پاکستانی انسانوں سے پاکستانی جانور بھلے ہیں۔


بریکنگ نیوز: قصبہ کٹی پہاڑی میں دو گھنٹے مسلسل کامیاب آپریشن کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گل خان لالا کے ہاں دو بچوں کی پیدائش۔

یہ میسج مجھے میرے موبائل پر ایک ایسے وقت میں موصول ہوا جس وقت کراچی میں کم از کم سو سے زائد افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دئیے گئے تھے۔ یہ وہ وقت ہے جب پوری قوم کو سوگوار ہونا چاہئیے تھا، کراچی کے جن متاثرہ علاقوں میں ہمارے پاکستانی اور مسلمان بھائی بے موت مارے جارہے ہیں انکے درد کو اپنا درد سمجھنا چاہئیے تھا کہ اگر آج آگ دوسرے کے گھر میں لگی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کل یہ آگ میرے گھر تک نہیں پہنچے گی؟ ۔

مجھے یہ میسج بھیجنے والے موصوف ماشاءاللہ سے حافظ قرآن ہیں، انکا بھی وہ ہی المیہ ہے جو پاکستان کے نوے فیصد حفاظ کا ہے کے ان کے سینے میں قرآن محض عربی کے الفاظوں کے جھمگٹے کے سواء کچھہ بھی نہیں۔ لفظ بہ لفظ قرآن رٹ لیا ہے مگر ان لفظوں میں اللہ بیان کیا کر رہے ہیں یہ سب انہیں پتہ نہیں ہوتا۔
بے حسی کی انتہا ہے یہ اور اس بے حس قوم کو مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماء یہ کہہ کر چنے کے جھاڑ پر چڑھا رہے ہوتے ہیں کے پاکستانی قوم غیور ہے با شعور ہے لعنت ہے ایسی قوم پہ اور لعنت ہے ایسے مذہبی اور سیاسی رہنماوں پہ جو اس بے حس اور جانوروں سے بھی بدتر گھٹیا قوم کو غیور اور با شعور کہہ کر صحیح معنوں میں با شعور قوموں کی توہین کرتے ہیں۔

ایک کوئے کو مار کر زمین پر گرا دیں آپ پھر دیکھیں کووں کی یکجحتی کووں کا شعور کے سارے کوئے جمع ہوجاتے ہیں اس مقام پہ جس جگہ انکا ہم نسل شہید ہوا ہوتا ہے اور چیخ چیخ کر آسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں اور باقائدہ اپنے جونچ سے اس جگہ موجود ان لوگوں کے سروں کو زخمی کر دیتے ہیں جو انکے ہم نسل کی موت کا تماشہ دیکھہ رہے ہوتے ہیں، ثابت ہوگیا کے ہم جانوروں، چرند، پرند سے بھی گئے گزرے لوگ ہیں جو اپنے ہی ہم وطنوں ہم نسلوں یعنیٰ انسان کی بے رحمانہ موت بے رحمانہ قتل کو بھی شغل میلہ سمجھتے ہیں، حدیث ہے کے، ایک انسان کی جان کی قیمت کعبے کی حرمت سے بھی زیادہ ہے۔

حدیث میں انسان کہا گیا ہے مسلمان نہیں یہاں تو مارنے والا بھی مسلمان مرنے والا بھی مسلمان اور انکے بے رحمانہ قتل کو شغل میلہ سمجھہ کر انجوئے کرنے والا بھی مسلمان ہے۔ لکھنا تو بہت کچھہ تھا مگر جذبات دل و دماغ اس وقت کچھہ بھی قابو میں نہیں ہے اسلئیے مزید لکھنے سے قاصر ہوں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

14 Responses to پاکستانی انسانوں سے پاکستانی جانور بھلے ہیں۔

  1. لکھنا تو بہت کچھہ تھا مگر جذبات دل و دماغ اس وقت کچھہ بھی قابو میں نہیں ہے اسلئیے مزید لکھنے سے قاصر ہوں

    پوری قوم کے جزبات آپ سے ملتے جلتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو پھر مٹھی بھر لوگوں نے ۔ ۔ ۔ ایک پوری قوم کو کیونکر یرغمال بنا رکھا ہے؟۔

  2. کامران چوہدری نے کہا:

    کراچی کے حالات اور خونرزی میں فوجی فریشتے اور ؤہ قوت ملوث ھے جو کراچی و پاکستان پہ فوجی جنتا کو مسلت کرنا چاہتے ھے۔۔۔

  3. محترم ۔ وقت شعور بيدار کرنے کا ہے ۔ جذبات ميں بہنے کا نہيں ۔ سارے درندے کراچی ہی ميں کيوں جمع ہو گئے ہيں ؟
    ايک فقير ايک کُتے کے پاس بيٹھا تھا ۔ وہاں سے بادشاہ کا گذر ہوا تو اُس نے از راہِ مذاق پوچھا "بابا ۔ آپ بہتر ہيں يا يہ کتا ؟” فقير نے جواب ديا "يہ کتا ميری تابعداری کرتا ہے ۔ اگر ميں اپنے مالک [اللہ] کی تابعداری کروں تو اس کتے سے بہتر ورنہ يہ کتا بہتر” از گلستانِ سعدی

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار صاحب، ایسا نہیں ہے کے سارے درندے صرف کراچی میں ہی جمع ہیں یہ ملک تو ماشاءاللہ درندوں میں خود کفیل ہے یہ صنف آپکو پاکستان کے کونے کونے میں مل جائے گی، بلکے اب تو یہ حال ہوچکا ہے کے ان اٹھارہ کروڑ درندوں میں سے انسان کتنے سے بچے ہیں اس چیز پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔

  4. Aniqa Naz نے کہا:

    آپ نے کووں کی مثال دی ہے۔ ہمارے یہاں بھی یہی ہوتا ہے۔ مگر اسکی بنیادیں نسل اور لسان پہ ہوتی ہیں۔ آج کراچی میں کٹی پہاڑی سے آبادیوں پہ حملے ہوتے ہیں مگر کسی میں اتنی اخلاقی جرائت نہیں کہ یہ کہہ سکے کہ یہ پٹھان کر رہے ہیں۔ اگر یہ کام ایم کیو ایم نے کیا ہوتا تو آج عالم کچھ اور ہوتا۔
    لسانی عصبیت کی یہ جنگ کراچی میں پچھلی چار دہائیوں سے جاری ہتے اور ملکی سطح پہ دیکھیں تو لسانی سیاست کی یہ جنگ پاکستان کی پیدائیش کے وقت سے جاری ہے۔ ایک زمانے میں انسان اپنے قبیلے کے علاوہ ہر دوسرے قبیلے کو اپنا دشمن سمجھتا تھآ۔ یہ فضا اب کچھ یوں بنی کہ پاکستان میں واقع وہ لوگ جو قبائلی نظآم سے جڑے ہوئے ہیں وہ آج اپنے لسانی قبیلے کے علاوہ کسی اور کی حق تلفی کو برا نہیں سمجھتے۔
    انیس سو چھیاسی کے سانحہ ء علی گڑھ اور قصبہ کالونی کے جانے پہچانے مجرمین میں سے کسی ایک سزا نہیں ملی۔ آج پچیس سال بعد کیا یہ توقع کرنی چاہئیے کہ قصبہ کالونی کے اس تازہ سانحے کے مجرم پکڑے جائیں گے۔ ایسا نہیں ہوگا۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلحہ فراہم کرنے والے گروپہس کو تو شہر میں مکمل آزادی حاصل ہو۔ انکے حمائِتی بھی موجود ہوں۔ مگر اسکے رد عمل میں جب ایک سیاسی طاقت جنم لے تو اسکی مذمت کرنے کو یہی گروہ سب سے زیادہ سرگرم عمل ہو۔
    آج ان سے پوچھا جائے کہ کراچی میں پشتون آبادی کے ان سفاک گروہوں کو کنٹرول کرنے کا انکے پاس کوئ حل ہے۔ لیکن ان لوگوں سے یہ سوال نہیں کرنا چاہئیے انہیں تو یہ نہیں معولم کہ کٹی پہاڑی سے دستی بم پھینکنے والے پٹھآن آبادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جاگتے کو جگانا نا ممکن ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عنیقہ صاحبہ، میں اللہ سے دعا ہی کرسکتا ہوں کے اللہ ہم پاکستانیوں کو ایک قوم صرف ایک قوم پاکستانی بنا دے، اور مسلمانوں کو مسلک پرستی اور فرقہ بندی سے نکال کر صرف مسلمان بنا دے۔

  5. کاشف نصیر نے کہا:

    ان غریب یتیم بچوں کے آنسو پوچھنے والا کوئی ہو یا نہ ہو مگر انکے باپ کی لاش پر سیاست کرنے والے بہت ہیں۔ اورنگی والوں پر ایک شعر یاد آیا کہ "تیرے لاشے بکتے ہیں اس شہر کی ہر دکاں پر، تیرے زندوں کا مگر کوئی پوچھنے والا بھی نہیں”۔ لیکن آخر کب تک، ایک اندازے کے مطابق شہر قائد پر بالادستی کی جنگ میں اے ایے پی، ایم کیو ایم اور پی پی پی پر مشتعمل سیکولر تثلیث کے ہاتھوں پچھلے چار برسوں میں لگ بھگ 6000 معصوم جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ یقینا اب ہمیں سیکولر دہشت گردی کے خلاف بھی آواز اٹھانی چاہئے۔ ان سیکولر لوگوں نے ہمیں سوائے نقص امن، لسانی فسادات، پرتشدد سیاست، ٹارگٹ کلنگ، گنڈا گردی، بھتہ خوری، مافیا، مہنگائی، اور بدعنوانی کے اور دیا کیا ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      کاشف بھائی میرا تو رونا ہی یہ ہی ہے کہ اس ملک سے کوئی بھی مخلص نہیں ہے نہ فوج نہ سیاستدان نہ مذہبی رہنماء اور نہ ہی عوام، مکی صاحب کے ہر سوال کا جواب پاکستان کے وجود میں پنہا ہے، پاکستان کو چلتا دیکھہ کر واقعی کوئی دہریہ بھی مان لیگا کے اللہ ہے۔

      • Abdullah نے کہا:

        یہ جو نام بدل کراوپر اورنگی والوں کا رونا رو رہا ہے،
        یہ اور اس جیسے مذہبی دہشت گرد کراچی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیئے ہوئے ہیں اور وہ بھی اسلام کے نام پر،
        کیونکہ ان اسلام کے نام پراسلحہ اور ڈرگس کا کروبار کرنے والوں کا ایمان ہے کہ جو اس اسلحہ اور ڈ رگ مافیا کے ساتھ نہیں وہ اسلام دشمن ہے اور اس کو مارنا عین ثواب،اورنگی کی کٹی پہاڑی ان کا گڑھ ہے،
        کراچی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو قتل کرنا بھی ان خبیثوں کے نزدیک ایمان کا حصہ ہے،کیونکہ ان کے مطابق وہ ایک کافرانہ نظام کے حصہ دار ہیں،
        اردو سائنس کالج میں اس نے اوراس کے ہم مسلکوں نے جو غدر مچا رکھا ہے وہ بھی کسی سے چھپا نہیں ہے!

  6. javediqbal26 نے کہا:

    کیاکہوں واقعی اس میں زیادہ قصوراپنی ہی عوام کوٹھہراتاہوں جوکہ بجائےان ظالموں کےآگےسینہ سپرہوجائیں کیونکہ موت کاایک دن م‏عین ہےلیکن ہم لوگوں نےخوف کواپنےاوپرمسلط کرکےان غنڈوں اوربدمعاشوں کوکھلی چھٹی دی ہےجس میں سب جماعتیں برابرکی سانجےدارہیں خواہ وہ کوئي بھی ہوکیونکہ یہ محاصلت کی سیاسیت ہے۔ سب یہی کہتےہیں اس میں سب کوپتہ ہیں لیکن نام نہیں لیتاڈرتاہےکیونکہ موت سےسب ڈرتےہیں۔ اللہ تعالی ہمارےملک کوخصوصاکراچی کوان لوگوں سےنجات دلادے جوکہ بس مفادکی سیاست کرتےہیں۔ آمین ثم آمین اور ان کوسچامسلمان اورپکاپاکستانی بنا۔ آمین ثم آمین

  7. Abdullah نے کہا:

    فکر پاکستان یہ آدمی جن کے پے رول پر ہے ان کا ایجینڈہ ہی یہ ہے کہ نفرتیں پھیلاؤ اور حکومت کرو اور پاکستان رہے تو ہمارے قبضے میں رہے ورنہ تباہ ہوجائے،
    یہ سارے سوالات میں بھی اس شخص سے بہت پہلے کر چکا ہوں اور ان کے جواب میں اسے سانپ سونگھ جاتا ہے!!!

    باقی محبان وطن کی حب الوطنی اور اسلام پسندوں کا اسلام بھی صاف صاف دکھائی دے رہاہے،
    پتہ نہیں کب تک یہ اپنے زہریلے تعصب کو ان پردوں میں چھپانےکی کوشش کرتے رہیں گے،ھالانکہ وہ رہ رہ کر ان ہی کے ہاتھوں اظہر من الشمس ہوتا رہتا ہے!!!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s