جذباتیت اور حقیقت


کیسی عجیب قوم ہیں ہم وہ جسے کم از کم ایک آنکھہ سے تو نظر آتا ہے اسے ہم کانا کہہ کر اسکا مذاق اڑاتے ہیں، اور جو دونوں ہی آنکھوں سے اندھا ہو اسے حافظ جی کہہ کر عزت دیتے ہیں۔

اپنے بد ترین دشمنوں کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر اسمبلی تک چھوڑ کر آتے ہیں اور پھر پانچ سال تک انکے نام کی دوھائی دیتے رہتے ہیں، ہر نئے آنے والے کے لئیے خوشی میں مٹھائیاں بانٹتے ہیں، اور پھر اسکے جانے پر اسکے جانے کی خوشی میں مٹھائیاں بانٹتے ہیں، اور پھر کسی نئے ڈاکو کو خوش آمدید کہنے کے لئیے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں۔

پرویز مشرف صاحب سے جہاں کچھہ غلطیاں ہوئیں وہیں انہوں نے بہت سے اچھے کام بھی کئیے، زرداری صاحب کے تین سال کے کارناموں کی وجہ سے پرویز مشرف ولی اللہ لگنے لگے ہیں اب قوم کو۔ اوراب جو بات میں کہنے جارہا ہوں اسکا تعلق جذبات سے نہیں حقائق سے ہے کہ زرداری صاحب کے بعد جو بھی آئے گا اسکے کارنامے زرداری کو زرداری رحمت اللہ علیہ بنا دیں گے۔

انٹرنیشنل مارکیٹ میں کروڈ آئل اس وقت تقریباَ ایک سو بارہ ڈالر فی بیرل چل رہا ہے، ہیچ فنڈز اور انٹرنیشنل اتھارٹیز نے نوید دے دی ہے کے کروڈ آئل دو سو ڈالر فی بیرل تک جاسکتا ہے۔ نتیجہ پاکستان میں پیڑول کی قیمت سو روپے سے بھی تجاوز کر جائے گی، اس وقت جو قوم کو مہنگائی آسمان کو چھوتی ہوئی نظر آرہی ہے یہ درحقیقت تو صرف وارم اپ ہورہا ہے اصل مہنگائی کا طوفان آنا تو ابھی باقی ہے، پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے نتیجے میں جو مزید مہنگائی کا طوفان آئے گا وہ ابھی عام آدمی کے تصور میں بھی نہیں ہے۔

یہ ادھاری کے سترہ ارب ڈالر کے جو زر مبادلہ کے زخائر ہیں جس پر آج حکمران بڑا فخر کرتے ہیں یہ اسٹیٹ بینک میں رکھے رکھے ہی بھاپ بن کر اڑ جائیں گے، روپیہ مزید ڈی ویلیو ہوگا، گھر میں رکھے ہوئے پیسوں پر ڈکیتیاں ہونگی، فرض کریں آپ کے گھر میں ایک لاکھہ روپے رکھے ہوئے ہیں جب روپیہ ڈی ویلیو ہوتا ہے جیسے کے دوہزار آٹھہ میں ہوا تھا کہ ڈالر ساٹھہ روپے سے بڑھہ کر ستاسی روپے تک آگیا یعنی اگر آپ کے پاس ایک لاکھہ روپے تھے تو وہ گھر میں رکھے رکھے ہی ایک لاکھہ سے تہتر ہزار میں تبدیل ہوگئے، یہ ہی ڈکیتی اب دوبارہ ہونے والی ہے۔

کوئی بھی آجائے اسے کرنا وہی کچھہ پڑے گا جو زرداری صاحب کررہے ہیں، جو نہیں کرے گا وہ پرویز مشرف کی طرح منظر سے ہٹا دیا جائے گا۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی اصل موضوع کی طرف چلتے ہیں، میں ذکر کر رہا تھا قوم کے رویوں کا کہ ہماری قوم کے کسی کو عزت دینے اور زلیل کرنے کے پیمانے ہی بڑے عجیب ہیں، دوستوں کے ساتھہ کسی کی عیادت کرنے میمن میڈیکل انسٹیٹیوٹ جانا ہوا تقریباَ تمام دوست ہی پہلی بار دیکھہ رہے تھے اس ہوسپٹل کو، اس میں کوئی شک نہیں کے انتہائی شاندار ہوسپٹل بنایا ہے ہر لحاظ سے بہترین ہے جدید سہولتوں سے آراستہ ہے، صفائی ستھرائی کا انتظام دیدنی ہے، اگر کسی کے پاس پیسے نہ بھی ہوں تو مفت میں بھی علاج کردیا جاتا ہے۔ میرے تمام دوست خاصے مرعوب تھے کہ دیکھو آج کے دور میں بھی خدا کا خوف رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو ایسی بےلوث خدمت کر رہے ہیں قوم کی، ہال میں ان تمام لوگوں کے نام ایک خوبصورت بورڈ پر کنندہ تھے جنکی مہربانی سے یہ بہترین ہوسپٹل وجود میں آیا ہے۔

تقریباَ کوئی پچس تیس نام تھے جنکی امداد سے یہ ہوسپٹل چل رہا ہے، میں جیسے جیسے وہ نام پڑھتا گیا میرا نظریہ بدلتا گیا، عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، سلیم دلال، لکی سیمنٹ کے مالکان، سراج قاسم تیلی، امین لاکھانی، اس ہی طرح کے اور کچھہ بڑے بڑے تاجروں کے نام شامل تھے، یہ وہ تمام لوگ ہیں جنہیں میں بہت زیادہ گہرائی سے جانتا ہوں، ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو مارچ دو ہزار پانچ میں کراچی اسٹاک ایکسچینچ میں مصنوعی بحران پیدا کر کے عام لوگوں کے اربوں روپے ہڑپ کرچکے ہیں، یہ وہ طبقہ ہے جو چینی، سیمنٹ، اسٹیل، چاول، یعنی بنیادی ضرورتوں والی اشیاء پر کارٹیل بناتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق ریٹ بڑھاتے ہیں، پہلے زخیرہ اندوزی کرتے ہیں پھر مصنوعی قلت دکھا کر بائیس روپے کی چینی مجھے اور آپکو ایک سو بیس روپے میں بیچتے ہیں، یہ وہ طبقہ ہے جو کارٹیل بنا کر دوسو روپے کی سیمنٹ کی بوری کی قیمت چار سو روپے تک لے جاتے ہیں، یہ وہ طبقہ ہے جو ایک ہاتھہ سے اربوں روپے لوٹتا ہے اور دوسرے ہاتھہ سے عام لوگوں کی ہمدردی اور دنیا دکھاوے کے لئیے لاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں، یعنی اربوں لوٹوں اور لاکھوں خیرات کر دو، یہ ہے انکا طریقہ واردات۔

میں نے واپسی پر اپنے دوستوں سے کہا کے زیادہ مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ ہمارا ہی پیسہ ہے جو وائٹ کالر کرائم کی صورت میں ہم سے لوٹا گیا ہے اور اب اسکا دوفیصد خیرات کی صورت میں ہمیں لوٹایا جارہا ہے۔ جب یہ سب تفصیل میں نے اپنے دوستوں کو بتائی تو وہ مجھہ سے متفق ہوگئے، کیا آپ مجھہ سے متفق ہیں؟۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

12 Responses to جذباتیت اور حقیقت

  1. آپکی سبھی باتیں درست ہونگی۔ مگر پرویز مشرف جیسے غدار وطن کے لئیے آپکے دل میں نرم گوشہ آپکے الفاظ کو مشکوک بنا دیتا ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جاوید بھائی میں نے یہ تحریر نا کسی کے حق میں لکھی ہے نہ ہی کسی کی مخالفت میں، میں نے صرف وہ ننگے سچ لکھے ہیں جو یہ قوم بھگت رہی ہے، اور غالباَ آپکو یاد ہوگا کے جس اسٹاک کرائسس کا میں نے ذکر کیا ہے وہ پرویز مشرف صاحب کے دور حکومت میں ہی ہوا تھا۔ اور جہاں تک رہی بات غدار وطن کی تو میں تو کب سے چیختا آرہا ہوں کے میری اور آپکی بربادی میں یہ سب برابر کے شریک ہیں، مجھے تو ان سب میں کوئی ایک بھی محب وطن کھائی نہیں دیتا اگر آپکو اس پورے سیٹ اپ میں کوئی محب وطن نظر آتا ہے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔

  2. Abdullah نے کہا:

    آپکی تحریر کا ایک ایک لفظ حق ہے بمع پرویز مشرف کے لیئے لکھے گئے الفاظ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

  3. ایک بات کی سمجھ نہیں آئی

    ننگ ملت ننگ وطن ننگ قوم میر جعفر از بنگال کے پڑپوتے مرزا اسکندر ، مرتد اسلام مرزا قادیان ملعون کے نام نہاد خلیفہ۔ ڈبا پیر اف لنڈن اور غدار ملت مشرف سمیت سبھی غدار بالآخر اپنے آقا و متولی برطانی کی پناہ میں کییوں جا بیٹھتے ہیں؟۔

    اس پہ کچھ تحیقی ہونی چاہئیے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      میں نے تو ہزار بار لکھا ہے بلکے اپنی تقریباَ ہر ہی پوسٹ میں لکھتا ہوں کے میرے بھائی میرا اور آپکا کوئی بھی نہیں ہے، ہم خود اپنے نہیں ہیں تو کسی دوسرے سے کیا توقع کریں؟ چاہے وہ سیاسی لوگ ہوں یا مذہبی، سب کے سب چور اور غلام ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کے میں اللہ کے شکر سے کسی کا فالوور نہیں ہوں۔

  4. پرويز مشرف انتہائی غلط آدمی تھا ۔ اُس اکيلے نے اس ملک و قوم کو جتنا نقصان پہنچايا ہے اتنا باقی سب ڈکٹيٹروں نے مل کر بھی نہيں پہنچايا ۔ وہ واحد ڈکٹيٹر ہے جو حکومت جانے کے بعد ملک سے باہر رہ رہا ہے اور قوم بيچ کر حاصل کئے غير ملکی ڈالروں پر پل رہا ہے

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار صاحب، تحریر کا مقصد نہ پرویز مشرف کے اچھائی کرنا تھا نا ہی برائی کرنا، ایک محض پرویز مشرف ہی کیا اس حمام میں سب ننگے ہیں قائداعظم کے بعد کسی ایک ایسے رہنما کا نام بتا دیجئیے جس نے پاکستان اور پاکستانی کی دل و جان سے خدمت کی ہو۔ میں تو پہلے روز سے ہی یہ ہی چیخ رہا ہوں کے چاہے سیاستدان ہوں، فوج ہو، فوجی آمر ہو، نام نہاد مذہبی رہنما ہوں، یا عدلیہ ہو، یہ سب کے سب ہماری بربادی کے ذمہ دار ہیں۔ اور ان سب سے زیادہ ہم خود بھی زمہ دار ہیں کے ہم اپنے ہی قاتلوں کے اپنے کندھوں پر بٹھا کر اسمبلیوں تک لے کر جاتے ہیں۔ تحریر کا اصل متن کچھہ اور ہے۔

      • شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب مرحوم و مغفور۔
        بے پناہ ناز و نعم میں پلا ہوا کرنال کا وہ نوابزادہ جس نے اپنا سب کچھ قائد اعظم اور پاکستان پار نچھاور کر دیا ۔ جب وہ شہید کیا گیا تو ایک پیوند لگی شیروانی میں ملبوس تھا۔ اس کے اکاونٹ میں محض چند روپے تھے۔ جس نے بھارت میں کروڑوں اربوں کی جائیداد چھوڑنے کے باوجود پاکستان میں ایک انچ زمین بھی الاٹ نہ کروائی۔ بلکہ جب الاٹمنٹ والے افسروں نے اسے ایسا کرنے کی ترغیب بھی دی تو وہ ان پر سخت برہم ہوا۔
        وہ جس نے کوئی موروثی سیاسی گدی یا خاندان پیچھے نہ چھوڑا۔
        وہ اصلی مہاجر جس کی تصویر تو بعض لسانی سیاستدان کبھی کبھار اپنے جلسوں میں استعمال کر لیتے ہیں لیکن اس کے اصولوں ، نظریات اور دین سے سچی ہمدردی کو اپنانے سے عملا انکاری ہیں۔
        الغرض۔۔۔۔۔۔۔۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔
        حیرت ہے کہ آپ جیسا پاکستان کی فکر کرنے والا شخص بھی ملت پر اپنی جان و مال نچھاور کرنے والے اس عظیم لیڈر کو فراموش کر گیا

      • fikrepakistan نے کہا:

        غلام مرتضیٰ علی بھائی، قائداعظم کا ذکر کرنے کا مطلب ہی یہ تھا کے قائداعظم اور انکی ٹیم کے قریبی ساتھی، لیاقت علی خان صاحب کی خدمات کو جو فراموش کرئے وہ کسی طور پر بھی پاکستانی کہلانے کے لائق ہو ہی نہیں سکتا۔ میرئے کہنے کا مقصد یہ ہی تھا کے ان مخلص لوگوں کے بعد کوئی ایک بھی ملک و قوم کا ہمدرد نہیں آیا۔

  5. فکر پاکستان۔

    محترم۔

    یہ وہ طبقہ ہے جو ایک ہاتھہ سے اربوں روپے لوٹتا ہے اور دوسرے ہاتھہ سے عام لوگوں کی ہمدردی اور دنیا دکھاوے کے لئیے لاکھوں روپے خرچ کردیتے ہیں، یعنی اربوں لوٹوں اور لاکھوں خیرات کر دو، یہ ہے انکا طریقہ واردات۔
    واللہ میں آپکی اس سوچ اور تحقیق سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ کہ پاکستان کو پاکستان کا حق ( ٹیکسوں کی مد میں اور پاکستان کے خزانے کو پہنچائے گئے نقصان کی رقم ) واپس کردیا جائے اور اسے دیانت رادی سے استعمال کیا جائے تو پاکستان کی اکثریت کی حلات بدلی جاسکتی ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      بلکل درست کہا آپ نے جاوید بھائی، دو چیزیں ہوتی ہیں نیت یا اہلیت، ان میں سے کسی کے پاس اگر ایک چیز بھی ہوتی تو حالات بدل سکتے تھے، افسوس مگر کسی کے پاس بھی نا نیت ہے نا اہلیت۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s