درس نظامی ۔۔ماضی،حال اور مستقبل


{1889}درس نظامی ۔۔ماضی،حال اور مستقبل
درس نظامی ۔۔ماضی،حال اور مستقبل
پروفیسر محمد اسحاق علوی
بشکریہ ماہنامہ جہادِ کشمیر، بابت ماہِ اگست 2009ء
مغل بادشاہوں اکبر ‘ شاہ جہاں اور عالم گیر کے عہد میں جن علماءنے علوم کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں ان میں ملا عبدالحکیم سیالکوٹی‘حکیم فتح اللہ شیرازی ‘عبدالسلام لاہوری ‘ملا قطب الدین سہالوی اور ان کے فرزند ملا نظام الدین قابل ذکر تھے۔ کہا جاتا ہے برصغیر ہند میں ”درس نظامی“ کا نصاب جو آج پاک و ہند کے دینی مدارس میں رائج ہے، ملا نظام الدین ہی نے مرتب کیاتھا۔تاہم کچھ مورخین اور محققین کی رائے میں درس نظامی کوملا نظام الدین سے منسوب کرنا درست نہیں، بلکہ یہ نصاب حکیم فتح اللہ شیرازی نے ترتیب دیا تھا؛کیوں کہ ملا نظام الدین ان اہل اللہ میں سے تھے جن کے نزدیک اصل اہمیت ”تزکیہ نفس“ کو حاصل ہے‘ نہ کہ محض ظاہری علوم کو۔ اگر انہوں نے درس نظامی کا نصاب ترتیب دیا ہوتاتو وہ ضرور اس میں تزکیہ نفس‘ تقویٰ یا کردار سازی کی تعلیم وتربیت کو مناسب اہمیت دیتے۔جب کہ موجودہ درس نظامی ان سب چیزوں سے ”پاک“ ہے۔ قران و حدیث کی تعلیمات سے یہ نصاب بڑی حد تک محروم ہے۔درس نظامی کے مرتب ملا نظام الدین اس لیے بھی نہیں ہو سکتے کہ ان کی علمی میراث کے وارث ملا بحرالعلوم ہوئے‘ان ہی سے خیرآبادکاعلمی خاندان چلا۔ اسی چشمہ صافی سے شاہ عبدالرحیم دہلوی اور ان کے فرزند شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ محدث دہلوی سیراب ہوئے۔لہذاوہ نصابِ تعلیم جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے ترتیب دیا تھا ‘ ملانظام الدین کی فکر سے بہت زیادہ مطابقت رکھتا تھا۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ۔فکر جدید کے بانی:
حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے مرتب کردہ نصاب میں قران اور سیرت النبی کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی۔ انہوں نے یونانیوں کی نام نہاد معقولات‘فلسفہ و منطق کو مسترد کرکے حقیقی دینی علوم کے فروغ کی ایک جامع سکیم تیار کی تھی۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ ”قران کریم اور سیرت ہی تمام علوم کی بنیاد اور اصل سرچشمہ ہے جو انسان کی روحانی اور مادی ترقی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ان ہی سے وہ بصیرت پیدا ہو سکتی ہے‘جو دنیاوی امامت و قیادت کے لیے بھی ضروری ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہنے اپنے نصاب میں عربی زبان کو بنیادی اہمیت دی تھی کیوں کہ عربی قران فہمی اور سیرت النبی سے فیض حاصل کرنے کی کلید ہے۔المیہ یہ ہے کہ درس نظامی کی شکل میں نہ صرف ملانظام الدین اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی فکر سے بالکل متضاد نصاب مروج ہو گیا ، بلکہ اس میں عربی زبان کی اہمیت بھی ختم کر دی گئی ہے۔اس نصاب کے ”علماءوفضلا“عربی لکھ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔ اس لیے کہ اس میں اصل اہمیت یونانیوں کے باطل اور فرسودہ فلسفے اور منطق کو حاصل ہے یا کچھ فقہی کتابوں اور علم کلام کی موشگافیوں کو ۔ حالانکہ قران کریم اور سیرت النبی ‘ کردارسازی یا تزکیہ نفس کے بنیادی مآخذ ہیں‘جب کہ موجودہ درس نظامی میں قران کی تعلیم برائے نام ہے اور سیرت النبی داخل ِنصاب ہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ درس نظامی سے فراغت حاصل کرنے والے تزکیہ نفس‘روحانی بالیدگی‘اعلیٰ اخلاق ‘ بلند کردار اور بصیرت سے محروم ہوتے ہیں۔اس کی عملی مثالیں تاریخ میں بھی رقم ہیں اور موجودہ دور میں بھی بہت واضح اور نمایاں ہیں۔ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ ظاہری علوم کے ساتھ باطنی پاکیزگی اور روحانی ترقی کے بھی اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ درسِ نظامی کے بارے میں”تذکرۃ الرشید “میں ہے کہ منطق و فلسفے کے ساتھ مولانا گنگوہی کا تنفر عداوت کے درجے تک پہنچا ہوا تھا ۔ ایک دفعہ آپ نے ارشاد فرمایا ”میرا جو مرید اورشاگرد فلسفے سے شغل رکھے گا وہ میرا مرید اور شاگرد نہیں ہے۔“
درس نظامی میں شامل یونانی فلسفہ و منطق کے بارے میں امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کی رائے بھی قابل توجہ ہے :
” علمِ کلام و فقہ کا استاد صَرف و نحو کے استاد سے بہتر ہے اور صرف ونحو کا استاد فلسفے کے علوم کے استاد سے بہتر ہے کیونکہ فلسفے کی علوم سے کوئی نسبت نہیں ۔ اس کے اکثر مسائل بے مقصد ‘ لاحاصل بلکہ باطل ہیں۔ اس کے پڑھنے والے جہل مرکب کا شکار ہو جاتے ہیں۔“
:خود رو اورسیکو لر نصاب
درس نظامی کا تجزیہ شاہ سلیمان سجادہ نشین پھلواری شریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
” درس نظامی ایک خودرونظام تعلیم ہے‘اس درس کو حضرت قبلہ ملانظام الدین رحمہ اللہ کا درس کہنا سراسر گستاخی اور بے ادبی ہے۔حضرت ملا صاحب رحمہ اللہ نے نہ یہ موجودہ کتابیں پڑھائیں‘نہ ہی اکثر کتابیں ان کے وقت میں تالیف ہوئی تھیں۔کچھ تو بعضے اساتذہ نے اپنے مذاق کے موافق کتابیں پڑھائیں اور کچھ طالب علموں کے مذاق نے اضافہ کیا۔ حضرت ملا صاحب رحمہ اللہ کا دامن اس سے پاک ہے۔ حضرت ملا صاحب رحمہ اللہ صوفی صافی عالی مشرب تھے ‘ اگر وہ اس نظام کو درست فرماتے توباطنی پاکیزگی یا اخلاق کی کوئی کتاب اس میں ضرور داخل کرتے۔ “ (بحوالہ رودِ کوثر)
حضرت شاہ ولی اللہ نے تاریخ کے مطالعے کو ”تذکیر بایّام اللہ “سے تعبیر کیا ہے‘جسے وہ قرآن کے پانچ علوم میں سے ایک علم سمجھتے ہیں۔مسلمانوں کے حکمران طبقے اور نام نہاد مذہبی گروہ جسے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے سے کوئی غرض نہیں ،جدید علوم تو کیا یہ پرانے علوم کے بھی دشمن ہیں۔حد یہ ہے کہ درس نظامی میں مسلمانوں کی تاریخ بھی شامل نہیں۔
قرآن و سنت سے دوری:
حال ہی میں ایک ایسے ہی علامہ نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں ارشاد فرمایا ” قران میں وعدہ وفا کرنے کا کوئی ذکر نہیں ‘ اس کے لیے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ پھیرا لگانا پڑے گا۔“حالانکہ قران کریم کی متعدد آیات میں وعدہ پورا کرنے کی تاکید بھی موجود ہے اور وعدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزا بھی رکھی ہوئی ہے ۔سورہ بنی اسرائیل میں ہے۔ ”وعدہ پورا کرو ‘ اس کے بارے میں تم سے باز پرس ہوگی ۔ “سورہ بقرہ کی آیت 177میں ارشاد ہوا : ”حقیقی مؤمن وہی ہیں کہ عہد کرکے پورا کرتے ہیں۔ “
یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ درس نظامی سے فارغ ہونے والوں کو قرانی آیات کیوں یاد نہیں رہتیں؟ اس لیے کہ اس نصاب میں قران فہمی کو بنیادی اہمیت ہی نہیں دی گئی ہے۔درس نظامی کے نظام و نصاب کو لادینی (Secular) قراردینا بظاہر غلط معلوم ہوتا ہے، لیکن عملی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ درس نظامی ہر اعتبار سے لادینی نصاب ہے جو ماضی کے لادین حکمرانوں نے محض حکومتی تقاضوں کو پورا کرنے اور سرکاری کلرک وغیرہ تیار کرنے کے لیے وضع کیا تھا۔اس کی ایک واضح شہادت یہ ہے کہ اس نصاب میں قران و حدیث کا جو حصہ شامل ہے وہ ا س سے بھی کہیں کم ہے جتنا کہ موجودہ لادین تعلیمی نصاب میں شامل ہے۔سورہ الانفال اور سورہ احزاب کا ترجمہ اور تفسیر میٹرک کے نصاب میں شامل ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد ‘ ارکان اسلام کی تشریح و تفصیل ‘ 10آیات اور 10احادیث کی تشریح ایف اے کے نصاب میں شامل ہے۔ اس کے برعکس درس نظامی میں صرف سورہ بقرہ کی تفسیر بیضاوی شامل ہے‘ وہ بھی صرف برکت کے لیے ۔ اس کے بالالتزام اور تحقیقی مطالعے سے درس نظامی کے مدرسین اور طلبہ دونوں ہی محروم رہتے ہیں۔
حدیث نبوی کے ساتھ درس نظامی میں جو سلوک کیاجاتا ہے وہ بھی نہایت افسوس ناک ہے ۔ ان مدارس میں حدیث کا مطالعہ نہیں بلکہ محض ”دورہ“ کرایا جاتا ہے۔حدیث صرف آخری برس میں پڑھائی جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ حدیث کی دس کتابوں کی تبرکاً ورق گردانی کے بعدسند فضیلت عطا کر دی جاتی ہے۔ایک برس میں ساری کتابوں کا پڑھنا ممکن ہی نہیں،حدیث کی دس کتب میں سے ہر کتاب جہازی سائز کے کم از کم سات سو صفحات پر مشتمل ہے؛جب کہ ”دورہ“ کا دورانیہ صرف نوماہ کا رکھا گیا ہے۔اتنے دنوں میں تو حدیث کی ان کتب کی ورق گردانی بھی ممکن نہیں۔ درس نظامی کے مدرسین بالعموم اور حدیث کے اساتذہ بالخصوص فروعی اور فرقہ وارانہ مسائل کی تفصیلات میں تو پوری توانائی خرچ کرتے ہیں لیکن اسلام کی بنیادی تعلیمات‘اس کے آفاقی اصول‘اس کے اجتماعی نظام اور اس کی روح کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔راقم الحروف کو بخوبی یاد ہے کہ ”بخاری“ کے درس کے دوران شیخ الحدیث صاحب نے ”رفع یدین“ کے رد میں 16 دن تک دھواں دار بحث فرمائی،لیکن بخاری شریف میں مزارعت ‘ تجارت ‘ معاملات ‘ جہاد اور معاشرتی مباحث شروع ہوئے، تو ایک طالب علم صرف عبارت پڑھتا جاتا تھا اور حضرت شیخ الحدیث آنکھیں بند کرکے سن لیتے تھے یا اگر نیند کا غلبہ ہوتا تو تکیہ لگا کر آرام بھی فرما لیتے تھے۔ان حقائق سے یہ امر واضح کرنا مقصود ہے کہ مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب دین کے اصل ماخذ قران وحدیث سے کس قدر عاری ہے۔ وہ نصاب جس میں قرآن و سنت کا تفصیلی اور تحقیقی مطالعہ ہی شامل نہ ہو،وہ کیسے دینی نصاب کہلا سکتا ہے !
مردہ لاشیں اٹھانے والے:
کمیو نسٹ انقلاب سے پہلے وسط ایشیا کی ریاستوں میں بھی قران وحدیث پڑھنے کا رواج نہ تھا ۔ اس کے بجائے وہاں کا ’مدرسہ‘ یونانی فلسفہ و منطق کے خبط میں مبتلا اور فقہی لاف زنیوں اور موشگافیوں میں غرق تھا۔ فلسفہ و منطق کی ان مردہ لاشوں نے نئی نسل کو قران و حدیث اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چشمہ صافی سے محروم رکھا۔ اس کے نتیجے میں علم کی حقیقی و پختہ بنیادیں مسمار ہو گئیں اور اخلاق و کردار ناپید ہوتا چلا گیا۔اس کی کوکھ سے علمائے سوءکی ایک ایسی کھیپ تیار ہوئی جس نے دین فروشی اور فتویٰ فروشی سے زروجواہرتو خوب سمیٹے مگردین کے لیے بدنامی کے سوا کچھ کما نہ سکے ۔ اب سوال یہ ہے ان لوگوں کو آج بھی مردہ لاشیں اٹھانے کا شوق اور زندہ علوم سے نفرت کیوں ہے؟جواب بہت سادہ ہے‘اللہ کے رسول نے جن نفوس کا تزکیہ فرما کر انہیں دنیا کا امام بنایا‘دنیا کی روحانی‘ اخلاقی اور تہذیبی قیادت کا اہل بنایا‘ان کی تعلیم و تربیت کی بنیاد قرانی تعلیمات اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھی۔سیدنا صدیق اکبر رحمہ اللہ اور حضرت عمر فاروق رحمہ اللہ کی سیرت ان ہی بنیادوں پر تعمیر ہوئی تھی جب کہ درس نظامی ان بنیادوں سے محروم ہے۔ تزکیہ نفس اور کردار سازی کے اصل ذرائع سے محروم رہ جانے والے لوگوں سے خدا پرستی‘حقیقت بینی‘اور باطنی بصیرت کی نعمت اللہ تعالیٰ چھین لیتا ہے اور ان میں بے شمار دوسری”پرستیوں“کامرض لاحق ہوجاتا ہے۔ان میں بت پرستی‘زرپرستی‘دنیاپرستی اوراسلاف پرستی جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
قرآ ن کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام تعلیم وتربیت چار ستونوں پر کھڑا ہے۔سورۃ بقرہ آیت129اور آیت151سورۃ آل عمران آیت164اور سورۃ جمعہ آیت2 میں اسلام کے اس نصاب کا تذکرہ ان ہی چار عنوانات کے تحت کیا گیا ہے:”درحقیقت اہل ایمان پراللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود ان ہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایاجو اس کی آیات انہیں سناتا ہےان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے ان کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے اوران کو حکمت سکھاتا ہے(آل عمران۔164)۔ “تعلیم وتربیت کی ان ہی چار بنیادوں سے درس نظامی کو محروم رکھا گیا ہے کہ جن کے بغیر قرآن کی رو سے انسان”کھلی گمراہی میں پڑا ہوا تھا“۔آئیے ایک نظر قرآنی نصاب کے چار بنیادی ارکان پر ڈالیں اور پھردرس نظامی کے نصاب کا جائزہ لیں:
۔ تلاوت آیات
۔تعلیم کتاب
۔تعلیم حکمت
۔تزکیہ
درس نظامی میں یہ چاروں اجزاءکہاں نظر آتے ہیں؟ تلاوت آیات کا تقاضا کسی حد تک تحفیظ کے اداروں میں نبھایا جاتا ہے، جن کا درس نظامی سے کوئی واسطہ نہیں۔درس نظامی کے مدارس میں آپ کو تلاوت آیات،تعلیم کتاب،تعلیم حکمت اور تزکیہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ اس کے برعکس اکابر پرستی اورماضی کے فرسودہ خیالات و مردہ افکار کی یلغار دکھائی دیتی ہے ۔ان مردہ افکار میں یونانی فلسفے اور منطق کو مرکزیت حاصل ہے ۔ ان ہی فرسودہ خیالات اور مردہ علوم نے مسلمانوں کو بھی مردہ بنا دیا ہے اوراندھی تقلید ان کا جزو ایمان بن گئی ہے۔جمود وتعطل کا گہن ان کی ذہنی صلاحیتوں کو چاٹ گیا ‘ ضد اور ہٹ دھرمی ان کا قومی نشان بن گئی ۔ ماضی پر اِترانا اور حال و مستقبل سے آنکھیں بند کرکے زندگی گزارنا نیکی‘تقویٰ اور بزرگی کی علامت ٹھہرا۔ سقوط بغداد سے لے کر سقوط اسپین تک اور ترکی میں خلافت عثمانیہ کے زوال سے سقوط ڈھاکہ تک مسلمانوں پر جتنی قیامتیں بھی ٹوٹیں‘اس کی بڑی ذمے داری ان ہی لاش برداروں‘عقل کے دشمنوں اور قران و حدیث سے انحراف کرنے والوں پر عاید ہوتی ہے۔
دو انتہاؤں کے بیچ کی جماعت
شاہ ولی اللہ، رحمہ اللہ مجدد الف ثانی اور مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے اس اکابر پرست گروہ کو مسلمانوں کے ایمان و کردار کی کمزوری‘علمی پس ماندگی‘معاشی زبوں حالی اور سیاسی عدم استحکام کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔مولانا ابوالکلام جدید ترکی کے دین سے بے زار ہونے کی وجوہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
” مغربی تمدن کی اشاعت نے مشرق میں سخت کشمکش پیدا کر دی ہے۔ایک طرف قدیم افکار ہیں‘ دوسری طرف جدید اصول‘یہی کشمکش عالم اسلام میں بھی جاری ہے۔اس سے تین جماعتیں پیدا ہو گئی ہیں ۔ ایک جماعت قدیم سکول کی ہے جو اپنے تمام تقلیدی رسومات و خیالات پرسختی کے ساتھ جمی ہوئی ہے‘ کسی طرح کی لچک اور حرکت اس میں نہیں پائی جاتی ۔ دوسری جماعت نئی نسل کی ہے۔اس نے مغربی تمدن کی ہوا میں پرورش پائی ہے‘لیکن اسلامی تعلیم و آداب سے بے بہرہ ہے‘ وہ متعصب اور جامد علماءاور عوام الناس کے عقائد و رسوم کو ہی اسلام سمجھتی ہے اور انہیں ترقی میں مانع دیکھ کر متوحش اور مضطرب ہو گئی ہے۔ تیسری جماعت معتدل فکر و نظر کی ہے‘یہ ان دونوں کناروں کے وسط میں ہے۔یہ نہ پہلی جماعت کی طرح تقلید میں جمی ہوئی ہے‘نہ دوسری کی طرح مغربی سیلاب میں بہہ گئی ہے۔اس کا اعتقاد یہ ہے کہ مغربی تمدن کی تمام خوبیاں حاصل کی جا سکتی ہیں‘ بغیر اس کے کہ اسلام کی حقیقی اور خالص روح کو نقصان پہنچایا جائے۔ بدقسمتی سے ترکی میں صرف پہلی دو جماعتیں پائی جاتی ہیں ‘ تیسری جماعت مفقود ہے ‘ میرے خیال میں ساری دقتیں اور مشکلات اسی کا نتیجہ ہیں ۔ “ (تبرکاتِ آزاد،مرتبہ غلام رسول مہر )
شاہ ولی اللہ کے نزدیک امت مسلمہ کا بگاڑ ‘ فساد اور زوال کا بنیادی سبب قرآنی تعلیمات سے انحراف اور سنت کا ترک کرنا تھا۔چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی قرآنی تعلیمات کو پھیلانے اور حدیث نبوی کی اشاعت کے لیے وقف کیے رکھی ۔ ان کے چار فرزندوں شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ ‘ شاہ رفیع الدین رحمہ اللہ ‘شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ اور شاہ عبدالغنی رحمہ اللہ نے اس تحریک کو آگے بڑھایا ۔سید احمد شہید رحمہ اللہ اور شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی تحریک مجاہدین نے اسی عظیم تحریک کی اپنے پاک لہو سے آبیاری کی۔دارالعلوم دیوبند کے بزرگوں میں سے شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن نے حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی تحریک”رجوع الی القران“کو دوبارہ زندہ کیا۔مالٹا میں قیدوبند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد رہا ہوئے تو دق جیسے مہلک مرض میں مبتلا تھے۔اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں:
” میں جیل کی تنہائیوں میں غور وفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمانوں کے زوال کا حقیقی اور اصل سبب قرآن کریم کی تعلیمات سے انحراف ہے۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ زندگی کے باقی ماندہ ایام میں دیہات میں قرآنی مدارس قائم کروں گا جہاں بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دی جائے گی اور نوجوانوں کے لیے قرآن کے ترجمے اور تفسیر کا نصاب مرتب کروں گا۔“
پس چہ باید کرد؟:
درس نظامی کے منتظمین نے نہ اسلامی علوم کے اصل سرچشموں ‘ قرآن کریم اور حدیث نبوی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ‘ آج امت مسلمہ اسی جرم کی سزا بھگت رہی ہے۔ کم وبیش تین صدیوں سے سامراجی طاقتوں کی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے ۔ اسلامی ممالک وسائل سے معمور ہونے کے باوجود اذیت ناک غربت و افلاس کے عفریت کے پنجوں میں دبے ہوئے کراہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے بارے میں فرمایا تھا کہ انہوں نے جب احکام خداوندی سے روگردانی کی تو ان پر غربت ‘مسکنت‘ذلت و رسوائی کا عذاب مسلط کر دیاگیا۔آج امت مسلمہ اسی آیت کی مصداق بن چکی ہے۔ 1857ءسے 1947ءتک برصغیر ہند کے مسلمانوں کی گردنوں میں صرف ایک سامراجی طاقت کا طوقِ غلامی پڑا ہواتھا۔ آج تین سامراجی طاقتوں نے بیک وقت پاکستان کو اپنے قدموں میں گرا کر دبوچ رکھا ہے۔اس صورت حال کی بڑی ذمے داری مردہ علوم کی لاشیں اٹھانے والے علماءسو پرعاید ہوتی ہے۔انہیں خو د سے پوچھنا چاہیے کہ ان کے دعوے کے مطابق پاکستان میں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے،تو ان بحرانوں میں امت کی ان لاکھوں”علماء“سے کیا امیدپوری ہوئی؟ان سے کیا گلہ کریں کہ مردہ علوم مردہ ضمیر ہی کو جنم دے سکتے ہیں۔انہیں ہنر ہی یہ سکھایا گیا ہے کہ اسلام کا نام لے کرپیٹ کے دھندے میں مصروف رہیں اوردین کی بدنامی کا سبب بنتے رہیں۔ان کے بوسیدہ نظام تعلیم و تربیت سے نجات کی ایک ہی صورت ہے کہ درس نظامی کی سیکو لر بنیادیں منہدم کر کے دینی نصاب کو ان بنیادی اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے مرتب کیا جائے جو حضر ت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ، شیخ الہندرحمہ اللہ اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی روشن فکر کے مطابق ہو اور ان کے علمی ذخیرے سے استفادے پر مبنی ہو۔منطق و فلسفے کے مردہ پشتارے کو دریا برد کر کے نئے نصاب میں دین کے اصل ماخذ قرآن‘حدیث نبوی‘سیرت رسول‘عربی ادب اور عربی قواعدکی کتب شامل کی جائیں۔ کیوں کہ قرآن ہی وہ کتاب ہے ‘ جس کے سمجھنے سے ایمان نکھرتا اور بڑھتا ہے ، سیرت وکردار میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے‘جس سے حکمت ودانش کی راہیں کھلتی ہیں‘اظہار وبیان کے نئے اسلوب سامنے آتے ہیں اور آفاق وانفس کے دلائل سے دین کی ابدی سچائیوں کو ثابت کرنے کی صلاحیتیں فروغ پاتی ہیں‘جس سے ایمان کی روشنی پھیلتی اور کفروشرک کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں۔قرآن کریم کا نور عام کرنے کی ضرورت ہے ۔
( بشکریہ ماہنامہ جہادِ کشمیر، بابت ماہِ اگست 2009ء)

Advertisements
This entry was posted in کاپی پیسٹ. Bookmark the permalink.

36 Responses to درس نظامی ۔۔ماضی،حال اور مستقبل

  1. UncleTom نے کہا:

    مصروفیت سے فراغت کے بعد میں انشااللہ ثبوتوں کے ساتھ اس مضمون کے بارے میں لکھوں گا ، یہ میرا وعدہ ہے ۔ اور مضمون نگار نے جو غلط بیانی سے کام لیا ہے وہ بھی عوام کے سامنے واضح ہو گا ۔ انشااللہ ۔

  2. Darvesh Khurasani نے کہا:

    السلام علیکم
    انکل ٹام دوست ۔ میرے خیال میں فکر پاکستان نے بجائے خود درس نظامی کا مطالعہ کرنے کے ان مکالمات اور مضامین کو پڑھا ہے جو کہ درس نظامی کے ڈھانے اور درس نظامی کیلئے میٹھے زہر کا کام انجام دینے والے ہیں۔

    مضمون میں نے بھی پڑھا اور اس کی کم فہمی صاف عیاں ہے ۔

    صاحب مضمون چاہتا ہے کہ پاکستان میں موجود علامء کرام کو ایٹم بم مار کر ختم کیا جائے لیکن افسوس ایسا ناممکن ہے۔

    میرا دوستوں کو مشورہ ہے کہ یہ فکر پاکستان صاحب نہیں ماننے والا ۔

    تو کیوں اسکے ساتھ مغز کھپایا جائے۔

    فکر پاکستان صاحب نہ تو خود تعمیری کام کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو کام کرنے کیلئے چھوڑتا ہے۔

    لھذا چھوڑو اسکو ۔ جو کہنا ہے یہ کہے۔

    مضمون میں کیا لکھا ہے اور حقیقت کیا ہے سب کو معلوم ہے۔ لھذا مغز کھپانے سے کیا فائدہ؟

  3. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انکل ٹوم کیوں وقت ضائع کرتے ہیں بھائی۔

  4. بنیاد پرست نے کہا:

    حقیقت میں یہ مضمون درس نظامی کے طریقہ کار سے جاہل ایک مجہول و متعصب شخص کا محض الفاظ کا ایک گورکھ دندہ ہے اور صرف درس نظامی سے ناواقف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اور فکر پاکستان جیسے نام نہاد روشن خیال لوگوں کے لیے اعتراض کا ایک حیلہ ہے۔ اس اعتراضی آرٹیکل کی حقیقت درس نظامی کے متعلق تھوڑا سا علم رکھنے والا بھی آرام سے سمجھ سکتا ہے۔ ہمارے بہت سے علما نے ایسے اٹھنے والے اعتراضات کا بہت دفعہ جواب دیا ہے ، میں صرف دو لنک پیش کردیتا ہوں۔

    درس نظامی پر اشکالات کا جواب
    http://banuri.edu.pk/ur/node/347

    ہندوستان میں مسلمانوں کا نصاب تعلیم

    http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/03-Hindustan%20me%20Musalmano_MDU_05_May_10.htm

  5. قاسم نے کہا:

    صحیح کہرے جی آپ لوگ ان کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے،خود بھی کوئی مثبت کام کرنا نہیں چاہتے اور دوسروں کو بھی نہیں کرنا دینے چاہتے لگے رہو عقل کے کھوتو

  6. fikrepakistan نے کہا:

    بنیاد پرست بھائی اس میں اتنا خفا ہونے والی کوئی بھی بات نہیں ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کے یہ جو موصوف نے درس نظامی سے مطعلق لکھا ہے وہ سب لغو اور بےبنیاد ہے تو جواب میں آپ جو وہ سب تحریر کر دیں جو ہوتا ہے درس نظامی میں، اور آپکے ہمنواوء میں کچھہ دوست جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بھی ہیں انہیں میرا مشورہ ہے کے وہ زرا اپنے سب سے بڑے رہنما مودودی صاحب کی کتابوں کا بھی مطالعہ کر لیں کے انکی کیا رائے ہے درس نظامی سے متعلق، مودودی صاحب خود سب سے بڑے ناقد رہے ہیں درس نظامی کے، کسی اور کی کہی ہوئی بات تو انہیں سمجھہ نہیں آتی لیکن مودودی صاحب کی بات یقیناَ انہیں سمجھہ میں آجائے گی۔

  7. ABDULLAH نے کہا:

    ٹام وضاحت سے لکھنے کی کیا ضرورت ہے تم جیسوں کی زہنیتیں ، سوچ کا گھٹا ہوا انداز ،اپنے علاوہ سب کوواجب القتل سمجھنا،یہ چلا چلا کر اس مضمون کے ایک ایک لفظ کے حق اور سچ ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

  8. UncleTom نے کہا:

    عبداللہ فاشسٹ ، میرا ایک کمنٹ دکھا دو جہاں میں نے اپنے علاوہ کسی کو واجب القتل لکھا ہو ، ورنہ لعنۃ اللہ علیٰ الکاذبین کا طوق گلے میں ڈال کر اپنی روشن خیال نرگس آپا کے ساتھ ناچ کرو ۔ اس کمنٹ سے ہی تمہاری گھٹیا سوچ واضح ہوتی ہے کہ تم اپنے مخالف کا جوابی مضمون پڑھنے کی بھی ہمت نہیں رکھتے ۔

  9. ABDULLAH نے کہا:

    ٹامی ،
    ذرا آنکھیں کھولکردیکھو میں نے لکھا ہےتم جیسے لوگ ،
    اور اس تازہ ترین مثال یہ تم جیسے ایک شخص کا تبصرہ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تم ہی ہو جو نام بدل بدل کر اپنے مطلب کے تبصرے کررہے ہو تاکہ اپنے جیسے تاریک ذہنوں کی تعداد زیادہ دکھا سکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
    http://dosrarukh.com/2011/04/09/deeni-taleem-mustaqbil-beeni/

    ایسے بے شمار تبصرے تمھیں اس اردو بلاگستان میں مل جائیں گے اپنے ہم خیال لوگوں کے

  10. UncleTom نے کہا:

    عبداللہ صاحب آپ بحث کو دوسری طرف لے کر جا رہے ہیں، بہرحال درویش خراسانی میں نہیں ہوں وہ کوی اور صاحب ہیں اور انکا اپنا الگ بلاگ ہے ۔ میں نے وہاں ایک کمنٹ کیا تھا جس میں دو الفاظ لکھ کر ایک اس بلاگ کا اور ایک اپنے بلاگ کا لنک دیا تھا جو وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے (جو مجھے اب پتا چلا) بہرحال اگر آپ کو شک ہے تو ضرور آی پی نکلوائیں اور ثابت کریں کہ یہ میں ہوں۔

    دوسرا آپ نے مجھ جیسے لوگوں کا لفظ استعمال کر کے مجھے ایسے لوگوں میں شامل کر دیا جو اپنے علاوہ باقی سب کو کافر سمجھتے ہیں جبکہ میں ایسے کسی گروہ کا حصہ نہیں ہو ، پھر بھی آپ کی بات جھوٹی ہی ہوی ۔ اور میرا کمنٹ باقی ہے ۔

    تیسری بات ، درویش صاحب نے مرتد کو واجب القتل کہا ہے ، قادیانی مرتد ہیں یا نہیں لیکن مرتد کی سزا قاجب القتل ہی ہے جس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے ۔ ہاں اسکے احکامات اور طریقہ کار کیا ہے یہ جاننا بھی ضروری ہے ۔

  11. UncleTom نے کہا:

    عبداللہ صاحب آنٹی عنیقہ کے بلاگ پر جو نام بدل کر تبصرے کرتا ہے کیا میں یہ شور مچاوں کہ وہ آپ ہی ہیں ؟؟؟

  12. Darvesh Khurasani نے کہا:

    جناب دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ عبداللہ نے جو انکل ٹام سے کہا ہے کہ تم درویش خُراسانی ہو۔ تو یہ بات غلط ہے۔

    میرا تعلق صوبہ خیبر پختون خواہ سے ہے ۔ اور حالا پشاور میں مقیم ہوں۔

    اس عبد اللہ کی مت ماری گئی ہے۔ اس کو بلاگ (انکل ٹام سے انکل سام )پر عمران اقبال پر بے عزت کیا ۔

    پھر دوسرا رخ ۔کام پر میں نے بھی اسکو (وہ والا سلام) کیا ہے۔ اور اگر موڈیریٹر نے میرے کمنٹس شائع کردئے وہاں تو آپ لوگ بھی دیکھ سکیں گے۔

    اور اس بیچارے تو تیسری بار انکل ٹام نے جھاڑ پلا دی۔

    بس کیا کریں ،ناسمجھ ہے بے چارہ۔ مجھے تو لگتا ہے کوئی چھوٹا بچہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔

    • ABDULLAH نے کہا:

      لو انہوں نے تمھارے تبصرے چھاپ دیئے ہیں!
      جنہیں پڑھ کر مجھے بے حد ہنسی آئی،کہ کس قدر بچکانہ جوابات ہیں ،
      جیسے بچے سامنے والےسے لاجواب ہوکر کہتے ہیں نا کہ آئندہ مجھ سے بات نہ کرنا،تاکہ بار بار کی بے عزتی سے بچ سکیں،
      یار ایسے جاہلانہ تبصروں سے تو بہتر تھا کہ تم خاموش ہی رہتے شائد کچھ عزت رہ جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
      🙂

  13. ABDULLAH نے کہا:

    چلو مان لیا کہ تم دو الگ الگ لوگ ہو،
    تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے سوچ مین تو قریب تر ہی ہونا!
    اور یہ جھاڑ پلادی ،مت ماری گئی ،یہ کیا بڑوں جیسی باتیں ہیں، احمق؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    بے عزت تو وہ کریں گے جن کی خود کوئی عزت ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    ویسے میری لکھی باتیں بڑی زور سے لگی ہیں صاف صاف پتہ چل رہا ہے!
    🙂

  14. UncleTom نے کہا:

    عبداللہ صاحب میرا نظریہ واضح ہے ، جو اپنے علاوہ دوسروں کو واجب القتل سمجھتا ہے وہ آپکا ہم خیال ہو سکتا ہے میرا نہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد پر بمب برساو اور برقع والیوں کو جلاو اور مولویوں کو لاین میں کھڑا کر کے گولی مار دو تو کیا میں بھی آپکو اس گروہ میں شامل کر کے روشن خیال جلاد کہا کروں؟َ؟؟

  15. پاکستانی قوم میں چند لوگ ایسے ہیں جو کبھی نہیں سدھریں گے۔ جن کا کام ہی یہ ہے کہ شکاری کی طرح ہر راہ چلتے راہگیر غرانا ہے۔

  16. فکر پاکستان صاحب! آپ اپنی پوسٹ سبنھالیں۔ ہم چلتے ہیں۔ بحث و مباحثہ کے لئیے مناسب ماحول اور تحمل چاہئیے۔ بہت ممکن ہے مجھ سے ہی کوئی ایسی بات ہوجائے جو معیوب ہو جو مجھے گوارا نہیں۔ اسلئیے اللہ حافظ۔

  17. ABDULLAH نے کہا:

    بہانہ اچھا ہے،جب کوئی بات نہ بن پڑے تو لوگ ایسے ہی دم دبا کر بھاگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
    🙂

  18. Darvesh Khurasani نے کہا:

    عبد اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری طرف سے آپکو (سلام) کیونکہ قران مجید کا حکم ہی یہی ہے۔

    جو چاہے کہو۔ لگے رہو تم اور فکر پاکستان صاحب

    • fikrepakistan نے کہا:

      غیر شائستہ گفتگو کرنے سے مضمون کا مغز جاتا رہتا ہے، تمام لوگوں سے گزارش ہے کے معاملے کو سیکھنے سکھانے کی حد تک ہی رکھیں ذاتی انا کا مسلہ نہ بنائیں، ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے کسی کو کچھہ بھی سیکھنے کے لئیے نہیں ملے گا۔ اگر نیت سیکھنے سکھانے کی ہے تو ذاتیات پر حملے کرنے کے بجائے دلیل سے بات کی جائے،

      • Abdullah نے کہا:

        بھیا جب لوگوں کے پاس جوابی دلائل نہ ہوں تو پھر وہ کیا کریں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  19. بنیاد پرست نے کہا:

    فکر پاکستان بھائی ،میں کیوں خفا ہوگا، ہاں مجھے اس مضمون نگار کی منافقت پر غصہ آگیا تھا۔ جیسے عبد الشیطان کی باتوں پر دوستوں کو غصہ آجاتا ہے۔

    دوست اس بارہ سنگے کی وجہ سے اپنا موڈ خراب کرنے کے بجائے اسے اگنور کردیا کریں۔ یہ بے چارہ مجبور ہے ۔ہر جگہ سر پھنسانا اور پھر مار کھانا ، بے عزت ہونا اس کی عادت بن چکی ہے ۔ کوئ کيا کرسکتا ہے جب کِسی کو کِسی بھی چيز کی ايسے عادت ہو جاۓ ، جو کِسی بھی حال ميں چُھڑاۓ نا چُھٹے۔

  20. Jmal نے کہا:

    Beautiful article! I totally agree with it

  21. آج کی دنيا ميں رواج ہے کہ کتاب پڑھنے کی بجائے کتاب پر تبصرہ پڑھ کے بحث شروع کی جاتی ہے ۔ درس نظامی نہ تو دين اسلام ہے اور نہ ہی بے دين ۔ نظام جسے انگريزی ميں منيجمنٹ کہتے ہيں کا نصاب ہے جسے درس نظامی کہا جاتا ہے ۔ جس زمانہ ميں يہ ترتيب ديا گيا اس کا مقصد شہر کی منيجمنٹ اور عدليہ کو اسلامی شرع سے روشناس کرانا تھا ۔ اس کی خامی يہ ہے کہ کئی صديوں سے اس پر نظرِ ثانی نہيں کی گئی ۔ اس کی ذمہ داری حکمرانوں کی ہوتی ہے جو اسلام سے زيادہ اپنی پسند پر چلتے آئے ہيں ۔ اسی لئے اس پر نظرِ ثانی کرنا کسی نے پسند نہ کيا ۔ درس نظامی ميں جو کچھ پڑھايا جاتا ہے وہ درست طريقہ سے ہی پڑھايا جاتا ہے بشرطيکہ مدرسہ منظور شدہ ہو ۔ بعد ميں اگر کوئی بھلا ديتا ہے تو اس ميں اس نصاب کا کوئی قصور نہيں ۔ يہ جو لوگ بڑھ چڑھ کر درس نظامی کے خلاف لکھ رہے ہيں ان ميں سے کتنے ہيں جنہوں نے درس نظامی کا نصاب ديکھا ہے ؟ اسے بھی چھوڑيئے ۔ کتنے ہيں جنہوں نے قرآن شريف معنی سمجھ کر پڑھا ہے ؟ مگر سب سينے پر ہاتھ مار کر کہيں گے کہ ان جيسا مسلمان کوئی پيدا نہيں ہوا سوائے ان کے جنہيں وہ پسند کرتے ہيں

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب، آپکی بات کا جواب آپکی تحریر میں ہی ہے، جس زمانے میں یہ نصاب ترتیب دیا گیا تھا اس وقت کے زمینی حقائق اور آج کے زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق آچکا ہے، جس طرح سے درس نظامی کو ہی مکمل دین بتایا جاتا ہے تو زرا یہ بھی بتادیا جائے کہ درس نظامی ہی اگر مکمل دین ہے تو پھر یہ دنیا کے کتنے اسلامی ممالگ میں نافظ ہے؟ بہتر یہ ہی ہے کہ اسے عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ورنہ آہستہ آہستہ یہ اپنی افادیت کھو دیگا۔

    • فانی نے کہا:

      بہت خوب جناب۔۔۔۔۔۔ یہی حقیقتِ حال ہے اور بس۔۔۔۔۔ اور میں نے رودِ کوثر خود دیکھی ہے، اس سے صرف مقصد کی بات لی گئی ہے ، باقی حضرات کے تبصرے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔

  22. UncleTom نے کہا:

    اچھا فکر پاکستان صاحب آپ بتلائیں کہ آپ کے خیال سے اس میں کیا تبدیلیاں ہونی چاہیے ، اور یہ بھی بتائیے گا کہ آپ اس مضمون کے علاوہ درس نظامی کے بارے میں کیا کیا جانتے ہیں اور ذاتی طور پر کتنے علماء سے آپ نے اس موضوع اور دیگر دینی موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے ، اور یہ بھی بتائیے گا کہ آپ مہینے میں کتنی دفعہ علماء سے کسی بھی موضوع پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں ۔

  23. بنیاد پرست نے کہا:

    انکل ٹام صاحب آپ ہر دفعہ مفکر پاکستان صاحب کی گستاخی کرجاتے ہیں، اسی لیے جناب نے پچھلا تھریڈ آپ کے نام پر بنا کر آپ کو مزا چکھانے کی کوشش کی تھی، بدقسمتی سے کام الٹ ہوگیا، آپ آئندہ ان سے کسی عالم سے ملنے، بات چیت کرنے کا نہ کہیں اور نہ پوچھیں ، یہ خود بہت بڑے عالم دین ہیں یہ اور بات ہے کہ درس نظامی میں شامل کسی کتاب کا کبھی مطالعہ تو دور کی بات صرف و نحو کی کتابوں کا نام تک نہیں جانتے۔

    آپکی خواہ مخواہ تحقیق کرنے پر زور دے رہے ہیں ، سبھوں کو پتا ہونا چاہیے کہ کسی پر اعتراض کرنے سے پہلے تحقیق کر لینا انکا شعبہ نہیں، تحقیق وہ کرے جس نے حق تک پہنچنا ہو، جبکہ جناب کا ایسا کوئی پروگرام نہیں، موصوف صرف چسکے لینے اور مذہبی طبقہ کو ذلیل کرنے کے مشن پر ہیں ، اسی لیے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پچھلے دھاگے میں انکے سارے سوالوں اور اشکالات کے بہت معقول جوابات دے دیے گئے تھے، جب انکے پاس اپنی ضد پر جمنے کی کوئی وجہ نہ رہی تو انہوں نے اپنے مفتی گوگل صاحب سے مدد لی اور کسی اپنے جیسے کا ایک آرٹیکل کاپی پیسٹ کرکے اپنی ناک اونچی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جناب کی ان تمام باتوں کے پچھلے تھریڈ میں بہت اچھے جوابات دیے جاچکے ہیں، جناب نے دوبارہ علیحدہ سے پوسٹ کرکے نئے سرے سے اس موضوع پر بحث شروع کردی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مزید ان کے ساتھ ٹائم ضائع کرنا بے و قوفی ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      بنیاد پرست بھائی اور انکل ٹام بھائی، آپ دونوں میرے نزدیک بہت زیادہ قابل احترام ہیں، آپ کے یہ سوال جواب آپکی دین اسلام سے محبت کا ثبوت ہیں، بے شک کے ہر مسلمان کو اپنے دین سے اس ہی طرح مخلص ہونا چاہیئے، مجھے آپکے جذبے آپکی نیت پر زرا بھی شک نہیں ہے، دنیا کا کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہوگا جسے دین اسلام سے کوئی شکایت ہو، شکایت تو ان لوگوں سے ہے جن لوگوں نے اسے پہلے دین سے مذہب میں تبدیل کیا پھر فرقوں اور مسلکوں میں بانٹ کے رکھہ دیا۔ میرے بھائی نے سوال کیا ہے کے میں کتنے علماء اکرام سے ملتا ہوں تو میں نے تو درس نظامی سے فارغ ہونے والے علامہ احسان صاحب کا حوالہ بھی دیا اور انکا فون نمبر بھی دیا تھا کہ ایسے حضرات خود معترض ہیں اس نظام کے اور ایسے حضرات دن رات کوشش میں لگے ہوئے ہیں کے کسی طرح سے اس نظام کو عصر حاضر سے ہم آہنگ کیا جائے، ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم ہر بات کو انا کا مسلہ بنا لیتے ہیں اور حقیقت کو ماننے کے بجائے اختلاف برائے اختلاف کے پہلو تلاشتے ہیں، آپ دونوں کے ساتھہ ایک دن پہلے تک جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے بھی اس نظام کے حق میں دلائل دے رہے تھے لیکن جیسے ہی میں نے انہیں مودودی صاحب کا حوالہ دیا وہ منظر سے غائب ہوگئے۔ ہمارا مسلہ ہی یہ ہے کے ہم دوسرے کی بات نہیں ماننا چاہتے ہاں اگر وہ ہی بات ہمارے فرقے کے یا ہمارے مسلک کے کوئی صاحب کہہ دیں گے تو ہم آنکھہ بند کر کے ایمان لے آئیں گے کے ہاں اب ٹھیک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کے ہمیں اپنی یہ ذہنیت بدلنی ہوگی، اور ایک بات کہ اگر حق اور سچ کی تلاش ہے تو غیر جانبدار ہونا ہوگا، کسی مسلک کسی فرقے سے جڑے ہوئے آپ کبھی بھی حق تک نہیں پہنچ پائیں گے کیوں کے یہ المیہ ہے ہمارا کے یہاں دین کی نہیں اپنے اپنے فرقوں کے خدمت کی جارہی ہے۔ میری ذات سے آپکو اگر کوئی تکلیف پہنچی ہو تو میں معافی کا طلبگار ہوں، میرا مقصد اور میری نیت آپ سے مختلف نہیں ہے یہ میرا اللہ جانتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کے آپ کسی مخصوص فرقے یا کسی مخصوص مسلک سے وابسطہ ہو کر معاملات کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور میں ان سب معاملات سے بالاتر ہوکر سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کیوں کے میرا ایمان ہے کہ حق جاننے کے لئیے غیر جانبدار ہونا ہی ہوگا ورنہ ہوتا یہ ہے کے اپنے مسلک کی محبت میں ہم کہیں نہ کہیں غلط کو بھی صحیح ماننے پر تیار ہوجاتے ہیں۔

  24. عمران اقبال نے کہا:

    انکل ٹام اور درویش بھاءی۔۔۔ فکر پاکستان کی نیت پر مجھے شک نہیں۔۔۔ اور وہ کچھ بہتری ہی چاہتے ہیں۔۔۔ لیکن بات وہیں پر اٹک چکی ہے۔۔۔ کہ میں نا مانوں۔۔۔

    جہاں تک بات ہے عبداللہ کی۔۔۔ تو یارو۔۔۔ اس کے منہ متھے لگنے سے بہتر ہے۔۔۔ کہ بندہ بارہ سنگھے کے تکے کباب کھا لے۔۔۔ بے شک بڑے ہی لذیذ ہوتے ہیں۔۔۔

    اب میں اتنا عالم فاضل نہیں ہوں۔۔۔ مجھے یقینا ًررس نظامیً کا مطلب تک نہیں پتا۔۔۔ میں تو اسلام کو بہت سادہ رکھنے والا بندہ ہوں۔۔۔ نماز پڑھنے کا حکم ہے تو نماز پڑھو۔۔۔ اور جیسے حدیث اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔۔۔ ویسے پڑھو۔۔۔ جھوٹ مت بولو، زنا نہیں کرو۔۔۔ چغلی اور غیبت سے بچو۔۔۔ والدین کی خدمت کرو۔۔۔ چھوٹوں سے شفقت سے پیش آو۔۔۔ اور اس طرح کے نہایت واضح اور سادہ احکامات۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

    اب اسے درس نظامی جیسے مشکل الفاظ اور طریقوں کے ذریعے مشکل نا بناءیں۔۔۔ خدارا۔۔۔ ہمارا درس نظامی قرآن ہے اور اسے ہی ہونا چاہیے۔۔۔ صحیح حدیثوں کی پیروی کریں۔۔۔ تو دنیا میں کچھ مشکل نہیں۔۔۔ زندگی بھی بن جاءے گی اور آخرت بھی۔۔۔

    Keep it simple guys… dont make Islam complicated…

  25. Abdullah نے کہا:

    درس نظامی اگر اتنا ہی اعلی و ارفع ہے تو اس سے فارغ التحصیل ہونے والو ں میں ہمیں ابوبکر و عمر کی خصوصیات کیوں نظر نہیں آتیں؟؟؟؟؟؟؟؟

    • فانی نے کہا:

      سارے صحابہ عمر اور ابوبکر نہ تھے۔۔۔۔۔۔ اسی درسِ نظامی نے اس دنیا کو مفکر بھی دیئے، فقیہ بھی دیئے اور مبلغ بھی دیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ پھر بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s