مومن کی فراست سے مومن کی جہالت تک


ازل سے اصول ہے بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھاتی ہے، طاقتور کمزور کو دباتا ہے، طاقتور کا بےرحم رویہ قابل مذحمت، لیکن کمزور رہنے پر اسرار اس سے بھی زیادہ قابل مذحمت ہے، حدیث ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو، جبکہ آج دنیا مومن کی جہالت سے ڈرتی ہے۔

امریکہ ظالم ہے امریکہ بدمعاش ہے امریکہ طاقت کے نشے میں مست کمزوروں کے کچل رہا ہے، صرف دوھائیاں ہیں ماتم ہے کھوکھلے نعرے ہیں بے ہنگم چیخ و پکار ہے، کھوکھلی بد دعائیں ہیں، مومن کی کھوئی ہوئی میراث ( علم ) کہیں نظر نہیں آرہا تاریخ کے صفحے پلٹ کر طاقت کا مظاہرہ دیکھتے ہیں۔

مسلمان اسپین سے لے کر افریقہ تک کیا لینے گئے تھے؟ ہم قرآن کے حکم کی تکمیل کے لئیے گئے تھے اللہ کے دین کو پھیلانے کے لئیے گئے تھے لیکن کل ہم طاقتور تھے تو کفار کی نظر میں ہم ظالم تھے، آج وہ طاقتور ہے تو آج وہ ہماری نظر میں ظالم ہے، طاقت کا یہ کھیل صدیوں پرانہ ہے طاقتور کی طاقت کو گالی دینے کے بجائے اپنی کمزوری پر توجہ دو، آدھی سے زیادہ دنیا پر پھیلی ہوئی سلطنت عثمانیہ بغیر طاقت کے بغیر علم کے بغیر فراست کے ہی قائم ہوگئی تھی کیا؟.

ہے کوئی بڑے سے بڑا عالم جو اس طرف سوچے کے مومن کی فراست مومن کی جہالت میں کیسے تبدیل ہوگئی ؟ اب دوبارہ طاقت کا حصول کیسے ممکن ہے؟ سادہ سا جواب ہے، مومن کی کھوئی ہوئی میراث (علم) کے حصول کی تگ و دو سے، مگر جہاں علم کو ہنر کا نام دے دیا جائے، جہاں مادہ جو کے اللہ کے بےشمار نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اسکے ترقی کو کفر قرار دیا جائے اسے دنیا کی محبت اور آخرت سے غفلت کا سبب قرار دیا جائے، جہاں ذہنوں کو ایک مخصوص خول میں بند کردیا جائے، گھوڑے کی آنکھوں پر آئی کیپ لگایا جاتا ہے تاکے وہ ادھر ادھر نہ دیکھہ سکے صرف سیدھا یعنی ایک ہی سمت میں دیکھہ سکے، جہاں عالموں کے روئیے یہ ہوں کے پوری امت کی آنکھوں پر اپنے اپنے مسلک اپنے اپنے فرقے کا آئی کیپ لگا دیا گیا ہو تاکے امت صرف وہ ہی کچھہ دیکھہ سکے جو یہ عالم حضرات اپنے فرقے اور اپنے مسلک کے حساب سے دکھانا چاہتے ہوںوہاں بھلا تبدیلی کیسے ممکن ہے؟.

 آج آکسفورڈ یونیورسٹی میں اسلامیات میں پی ایچ ڈی کروائی جاتی ہے کیا پاکستان میں کرسچنٹی میں پی ایچ ڈی ممکن ہے ؟ ڈرو اس وقت سے جب کفار ہم سے برابری کی سطح پر معاملات کرنے پر اتر آئیں، آج سعودیہ عرب میں کفار کی تو بات ہی چھوڑ دیں کسی مسلم ریاست کے شہری کو یہ حق حاصل نہیں ہے کو وہ سعودیہ عرب کی شہریت حاصل کرسکے، جائیداد بنا سکے، تنہا کاروبار کرسکے، شادی کرسکے، حکومت کا حصہ بن سکے یا صرف ووٹ ہی ڈال سکے، جبکہ یہ تمام سہولیات کفار ممالک میں مسلمانوں کو حاصل ہیں، مسلمان انکے ملک کی شہریت بھی لے سکتا ہے، جائیداد بھی بنا سکتا ہے، تنہا کاروبار بھی کرسکتا ہے، شادی بھی کرسکتا ہے، ووٹ بھی دے سکتا ہے انکی حکومت کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔

صرف اتنا ہی فرض کرلیں کے آج امریکہ اور یورپین ممالک پابندی لگا دیں مسلم اسٹوڈنٹس کے داخلے پر تو کیا حشر ہوگا ہمارا؟ علی نوازش جیسے طالب علم جس نے پچھلے دنوں ایم بی اے کے جوبیس میں سے بائیس یا تیئس سبجیکٹس میں اے ون گریڈ حاصل کیا ہے، پاکستان مٰیں کوئی ایسی یونیورسٹی نہیں جو اسکے میرٹ کے مطابق اسے کسی سبجیکٹ میں اسپیشلائیزیشن کروا سکے، اسے کیمرج یونیورسٹی جانا پڑا، اور علی نوازش ہی کیا ہمارے جتنے بھی بڑے بڑے نام ہیں وہ سب اس وقت ہی لیچنڈ بنے ہیں جب وہ کفار ممالک سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں، پھر چاہے وہ علامہ اقبال ہوں یا ڈاکڑ عبدالقدیر۔

یہ گو امریکہ گو جیسے بیہودہ اور غلیظ نعرے لگانا بہت آسان ہے اور علم سے قابلیت سے تحقیق سے ترقی سے فراست سے امریکہ کے قد کے برابر آنا بہت مشکل ہے، یہ بیہودہ لوگ ہمیشہ آسان کام ہی کرتے آئے ہیں اور آسان کام ہی کرتے رہیں گے، کیا مسلمان یورپ سے گو مسلم گو کے نعرے سن کر ہی نکلے تھے ؟ طاقتور کو گالی دینا فراست کی نہیں جہالت کی انتہا ہے پست اور شکست خوردہ ذہنیت کی علامت ہے.ان جانوروں کے دل میں زرا اللہ کا خوف نہیں آتا کے کیسے قوم کو ان بیہودہ اور لا حاصل نعروں میں الجھا کر اصل مقصد سے دور بہت دور رکھا ہوا ہے۔

فرض کرلیں کے آج امریکہ یکے بعد دیگرے تمام اٹھاون کی اٹھاون مسلم ریاستوں کو دو آپشن دیتا ہے کے یا تو عیسائیت قبول کرلو یا پھر آجاو میدان جنگ میں، ہے کوئی ایسی مسلم ریاست جو میدان جنگ میں مقابلہ کرسکے امریکہ کا؟ یہ ہی قاضی حسین احمد پادری حسین احمد بن کر کسی چرچ میں وعظ  دیتا نظر آئیگا، یہ ہی حال باقی کے ان مذہب فروشوں کا ہوگا جو آج قوم کو امریکہ کے خلاف بے مقصد نعروں میں الجھائے رکھتے ہیں۔

پچھلے دنوں خبر پڑھی کے کسی سعودی باشندے نے سات انڈوں پر پورا قران شریف لکھہ دیا، اس سے زیادہ ترقی وہ کر بھی نہیں سکتا ہے یہ معراج ہے اسکی ذہنی ترقی کی، جبکے کفار نے انڈوں پر توریت لکھنے جیسے فضول کام میں وقت برباد کرنے کے بجائے انڈے کی افادیت پر تحقیق کی اور ہم جیسے جاہلوں کے بتایا کے انڈے کی ذردی کی کیا افادیت ہے یا کسی مخصوص حالت میں ( بلڈ پریشر کے مریض کے لئیے ) زردی کے کیا نقصانات ہیں، اور انڈے کی سفیدی کی کیا افادیت ہے۔ اسے کہتے ہیں ایک مخصوص خول میں بند ذہن اور ایک آزاد اور ویژنری ذہن میں فرق۔

اللہ کا واسطہ ہے ایسے نام نہاد مذہبی رہنماوں کو کے اگر قوم کو فراست نہیں دے سکتے تو خدا کے واسطے جہالت بھی نہ دو، نہیں ہے تمہارے اندر وہ اہلیت کے تم قوم کو اسکی کھوئی ہوئی میراث لوٹا سکو، اس حقیقت کو مان لو اور جا کر غرق ہوجاو کہیں، آذاد کردو قوم کے ذہنوں کو تاکے یہ اپنے ذہنوں کو تمہارے دئیے ہوئے خول سے آذاد کر سکیں اتار کر پھینک دیں وہ آئی کیپ جو صدیوں سے تم نے انکی آنکھوں پر لگایا ہوا ہے۔

ازل سے اصول ہے بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھاتی ہے، طاقتور کمزور کو دباتا ہے، طاقتور کا بے رحم رویہ قابل مذحمت، لیکن کمزور رہنے پر اسرار اس سے بھی زیادہ قابل مذحمت ہے، حدیث ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو، جبکہ آج دنیا مومن کی جہالت سے ڈرتی ہے۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

11 Responses to مومن کی فراست سے مومن کی جہالت تک

  1. حضرت مومنین کے بہت لتے لئے جا چکے ہیں. کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ اب پاکستان اور امّت مسلمہ کے حقیقی ناسور یعنی مغرب کی پروردہ اشرافیہ پر بات کی جائے اور ایک ایسے نظام کی بحالی کی بات کی جائے جس میں امّت مسلمہ عوامی امنگوں کے مطابق اپنے وسائل اپنی ترّقی ، فلاح اور بہبود پر خرچ کر سکیں. ویسے بھی یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ کسی بلاگر کی پوسٹ پڑھے بغیر لوگ یہ اندازہ لگا لیں کی مصنف نے کیا بات کی ہوگی. تنوع بھی تو آخر کوئی چیز ہوتی ہے.

  2. NOOR نے کہا:

    ہمارے جتنے بھی بڑے بڑے نام ہیں وہ سب اس وقت ہی لیچنڈ بنے ہیں جب وہ کفار ممالک سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں، پھر چاہے وہ علامہ اقبال ہوں یا ڈاکڑ عبدالقدیر۔ . . . . . . . .ہاں بھائ جان ۔ ۔ ۔مگر یہ سب ہماری غفلت کا ہی تو نتیجہ ہے ۔ ۔ وگرنہ ایک زمانے میں اہل یورپ مشرق وسطی ( بغداد وغیرہ میں آکے علم حاصل کرتے تھے ۔ ہم لوگ عیش و عشرت کے دلدادہ ہو گئے اور وہ محنت کرتے رہے ۔ تو آج ہمیں ان کے در پر جان پڑ رہا ہے ۔ ۔ ۔

    کوئی ایسی مسلم ریاست جو میدان جنگ میں مقابلہ کرسکے امریکہ کا؟ . . . . . . . .بھئی اتنا بھی نا امید ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ان شاء اللہ یہی سوئے ہوئے جب جاگ جائیں گیں تو بڑے سے بڑا کفر بھاگ جائے گا ۔

    ………………….بس ۔ ۔ ۔ ۔ ضرورت ہے کہ ہم لوگ اس جہالت کی تاریکی سے نکلنے کے لئے کمر بستہ ہو جائیں …..

    جزا ک اللہ خیرا

  3. حضور آپ کس کی بات کر رہے ہيں ؟ کہاں ہے مؤمن ؟ کيا کرتے ہيں يہ مسلمان کہلانے والے اُس اللہ کيلئے جس نے انہيں بے شمار نعمتيں دے رکھی ہين ؟ اسے بھی چھوڑيئے ۔ کيا ديتے ہين يہ اُس سرزمين کو جس نے انہيں اپنی آغوش ميں لے رکھا ہے ؟ صرف مطالبات ؟
    آپ نے کہا ” علم ” ؟ اتنے سارے پی ايچ ڈی بن چکے ہين کيا ديا اُنہوں نے اس مُلک کو سوائے گاليوں اور تفرقہ کے ؟
    ضرورت اس بات کی ہے کہ اپب اپنی منافقت چھوڑ کر مسلمان بن جائيں ۔ جب مسلمان بنيں گے تو اللہ کے احکامات کی تعميل کريں گے جس مين حصو٣لِ عِلمِ نافع شامل ہے اور خدمتِ خلق بھی

  4. Abdullah نے کہا:

    یہ بابا جی سے لےکر جتنے یہاں تعصب تعصب کی ڈگڈگی پیٹ رہے ہیں،
    دراصل اپنا تعصب چھپانے کی کوشش کررہے ہیں،یہ سب اس وقت تک خاموش بیٹھے رہے جب تک یہ مرنے والے کو بلوچی یا اردو اسپیکنگ سمجھ رہے تھے مگر جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ مرنے والے کا تعلق کشمیر سے ہے،
    ان کے بین شروع ہوگئے!
    رہے افتخار اجمل ، تو یہ بندہ ہر بات میں لاہور پنجاب اٹھا لاتا ہے،
    اور جہاں موقع ملے کراچی والوں کو ذلیل کرنے اور نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے،
    پتہ نہیں اس کو کراچی والوں سے کیا بغض ہے،
    اپنی پوسٹ وطن معاشرہ اور دہشت گردی میں لکھتا ہے،

    کراچی کے پُر رونق علاقہ ميں ايک نوجوان کو عوام کے محافظين نے نہائت سفّاکی کے ساتھ قتل کر ديا ۔ ميں سوچتا ہوں کہ کلفٹن کا علاقہ جہاں آدھی رات تک گہما گہمی رہتی ہے وہاں مقتول ۔ 6 وردی والوں اور دلير کيمرہ والے کے علاوہ کوئی انسان موجود نہ تھا کہ اس بے بس نوجوان کی جان بچانے کی کوشش کرتا ؟ کيا ميرے سب ہموطن اپنے جسم کے علاوہ کچھ اور سوچنے کے اہل نہيں رہے ؟ اس لحاظ سے تو لاہوری قابلِ تحسين ہيں کہ اُنہوں نے ريمنڈ ڈيوس کو گھير کر پوليس کے حوالے کر ديا تھا ورنہ وہ دو جوانوں کو ہلاک کرنے کے بعد بھاگ گيا ہوتا

    عام کراچی والے جانتے ہیں کہ اگر وہ مداخلت کرتے تو ڈاکوؤں کی تعداد ایک سے زیادہ ہوجاتی،اور رینجرز کی واہ واہ میں مزید اضافہ،
    اور انکو شائد علم نہیں کہ کلفٹن میں پنجابیوں کی اکثریت ہے،ورنہ شائڈ الفاظ کچھ اور ہوتے!
    یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس واقعے کی وڈیو بن رہی ہے رینجرز بھی نہیں کیونکہ وہاں کچھ فاصلے پرکسی اور پروگرام کی ریکارڈنگ چل رہی تھی اور ٹی ؤی کے کیمرے اتنے پاور فل ہوتے ہیں کہ دور سے بھی کسی چیز کو صاف ریکارڈ کرسکتے ہیں،
    رہی لاہوریوں کی حب الوطنی کی بات تو یہ دو ایجینسیوں کی لڑائی تھی ،جس میں ایک نے دوسرے کومات دینے کی کوشش کی!
    لاہوری اربوں روپوں کا کاروبار روزانہ کرتے ہیں اور ٹیکس کے نام پر لاکھوں دیتے بھی مصیبت پڑتی ہے،ایسی ہوتی ہے حب الوطنی؟؟؟؟؟

    اور ان کی اس قتل پر تکلیف کی شدت کا یہ عالم ہے کہاسی واقعے کے حوالے سے ایک خوامخواہ جاپا نی کے ذہریلے پوسٹ پر ،
    خوش دلی سے تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں،
    افتخار اجمل بھوپال کا کہنا ہے:
    جون ۱۰ ، ۲۰۱۱ at ۱۲:۵۶ شام
    بھا جی ۔ اے ظلم نہ کرو ۔ ٹکا ٹک کراچی والياں دا مرغوب کھانا نئيں اے ۔ لاہور لکشمی چوک دا مشہور کھانا اے

    جیسے اگر اس اہم بات کی وضاحت نہ ہوتی تو پتہ نہیں کونسا غضب ہوجاتا !

    اور اب آپ کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی انہوں نے اپنا اصلی رنگ دکھانا بے حد ضروری سمجھا!
    جاوید ہاشمی اور حامد میر تو ان کی ایجینسیوں کے ظلم سہے ہوئے لوگ ہیں ،
    انہیں اپنے جیسا گندہ پنجابی،اور جاگیر دار وڈیرے کی گالی دینے کی ضرورت نہیں ،
    وہ ہم میں سے ہیں اور ہم اپنوں کو اچھی طرح پہچانتے اور ان کی قدر کرتے ہیں،
    رہی خوش بخت کے نہ رونے کی بات تو کون جانے وہ گھر سے کتنے آنسو بہا کر نکلی ہو،
    یوں بھی ہم کراچی والوں کے آنسو تو ا ن مظالم پر اتنے بہے ہیں کہ اب خشک ہی ہوگئے ،
    اب ہماری آنکھیں نہیں ہمارا پورا وجود روتا ہے ،جو ظالموں کو نظر نہیں آتا!
    ساٹھ سال سے ہم سمیت پورا پاکستان ان ایجینسیوں،فوج اور پولس کے ظلم سہتا رہا ہے،اوریہ ان مظالم پر ڈگڈگیاں بجاتے رہے ہیں،
    اور مارو اور مارو کی صدائیں لگاتے رہے ہیں،
    ہمیں چوستے رہے ہیں ہمارے ٹیکسوں پر عیاشیاں کرتے رہے ہیں
    یہ سب جو آج کراچی اور کراچی والوں کے ہمدرد بنے بیٹھے ہیں۔

  5. Abdullah نے کہا:

    یہ جتنے زہنی مریض ہیں یہ سب اپنے باپوں کے یا استادوں کے مظالم کا شکار لوگ ہیں،
    ایسے مردوں کی بیویاں بھی ذہنی مریضائیں بن جاتی ہیں ،جو بچوں کے لیئے مرے پر سو درے ثابت ہوتے ہیں!

  6. Abdullah نے کہا:

    جن لوگوں کو کراچی کے نیول بیس ،اسلام آباد کے جی ایچ کیو پر حملوں پر تشویش تھی وہ ذرا عرفان (سو کالڈ بلوچ ) کے اس بلاگ پر لکھی پوسٹ کو غور سے پڑھیں!!!

    http://ghazwaehind.blogspot.com/2011/06/blog-post_06.html

  7. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان صاحب:

    آپکے پوسٹ کے الفاظ تو بدل جاتے ہیں لیکن کہانی کا مرکزی کردار وہی پرانا ہوتا ہے ، یعنی دیندار طبقے پر تنقید، حالانکہ میرے خیال میں امت مسلمہ کے مسائل کا حل صرف اس بات سے نہیں ہوگا بلکہ اسکے لئے کچھ اور کرنا پڑے گا،

    • fikrepakistan نے کہا:

      درویش بھائی اگر شیر کو غلیل سے ہی مارنا ہی مقصود ہے تو پھر قوم کو لگے رہنے دیجئیے اس ہی دھندے میں جس میں فوج سیاستدانوں اور ملاوں نے مل کر لگایا ہوا ہے۔ اور اگر واقعی ذلت کی زندگی سے نکل کر عزت کی زندگی مقصود ہے تو پھر تو تعلیم اور ٹیکنالوجی کی طرف آنا ہی ہوگا۔ اگر آپکے پاس اسکا کوئی متبادل ہے تو آپ ہی بتا دینجئیے۔

      • Darvesh Khurasani نے کہا:

        جناب والا: فی الحال تو ہم یک دم تبدیلی لانے سے رہے ۔ لیکن میں خود بھی سوچ رہا ہوں کہ ایسا کیا ترکیب ہوگی کہ امت مسلمہ واپس عروج پر پہنچ سکے۔

        میں نے تو آپکو پہلے ہی کہا تھا کہ اگر بس چلے تو کوئی ادارہ کھول کر تجربہ ہی کرو کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ سارے کام تجربے سے ہی ہوتے ہیں۔ صرف بلاگ لکھ کر تبدیلی کی توقع عقل مندی تو نہیں ہے۔بجائے اسکے کہ ہم ان اداروں سے بےجا ٹکر لیں ، کیوں نا ہم خود ایک مثال بن جائیں۔

        اب ہر پوسٹ میں فوج اور اسٹبلشمنٹ اور دیندار طبقے کے خلاف لکھ دینا بات کی وقعت کھو دیتا ہے۔ اور کوئی خاص فائدہ بھی تو نہیں ہوتا ۔نا ہی کسی تبدیلی کا امکان ہوتا ہے اگر ہو بھی تو شائد بہت ہی کم نا ہونے کے برابر۔
        اسی لئے میں نے کہا کہ مرکزی خیال کو بھی تبدیل کیا کرو۔

        باقی آپکی بات کو میں سمجھتا ہوں لیکن انداز سے متفق نہیں ہوں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        درویش بھائی میں نے ایک ادارہ قائم کیا ہوا ہے جس میں ہم تمام دوست اپنی مدد آپ کے تحت قوم کی بہتری کے لئیے کچھہ نہ چکھہ اقدامات کرتے رہتے ہیں، لیکن یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کے مونچھیں مونڈھنے سے مردے کا بوجھہ ہلکا نہیں ہوتا، مگر ہم بھی کیا کریں جتنی اللہ نے حیثیت دی ہے اس سے بڑھہ کر ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکے اللہ کے سامنے یہ تو کہہ سکیں کے ہم ہاتھہ پر ہاتھہ رکھہ کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھے۔

  8. Rai Muhammad Azlan نے کہا:

    bilkul sahi kaha aapne. Yeh usi makhsoos zehniat he ki pedawar hy ka hum taqat k hasool ko shetani amal qraar de chuky hyn. Ilm ko zariya e maash se zyada kuch rehny nahi dia. Hum behtreen qom hyn waly rawaiyay ne humarin ankhon se wo benai cheen li hy jo apni kamzorion ko dikha saky

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s