نادان دوست اور اسامہ۔


نادان دوست بھلا تو بہت کرنا چاہتا ہے مگر کر نہیں پاتا، اپنی نادانی کی وجہ سے الٹا کہیں نہ کہیں نقصان دے جاتا ہے۔

یہ انیس سو تیرانوے کی بات ہے کراچی میں ڈبل سواری پر پابندی تھی دو دوست چوری کی بائک پر سفر کررہے تھے ڈبل سواری دیکھہ کر رینجرز ان کے پیچھے لگ گئی بہت دیر تک وہ رینجرز کو اپنے پیچھے لگائے رہے آخر کار جو لڑکا پیچھے بیٹھا تھا اس کے گھر کے عین سامنے انکی بائک سلپ ہوگئی اور وہ دونوں گر گئے، جو لڑکا پیچھے بیٹھا تھا وہ اپنے دوست کو دیکھے بغیر ہی بھاگ کھڑا ہوا اور پچھلے دروازے سے اپنے گھر میں گھس گیا، گھر جاکر اس نے جب جالیوں سے باہر جھانکا تو منظر کچھہ یوں تھا کے رینجرز والے بائک موبائل میں ڈال رہے تھے وہ سمجھا کے میرا دوست بھی پکڑا گیا، جبکہ اسکا دوست بی بھاگنے میں کامیاب ہوگیا تھا، لیکن کیونکہ وہ لاعلم تھا اور اپنے دوست سے مخلص بھی بہت تھا مگر تھا نادان، وہ بغیر کسی سے کچھہ کہے سنے علاقے کے تھانے پہنچ گیا اور پولیس والوں سے کہا کے میرے دوست کو چھوڑ دو وہ بےقصور ہے مجھے گرفتار کرلو، دو تھپڑ پولیس والوں نے اسے لگائے تو سیدھا اپنے دوست کے گھر لے آیا وہ پولیس کو یوں دوسرا دوست بھی گرفتار ہوگیا، اسے کہتے ہیں نادان دوست۔

اب چلتے ہیں اسامہ بن لادن کی طرف، کم از کم مجھے اس بات میں کوئی بھی شک نہیں کے اسامہ بن لادن جس مقصد کو لے کر اٹھا تھا وہ مقصد انتہائی مقدس تھا، اسامہ کو یہ شرف حاصل ہوا کے اسے مسلم امہ کی فکر تھی، اسے اسلام کی غیرت اور حمیت کا پاس تھا، مجھے یہ بات کہنے میں زرا بھی عار محسوس نہیں ہورہی کے مسلم امہ کی جو فکر اسامہ کو تھی وہ فکر اٹھاون مسلم ممالک کے کسی سربراہ کو، کسی عالم کو، کسی مفتی کو، کسی فوجی کو، کسی سیاستدان، کسی تاجر کو، یہاں تک کے امام کعبہ کو بھی امت مسلمہ کی وہ فکر نہیں ہے جو اسامہ کو تھی۔

مجھے اسامہ کی فکر اور نیت پر بلکل بھی شک نہیں ہے اور جہاں تک رہی بات نیت کی تو نیت پر تو مجھے اس خودکش بمبار کی بھی شک نہیں ہوتا جو اپنی جان تو دیتا ہی ہے مگر اپنی جان کے ساتھہ ساتھہ سینکڑوں بے گناہ لوگوں کی جان بھی لے لیتا ہے، کیوں کے وہ بھی اپنی نیت کے تحت جنت کے حصول کے لئیے ہی اپنی جان دے رہا ہوتا ہے۔

اسامہ شہزادہ تھا دولت اتنی کہ شاید اگر وہ ساری زندگی صرف نوٹ ہی کھاتا رہتا تب بھی اسکی دولت ختم نہ ہوتی، یہ مسلمانوں کے لئیے اسکی فکر اور نیک نیتی ہی تھی کے اس نے ساری آسائشیں چھوڑ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوئے کفار کے خلاف اعلان جہاد کیا اور اس میں عملی طور پر حصہ بھی لیا، روس کے افغانستان سے چلے جانے کے کچھہ ہی عرصے بعد عراق نے کویت پر حملہ کردیا اور پھر مسلمانوں کی تاریخ کا زلت آمیز واقعہ ہوا کے سعودیہ کے موجودہ رکھوالوں نے اللہ سے مدد مانگنے کے بجائے امریکہ سے مدد مانگ لی، یہ وہ وقت تھا جب اسامہ ایک بڑے حلقے میں مسلمانوں کی پہچان بن چکا تھا، اسامہ نے سعودی حکومت سے اس بات پر اختلاف کیا کہ امریکی فوج کو اس پاک سر زمین سے باہر نکالا جائے اسامہ کا یہ مطالبہ سعودی حکمرانوں نے نامنظور کردیا، اختلافات اتنے بڑھے کے اسامہ کو سعودی عرب چھوڑنا پڑا.

یہ وہ وقت تھا یہ وہ مقام تھا جس جگہ اسامہ کو ثابت قدم رہنا تھا اور کوئی مدبرانہ فیصلہ کرنا تھا کے وہ امت مسلمہ کے لئیے ایسا کیا کرے کے جس سے مسلمانوں کے یہ ابتر حالت بدل جائے اور مسلمانوں کو کفار کی غلامی سے نجات مل جائے۔ یہاں سے اسامہ کے پاس دو راستے تھے ایک وہ راستہ جو اس نے اختیار کیا اور جسکا نتیجہ آج پوری دنیا کے سامنے ہے کے امت مسلمہ پہلے سے بھی زیادہ ابتر حالت پر پہنچ گئی.

دوسرا راستہ تھا دانائی کا، امن کا، علم کا، تدبر کا، تفکر کا۔ اسامہ کے پاس خود بےتحاشہ دولت تھی اور پھر اس وقت تک وہ اس حلقے کی پہچان بن چکا تھا کے جس حلقے کے اچھے اچھے صاحب ثروت لوگ اپنا تن، من ، دھن، اسامہ کے ایک اشارے پر لٹانے کے لئیے تیار تھے، افغانستان میں ملا عمر کی حکومت تھی یعنی دوسرے معنوں میں اسامہ کی ہی حکومت تھی طالبان اپنی جان نثار کرتے تھے اسامہ پر اور جان ہی کیا انہوں نے تو اپنا پورا ملک آنے والے نسلیں تک قربان کر دیں اسامہ پر، سعودیہ سے نکلنے کے بعد اگر اسامہ افغانستان چلا جاتا اور وہاں بیٹھہ کر بجائے محاظ آرائی والے راستے کے علم کا راستہ اختیار کرتا، افغانستانی وہ قوم ہے جو صدیوں سے ایک ہی حال میں جیتی آرہی ہے، علم سے دوری، جہالت اور جذباتیت سے لبریز قوم ہے یہ، یہ ہر دور میں ہی حالت جنگ میں رہے ہیں جب کوئی دشمن میسر نہیں ہوتا تو یہ آپس میں ہی لڑ مرتے ہیں۔

اسامہ کاش اس وقت یہ حقیقت مان لیتا کے کسی بھی ریاست سے ٹکر لینا کسی ریاست کے ہی بس کا کام ہوتا ہے کسی فرد یا کسی گروہ کے بس کا نہیں، افغانستان کی شکل میں اس کے پاس ایک ایسی ریاست موجود تھی جو جنگجو بھی تھی بہادر بھی تھی، اس قوم میں اگر کوئی کمی تھی تو وہ تھی شعور اور تعلیم کی اسامہ جاہتا تو وہ اس قوم کی اس کمی کو پورا کرسکتا تھا، جسطرح اسامہ نے دنیا بھر کے امیر کبیر مسلمانوں کو القائدہ کی فنڈنگ کے لئیے راضی کیا اس ہی طرح اگر اسامہ چاہتا تو افغانستان کو ایک اسلامی رول ماڈل ریاست بنانے کے لئیے بھی ان سب لوگوں کو راضی کرسکتا تھا۔ وہ افغانی بچے جنکے ہاتھوں میں آنکھہ کھلتے ہی قلم کی جگہ اسلحہ پکڑا دیا جاتا ہے جنکی انگلیاں جانتی ہی نہیں کے قلم ہوتا کیا ہے.

اگر اسامہ آج سے بیس سال پہلے یہ عزم کرتا کے میں نے اس قوم کو انسان بنانا ہے اور شعور کی اس منزل پر لا کر کھڑا کرنا ہے جہاں سے اٹھاون اسلامی ممالک کے سربراہان اور انکی عوام یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کے ہاں یہ ہے مسلمان قوم، یہ ہے مثالی اسلامی ریاست، اسامہ اور ملا عمر مل کر نئے سرئے سے افغانی قوم کی تشکیل نو کرتے، جس وقت روس کے ٹکڑئے ہوئے تو وہاں کے سائنسدانوں کو دنیا بھر کے ملکوں نے زیادہ سے زیادہ قیمت لگا کر خرید لیا تاکے وہ انکے ملک و قوم کی بہتری کے لئیے کام کریں، کیا اسامہ کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ دنیا بھر سے سانٹسٹ خرید سکتا؟ صدیوں سے جہالت میں ڈوبی ہوئی قوم کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کروا دیتا؟ بچوں کے ہاتھہ سے اسلحہ چھین کر انکے ہاتھہ میں وہ قلم دے دیتا جس کے بارے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کے عالم کے قلم کی روشنائی شہید کے خون سے زیادہ مقدس ہے۔ کاش کے اسامہ اور ملا عمر محاظ آرائی کا راستہ اختیار کرنے سے پہلے صرف اس حدیث کو ہی ٹھیک سے سمجھہ لیتے۔

اسامہ اور ملا عمر اگر علم کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مقصد کی طرف بڑھتے، اسکول، کالجز، یونیوسٹیز، ریسرچ سینٹرز، لیبارٹریز، قائم کرتے، تجارت بڑھاتے، اپنی بدحال قوم کے لئیے روزگار کے نئے نئے مواقع پیدا کرتے، جسم تو افغانستان میں بہت تھے دماغوں کی کمی تھی تو وہ دنیا پھر سے پیسہ خرچ کر کے خرید لیتے جیسے کے آج امریکہ اور یورپ کرتے ہیں، دشمن کو زیر کرنے کے لئیے اور دشمن کے برابر آکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے لئیے اگر اسامہ اور ملا عمر آج سے بیس سال پہلے اگر اس راستے کی بنیاد ڈالتے تو آج کم از کم ایک نسل کی فصل تو تیار کھڑی ہوتی جس کے کاندھے پر ہاتھہ رکھہ کر اسامہ اور ملا عمر فخر کے ساتھہ پوری دنیا کے سامنے سرخرو ہوتے، افغانستان کی حالت یقیناَ بہت زیادہ بدل چکی ہوتی.

چینی افیمی قوم تھی مگر محض پچاس سال کی انتھک محنت اور مثبت حکمت عملی نے آج اسے ایک گولی چلائے بغیر دنیا کی دوسری اور آنے والی وقتوں کی پہلی سپر پاور بنا دیا ہے، بیس سال میں اتنی تبدیلی تو ہوہی جاتی کے افغانی قوم پر جو دہشت گرد ہونے کا دھبہ لگا ہوا ہے وہ تو کم از کم دھل ہی جاتا، علم و تحقیق کی ایک بنیاد رکھہ دیتے ایک ایسی مثبت بنیاد کے آنے والا ہر بچہ اس ہی راستے پر چل کر آگے آتا بیس سال نہیں تو چالیس سال پچاس سال لگ جاتے دنیا کی نہیں تو اسلامی دنیا کی سپر پاور تو بن ہی جاتا افغانستان، اور پھر امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے برابری کی سطح پر آکر معاملات کرتے، امریکہ کو جھکنا ہی پڑتا.

کاش کہ اسامہ نے یہ سب کیا ہوتا تو آج اسامہ اور ملا عمر اسلامی دنیا کے صحیح معنوں میں ہیرو ہوتے، باقی اسلامی ممالگ کی عوام میں بھی انکی دیکھا دیکھی جرت پیدا ہوتی اور وہ اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھہ کھڑے ہوتے کے جب ایک شخص اکیلا مسلمانوں کے لئیے اتنا کچھہ کرسکتا ہے تو ہمارے حکمراں کیوں نہیں کرسکتے، امت مسلمہ میں علم و تحقیق کی آگ بھر جاتی دوسرے اسلامی ممالک کو بھی مجبوراَ اپنی روش بدلنی پڑتی مگر افسوس ایسا کچھہ نہیں ہوا۔

اسامہ نے جو تشدد کا راستہ اختیار کیا اگر جائزہ لیں تو اسامہ کو کیا حاصل ہوا اس راستے پر چل کر؟ جن عوامل کی وجہ سے وہ دشمنوں کے خلاف کھڑا ہوا تھا وہ سب عوامل تو آج بھی اپنی جگہ پر ہی ہیں بلکے اور مزید بد تر ہوگی ہے امت مسلمہ کی حالت۔ امریکن فوج آج بھی سعودی عرب میں موجود ہے، کویت میں موجود ہے، اسامہ نے امریکہ کے محض دو ٹریڈ ٹاور لئیے، بدلے میں اس نے مسلمانوں کے پورئے دو ملک لے لئیے، مسلمان دنیا میں امن پسند قوم جانی جاتی تھی، آج دہشت گرد قوم مشہور ہوچکی ہے، پاکستان برباد ہوگیا، افغانستان برباد ہوگیا، عراق برباد ہوگیا، پائپ لائن میں لیبیاء، ایران، شام ہیں، وہ وقت دور نہیں جب سعودیہ کا بھی نمبر آئے گا۔

اس جنگ میں اسامہ نے اپنی جان بھی دی اور لاکھوں انسانوں کی جان بھی لی، حاصل کیا ہوا اس سب کا؟ کاش وہ اس حقیقت کو سمجھہ پاتا کے کمزور کا غصہ جہالت سے شروع ہو کر ندامت پر ختم ہوتا ہے، کاش وہ سمجھہ پاتا کے بغیر علم کے بغیر ٹیکنالوجی کے، بغیر فراست کے جنگیں نہیں جیتی جاتیں آج کے دور میں، نیت تو تھی مگر اہلیت نہیں تھی، نیت کے ساتھہ اہلیت کا ہونا کتنا ضروری ہے یہ مجھے اسامہ کے انجام نے سکھایا، افسوس کے خلوص نیت ہونے کے باوجود اسامہ امت مسلمہ کا نادان دوست ثابت ہوا۔ میرئے نزدیک تو اسامہ عبدالستار ایدھی صاحب کے مقام تک بھی نہیں پہنچ سکا، ان سب حقائق کے باوجود بھی اگر کوئی اسے امت مسلمہ کا ہیرو کہتا ہے تو ضرور کہے مگر میں تو اسے امت مسلمہ کا نادان دوست ہی قرار دوں گا.

نادان دوست بھلا تو بہت کرنا چاہتا ہے مگر کر نہیں پاتا، اپنی نادانی کی وجہ سے الٹا کہیں نہ کہیں نقصان دے جاتا ہے۔

Advertisements
This entry was posted in افسوس. Bookmark the permalink.

40 Responses to نادان دوست اور اسامہ۔

  1. عثمان نے کہا:

    اگر حسب دستور کسی دہشت پسند کی خوشامد کے واسطے آپ میرا تبصرہ نہ ہٹائیں تو کچھ کہنے کی جسارت کروں ؟
    بن لادین اور طالبان غنڈوں کی مثال اُس ریچھ جیسی ہے جس نے دوست کے منہ پر سے مکھی اڑانے کے لئے دوست کا منہ ہی اڑا ڈالا۔ لیکن نہیں .. میرے خیال میں مذہبی غنڈوں کا ریچھ سے موازنہ کرنا بھی کم از کم ریچھ صاحب کے ساتھ ذیادتی ہے۔
    آپ نے اس تحریر میں انسان دوست ، مرد حق ، جناب عبدالستار ایدھی کا موازنہ ایک مذہبی غنڈے کے ساتھ کرکے جناب عبدالستار ایدھی کی توہین کی ہے۔ جن غنڈوں کا موازنہ درندوں سے نہیں کیا جاسکتا آپ اُن کو لاچاروں کے محسن عبدالستار ایدھی سے ملا رہے ہیں؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      عثمان بھائی میں کسی کا بھی تبصرہ حذف نہیں کرتا ماسوائے انتہائی غیر مہذب تبصروں کے۔ میں عبدالستار ایدھی صاحب کی عزت امام کعبہ سے زیادہ کرتا ہوں، کہ جو کچھہ ایدھی صاحب نے مسلمانوں اور پوری انسانیت کے لئیے کیا ہے اور کر رہے ہیں پوری مسلم امہ ملکر بھی انکی خدمات کا مقابلہ نہیں کرسکتی، میں نے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کے لئیے ہی ایدھی صاحب کی مثال دی ہے کے لوگوں تک پیغام پہنچ جائے کے اصل ہیرو کسے کہتے ہیں۔ لیکن مجھے پورا یقین ہے کے بند ذہنیت کے حامل لوگ میری اس مثال سے متفق نہیں ہونگے اور وہ ایک ایسے شخص کو ہی اپنا ہیرو بنائے رکھیں گے جس نے حقیقی معنوں میں مسلمانوں کے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

  2. Aniqa Naz نے کہا:

    آپ نے اسامہ کی زندگی کے اہم پہلوءووں سے صرف نظر کیا ہے۔ اسکی زندگی کا آغاز امریکہ کی خدمات کے ساتھ ہوتا ہے یہ امریکہ تھا جس نے انہیں مجاہد بنا کر افغانستان میں اتارا۔
    اسامہ جس نظرئیے پہ یقین ہی نہیں رکھتا تھا یعنی فلاح اور ترقی کا نظریہ وہ اسے کیسے عمل میں لے آتا۔
    وہ ایک شہزادہ تھا اور شہزادوں جیسی بگڑی ہوئ عادات رکھتا تھا۔ اسے معلوم ہی نہ ہو پایا کہ عام آدمی کی کیا زندگی ہوتی ہے۔ اس نے امریکہ سے اپنی ذات کے لئے ٹکر لی اس میں سعودی عرب سے امریکی فوج کا انخلاء کا مطالبہ بہت دیر میں آیا۔ جب اسامہ صاحب کو احساس ہوا کہ دراصل عالم اسلام کی دکھتی رگ امریکہ کی رعونت ہے۔
    اسامہ نے ایک ایڈویچر سے بھرپور زندگی گذاری جو اسکے مزاج کے عین مطابق تھی اور جس کا جہاد یا عام مسلمانوں کی فلاح یا حق تلفی سے کوئ تعلق نہ تھا۔ یہ لاگ بات کہ انہوں نے جہاد کو اپنے لئے استعمال ضرور کیا۔
    اسامہ نے وہ کام ایک تھوڑے عرصے میں کر ڈالا جو مغرب کی استعماری قوتوں کو کرنے میں ایک لمبا عرصہ لگانا پڑتا اور رسوائ الگ ہوتی۔
    آپ نے جتنے عظیم خیالات پیش کئیے کیا وہ اسامہ کے ذہن میں نہیں آ سکتے تھے۔ کیا وہ اتنا ذہن بھی نہیں رکھتا تھآ کہ محض آپکی طرح سوچ لیتا۔ اسکی یہ نیت ہی نہ تھی تو اسے یہ خیال کیوں آتے۔
    امریکہ سے اسامہ کا جھگڑا اسکی عزت نفس کے مجروح ہونے سے شروع ہوا۔ جو عالم اسلام کو ایک عظیم نقصان سے دوچار کر گیا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عنیقہ صاحبہ آپکی بات درست ہے مگر میں تو پھر بھی اسامہ کو یہ ایڈوانٹیج دینے کے لئیے تیار ہوں کے اس وقت اس کے پیش نظر روس کے افغانستان سے نکالنا تھا اسلئیے اس نے امریکہ کی مدد لی۔ لیکن جو کچھہ اس نے بعد میں کیا وہ مسلمانوں کے سراسر بربادی کا سبب بنا آج اس ایک شخص کی وجہ سے تمام مسلمانوں پر دہشت گرد کی چھاپ لگ چکی ہے جسے ہٹانے میں صدیاں لگ جائیں گی۔اور آپکی یہ بات بھی بلکل درست ہے کہ جو کام کفار نہیں کر سکے وہ کام ہمارا یہ نادان دوست کر گیا۔۔

  3. آپ نے دونوں پہلو درست اُجاگر کئے ہيں ۔ ميں صرف معدودے چند حقائق کا اضافہ کروں گا
    1 ۔ سعودی عرب نے امريکا سے مدد نہيں مانگی تھی بلکہ امريکی مطالبے کا ابھی جواب بھی نہ ديا تھا کہ امريکا نے وہاں فوج اتار دی تھی ۔ شايد اس کا سبب پاکستان کا عراق سے ملنے والی سعودی سرحد کی حفاظت سے انکار تھا
    2 ۔ اوسامہ کو نہ تو امريکا نے يا امريکا ميں تربيت دی گئی اور نہ ہی امريکا نے اُسے افغانستان ميں اُتارا تھا
    3 ۔ اوسامہ نے 1983ء ميں امريکی مصنوعات کا استعمال اپنے اُوپر حرام کر ديا تھا اور اپنے ساتھيوں کو سختی سے اس پر عمل کی تليقين کرتا تھا ۔ اسرائيل اور اسرائيلی مصنوعات کا وہ پہلے سے ہی دُشمن تھا
    4 ۔ اوسامہ دراصل فلسطين کو آزاد کرانے کيلئے اُٹھا تھا اور تربيت کيلئے افغانستان آيا تھا جہاں اس نے گلبدين حکمتيا ۔ يونس خالص ۔ غلام ربانی وغيرہ سے عسکری تربيت حاصل کی تھی ۔ مُلا عمر ان دنوں نامعلوم تھا
    5 ۔ کچھ لوگ اُس عبدالستار ايدھی کيلئے رطب اللسان ہيں جسے کراچی ميں صرف ايک بار کسی نے دھمکی دی تھی تو اس نے علی الاعلان کہا تھا "ميں انڈيا چلا جاؤں گا”
    6 ۔ جو لوگ افغانی طالبان کو غنڈے کہہ رہے ہيں انہوں نے يا ان کی سياسی جماعت يا ان کے خاندانوں نے پاکستان ميں کونسے گُل کھلائے ہيں ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب، یہ قوم اس لائق نہیں کے عبدالستار ایدھی صاحب جیسا مومن انسان اس کے حصے میں آئے، ایک لاکھہ اسامہ مل کر بھی ایک عبدالستار ایدھی نہیں بن سکتے، ایدھی صاحب کے بارے میں کسی قسم کی ہرزہ سرائی اجتمائی احسان فراموشی ہوگی۔

  4. عمران اقبال نے کہا:

    جناب ایسا ہی ایک سوال میں نے اپنے بلاگ پر بھی اٹھایا تھا کہ آخر اسامہ کی حقیقت ہے کیا۔۔۔؟ کیا وہ ملت اسلام کا ہیرو ہے یا ولن۔۔۔ لیکن بد قسمتی سے کوئی جواب نا مل سکا۔۔۔

    http://emraaniqbal.co.cc/2011/05/%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%D8%AA%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%D8%A7%DB%94%DB%94%DB%94%D8%9F/

    • fikrepakistan نے کہا:

      عمران بھائی ، اقبال جہانگیر صاحب نے جو بات کی ہے وہ توجہ طلب ہے۔

    • Hamza Baloch نے کہا:

      Again another bias coulmn. Just praising osama for few line you want to prove that article is not bias. Abdul sitar ko ehdi awam k paisoo sy chil reha hia koi apni dolat nhi lota reha,but lets dont bring him here. Lets come on talban, talban ney kitna ersa govt kiya afhganistan main aur jitna ersa kiya os main 2 azeem kaam kiya eik imin aur dosra khosit ki paidawaar bend ker dii? abut app k article perh k yehi legta hia app kehy gaiy unhoo ney bewakoofi kii ,khset ki paidwar zeada kery k doleet kimaty aur phir os dolet sey universities binaty!!!

      • fikrepakistan نے کہا:

        جو احسان عظیم ایدھی صاحب نے اس ملک و قوم پر کیا ہے وہ اسامہ یا طالبان مل کر بھی تا حیات نہیں کرسکتے اسامہ اب اگر مر کر بھی زندہ ہوجائے تب بھی وہ ایدھی صاحب کی جوتی کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ آپ کر کے دکھا دو بھائی قوم کے پیسے سے یہ سب کام۔

  5. iqbal jehangir نے کہا:

    اسامہ کی موت سے القائدہ کی طرف سے شروع کیا ہوا ، دہشت گردی و قتل و غارت گری کا ایک باب اختتام پزیر ہوا۔ القائدہ اور طالبان کے وجود مین آنے پہلے پاکستان مین تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ القائدہ نے طالبان کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا، کاروبار کا خاتمہ ہو گیا،مسجدوں،تعلیمی اداروں اور بازاروں مین لوگوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اور پاکستان حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیا۔ پاکستانی معیشت تباہ ہو گئی اور اس کو ۴۵ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
    حقیقت ہے کہ اس دہشت گردی کا زیادہ نشانہ خود مسلمان بنے۔ صرف پاکستان میں 35ہزار سے زیادہ انسان دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔سعودی عرب‘ یمن‘ سوڈان‘ عراق اور متعدد دیگر مسلمان ملکوں میں ان گنت افراد جان سے گئے۔ اسامہ خود تو ختم ہو گئے مگر پاکستان لئے دہشت گردی اور نفرتوں کے اثرات چھوڑ گئے‘ جو نہ جانے کب تک ہمیں مشکلات میں مبتلا رکھیں گے۔
    تشدد اور دہشت گردی کا راستہ کبھی آزادی اور امن کی طرف نہیں لے جاتا۔ تشدد کرنے والے بھی اسی طرح کے انجام اور سلوک سے دوچار ہوتے ہیں‘ جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا ر کھتے ہیں۔
    اسامہ اور القائدہ لازم ملزوم تھے، اس کے جانے سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اسامہ میدان جنگ سے دور ایبٹ ٓباد کے ایک پر تعیش بنگلے مین چھپا بیٹھا تھا۔مزید براں قتل و غارت گری کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی اور ان کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے۔
    اُسامہ بن لادن کی یمنی بیوی اِمل نے دوران تفتیش حکام کو بتایاہے کہ2007ءمیں ایبٹ آباد میں بلال ٹاﺅن منتقل ہونے سے پہلے القاعدہ کے رہنماءاپنے خاندان کے ساتھ ضلع ہری پور میں ہزارہ کے قریب ایک گاﺅں چک شاہ محمدمیں مقیم تھاجہاں وہ سب تقریباً اڑھائی سال تک قیام پذیر رہے ۔گزشتہ سوموار کو امریکی اسپیشل فورسز کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن، جس میں اسامہ بن لادن ہلاک ہوا، اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نرم رویہ اب ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ صرف اور محض اس لئے کہ ان سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حقائق تبدیل ہوچکے ہیں، اگر یہ عسکریت پسند کسی اور کیلئے خطرہ ہیں تو وہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہین۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔ایک طویل عرصے سے ہم اپنی قامت سے بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے آ رہے ہیں، اب آئندہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
    اسامہ بن لاڈن سالہا سال سے پاکستان مین تھا اور طالبان نے اسے تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ لگتا ہے انہیں نے پیسے کی خاطر اسامہ کی مخبری کر دی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اب القائدہ کے دوسرے چھوٹے موٹے لیڈران ،طالبان سے خوفزدہ رہین گے۔ طالبان نے پیسے کی خاطر اسامہ کو بیچ ڈالا اور اب ڈرامے بازی کر رہے ہین۔
    میرے خیال مین اسامہ کے ٹھکانہ کے اخفا کے معاملہ مین الاظواہری اور پاکستانی طالبان ،دونوں ملوث ہین۔ ظواہری ،اسامہ سے مصر کے معاملہ پر بیان نہ دینے کی وجہ سے ناخوش تھا۔ یاد رہے مصری ہونے کی وجہ سے ظواہری کی مصر سے جذباتی وابستگی ہے۔ ظواہری اقتدار کا بھوکا ،لالچی اور غیر وفادارشخص ہے اور ہمیشہ مصریوں کو آگے لانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ مزید بران اگر الظواہری کی گذشتہ ۵ تقریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ظواہری اپنے آپ کو ایک بڑے رول کے لئے پوزیش position)کر رہے ہین۔یہ ظواہری گروپ تھا جس نے اسامہ کو قائل کیا کہ وہ قبائلی علاقہ چھوڑ کر ایبٹ آباد منتقل ہو جائین۔ سیف العدل،کی ایران سے واپسی پر ،اسامہ کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اسامہ کی ہلاکت سے پہلے ہی القائدہ مین پھوٹ پڑ چکی تھی اور القائدہ دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ القائدہ کا تکفیری گروپ اسے کنٹرول کر رہا تھا۔
    جعفر از بنگال و صادق از دکن
    ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
    یہ شعر ملک و ملت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے انہی دو غداروں میر جعفر اور میر صادق کے متعلق ہے، آج بھی دنیا ایسے ہی بدبخت اور روسیاہ غدار موجود ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔مسلمانوں مین میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کی کمی نہ ہے، عباسی وزیر، ابن علقمی منگولوں سے مل گئے اور سقوط بغداد کا سبب بنے۔ ہمیشہ اس قبیل کے لوگوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔اسامہ بن لادن بھی اپنے بھیدیوں کی وجہ سے مارا گیا۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
    میرے خیال میں یہ لوگ ہین الظواہری اور طالبان جنہوں نے ذاتی جاہ و اقتدار ، حسد ،مخاصمت اور پیسے کے لالچ مین اسامہ کی مخبری کر دی۔اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کے لئے طالبان اب ڈرامہ بازی کر رہے ہین۔
    اسامہ کے جانے سے القائدہ کے مصری اور دوسرے گروپوں مین جانشینی کا جگھڑا اٹھ کھڑا ہو گا اور الظواہری ، جانشین بننے کی پوری کوشش کرے گا۔ ظواہری ، اسامہ کو عبداللہ عظام کی طرح اپنی امارت کی راہ کا روڑا سمجھتا تھا۔ وہ اسامہ سے اس لیئے ناراض تھا کہ اسامہ نے مصر کے معاملہ پر کوئی بیان جاری نہ کیا تھا۔ ظواہری، اسامہ کی طرح القائدہ کو متحد نہ رکھ سکے گا اور نہ دوسرے گروپ اس کو اپنی بیعت دیں گئے، کیونکہ وہ ظواہری کو اسامہ کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہین۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      اقبال جہانگیر صاحب، بہت عمدہ اور تفصیلی تجزیہ کیا ہے آپ نے، آپکی دلیلوں میں دم لگتا ہے، اس لحاظ سے پاکستان کے لئیے آنے والا وقت اور بھی زیادہ کڑا ہوسکتا ہے۔

  6. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان صاحب

    آپ نے کہا ہے کہ اسامہ کو علمی میدان میں آگے آنا چاہئے تھا ، لیکن جناب ایک چھوٹا سا سوال یہ ہے کہ کیا اسکو اس بات کاموقع بھی مل سکا ہے ؟

    جب سے طالبان افغانستان میں آئے تھے تو اسی وقت سے وہ متواتر جنگوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ انکو کلی اقتدار ملا کب تھا۔ پہلے پہل مناسب انتظام نہ ہونے
    سبب لڑکیوں کے تعلیم پر ہابندی لگائی تھی لیکن جب اخری وقت میں حالات تھوڑے سازگار ہوئے تو انہوں نے مناسب انتظام کے ساتھ دوبارہ یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ اسی طرح انکے پاس یہ موقع ہی کب تھا کہ وہ کالج اور یونیورسٹیاں بناتے۔

    اس قابل تو ہم پاکستانیوں نے انکو نہیں چھوڑا تھا۔ اپنے ایجنسیوں کے بندے داخل کرکے انکا سارا نظام درھم برھم کردیا تھا۔

    آپ دیکھتے کہ اگر انکو مناسب موقع ملتا اور اندرونی جنگوں سے وہ فارغ ہوتے تو پھر تعلیم کا سلسلہ شروع کرتے ۔ وہ بیچارے تو روز وشب اس فکر میں تھے کہ ہم اپنا وجود کیسے برقرار رکھ سکیں گے، کہ بیرونی اشاروں پر ناچنے والی شمالی اتحاد سے اپنا بچاو کرسکیں۔

    لھذا میرے خیال میں تو آپکا یہ اعتراض بے جا ہے۔

    دوسرے تبصر نگاروں جن کا خیال یہ کہ عبد الستار ایدھی اچھے انسان ہیں ، تو میرے خیال میں ان سے اچھے انسان تو بل گیٹس اور ریڈ کراس والے ہیں کہ باوجود اسکے کہ ہم انکو دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن عین لڑائی میں بھی ریڈ کراس والے زخمیوں کو اٹھاتے ہیں۔

    ڈرون حملوں کے زخمیوں کو ایک پاکستانی ادارہ بھی علاج معالجہ فراہم نہیں کرتا سوائے ریڈ کراس کے۔

    یہ عبد الستار کو تو ایک بار صرف ۱۰ ہزار پاونڈ ملے قادیانیوں کی طرف سے تو بس یہ انکی مدح خوانی میں پاگل ہوکر انکو مسلمان قرار دینے لگے۔ اور لگے انکے لئے دعا کرنے ۔

    میں حیران ہوں اس شخص پر کہ جو آدمی باتیں کرنا نہیں جانتا تو وہ اتنا بڑ ا
    ادارہ کیسے چلاتا ہے۔ ضرور کوئی اسکو سامنے لا کر پس پردہ رہ رہا ہے۔

    باقی یہ بات کہ القاعدہ اور طالبان نے پاکستان کو برباد کیا تو جناب حقائق سے چشم پوشی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

    یہ آپکے منصوبہ سازوں کے کارنامے ہیں کہ پاکستان کی یہ حالت ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر تو اندر تک جائیں اور ان حرام خوروں کو علم تک نہ ہوجائے۔

    سارا دن بس عورتوں اور شراب و کباب میں گذار دیتے ہیں۔

    انکی پالیسیوں کے سبب ملک تباہ ہوا ہے۔ اپنے محسنوں تک کو بھی
    نہیں بخشا ، صرف اپنے ناجائز کرتوتوں کو چھپانے کے خاطر۔

    اور یہ باقی لوگ جو کہ اغیار کے گود میں بیٹھ کر ملک میں آگ لگا رہے ہیں تو انکا تو کیا ہی کہنا۔کراچی کو روشنیوں کے شھر سے آگ کے شھر میں بدل دیا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      بل گیٹس بے شک ہر اس مولوی سے بہتر ہے جو مسجد کے منبر سے شر پھیلاتا ہے، میں نے ایدھی صاحب کے حوالے سے ساری دنیا کی بات نہیں کی تھی صرف پاکستان کی بات کی تھی، اور رہی بات یہ کے ایدھی صاحب یہ سب کیسے چلا رہے ہیں تو وہ آپکی سمجھہ میں آ بھی نہیں سکتا، اسکے لئیے عملی جدوجہد کرنی پڑتی ہے نیٹ پہ بیٹھہ کر تبصرہ کرنا بہت آسان ہے اور ایسی گلی سڑی لاشوں کو غسل دینا جنکو انکے اپنے بھی ہاتھہ لگاتے ہوئے کراہیت کھائیں بہت مشکل ہوتا ہے، مجھے افسوس ہے کے آپ نے انتہائی روایتی ذہنیت کی کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایدھی صاحب کے خدمات پر شک کیا۔ اور میں نے اسامہ کے بارے میں بلکل ٹھیک کہا ہے امریکہ خود نہیں گیا تھا اسامہ سے لڑنے بہت وقت تھا اسامہ کے پاس اس نے خود محاظ آرائی کا راستہ اختیار کیا تھا امریکہ نے جواباَ اسے سبق سکھایا ہے۔ اسامہ اور ملا عمر کو بہت ٹائم ملا انکی اپنی تنگ ذہنیت کی وجہ سے ہی یہ لوگ آج اس انجام کو پہنچے ہیں۔ ایک شخص کے لئیے پوری ریاست اور لاکھوں لوگوں کو مروا دینا کہاں کی عقلمندی ہے ؟ کیا فائدہ ہوا اپنی حکومت بھی گئی لاکھوں لوگ بھی مروائے اور جسکے خاطر یہ سب کیا وہ خود وہاں سے بھاگ کر پاکستان آگیا لوگوں کو مرنے کے لئیے چھوڑ کر۔ بچ پھر بھی نہیں سکا۔

      • Darvesh Khurasani نے کہا:

        جناب ریڈ کراس بھی تو پاکستان میں کا م کر رہی ہے۔ اور میرے خیال سے تو ایدھی صاحب کے اگر ہم پلہ نہیں تو کم بھی نہیں۔

        رہی بات یہ کہ تبصرہ لکھنا آسان اور عملی زندگی مشکل تو جناب میرے خیال میں ایک بلاگر کیلئے یہ بات ضروری ہے کہ پہلے اس کے سینے میں درد اٹھے پھر وہ لوگوں کے سامنے اس موضوع پر بات کرے۔

        اور یہ بات کہ ایدھی صاحب یہ سارے کام کس طرح کر سکتے ہیں ، اور آپکا جواب کہ وہ آپکی سمجھہ میں آ بھی نہیں سکتا، اسکے لئیے عملی جدوجہد کرنی پڑتی ہے

        ویسے کسی کو بتانے کا شوق نہیں لیکن تحدیث بالنعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان میں سیلاب کے موقع پر بندہ خود امدادی کاموں میں مشغول رہا ہے اور ایک ایک فرد کے پاس جا کر اسکو خرچے کیلئے نقد رقم دی ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کا ایک احسان ہے۔

        زلزلہ میں لاکھوں رپوں کی امداد میں بھی بندہ شریک رہا ہے۔

        آپ لاشوں کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے بم دھماکوں میں ایسے انسانی ٹکڑے جمع کئے ہیں کہ جو کہ لاش بن ہی نہیں سکتے تھے۔ اور بالکل بوٹیاں بوٹیاں زمین پر بکھری ہوتی تھی۔ جیسے پکانے کیلئے گوشت کے ٹکڑے کئے جاتے ہیں۔

        اور اسی لئے میں نے ایدھی صاحب کے خدمات پر شک کیا کہ بندہ دیکھو تو بات تک کرنا نہیں جانتا اور پروگرام اتنا بڑا شروع کیا ہے ، اخر اس بندے کیلئے یہ سب کیسے ممکن ہے۔مجھے تو کوئی اسکے پیچھے نظر آرہا ہے۔( آپ اگر میرا یہ شک دلائل کے ساتھ دور کرسکتے ہیں تو بالکل مین سچ جاننے کیلئے تیار ہوں )

        ویسے ایک بات کہوں کہ کراچی میں میرے دوست ایدھی کے مردہ خانے پر گئے اور جب آنے کی وجہ مردہ خانے والوں نے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ آپ کے خلاف رپورٹیں ہیں کہ مردہ انسانوں کے گردے نکال کر بیچتے ہیں اور ایک ایسی لاش کو لاوارث قرار دے کر اعضاء کے فروخت کیلئے چھپاتے ہیں جس کے لواحقین موجود ہوتے ہیں۔

        جس پر ایدھی والوں نے انکو مردہ کانے کے اندر نہیں جانے دیا۔ اور زبردستی انکو واپس کردیا۔ (اللہ جانے اس مین کتنا سچ ہے لیکن اگر سچ ہے تو نہایت افسوس کا مقام ہے۔)

      • fikrepakistan نے کہا:

        اصل افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ آپ نے بغیر کسی ثبوت کے اتنا بڑا الزام اس فرشتہ صفت انسان پر لگا دیا، جسے پیسے کی کوئی کمی نہیں لوگ اپنی شناخت بتائے بغیر جسے کروڑوں روپے دے جاتے ہوں اسے بھلا یہ گردے بیچنے جیسا گھنوونا عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ کی سوچ آپ کے اکابرین کی طرح انتہائی منفی ہے۔ اپنی سوچ اور فکر پر نظر ثانی کی ضرورت ہے آپکو۔

  7. Darvesh Khurasani نے کہا:

    اقبال جہانگیر صاحب :

    آپ نے دعوے تو کردئے لیکن کہیں بھی کوئی بھی ثبوت نہیں دیا کہ القاعدہ بکھری ہوئی ے۔

    رہی بات دہشت گردی اور قتل و غارت کی تو جناب یہ قتل وگارت سب کچھ رد عمل ہے ۔ جب کسی کی عورت کو تحقیق کے نام سے گھر سے اٹھا لیا جائے تو پھر اسکا دماغ آپکی طرح فلسفے نہیں سوچھتا بلکہ وہی کچھ کرتا ہے ، جو ہو رہا ہے۔

    آپکو یہ درد معلوم ہی نہیں کہ اگر آپ کا بیٹا یا باپ فروٹ فروش ہو لیکن چند ٹکوں کی خاطر کیوبا پہنچ جائے تو پھر میں کہوں گا کہ اقبال ساحب اب ذرا اپنا فلسفہ بیان کرنا۔

    جتنا برا عمل یہ ایجنسیاں کریں گی ، تو اتنا برا رد عمل ضرور آئے گا۔

    مساجد میں دھماکے کون کرتا ہے تو جناب یہ بات ریمنڈ ڈیوس سے پوچھئے۔ جنکو آپ کی حکومت نے مہمان بنا کر پالا تھا لیکن سانپ سانپ ہی ہوتا ہے۔

    دھماکے کروانے کیلئے ہم نے خود ایک ہی رات میں ۵۰۰ امریکیوں کو پاکستان بلوایا ہے۔ تو اب رونا کیوں؟

    امریکی کالونیاں انہیں فلسفیوں نے ملک میں بنائی ہیں۔
    نا کہ ان جاہل مولیوں نے۔

    یہ دانشوروں کو کام تھے جو کہ پتھروں کے دور میں جانے سے ڈرنے لگے۔ لیکن پھر بھی ادھر کو گئے ۔

    یہ بیچار مولوی تو پاکستان کے بننے کے بعد سے دھوکہ میں رکھے جارہے ہیں۔

    جب ضرورت تھی تو کشمیر میں لڑوا دیا لیکن جب ضرورت ختم تو پھر دہشت گرد۔

    ایک ایف سی والا کہنے لگا کہ کیوں یہ لوگ ہم کو مارت ہیں ۔ میں نے جواب دیا کہ انہوں نے تمہیں اپنے تحفظ کیلئے پالا تھا لیکن جب تم پاگل کتوں کی طرح اپنوں کو کاٹنے لگے تو انجام یہی ہوگا۔پاگل کتے کو مارا ہی جاتا ہے۔

    لاجواب ہو کر بکواس بکنے لگا۔ امریکیوں کی طرح۔

  8. Hamza Baloch نے کہا:

    Jo bhi ehdi shb ney kiya os main issi awam k paisa shamil tha aur shamil hia… jiss qoum main app terah terah ki khamya dhonty rethy hia.

    Rehi baat talban kii, woh afghanistan main imin ly k aaye,iss khon ka khil khtam kiya jissy aj america aur duniya k tamam mulk mil k 10 saal sy imin ly k nhi aaye!

    • fikrepakistan نے کہا:

      آپ بن کے دکھا دو قوم کے پیسے سے عبدالستار ایدھی۔ سیاستدانوں کی اوقات ہی کیا ہے بھائی فوج اور ایجنسیز کے آگے۔ آپ پاکستان کو پاکستان ہی سمجھیں فرانس نہ سمجھیں کے یہاں فوج اور ایجنسیز حکومت کے ماتحت ہونگی۔ یہاں جو بھی آتا ہے اسے فوج اور ایجنسیز کے ماتحت ہونا پڑتا ہے۔

  9. Darvesh Khurasani نے کہا:

    آپ نے شائد میرے اس جملے (اللہ جانے اس مین کتنا سچ ہے لیکن اگر سچ ہے تو نہایت افسوس کا مقام ہے۔) پر غور کرنے کے بجائے دینی اور مذہبی رہنماؤں پر کیسے یہ الزام لگا لیا۔ کہ انکی سوچ منفی ہے ۔ اور یہ الزام بھی ایسا ہی بے ثبوت لگایا ہے جیسے کہ آپ کی عادت شریفہ ہے کہ بات بے بات پاکستان کے دینی طبقے پر الزامات لگاتے رہتے ہیں۔

    آپ کے ضزبات دینی حلقے کے بارے میں پڑھ کر مجھے وزیرستان کے ایک قبیلے کے راہنماء کی بات یاد آگئی۔ جب پاکستان حکومت نے اپریشنوں کے ذریعہ وزیرستانیوں کا قتل عام شروع کیا تو اس ملک نے کہا کہ حکومت اگر ہم سے اتنی تنگ ہے تو کیوں یہ لوگ ہم پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرتے کہ پورا وزیرستان ملیا میٹ ہوجائے تاکہ بات ہی ختم ہوجائے۔

    میرے خیال میں اگر یہی تجربہ پاکستان کے دینی حلقے پر بھی آزمائی جائے تو بس آپ جیسے لوگوں کیلئے پاکستان رہ جائے گا۔

    کیا خیال ہے ۔

    لوگ روپوں کا اعتبار صرف ایدھی صاحب پر نہیں کرتے بلکہ ایسے بہت سے ادارے ہیں کہ جو فنڈ کی زیادتی کے سبب مزید فنڈ لینے سے معذرت کرتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں اعتبار۔

    یہ اعتبار نہیں کہ نظام میں اتنی شفافیت نہ ہو کہ مردہ خانہ کسی کو دکھانے کے قابل نہ ہو۔

    جو ایدھی صاحب صرف اس وجہ سے اپنی صفائی نہیں کرتا کہ اس سے پانی ضائع ہوتا ہے تو وہ بچت کیلئے گردے بھی بیچ سکتا ہے (اگر یہ خبر درست ہو)

    اور صرف معمولی چندے کیلئے یہ صاحب کیا کیا نہیں کرتے تو ذرا میرا یہ پوسٹ ہی پڑھ لیں ۔

    http://darveshkhurasani.wordpress.com/2011/04/24/%DB%B8%DB%B7/

    • fikrepakistan نے کہا:

      آپکی اس تحریر کا لوگوں نے کسطرح استقبال کیا ہے وہ تبصروں کی تعداد سے ہی آپکو اندازہ ہوگیا ہوگا۔ اگر غیر مسلم سے نیک کام کے لئیے پیسہ لینا نا جائز ہے تو بھائی جہاد افغانستان میں کیوں آپ کے اکابرین نے جھولی بھر بھر کے ڈالرز لئیے تھے امریکہ سے اور آج تک لے رہے ہیں اور معصوم لوگوں کو جہاد کے نام پر مروا رہے ہیں اور اپنے بچوں کے بیرون ملک اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوارہے ہیں۔ ایدھی صاحب نے بلکل ٹھیک کہا کے سب سے بڑا مذہب انسانیت ہے اسلئیے ہی اللہ نے فرمایا کے میں رب عالمین ہوں رب مسلمین کہیں نہیں فرمایا۔ ایدھی صاحب آپ کے ان شر پھیلانے والے مولویوں سے کروڑ درجہ بہتر انسان ہیں جو مذہب کے نام پر مسلک کے نام پر فرقوں کے نام پر لوگوں کو بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں آپ اندھی تقلید میں اتنے آگے جاچکے ہیں کے آپ میں اتنی بھی اخلاقی جرت نہیں کے اپنے اکابرین سے پوچھہ سکیں کے اسلام کے رو سے کہاں اور کیسے ثابت ہوتا ہے فرقہ پرستی اور مسلک پرستی جائز ہے؟ آخری خطبہ سمجھہ کر پڑھنے کی زحمت کرلیجیئے تو انشااللہ صحیح سمت کا تعین کرنے میں مدد مل جائے گی۔

      • Darvesh Khurasani نے کہا:

        . . . آپکی اس تحریر کا لوگوں نے کسطرح استقبال کیا ہے وہ تبصروں کی تعداد سے ہی آپکو اندازہ ہوگیا ہوگا. . .

        گویا آپ کے نزد کسی پوسٹ پر تبصروں کا زیادہ ہونا ہی معیار حق ہے۔ واہ جی واہ کیا ہی فارمولہ طے کیا ہے جناب ۔

        آپکے اسی بات سے آپکے ذہن کی عکاسی ہورہی ہے۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        بلکل جناب اگر لوگ آپ سے متفق ہوتے تو آپ کے اس شوگر کوٹڈ الزام کو ضرور سراہتے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کے کسی نے بھی آپ سے اتفاق نہیں کیا۔

      • Darvesh Khurasani نے کہا:

        جناب آپکے میرے پوسٹ کے بارے میں تبصرے کو دیکھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ جو کہ پوسٹ کا مطلب ہی نہ سمجھ سکے تو تبصرہ کیسا۔

        اعتراض اس بات پر ہے کہ صرف دس ہزار پاونڈ کے بدلے قادیانیوں کو مرتد سے مسلمان قرار دیا گیا۔ (یہ جھالت نہیں تو اور کیا ہے۔)

        انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے لیکن یاد رکھو اگر یہ انسانیت کی خدمت وحی کے مطابق نہیں ہے تو یہ خدمت بالکل قبول نہیں ہے۔ اور قیامت کو یہ بندہ خالی ہاتھ ہی رہے گا۔

        اور یہ انسانیت کی خدمت میرے نزد ایدھی سے ریڈ کراس والے عیسائی زیادہ کر رہے ہیں۔ لھذا اس ایدھی سے تو وہ عیسائی اچھے ۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        بے شک جو جتنی زیادہ انسانیت کی خدمت کرے گا وہ اللہ کے نزدیک اتنا ہی زیادہ مقبول ہوگا، بار بار آپ سے عرض کیا ہے کے اللہ رب عالمین ہے رب مسلمین نہیں ہے۔ اور کسی نے بھی قادیانیوں کے مسلمان قرار نہیں دیا ہے، اچھا کام کوئی بھی کرے چاہے وہ قادیانی ہی کیوں نہ ہو اسے سراہنا چاہئیے یہ عین اسلامی ہے غیر اسلامی نہیں ہے جناب۔

    • Abdullah نے کہا:

      اس درویش خراسانی جیسوں کے ہوتے اسلام کوکسی دشمن کی قطعی ضرورت نہیں!!!!
      😦

      • Darvesh Khurasani نے کہا:

        عبداللہ :

        اسی لئے میں نےفکر پاکستان صاحب سے کہا کہ ان دیندار بطقوں کو کیمیائی ہتھیار مار کر ختم کرلو، تاکہ یہ (اسلام دشمن ) ختم ہو کر صرف ( اسلام دوست) ہی رہ جائیں ۔ کیا خیال ہے؟؟؟

  10. Hamza Baloch نے کہا:

    Thats very stupid logic,politicians nhi handle ker sekty to govt kerny q aa jaty hia? na ahili polticians ki kasoor agencies k… Wah!

  11. Hamza Baloch نے کہا:

    To mery bhai, Yeh siyasit danoo ki na ahiliii hia, na k agencies ka kasoor!

  12. فکر پاکستان: آپ نے تو میرے دل کی بات لکھ ڈالی۔ یہی بات لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ سٹریٹجک پلاننگ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ جتنا زور ایک بندے نے جہاد پر لگایا، اگر یہ حکمت عملی اپنائی جاتی جو آپ نے بیان کی ہے تو آج جہاد کی ضرورت ہی نہ رہتی۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      قدیر احمد بھائی بلکل بجہ فرمایا آپ نے اگر اس حکمت عمل کیا جاتا تو اس سارے فساد کی تو ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ تحریر کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ۔

  13. دوسری بات یہ کہ اس تحریر میں گندم لکھا اور نیچے تبصرے چنے پر ہو رہے ہیں۔ میں اگر آپ کی جگہ پر ہوتا تو ایسے تبصروں کو درخو اعتنا ہی نہ جانتا کہ جن پر بحث کا کوئی نتیجہ نہیں۔

  14. Taheem نے کہا:

    اچھا بلاگ ہے
    ایسے ہی شیئرینگ کرتے رہا کیجئے

  15. Abdullah نے کہا:

    فکر پاکستان بھائی یہ ان دہشت گردوں کے ہمدردوں کا اصول ہے کہ جب بھی انہیں کچھ کہو ،یہ بات کا رخ ایم کیو ایم اوراس سے جوڑی گئی دہشت گردیوں کی طرف موڑ کر سامنے والے کو چپ کروانے کی کوشش کرتے ہیں،(کیونکہ وہ کھلم کھلا ان کی دہشت گردیوں پر آواز بلند کرتے ہیں)
    یہ ہر بات میں جہاد اور اسلام لا کر اپنے گھناؤنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوششیں کرتے ہیں،
    آج بھی ان نام نہاد مسلمین کے ہیروئن سے بھرے دو ٹرک کراچی سے پکڑے گئے ہیں پٹھانوں اور پپنجابیوں کے گڑھ سے،محمو د آباد ،ماڑی پوراور قائد آباد
    فیصل بیس پر حملہ کرنے والے شاہ فیصل کولونی سے داخل ہوئے،شاہ فیصل کالونی میں کن کی اکثریت ہے یہ بتانےکی ضرورت نہیں ،یہ دہشت گرد جرائم پیشہ اپنے ہم قوم لوگوں میں چھپ کر،اپنی مزموم کوروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،
    اور ان ہی میں سے بہت سے بلاگس کے ذریعے ہمدردیاں بٹورنےکی کوششیں کررہے ہیں!
    ایک ایک آدمی نے کئی کئی ناموں سے بلاگ بنائے ہوئے ہیں ،
    جب اس پر بس نہیں چلتا تو خواتین کے ناموں سے بلاگ اور تبصرے شروع کردیتے ہیں ،
    یہ تاریک ذہن پاکستان اوراسلام دشمن،ان سے محتاط رہنا اور ان کی چالوں پر گہری نظر رکھنا بے حد ضروری ہے!

  16. Abdullah نے کہا:

    یہ تبصرہ کاشف نصیر کے نام سے بنائے گئے دہشت گردوں کے بلاگ پر کیا گیا ہے
    اور کیوں کہ مجھے یقین ہے وہا ں اس کو چھپنے نہیں دیا جائے گا ،
    اس لیئے فکر پاکستان کے اورآپکے بلاگ پر بھی چھاپ دیا ہے!
    http://kashifnaseer.co.cc/2011/05/%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/

  17. فراز نے کہا:

    قوموں کی فتح وشکست کبھی سائنس و ٹیکنالوجی کی مرہون منّت نہیں رہی ۔ افغانستان پر حملہ کرنے والی برطانیہ کی چالیس ہزار افواج میں سے صرف ایک ڈاکٹر جان بچاکر واپس آ سکا۔ مگر کہا جاتا ہے انسان نے تاریخ سے یہی سبق سیکھا ہے کہ اس نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا لہٰذا روس بھی اسی افغانستان پر حملہ آور ہوا مگر افغان جنگ نے روسی معیشت کا جنازہ نکال دیا ۔

    آج بھی سائنس و ٹیکنالوجی کو عروج و زوال کا واحد سبب سمجھنے والے مسلمان اندلس میں مسلمانوں کی سائنسی برتری کا بہت چرچا کرتے ہیں مگر مسلم اسپین کا انجام کا ذکر کرتے ہوئے انہیں سانپ سونگھ جاتاہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اسپین کے مسلمانوں کی برتری اور بلند و بالا عمارات انہیں نہ صرف یہ کہ شکست سے نہیں بچاسکیں بلکہ اسپین سے مسلمانوں کا وجود ہی صفحہ ہستی سے ہی مٹ گیا۔

    اسی اسپین میں جامع مسجد،الحمراء کے محلات اور دیگر پرشکوہ عمارات تو باقی ہیں مگر مسلمان باقی نہیں ہیں۔ اس کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ میں اسلام اور مسلمان اپنی سائنسی پس ماندگی کے باوجود زندہ و توانا رہے۔

  18. Imran نے کہا:

    Wohi purani Bakwas.. Usama ka Drama.. waisay mujha writer ki tmam batein bohat achi lagien. laikin writer sahab bhee un Jailon ki tarah aqeedah rakhtay hien k USMA na TWIN TOWERS ko giraya… Jahaly ki intihaa, ab to US ki agencies aur tafteshi idaron na bhee sabit ker dia k 911 ek drama tha.. aur hmaray likhari aaj bhee usay ISLAMI JIhaad sa tabeer ker rahay hien… in bewakufon ki akal mine kyu nahi aata k ye dramna sara ka sara Usama samait Muslim Countries per RAID kerna ka tha…
    Allah in likhnawalon ko akal day Ameen

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s