پاکستان کے اصل حکمران


پاکستان میں آج تک خالص جمہوریت نہیں آسکی لیاقت علی خان کو شہید کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کے اس ملک پر کبھی نہ ختم ہونے والا قبضہ کیا جاسکے، یقیناَ پاک فوج کے جوانوں نے پاکستان کے لئیے جانوں کے نظرانے دیئے ہیں بے انتہا خدمات ہیں انکی پاکستان کے لئیے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جتنا فوج نے اس وطن کو دیا ہے اس سے کئی گنا زیادہ لیا بھی ہے دور کوئی سا بھی ہو در پردہ فوج کی ہی حکومت ہوتی ہے۔

میں اکثر اپنی تحریروں میں لکھتا ہوں کے ہماری بربادی میں فوج، سیاستدان، ملا، عدلیہ، یہ سب برابر کے شریک ہیں۔ اب کیسے ہیں یہ برابر کے شریک اسکا جائزہ لیتے ہیں۔ فوجی جرنیلز، کور کمانڈرز، آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، یہ سب وہ ادارے ہیں وہ لوگ ہیں جو اس ملک کے اصل مالک ہیں، ان سب کو ملا کر ہی اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے، کبھی یہ سامنے آکر حکومت کرتے ہیں اور کبھی پیچھے رہ کر حکومت کرتے ہیں، سامنے آکر حکومت کرنے کی صورت میں یہ اپنے کسی ایک مہرے کو استعمال کرتے ہیں جسے آرمی چیف کہا جاتا ہے، لیکن وہ آرمی چیف اکیلا خود کچھہ بھی نہیں ہوتا اس کے ساتھہ ان سب کا مکمل تعاون رہتا ہے اور یہ مل جل کر کھاتے ہیں، جب کے پیچھے رہ کر حکومت کرنے کی صورت میں بھی یہ مل جل کر ہی کھاتے ہیں مگر دنیا دکھاوے کے لئیے کٹھہ پتلی سیاستدانوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو انکی مرضی کے بغیر کچھہ بھی نہیں کرسکتے۔

سیاستدانوں کو بناتے بھی یہ ہی لوگ ہیں اور ضرورت ختم ہوجانے کی صورت میں یا جب کوئی سیاستدان انکی غلامی سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے مرواتے بھی یہ ہی لوگ ہیں۔ بھٹو سے لے کر ذرداری تک آج تک جتنے بھی سیاستدان آئے جتنے بھی نام نہاد مذہبی رہنما آئے وہ سب انکی ہی پیداوار ہیں، بھٹو نے سرکشی اختیار کی امریکی مفادات کے خلاف بات کی تو پاکستان کی تاریخ کے سب سے کنجر ترین انسان ضیاءالحق نے بھٹو کا عدالتی قتل کروادیا.

پھر پاکستان سے پیپلز پارٹی کا اثر رسوخ ختم کرنے کے لئیے پنجاب میں نواز شریف پر ہاتھہ رکھہ دیا گیا، سندھہ میں ایم کیو ایم اس وقت ابتدائی مراحل میں تھی تو اسے بھی پنپنے دیا گیا تاکے سندھہ کے شہری علاقوں میں پیپلز پارٹی کا زور توڑا جاسکے، ضیاءالحق کی موت کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی واحد جماعت تھی جس نے اپنی شرائط پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھہ معاملات کئیے، جب فوج نے دیکھا کے ایم کیو ایم ان کے قابو میں نہیں آرہی تو ایم کیو ایم میں سے ہی کچھہ لوگوں کے آپسی اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آفاق احمد پر ہاتھہ رکھہ دیا گیا اور پھر ایم کیو ایم حقیقی بنادی گئی، انیس جون انیس سو بانوے کو ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشن شروع کردیا گیا، ایم کیو ایم تقریباًَ آٹھہ سال تک اسٹیبلشمنٹ سے لڑتی رہی بلآخر اسکی سمجھہ میں یہ بات آگئی ٹراوٹ مچھلی بننے کا کوئی فائدہ نہیں ہے بہتری اس ہی میں ہے کے باقی جماعتوں کی طرح فوج سے ہاتھہ ملا لیا جائے، جب سے ایم کیو ایم نے فوج سے ہاتھہ ملایا ہے تو وہ اب محب وطن بھی ہوگئی غداری اور جناح پور جیسے خود ساختہ لیبل بھی ہٹا دئیے گئے۔

اس ہی دوران کچھہ اور نام نہاد مذہبی جماعتیں بھی بنائی گئیں جن میں سپاہ صحابہ، سنی تحریک، اور آئی ایس او سر فہرست ہیں ان جماعتوں کو کراچی میں کھلی چھٹی دی گئی تاکے وہ اپنی جڑیں کراچی میں مظبوط کرسکیں اور ایم کیو ایم کا زور توڑا جاسکے۔ جب ایم کیو ایم نے تھک ہار کر فوج سے ہاتھہ ملا لیا تو اسکا پہلا مطالبہ ہی یہ تھا کے کراچی سے حقیقی نام کی مصنوی جماعت کو جڑ سے ختم کیا جائے، فوج نے ایم کیو ایم کا یہ مطالبہ کسی حد تک تو مانا مگر مکمل طور پر نہیں کہ آج بھی فوج نے آفاق احمد کو سنبھال کے رکھا ہوا ہے تاکے ایم کیو ایم کو لگام پڑی رہے، سپاہ صحابہ کے اعظم طارق صاحب سے جتنا کام لینا تھا وہ لیا گیا اور جب انکا کردار ختم ہوگیا تو انہیں اسلام آباد میں دن دھاڑے قتل کردیا گیا۔

سپاہ صحابہ اور آئی ایس او، کو کام نکل جانے کے بعد کالعدم قرار دے دیا گیا اور سنی تحریک کو انڈر آبزرویشن رکھا گیا، کے ابھی سنی تحریک سے مزید کام لینا تھا اور وہ وقت اب آگیا ہے آج کل سنی تحریک دن دگنی رات چگنی ترقی کررہی ہے یہ سب ان ہی مہربانوں کے مہربانی کا نتیجہ ہے، جس دن انکا کردار ختم ہوگا اس دن سنی تحریک کو بھی کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔

ان تمام جماعتوں میں سب سے زیادہ عقلمند جماعت اسلامی رہی کے وہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی اوپنگ بیٹس مین رہی۔ جب کسی کی حکومت گرانی ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کو ٹاسک دے دیا جاتا ہے کے وہ بدامنی کا پرچار کرے اور دھرنے اور احتجاج کر کے لوگوں کو یہ بارآور کروائے کے اب حکومت کی تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے۔

یہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا ہی کمال ہے کے ق لیگ اور ایم ایم اے جیسی جماعتیں راتوں رات بنائی جاتی ہیں اور وہ راتوں رات اتنی زیادہ سیٹیں بھی جیت جاتی ہیں کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائیں، ایم ایم اے اسٹیبلشمنٹ نے اسلئیے بنائ کے امریکہ کو یہ بارآور کروایا جاسکے کے تم جو جہموریت جمہوریت کی رٹ لگائے رہتے ہو اگر پاکستان میں جمہوریت آگئی تو پھر یہ مذہبی انتہاپسند لوگ برسر اقتدار آجائیں گے۔

ایم ایم اے نے پورے پانچ سال بیک وقت حکومت اور اپوزیشن کے مزے لوٹے اور پس پردہ پرویز مشرف کی ہر طرح سے حمایت کر کے اسٹیبلشمنٹ سے نمک حلالی کا ثبوت دیا، جن لوگوں نے ایم ایم اے بنوائی تھی کام نکل جانے کے بعد ان ہی لوگوں نے اسکے حصے بخئیے بھی کردئیے، یہ ہی وجہ ہے کے جماعت اسلامی نے الیکشن کا بائی کاٹ کر دیا تھا کیوں کے جماعت اسلامی کی اتنی بھی حثیت نہیں کے وہ بغیر اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے پورے پاکستان سے چار سیٹیں بھی نکال سکے۔

ایم ایم اے توڑنے کے بعد اے این پی پر دوبارہ ہاتھہ رکھہ دیا گیا جو فلحال تو ہٹتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ نواز شریف کو انکی خود سری لے ڈوبی کے وہ خود اپنی زات میں بہت بڑے ڈکٹیڑ ہیں، انہیں جو ایک تہائی اکثریت دلوائی گئی تو وہ اپنی اوقات سے باہر نکل گئے وہ سمجھے کے اب پاکستان میں مجھہ سے بڑا لیڈر کوئی اور نہیں رہا اور وہ سب کو ہی اپنے ماتحت کرنے کے درپے ہوگئے اور پھر فوج کو انہیں انکی اوقات یاد دلانی پڑی جو کے آج تک یاد دلائی جارہی ہے اور مزید نا جانے کتنے سالوں تک یاد دلائی جاتی رہے گی۔

اب کیوں کے عوام پیپلز پارٹی اور نواز شریف دونوں سے ہی نالا ہوچکے ہیں تو اب اسٹیبلشمنٹ کو کوئی نیا چہرہ چاہئیے تھا جو انہیں عمران خان کی صورت میں مل گیا ہے، اگلی حکومت میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کا کوئی کردار نظر نہیں آرہا، ان دونوں کے علاوہ باقی سب کی لاٹری لگنے والی ہے۔ تو یہ ہے پاکستان کی نام نہاد جمہوریت کا حال جس کے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، فوج اور یہ ایجنسیاں ہی ہوتی ہیں، یہ سیاستدان اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں وقت آنے پر خود بھی پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور فوج اور ان ایجنسیوں کے بھی جی بھر کے مزے کرواتے ہیں۔ رہ گئے عوام تو وہ ان سب کی ترجیحات میں نہ پہلے کبھی تھے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہونگے۔ یہ ہی وجہ ہے کے یہ سب ہماری بربادی میں برابر کے شریک ہیں۔

ایک کردار اور ہے پاکستان میں حکومتوں کے بنانے اور بگاڑنے کا وہ ہے امریکہ، امریکہ نے اپنے مفادات کے حصول کے لئیے تمام سیاستدانوں، فوج اور ان نام نہاد مذہبی جماعتوں کو خرید رکھا ہے، عمومی طور پر امریکہ فوج سے ہی ڈیل کرتا ہے پھر فوج اور امریکہ مل کر طے کرتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت کرنے کے لئیے اب کس کس کی باری لگانی ہے۔ جہادی تنظیمیں بنانا پھر انہیں مٹانا، یہ سب خارجہ پالیسی کا حصہ ہوتا ہے کے کس سے کس وقت کیا کام لینا ہے، کہاں امریکہ کو بلیک میل کرنا ہے کہاں انڈیا کو منہ دینا ہے، کہاں سعودی عرب کو خوش رکھنا ہے یہ سب انتہائی گنچلک معمالات ہیں جو ایک عام آدمی کی سمجھہ میں اتنی آسانی سے نہیں آ سکتے۔

آخر میں فوج اور ایجنسیز کے درندگی کی آخری مثال دے کر اختتام کرنا چاہوں گا، کیا یہ ممکن تھا کے دارلحکومت اسلام آباد میں جامعہ حفضہ میں اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ جمع ہوجائے اتنی بڑی تعداد میں وہاں مجاہد پیدا ہوجائیں اور فوج اور ایجنسیز کو خبر تک نہ ہو؟ اس ہی فوج اور ایجنسیز کی نگرانی میں ایسے مجاہد بنائے جاتے ہیں اور اپنے مفادات کے لئیے ان سے کام لیا جاتا ہے اور جب مفادات پورے ہوجاتے ہیں تو انکا حشر وہ ہی کیا جاتا ہے جو جامعہ حفضہ میں کیا گیا۔

یہ ہی بناتے ہیں اور پھر یہ ہی ختم بھی کردیتے ہیں، سب سے زیادہ نقصان میں صرف عام عوام رہتے ہیں جو کبھی لسانیت کے نام پر دھوکہ کھاتے ہیں کبھی مذہب کے نام پر کبھی جہاد کے نام پر۔ پاکستانی عوام سے بڑا بیوقوف شاید ہی کوئی اور ہو جو ہر بار ان سب کے جھانسوں میں آجاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سامان پیدا کرلیتے ہیں۔ نہیں معلوم کے کب تک اسطرح ہی چلتا رہے گا، لیکن یہ طے ہے کے ایسا ہمیشہ نہیں چل سکتا، اللہ پاکستان کو ایک اور سقوط ڈھاکہ سے محفوظ فرمائیں آمین۔

Advertisements
This entry was posted in سیاست. Bookmark the permalink.

22 Responses to پاکستان کے اصل حکمران

  1. انکل ٹام نے کہا:

    آپ کی ہٹ دھرمی پر افسوس ہے کہ یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ جامعہ حٖفصہ میں کسی قسم کا کوی اسلحہ نہیں تھا انکے پاس چند ایک اپنے لائسنس والے ہتھیار تھے اور کچھ بعد میں حملے کے بعد فوج سے چھینے گئے تھے ، اگر انکے پاس کسی قسم کا بھاری اسلحہ ہوتا تو آپریشن اتنی جلدی ختم نہ ہو سکتا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ لوگ وہاں کی مقامی طلبہ تھے اور چند ایک قریبی مدرسوں سے جو آسکے تھے اسکے بعد وفاق المدارس نے تمام طلبہ کو منع کر دیا تھا کہ کوی ان لوگوں کا ساتھ نہ دے اسی لیے صرف چند طلبا جامعہ فریدیہ کے ہی ہونگے میرے خیال سے ۔ آپ نے یہ سوال تو اٹھایا کہ جامعہ میں اتنے مجاہدین پیدا ہو گئے اور فوج کو خبر نہ ہوی لیکن یہ سوال کیوں نہ اٹھایا کہ آنٹی شمیم جیسی پیدا ہو گئیں اور چائنیز مساج پارلر کھل گئے اور فوج کو خبر نہ ہوی ۔ مجھے بتائیں کہ مائیں اپنے بیٹوں کی شکایت لے کر مولویوں کے پاس کیوں گئی تھیں جب دارالحکومت میں پولیس بھی موجود ہوتی ہے ۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      انکل ٹام بھائی، جذباتی مت ہوں جامع حفضہ میں جو کچھہ ہوا اسکا مجھے بھی اتنا ہی دکھہ ہے جتنا آپکو ہے، مگر حقائق اپنی جگہ ہوتے ہیں، اسلام آباد ایجنسیوں کا گھر ہے وہاں ہی کیا پورے پاکستان میں انکی مرضی کے بغیر کوئی کچھہ بھی نہیں کرسکتا، آپ ایک چھوٹی سے بغاوت کی کوشش کر کے دیکھہ لیں پاتال میں سے بھی نکال کے لے آئیں گے یہ آپ کو۔ میں خود جامع حفضہ جاچکا ہوں اس دور میں اور میں نے اپنی آنکھوں سے اسلح بردار لوگ دیکھے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے کے ایجنسیز ہی ایسے لوگوں کو بناتی ہے اور جب ان سے ایجنسیز کے مفادات پورے ہوجاتے ہیں یا وہ خود سر ہوجاتے ہیں تو انہیں ختم کردیا جاتا ہے، اسکی ایک نہیں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں،لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ یا اور اس ہی طرح کی دوسری جہادی تنظیمیں بھی سب ایجنسیز کے نگرانی میں ہی بنائی گئی تھیں، جب تک ان سے کام لینا تھا انہیں استعمال کیا گیا جب جوج اور ایجنسیز کی اپنی بقا پر بات آئی تو ان سب تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا، یہ بہت ہی واضع حقیقتیں ہیں انہیں اب جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اور چانئنیز مساج سینٹر کی ہی کیا بات ہے پاکستان کے ہر شہر میں ریڈ لائٹ ایریاز ہوتے ہیں وہ بھی ان سب ایجنسیز کی مرضی سے ہی چلتے ہیں، ریاست کی مرضی سے چلتے ہیں۔

      • انکل ٹام نے کہا:

        بھای آپ نے ضرور اسلحہ بردار دیکھے ہوں گے ، انکے پاس محدود تعداد میں لائیسنس والا اسلحہ تھا جو اب تقریباً ہر مسجد کے پاس ہوتا ہے ۔ اور یہ ۱۰ سال پہلے سے ہو رہا ہے مجھے خود اچھی طرح یاد ہے ہمارے علاقے کی مسجد کے باہر بھی جوان پستولیں لے کر کھڑے ہوتے تھے ، ہر جمعہ مسجد کی حفاظت کے لیے ۔ لیکن جس قسم کے اسلحہ کی بات میڈیا نے کی تھی اسکا جھوٹا ہونا جامعہ حفصہ کی طالبات نے کر دیا تھا اور یہ بات سب جان گئے تھے ۔ اور یہ بات بھی ثابت نہیں کہ انکو ایجنسی نے پیدا کیا تھا ۔ انکو پاکستان میں پلنے والی آنٹی شمیموں نے اور چائینز مساج پارلروں نے پیدا کیا تھا ۔

        مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ ایجنسی گروپ پیدا کرتی ہے لیکن یہ لوگ ایجنسی کے پیدا کرتا تھے ، اس سے بڑی بکواس کچھ نہ ہو گی ۔

        آپ نے اپنی میں رنگ بھرنے کے لیے پر گروہ کی جماعت پر ایجنسی کے دودھ پر پلنے کا الزام لگایا ہے جس کا آپ کے پاس کوی ثبوت بھی نہیں ، مولانا اعظم طارق کی جماعت کے بہت سے لیڈر شہید ہوے ہیں انکے بہت سے کارکن شہید ہوے ہیں ، اور آپ بغیر ثبوت کے ان پر ایجنسی کی پیداوار ہونے کا الزام لگا رہے ہیں اور پھر اسکے سچ ہونے کا بھی شور مچا رہے ہیں ۔ افسوس ہے

      • fikrepakistan نے کہا:

        مسلہ صرف اتنا ہے کہ کیوں کے آپکی ہمدردی اعظم طارق صاحب کے اور انکی جماعت کے ساتھہ رہی ہے اسلئیے آپکو گراں گزر رہا ہے۔ میں نے سپاہ صحابہ کے علاوہ بھی اور بہت سی جماعتوں کے ذکر کیا ہے جنہیں ایجنسیز نے ہی بنایا ہے جو اب بھی پرفارم کر رہی ہیں اور بہت سی ختم کر دی گئی ہیں۔ لیکن آپکی جذباتی وابستگی غالباَ اعظم طارق صاحب کے ساتھہ ہے اسلئے آپکو صرف سپاہ صحابہ کو ایجنسیز کے پیداور کہنے پر اعتراض ہوا ہے۔ میں اسلئیے ہی بار بار کہتا ہوں کے اگر حق اور سچ جاننے کی لگن ہے تو میرے بھائی غیرجانبدار ہونا ہوگا۔ چلیں میں آپکو ایک اور مثال دیتا ہوں، میرا ایک بہت ہی قریبی دوست مولانہ مسعود اظہر صاحب کی تنظیم کا سرگرم کارکن رہا ہے، مولانہ مسعود اظہر خود ایجنسیز کی پیداور ہیں امریکی دباو کی وجہ سے انکی جماعت کو کالعدم قرار دیا گیا اور مولانہ کو یہ ہی ایجنسیز اپنی نگرانی میں بڑے ٹھاٹ سے رکھے ہوئے ہیں جبکہ میرا یہ دوست جیلیں بھگت چکا ہے، مولانہ کو ایجنسیز نے آنے والے کسی وقت کے لئیے سنبھال کے رکھا ہوا ہے جب کبھی انکی ضرورت ہوگی انہیں استعمال کیا جائے گا اور میرے اور آپ جیسے لوگ ایک بار پھر انکا چارا بنیں گے۔ میرے بھائی یہ سب وہ حقائق ہیں جن سے اب چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔

  2. انکل ٹام نے کہا:

    دوسری بات آپ نے سپاہ صحابہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ فوج کی پیداوار ہے اور مولانا اعظم طارق شہیدؒ فوج کے لیے کام کرتے تھے ۔ اسکے ثبوت فراہم کریں ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      میں نے وہی کہا ہے جو سچ ہے اور حقیقت ہے، صرف سپاہ صحابہ ہی نہیں میں نے اور بھی جماعتوں کا نام لیا ہے جنکا تعلق مختلف مکاتب فکر سے ہے، مجھے حیرت ہے کے آپ پاکستان میں رہتے ہوئے بھی اتنے واضع حقائق سے چشم پوشی کیسے کرسکتے ہیں۔

  3. ميں آپ کی تحرير پڑھتا جا رہا تھا اور بہت متاءثر ہوتا جا رہا تھا کہ نوابزادہ لياقت علی خان کی شہادت سے لے کر آج تک کے حکمرانی اور سياست کے تمام اسرار و رموز سے آپ مکمل طور پر آگا ہيں ۔ مجھے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے 70 سال سے زيادہ عمر پانے کے باوجود بقائمی ہوش و حواس رکھا ہوا ہے اور ميں ساری عمر بھاڑ جھونکتا رہا ۔ ليکن آپ کے آخری سے پہلے مندرجہ ذيل بند نے مجھے مدہوشی سے جگا ديا

    آخر میں فوج اور ایجنسیز کے درندگی کی آخری مثال دے کر اختتام کرنا چاہوں گا، کیا یہ ممکن تھا کے دارلحکومت اسلام آباد میں جامعہ حفصہ میں اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ جمع ہوجائے اتنی بڑی تعداد میں وہاں مجاہد پیدا ہوجائیں اور فوج اور ایجنسیز کو خبر تک نہ ہو؟

    جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ کوئی مجاہد يا انتہاء پسند نہ تو جامعہ حفصہ ميں تھا اور نہ ملحقہ لال مسجد ميں ۔ جامعہ حفصہ ميں کوئی اسلحہ بھی نہيں تھا البتہ لال مسجد ميں 14 رائفليں تھيں ۔ لال مسجد ميں درجنوں مرد اور نابالغ لڑکے نمازيوں اور جامعہ حفصہ ميں سيکڑوں يتيم ۔ نادار اور لاوارث نابالغ بچيوں کو ہلاک کرنے کے بعد لال مسجد کی مرمت کر کے اور وہاں آرمی ميوزيم سے اسلحہ لا کر رکھنے کے بعد صحافيوں کو صرف لال مسجد کا کچھ حصہ اور اسلحہ کا ڈھير دکھايا گيا تھا ۔ يہ اسلحہ چمک رہا تھا اور اس ميں ايسا اسلحہ بھی شامل تھا جو پچھلی ايک صدی ميں کہيں استعمال نہيں ہوا اور صرف ميوزيم ميں ديکھا جا سکتا ہے ۔ زيرِ استعمال اسلحہ چمک نہيں رہا ہوتا جبکہ ميوزيم ميں رکھا اسلحہ چمک رہا ہوتا ہے کيونکہ زائرين کی خاطر اُسے گاہے بگاہے چمکايا جاتا ہے

  4. Darvesh Khurasani نے کہا:

    میرے خیال میں ہمیں بھی کچھ حقائق پر بات کرنی ہے لیکن ذرا فرصت ملنے کے بعد۔

  5. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان صاحب:

    آپ نے سپاہ صحابہ کی بات کی ہے ۔ لیکن میں آپکے خیال سے اتفاق نہیں کرتا ہوں ، کیونکہ مجھے ۸۰ کی دھائی کے حالات خوب معلوم ہیں ۔ کہ خمینی انقلاب کے آنے کے بعد کس طرح انہوں نے ہمسایہ ممالک میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کی کوشش کی تھی۔

    آپ کو شائد معلوم ہو کہ نہیں لیکن ۸۰ کی دھائی میں پاکستان کے شیعہ خمینی انقلاب کے بعد کھل کر سامنے آگئے اور انہوں نے برملا خمینیت کا پرچار کرنا شروع کردیا تھا۔

    اپنے جلسوں میں یہ لوگ صحابہ کرام کے پتلے جلا دیا کرتے تھے ، اور ان پاک ہستیوں پر برملا جرح کی جاتی تھی اور انکو ننگی گالیاں دی جاتی تھی۔ نیز اپنے جلسوں اور جلوسوں کے آگے یہ کتوں کو لاتے اور انکے گلے میں امھات المومنین کے ناموں کی تختیاں لٹکاتے تھے۔

    اور آپ کو معلوم ہی ہے کہ جب حالات اس قدر سنگین ہوجاتے ہیں اور عمل اسقدر بڑھ جاتا ہے تو اسکا ردعمل بھی نکلتا ہے۔ اور وہی ردعمل سپاہ صحابہ ہے۔

    کہ مولانا حق نواز جھنگوی نے صرف اسلئے اس جماعت کی بنیاد رکھی کی اسے واقعات کی روک تھام کی جائے۔اور یہی بات وہ اپنی تقریروں میں بار بار کیا کرتے ہیں کہ میرا اس جماعت کے بنانے کا اسکے علاوہ کوئی مقصد نہیں ہے سواے اسکے کہ ان جیسے واقعات کی روک تھام ہوجائے اور ملک سے ایرانی انقلاب کے اثار ختم ہوجائیں۔
    اور شائد اس وقت اسٹبلشمنٹ کی اکثریت شیعت کے ساتھ تھی کیونکہ مولانا حق نواز صاحب کو اس جماعت کے بنانے کے بعد بے پناہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

    لھذا میرے خیال میں ایک خالص مذہبی مسئلے کی بنیاد پر بنی جماعت پر ایسا الزام لگانا ٹھیک نہیں ہوگا ، کہ اس کو فوج یا خفیہ اداروں نے بنایا ہے۔

    ہاں مین اس بات سے اختلاف نہیں کرتا کہ بعض اوقات اگر حکومت پاکستان کو ایران کی کسی مھم کی توڑ کی ضرورت ہو تو اس نے سپاہ صحابہ سے مدد لی ہو۔ اور اس میں دونوں یعنی اسٹبلشمنٹ اور سپاہ صحابہ دونوں کا مفاد مشترکہ ہو۔

    میرے کچھ جاننے والے ہیں سپاہ صحابہ میں، اور میں نے انکی مدد سے انکے جماعتی نظم پر توڑی نظر ڈالی ہے لیکن مجھے کہیں بھی اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ اس جماعت کے بنانے میں حکومت کا ہاتھ ہے۔

    آپ نے مولانا اعظم طارق کی بات کی ہے تو جناب یہ بندہ تو بعد میں اس جماعت کا امیر بنا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس جماعت کے کئی امیر گذر چکے ہیں۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ اعظم طارق صاحب کے قتل میں فیصل صالح حیات اور ایرانی حکومت برابر کی شریک ہے۔ اور اس سلسلے میں باقاعدہ اخباروں میں رپورٹ شائع ہوئی ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      درویش بھائی میں آپکی ساری باتیں مانتا ہوں، لیکن مسلہ یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے جتنی بھی جماعتیں بنائی ہیں ان سب کے پاس ہی کوئی نہ کوئی دلیل موجود ہے اپنے وجود کی۔ اور جو ایران کی بات آپ کر رہے ہیں تو بھائی اسکی حقیقت یہ ہے کے پاکستان کو ایران اور سعودیہ عرب دونوں نے تختہ مشق بنایا ہوا ہے، یہ دراصل ایران اور سعودیہ کی جنگ ہے جو پاکستان میں لڑی جاتی ہے، ایک کو ایران سپورٹ کرتا ہے اور دوسرے کو سعودیہ عرب۔ ایسی تنظیمیں وقت کی ضرورت کے لحاظ سے اسٹیبلشمنٹ بناتی رہتی ہے اور وقت نکل جانے کے بعد ختم بھی کردیتی ہے۔ آج کل سنی تحریک کو اسٹیبلشمنٹ کا آشیرباد حاصل ہے تو اسکی گڈی چڑھہ رہی ہے، جب انکا کردار ختم ہوجائے گا تو انہیں بھی ٹھیک ویسے ہی ختم کردیا جائے گا جیسے باقی تنظیموں کو ختم کیا گیا ہے۔ پاکستان پر ان ایجنسیز کی اتنی مظبوط گرفت ہے کہ یہ جسے چاہیں راتوں رات ہیرو بنا سکتے ہیں، یہ وہ ایجنسیز ہیں جو اس ملک کے بانی کی بہن فاطمہ جناح کو الیکشن ہروا دیتی ہیں، بحرحال آپکو اپنی رائے دینے کا حق ہے میرا جو تجزیہ تھا وہ میں نے سب تک پہنچا دیا۔

  6. Hamza Baloch نے کہا:

    Your story mean all things done by agencies, politicians are kids,innocent and know nothing but only wait for their turn. People vote to polticians, if the deparments under their authorty beat them than its their fualt and agencies. I am in favour of agencies role in Pakistan, as in our country we dont a sincer politicians, no dbout agnecies allot of things are must be criticiesed, but unlike other countries our country remain in war more than 5times, and also our internal situations were under the hands of un educated politicians.

    • fikrepakistan نے کہا:

      حمزہ بلوچ صاحب میں نے ہرگز کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ سیاستدان معصوم ہیں۔ سب برابر کے شریک ہیں جناب پاکستان کی بربادی میں۔ اور جہاں تک رہی بات ایجنسیز کی اور فوج کی تو بھائی یہ جو آج پاکستان کا حشر نشر ہوگیا ہے اسکا بنیادی زمہ دار ایک فوجی اور ایجنسیز ہی ہیں، اور بہت دور کیوں جاتے ہیں ابھی اسامہ کا ہی معاملہ لے لیں انکی ہوشیاریاں اب پوری قوم کے گلے پڑ رہی ہیں ایک طرف حقانی گروپ بنا کے طالبان کو سپورٹ کرتے رہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھہ جنگ میں اتحادی بن کے مال بھی بناتے رہے، کہاں ہیں وہ اربوں ڈالر جو دنیا نے انہیں دیئے ؟ اب دینا پڑے گا ہر چیز کا حساب انہیں، انکا تو اب بھی کچھہ نہیں بگڑے گا سزا ساری میں اور آپ ہی بھگتیں گے۔

      • Hamza Baloch نے کہا:

        So App kehty hia hikani group na ho? Yeh hakani group ki waja sy howa k india apny kafi sifarit khany bendkerny py majboor howa. Verna america k liye jitni qurbanya dii ja rehi thii india utna apna issir zeraz ker reha tha afghanistan main.Anyhow agencies ko kaam ko indivudualy nhi dhekna chahiye..State aur is k chilany waloo ka kaam hota hia k wo kiss direction main agencies ko use kerty hia!

      • fikrepakistan نے کہا:

        ساٹھہ سال سے نظر ہی آرہا ہے کے کسطرح چلایا جارہا ہے ایجنسیز کو، سوائے بربادی کے کیا ملا یہ سب کر کے؟ سوائے فوج اور سیاستدانوں کے کسکو فائدہ پہنچا ان سب ڈرامے بازیوں کا؟ کس نے کہا تھا کے افغانستان میں اپنے ٹانگ پھنساو اور پاکستان کو بربادی میں دھکیل دو، یہ ہیروئن یہ کلاشنکوف کلچر یہ غیرملکی دہشت گرد یہ خود کش دھماکے یہ قتل و غارت گری اس کے سوائے کیا دیا ہے ایجنسیز نے پاکستان کو؟ برباد کر کے رکھہ دیا انکی اس حکمت عملی نے قوم کے اور آپ ہیں کے اتنی درندگی کے باوجود ایجنسیز کے حمایتی بن رہے ہیں۔

  7. Hamza Baloch نے کہا:

    So you think ressia attack on afghansitan for picnic? Why ressia attacked on afghanistan??IT is not the duty of agenices to handle the state matters, if they done this it the filure of politicians.

  8. Imran نے کہا:

    Ameen. Allah Kareem Pakistan ko in Zalimon ka chungal sa Bachaay

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s