جھوٹی تاویلوں کے سہارئے کب تک؟


اکثر میرے حلقہ احباب میں یہ بحث چھڑی رہتی ہے کے آج مسلمان علم و ترقی میں اتنا پیچھے کیوں ہیں اور کفار علم و ترقی میں اتنا آگے کیوں ہیں؟ میرے حلقہ احباب میں کثیر تعداد ایسے دوستوں کی ہے جو کسی بھی بات کا حوالہ یوں دیتے ہیں، پرسوں ہی مولوی صاحب بتا رہے تھے کہ۔۔۔۔۔۔ ابھی جمعرات کو میں نے خطاب میں سنا مولانا صاحب فرما رہے تھے کہ۔۔۔۔۔۔ علماء حضرات بتاتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔ ابھی پچھلے جمعہ کو میں نے وعظ میں سنا کے۔۔۔۔۔۔۔.
میں نے ان کے منہ سے کبھی بھی یہ نہیں سنا کہ میں نے فلاں کتاب میں پڑھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔ میں نے قرآن میں پڑھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔ میں نے حدیث میں پڑھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔ میں نے تحقیق کی اور اس نتیجے پر پہنچا کے۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہمارے وہ رویے ہیں جنکی وجہ سے ہم اسلام کی صحیح تشریحات سے محروم ہوتے چلے گئے، دین کو مولوی حضرات پر چھوڑ دیا، پھر جیسا مولوی حضرات نے اپنے مسلک یا اپنے فرقے کے تحت تشریح کر کے بتائی تو ہم نے اسے ہی دین سمجھہ لیا، جبکہ حقیقت اس سے بہت مختلف ہے، میں سب سے یہ ہی کہتا ہوں کے اگر حق اور سچ تک پہنچنا ہے تو خود پڑھنے کی عادت ڈالو خود سے تحقیق کرو مسلک اور فرقہ پرستی سے بالاتر ہوکر معاملات کو پرکھنے کی کوشش کرو انشاءاللہ معاملات سمجھہ میں آنے لگیں گے۔
تحریر کے ابتدائی سوال کی طرف چلتے ہیں کہ آج مسلمان علم و ترقی میں اتنا پیچھے کیوں ہیں اور کفار علم و ترقی میں اتنا آگے کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب میرے وہ احباب کچھہ اسطرح دیتے ہیں کے کیوں کے کفار کا جنت میں کوئی حصہ نہیں رکھا گیا ہے اسلئیے انہیں دنیا میں ہی ہر نعمت سے نواز دیا گیا ہے، اللہ کی طرف سے انکے اچھے اعمال کا اجر انہیں دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے، دنیا مسلمان کے لئیے سرائے خانہ ہے اسلئیے مسلمان کے لئیے دنیا میں سختی رکھی گئی ہے مسلمان کے لئیے آخرت میں ابدی راحت رکھی گئی ہے, اب مجھے قارئین کو یہ بتانے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے کے یہ جواب وہ پڑھہ کر دیتے ہیں یا مولوی حضرات سے سنکر دیتے ہیں۔
گو کے میں انکی اس تاویل سے ایک فیصد بھی متفق نہیں ہوتا، وقتی طور پر مان بھی لیا جائے کے انکی یہ تاویل درست ہے تو میرے ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے کہ آج سے تقریباَ پانچ چھہ سو سال پہلے تک دنیا میں قوموں کی حالت کیا تھی؟ مسلمانوں کی سلطنت عثمانیہ آدھی سے زیادہ دنیا پر راج کر رہی تھی، یہ وہ دور تھا جب دنیا بھر سے غیر مسلم مسلمانوں سے علم و ادب سیکھنے کے لئیے اسپین آیا کرتے تھے، یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبہ ہوا تھا، انسانیت، طریقت، طہارت، صفائی ستھرائی، معاشرتی نظام، انسانی حقوق، معاشی نظام، تعلیم و نصاب، سائنس و تحقیق سے نا بلد تھے، مفلسی کا دور دورہ تھا، غرض جو جو بھی عناصر کسی معاشرے کو مہذب بناتے ہیں یورپ ان سب عناصر سے ناآشنہ تھا، سو سو سال تک آپس میں جنگیں لڑی ہیں ان لوگوں نے، جبکہ اس وقت مسلم معاشرہ ایک آئیڈیل معاشرہ کہلاتا تھا۔
میری سمجھہ میں یہ بات نہیں آتی کے اگر میں اپنے دوستوں کی یہ تاویل مان بھی لوں تو پھر مسلمانوں اور کفار کے اس پیریڈ کو کہاں لے جاوں؟ اگر کفار کو دنیا میں ہی سب کچھہ ملنا ہے تو پھر مسلمانوں کے دور عروج کے وقت جو کفار کی ابتر حالت تھی اسے ہم کہاں رکھیں؟ انہیں اس وقت دنیا میں سب کچھہ کیوں نہیں ملا؟ اور اگر مسلمانوں کو سب کچھہ آخرت میں ہی ملنا ہے تو پھر مسلمانوں کے دور عروج میں دنیا کی ہر نعمت مسلمانوں کے تابع کیوں تھی؟۔
اب یہ سارا معاملہ الٹا کیسے ہوگیا؟ کیا کیا عناصر تھے اسکے الٹا ہونے میں یہ ایک بڑی لمبی بحث ہے جسے لوگ دل سے مانتے تو ہیں مگر زبان سے اقرار نہیں کرتے کیوں کے اس اقرار کے پیچھے مسلمانوں کی آپس کی لڑائیاں ہیں، غداریاں ہیں، علم و تحقیق سے دوری ہے، دین کو مذہب میں تبدیل کرنےکا عمل ہے، فرقہ پرستی اور مسلک پرستی کے نام پر اپنی اپنی ڈیڑھہ انچ کی الگ مسجدیں بنانے جیسے گھنوونے عوامل ہیں، عبادات کو محض ثواب کا زریعہ بنانا ہے، نیکی محض جنت کی لالچ میں کرنے کا عمل ہے، خود غرضی ہے، دین کی غلط تشریحات ہیں، اور سینکڑوں عوامل ہیں جن سے ہم چشم پوشی کرتے ہیں اور اپنی ان سب ناہنجاریوں کو چھپانے کے لئیے طرح طرح کی تاویلیں گھڑتے ہیں اور حقیقت سے منہ چھپاتے ہیں۔
میری ناقص عقل کے مطابق میرے دوستوں کے رہنماوں کی یہ تاویل معزور نہیں مردہ ہے۔ آپکی کیا رائے ہے اس بارے میں؟

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

38 Responses to جھوٹی تاویلوں کے سہارئے کب تک؟

  1. UncleTom نے کہا:

    میں آپکی تحریر سے یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ آپ کس چیز کی تحقیق کی دعوت دے رہے ہیں اور لوگوں کو کس موضوع کے حوالے سے پڑھنے کے دعوت دے رہے ہیں ؟؟؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      انکل ٹام بھائی بہت ہی واضع اور سامنے کی بات ہے، تحریر کا مغز تو یہ ہی ہے کے سنی سنائی باتوں پر بند آنکھوں کے ساتھہ ایمان لانے سے کہیں بہتر ہے کے کہی گئی بات کی خود بھی تحقیق کرلی جائے تو بہت حد تک صحیح نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے۔ لوگوں میں دین کو خود سے پڑھنے کا رجحان ختم ہوتا جارہا ہے دین کو ثانوی سی چیز سمجھہ کر بس ملا حضرات کے وعظ پر ہی اکتفاء کرنے کو ہی کافی سمجھا جانے لگا ہے، جبکہ یہ کسی طور بھی ٹھیک نہیں ہے۔

  2. Aniqa Naz نے کہا:

    ایسی باتیں آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں۔ آپ ذرا اس موضوع پہ لکھیں کہ پاکستان میں یا پکستان میں چھوڑیں بلاگستان میں کتنے لوگ مسلمان ہیں اور کتنے نہیں تو یہ بات کھٹ سے سمجھ میں آجائے گی۔ پھر لوگوں کا علم اور مرتبہ دیکھنے کی چیز ہوگی۔ ہر ایک شخص ایسے بڑھ چڑھ کر بولے گا جیسے حج کے دوران حجرہ ء اسود کو چھونے کا موقع مل رہا ہو۔
    اس لمحے ، آپکو اپنی دعوت فکر کا موضوع تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً بلاگستان میں قادیانیوں اور پرویزیوں کا حملہ، روشن خیالوں کے خلاف جپاد کا اہم وقت، نفاذ تاریک خیالی کی نیک مہم ثواب سے محروم نہ رہیں، اب دھماکے ہی کریں گے روشنی کا فیصلہ، پرائے دشمن کرائے کے جہادی۔ مٹ جائے گی دنیا تو ہم آباد کریں گے خالص مومنوں کی دنیا، بڑھ چڑھ کر حصہ لیں فی الحال مٹانے میں بناتے وقت اسے ترجیح دی جائے گی جس نے مٹاتے وقت زیادہ کام کیا ہوگا۔
    آپ صرف یہ موضواعت سامنے رکھتے جائیں۔ اسکے بعد دیکھیں کارخانہ قدرت سے کیا ظہور میں آتا ہے۔۔ آزمایش شرط ہے۔

  3. موضوع اچھا چنا ہے اور اس کا خيال بھی عملی دنيا سے تعلق رکھتا ہے ۔ ہمارے ہموطنوں کے پاس چار پانچ گھنٹے کا موسيقی کا پروگرام يا ڈرامہ ديکھنے کا وقت ہوتا ہے مگر قرآن شريف يا تاريخ پڑھنے کا نہيں ۔۔ پانچ سات گيس پيپر اور خلاصے پڑھنے يا حل کرنے کا وقت ہوتا ہے مگر نصابی کُتب پڑھنے کا نہيں ۔ فضول لاحاصل بحث کرنے کيلئے بہت وقت ہوتا ہے مگر کسی تعميری کام کيلئے نہيں ۔ اکثريت ايسی ہے جن کے پاس ہر کام کيلئے گھنٹے ہوتے ہيں مگر نماز پڑھنے کيلئے پانچ منٹ نہيں

  4. عمران اقبال نے کہا:

    فکر پاکستان بھائی۔۔۔ تحقیق ضروری ہے۔۔۔ لیکن مولویوں کا کیا قصور ہے۔۔۔ ساری سستی تو ہماری ہی ہے کہ ہم خود تحقیق اور پڑھنے کی بجائے۔۔۔ مولویوں کے پاس بھاگتے ہیں۔۔۔ اب ہر مولوی حضرت اپنے علم کے مطابق ہی جواب دے گا۔۔۔ قصور ان کا نہیں۔۔۔

    قصور ہر اس شخص کا خود ہے کہ جس نے قرآن کو سمجھنے کی بجائے شو کیس میں سجا دیا ہے۔۔۔ یہ تو مولویوں کا حکم نہیں ہے نا۔۔۔

    اور قصور ہر اس شخص کا ہے کہ جس نے حدیث کو پڑھنے اور سمجھنے کی بجائے ایس ایم ایس کی زینت بنا دیا۔۔۔ اور انہیں ایسا کرنے کا فتوی بھی کسی مفتی یا مولوی نے نہیں دیا۔۔۔

    ہر شخص نے اپنی قبر میں جانا ہے۔۔۔ وہاں وہ منکر نکیر سے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ہمیں تو ہمارے محلے کے مولوی نے یہ بتایا تھا۔۔۔ ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ تحقیق کیسے کریں۔۔۔

    اللہ تبار ک تعالیٰ نے ہر انسان میں نیکی اور بدی کی برابر شرح پیدا کی ہے۔۔۔ اب خود چاہیں تو نیکی کو ڈھونڈھ لیں ورنہ بدی تو ہے ہی ان کے لیے۔۔۔

    اب مزاروں میں فقیر اور پیر و مرشد براجماں ہیں۔۔۔ اگر آپ انہیں عالم یا مولوی سمجھتے ہیں تو آپ کی شدید غلط فہمی ہے۔۔۔

  5. میں بھی ہزار کوششوں کے باوجود ایک بات سمجھ نہیں سکا کہ جب بھی تعلیمی زوال کا ذکر آتا ہے آپ حضرات کو فوری طور پر مدارس کی یاد آجاتی ہے…اسی سانس میں آپکو امت مسلمہ کے زوال کا سبب مدارس دینیہ میں پڑھیے جانے والا نصاب قرار دینے لگتے ہیں . مدارس کیا کریں؟ کیا o لیول اور A لیول پڑھانا شروع کر دیں؟
    حالانکہ یہ بات مسلمہ ہے کہ تعلیمی انقلاب کے پیچھے ہمیشہ سے ایک سیاسی عزم اور ریاستی قوت ہوتی ہے جو کہ پاکستان میں نہیں ہے. جاپان کے شاہ نے امریکا کے آگے شکست کی دستاویز کا اعلان کچھ شرائط کے ساتھ کیا تھا جن میں ایک شرط یہ تھی کہ جاپان میں پڑھایا جانے والا نصاب جاپانی بنائیں گے اور جاپانی زبان میں پڑھایا جائے گا.٩/١١ سے پہلے برطانیہ میں اگر ایک کار میں استاد جا رہا ہوتا تھا اور دوسری کار میں برطانوی وزیر اعظم جا رہا ہوتا تھا تو ٹریفک پولیس والا برطانوی وزیر اعظم کی کار کو روک کر استاد کی کار کو جانے کی اشارہ کرتا تھا
    یورپ اور امریکا کی بات ہی چھوڑئیے مشرق بعید میں کئی یونیورسٹیاں ایسی ہیں جن کا انفرادی بجٹ پاکستان کی تمام جامعات کے مجموعی بجٹ کے برابر ہے . پاکستان میں اساتذہ کی تنخواہیں شرمناک حد تک کم ہیں اور بغیر ٹیوشن کے پاکستانی اساتذہ اپنا غیر نہیں چلا سکتے. پاکستان میں تعلیمی زبوں حالی کی تفاصیل اتنی طویل ہیں اور اتنی تاریخی ہیں کہ بیان کے لئے بہت جگہ اور وقت چاہیے . کیا آپ لوگ سیاسی عزم اور ریاستی قوت کو استعمال کر چکے ہیں جو مدارس پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      جواد بھائی، آپ تو یہ کہہ رہے ہیں کے کیا مدارس او لیول یا اے لیول پڑھانا شروع کردیں، جبکہ میرا تو کہنا یہ ہے کے یہ او لیول اور اے لیول جیسے نصاب غیر مسلموں کے بجائے مسلمانوں کو دنیا نے ہی دنیا کو دینا تھے، اور آپکی یہ بات بلکل درست ہے کے پاکستان میں ہی کیا موجودہ دور میں پورے عالم اسلام میں تعلیم کو اہمیت دی ہی نہیں گئی، اس میں پوری مشینری زمہ دار ہے، تخلیق غیر مسلم کرتے گئے اور مسلمان تقلیلد کرتے گئے ستم یہ کے تقلید بھی ٹھیک سے نہیں کرنی آتی ہمیں تو۔

  6. Aniqa Naz نے کہا:

    عمران اقبال صاحب، یہ نسخہ تو میں نے آپکو اور آپکی جماعت کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا تھا۔ اور اس کا تعلق بات کے سمجھنے سے ہے۔ ہٹس آنے کا تعلق ، ہٹس سے تعلق نہ رکھنے پہ ہے۔ لیکن ایک دفعہ پھر یہ بات کسی کو سمجھ میں نہیں آئے گی۔
    جاپان کا نصاب تو جاپانی زبان میں بنایا جائے گا، ہماری سفارشات میں تو نصاب عربی زبان میں بنانے کی سفارش آجاتی ہے۔
    لیجئیے حکومت پاکستان کی تعلیمی پالیسی اور اسکی ترجیحات دیکھنے کے لئے اس لنک پہ جائیں۔
    http://www.moe.gov.pk/edupolicy.htm

    • عمران اقبال نے کہا:

      عنیقہ۔۔۔ ویسے آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا کہ میں کس جماعت سے تعلق رکھتا ہوں۔۔۔ آپ میرے بارے میں کیا جانتی ہیں۔۔۔؟ کنٹرورشیل معاملات کو ہوا دینے اور ایسے موضوعات پر لکھنا آپ کا ہی کام ہے۔۔۔

      ویسے اس تحریر کا آپ کے پیش کردہ لنک سے کیا تعلق ہے۔۔۔ بتانا پسند کریں گی۔۔۔؟

      زبان کا استعمال انگریزی ہو، اردو ہو یا عربی۔۔۔ وہ بلکل مختلف موضوع ہے۔۔۔ جس پر مجھے یقین ہے کہ فکر پاکستان بھائی روشنی ضرور ڈالیں گے۔۔۔

      آپ اگر بات کرنا چاہیں۔۔۔ تو اس تحریر کے بارے میں ضرور کریں۔۔۔ پہلے تبصرے میں بھی آپ نے تحریر کے بارے میں تو کچھ نہیں لکھا۔۔۔ بلاواسطہ بلاگرز کے مذہب ضرور بدل دیے تھے۔۔۔ روشن خیالوں اور بقول آپ کے انتہاء پسند عناصر کا موازنہ اور جہاد ضرور کروا دیا تھا۔۔۔۔

      بی بی۔۔۔ آپ کا علم اپنی جگہ۔۔۔ لیکن اب اس تحریر کے جواب میں، میں کرکٹ کے بارے میں لکھنا شروع کر دوں۔۔۔ تو مجھے پاگل ہی سمجھا جائے گا۔۔۔ اس لیے میرا مشورہ آپ قبول تو نہیں کریں گی۔۔۔ لیکن میں پھر بھی آپ کا "شبھ چنتک” بن کر آپ کو مشورہ دے دیتا ہوں۔۔۔ کہ Remain on the point…

      والسلام۔۔۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        قرآن کیوں کے عربی زبان میں ہے اسلئیے روحانیت کے حوالے سے اور قرآن کو اسکی روح کے مطابق سمجھنے کے لئیے عربی زبان پر عبور حاصل ہونا چاہئیے، لیکن کیوں کے عصر حاضر کے جدید علوم کی کتابیں انگلش میں ہی ہیں اسلئیے انگلش پر عبور بھی لازمی ہے۔ ہم ٹھرے پاکستانی، نہ ہم جرمن ہیں، نہ فرنچ ہیں جو انگلش سے نفرت کرنے کے باوجود دنیا میں ترقی کر سکیں، ایسا نہیں کے یہ ہمارے لئیے ممکن ہی نہیں ہے لیکن فلحال دلی بہت دور ہے، یہاں تک پہنچنے کے لئیے بڑے مراحل طے کرنے پڑیں گے، جنکی تو ابتداء بھی مجھے تو دور دور تک نظر نہیں آرہی۔

      • Abdullah نے کہا:

        Aniqa,just ignore them

    • عمران اقبال نے کہا:

      بی بی کچھ خدا کا خوف کریں۔۔۔ جو لنک آپ نے دیا ہے۔۔۔ اس میں تو صرف اتنا لکھا ہے کہ قرآن کی تعلیم لازم قرار دی جائے۔۔۔ آپ کو اس پر بھی مسئلہ ہے۔۔۔ اب قرآن کا انگریزی میں پڑھائیں۔۔۔؟ ناظرے اور ترجمہ کی بات کی گئی ہے۔۔۔

      اب اس کے بعد آپ کے منہ لگنے کو جی نہیں چاہتا۔۔۔ روشن خیالی کے نام پر آپ عربی اور قرآن کی تعلیم پر طنز کر رہی ہیں۔۔۔

  7. اول تو مسلمان کا تصور اسلام نے دیا ہے اس میں ہر مسلمان نہ صرف پڑھنے لکھنے کا فن جانتا ہو بلکہ وہ عقل و فہم سے ادراک و علم کے نئے در وا کرے۔ جس سے نہ صرف وہ خود استفادہ کرے بلکہ باقی مسلمانوں اور عالم انسانیت کے لئیے کے فیض کو عام کرے اور یہی وہ نظریہ ہے جس کے تحت مختلف ادوار میں اور مختلف مقامات پہ مسلمانوں نے علم تحقیق کے اعلٰی مراکز قائم کئیے جس میں نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم طلباء کو کھانے پینے اور رہائش کی اعلٰی سہولتوں کے ساتھ انھیں وظائف سے نوازا جاتا تھا کہ وہ حصول علم کے دوران حصول معاش سے بے نیاز ہوکر دلجمعی سے استفادہ کر سکیں۔

    جبکہ فی زمانہ اکا دکا مثالیں چھوڑ کر مسلمان اخلاقی انحطاط کا شکار ہوچکے ہیں۔ اور حصول علم اور جدید تحقیق کو اسی اخلاقی انحطاط کے ایک حضے کے طور پہ دیکھا جانا چاہئیے، یہ نہیں کہ مسلمان بحیثیت آُمہ یا پاکستانی مسلمان بحیثیت قوم حصول علم اور جدید تحقیق کے علاوہ باقی دیگر شعبہ ھائے جات یا کچھ شعبہ جات میں ترقی پہ ہوں یا علم سے دوری کے علاوہ باقی دیگر معاملات زندگی میں عام انسانی اخلاق یا اسلامی اخلاق کے باقی دیگر معاملات یعنی جھوٹ نہ بولنا۔ دیانتدار ہونا۔ ایک دوسرے سے حسن سلوک میں بہتر ہونا۔ اپنی ذات کو بے جا اہمیت دینا۔ کسی کو خاطر میں نہ لانا، کسی کا حق نہ کھانا، پورا تولنا، درست ناپنا۔ حقدار کے حق کے لئیے جد جہد کرنا۔ غلط کو غلط اور برے کو برا کہنا، ایک دوسرے کی عزت کرنا بڑے بوڑھوں بچوں خواتیں اور معاشرے کے دیگر جن کمزور حقوق اسلام نے مقرر کر رکھے ہیں ان حقوق کو بہ احسن طریقے سے ادا کرنا۔ اسلامی تعلیمات پہ بہ حیثیت فرد اور بہ حثیت قوم عمل کرنا۔ نیک بننا، نیکی کو عام کرنا، نیک لوگوں کو اپنا رہنماء ماننا۔ المختصر دنیا کی امامت کے لئیے اسلام کے وضح کردہ اصولوں پہ عمل کرنا۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ ہم سب جس میں آپ میں اور دیگر خواتین و حضرات شامل ہیں جو ملکر ایک معاشرہ قائم کرتے ہیں۔ ہم سب بہ حیثیت مجموعی ایسا کرنے میں ناکام ہیں۔ تو حصول علم اور جدید تحقیق پہ مولوی اجاراری قائم کریں یا روشن خیال امریکہ ذدہ جدید تعلم سے بہر مند ہونے کا بار اٹھائے بزعم خویش قسم کے دانشور۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بہ حیثیت عام ادمی اور بہ حیثیت مجموعی ہم نے اس قومی اخلاقی انحطاط سے باہر نکلنے کے لئیے کیا جتن کیا ہے؟۔

    آپ مولوی کو قصور وار ٹہراتے ہیں۔ مغرب مخالف نام نہاد روشن خیالی کو۔ جبکہ درحقیقت ہر دونوں طبقے بھی اسی انحطاط پزیر معاشرے کے طبقے ہیں جس کا حصہ آپ میں اور دیگر ہیں۔ سوال یہ ہے کیا اسلام نے مسلمان کو جو چند بنیادی اصول عطا کر کے جو ودیعیت بخشی ہے ہم اس پہ کس حد تک پورا اترتے ہیں؟ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام ہیں تو وہ نیم خواندہ مولوی ہوں یا قوم کو روشن خیالی کی سان پہ پان چڑھاتے ابن الوقت نام نہاد روشن خیال ہوں۔ اس پہ چیں بی چیں ہونے سے کوئی تبدیلی نہیں آنے والی ماسوائے معاشرے کو مزید منتشر کرنے کے۔

  8. fikrepakistan نے کہا:

    جاوید بھائی بہت اچھا تجزیہ کیا ہے آپ نے، ہم میں سے کسی نے بھی اپنی ڈیوٹی ٹھھیک سے انجام نہیں دی، لیکن میں ایک عام آدمی کو اسلئیے بہت زیادہ قصوروار نہیں سمجھتا کے عام آدمی چاہے وہ کسی بھی ملک کا باسی ہو چاہے امریکہ کا ہی کیوں نہ ہو عام آدمی ہمیشہ فالوور ہوتا ہے اپنے بڑوں کا، مچھلی ہمیشہ سر سے سڑنا شروع ہوتی ہے اسلئیے اچھائی ہو یا برائی آتی ہمیشہ اوپر سے ہی ہے، کسی ایک بڑے آدمی کو نشان عبرت بنا دیا جائے تو نیچے والے تو ویسے ہی دب کے بیٹھہ جاتے ہیں، اصل قصور ہے ہی اوپر والوں کا اب چاہے وہ سیاستدان ہوں، فوج ہو، عدلیہ ہو یا مولوی حضرات ہوں۔ میں تو بار بار یہ ہی چیختا رہتا ہوں کے یہ سب ہماری بربادی پر متفق ہیں یہ کبھی بھی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی آئے۔

  9. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    آج تک ميں مدرسوں اور مولويوں کے خلاف بہت کچھ پڑھ چکا ہوں مگر انگريزی طريقہ کے جو سکول اور کالج ہمارے مُلک ميں ہيں انہوں نے مُلک يا قوم کی اتنی خدمت بھی نہيں کی جتنی مدرسوں اور مولويوں نے کی ہے جبکہ مدرسوں کو عوام سے حاصل کردہ ٹيکس سے کچھ نہيں ملتا اور سکول اور کالج عوام پر ٹيکس لگا کر حاصل کئے گئے پيسے سے چلتے ہيں ۔

    يہ ايم ايس سی اور پی ايچ ڈی جن کو اسلام سے وابستہ ہر چيز فرسودہ نظر آتی ہے ۔ ان کی تحقيق کے نتيجہ ميں ملک يا قوم کو کيا ملا ہے ؟ کتنے تعليمی نصاب بہتر ہوئے ہيں اور کتنی تعليمی کتابيں انہوں نے لکھی ہيں ؟

    انہوں نے تو جو تعليم کا معيار آج سے آدھی صدی قبل اس ملک ميں تھا اُس کو بھی تحت السرٰی پہنچا ديا ہے ۔ بڑھ بڑھ کے باتيں کرنے سے ان کی زبان لمحہ بھر کو نہيں رُکتی

    • fikrepakistan نے کہا:

      اجمل صاحب میری نظر سے تو کوئی ایک بھی ایسا ایم ایس سی یا پی ایچ ڈی شخص نہیں گزرا جو اسلام کی بنیادی اور حقیقی تعلیمات کے خلاف ہو۔ ہاں اپنے اپنے فرقے اپنے اپنے مسلک کو جائز اور صحیح قرار دینے کے لئیے جو دین کی غلط تشریحات کر کے بتائی گئی ہیں ان غلط تشریحات پر ضرور تحفظات ہوتے ہیں، اسکی ایک مثال میں نے اپنی آخری پوسٹ میں دی ہے جسکی آپ نے بھی تائید کی ہے، تو اگر صحیح اور حق بات کرنے کو بھی کوئی غلط فعل کہے تو یہ تو مناسب نہیں ہے نہ۔ پاکستان کا ایٹم بم جسے بڑے فخر سے اسلامی بم کا نام بھی دیا جاتا ہے وہ وزیرستان کے کسی مدرسے میں نہیں بنا ہے، وہ اس ہی جدید تعلیم کی مرہون منت ہے جسکا حکم قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔

  10. جعفر نے کہا:

    مجھے تو یہ سمجھ آئی اور بڑی آسانی سے آئی کہ اس کا مقصد وہی ہے
    مولویوں کی ایسی کم تیسی کرنا
    اور وہ آپ کی کرتے رہیں گے
    بس لگے رہیے۔۔۔

  11. عمران اقبال نے کہا:

    عبداللہ۔۔۔ مجھے بس اتنا بتا دو۔۔۔ کہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کا کیا مطلب ہے۔۔۔؟ اور کسی کی سوچے سمجھے بغیر تقلید کرنا اس زمرے میں آتا ہے۔۔۔؟ جیسے تم کر رہے ہو؟؟؟

  12. Abdullah نے کہا:

    عورتوں پرکج بحث اور فسادی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے،
    مگر یہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ مرد عورتوں پر بھی بازی لیئے ہوئےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

  13. پاکستان کا ایٹم بم جسے بڑے فخر سے اسلامی بم کا نام بھی دیا جاتا ہے وہ وزیرستان کے کسی مدرسے میں نہیں بنا ہے، وہ اس ہی جدید تعلیم کی مرہون منت ہے جسکا حکم قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فکر پاکستان۔

    @ ایک بات کی وضاحت کرنا بہت ضروری ہے۔ یہود و ہنود اور نصارٰی نے محض باقی دنیا حکومتوں اور عوام کو ڈراوا دینے کے لئیے پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپگنڈہ کرتے ہوئے پاکستان کے جوہری پروگرام کو "اسلامی ایٹمی بم” کا نام دیا تھا۔ اور پاکستان کے خلاف یہ پروپگنڈاہ عشرہ دیڑھ عشرہ قبل تک نہائت ساءنٹفیک طریقے سے کیا گیا تھا اور اس پہ مبینہ ٹرالوں پہ اور پاکستان کی طرف مختلف رستوں سے جوہری پروگرام میں استعمال ہونے والے مبینہ جوہری سامان کو نقل و حرکت کرتے ہوئے فرضی اور پاکستان کۓ خلاف عوامی ایف آئی آر کٹوانے کی شرمناک موویز بھی بنائیں گئیں۔ جن کی بنیاد کسی بھی طرح ہالی وڈ کی کسی بھونڈی فلم کی طرح لغو اور فرضی تھی اور انہیں باقاعدہ ایکٹروں سے اسٹوڈیوز میں بنوا کر "ڈاکومینٹری” کا نام دیا گیا۔ اور اسک لب لباب پاکستان کے "اسلامی بم” کے لئیے مغرب سے جوہری سامان کی غیر قانونی ترسیل اور اسمگلنگ تھا۔ جس میں بیان کئیے گئے دلائل اس قدر بودے تھے کہ جوہری پلانٹ کے لئیے سازو سامان گویا ماچس کی ڈبیا تھی کہ جس کا دل چاہا اسے جیب میں ڈالا اور پاکستان کی طرف چل پڑے۔ اسمیں یہ بھی ثابت کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا کہ پاکستانی ایک "جھانویں” اور ایویں شیویں قوم ہے۔ ان میں یہ فہم و عقل اور اسطاعت کہاں کے وہ اسطرح کے پروگرام بنا سکے اور چلا سکے۔ یہ مولبی محض ایٹم بنانے کا جتن کر رہے ہیں اور ساری دنیا کو بھسم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور آپ کو حیت ہوگی کہ پاکستان نے ہمیشہ "اسلامی ایٹمی بم” کی اصطلاح کو یکسر مسترد کیا اور آج تک کرتا ہے۔ کیونکہ اس دور میں پاکستان کو باقی دنیا سے اسولیٹ کرنے کی مذموم مہم چلاتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو "اسلامی بم” کا نام دیا گیا جبکہ بھارت کے ایٹمی پروگرام کو کسی نے "ہندؤ بم ” کبھی نہیں کہا تھا حالانکہ بھارت کے بے جا ایٹمی فساد کی وجہ سے پاکستان کو اپنی بقاء کے لئیے ناچار اس میدان میں کودنا پڑا۔

    اس سارے پروپگنڈاہ مہم کا زور تب ٹوٹا جب پاکستان نے باقاعدہ طور پہ ایٹمی دہماکے کرتے ہوئے اپنی ایٹمی صلاحیتوں کو منوا لیا۔ مگر اسکے باوجود پاکستان میں چند ڈاکٹر فلاسفی جو اپنے تئیں اپنے آپ کو دانشور سمجھتے ہیں مگر در حقیقت ہیں نہیں اور انکی اپنی رائے اور سوچ میں انھیں اس جوہری پروگرام نامی کیک سے حصہ نہیں ملا اور وہ مایوس ہیں۔ مغربی میڈیا جنہیں پاکستان کۓ خلاف کسی نہ کسی طور استعمال کرتا ہے اور یہ ڈاکٹر فلاسفی آج بھی دبے لفظوں پاکستان سے اپنی منافقت کا اظہار کرت رہتے ہیں۔ حالانکہ عالمی طور پہ اسلامی بم کا پروپگنڈہ مدتیں بیتیں اپنا دم توڑ چکا ہے اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام تیزی سے ترقی کرتا ہوا آج دنیا کی پانچویں بڑی ایٹمی طاقت والا ملک ہے۔ مگر اپنی نام نیاد روشن خیالی زعم میں پاکستان کے جوہری پروگرام کی مخالفت اور روشن خیالی کے باواجی امریکا سے کچھ مراعات کی بھیک کی امید کے بدلے کچھ لوگ پاکستان کے خلاف اپنا پروپگنڈاہ نہائت زور شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک آدھ مثال، ایک آدھ محترمہ موصوفہ آپ کو اردو بلاگز پہ بھی انٹ شنٹ بیان کرتیں مل جائیں گی۔ جبکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام محض اپنی بقاء جیسی مجبوری کی وجہ سے شروع ہوا اور ہے۔ اگر یوں نہ ہوتا تو پاکستان کب کا تر نوالہ ثابت ہوچکا ہوتا۔ اور میں آپ اور ہم سب بجائے ایک پاکستانی کے کسی دوسری شہریتوں سے اپنا تعارف کروا رہے ہوتے۔ یہ اسلامی بم نہیں بلکہ پاکستان کا موقف اپنی بقا کے لئیے کم سے کم ڈیٹرنس کے لئیے کوشش کرنا ہے۔ ہوشیار باشد۔

    قارئین کی دلچسپی کے لئے عرض ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کسی مشنری ادارے کی بجائے ٹاٹ اسکولوں کے فارغ التحصیل ہیں۔ جنہیں علم سے غرض ہوتی ہے۔ وہ گلی کی نکڑ پہ اسٹریٹ لیمپ کی روشنی میں بھی پڑھتے پائے جاتے ہیں۔

  14. خالد حمید نے کہا:

    یہ بھی مدرسہ ہے۔
    http://www.kulyatushariah.edu.pk/jrks/

  15. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان صاحب :
    آپکی بات درست ہوتی ہے، لیکن آپ بات کی وضاحت اور اصل غلطی نکالنے میں درستگی کی بجائے غلطی کر جاتے ہیں۔
    آپکے درد دل کو میں اچھی طرح سمجھتا ہوں اور آپکے اخلاص کو بھی جانتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ بات بات پر مولوی کی گرفت ، تو یہ بات میرے خیال میں کچھ صحیح نہیں ہے۔

    کیونکہ مولوی تو ہمیں یہ کہتے ہوئے تھک گئے ہیں کہ بھائی قران وحدیث کا مطالعہ کرو۔

    بس جہاں سمجھ میں نہ آئے تو پوچھ لیا کرو، لیکن ہم ہیں کہ نہ تلاوت کرتے ہیں اور نہ ہی مطالعہ۔

    پھر دوسری بات یہ ہے کہ جو ساتھی مطالعہ کرنا چاہے تو اسکے لئے ضروری ہے کہ اس فن کے رموز واسرار سے تھوڑا واقف ہو۔

    یہ نہیں کہ اردو ترجمہ دیکھ کر مناظرے شروع کرے ۔

    جو تفسیر کا مطالعہ کرنا چاہے تو بالکل کرے لیکن اس سے پہلے اصول تفسیر کو ضرور جان لے۔
    اسی طرح جو حدیث کا مطالعہ کرے تو اس سے پہلے اصول حدیث کا مطالعہ ضرور کرے۔
    اسی طرح جو تاریخ پڑھنا چاہے تو وہ اصول تاریخ ضرور پڑھے ، پھر کہی بات بنے گی ورنہ بندہ بہک سکتا ہے۔

    جو آدمی حدیث کا لغوی معنی نہیں جانتا تو صرف اردو ترجمے سے کیا ہوجائے گا، معمولی اگر حدیث میں کوئی فلسفہ بیان ہو تو بس یہ صاحب وہی اٹک جاتے ہیں۔

    سائنسی تحقیقات کی بات آپ نے کی تو جناب اسکے لئے حکومتی سرپرستی بہت ضروری ہے ، جو کہ ہمارے ہاں ناپید ہے۔ خلافت عثمانیہ کے دور میں یا اسکے علاوہ اسلامی حکومتوں کے حاکم علم سے محبت کرتے تھے، اور اسی لئے انکے سرپرستی میں تحقیقات ہوتی تھی، اگر ڈاکٹر عبد القدیر کے ساتھ حکومتی امداد نہ ہوتی تو وہ بھلا کس طرح آئٹم بم بنا پاتا، اسی طرح بےشمار پراجکٹ ہیں جو کہ حکومتی سرپرستی کا انتظار کر رہے ہیں۔

    لھذا بات بے بات میں یہ مولوی کا ذکر کچھ معنی نہیں رکھتا ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      درویش بھائی آپکی بات درست ہے اور میرا بھی نظریہ یہ ہی ہے کے مسلمانوں کی اس اجتماعی بربادی میں صرف مولوی حضرات کا ہی قصور نہیں ہے حکمرانوں کا فوج کا عدلیہ کا یہاں تک کے میڈیا کا بھی ہاتھہ ہے، پاکستان تو چلو مجبور ہے وسائل کے ہاتھوں، لیکن پاکستان کے علاوہ یہ جتنے عرب ممالک ہیں انکے ساتھہ تو پیسوں کا مسلہ نہیں ہے وسائل کا مسلہ نہیں ہے یہ کیوں نہیں تعلیم کے میدان میں کوئی تیر مارتے؟ جس وقت روس کے ٹکڑے ہوئے تو وہاں کے سائنسدانوں کو دنیا نے زیادہ سے زیادہ پیسے دے کر خرید لیا، اس وقت انکو کیا موت آئی ہوئی تھی انہوں نے کیوں نہیں سوچا ایسا؟ کیا یہ پوری مسلم امہ کے لئیے شرم کا اور ڈوب مرنے کا مقام نہیں ہے کے انبیاء کی زمین کی حفاظت سعودیہ خود کرنے سے قاصر ہے اور کفار سے اس پاک زمین کی حفاظت کروانے پر مجبور ہے۔ آپکو نہیں لگتا کے ہم مسلمانوں کی اجتماعی طور پر سوچ کو زنگ لگ چکا ہے اور ہم اپنی اس حالت کو بدلنا ہی نہیں چاہتے۔ کفار ایک ایک کر کے مسلمان ملکوں پر قبضہ کر رہے ہیں اور پوری مسلم امہ کمزور ہونے کی وجہ سے اپنی اپنی جان بچا رہی ہے، اللہ نے تو مسلمانوں کے لئیے فرمایا تھا کے بیشک تم ہی غالب آو گے اگر تم مومن ہو۔ تو آج ہم غالب کے بجائے مغلوب ہیں تو اس آیت کا مطلب ہم کیا نکالیں؟ یہ ہی کے مومن وہ ہی ہوتا ہے جو غالب ہوتا ہے؟ تو پھر دیکھہ لیں کو آج کون غالب ہے اور کون مغلوب؟۔

  16. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان صاحب میں آپکے اس بات سے اتفاق نہیں کرتا ہوں کہ پاکستان وسائل کے ہاتھوں مجبور ہے۔ یہ بات غلط ہے۔

    پاکستان جس طرح وسائل سے مالامال ہے شائد ہی کوئی ایسا ملک ہو۔ لیکن ہمیں صحیح راہنماء میسر نہیں ہے۔ اور یہی حال تمام اسلامی ممالک کا ہے۔کہ ہر اسلامی ملک وسائل تو رکھتا ہے لیکن وسائل کو صحیح استعمال کرنا ، تو یہ کام ان میں سے کسی سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو الٹا وسائل کو چوری کرتے ہیں۔ یا اونے پونے غیروں کے ہاتھ اسکو بیچ دیتے ہیں۔

    اور اصل مسئلہ بھی یہی ہے کہ ہمارا رہنماء کوئی نہیں ہے، اور اگر ہے تو چور ہے۔

  17. fikrepakistan نے کہا:

    میری ادھوری بات آپ نے مکمل کردی، میں سو فیصد متفق ہوں آپ سے ہمارا المیہ ہی یہ ہے کے قوم نے جسکو بھی نجات دہندہ سمجھا وہ پہلے والے سے زیادہ بڑا چور نکلا، انڈیا نے روس میں تیل نکالنے کا معاہدہ کرلیا ہے، نو ارب ڈالر خرچ کرے گا انڈیا اس منصوبے پر۔ جبکہ ہماری حالت یہ ہے کے ہم اپنے ہی ملک میں ڈرل نہیں کر سکتے۔ ٹاپ ٹو باٹم سب کے سب چور ہیں یہاں۔

  18. Abdullah نے کہا:

    فکر پاکستان یہ ایک اور جھوٹی تاویل ہے ،کہ حکمراں چور ہیں اور ہم سب کیا ہیں ،مومن؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    جب اللہ کہتا ہے جیسے تم ہوگے تم پر حکمراں بھی ویسے ہی مسلط کیئے جائیں گے،تو اصل قصور وار ہم ہیں ہم جو چھوٹی چھوٹی چیزوں میں کرپشن کرتے ہیں تو ہم پر بڑے بڑے کرپٹ مسلط کر دیئے جاتے ہیں !!!

  19. Abdullah نے کہا:

    اچھے حکمراں چاہیئے ہیں تو خود انفرادی طور پر اچھا بننا پڑے گا جس دن ایسا ہوا اللہ اپنی سنت پر عمل کرے گا،انشاءاللہ!

  20. Abdullah نے کہا:

    حکمرانوں سے بڑے قصوروار علماء ہیں کیوں کہ وہی عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہیں ،اور ان میں پیدا ہوتی روحانی بیماریوں کی روک تھام کرتے ہیں،
    ہزاروں سال سے علماء کی اکثریت اپنی ذمہ داریاں فراموش کر کے زاتی مفادات میں پڑ چکی ہے جس کا رزلٹ یہ سب ہے!

  21. Abdullah نے کہا:

    موبائلخبریں | پاکستان
    پاکستان آر ایس ایس فیڈ اجوکا تھیٹر کا کھیل’ہوٹل موہنجوڈارو‘غلام عباس نے "دھنک” کے عنوان سے1960 کے عشرے میں تصنیف کیے گئے اپنے افسانے میں تصوراتی طور پر جو مذ ہبی انتہا پسندی پیش کی تھی آج یہ ملک واقعتاً ویسی ہی انتہا پسندی کا بظاہر شکار دکھائی دیتا ہے۔ لاہور کے حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں جب غلام عباس نے اپنا یہ افسانہ پڑھا تھا تو وہ ایوب خان کا دور تھا۔ اس دور میں مذہبی انتہا پسندی کے تحت ہلاکتوں یا مساجد کو توڑنے پھوڑنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مصنف کو حلقہ اربابِ ذوق کے اس اجلاس میں شامل ارکان کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض ناقدین نے اس افسانے کو مذہبی نظریات کی توہین تک قرار دے دیا تھا لیکن آج کے دور میں یہی افسانہ ملک کے حالات کی پیشگی تصویر پیش کرنے والی ایسی تحریر ثابت ہوا جو حیران کن حد تک درست ہے ۔ اجوکا تھیٹرز نے اسی وجہ سے اس افسانے کی کہانی پر مبنی سٹیج ڈرامہ ہوٹل موہنجوڈارو پیش کرکے لوگوں پر نہ صرف غلام عباس کے اس افسانے کی عظمت واضح کی ہے بلکہ اُن کو یہ بتانے کی بھی یہ کوشش کی ہے کہ کسطرح مذہبی انتہا پسندی ہنستے بستے معاشروں کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہے۔

    معاشرے سے انتہاپسندانہ رجحانات کے خاتمے کا عزم
    ’’لوگ ہر مرتبہ یہ ڈرامہ دیکھنے کے بعد اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ مصنف نے برسوں پہلے کس طرح مذ ہبی انتہا پسندی کی تباہی کو محسوس کیا‘‘
    اجوکا تھیٹر نے ہوٹل موہنجوڈارو کے عنوان سے الحمراہال لاہور میں پیش ہونے والے اپنے سٹیج ڈرامے میں دکھایا ہے کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور چاند پر انسان کو بھیج چکا ہے۔ ایسی بے مثال ترقی کے دور میں ڈرامے میں دکھایا جاتا ہے کہ ایک مسجد سے انتہا پسندی کی لہر شروع ہوتی ہے اور وہ سارے ملک میں پھیل جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مذہبی انتہا پسند ترقی یافتہ پاکستان کی حکومت پر قابض ہوجاتے ہیں اور پھر اس ملک کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس ڈرامہ کی کہانی غلام عباس کے ایک افسانے دھنک پر مبنی ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ اُردو زبان کی کہانی ” آنندی ” کے مصنف غلام عباس کو اُردو ادب کا ایک اہم ترین افسانہ نگار سمجھا جاتا ہے ۔ پاکستان کے لیے غلام عباس کے افسانے دھنک کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وُہ اس لحاظ سے بے مثال ہے کہ اس شخص نے پچاس برس پہلے مذ ہبی انتہا پسندی کے مضر اثرات کا جو تصوراتی خاکہ پیش کیا وہ آج کے دور میں ایک حقیقت دکھائی دیتا ہے۔
    ہوٹل موہنجوڈارو کے مصنف شاہد محمود ندیم ہیں جنہوں نے اجوکا تھیٹرز کے لیے متعدد اسٹیج ڈرامے تصنیف کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غلام عباس کے افسانے دھنک کو پڑھ کر وہ حیرت زدہ ہوگئے تھے کہ اس شخص نے پچاس برس پہلے قوم کو مذ ہبی انتہا پسندی کے بُرے اثرات سے اپنے افسانے کی شکل میں اُس وقت آگاہ کیا تھا جبکہ ملکی حالات آج کے مقابلے میں یکسر مختلف تھے۔ شاہد محمود ندیم کا کہنا تھا کہ وہ اس امر کو بدقسمتی باور کرتے ہیں کہ آج بھی ہمارے بعض دانشور مذ ہبی انتہا پسندی کو خطرہ نہیں سمجھتے حالانکہ جو کچھ اس ملک میں ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے کٹر مذ ہبی رجحانا ت کے مضر اثرات سے انکار کرنا حقیقت سے آنکھیں بند کردینے کے مترادف ہے۔

    مدیحہ گوہر شاہد محمود ندیم کی اہلیہ بھی ہیں اور اس ڈرامے کو پیش کرنے والی ٹیم کی سربراہ بھی ہیں۔ اُنہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اجوکا تھیٹر گروپ اپنے سٹیج ڈرامے ہوٹل موہنجوڈارو کے جتنے بھی شوز کرچکاہے وہ سب کامیاب رہے ہیں اور لوگ ہر مرتبہ یہ ڈرامہ دیکھنے کے بعد اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ مصنف نے برسوں پہلے کس طرح مذ ہبی انتہا پسندی کی تباہی کو محسوس کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ڈرامہ پاکستان کے علاوہ بھارت میں دہلی سمیت جنوبی بھارت کے کئی شہروں میں بھی پیش کیا جا چکا ہے اور انتہائی اہم مبصرین اس ڈرامے کی تعریف کرچکے ہیں ۔
    ڈرامے کا آغاز ہوٹل موہنجوڈارو کی طویل القامت عمارت کی آخری منزل پر ایک پُروقار تقریب سے ہوتا ہے جہاں اس بات کا انتظار ہورہا ہے کہ پاکستانی خلا باز جب چاند پر قدم رکھے گا تو براہِ راست نشریات کے ذریعے سب اُس کو دیکھ سکیں گے۔ مقصد اس منظر سے یہ دکھانا ہے کہ پاکستان ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک ہوچکا ہے اور چاند کو بھی تسخیر کرچکا ہے۔ اس کے بعد ڈرامے میں یکدم ایک مولوی کی آواز گونجتی ہے ” یہ کون گستاخ ہے ” یعنی جس نے چاند پر قدم رکھا ہے اُس نے اس مولوی کے بقول اللہ کے نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

    اس کے بعد ڈرامے میں دکھایا جاتا ہے کہ احتجاجی مذہبی تحریک شروع ہوچکی ہے اور پھر اس کے نتیجے میں مذ ہبی انتہا پسندوں کی حکومت قائم ہوجاتی ہے۔ پھر ڈرامے کے مناظر میں مذ ہبی لوگوں کے باہمی اختلافات سامنے آنے لگتے ہیں اور مختلف گروپ بن جاتے ہیں کوئی ہری پگڑی والے ہیں کوئی لال پگڑی والے ہیں اور کوئی سیاہ پگڑی والے ہیں۔ ان کی لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں جن کے نتیجے میں ملک تباہ ہوجاتا ہے۔ ڈرامے کے آخری منظر میں ایک ویران جگہ پر ایک سیاح کو بتایا جارہا ہے کہ اس مقام پر کبھی ایک ترقی یافتہ ملک ہوا کرتاتھا۔
    غلام عباس کا افسانہ دھنک اگرچہ پڑھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے مگر آج ناقدین اس کو ایک حیران کن تصنیف کے ساتھ ساتھ ایک عظیم فن پارہ بھی قرار دیتے ہیں۔ شو ختم ہونے کے بعد جن لوگوں سے گفتگو ہوئی تو اُنہوں نے اس ڈرامے کی محض تعر یف ہی کی ۔ کالج کے ایک ریٹائرڈ پروفیسرمحی الدین بھی اُن میں شامل تھے اُنہوں نے کہا کہ اجوکا والوں نے اس کہانی کو جس انداز میں اسٹیج ڈرامہ کی شکل دی ہے وہ قابلِ تعریف ہے

  22. fikrepakistan نے کہا:

    عبداللہ بھائی اسلئیے ہی میں نے لکھا کے ٹاپ ٹو باٹم سب چور ہیں، اس میں ہم سب شامل ہیں، اور علماء اکرام کے حوالے سے جو آپ نے کہا وہ بلکل درست ہے، میری اگر اس بات سے کسی کو اختلاف ہو تو میری تحریر مجرمانہ خاموشی کا جواب کسی بھی عالم سے لا کر دکھا دیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s