لڑکے سائنس اور ارٹس کا انتخاب کرتے ہیں تو اسی درس نظامی کے تحت ابتدائی عربی کتب اور روزمرہ کے مسائل کے کتب اور تاریخ اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے۔
        چونکہ موجودہ درس نظامی صرف دینی علوم تک محدود ہے لھذا اسمیں دینی علوم ہی پڑھائی جاتی ہیں۔
        جس طرح میڈیکل کا بندہ صرف میڈیکل کے مضامین پڑھتا ہے اسی طرح درس نظامی کا طالب علم صرف دینی کتب کو پڑھتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جو موضوع چنا ہے اسی کو پڑھنا ہے۔
        رہی بات ڈاکٹر نائک وغیرہ کی تو جناب انہوں نے اسطرح نہیں کیا ہے کہ ایک طرف مدرسے میں قران کی تفسیر یا عربی کا کلاس لیا ہے تو دوسری طرف جاکر انا ٹومی کا کلاس لیا ہے۔
        بلکہ انہوں نے پہلے ایک موضوع کو مکمل کیا ہے اسکے بعد دوسرے موضوع کو پڑھا ہے۔
        اور یہ کام ہر بندہ نہیں کرسکتا بلکہ صاحب استعداد لڑکے یہ کام کرسکتے ہیں۔
        تقی عثمانی اور اسطرح کے دیگر علماء پہلے مولوی بنے ہیں اسکے بعد انہوں نے ایل ایل بی وغیرہ کئے ہیں۔
        اسی طرح میں آپکو بندے دکھا سکتا ہوں کہ جامعۃ الرشید میں ڈاکٹر اور انجینئر اور ایم بی اے کے لڑکے درس نطامی پڑھ رہے ہیں۔ کیوں ؟ انکو کیا پڑی ہے کہ درس نظامی پڑھتے ہیں۔؟
        سائنس کی ایجاد کبھی درس نظامی نے منع نہیں کیا ہے اور اسی درس نظامی کے سبب ہم حرام بینکنگ سے حلال بینکنگ کی طرف جارہے ہیں۔
        اسی درس نظامی کے سبب ہم سائنس کی ایجادات کا درست اور شرعی طریقہ کار معلوم کرسکتے ہیں۔
        یہی موبائل اگر آپ شریعت کے اصولوں کے مطابق استعمال کریں تو سہولت لیکن اگر اسکو شریعت کے خلاف استعمال کیا جائے اور کالینگ اور میسیجنگ کے اداب کو پامال کیا جائے تو یہی موبائل وبال جان بن جاتا ہے۔
        درس نظامی کہتی ہے کہ لڑکی نامحرم مرد کے ساتھ موبائل دوستیاں نہ کرے اسکا انجام خراب ہوتا ہے ۔
        لیکن درس نظامی کے علاوہ کسی جگہ یونیورسٹی میں یہ بات نہیں بتائی جاتی کہ لڑکی نامحرم مرد کے ساتھ موبائل دوستیاں نہ کرئیں۔
        اسی درس نظامی کے سبب آپکے ملک میں شرعی قوانین کو ائین کا حصہ بنایا ہے ورنہ جن ملکوں میں یہ درس نظامی نہیں پڑھایا جاتا تو ان ملکوں کے ائین کا کیا رویہ ہوتا ہے انسانوں کے ساتھ کہ اپنے جسم کو ڈھانپنے پر بھی پابند عائد کی ہوتی ہے۔
        آپ ایک پوائنٹ پر بات نہیں کرتے بلکہ جب آپ کالم لکھتے ہیں تو سرے سے لیکر اخر تک سب پر جھاڑو پھیرتے ہیں۔ حالانکہ سب چیزیں غلط نہیں ہوتی ۔
        اختلافات کی بات کرتے ہیں تو جناب آپکے الطاف حسین اور نواز شریف نے یا دیگر سیاسی جماعتوں نے تو درس نظامی نہیں پڑھا ہے تو کیوں معمولی باتوں پر خون بہاتے ہیں۔؟
        درس نظامی ہو یا نہ ہو یہ اختلافات ہونگے کیونکہ یہ نبوت کی پیشن گوئی ہے کہ میرے امت میں اختلافات ہونگے ۔
        البتہ کرنے والا کام یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ کون قران و سنت کے مطابق ہے اور کون اسکے مخالف۔
        اس بارے میں کتاب اختلاف امت اور صراط مستقیم میرے خیال میں بہترین کتاب ہے۔
        علوم دینی پیچھے نہیں رہے بلکہ ہر میدان میں اپکی راہنمائی کر رہے ہیں ۔
        آپ نے کمپوٹر بنایا تو اسی درس نظامی نے آپکو درست اور غلط استعمال کے بارے میں بتا یا۔
        آپ نے موبائل ایجاد کیا تو اسی درس نظامی نے اسکے اداب آپکو بتائے ۔
        آپ نے بینک بنائے تو اسی درس نظامی نے سودی نظام اور بلا سودی نظام کی نشان دہی کی بلکہ عملی کرکے دکھایا۔
        کون سا شعبہ ایسا ہے ہماری زندگی کا کہ ان درس نظامی والوں نے ہماری راہنمائی نہیں کی اسمیں؟
        ہاں درس نظامی والے یہ نہیں کرسکتے کہ وہ ایک آدمی کو بیک وقت ڈاکٹر+ انجینئر+ سائنس دان+ ماہر فلکیات+ ماہر موسمیات +مفسر قران و حدیث بنائے۔
        اور نہ ہی شائد کسی میں اتنی استعداد ہےکہ یہ سب کام کرسکے۔ آگر آپ کرسکتے ہو اور ایسا ادارہ بنا سکتے ہو تو بے شک بسم اللہ کرو۔ ہم بھی دیکھیں گے کہ کس طرح یہ بنتے ہیں۔
        رہی روزی کی بات تو یہ درست ہے کہ درس نظامی والوں کو عیاشی کا موقع نہیں ملتا لیکن جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم نے خود فرمایا ہے کہ جو مجھ سے محبت کرے تو مصائب اور فاقوں اور غربت کیلئے تیار ہوجائے۔
        اور ظاہر ہے درس نظامی والےنبی صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم کے عاشق ہوتے ہین۔
        اور اس بات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ پاکستان اور دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی درس نظامی والے نے بھوک وافلاس کے سبب خود کشی نہیں کی ہے۔
        اور ذرا اپنے ان سائنسی کالجوں اور اداروں کا حال تو پوچھ لو، روزانہ کسی گریجوئیٹ نے خود کشی کی ہوتی ہے۔
        اخر میں ایک بات کرتا ہوں جب کراچی کے مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ زندہ تھے تو بیرون ملک ایک کانفرنس میں شریک تھے اور کا نفرنس کا موضوع یہ تھا کہ درس نظامی میں عصری علوم شامل کئے جائیں کہ نہیں ۔ چنانچہ کئ دن یہ کانفرنس جارہی رہی ۔
        اس دوران علامہ یوسف بنوری نے کہا کہ سب لوگ مسنون استخارہ کرلو اس بارے میں کہ درس نظامی سے پرانے علوم خارج کرکے عصری علوم کے شمولیت کا فائدہ ہے کہ نقصان ۔
        تو بنوری صاحب نے کہا کہ رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ایک بندہ آیا اور اس نے اذان شروع کی اور حی علی الفلاح کے کہنے کے بعد کہا کہ
        الا ان النجات فی علوم سید السادات ۔
        اور پھر انہوں نےکانفرنس میں کہا کہ اللہ نے استخارے میں فیصلہ سنا دیا کہ کہ درس نظامی میں صرف دینی علوم سکھاے جائیں اور اگر کسی کو عصری علوم کا شوق ہو تو بالکل کسی عصری ادارے میں پڑھ کر ملک و قوم کی خدمت کرے۔
        قیام پاکستان سے لے کر اب تک اگر کسی نے ملک کو فروخت کیا ہے یا اسکو تباہ کیا ہے تو یہ درس نظامی والے نہیں بلکہ ان عصری اداروں میں پڑھنے والے ہیں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        درویش صاحب صاحب سب سے پہلے تو آپ اس بات کے لئیے تعریف کے مستحق ہیں کے آپ نے عامیانہ لہجہ اختیار نہیں کیا اپنا نظریہ بیان کرنے کے لئیے۔ میرا اور آپکا نظریہ ضرور مختلف ہوسکتا ہے زاویہ نظر ضرور مختلف ہوسکتا ہے مگر مقصد ایک ہی ہے حق اور سچ تک پہنچنا۔ درس نظامی کے حوالے سے آپ نے جو جو بھی باتیں کیں وہ بلکل درست ہیں میں انکاری بھی نہیں ہوں آپکی ان باتوں سے، میرا اختلاف درس نظامی کو محدود علم تک رکھنا ہے، ہمارا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کے ہم نے علم کو دین اور دنیا کے علم میں تقسیم کر دیا، اور دنیاوی علم کو بھی ابھی کچھہ عرصے پہلے تک بھی ہنر کہا جاتا تھا علم نہیں، یہ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے کے علم تو صرف دین کا ہوتا ہے دنیا کا تو ہنر ہوتا ہے، لیکن شکر اللہ کا کے اب اتنی تو سوچ سوچ میں تبدیلی آئی کے دنیاوی علم کو بھی علم مانا جانے لگا ہے۔ آپ نے جو یہ تاویل دی ہے کہ مدارس دین کا علم دے رہے ہیں باقی علوم دینا اسکول کالچ اور یونیوسٹیز کی زمہ داری ہے یہ بلکل ہی غلط تشریح ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ جس بات کا حکم قرآن اور حدیث میں آجائے تو وہ حکم دین کا حصہ ہے اسے میں یا آپ دین سے باہر نہیں کر سکتے، قرآن میں سات سو سے زیادہ آیات میں غور و فکر، تدبر، تفکر، کائنات کے اسرار و رموز جاننے، ڈھونڈنے، تلاش کرنے کا حکم آیا ہے، مثال کے طور پر آپ سورہ آل عمران کا مطالعہ کرلیجئیے گا۔ جیسے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حچ روزہ زکوات، وغیرہ کے لئیے حکم دیا ہے ویسے ہی علم کے حصول کے لئیے بھی حکم دیا ہے، جہاں قرآن بنیادی ارکان کو پورا کرنے کا حکم دے رہا ہے وہیں قرآن تحقیق، غور و فکر،کائینات کے اسرار و رموز جاننے کا بھی حکم دے رہا ہے، تو آپ مجھے بتائیں کے ہم کون ہوتے ہیں ان دونوں احکامات کو الگ الگ کرنے والے ؟ اگر نماز پڑھنا فرض ہے تو علم کا حصول بھی فرض ہے، یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا حصول بنیادی طور پر قرآن کی ہی تعلیم ہے قرآن کا ہی حکم ہے، تو ہم اسے کیسے دنیاوی ہنر یا دنیاوی تعلیم کا نام دے کر دین سے علیدہ کرسکتے ہیں ؟ وہ درس گاہ اسلامی اس وقت تک اسلامی درس گاہ ہو ہی نہیں سکتی جب تک اس میں یہ دونوں طرح کے علوم نہ پڑھائے جائیں، نماز یا دین کے اور بنیادی ارکان ادا کر کے میں یا آپ صرف اور صرف اپنی آخرت سنوارتے ہیں اس سے کسی دوسرے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا، میری نماز کا ثواب مجھے ہی ملے گا اور آپ کے حج کا ثواب آپکو ہی ملے گا، سب سے بڑی عبادت نماز نہیں ہے سب سے بڑی عبادت حقوق العباد کی ادائیگی ہے کیوں کے اسکا تعلق پوری انسانیت سے ہے، نماز تو فرض ہے ہر حال میں پڑھنی ہی ہے، لیکن حقوق العباد کی ادائیگی سب سے اہم معاملہ ہے، حقوق العباد کی ادائیگی کی جو تعریف ہم سمجھتے ہیں وہ صرف اتنی ہی محدود نہیں ہے یہ بہت ہی وسیع سبجیکٹ ہے، اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا ہے، جب کوئی انسان چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، جب وہ انسان قرآن کے حکم کے مطابق کائنات کے اسرار و رموز تلاشتہ ہے، جب وہ اس دنیا کے علاوہ کسی اور عالم کی دریافت کرتا ہے، جب وہ کسی بیماری کا علاج کرتا ہے، جب وہ انسان کی زندگی آسان بنانے کے لئیے کوئی ایجاد کرتا ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں یہ سب کیا اللہ کے حکم سے نہیں ہوتا؟ یہ سب اللہ کے حکم سے ہی ہوتا ہے اور یہ عین عبادت ہے قرآن کے حکم کی تکمیل ہے، ایسا انسان ثابت کرتا ہے کے اللہ تو نے مجھے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا تو میں نے بھی اسکا حق ادا کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے، زرا غور کریں جب ہوائی جہاز نہیں بنا تھا اس وقت جو لوگ حج کرنے جاتے تھے وہ اپنے اہل و عیال سے ملکر جاتے تھے کے اب دیکھہ لو پتہ نہیں واپس آ بھی سکوں یا نہیں، سالوں پر محیط انتہائی تکلیف دہ سفر ہوتا تھا، جب ہوائی جہاز بنا وہ سالوں پر محیط سفر چند گھنٹوں اور انتہائی آرام دہ سفر میں تبدیل ہوگیا، ایسے ہی بیماریوں کا معاملہ ہے کے لوگ علاج نہ ہونے کی وجہ سے بغیر علاج کے ہی مرجایا کرتے تھے، جبکہ آج معاملہ بلکل مختلف ہے، موتیا کی ہی مثال لے لیں لوگ اندھے ہوجاتے تھے اور اس ہی حالت میں مرجایا کرتے تھے، جبکہ آج محض بیس منٹ کے لیزر آپریشن سے بینائی لوٹ آتی ہے، ایسی ایک ہزار مثالیں ہیں ہمارے ارد گرد جو پہلے کیا تھیں اور اب آج کی دنیا میں کیا ہوگئی ہیں، تو آپکو نہیں لگتا کے یہ سب انسانیت کی خدمت ہے؟ قرآن کے حکم کی تکمیل ہے؟ عین عبادت ہے؟ تو جب یہ سب قرآن کے حکم کی تکمیل ہے تو یہ دین سے الگ کیسے ہوسکتا ہے؟ میرے بھائی دین تو ہے ہی یہ ہی، انسانیت کی خدمت، انسانی زندگی کو راحت پہنچانہ، معاملات کو آسان بنانا، مرتے ہووں کو نئی زندگی دینا، معزوروں کو پھر سے تندرست بنانا، کیا یہ سب اسلام کے احکامات نہیں ہیں؟۔ تو پھر درس نظامی کو ہم نے صرف دین کے ایک حصے کی تعلیمات تک ہی کیوں محدود رکھا ہوا ہے ؟ ۔ زرا غور کریں کے جب تک مسلمانوں کا رشتہ علم و تحقیق سے جڑا رہا اس وقت تک مسلمان آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کرتا رہا، اسپین میں پوری دنیا سے لوگ مسلمانوں سے علم سیکھنے آتے تھے یہ عروج تھا مسلمانوں کا، لیکن جب ہم نے علم کو حصوں میں بانٹنا شروع کیا، جب تحقیق، غور و فکر، ٹیکنالوجی کے حصول سے ہماری دوری ہونی شروع ہوئی وہیں سے مسلمانوں کا زوال شروع ہوگیا، سلطنت عثمانیہ کے زوال کی ایک بڑی وجہ علم و تحقیق سے دوری بھی ہے، اور آج کے مسلمانوں کے زوال کی تو بنیادی وجہ ہی سائنس اور ٹیکنالوجی سے دوری ہے، آپکو پتہ ہے کے انیس سو پینسٹھہ سے پہلے سعودیہ عرب کیسا تھا؟ انہیں تو معلوم ہی نہیں تھا کے اللہ نے انکی زمینوں میں کیا کیا خزانے پوشیدہ کیئے ہوئے ہیں، یہ بھی انہیں کفار نے ہیں بتایا کے اللہ نے تہماری زمینوں کے اندر تیل جیسی نعمت رکھی ہے برٹش پیڑولیم کمپنی نے وہاں سے تیل نکالا اور سعودی عرب کو بتایا کے تمہارے پاس اللہ کے کیسے کیسے خزانے ہیں، سعودی عرب والوں کے لئیے تو یہ تیل ایک کیچڑ سے زیادہ نہیں تھا، ایسی ایک لاکھہ مثالیں ہیں جو میں دینے بیٹھوں تو یہ تحریر بہت کم پر جائے گی۔ تو بھائی یہ ہیں وہ بنیادی اعتراضات جنکی وجہ سے درس نظامی پر اعتراضات کیئے جاتے ہیں، آپ نے جامعہ رشیدیہ کا حوالہ دیا ہے تو یہ بھی آج لوگوں کے اتنے احتجاج کے بعد اتنی بات سمجھہ میں آئی ہے تو یہ تبدیلی کی گئی ہے، وہ بھی محض چند گنتی کے مدارس میں، آپکی بات مان بھی لوں کہ اب ہر مدرسے میں ایسا ہی ہونا شروع ہوگیا ہے تو بھائی پھر امت مسلمہ کے پچھلے آٹھہ سو سالوں کی تباہی کا زمہ کون ٹھرا؟ جو لوگ پچھلے آٹھہ سو سال تک اسلامی تعلیمات کے نام پر ادھوری اسلامی تعلیمات لے کر خود کو عالم سھجتے رہے انکا کیا ہے ؟ آپ نے جو علامہ صاحب کی کانفرنس والی بات کی ہے وہ تو سمجھہ سے ہی بالا تر ہے، جب ایک حکم قرآن میں آگیا تو وہ تو دین کا حصہ بن گیا اس کے لئیے استخارہ کی کیا ضرورت آگئی؟ یہ تو بلکل ایسا ہی ہے کے کوئی نماز پڑھنے کے لئیے استخارہ کرے کے میں نے نماز پڑھنی ہے یا نہیں۔ باقی آپ نے جو پرویز مشرف، نواز شریف، وغیرہ سے میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں ان گھٹیا ایسے گھٹیا لوگوں کو اپنی سوچ میں شامل کرنا چاہتا ہوں، یہ سب سیاستدان ہوں یا نام نہاد مذہبی جماعتوں کے نام نہاد رہنما ہوں یہ سب میرے نزدیک میرے اور آپ ک اعمال کی سزا ہیں، ان سب ناموں کے ساتھہ جو آپ نے سائنس و ٹیکنالوجی کی تشریح کی ہے اسکا سائنس و ٹیکنالوجی کی حقیقی روح سے کوئی تعلق نہیں بنتا، یہ تو میرے اور آپ کے استعمال پر ہے کے ہم ان چیزوں کا کیسے استعمال کرتے ہیں، چھری کا کام خربوزہ کاٹنا ہے اب اگر کوئی اس سے کسی کا قتل کردیتا ہے تو اس میں چھری کا کیا قصور؟ یہ ننگ دھڑنگ معاشرہ میرا اور آپکا پیدا کردہ ہے چیزوں کا غلط استعمال میں اور آپ کرتے ہیں اس میں چیزوں کو قصوروار ٹھرانا مناسب نہیں ہے۔ میری دعا لے کہ اللہ مجھے اور آپکو دین اسلام کو اسکی روح کے عین مطابق سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائیں اور مسلمانوں کو صدیوں سے اس لگی بندی گلی سڑی سوچ سے نجات دلائیں آمین۔

  30. بنیاد پرست نے کہا:

    جناب فکر پاکستان صاحب ۔ میں نے ابھی اوپر آپ کے اس پیج پر جو آپکی پوسٹ کاجواب دیا ہے اسکے فانٹ سائز کو اگر ہوسکے تو تھوڑا بڑا کردیں اور سٹائل جمیل نوری کردیں۔
    جزاک اللہ

  31. ہمارا مسئلہ نہ دولت، نہ طاقت ہے ۔ ہمارا مسئلہ دین سے دوری ہےاس کی وجہ سے ہم دنیا میں ذلیل ہورہے ہیں۔ جس دن لوگوں کے اندر اللہ کا ڈر اور آخرت میں اسکے آگے جواب دہی کا احساس پیدا ہوگیا ۔ معاشرے سے ساری برائیاں ختم ہوجائیں گیں۔.بنیاد پرست

    لاریب۔ کوئی شک نہیں۔

  32. قاسم نے کہا:

    بھائی انکل ٹام کی بات کا حوالہ پیش ہوا کہ نہیں؟اتنی بھیڑ میں مجھے دکھ نہیں رہا اگر پیش ہوا ہو تو اس کو ہائی لائٹ کریں

  33. بنیاد پرست نے کہا:

    جناب Darvesh Khurasani صاحب ۔ آپ نے میرے دل کی باتیں کیں ہیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
    ان روشن خیالوں کو آپ کی اتنی وضاحت سے کوئی غرض نہیں ہے۔ آپ دیکھنا یہ مفکر پاکستان صاحب ایک پوائنٹس سے لاجواب ہوکر بجائے اپنے موقف سے رجوع کریں، دوسری طرف چھلانگ مار دیں گے، اور پھر وہی چلے پٹا خے چلانا شروع کردیں گے۔ جن کا ہزار بار جواب دیا جاچکا ہے۔ جب کسی بندہ کا مقصد ہی اپنی بات منوانا بن جائے ، اس کو آپ ہزار دلیلیں دے دیں، وہ اپنی بات ہی دوہرائے گا۔
    اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے کہ علمائے کرام کا کیسا بغض سینوں میں رکھے بیٹھے ہیں۔

  34. قاسم نے کہا:

    فکر پاکستان نے لکھا:
    سر سید احمد خان نے انگریز کی غلامی سے نکلنے کے لئیے قوم سے انگریزی زبان سیکھنے کا نعرہ لگایا تو یہ سارے جاہل ملا ایک زبان ہو کر اس عظیم انسان کے خلاف ہوگئے اور ان پر کفر کے فتوے لگا دئیے

    ذرا اس بارے میں حوالہ دینے کی زحمت گوارا کریں گے کہ سر سید پر کفر کا فتوی انگریزی زبان سیکھنے کا نعرہ لگانے کی وجہ سے لگایا گیا تھا

  35. سید احمد خان نے قوم کو دائمی غلامی میں دینے کی ابتداء کی تھی۔ آج پاکستان یہ حشر سید احمد خان اور اسی طرح کے دیگر دوسروں کی وجہ سے ہے۔

    • قاسم نے کہا:

      قابل احترام جاوید بھائی سے دست بستہ گذارش کروں گاکہ وہ اس پر فی الحال نہ لکھیں کیونکہ مصنف چور دروازے کی تلاش میں ہیں

  36. fikrepakistan نے کہا:

    جاوید بھائی مناسب ہوگا کے آپ اسکی تفصیل لکھہ دیں، پھر جواب میں آپکو میں سرسید احمد خان صاحب کی علمی اور دینی خدمات کی تفصیل دے دونگا۔

    • قاسم نے کہا:

      میرے مذکورہ بالا تبصرہ کے بارے میں کچھ فرمائیں کہ یہ بات آپ نے لکھی بھی ہے یا نہیں؟ اگر ہاں تو حوالہ دے کر لگی بندھی سوچ رکھنے والوں کے علم میں اضافہ فرمائیں

      • قاسم نے کہا:

        اس تبصرہ کے بارے میں کیوں مجرمانہ خاموشی اختیار فرما رکھی ہے کچھ گل افشانی کیجئے اور حوالہ دیجئے کہ سر سید پر کفر کا فتوی انگریزی کا نعرہ لگانے کی وجہ لگایا گیا تھا

  37. بنیاد پرست نے کہا:

    اور پھر حوالہ مانگ لیا۔۔۔۔۔:)
    قاسم صاحب ہنڑ تسی وی دو گز لمبا لیکچر پڑھنے استے تیار ہو جاؤ۔ ۔:)

  38. بنیاد پرست نے کہا:

    fikrepakistan says:
    April 11, 2011 at 5:21 pm
    بنیاد پرست بھائی آپکی تحریر کا جواب میں اوپر دے چکا ہوں، بہت زیادہ طویل بحث میں میں جانا نہیں چاہتا کہ میرا مقصد بحث و مباحثہ ہرگز نہیں ہے۔ یہاں بس اتنی تصحیح کرنا چاہوں گا کے جنگ بدر میں دو سو تیرہ نہیں تین سو تیرہ مسلمان تھے۔”

    یہ اچھا جواب ہیں جناب "میں نے اوپر جواب دے دیا ہے”۔ جناب آپ کے اوپر والے جواب کا ہی تو میں نے یہ جواب دیا تھا۔
    باقی آپ نے میری لفظی غلطی کی تصیح تو کرادی ، آپکی مہربانی۔ آپ نے اپنی اس غلطی کے بارے میں نہیں بتایا جس کی بنیاد پر آپ نے دس لائینیں لکھیں اور مجھے یہ تفصیل دینی پڑی۔
    اچھی بات ہے بحث برائے بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔۔ اللہ ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ہدایت دے ۔

  39. قاسم نے کہا:

    دوستوں سے گذارش ہے کہ وہ خلط مبحث نہ کریں بات انکل ٹام کے حوالہ سے شروع ہوئی ہےاس پر فوکس رکھیں

  40. ABDULLAH نے کہا:

    یہ حوالہ حوالہ کیا لگا رکھا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    کہا تو ہے کہ جا کرتاریخ اسلام پڑھو سارے حوالے مل جائیں گے!
    خود علم حاصل کرتے دم نکلتا ہے بس دوسروں کو نیچا دکھانے کا جنون ہے اور وہ بھی دلائل سے نہیں کج بحثی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  41. وقاراعظم نے کہا:

    بھائیوں آپ سب غلط جگہ سر کھپا رہے ہیں۔ ان کا بھی کاں چٹا ہے۔۔۔۔۔

  42. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان صاحب میرے خیال میں آپکا مطلب ان باتوں سے یہ ہے کیوں نہ ہم درس نظامی میں میڈیکل اور انجینئرنگ پڑھائیں۔

    اگر واقعی آپ کا یہی مقصد ہے تو جناب گذارش ہے کہ آپ ایک ایسا مچالی ادارہ بنائیں کہ جس میں دسر نظامی کے ساتھ ساتھ میڈیکل اور انجینئرنگ کے کلاسیں ہوتی ہوں۔

    ظاہر ہے اتنی طویل بحثوں سے کچھ نہیں ہوتا ۔بس مخالفت برائے مخالفت ۔

    ایسے ادارے کی ابتداء کرو۔ ہم بالکل آپکے ساتھ ہونگے ۔ نتیجہ ہم بھی دیکھ لیں گے۔ اگر کامیاب نکلا تو قابل تقلید نہیں تو ادارہ بند کر دوگے۔

    میرے خیال میں یہاں پر بحثوں سے کچھ نہیں بنے گا۔

    کیا خیال ہے؟

    • قاسم نے کہا:

      اور اگر یہ نہیں کرسکتے تو محمد سعد کے مشورہ پر عمل کیجئے اور اپنی توانائیاں مثبت کاموں میں خرچ کیجئے اور امت مسلمہ کے اسٹیفن بنئے نہ کہ امت مسلمہ کو اپنی لنگڑی لولی تحریروں سے مزید لنگڑا لولا کریں

    • fikrepakistan نے کہا:

      میرے محترم بھائی درویش، میں اور آپ تو بہت ہی ادنیٰ سی ہستی ہیں، جو اپنے نام کے ساتھہ عالم دین لگاتے ہیں جو کے نائب رسول کے منصب پر فائز ہیں جنکے پیچھے ایک امت چلتی ہے، جنہیں لاکھوں کے حساب سے نظرانے دیتی ہے چندے دیتی ہے بیرون ممالگ سے ایڈ ملتی ہے یہ انکے ہی کرنے کے کام ہیں ہاں وہ اپنے منصب کا حق ٹھیک سے ادا کریں اپنی ذہنیتوں کو درست کریں دین کی تشریحات کو درست کریں تو میرے اور آپکے جیسے پیروکار انکے ہاتھہ مضبوط کرنے کے لئیے تن من دھن کی بازی لگانے کے لئیے تیار ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      مجھے اس بات کا جواب نہیں دیا آپ نے کے میں نے آپ کے درس نظامی والی تحریر کے جواب میں جو قرآن کی روشنی میں جو تعریف بیان کی ہے اسکے بارے میں آپ نے ایک لفظ بھی نہیں لکھا، کم از کم اتنا ہی بتا دیجئیے کے آپ اس تعریف سے متفق ہیں یا نہیں؟ اگر قرآن کی رو سے کی گئی اس تعریف سے آپ متفق نہیں ہیں تو پھر اسکی کوئی دلیل بھی دے دیں بڑی مہربانی ہوگی۔ اور یہ میں آپ سے ہی نہیں کہہ رہا یہ میں ہر اس شخص سے پوچھہ رہا ہوں جو ان تبصروں میں حصہ لے رہے ہیں، چاہے وہ عمران اقبال بھائی ہوں، جاوید گوندل صاحب ہوں، دوریش صاحب ہوں، بنیاد پرست صاحب ہوں، یا عبداللہ بھائی ہوں، آپ سب سے گزارش ہے کے تحقیق، غور و فکر اور کائنات کے اسرار و رموز جاننے کے لئیے جو قرآن کا حکم ہے، میری اس والی تحریر کا جواب دے دیں مجھے کوئی بھی صاحب یا کم از کم اتنا اتنا کردیں کے میں نے یہ تعریف اگر غلط کی ہے تو کیسے غلط کی ہے؟ دلیل سے ثابت کردیں برائے مہربانی، کیوں کے اس تحریر کے بعد درس نظامی پر جو اعتراضات ہیں جو تحفظات ہیں وہ کافی حد تک صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا اب پھر کہہ رہا ہوں کے میرا مقصد بحث برائے بحث یا اختلاف برائے اختلاف ہرگز نہیں ہے، میرا مقصد سیکھنا اور سکھانا ہے، امید ہے آپ تمام حضرات مثبت انداز کے غور و خوض کرنے کے بعد کوئی مدلل جواب دیں گے۔ تحریر ایک بار پھر من و عن آپکی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ درویش صاحب صاحب سب سے پہلے تو آپ اس بات کے لئیے تعریف کے مستحق ہیں کے آپ نے عامیانہ لہجہ اختیار نہیں کیا اپنا نظریہ بیان کرنے کے لئیے۔ میرا اور آپکا نظریہ ضرور مختلف ہوسکتا ہے زاویہ نظر ضرور مختلف ہوسکتا ہے مگر مقصد ایک ہی ہے حق اور سچ تک پہنچنا۔ درس نظامی کے حوالے سے آپ نے جو جو بھی باتیں کیں وہ بلکل درست ہیں میں انکاری بھی نہیں ہوں آپکی ان باتوں سے، میرا اختلاف درس نظامی کو محدود علم تک رکھنا ہے، ہمارا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کے ہم نے علم کو دین اور دنیا کے علم میں تقسیم کر دیا، اور دنیاوی علم کو بھی ابھی کچھہ عرصے پہلے تک بھی ہنر کہا جاتا تھا علم نہیں، یہ میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے کے علم تو صرف دین کا ہوتا ہے دنیا کا تو ہنر ہوتا ہے، لیکن شکر اللہ کا کے اب اتنی تو سوچ سوچ میں تبدیلی آئی کے دنیاوی علم کو بھی علم مانا جانے لگا ہے۔ آپ نے جو یہ تاویل دی ہے کہ مدارس دین کا علم دے رہے ہیں باقی علوم دینا اسکول کالچ اور یونیوسٹیز کی زمہ داری ہے یہ بلکل ہی غلط تشریح ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ جس بات کا حکم قرآن اور حدیث میں آجائے تو وہ حکم دین کا حصہ ہے اسے میں یا آپ دین سے باہر نہیں کر سکتے، قرآن میں سات سو سے زیادہ آیات میں غور و فکر، تدبر، تفکر، کائنات کے اسرار و رموز جاننے، ڈھونڈنے، تلاش کرنے کا حکم آیا ہے، مثال کے طور پر آپ سورہ آل عمران کا مطالعہ کرلیجئیے گا۔ جیسے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حچ روزہ زکوات، وغیرہ کے لئیے حکم دیا ہے ویسے ہی علم کے حصول کے لئیے بھی حکم دیا ہے، جہاں قرآن بنیادی ارکان کو پورا کرنے کا حکم دے رہا ہے وہیں قرآن تحقیق، غور و فکر،کائینات کے اسرار و رموز جاننے کا بھی حکم دے رہا ہے، تو آپ مجھے بتائیں کے ہم کون ہوتے ہیں ان دونوں احکامات کو الگ الگ کرنے والے ؟ اگر نماز پڑھنا فرض ہے تو علم کا حصول بھی فرض ہے، یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا حصول بنیادی طور پر قرآن کی ہی تعلیم ہے قرآن کا ہی حکم ہے، تو ہم اسے کیسے دنیاوی ہنر یا دنیاوی تعلیم کا نام دے کر دین سے علیدہ کرسکتے ہیں ؟ وہ درس گاہ اسلامی اس وقت تک اسلامی درس گاہ ہو ہی نہیں سکتی جب تک اس میں یہ دونوں طرح کے علوم نہ پڑھائے جائیں، نماز یا دین کے اور بنیادی ارکان ادا کر کے میں یا آپ صرف اور صرف اپنی آخرت سنوارتے ہیں اس سے کسی دوسرے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا، میری نماز کا ثواب مجھے ہی ملے گا اور آپ کے حج کا ثواب آپکو ہی ملے گا، سب سے بڑی عبادت نماز نہیں ہے سب سے بڑی عبادت حقوق العباد کی ادائیگی ہے کیوں کے اسکا تعلق پوری انسانیت سے ہے، نماز تو فرض ہے ہر حال میں پڑھنی ہی ہے، لیکن حقوق العباد کی ادائیگی سب سے اہم معاملہ ہے، حقوق العباد کی ادائیگی کی جو تعریف ہم سمجھتے ہیں وہ صرف اتنی ہی محدود نہیں ہے یہ بہت ہی وسیع سبجیکٹ ہے، اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا ہے، جب کوئی انسان چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، جب وہ انسان قرآن کے حکم کے مطابق کائنات کے اسرار و رموز تلاشتہ ہے، جب وہ اس دنیا کے علاوہ کسی اور عالم کی دریافت کرتا ہے، جب وہ کسی بیماری کا علاج کرتا ہے، جب وہ انسان کی زندگی آسان بنانے کے لئیے کوئی ایجاد کرتا ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں یہ سب کیا اللہ کے حکم سے نہیں ہوتا؟ یہ سب اللہ کے حکم سے ہی ہوتا ہے اور یہ عین عبادت ہے قرآن کے حکم کی تکمیل ہے، ایسا انسان ثابت کرتا ہے کے اللہ تو نے مجھے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا تو میں نے بھی اسکا حق ادا کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے، زرا غور کریں جب ہوائی جہاز نہیں بنا تھا اس وقت جو لوگ حج کرنے جاتے تھے وہ اپنے اہل و عیال سے ملکر جاتے تھے کے اب دیکھہ لو پتہ نہیں واپس آ بھی سکوں یا نہیں، سالوں پر محیط انتہائی تکلیف دہ سفر ہوتا تھا، جب ہوائی جہاز بنا وہ سالوں پر محیط سفر چند گھنٹوں اور انتہائی آرام دہ سفر میں تبدیل ہوگیا، ایسے ہی بیماریوں کا معاملہ ہے کے لوگ علاج نہ ہونے کی وجہ سے بغیر علاج کے ہی مرجایا کرتے تھے، جبکہ آج معاملہ بلکل مختلف ہے، موتیا کی ہی مثال لے لیں لوگ اندھے ہوجاتے تھے اور اس ہی حالت میں مرجایا کرتے تھے، جبکہ آج محض بیس منٹ کے لیزر آپریشن سے بینائی لوٹ آتی ہے، ایسی ایک ہزار مثالیں ہیں ہمارے ارد گرد جو پہلے کیا تھیں اور اب آج کی دنیا میں کیا ہوگئی ہیں، تو آپکو نہیں لگتا کے یہ سب انسانیت کی خدمت ہے؟ قرآن کے حکم کی تکمیل ہے؟ عین عبادت ہے؟ تو جب یہ سب قرآن کے حکم کی تکمیل ہے تو یہ دین سے الگ کیسے ہوسکتا ہے؟ میرے بھائی دین تو ہے ہی یہ ہی، انسانیت کی خدمت، انسانی زندگی کو راحت پہنچانہ، معاملات کو آسان بنانا، مرتے ہووں کو نئی زندگی دینا، معزوروں کو پھر سے تندرست بنانا، کیا یہ سب اسلام کے احکامات نہیں ہیں؟۔ تو پھر درس نظامی کو ہم نے صرف دین کے ایک حصے کی تعلیمات تک ہی کیوں محدود رکھا ہوا ہے ؟ ۔ زرا غور کریں کے جب تک مسلمانوں کا رشتہ علم و تحقیق سے جڑا رہا اس وقت تک مسلمان آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کرتا رہا، اسپین میں پوری دنیا سے لوگ مسلمانوں سے علم سیکھنے آتے تھے یہ عروج تھا مسلمانوں کا، لیکن جب ہم نے علم کو حصوں میں بانٹنا شروع کیا، جب تحقیق، غور و فکر، ٹیکنالوجی کے حصول سے ہماری دوری ہونی شروع ہوئی وہیں سے مسلمانوں کا زوال شروع ہوگیا، سلطنت عثمانیہ کے زوال کی ایک بڑی وجہ علم و تحقیق سے دوری بھی ہے، اور آج کے مسلمانوں کے زوال کی تو بنیادی وجہ ہی سائنس اور ٹیکنالوجی سے دوری ہے، آپکو پتہ ہے کے انیس سو پینسٹھہ سے پہلے سعودیہ عرب کیسا تھا؟ انہیں تو معلوم ہی نہیں تھا کے اللہ نے انکی زمینوں میں کیا کیا خزانے پوشیدہ کیئے ہوئے ہیں، یہ بھی انہیں کفار نے ہیں بتایا کے اللہ نے تہماری زمینوں کے اندر تیل جیسی نعمت رکھی ہے برٹش پیڑولیم کمپنی نے وہاں سے تیل نکالا اور سعودی عرب کو بتایا کے تمہارے پاس اللہ کے کیسے کیسے خزانے ہیں، سعودی عرب والوں کے لئیے تو یہ تیل ایک کیچڑ سے زیادہ نہیں تھا، ایسی ایک لاکھہ مثالیں ہیں جو میں دینے بیٹھوں تو یہ تحریر بہت کم پر جائے گی۔ تو بھائی یہ ہیں وہ بنیادی اعتراضات جنکی وجہ سے درس نظامی پر اعتراضات کیئے جاتے ہیں، آپ نے جامعہ رشیدیہ کا حوالہ دیا ہے تو یہ بھی آج لوگوں کے اتنے احتجاج کے بعد اتنی بات سمجھہ میں آئی ہے تو یہ تبدیلی کی گئی ہے، وہ بھی محض چند گنتی کے مدارس میں، آپکی بات مان بھی لوں کہ اب ہر مدرسے میں ایسا ہی ہونا شروع ہوگیا ہے تو بھائی پھر امت مسلمہ کے پچھلے آٹھہ سو سالوں کی تباہی کا زمہ کون ٹھرا؟ جو لوگ پچھلے آٹھہ سو سال تک اسلامی تعلیمات کے نام پر ادھوری اسلامی تعلیمات لے کر خود کو عالم سھجتے رہے انکا کیا ہے ؟ آپ نے جو علامہ صاحب کی کانفرنس والی بات کی ہے وہ تو سمجھہ سے ہی بالا تر ہے، جب ایک حکم قرآن میں آگیا تو وہ تو دین کا حصہ بن گیا اس کے لئیے استخارہ کی کیا ضرورت آگئی؟ یہ تو بلکل ایسا ہی ہے کے کوئی نماز پڑھنے کے لئیے استخارہ کرے کے میں نے نماز پڑھنی ہے یا نہیں۔ باقی آپ نے جو پرویز مشرف، نواز شریف، وغیرہ سے میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں ان گھٹیا ایسے گھٹیا لوگوں کو اپنی سوچ میں شامل کرنا چاہتا ہوں، یہ سب سیاستدان ہوں یا نام نہاد مذہبی جماعتوں کے نام نہاد رہنما ہوں یہ سب میرے نزدیک میرے اور آپ ک اعمال کی سزا ہیں، ان سب ناموں کے ساتھہ جو آپ نے سائنس و ٹیکنالوجی کی تشریح کی ہے اسکا سائنس و ٹیکنالوجی کی حقیقی روح سے کوئی تعلق نہیں بنتا، یہ تو میرے اور آپ کے استعمال پر ہے کے ہم ان چیزوں کا کیسے استعمال کرتے ہیں، چھری کا کام خربوزہ کاٹنا ہے اب اگر کوئی اس سے کسی کا قتل کردیتا ہے تو اس میں چھری کا کیا قصور؟ یہ ننگ دھڑنگ معاشرہ میرا اور آپکا پیدا کردہ ہے چیزوں کا غلط استعمال میں اور آپ کرتے ہیں اس میں چیزوں کو قصوروار ٹھرانا مناسب نہیں ہے۔ میری دعا لے کہ اللہ مجھے اور آپکو دین اسلام کو اسکی روح کے عین مطابق سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائیں اور مسلمانوں کو صدیوں سے اس لگی بندی گلی سڑی سوچ سے نجات دلائیں آمین۔

  43. Darvesh Khurasani نے کہا:

    سوری یہ الفاظ مثالی ادارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔درس نظامی ہے ۔ شائع ہوتے وقت اصلاح اگر ہوئی تو اچھا ہوگا۔

  44. عمران اقبال نے کہا:

    @ قاسم بھائی۔۔۔ آپ نے پکارا اور ہم چلے آئے۔۔۔

    @ عبداللہ۔۔۔ فکر پاکستان بھائی کی خواہش کے عین مطابق میں تم سے تمیز سے بات کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ "آپ” کو عزت راس نہیں آتی۔۔۔ اب آتے ہیں آپ کی اس خواہش کی طرف کہ ہم حوالہ کے لیے تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں۔۔۔ درست فرمایا جناب نے۔۔۔ ہم سب کو تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔۔۔ بس عرض یہ ہے۔۔۔ کہ آپ ٹھرے ٹھیٹ پڑھے لکھے دانشور نما "انسان”۔۔۔ ہمیں کچھ تاریخی کتب کے ہی حوالے دے دیں۔۔۔ کہ آپ کے خیال میں کونسی پڑھی جانی چاہیے۔۔۔ تاکہ ہم اپنا ناقص علم آپ سے
    اوپر نہیں تو کچھ آپ کے برابر ہی لے آئیں۔۔۔
    اب آتے ہیں اس تحریر کی جانب۔۔۔ جناب۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ 80 فیصد تبصروں کا تحریر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔ اس لیے میں نے ایک بار تبصرے کے بعد دوبارہ کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔۔۔ دوسری بات۔۔۔ کہ جو تبصرے آ رہے ہیں۔۔۔ ان میں دونوں فریق (انتہا پسند اور روشن خیال) ایک ہی بات کوالفاظ کی ہیرا پھیری سے دوہرائے جا رہے ہیں۔۔۔ اور دونوں فریقوں میں یہ حوصلہ نہیں ہے کہ دوسرے کی بات کو مان لیا جائے۔۔۔
    سب جانتے ہیں کہ انتہا پسند حضرات، انتہا پسند کہلاتے ہی اس لیے ہیں کہ وہ اپنے عقیدے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔۔۔ جہاں دین کے خلاف بات ہوئی۔۔۔ وہ کوئی اور کسی کی تمہید یا لاجک نہیں مانتے۔۔۔ ہر چیز سادہ رکھتے ہیں۔۔۔ کہ اگر چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے تو یہ حکم آخری ہے۔۔۔ اس کے پیچھے لاجک ڈھونڈھنے والے ہم کون ہوتے ہیں۔۔۔
    روشن خیال حضرات "ماڈریٹ” ہوتے ہیں۔۔۔ یعنی جہاں دنیا کی بھلائی نظر آئی۔۔۔ وہاں دین کو "سیکنڈری” پوزیشن پر لے آئے۔۔۔ چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔۔۔ لیکن روشن خیال حضرات کے مطابق یہ ظلم اور وحشی پن ہے۔۔۔
    یہ تو ٹھرا میرے ناقص علم کے مطابق دونوں فریقوں میں بنیادی فرق۔۔۔
    فکر پاکستان بھائی کا نیت پر مجھے بلکل شک نہیں۔۔۔ وہ جو کہنا چاہ رہے ہیں۔۔۔ مجھے لگا کہ میں نے پڑھنے ہی سمجھ لیا۔۔۔ لیکن مثال دینے میں ان سے غلطی ہو گئی ہے۔۔۔ اور اس سے بڑی غلطی یہ کہ اس غلطی پر ٹک گئے ہیں۔۔۔
    فکر پاکستان بھائی۔۔۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ میں آپ کی سوچ سے سو فیصد متفق ہوں اور دل کی گہرائیوں سے آپ کی عزت کرتا ہوں۔۔۔ لیکن میرے بھائی۔۔۔ الزام تراشی بھی سوچ سمجھ کر ہونی چاہیے۔۔۔
    جیسے کہ میں نے اپنے پہلے تبصرے میں عرض کیا تھا۔۔۔ کہ علما اور سیاستدانوں میں بہت فرق ہے۔۔۔ بدقسمتی سے ملکی انتظامیہ سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ اور ملک کا حال آپ دیکھ چکے ہیں۔۔۔
    مجھے ہر دین اسلام کے ہر مسلک سے محبت بھی ہے اور نفرت بھی۔۔۔ محبت اس لیے۔۔۔ کہ ہم کیا جانیں۔۔۔ کہ شاید ان کا مسلک ہی ان اکہتر فرقوں میں سے ایک ہو جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی بشارت کی ہے۔۔۔ اور نفرت اس لیے۔۔۔ کہ ہم کیا جانیں۔۔۔ کہ شاید ان کا مسلک ان باقی ستر فرقوں میں سے ہو جو اپنا رستہ بھٹک گئے ہیں۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ کہ آج اسلام اگر کسی حد تک ہم میں زندہ ہے تو ان علماء کا بڑا ہاتھ ہے۔۔۔ ہر چیز کا قصور علماءدین کا نہیں ہے۔۔۔
    اگر فکر پاکستان کے خیال میں مدرسے خودکش بمبار پیدا کر رہے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ صرف ایک فیصد مدرسوں کی بات کر رہے ہیں۔۔۔ اور پھر اسی لاٹھی سے سب مدارس کو ہانکنا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ خود کش بمباروں کے پیچھے علما نہیں۔۔۔ سیاسی مصلحتیں ہیں۔۔۔ اور میڈیا کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ علماء اور مدارس کے سر پر سارا الزام ڈال دیں۔۔۔ کیوںکہ ہم تو ان ہی کی سنتے ہیں اور انہیں کی مانتے ہیں۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ "علم حاصل کرو۔۔۔ چاہے چین ہی کیوں نا جانا پڑے”۔۔۔ اب کوئی مجھے یہ بتائے گا کہ اس حدیث مبارکہ کا مطلب کیا ہے۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چین میں کونسا اسلام پہنچا تھا۔۔۔؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مطلب جو مجھے سمجھ آیا وہ یہی ہے کہ دین کے ساتھ ساتھ دنیا کے علوم بھی حاصل کریں۔۔۔ اسی میں اقوام کی افادیت ہے۔۔۔
    اسلام کو نقصان سب نے پہنچایا ہے۔۔۔ میں نے بھی، آپ نے بھی، علما نے بھی اور سیاستدانوں نے بھی۔۔۔ لیکن جب ہم بات کرتے ہیں تو صرف علما کو قصور وار ٹھرا دیتے ہیں۔۔۔ علما کی افادیت کے لیے بس اتنا ہی جان لیجیے کہ آج اگر گاوں گاوں میں آزان، نماز، نماز جنازہ، عیدین وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے تو اس کا کریڈٹ کسی ‘ملا، قاری، عالم کو ہی جاتا ہے۔۔۔ نا کہ کسی غدار، شیخ، جنرل یا بھائی کو۔۔۔
    جنگیں ہمیشہ ایمان اور جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔۔۔ میرے بھائی اوپر ایسی مثال دے چکے ہیں۔۔۔ اور میرے سامنے بھی سب مثالیں غزوات اور خلفائے راشدین کے عہد میں ہونے والی جنگیں ہیں۔۔۔ اس وقت تو کوئی ایٹم بم نہیں بنایا تھا امریکہ نے۔۔۔
    ہم آرام پسند لوگ ہیں۔۔۔ ہم میں ایمان کی کمی ہے۔۔۔ ہم میں جذبے اور جستجو کی کمی ہے۔۔۔ ہم میں کچھ کر دکھانے کے شوق کی کمی ہے۔۔۔ ہم انقلاب کی باتیں کرتے ہیں۔۔۔ لیکن جب انقلاب کا وقت آتا ہے تو بلاگ لکھ کر، فیس بک پر سٹیٹس لکھ کر انقلاب لے آتے ہیں۔۔۔
    یہ بات یاد رکھنا میرے بھائیو۔۔۔ کہ دنیا کے آخری دن ساری ایجادات بھاڑ میں چلی جائیں گی۔۔۔ پھر کوئی ہم سے نہیں پوچھے گا کہ ایٹم بنانے میں تیرا کیا کردار تھا۔۔۔ پنکھا بنا کر تو نے انسانیت کی بڑی خدمت کر دے۔۔۔ روز قیامت صرف پوچھا جائے گا تو ایمان اور اعمال کے بارے میں۔۔۔ پھر علما کی خدمات کام آئیں گی۔۔۔ نا کہ یونیورسٹی کے چانسلر کی۔۔۔ جس نے مخلوط پارٹیاں کروائیں۔۔۔
    الزام تراشی بند کرو اور دل بڑا کرو یارو۔۔۔ صحیح بات مان لو۔۔۔ اور نہیں ماننی تو یہ کوشش کرو کہ دوسروں پر اپنی مرضی نا تھوپو۔۔۔

    عبداللہ۔۔۔ اللہ تیرا بھلا کرے بھائی۔۔۔ تو کوئی جواب نا دینا۔۔۔ قسم سے۔۔۔ میں صرف فکر پاکستان بھائی کی خواہش کے مطابق تیرے جیسے جاہل کے منہ نہیں لگنا چاہتا۔۔۔ اگر اور جوابنا ہی ہے تو اچھی اچھی تاریخی کتابوں کے نام لکھ دینا۔۔۔ اور یہ بھی بتانا کہ ملیں گی کہاں سے۔۔۔ ناشر کون ہونا چاہیے۔۔۔ مصنف اور قیمت بھی ممکن ہو تو بتا دینا۔۔۔ تیری اتنی خدمت ہی کافی ہے۔۔۔
    والسلام۔۔۔۔

    • قاسم نے کہا:

      اچھا تبصرہ کیا ہے عمران بھائی میرا نقطہ نظر:
      1857 کے بعد انگریزوں نے ہمارا پورا نظام تل پٹ کردیا تھا اس وقت دو طبقے سامنے آئے تھے ایک طبقہ علماء کا تھا جنہوں نے قرآن و سنت کی تعلیم کو باقی رکھنے کا اور اسلامی ثقافت و تہذیب کے تحفظ کا وعدہ کیا اسی سلسلہ میں دار العلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا، دوسرا طبقہ دانشوروں کا تھاجنہوں نے قوم کو جدید علعم سے بہرہ ور کرنے کا اور سائنس و ٹیکنالوجی پڑھانے کا وعدہ کیا اسی سلسلہ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا
      اب ہمیں ڈیڑھ دو سو سال بعد یہ غور کرنا ہے کہ دونوں طبقوں نے قوم سے کئے ہوئے وعدے پورے کئے یا نہیں؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      عمران اقبال بھائی، یہ بات مجھے بھی آپکو بتانے کی ضرورت نہیں شاید کے میں آپکی کتنی عزت کرتا ہوں اور آپکو دل سے اپنا بھائی سمجھتا ہوں، آپ کے علاوہ بھی جتنے بھی حضرات میرے بلاگ پر آتے ہیں میں انکی بھی دل سے عزت کرتا ہوں، جیسا کے آپ تبصروں میں کچھہ لوگوں کی بدزبانی پڑھہ ہی رہے ہونگے مگر میں انہیں جواب دینے سے مسلسل گریز کر رہا ہوں، کیوں کے میں طے کرچکا ہوں کے میں نے اب کسی کے ساتھہ بھی بد زبانی نہیں کرنی کے یہ غیر اسلامی فعل ہے اسلئیے میں ایسے حضرات بد زبانی پر صرف خاموشی کو ہی فوقیت دیتا ہوں، آپ نے حوالے کا زکر کیا ہے گو کے اتنی ساری دلیلیں دینے کے بعد گنجائش نہیں رہ جاتی اس بات کی کے آج سن دو ہزار گیارہ میں جہاں میڈیا ہے اخبار ہیں انٹر نیٹ ہے اس دور میں جہاں لمحوں میں باتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں تو اس دور میں ہمارے علماء اور سیاستدان کی عوام کے اصل مسائل پر جو یہ مجرمانہ خاموشی ہے ( اس بات کی تفصیل کے لئیے میں مجرمانہ خاموشی کے نام سے پوسٹ لکھہ چکا ہوں آپ وہ پڑھہ سکتے ہیں) وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، تو زرا سوچیں کے اس دور میں جہاں عام آدمی تک تو کوئی بات پہنچتی ہی نہیں تھی کوئی زریعہ ہی نہیں تھا کسی کو ایکسپوز کرنے کا تو اس وقت کیا حال ہوگا ان سب کی غفلت کا؟۔ پھر بھی میں نے حجت تمام کرنے کے لئیے حوالہ حاصل کرلیا ہے اردو بازار تک جانا ہے جو کے میں مصرفیت کی وجہ سے نہیں جا پا رہا، تاکے میں اس کتاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھہ لوں اطمنان کرلوں تب ہی میں وہ حوالہ آپکی نظر کروں۔ باقی رہی آپکی یہ بات کے بہ روز حشر اللہ ایسے انسان کو کوئی اجر نہیں دے گا جس اپنی زندگی اسلام کے مطابق عمل کرتے ہوئے تمام ارکان دین پورے کرتے ہوئے، اور جس نے قرآن کے غور و فکر کرنےوالے احکمات پر عمل کرتے ہوئے جس نے قرآن کے کائنات کے اسراز و رموز جاننے کے حکم پر عمل کرتے ہوئے، جس نے بیماریوں کے علاج دریافت کرنےوالے قراآن کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پوری انسانیت کی خدمت کے لئیے کوئی کارنامہ انجام دیا ہو اس سے میں بلکل بھی متفق نہیں ہوں، اللہ تو فرماتے ہیں کے ہم کسی کے رائی برابر عمل کو بھی ضائع نہیں کرتے، تو پھر جو انسان اللہ کے اتنے اہم احکامات پر اپنی پوری زندگی نچاور کردے اللہ اسکو اسکا اجر نہ دیں میں تو اپنے اللہ کے بارے میں ایسا گمان بھی نہیں کرسکتا۔ گدھا اور گھوڑا تو دنیا میں برابر نہیں ہیں تو اللہ کے آگے کیسے برابر ہوسکتے ہیں؟۔

      • عمران اقبال نے کہا:

        فکر پاکستان بھائی۔۔۔ بے شک آپ میری بات کو سمجھے ہی نہیں۔۔۔ میری کس بات سے آپ نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اللہ تعالی ارکان دین پورے کرنے والوں کو ان کے اعمال کا صلہ نہیں دیں گے۔۔۔ براہ مہربانی بتائیے گا ضرور۔۔۔

        چلیں ایک نئی بحث شروع کرتے ہیں۔۔۔ آپ کے خیال میں تخلیق کائنات کا مقصد کیا ہے۔۔۔؟

  45. عمران اقبال نے کہا:

    نوٹ: میں نے اپنے پچھلے تبصرے میں ایک غیر مخلوق کو انسان کہہ کر عزت بخشی ہے۔۔۔ اپنے ہم خیالوں سے معذرت چاہتا ہوں۔۔۔

  46. ABDULLAH نے کہا:

    نبی صلیاللہ علیہوسلم کی حدیث ہے ،
    تمھارے دین کی ابتداءنبوت اور رحمت سے ہےاور وہ تمھارے درمیان رہے گی جب تک اللہ چاہے گا،پھر اللہ جل جلالہ اس کو اٹھا لے گا-
    پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہوگی،جب تک اللہ چاہے گاپھراللہ اسے بھی اٹھالے گا-
    پھر بدطوار بادشاہی ہوگیاور اللہ جب تک چاہے گا رہے گیپھر اللہ اسے بھی اٹھالے گا-
    پھر جبر کی فرمانروائی ہوگی،اور وہ بھی جب تک اللہ چاہے گا رہے گی پھر اللہ اسے بھی اٹھالے گا-
    پھر وہی خلافت بطریق نبوت ہوگی ،جو لوگون کے درمیان نبی کی سنت کے مطابق عمل کرے گی،اور اسلام (امن)زمین میں پاؤں جمائے گا-
    اس حکومت سے زمین والے بھی خوش ہوں گے اور آسمان والے بھی،
    آسمان دل کھولکر اپنی برکتوں کی بارش کرے گا اور زمین اپنے پیٹ کے سارے خزانے اگل دے گی
    (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےپیشن گوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد خلافت 30 سال رہے گی،پھر بداطوار بادشاہی ہوگی،اور یہ مدت ربیع الاول 41ہجری میں ختم ہوگئی جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوئے)
    یہ حدیث مسلم ترمزی ابن ماجہ میں موجود ہے اور امام شافعی نے موافقات اور مولانااسمعیل شہید رحمت اللہ نے منصب امامت میں نقل کی ہے،
    جیسا کہ اس مستند حدیث سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت حسن کے بعد بد اطوار بادشاہی اور جبر کی فرمانروائی کا دور جاری ہے تو درس نظامی ہو یا کچھ اور سب میں ان ادوار کی جھلک ضرور موجود ہوگی جو ہمیں عورتوں اور غیر مسلموں کے حوالے سے سخت مووقف میں واضح نظر بھی آتی ہے،
    علماء کی اکثریت کا اپنے ذاتی مفادات کے لیئے حاکموں کی مرضی کی بات کرنا بھی ہر دور میں عام رہا ہے
    اور اس کی ایک اور مثال غلامی کو اسلام جسے ختم کرنے آیا تھا مسلمانوں میں مذہبی شکل دینا بھی ہے،کہ آج بھی مسلمانوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ غلامی اسلام مین جائز ہے،
    لعنت اللہ اللکاذبین

    • قاسم نے کہا:

      حوالہ نہیں لائے آپ؟ آپ کے بھاشن کی نہیں ہمیں حوالہ کی ضرورت ہے

    • fikrepakistan نے کہا:

      عبداللہ بھائی آپ ایک حدیث کی بات کر رہے ہیں، میں نے قرآن کی آیات سے ثابت کردیا ہے کے تحقیق، غور و فکر، کائنات کے اسرار و رموز جاننا، اللہ کی کائنات میں چھپے خزارنے تلاش کرنا، زمینوں میں کیا ہے آسمانوں میں کیا ہے اس کی تحقیق کرنا، بیماریوں کے علاج دریافت کرنا یہ سب میں نے قرآن کی آیات سے ثابت کر دیا ہے، مگر یہاں ایسی مہر لگی ہے دلوں پر کے اتنی واضع دلیل کے باوجود بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں کے یہ سب عین اسلامی ہے قرآن کے مطابق ہے، اب اگر کوئی قرآن کو ہی نا مانے تو پھر اللہ سے دعا ہی کی جاسکتی ہے ایسے لوگوں کے لئیے، ان میں سے کسی ایک میں بھی اتنی اخلاقی جرت نہیں ہے کے یہ پرنٹ آوٹ لے کر جائیں اپنے اپنے مسلک یا فرقے کے عالم کے پاس اور ان سے پوچھیں کے یہ جو فکر پاکستان صاحب قرآن کی رو سے سائنس و ٹیکنالوجی کے حصول کو دین کا حصہ بتا رہے ہیں کیا یہ صحیح کہہ رہے ہیں؟ میں یہ سب اتنے وثوق سے اسلئیے کہہ رہا ہوں کے میں ذاتی طور پر خود تقریباًَ تمام فرقوں کے عالموں کے پاس یہ ہی سوال لے کر جاچکا ہوں اور کسی ایک فرقے کے عالم نے بھی میری بات سے اختلاف نہیں کیا سب نے کہا آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اس میں دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں، عالم دین مان رہے ہیں مگر یہ لوگ بیچارے بند ذہنیتوں کے لوگ جنہیں انکے نام نہاد رہنماوں نے صدیوں سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے یہ نہیں مان رہے۔ یہ نا خود مانیں گے اور نہ ہی جا کر کسی عالم سے رجوع کریں گے کیوں کے انکا مقصد علم کا حصول ہے ہی نہیں، انکا مقصد محض بلاگ پر گند پھیلانا ہے منافقت پھیلانہ ہے اور اپنا یہ کام یہ بہت ہی خوش اسلوبی سے کر رہے ہیں، میں ایک بار پھر آپ سب سے کہتا ہوں کے جائیں اور اپنے اپنے عالموں سے سوال کریں کے قرآن کی سات سو سے زیادہ آیات کا تعلق غور و فکر، تدبر، تفکر، (سائنس و ٹیکنالوجی کا حصول) یعنی کائنات کے اسرار و رموز جاننا، ایک سے زیادہ عالموں کی تلاش میں جستجو کرنا، بیماریوں کے علاج دریافت کرنا، انسانیت پر یہ سب احسان کرنا یہ سب قرآن کا حکم ہے کہ نہیں۔ مگر مجھے یقین ہے ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں جائے گا کسی عالم کے پاس کیوں کے انکا مقصد علم کا حصول ہے ہی نہیں۔

      • عمران اقبال نے کہا:

        فکر پاکستان بھائی۔۔۔ یہاں ایسا کون ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی کی تحقیق اور حصول کو برا سمجھتا ہے۔۔۔؟؟؟

        میں اسے برا ہر گز نہیں سمجھتا۔۔۔ لیکن میں اسے سیکنڈری ایشو مانتا ہوں۔۔۔ دنیا اور دلوں پر اگر حکمرانی کرنی ہے تو اسلام کو اپنا اوڑھنا بچھوڑنا بنانا ہو گا۔۔۔ اپنے اخلاقیات اعلی بنانے ہونگے۔۔۔ اور سو فیصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا ہوگا۔۔۔ پھر ہمیں دنیا اور دلوں کی حکمرانی سے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔ خدارا حکمرانی سے مراد یہاں بادشاہت نا لیجیے گا۔۔۔ میرا کہنے کا جو مقصد ہے، وہ حکمرانی کو پیار اور محبت کا معنی ہے۔۔۔۔

        کامیابی صرف اور صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ہے۔۔۔ نا کہ مغرب میں۔۔۔

        دنیا کی کامیابی اگر اہم ہے تو روشن خیال بننے میں کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔ لیکن ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا فانی ہے۔۔۔ سائنسدان بننا بہت اچھی بات ہے۔۔۔ لیکن اس سے بھی اچھی بات "اچھا انسان” بننا ہے۔۔۔ اب سائنس یا مذہب میں سے کون آپ کو اچھا بننے میں مدد دیتا ہے۔۔۔ اس کا فیصلہ آپ خود کر لیجیے۔۔۔

        میں مختلف مسالک کے مختلف علما سے ملا ہوں اور سوال پوچھنا میری عادت ہے۔۔۔ آج تک مجھے ایک ملا نے یہ نہیں کہا۔۔۔ کہ سائنسی ایجادات کفر ہیں۔۔۔ یا وقت کا ضیاع ہیں۔۔۔؟ پاکستان میں بھی میں نے ایسا نہیں سنا کہ کوئی فتوی آیا ہو کسی ملا کی طرف سے۔۔۔ بلکہ جنہیں میں "عالم” کہہ رہا ہوں۔۔ وہ واقعی "عالم” ہیں۔۔۔ نیم حکیم ٹائپ نہیں۔۔۔ اس لیے ان کی باتوں کو میں اہمیت دیتا ہوں۔۔۔ جس جس عالم سے بات ہوئی۔۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں۔۔۔ کہ یہ چیزیں بری نہیں۔۔۔لیکن ان کا استعمال غلط ہو رہا ہے۔۔۔ اور استعمال درست ہونے کے لیے بھی اسلام کی طرف واپس دوڑنا پڑتا ہے۔۔۔ مثلا۔۔۔ فحاشی دیکھنا گناہ ہے۔۔۔ اب ٹی وی پر اگر فحش فلم چل رہی ہے تو قصور ٹی وی کا نہیں۔۔۔ ان آنکھوں کا ہے۔۔۔ جو فحش فلم دیکھ رہی ہے۔۔۔ اللہ کا خوف ہو تو چینل چینج کر دیں اور کوئی اسلامی چینل دیکھ لیں۔۔۔ جہاں کچھ نیا سیکھا جا سکے۔۔۔ تو مقصد بیان یہ کہ اول بھی اسلام ہے اور آخر بھی اسلام۔۔۔ درمیان میں ٹیکنالوجی کو جگہ ضرور مل سکتی ہے لیکن یہ حرف آخر ہر گز نہیں۔۔۔
        والسلام۔۔۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        عمران بھائی، یہ ہی تو معاملہ ہے سارا کے مانتے بھی ہیں مگر اس پر عمل کرنے کے لئیے اپنے مدارس کے نظام میں ترامیم نہیں کرنا چاہتے، میں نے قرآن کی آیات سے آپکو حوالہ دیا ہے کے قرآن کا ہی حکم ہے یہ، تو جب یہ قرآن کا حکم ہے تو پھر مسلمان اس حکم کے پیروی کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا کیوں نہیں ہوتا؟ قرآن کا یہ پیغام کفار نے ہی کیوں سمجھا؟ ہم اسے دین کیوں نہیں سمجھتے؟ یہ ہمارے مدارس کے درس نظامی میں شامل کیوں نہیں ہے؟ جب مانتے ہیں کے قرآن کا ہی حکم ہے یہ بھی تو پھر درس نظامی میں اسے شامل کیئے بغیر اس ادھورے درس نظامی کو کیسے مکمل اور درست قرار دے جاسکتا ہے؟۔ بحرحال، ایک حوالہ جس کے لئیے بے انتہا شور مچایا گیا تھا وہ میں درج کر رہا ہوں، اور مجھے یہ بھی یقین ہے کے جنہیں نہیں ماننا وہ نہیں مانیں گے، اصل بات تو یہ ہے کہ جنہیں ماننا ہی نہیں ہوتا وہ تو، آل رسول صلی اللہ علی وسلم کی شہادت کو بھی نہیں مانتے اور اسے اقتدار کی جنگ گردانتے ہیں، جنہیں ماننا ہی نہیں ہوتا وہ تو خلفاء راشدین کو نہیں مانتا، جہیں ماننا ہی نہیں ہے وہ تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور انکے درجات کو بھی نہیں مانتے حضور پاک صلی علیہ وسلم کے درجات کو کم کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں، اسلئیے مجھے ایسے لوگوں کی زرا پروا نہیں ہے۔ کتاب کا نام ہے، تاتاریوں کی یلغار، مصنف، ہیرلڈ لیم لوگوں کی خواہش پوری کردی گئی ہے، اب میں اس موضوع پر مزیک کچھہ بھی نہیں کہنا چاہوں گا۔ اللہ ہم سب پر اپنا رحم فرمائیں آمین۔

  47. عمران اقبال نے کہا:

    عبداللہ۔۔۔کاذبین پر لعنت بھیجنے کی بجائے ہدایت کی دعا کر دیا کرو یار۔۔۔

  48. fikrepakistan نے کہا:

    میں عمران اقبال کی تائید کروں گا، ہم سب آپس میں بھائی ہیں اسلئیے اسطرح نہ کہیں ایک دوسرے کو پلیز۔

  49. مصروفیت ہے آجکل۔ ابھی رات کے دو سے اوپر ہوچکے ہیں۔مختصرا عرض ہے۔

    درس نظامی پہ اعتراض نہیں ہونا چاہئیے بلکہ یہ دین کی بقاء کے لئیے لازم ہے۔

    یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ مغرب میں سب سے لمبی ، طویل ترین اور تھکا دینے والی محنت عیسائی مذہبی پیشواء کی ڈگری حاصل کرنے کے لئیے جاتی ہےـ گلی محلے کے چرچ کے لئیے "فادر” بننے کے اہل ہونے ڈگری ہے۔ اسکے لئیے انتہائی محنت اور عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسکا عرصہ آٹھ سال پہ مبنی ہے۔ اسے حال ہی میں گیارہ سالوں سے آٹھ سال کیا گیا ہے۔ جس میں پادری بننے کے امیدوار کو چار سال فلسفہ اور پھر چار سال عیسائی کھیتولک عقیدہ پڑھایا جاتا ہے یوں آٹھ سال بعد ایک جونئیر کھیتولک پادری کی ڈگری دی جاتی ہے اور ۔ بشپ۔ آرچ بشپ یا کارڈینال کے عہدے پہ پہنچنے کو دہائیاں لگ جاتی ہیں ۔یعنی عیسائی فلسفے اور کھیتولک عقیدے کے بارے آٹھ سال سخت محنت کے بعد چرچ کا ایک پادری تیار ہوتا ہے۔

    بشپ، آرچ بشپ اور کارڈینل وغیرہ کو خدائی باپ یا خدائی اوتار کے خطاب سے پکارا جاتا ہے۔ خواہ پکارنے والا ملک کا سربراہ یا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔ سرکاری تقاریب کے پروٹوکول میں عسکری دستہ بشپ اور آرچ بشپ کو کندھوں پہ ہتیار رکھ کر سلامی دینے کا پابند ہوتا ہے۔ جبکہ کارڈینال کے لئیے دیگر اعزازات کے علاوہ قومی ترانہ بجایا جاتا ہے اور گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے۔

    اس سے یہ مطلب نہیں بنتا کہ مغربی اقوام نے ترقی نہیں کی؟ یا اتنی لمبی ڈگری کے حصول کے لئیے وقت کا ضیاع ان کے نزدیک کوئی معانی نہیں رکھتا۔ بجائے اسکے کہ وہ اپنے مذھب کا علم حاصل کرنے کے کیا تمام پادریوں کو کوئی اور کام کرنا چائیےَ؟

    دین کی تعلیم۔ اسے سیکھنا اور سیکھانے کے لئیے درس نظامی بہت ضروری ہے اگر دین کے بارے علم نہیں ہوگا تو آپ خود اعتمادی سے اپنے آپ کو مسلمان ہونے اور اسلام کے مقصد کو نہیں جان پائیں گے۔

    مسئلہ درس نظامی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری حکومت جو اخلاقی طور پہ اپنی قوم کو علم سے بہرہ مند کرنے کی زمہ دار ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم عام کرنے کی پابند ہے۔ اس حکومت اور اسکے اداروں پہ پچھلے ترینسٹھ سالوں سے کچھ اس طرح کے بزرجمہر قابض ہیں جنہوں نے قوم کو رعایا سمجھا ہے اور اسے گداگر بنا دیا ہے۔ ان کی گوشمالی کی جانی چاہئیے نہ اس کا قصور وار علماء کو ٹہرا دیا جائے،۔

    اسمیں کوئی شک نہیں کہ قران کریم ہمیں سوچنے کی بار بار تاکید اور ہدایت کرتا ہے۔ تحقیق کرنے کا پابند کرتا ہے۔ تو بسم اللہ آئیں ساری قوم کو ساتھ لائیں اور اس پہ عمل کروائیں۔ اس بات سے نہ تو کوئی انکاری ہے ۔ اور نہ ہی کسی کو حجت ہے۔ اسلام نے کسی کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا۔ اور ایسا نہ کرنے کا قصور وار علما یا اسلامی علوم کے حصول کے طریقہ کار درس نظامی وغیرہ کو نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ ایسا نہ کئیے جانے پہ اگر کوئی قصورا نظر اتے ہیں تو وہ مغرب سے متاثر پاکستان کے بودے حکمران اور مغرب سے پاکستان میں مقرر کردہ اعمال اور حکمران ہیں۔مغربی نظام تعلیم کی مستفید یافتہ پاکستان کی ایلیٹ کلاس ہے۔ جو پاکستان کے سبھی وسائل پہ قابض ہے۔ اسلئیے مذمت بھی انہیں کی جانی چاہئیے۔

  50. قاسم نے کہا:

    عمران اقبال نے لکھا

    "مثال دینے میں ان (فکر پاکستان)سے غلطی ہو گئی ہے۔۔۔ اور اس سے بڑی غلطی یہ کہ اس غلطی پر ٹک گئے ہیں”

    آپ کی حق گوئی و بے باکی کو لاکھوں سلام عمران، یہی وہ نقطہ ہے جس پر فوکس رکھنا ہے کیونکہ اس پوسٹ کا محرک ہی انکل ٹام کا حوالہ بنا ہے اور یہی حوالہ اب تک بے حوالہ ہے

  51. قاسم نے کہا:

    میرا خدشہ:
    "ہم جاہل ملاؤں کو یہ حوالے مل نہیں رہے اس لئے علم و عرفان کے سمندروں سے بار بار گذارش کر رہے ہیں کہ وہ حوالے دے کر ہمارے علم میں اضافہ کریں
    واضح رہے کہ یہ تاریخ اسلام کی بات ہے اس لئے اس میں عربی کے مؤرخ کی بات حجت ہونی چاہئے نہ کہ کسی انگریز متعصب کی بات”

    صاحب بلاگ کا حوالہ

    "کتاب کا نام ہے، تاتاریوں کی یلغار، مصنف، ہیرلڈ لیم”

    یہ لو جی وہی ہوا جس کی امید تھی اتنے بڑے الزام کیلئے اتنا بوگس حوالہ اگر انہی کی بات حجت ہے تو جاہل ملا ہی نہیں قرآن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو بھی دیوار سے لگایا جاسکتا ہے

    آپ سے گذارش ہے کہ علماء کے بارے میں انتہائی ٹھوس ثبوت اور دس دفعہ غور و فکر کے بغیر زبان نہ کھولیں ورنہ جیسے یہاں منھ کی کھانی پڑی ہے آئندہ بھی کھانی پڑ سکتی ہے اور ہمیں کسی مومن کو منھ کی کھاتے ہوئے دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے

  52. بنیاد پرست نے کہا:

    موجودہ عصری نظام کی پشت پنائی حکومت وقت خود کرتی ہے ، اس کے اداروں کے لیے ایک کرسی سے لے کر کروڑوں روپے کی مشینری خرید کر دینا تک حکومت کے ذمہ ہوتی ہے، ہر سال اس تعلیمی نظام پر اربوں روپیہ لگا ئے جاتے ہیں ، پھر بھی ان اداروں اور اس سے نکلنے والے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کا کیا حال ہے ، یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ، پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے دنیا میں 186ویں نمبر پر ہے گورنمنٹ کے تحت چلائے جانے 75فیصد سکول ایسے ہیں جن کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔ جہاں اساتذہ کی اکثریت غیر حاضر رہتی ہے، طالب علموں کی مناسب تربیت اور رہنمائی کا کوئی بندوبست نہیں۔ اگر اساتذہ سکول آتے ہیں یا تو صرف حاضری لگانے کے لئے یا پھر ٹائم گزار کرچلے جاتے ہیں۔ جہاں سرکاری سکول ناقص کارکردگی دکھا رہے ہیں وہیں تین طبقاتی تعلیمی نظام ہمارے ملک اور نوجوان نسل کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر دیا ہے، غریب کے بچے کے لیے تعلیم کوئی بندوبست نہیں، اعلی تعلیم، اعلی تعلیمی ادارے صرف جاگیرداروں ، صنعت کاروں کے بچوں کے لیے ہیں۔ اور ان کے جدید سائنسی اداروں کی فیس ایک غریب کی سال کی تنخواہ کے برابر ہے۔اور دوسری طرف پریکٹیکل زندگی میں صدارت کی کرسی سے لے کر چپڑاسی تک انہی اداروں سے فارغ ہے، پاکستان کے ہرچھوٹے بڑے شعبے کا کنڑول ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے، پاکستان کی حالت ان جد ید تعلیم یافتہ اداروں سے نکلنے والے لوگوں نے کیا کردی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔
    دوسری طرف مدارس کو دیکھیں تو ان کو کوئی حکومتی سپورٹ نہیں، کوئی مستقل معاشی ذریعہ نہیں پھر بھی انہوں نے انتہائی کم وسائل اور مشکل معاشی حالات میں مجموعی طور پر معاشرے کو ایسے افراد تیار کرکے دیے اور دے رہےہیں جن سے لاکھوں لوگوں کا دین وابستہ ہے اور انکی دیانت داری، تقوی، شرافت، بردباری اور دین کے مختلف شعبوں میں انکی خدمات کی ایک تاریخ ہے۔یہ انہی مدارس کی کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہاں دینی مراکز قائم ہیں’ لادینی طبقات کا ناطقہ بند ہے‘ مساجد و مدارس آباد ہیں‘ لوگوں کے چہروں پر سنت رسول کی شادابی ہے‘ خواتین ستروحجاب سے مزین ہیں‘ دینی اسکول اور حفظِ قرآن کے مدارس میں لاکھوں مسلمان بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں،یہ مدارس تو لائق تعریف ہیں نہ کہ لائق تنقید و تشنیع۔
    میں یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں یہ تمام نام نہاد دانش وراور فلاسفر جو مدارس اور علما پر تنقید کرنے کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہوں ’ جوان کے بچوں ، طالب علموں کی عصری تعلیم کے غم میں دن رات مرے جاتے ہیں اور مگر مچھ کے آنسو بہاتے رہتے ہیں ’ ان سب کا سارا مال ودولت پیسہ اپنی موج مستیوں، عیاشیوں میں خرچ ہوتا ہے ، میں فکر پاکستان صاحب سے پوچھتا ہوں کہ تمہیں جو مدارس کے بچوں کا اتنا غم کھائے جارہا ہے ، آج تک تم نے مدارس کی کتنی مالی مدد کی ہے ، کیا تم نے آج تک کسی مدرسے کو اتنی امداد دی ہے جس سے صرف ایک عالم کی آٹھ سالہ پڑھائی، رہائش ، کھانے پینے کا خرچہ نکل گیا ہو۔
    میرا ان نام نہاد روشن خیالوں، دانش وروں کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ مدارس کو اپنی اصلاحات کا تختہ مشق بنانے کے بجائے ان اداروں میں اصلاحات کا سوچیے، جہاں بوٹی مافیا کا راج ہے، جہاں سے اسلحہ برآمد ہوتا ہے ، جن اداروں کے ہاسٹلوں میں منشیات کی بھر مار ہے ، جن اداروں سے شرم وحیا کے جنازے اٹھتے ہیں اورجہاں تعلیم وتربیت کے بجائے بے راہروی سکھائی جاتی ہے۔ اس ٹاٹ کلچر، طبقاتی نظام تعلیم، گھوسٹ اسکولوں کا خاتمہ پر لکھیے ۔ اگر آپ کی حکومت قومی نظام تعلیم کی مکمل اصلاح اور فلاح وبہبود کے بعد مدارس میں اصلاحات کرنا چاہے گی تو ہمارے لیے زیادہ باعث مسرت ہو گا، لیکن اگر اربوں روپے بجٹ خرچ کرنے کے باوجود گزشتہ ساٹھ سالوں کے دوران ہمارا نظام تعلیم بہتر ہونے کے بجائے زوال وانحطاط کا ہی شکار ہو تو ایسے میں ہمیں مدارس میں نہام نہاد اصلاحات کی فکر میں ہلکان ہونے کے بجائے اس نظام تعلیم کی بہتری کی فکر کرنی چاہیے اور مدارس کے ٹمٹماتے چراغوں کو بجھانے کی کوشش کرنے کے بجائے ان کی لوکو مدہم نہیں ہونے دینا چاہیے، جو ہم سے نہ کچھ مانگتے ہیں نہ کچھ لیتے ہیں، بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت اس قوم کے بیس لاکھ بچوں کو تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ قیام وطعام اور علاج معالجہ تک کی مفت سہولیات بھی مہیا کرتے ہیں۔
    فکر پاکستان صاحب شروع سے ایک بات رٹتے آرہے ہیں کہ اللہ نے قرآن میں انسانوں کو ساری کائنات میں غوروفکر و تدبرکا حکم دیا ہے جب کہ علما و مدارس درس نظامی تک محدود ہیں۔ میں جناب سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ تدبر کبھی آپ نے خود بھی کیا ہے، ساری دنیا جانتی ہیں آپ کے ان عصری اداروں میں جہاں اس غوروفکر کے تمام وسائل و مواقع میسر ہیں ، کتنا غوروفکر ہوتا ہے او ر انکے کیا حالات ہیں ۔ میں نے اوپر ہلکہ سا تذکرہ کیا ہے کہ آپ کے ان عصری اداروں کا کیا حال ہوگیا ہے ، کس طرح تباہی کا شکار ہیں ،کیا آپ نے یہ لیکچر بازیاں کبھی ان سے نکلنے والوں لوگوں کے سامنے بھی یا ان اداروں میں بھی جا کر کیں ہیں۔؟ ۔ آپ کے ڈاکٹروں کی دینی تعلیمی حالت یہ ہے کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ قرآن کریم کے تیس پارے ہوتے ہیں یا چالیس ؟ اور بنے وزیر تعلیم، اور آپ کے موجودہ وزیر داخلہ کو سورۃ اخلاص تک نہیں آتی ، جب آپ کے ان اداروں سے نکلنے والے لوگوں کی دینی و دنیادی یہ حالت ہے تو یہ سارہ نزلہ مدارس پر ہی کیوں ؟ پھر یہ نام نہاد اخلاص بھری کوششیں صرف مدارس کے تعلیمی نظام کے لیے ہی کیوں ؟
    رہی بات مدارس کے نصاب تعلیم میں کائنات میں غوروفکر کی کتابوں کی ’ میں اس پر ثبوت دینے کو تیار ہوں کہ اس کی ہر کتاب کائنات میں غوروفکر کا راستہ کھولتی ہے۔ موصوف درس نظامی پر تنقید کرنے آئے ہیں ان کو اس میں پڑھائی جانے والی چار کتابوں کے بھی نام یا د نہیں ہوں گے۔ فکر پاکستان صاحب اس لنک کو دیکھ کر فرمائیں اس میں سے کونسی کتاب کو نکال کر آپ کی کائنات میں غوروفکر کرنےکی دعوت دینے والی ڈارون کے نظریے والی بیالوجی اور مسٹر چپس کی بے غیرتیوں کی داستانیں اور دوسری انگریزی عشق معشوقی والی نظموں سے بھری انگریجی کی کتابیں جن سے بچوں میں کائنات کے تمام راز کھل کر سامنے آجاتے ہیں ’شامل کیں جائیں ؟
    http://www.banuri.edu.pk/ur/nisabetaleem

  53. بنیاد پرست نے کہا:

    میں نے اوپر اپنی پہلی پوسٹ میں ملک میں دو علیحدہ علیحدہ تعلیمی نظاموں کی موجودگی پر بات کی تھی کہ ان میں یہ علیحدگی اور تضاد کیسے پید ا ہوا اور اس تضاد کو قائم رکھنے کا ذمہ دار کون ہے۔میں اسے دوبارہ دوہرانا نہیں چاہتا صرف یہ لکھ دیتا ہوں کہ وہ تعلیمی نظام جس نے مسلمانوں میں بڑے بڑے سائنسدان پیدا کیے تھے ناصرف مسلمانوں کا اپنا بنایا ہوا تھا بلکہ اسکی ہر ضرورت پوری کرنا حکومت وقت کے ذمہ تھا جبکہ ہمارے ملک میں یہاں ایسا کوئی نظام نہیں، یہاں حکومت یہودیوں کے ایجنٹوں، شرابیوں، زانیوں کے ہاتھ میں ہے اور عصری تعلیمی نظام بھی صرف ایک یہودی سوچ کے مطابق ہے۔
    ہم اس اسلامی تاریخی نظام تعلیم کو پڑھیں تو ہمیں پتا چلے گا کہ اس میں بنیادی دینی تعلیم لازمی تھی ، اس کے بعد ہر شخص اپنے ذوق کے مطابق یا تو سائنسی، صنعتی، زرعی شعبہ کو اختیار کرلیتا تھا یا مزیددینی تعلیم میں سپیشلائزیشن کے لیے کسی عالم کے درس یعنی مدرسے میں بیٹھنا شروع کردیتا تھا۔ ہم اس کے لیے اپنے معاشرے کی مثال ہی کو لے لیتے ہیں ، یہاں بنیادی دینی تعلیم کا تو کوئی بندوبست نہیں لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سکولوں میں ایک ہی کلاس میں اکٹھے پڑھنے والے لڑکوں کی آگے جاکر فیلڈ علیحدہ علیحدہ ہوجاتیں ہیں ، کوئی انجنئیرنگ میں چلا جاتا ہے، کوئی ڈاکٹریٹ کے سبجیکٹ لے لیتا ہے اور کوئی کمپیوٹر سائنس کے۔ اسی طرح پھر ان شعبوں کے اندر کئی سپیشلائزیشن کی ڈگریاں ہیں۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر بننے والوں کو پہلے ایم بی بی ایس کا کورس کرایا جاتا ہے‘ اس کی تکمیل کے بعد پھر طلبہ کی دلچسپی کے پیش نظر ان کے منتخب کردہ موضوعات‘ مثلاً: دل‘ دماغ‘ جگر‘ معدہ‘ سینہ‘ کان‘ ناک اور حلق کے امراض اور ان کی جراحی کے اصول و فروع میں تخصّص کرائے جاتے ہیں‘ اور ایسا شخص اس شعبہ کا ماہر کہلاتا ہے۔ میں اپنی بات کی طرف آتا ہوں کہ مدارس کا آٹھ سالہ کورسس دینی تعلیم میں سپیشلائزیشن ہے، جس طرح ڈاکٹر یٹ میں سپیشلائزیشن ہے۔ اب کوئی مفکر اٹھ کر کہے کہ میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹ انجنئرنگ کے سبجیکٹ کیوں نہیں پڑھتے، یا انجنئیرنگ کالج میں درس نظامی کیوں نہیں پڑھایا جاتا، اس کو کوئی بھی عقل مند نہیں کہے گا۔ یعنی یہ کہنا کہ مدارس میں انجنئرنگ ، میڈیکل اور دوسرے جدید سائنسی مضامین اور علوم وغیرہ کیوں نہیں پڑھائے جاتے لاجک اور عقل کے بھی کے بھی خلاف ہے ۔
    ویسےمدارس کا دینی تعلیم میں سپشلائزیشن کی جگہ ہونے کے باوجود اس وقت انگریزی، سائنس، کمپیوٹر اور دیگر جدید علوم مدارس کے نصاب میں شامل ہیں ، کئی مدارس میں انتہائی جدید قسم کی کمپیوٹر لیبز قائم ہیں۔ کئی مدارس فارغ التحصیل علماء کو انگریزی ، صحافت اور کمپیوٹر وغیرہ کے خصوصی کورسز کرواتے ہیں۔

  54. fikrepakistan نے کہا:

    {1889}درس نظامی ۔۔ماضی،حال اور مستقبل
    درس نظامی ۔۔ماضی،حال اور مستقبل
    پروفیسر محمد اسحاق علوی
    بشکریہ ماہنامہ جہادِ کشمیر، بابت ماہِ اگست 2009ء
    مغل بادشاہوں اکبر ‘ شاہ جہاں اور عالم گیر کے عہد میں جن علماءنے علوم کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں ان میں ملا عبدالحکیم سیالکوٹی‘حکیم فتح اللہ شیرازی ‘عبدالسلام لاہوری ‘ملا قطب الدین سہالوی اور ان کے فرزند ملا نظام الدین قابل ذکر تھے۔ کہا جاتا ہے برصغیر ہند میں ”درس نظامی“ کا نصاب جو آج پاک و ہند کے دینی مدارس میں رائج ہے، ملا نظام الدین ہی نے مرتب کیاتھا۔تاہم کچھ مورخین اور محققین کی رائے میں درس نظامی کوملا نظام الدین سے منسوب کرنا درست نہیں، بلکہ یہ نصاب حکیم فتح اللہ شیرازی نے ترتیب دیا تھا؛کیوں کہ ملا نظام الدین ان اہل اللہ میں سے تھے جن کے نزدیک اصل اہمیت ”تزکیہ نفس“ کو حاصل ہے‘ نہ کہ محض ظاہری علوم کو۔ اگر انہوں نے درس نظامی کا نصاب ترتیب دیا ہوتاتو وہ ضرور اس میں تزکیہ نفس‘ تقویٰ یا کردار سازی کی تعلیم وتربیت کو مناسب اہمیت دیتے۔جب کہ موجودہ درس نظامی ان سب چیزوں سے ”پاک“ ہے۔ قران و حدیث کی تعلیمات سے یہ نصاب بڑی حد تک محروم ہے۔درس نظامی کے مرتب ملا نظام الدین اس لیے بھی نہیں ہو سکتے کہ ان کی علمی میراث کے وارث ملا بحرالعلوم ہوئے‘ان ہی سے خیرآبادکاعلمی خاندان چلا۔ اسی چشمہ صافی سے شاہ عبدالرحیم دہلوی اور ان کے فرزند شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ محدث دہلوی سیراب ہوئے۔لہذاوہ نصابِ تعلیم جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ترتیب دیا تھا ‘ ملانظام الدین کی فکر سے بہت زیادہ مطابقت رکھتا تھا۔
    شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ۔فکر جدید کے بانی:
    حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے مرتب کردہ نصاب میں قران اور سیرت النبی کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی۔ انہوں نے یونانیوں کی نام نہاد معقولات‘فلسفہ و منطق کو مسترد کرکے حقیقی دینی علوم کے فروغ کی ایک جامع سکیم تیار کی تھی۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ ”قران کریم اور سیرت ہی تمام علوم کی بنیاد اور اصل سرچشمہ ہے جو انسان کی روحانی اور مادی ترقی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ان ہی سے وہ بصیرت پیدا ہو سکتی ہے‘جو دنیاوی امامت و قیادت کے لیے بھی ضروری ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہنے اپنے نصاب میں عربی زبان کو بنیادی اہمیت دی تھی کیوں کہ عربی قران فہمی اور سیرت النبی سے فیض حاصل کرنے کی کلید ہے۔المیہ یہ ہے کہ درس نظامی کی شکل میں نہ صرف ملانظام الدین اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی فکر سے بالکل متضاد نصاب مروج ہو گیا ، بلکہ اس میں عربی زبان کی اہمیت بھی ختم کر دی گئی ہے۔اس نصاب کے ”علماءوفضلا“عربی لکھ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں اصل اہمیت یونانیوں کے باطل اور فرسودہ فلسفے اور منطق کو حاصل ہے یا کچھ فقہی کتابوں اور علم کلام کی موشگافیوں کو ۔ حالانکہ قران کریم اور سیرت النبی ‘ کردارسازی یا تزکیہ نفس کے بنیادی مآخذ ہیں‘جب کہ موجودہ درس نظامی میں قران کی تعلیم برائے نام ہے اور سیرت النبی داخل ِنصاب ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ درس نظامی سے فراغت حاصل کرنے والے تزکیہ نفس‘روحانی بالیدگی‘اعلیٰ اخلاق ‘ بلند کردار اور بصیرت سے محروم ہوتے ہیں۔اس کی عملی مثالیں تاریخ میں بھی رقم ہیں اور موجودہ دور میں بھی بہت واضح اور نمایاں ہیں۔ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ ظاہری علوم کے ساتھ باطنی پاکیزگی اور روحانی ترقی کے بھی اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ درسِ نظامی کے بارے میں”تذکرۃ الرشید “میں ہے کہ منطق و فلسفے کے ساتھ مولانا گنگوہی کا تنفر عداوت کے درجے تک پہنچا ہوا تھا ۔ ایک دفعہ آپ نے ارشاد فرمایا ”میرا جو مرید اورشاگرد فلسفے سے شغل رکھے گا وہ میرا مرید اور شاگرد نہیں ہے۔“
    درس نظامی میں شامل یونانی فلسفہ و منطق کے بارے میں امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کی رائے بھی قابل توجہ ہے :
    ” علمِ کلام و فقہ کا استاد صَرف و نحو کے استاد سے بہتر ہے اور صرف ونحو کا استاد فلسفے کے علوم کے استاد سے بہتر ہے کیونکہ فلسفے کی علوم سے کوئی نسبت نہیں ۔ اس کے اکثر مسائل بے مقصد ‘ لاحاصل بلکہ باطل ہیں۔ اس کے پڑھنے والے جہل مرکب کا شکار ہو جاتے ہیں۔“
    :خود رو اورسیکو لر نصاب
    درس نظامی کا تجزیہ شاہ سلیمان سجادہ نشین پھلواری شریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
    ” درس نظامی ایک خودرونظام تعلیم ہے‘اس درس کو حضرت قبلہ ملانظام الدین رحمہ اللہ کا درس کہنا سراسر گستاخی اور بے ادبی ہے۔حضرت ملا صاحب رحمہ اللہ نے نہ یہ موجودہ کتابیں پڑھائیں‘نہ ہی اکثر کتابیں ان کے وقت میں تالیف ہوئی تھیں۔کچھ تو بعضے اساتذہ نے اپنے مذاق کے موافق کتابیں پڑھائیں اور کچھ طالب علموں کے مذاق نے اضافہ کیا۔ حضرت ملا صاحب رحمہ اللہ کا دامن اس سے پاک ہے۔ حضرت ملا صاحب رحمہ اللہ صوفی صافی عالی مشرب تھے ‘ اگر وہ اس نظام کو درست فرماتے توباطنی پاکیزگی یا اخلاق کی کوئی کتاب اس میں ضرور داخل کرتے۔ “ (بحوالہ رودِ کوثر)
    حضرت شاہ ولی اللہ نے تاریخ کے مطالعے کو ”تذکیر بایّام اللہ “سے تعبیر کیا ہے‘جسے وہ قرآن کے پانچ علوم میں سے ایک علم سمجھتے ہیں۔مسلمانوں کے حکمران طبقے اور نام نہاد مذہبی گروہ جسے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے سے کوئی غرض نہیں ،جدید علوم تو کیا یہ پرانے علوم کے بھی دشمن ہیں۔حد یہ ہے کہ درس نظامی میں مسلمانوں کی تاریخ بھی شامل نہیں۔
    قرآن و سنت سے دوری:
    حال ہی میں ایک ایسے ہی علامہ نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں ارشاد فرمایا ” قران میں وعدہ وفا کرنے کا کوئی ذکر نہیں ‘ اس کے لیے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ پھیرا لگانا پڑے گا۔“حالانکہ قران کریم کی متعدد آیات میں وعدہ پورا کرنے کی تاکید بھی موجود ہے اور وعدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزا بھی رکھی ہوئی ہے ۔سورہ بنی اسرائیل میں ہے۔ ”وعدہ پورا کرو ‘ اس کے بارے میں تم سے باز پرس ہوگی ۔ “سورہ بقرہ کی آیت 177میں ارشاد ہوا : ”حقیقی مؤمن وہی ہیں کہ عہد کرکے پورا کرتے ہیں۔ “
    یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ درس نظامی سے فارغ ہونے والوں کو قرانی آیات کیوں یاد نہیں رہتیں؟ اس لیے کہ اس نصاب میں قران فہمی کو بنیادی اہمیت ہی نہیں دی گئی ہے۔درس نظامی کے نظام و نصاب کو لادینی (Secular) قراردینا بظاہر غلط معلوم ہوتا ہے، لیکن عملی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ درس نظامی ہر اعتبار سے لادینی نصاب ہے جو ماضی کے لادین حکمرانوں نے محض حکومتی تقاضوں کو پورا کرنے اور سرکاری کلرک وغیرہ تیار کرنے کے لیے وضع کیا تھا۔اس کی ایک واضح شہادت یہ ہے کہ اس نصاب میں قران و حدیث کا جو حصہ شامل ہے وہ ا س سے بھی کہیں کم ہے جتنا کہ موجودہ لادین تعلیمی نصاب میں شامل ہے۔سورہ الانفال اور سورہ احزاب کا ترجمہ اور تفسیر میٹرک کے نصاب میں شامل ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد ‘ ارکان اسلام کی تشریح و تفصیل ‘ 10آیات اور 10احادیث کی تشریح ایف اے کے نصاب میں شامل ہے۔ اس کے برعکس درس نظامی میں صرف سورہ بقرہ کی تفسیر بیضاوی شامل ہے‘ وہ بھی صرف برکت کے لیے ۔ اس کے بالالتزام اور تحقیقی مطالعے سے درس نظامی کے مدرسین اور طلبہ دونوں ہی محروم رہتے ہیں۔
    حدیث نبوی کے ساتھ درس نظامی میں جو سلوک کیاجاتا ہے وہ بھی نہایت افسوس ناک ہے ۔ ان مدارس میں حدیث کا مطالعہ نہیں بلکہ محض ”دورہ“ کرایا جاتا ہے۔حدیث صرف آخری برس میں پڑھائی جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ حدیث کی دس کتابوں کی تبرکاً ورق گردانی کے بعدسند فضیلت عطا کر دی جاتی ہے۔ایک برس میں ساری کتابوں کا پڑھنا ممکن ہی نہیں،حدیث کی دس کتب میں سے ہر کتاب جہازی سائز کے کم از کم سات سو صفحات پر مشتمل ہے؛جب کہ ”دورہ“ کا دورانیہ صرف نوماہ کا رکھا گیا ہے۔اتنے دنوں میں تو حدیث کی ان کتب کی ورق گردانی بھی ممکن نہیں۔ درس نظامی کے مدرسین بالعموم اور حدیث کے اساتذہ بالخصوص فروعی اور فرقہ وارانہ مسائل کی تفصیلات میں تو پوری توانائی خرچ کرتے ہیں لیکن اسلام کی بنیادی تعلیمات‘اس کے آفاقی اصول‘اس کے اجتماعی نظام اور اس کی روح کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔راقم الحروف کو بخوبی یاد ہے کہ ”بخاری“ کے درس کے دوران شیخ الحدیث صاحب نے ”رفع یدین“ کے رد میں 16 دن تک دھواں دار بحث فرمائی،لیکن بخاری شریف میں مزارعت ‘ تجارت ‘ معاملات ‘ جہاد اور معاشرتی مباحث شروع ہوئے، تو ایک طالب علم صرف عبارت پڑھتا جاتا تھا اور حضرت شیخ الحدیث آنکھیں بند کرکے سن لیتے تھے یا اگر نیند کا غلبہ ہوتا تو تکیہ لگا کر آرام بھی فرما لیتے تھے۔ان حقائق سے یہ امر واضح کرنا مقصود ہے کہ مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب دین کے اصل ماخذ قران وحدیث سے کس قدر عاری ہے۔ وہ نصاب جس میں قرآن و سنت کا تفصیلی اور تحقیقی مطالعہ ہی شامل نہ ہو،وہ کیسے دینی نصاب کہلا سکتا ہے !
    مردہ لاشیں اٹھانے والے:
    کمیو نسٹ انقلاب سے پہلے وسط ایشیا کی ریاستوں میں بھی قران وحدیث پڑھنے کا رواج نہ تھا ۔ اس کے بجائے وہاں کا ’مدرسہ‘ یونانی فلسفہ و منطق کے خبط میں مبتلا اور فقہی لاف زنیوں اور موشگافیوں میں غرق تھا۔ فلسفہ و منطق کی ان مردہ لاشوں نے نئی نسل کو قران و حدیث اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چشمہ صافی سے محروم رکھا۔ اس کے نتیجے میں علم کی حقیقی و پختہ بنیادیں مسمار ہو گئیں اور اخلاق و کردار ناپید ہوتا چلا گیا۔اس کی کوکھ سے علمائے سوءکی ایک ایسی کھیپ تیار ہوئی جس نے دین فروشی اور فتویٰ فروشی سے زروجواہرتو خوب سمیٹے مگردین کے لیے بدنامی کے سوا کچھ کما نہ سکے ۔ اب سوال یہ ہے ان لوگوں کو آج بھی مردہ لاشیں اٹھانے کا شوق اور زندہ علوم سے نفرت کیوں ہے؟جواب بہت سادہ ہے‘اللہ کے رسول نے جن نفوس کا تزکیہ فرما کر انہیں دنیا کا امام بنایا‘دنیا کی روحانی‘ اخلاقی اور تہذیبی قیادت کا اہل بنایا‘ان کی تعلیم و تربیت کی بنیاد قرانی تعلیمات اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھی۔سیدنا صدیق اکبر رحمہ اللہ اور حضرت عمر فاروق رحمہ اللہ کی سیرت ان ہی بنیادوں پر تعمیر ہوئی تھی جب کہ درس نظامی ان بنیادوں سے محروم ہے۔ تزکیہ نفس اور کردار سازی کے اصل ذرائع سے محروم رہ جانے والے لوگوں سے خدا پرستی‘حقیقت بینی‘اور باطنی بصیرت کی نعمت اللہ تعالیٰ چھین لیتا ہے اور ان میں بے شمار دوسری”پرستیوں“کامرض لاحق ہوجاتا ہے۔ان میں بت پرستی‘زرپرستی‘دنیاپرستی اوراسلاف پرستی جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
    قرآ ن کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام تعلیم وتربیت چار ستونوں پر کھڑا ہے۔سورۃ بقرہ آیت129اور آیت151سورۃ آل عمران آیت164اور سورۃ جمعہ آیت2 میں اسلام کے اس نصاب کا تذکرہ ان ہی چار عنوانات کے تحت کیا گیا ہے:”درحقیقت اہل ایمان پراللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود ان ہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایاجو اس کی آیات انہیں سناتا ہےان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے ان کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے اوران کو حکمت سکھاتا ہے(آل عمران۔164)۔ “تعلیم وتربیت کی ان ہی چار بنیادوں سے درس نظامی کو محروم رکھا گیا ہے کہ جن کے بغیر قرآن کی رو سے انسان”کھلی گمراہی میں پڑا ہوا تھا“۔آئیے ایک نظر قرآنی نصاب کے چار بنیادی ارکان پر ڈالیں اور پھردرس نظامی کے نصاب کا جائزہ لیں:
    ۔ تلاوت آیات
    ۔تعلیم کتاب
    ۔تعلیم حکمت
    ۔تزکیہ
    درس نظامی میں یہ چاروں اجزاءکہاں نظر آتے ہیں؟ تلاوت آیات کا تقاضا کسی حد تک تحفیظ کے اداروں میں نبھایا جاتا ہے، جن کا درس نظامی سے کوئی واسطہ نہیں۔درس نظامی کے مدارس میں آپ کو تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت اور تزکیہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ اس کے برعکس اکابر پرستی اورماضی کے فرسودہ خیالات و مردہ افکار کی یلغار دکھائی دیتی ہے ۔ان مردہ افکار میں یونانی فلسفے اور منطق کو مرکزیت حاصل ہے ۔ ان ہی فرسودہ خیالات اور مردہ علوم نے مسلمانوں کو بھی مردہ بنا دیا ہے اوراندھی تقلید ان کا جزو ایمان بن گئی ہے۔جمود وتعطل کا گہن ان کی ذہنی صلاحیتوں کو چاٹ گیا ‘ ضد اور ہٹ دھرمی ان کا قومی نشان بن گئی ۔ ماضی پر اِترانا اور حال و مستقبل سے آنکھیں بند کرکے زندگی گزارنا نیکی‘تقویٰ اور بزرگی کی علامت ٹھہرا۔ سقوط بغداد سے لے کر سقوط اسپین تک اور ترکی میں خلافت عثمانیہ کے زوال سے سقوط ڈھاکہ تک مسلمانوں پر جتنی قیامتیں بھی ٹوٹیں‘اس کی بڑی ذمے داری ان ہی لاش برداروں‘عقل کے دشمنوں اور قران و حدیث سے انحراف کرنے والوں پر عاید ہوتی ہے۔
    دو انتہاؤں کے بیچ کی جماعت
    شاہ ولی اللہ، رحمہ اللہ مجدد الف ثانی اور مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے اس اکابر پرست گروہ کو مسلمانوں کے ایمان و کردار کی کمزوری‘علمی پس ماندگی‘معاشی زبوں حالی اور سیاسی عدم استحکام کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔مولانا ابوالکلام جدید ترکی کے دین سے بے زار ہونے کی وجوہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ” مغربی تمدن کی اشاعت نے مشرق میں سخت کشمکش پیدا کر دی ہے۔ایک طرف قدیم افکار ہیں‘ دوسری طرف جدید اصول‘یہی کشمکش عالم اسلام میں بھی جاری ہے۔اس سے تین جماعتیں پیدا ہو گئی ہیں ۔ ایک جماعت قدیم سکول کی ہے جو اپنے تمام تقلیدی رسومات و خیالات پرسختی کے ساتھ جمی ہوئی ہے‘ کسی طرح کی لچک اور حرکت اس میں نہیں پائی جاتی ۔ دوسری جماعت نئی نسل کی ہے۔اس نے مغربی تمدن کی ہوا میں پرورش پائی ہے‘لیکن اسلامی تعلیم و آداب سے بے بہرہ ہے‘ وہ متعصب اور جامد علماءاور عوام الناس کے عقائد و رسوم کو ہی اسلام سمجھتی ہے اور انہیں ترقی میں مانع دیکھ کر متوحش اور مضطرب ہو گئی ہے۔ تیسری جماعت معتدل فکر و نظر کی ہے‘یہ ان دونوں کناروں کے وسط میں ہے۔یہ نہ پہلی جماعت کی طرح تقلید میں جمی ہوئی ہے‘نہ دوسری کی طرح مغربی سیلاب میں بہہ گئی ہے۔اس کا اعتقاد یہ ہے کہ مغربی تمدن کی تمام خوبیاں حاصل کی جا سکتی ہیں‘ بغیر اس کے کہ اسلام کی حقیقی اور خالص روح کو نقصان پہنچایا جائے۔ بدقسمتی سے ترکی میں صرف پہلی دو جماعتیں پائی جاتی ہیں ‘ تیسری جماعت مفقود ہے ‘ میرے خیال میں ساری دقتیں اور مشکلات اسی کا نتیجہ ہیں ۔ “ (تبرکاتِ آزاد،مرتبہ غلام رسول مہر )
    شاہ ولی اللہ کے نزدیک امت مسلمہ کا بگاڑ ‘ فساد اور زوال کا بنیادی سبب قرآنی تعلیمات سے انحراف اور سنت کا ترک کرنا تھا۔چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی قرآنی تعلیمات کو پھیلانے اور حدیث نبوی کی اشاعت کے لیے وقف کیے رکھی ۔ ان کے چار فرزندوں شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ ‘ شاہ رفیع الدین رحمہ اللہ ‘شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ اور شاہ عبدالغنی رحمہ اللہ نے اس تحریک کو آگے بڑھایا ۔سید احمد شہید رحمہ اللہ اور شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی تحریک مجاہدین نے اسی عظیم تحریک کی اپنے پاک لہو سے آبیاری کی۔دارالعلوم دیوبند کے بزرگوں میں سے شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن نے حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تحریک”رجوع الی القران“کو دوبارہ زندہ کیا۔مالٹا میں قیدوبند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد رہا ہوئے تو دق جیسے مہلک مرض میں مبتلا تھے۔اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں:
    ” میں جیل کی تنہائیوں میں غور وفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے زوال کا حقیقی اور اصل سبب قرآن کریم کی تعلیمات سے انحراف ہے۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ زندگی کے باقی ماندہ ایام میں دیہات میں قرآنی مدارس قائم کروں گا جہاں بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دی جائے گی اور نوجوانوں کے لیے قرآن کے ترجمے اور تفسیر کا نصاب مرتب کروں گا۔“
    پس چہ باید کرد؟:
    درس نظامی کے منتظمین نے نہ اسلامی علوم کے اصل سرچشموں ‘ قرآن کریم اور حدیث نبوی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ‘ آج امت مسلمہ اسی جرم کی سزا بھگت رہی ہے۔ کم وبیش تین صدیوں سے سامراجی طاقتوں کی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے ۔ اسلامی ممالک وسائل سے معمور ہونے کے باوجود اذیت ناک غربت و افلاس کے عفریت کے پنجوں میں دبے ہوئے کراہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے بارے میں فرمایا تھا کہ انہوں نے جب احکام خداوندی سے روگردانی کی تو ان پر غربت ‘مسکنت‘ذلت و رسوائی کا عذاب مسلط کر دیاگیا۔آج امت مسلمہ اسی آیت کی مصداق بن چکی ہے۔ 1857ءسے 1947ءتک برصغیر ہند کے مسلمانوں کی گردنوں میں صرف ایک سامراجی طاقت کا طوقِ غلامی پڑا ہواتھا۔ آج تین سامراجی طاقتوں نے بیک وقت پاکستان کو اپنے قدموں میں گرا کر دبوچ رکھا ہے۔اس صورت حال کی بڑی ذمے داری مردہ علوم کی لاشیں اٹھانے والے علماءسو پرعاید ہوتی ہے۔انہیں خو د سے پوچھنا چاہیے کہ ان کے دعوے کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے،تو ان بحرانوں میں امت کی ان لاکھوں”علماء“سے کیا امیدپوری ہوئی؟ان سے کیا گلہ کریں کہ مردہ علوم مردہ ضمیر ہی کو جنم دے سکتے ہیں۔انہیں ہنر ہی یہ سکھایا گیا ہے کہ اسلام کا نام لے کرپیٹ کے دھندے میں مصروف رہیں اوردین کی بدنامی کا سبب بنتے رہیں۔ان کے بوسیدہ نظام تعلیم و تربیت سے نجات کی ایک ہی صورت ہے کہ درس نظامی کی سیکو لر بنیادیں منہدم کر کے دینی نصاب کو ان بنیادی اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے مرتب کیا جائے جو حضر ت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ، شیخ الہندرحمہ اللہ اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی روشن فکر کے مطابق ہو اور ان کے علمی ذخیرے سے استفادے پر مبنی ہو۔منطق و فلسفے کے مردہ پشتارے کو دریا برد کر کے نئے نصاب میں دین کے اصل ماخذ قرآن‘حدیث نبوی‘سیرت رسول‘عربی ادب اور عربی قواعدکی کتب شامل کی جائیں۔ کیوں کہ قرآن ہی وہ کتاب ہے ‘ جس کے سمجھنے سے ایمان نکھرتا اور بڑھتا ہے ، سیرت وکردار میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے‘جس سے حکمت ودانش کی راہیں کھلتی ہیں‘اظہار وبیان کے نئے اسلوب سامنے آتے ہیں اور آفاق وانفس کے دلائل سے دین کی ابدی سچائیوں کو ثابت کرنے کی صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں‘جس سے ایمان کی روشنی پھیلتی اور کفروشرک کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں۔قرآن کریم کا نور عام کرنے کی ضرورت ہے ۔
    ( بشکریہ ماہنامہ جہادِ کشمیر، بابت ماہِ اگست 2009ء)

  55. fikrepakistan نے کہا:

    بنیاد پرست صاحب، ویسے تو اس بات کی تشہیر نہیں کی جانی چاہیئے لیکن چونکہ آپ نے مجھے مخاطب کر کے سوال کیا ہے کہ فکر پاکستان نے آج تک کتنے لوگوں کو تعلیم کے حصول میں مدد فرمائی، تو آپکی خدمت میں عرض ہے کے اللہ کے کرم سے اتنے بچوں کی تعلیم کی مد میں اللہ کے کرم سے مدد فرمائی ہے اور اب بھی فرمائی جارہی ہے کہ تعداد ہی یاد نہیں ہے، میں پچھلے سولہہ سال سے ایک ویلفئیر سوسائٹی چلا رہا ہوں جس میں ہم تمام ممبرز اپنی مدد آپ تحت یہ ہی سب کام کرتے ہیں، میرا ضمیر اللہ کے کرم سے اس معاملے میں بہت مطمعین لے کے میں دوسروں کی طرح بلاگ پر صرف باتیں نہیں بھگارا کرتا، عملی اقدام بھی کرتا ہوں۔

  56. Darvesh Khurasani نے کہا:

    ۔ میرے خیال میں فکر پاکستان نے بجائے خود درس نظامی کا مطالعہ کرنے کے ان مکالمات اور مضامین کو پڑھا ہے جو کہ درس نظامی کے ڈھانے اور درس نظامی کیلئے میٹھے زہر کا کام انجام دینے والے ہیں۔

    مضمون میں نے بھی پڑھا اور اس کی کم فہمی صاف عیاں ہے ۔

    صاحب مضمون چاہتا ہے کہ پاکستان میں موجود علامء کرام کو ایٹم بم مار کر ختم کیا جائے لیکن افسوس ایسا ناممکن ہے۔

    میرا دوستوں کو مشورہ ہے کہ یہ فکر پاکستان صاحب نہیں ماننے والا ۔

    تو کیوں اسکے ساتھ مغز کھپایا جائے۔

    فکر پاکستان صاحب نہ تو خود تعمیری کام کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو کام کرنے کیلئے چھوڑتا ہے۔

    لھذا چھوڑو اسکو ۔ جو کہنا ہے یہ کہے۔

    مضمون میں کیا لکھا ہے اور حقیقت کیا ہے سب کو معلوم ہے۔ لھذا مغز کھپانے سے کیا فائدہ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      درویش بھائی پہلے ہی عرض کرچکا ہوں یہ انکا کام ہے جنہیں لوگ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں امداد دیتے ہیں، جنہیں بیرون ملک سے بھی امداد آتی ہے، اور ایک بات ہماری ویلفئیر سوسائٹی صرف مسلمانوں کے لئیے کام نہیں کرتی وہ صرف اور صرف انسانوں کے لئیے کام کرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کے میں رب مسلمین ہوں، اللہ فرماتے ہیں کے میں رب عالمین میں ہوں۔ ہماری تو زندگی کا مقصد ہی لوگوں کو جوڑنا ہے نہ کے فرقوں مسلکوں اور قوموں میں لسانیتوں میں بانٹ کر توڑنا۔

  57. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان صاحب جب آپ ایک فلاحی ادارہ چلا رہے ہیں تو آپ خود یہ درس نظامی شروع کیوں نہیں کرتے جس کی آپ بات کر رہے ہیں۔

    ہم بھی تو دیکھیں کہ کتنا دم ہے آپ میں

    پھر گفتار و کردار کا پتہ چلے گا۔

    غیروں کے ہاتھ میں مت کھیلو۔

    لوگ بہت کچھ کہتے ہین لیکن افسوس سچ بہت کم ہی ہوتا ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      درویش بھائی، اور بنیاد پرست بھائی، آپ نے اپنے نظرئیے کے مطابق دلائل دیئے اور میں نے اپنے نظرئیے کے مطابق دلائل دئیے ہیں، مقصد ہم دونوں کا ہی اصلاح ہے، جتنا درد مسلمانوں کے لئیے آپ کے دل میں ہے اتنا ہی درد میرے دل میں ہے شائد تھوڑا سا زیادہ ہی ہوگا، میرا ماضی گواہ ہے کے میں آج سے نہیں پچھلے سولہہ سال سے انسانیت کی خدمت کو ہی اپنا ایمان بنائے ہوئے چل رہا ہوں، یہ سب باتیں صرف اسلئیے بتانی پڑ رہی ہیں کے مجھے لوگوں کی باتوں سے ایسا لگا کے وہ مجھے کوئی مغرب زدہ سمجھہ رہے ہیں، میرے بھائی علماء حق کا جتنا احترام آپ کرتے ہیں اتنا ہی میں بھی کرتا ہوں، میں بس اندھی تقلید کے خلاف ہوں، آپ کے ساتھہ ساتھہ کچھہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے حضرات بھی درس نظامی کے حق میں دلائل دے رہے ہیں جنہیں شاید یہ تک نہیں معلوم کے مودودی صاحب سب سے بڑے ناقد تھے درس نظامی کے۔ تمام جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بھائیوں سے گزارش ہے کبھی اپنی جماعت کی تاریخ پڑھہ لیں کے جماعت اسلامی کیوں بنائی گئی تھی؟۔ مجھے یقین ہے کہ جو مودودی صاحب کو اپنا رہنما مانتے ہیں وہ کم از کم درس نظامی میں ترامیم نہ ہونے کی حمایت ہرگز نہیں کریں گے۔

  58. بنیاد پرست نے کہا:

    پہلی بات میں نے آپ سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ آپ نے کتنے بچوں کی تعلیم میں مدد فرمائی ہے۔ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ جو مدارس پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں آپ نے ان مدارس کی آج تک کتنی مدد کی ہے ۔؟

    جناب فکر پاکستان صاحب
    ہم نے آپ کی ہر بات کا دلیل سے جواب دیا، اب جب آپ کے پاس ہمارے موقف کی طرف رجو ع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا تو آپ نے کسی مجہول درس نظامی کے طریقہ کار سے جاہل اور متعصب شخص کا دو گز لمبا آرٹیکل کاپی پیسٹ کردیا، جس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ محض الفاظ کا گورکھ دندہ ہے اور صرف درس نظامی سے ناواقف لوگوں کو گمراہ کرنے ، آپ جیسے نام نہاد روشن خیال لوگوں کے لیے اعتراض کا ایک حیلہ ہے۔ اس اعتراضی آرٹیکل کی حقیقت درس نظامی کے متعلق ادنی سا علم رکھنے والا بھی آرام سے سمجھ سکتا ہے۔ ہاعرے بہت سے علما نے ایسے اٹھنے والے اعتراضات کا بہت دفعہ جواب دیا ہے ، میں صرف دو لنک پیش کردیتا ہوں۔

    درس نظامی پر اشکالات کا جواب
    http://banuri.edu.pk/ur/node/347
    ہندوستان میں مسلمانوں کا نصاب تعلیم
    http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/03-Hindustan%20me%20Musalmano_MDU_05_May_10.htm

    فکر پاکستان صاحب آپ کو اگر اس آرٹیکل کا لنک ملا تھا تو میری طرح صرف ایڈریس یہاں دے دیتے۔ بلاگ پر ڈسکشن کے دوران پانچ پانچ صفحوں کے آرٹیکل پیسٹ کرنا یا کسی کو یہ کہہ دینا کہ آپ کو اس اعتراض کا جواب چاہیے تو فلانی دو سو صفحوں کی کتاب پڑھ لیں’ ڈسکشن کے اصولوں کے خلاف ہے۔اگر آپ کو بحث کے اصولوں کا کچھ علم ہے تو دوسروں کے اتنے لمبے لمبے آرٹیکل کاپی پیسٹ کرنے کے بجائے میری پچھلی پوسٹ کا جواب دیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      بنیاد پرست بھائی اس میں اتنا خفا ہونے والی کوئی بھی بات نہیں ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کے یہ جو موصوف نے درس نظامی سے مطعلق لکھا ہے وہ سب لغو اور بےبنیاد ہے تو جواب میں آپ جو وہ سب تحریر کر دیں جو ہوتا ہے درس نظامی میں، اور آپکے ہمنواوء میں کچھہ دوست جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بھی ہیں انہیں میرا مشورہ ہے کے وہ زرا اپنے سب سے بڑے رہنما مودودی صاحب کی کتابوں کا بھی مطالعہ کر لیں کے انکی کیا رائے ہے درس نظامی سے متعلق، مودودی صاحب کی بات یقیناَ انہیں سمجھہ میں آجائے گی۔

  59. میری رائے میں بحث ایک اسیے نکتے پہ پہنچ گئ ہے جس پہ مزید کچھ کہنے سے دلوں میں رنجش آئے گی۔ بحچ پہ نتیجہ نکالنا قاری کی خاموش رائے پہ چھوڑ دینا چاہئیے۔ اب اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کچھ مفید کام باتیں بھی ہوجائیں۔

    میری ذاتی رائے میں نیت سبھی کی نیک ہے تو ہر فرد کو دین اسلام، پاکستان۔ پاکستانی عوام کی بھلائی۔ اور دیگر کار انسانیت معاملات میں دوسروں کی مدد کرنی چاہئیے۔ خواہ اپنے اپنے طریقہ کار سے ہی مگر کرنا ضرور چاہئیے۔

    وما علینا الا البلاغ۔

    • عمران اقبال نے کہا:

      میں جاوید گوندل بھاءی کی بات سے پوری طرح متفق ہوں۔۔۔ اب کچھ اور بحث ہوءی تو بات خراب ہو سکتی ہے۔۔۔ اس لیے معاملے کو یہیں سمیٹ لیں۔۔۔ اور ایک دوسرے کی ہدایت کے لیے دعا کریں۔۔۔ کہ اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرماءے اور ہماری نیتیں اچھی کرے۔۔۔ آمین۔۔۔

  60. fikrepakistan نے کہا:

    جاوید بھائی کی بات بلکل ٹھیک ہے دونوں جانب سے دلائل موجود ہیں حوالے موجود ہیں، معاملہ اب قارئین پر ہی چھوڑ دینا چاہیئے، ایک بات اور کہنا چاہوں کے کہ کچھہ لوگوں نے ان تبصروں کے دوران غیر شائستہ گفتگو کرنے کی بھی کوشش کی جو کے احسن عمل نہیں ہے، میں نے ایسے تبصروں پر خاموشی اختیار رکھی تاکے ماحول علمیت سے نکل کر جاہلت تک نہ پہنچ جائے اور ہم سب کی ہی محنت بیکار جائے۔

  61. Darvesh Khurasani نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    فکر پاکستان صاحب

    آپ سے ایک درخواست ہے کہ آپ جو اپنے کالموں میں نوری نستعلیق فونٹ کے ساتھ کیسے لکھائی کرتے ہیں۔اور اسکا کیا طریقہ کار ہے۔

    میں پوسٹ کو ایم ایس ورڈ میں لکھتا ہوں پھر کاپی پیسٹ کرتا ہوں ، لیکن میرے خیال میں کچھ کوڈز کی ضرورت ہوتہ ہے اسمیں۔

    اگر آپ اس بارے میں کچھ تفصیلی معلومات دے دیں ، تو آپ کی مہربانی ہوگی۔ شکریہ

    یہ بات آپکو ای میل کرنا چاہ رہا تھا لیکن کہیں سے بھی اپکا ای میل ایڈرس نہیں ملا ۔ اسلئے کمنٹس کے ذریعے پوچھ لیا۔

    آپ جواب یہاں بھی دے سکتے ہین اور میرے پروفائیل سے ای میل ایڈرس لے کر ای میل بھی کر سکتے ہیں ۔
    تکلیف کیلئے معذرت

  62. Abdullah نے کہا:

    مجھے اس بات کا جواب نہیں دیا آپ نے کے میں نے آپ کے درس نظامی والی تحریر کے جواب میں جو قرآن کی روشنی میں جو تعریف بیان کی ہے اسکے بارے میں آپ نے ایک لفظ بھی نہیں لکھا، کم از کم اتنا ہی بتا دیجئیے کے آپ اس تعریف سے متفق ہیں یا نہیں؟ اگر قرآن کی رو سے کی گئی اس تعریف سے آپ متفق نہیں ہیں تو پھر اسکی کوئی دلیل بھی دے دیں بڑی مہربانی ہوگی۔ اور یہ میں آپ سے ہی نہیں کہہ رہا یہ میں ہر اس شخص سے پوچھہ رہا ہوں جو ان تبصروں میں حصہ لے رہے ہیں، چاہے وہ عمران اقبال بھائی ہوں، جاوید گوندل صاحب ہوں، دوریش صاحب ہوں، بنیاد پرست صاحب ہوں، یا عبداللہ بھائی ہوں، آپ سب سے گزارش ہے کے تحقیق، غور و فکر اور کائنات کے اسرار و رموز جاننے کے لئیے جو قرآن کا حکم ہے، میری اس والی تحریر کا جواب دے دیں مجھے کوئی بھی صاحب یا کم از کم اتنا اتنا کردیں کے میں نے یہ تعریف اگر غلط کی ہے تو کیسے غلط کی ہے؟

    بھائی میں تو سو فیصد آپ کے ساتھ متفق ہوں!!!!!

  63. پنگ بیک: کیا مسلمانوں کی تنزلی کے ذمہ دار دینی مدارس اور علماء ہیں ؟ | Rational View

  64. fikrepakistan نے کہا:

    جسکو ریفرنس درکار ہو وہ مشہور۔ زمانہ کتاب تاتاریوں کی یلغار پڑھہ ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s