مصنوعی طاقت


اگر کار میں ہوائی جہاز کا انجن لگا دیا جائے تو کار کا حشر کیا ہوگا؟ اگر بائیک رائڈر کو ہیلی کاپڑ اڑانے کا کام سونپ دیا جائے تو ہیلی کاپڑ کا کیا انجام ہوگا؟ ان پڑھہ چوکیدار کو کمپنی کا ڈائریکڑ بنا دیا جائے تو کمپنی کتنے دن چل پائے گی؟ ایک عام آدمی کا انڈر ٹیکر سے مقابلہ کروادیا جائے تو اس عام آدمی کا کیا حشر ہوگا؟ داعی کا کام درزی سے لیا جائے تو کیا نتیجہ نکلے گا؟۔

ایسی سینکڑوں مثالیں دی جاسکتی ہیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی حیثیت اور قوت برداشت سے بڑھہ کر جو کام بھی کیا جائے گا اسکا نتیجہ سوائے بربادی کے کچھہ بھی نہیں نکل سکتا۔ بلفرض محال کامیابی مل بھی جائے تو وہ کامیابی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی، مستقل اور پائیدار کامیابی کے لئیے ضروری ہے کہ انسان پہلے خود کو اس کامیابی کا اہل بنائے نقل مار کے پاس ہو بھی گئے اگر تو دوران انٹرویو اوقات کا پتہ چل ہی جانا ہے، اسلئیے مستقل اور پائیدار کامیابی کے لئیے ضروری ہے کے انسان خود کو اس کامیابی کا اہل بنائے قوت برداشت اور اپنی طاقت میں اضافہ کرے، ایک من وزن اٹھانے کی خواہش ہے تو خود کو کم از کم ڈیڑھہ من وزن اٹھانے کا اہل بنائے، پھر یقیناَ اسکی کامیابی مستقل اور پائیدار ہوگی۔

جوش و جذبات میں اگر کسی نے ایک وقت دو من وزن اٹھا بھی لیا لیکن کچھہ دیر بعد ہی کمر پکڑ کر بیٹھہ جائے گا اور اگلی بار دس کلو وزن اٹھانے لائق بھی نہیں رہے گا۔ پاکستان جیسے کمزور، معاشی طور پہ بدحال بےشعور ان پڑھہ جذباتی فاقہ زدہ قوم کے حامل ملک نے ایٹم بم یہ سوچ کے بنایا تھا کے یہ ایٹم بم پوری قوم کی حفاظت کرے گا، مگر نتیجہ الٹا ہی نکلا آج پوری قوم مل کر ایٹم بم کی حفاظت کر رہی ہے۔

آج ساری دنیا سے بچاتے اور چھپاتے پھر رہے ہیں ہم اپنے محبوب ایٹم بم کو، کبھی خدشہ کے اپنے ہی ملک کے دہشت گردوں کے ہاتھہ نہ لگ جائے کبھی خدشہ کے کوئی بیرونی طاقت ہاتھہ نہ کر جائے ہمارے بم کے ساتھہ۔ ایٹم بم نہ ہوا کترینہ کیف ہوگئی کے کترینہ کیف کو رکھا گھر کی حفاظت کے لئیے پھر خیال آیا کے کترینہ کیف کی حفاظت کون کرے گا؟ تو صاحب خود ساری ساری رات جاگ کر کترینہ کیف کی حفاظت کررہے ہیں۔ جسے پوری قوم کی حفاظت کرنی تھی وہ ہی پوری قوم کی بربادی کی وجہ بن گیا۔

طاقت کا حصول سب کا حق ہے طاقت کے حصول پر جتنا حق امریکہ یا دوسرے ایٹمی ممالک کا ہے اتنا ہی حق پاکستان کا بھی ہے، جس وقت بھٹو صاحب اور بھٹو صاحب کے بعد آنے والے تمام حکمرانوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنائیں گے، اپنی قوت اپنی حیثیت سے زیادہ وزن اٹھائیں گے تو کاش اس وقت ہی ان سب حکمرانوں متعلقہ اداروں اور افواج پاکستان نے یہ فیصلہ بھی کرلیا ہوتا کے ہم آج سے پاکستان اور اسکی عوام کو اس وزن کو اٹھانے کا اہل بھی بنائیں گے خود داری سے جینا سیکھیں گے، جو زمہ داری ہم اٹھانے جارہے ہیں ہر پاکستانی کو اس زمہ داری کو اٹھانے کا اہل بنائیں گے۔

سنہ دو ہزار پانچ میں پاکستان میں جو زلزلہ آیا تھا میں اپنی ویلفئیر سوسائٹی کے ممبرز کے ساتھہ امدادی سامان لے کر بالاکوٹ گیا تھا، ہمارے کیمپ پر باقائدہ لائن لگا کر امداد تقسیم کی جاتی تھی تاکے سب کو برابری کی بنیاد پر سامان مل سکے، ایک روز ایسے ہی لائن لگی تھی لوگ اپنی باری پر کیمپ کے اندر آتے اور ہم سامان انکے حوالے کر دیتے ایسے میں ایک شخص میرے پاس آیا اور مجھے الگ لے جا کر کہنے لگا آپ مجھے غلط مت سمجھئیے گا میں لائن میں لگ کر امداد نہیں لینا چاہتا، میں اس علاقے کا کونسلر ہوا کرتا تھا میرا اپنا کاروبار تھا بہت ہی با اثر اور صاحب حیثیت شخص تھا میں یہ جتنے لوگ آپکو لائن میں کھڑے نظر آرہے ہیں ان میں سے زیادہ تر میرے ملازم ہیں قدرت نے یہ دن بھی دکھانا تھا، مجھے حیاء آتی ہے اسلئیے آپکی بڑی مہربانی ہوگی آپ مجھے الگ سے سامان مہیا کردیں۔

یہ ہوتا ہے اصل طاقتور کا احساس، ایک ہم ہیں دنیا کے تقریباَ پونے دوسو ممالک میں سے ساتواں نمبر ہمارا ہے ایٹمی طاقت بننے کا، یہ اعزاز حاصل ہے ہمٰیں کے ہم بقیہ ایک سو ارسٹھہ ممالک سے برتر ہیں اس معاملے میں مگر سلام ہے ہمارے حکمرانوں کے بےغیرتی کو کے دو دو سو آدمی سوٹ بوٹ میں تیار ہوکر چارٹرڈ طیارہ کر کے باجماعت علی العلان بھیک مانگنے دنیا کے دورے پر جاتے ہیں، ہاتھہ پھیلاتے زرا شرم نہیں آتی کے اپنے سے کہیں کمتر ملک سے بھی امداد وصول لیتے ہیں ہم، بے غیرتی بے حیائی شناخت بن چکی ہے ہماری، کبھی کبھی سوچتا ہوں جو لوگ پاکستان سے باہر رزق کی تلاش میں گئے ہوئے ہیں وہ لوگ کیسے سامنا کرتے ہونگے وہاں کے لوگوں کا کیسے مطمعین کر پاتے ہونگے وہاں کے لوگوں کو کیسے اور کیا جواب دے پاتے ہونگے انکے زہریلے سوالات کا۔

کاش کاش کاش ہمارے حکمرانوں متعلقہ اداروں اور افواج پاکستان نے ایٹم بم بنانے کے عزم کے ساتھہ ہی عزت سے جینے اور پاکستان کو اس وزن کو اٹھانے کا اہل بنانے کا عزم بھی کرلیا ہوتا تو آج یہ ایٹم بم پاکستانی قوم کی حفاظت کررہا ہوتا پوری پاکستانی قوم ملکر ایٹم بم کی حفاظت پر معمور نہ ہوتی۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

12 Responses to مصنوعی طاقت

  1. عثمان نے کہا:

    انڈر ٹیکر صاحب نورا کشتی کرتے ہیں وہ اتنا مسئلہ نہیں۔ البتہ کترینہ کیف.. میرا مطلب ہے.. ایٹم بم کا تذکرہ کر کے آپ نے کچھ لوگوں کی دم پر پاؤں رکھ دیا ہے۔ اب سنبھالئے۔ 😛

    • fikrepakistan نے کہا:

      عثمان بھائی تبصرے کا بہت بہت شکریہ، میں لکھتے وقت نہ دم کی فکر کرتا ہوں نا پاوں کی، جو حق اور سچ سمجھتا ہوں وہ ہی لکھتا ہوں۔

  2. Aniqa Naz نے کہا:

    کترینہ کیف کو چوکیدار رکھنا تو ایک بہانہ تھا۔ مقصود کترینہ کیف کی حفاظت ہی تھا۔ ایسی حسین خاتون جو بیک وقت چوکیدار بھی ہو اور خاص مال بھی، اسکی ہمراہی سے جو سرور چھا سکتا ہے وہ کترینہ کیف کو دیکھے بغیر کوئ کیسے جان سکتا ہے۔ آہ کترینہ کیف، ہیلن آف ٹرائے۔

  3. ارشاد چوہدری نے کہا:

    برصغیر میں فوجی آمروں، ایمٹی دھماکوں اور ایٹمی جنگ کے خطروں سے زیادہ کوئی لچر فلم ہو ہی نہیں سکتی۔ لچر بات یہ بھی ہے کہ بھارت نے ایسے بم کو ‘سمائلنگ بدھا’ کا نام دیا، پاکستان نے اپنے بم کو ‘اسلامی بم’ کہا اور نواز شریف حکومت اور پارٹی نے اس دن کو ‘یوم تکبیر’ قرار دیا۔
    واقعی امن کے پرندے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کو ‘تکبیر’ ڈالنے کا دن

    یہ تو کوئی چاغی اور پوکھرن کے چرواہوں سے پوچھے کہ ان کے پہاڑ اور صحراؤں کے رنگ موت کے رنگوں میں کیسے بدلے؟ یا پھر ہیروشمیا اور ناگاساکی کے حملوں میں بچے ہوئے لوگوں سے۔ مگر اسلام آباد اور لاہور کی اشرافیہ کے کوٹھے، کوٹھیوں کے ڈرائنگ روموں میں ریڈیو ایکٹو زدہ چاغی کے پہاڑوں کے جھوٹے سچے پتھر ‘قومی سووینیئر’ کے طور پر آج بھی سجے ہوئے ہوں گے۔
    لیکن توپخانوں اور بارود خانوں میں امن کے پرندوں کے بول کون سنتا ہے۔ دھماکہ خیز لیڈروں، ایمٹی نشے میں غلطاں جنریلوں اور سمگلر سائسندانوں نے کانوں میں کپاس ڈالی ہوئي تھی۔ کسی سیانے نے کہا: ‘ہم ایسے فقیر ٹھہرے کہ جس کے ایک ہاتھ میں پستول اور دوسرے میں کشکول ہے’۔

  4. آپ نے 2005ء کے زلزلہ ميں انسانی ہمدردی کا کام کر کے بہت اچھا کيا ۔ اتفاق سے ہمارے خاندان کا تجربہ اس سے کچھ مختلف رہا تھا ۔ نہ کہيں کيپ لگايا نہ بورڈ نہ بينر ۔ کچھ نوجوان علاقہ کا مطالعہ کر کے ضروريات کی فہرست تيار کرتے اور ان ميں سے ايک کسی قريبی علاقہ ميں جہاں ٹيليفون کام کر رہا ہوتا وہاں سے فہرست اسلام آباد ميں ميرے بھائی کو لکھوا ديتے ۔ پھر اس سامان کے ٹرکوں کا قافلہ ميرے دو بھائی لے کر جاتے اور وہاں کام کرنے والے رضاکار ہر ايک کو اُس کے ٹھکانے پر سامان پہنچاتے
    آپ نے کونسلر کی بات کی ہے وہاں پُشتينی دولتمند بھی نادار ہوئے بيٹھے تھے اور اُنہيں کسی سے مانگتے بھی شرم آتی تھی ۔ قطاروں ميں ايسے لوگ بھی ديکھے گئے جن کا زلزلہ زدہ علاقہ سے تعلق نہ تھا اور ايسے بھی جو ہر کيمپ کی قطار ميں لگتے تھے
    اب آتے ہيں آپ کے اصل موضوع کی طرف ۔ محترم ۔ آپ کو اللہ کے فرمان ميں يقين ہے تو مندرجہ ذيل صرف دو آيات کو سمجھنے کی کوشش کيجئے
    سورت 53 ۔ النّجم ۔ آیت 39 ۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی
    اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی

    سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ
    اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے

    جب تک عوام اچھے نہيں بنيں گے حکمران اچھے ہو ہی نہيں سکتے

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار صاحب آپ نے بلکل درست فرمایا میرا جھگڑا بھی ہوا تھا وہاں ایسے لٹیروں سے جو زلزلے سے متاثرہ نہیں تھے پھر بھی امداد لینے میں سب سے آگے آگے تھے۔

  5. سفیر نے کہا:

    ایک بار پھر واہ… شکر ہے کوئی عقل کی بات بھی کرتا ہے… ساری دنیاء انسان کے بھلے کے لئے کی گئی ایجادات پر خوش ہوتی ہے۔۔۔۔ ہم واحد قوم ہیں جو بم بنا کر خوش ہوتےہیں اور بم بنانے والے کو محسن سمجھتے ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      سفیر بھائی بلاگ پر خوش آمدید، تحریر کے پسندیدگی کے لئیے بہت بہت شکریہ، ایک شعر عرض ہے پاکستان کی صورت حال کو مزید واضع کرنے کے لئیے۔

      یہ شہر آسیب ہے یہاں آنکھیں ہی نہیں کافی
      الٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گا۔

  6. amnasurdu نے کہا:

    بہت خوب بھائی صاحب۔۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے ایران پر سینگشنز کی خبر سن کر ہنسی آئی کہ ہم ایٹم بم کے پیچھے لگ کر خوب بیوقوف بنے ہے ۔۔۔۔ جبکہ ہمیں تو اس کے بغیر ہی برباد کر دیا گیا ہے ایٹم بم اپنی جگہ ویسے کا ویسا محفوظ ۔۔۔۔ اور تو اور ایسے محفوظ نیوکلئر ریایکٹرز کو تباہ کرنے کیلئے بھی ویپنز پر کام ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔

    وہ عورتیں اپنا شادی کا جوڑا اور مرد شادی کی شیروانی کو ڈرائی کلین کروا کروا کر رکھتے ہیں مگر جب پہننے کا موقع آتا ہے حجم ان کپڑوں میں سمانے سے انکار کر دیتا ہے ، فیشن پرانا ہو چکا ہوتا ہے یا پھر کیڑا لگ چکا ہوتا ہے۔۔۔۔ یہ ایٹم بم کا بھی وہی حال ہونا ۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s